سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی۔۔ابصار فاطمہ جعفری۔۔قسط نمبر 5

افسانے کی حقیقی لڑکی۔۔ابصار فاطمہ جعفری۔۔قسط نمبر 5

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 5

سارا دن ایسے ہی گزر گیا۔ مغرب کی اذانیں شروع ہی ہوئی تھیں کہ دروازہ ایک دم زور زور سے پیٹا جانے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ دروازہ توڑ دیا جائے گا۔ باسط نیچے ہال ہی میں تھا وہی دروازہ کھولنے چلا گیا۔ اس نے دروازے کی کنڈی ہٹائی ہی تھی کہ ایک دم دروازہ کھلا اور تین چار پولیس والے گھر میں دندناتے ہوئے داخل ہوگئے۔

”اوئے یہ عبدالباسط رانا ولد محمد شکیل رانا اور عبدالرافع رانا ولد محمد شکیل رانا کون ہیں؟”

آگے والے پولیس والے نے خشونت بھرے لہجے میں کہا۔

 ”جی میں ہوں باسط، رافع میرے بڑے بھائی ہیں۔ خیریت؟ آپ ایسے گھر میں گھس آئے کم از کم وارنٹ تو دکھائیں۔ ہم عزت دار شہری ہیں۔”

”اوئے تیری عزت کی ایسی کی تیسی گھر کی بہووں کی عزت لوٹتا ہے عزت دار کہیں کا۔”

پولیس والے نے گریبان سے پکڑ کے اسے کھینچا اور منہ پہ زوردار تھپڑ مارا۔

”ہتھکڑیاں لگاو اسے اور دوسرے عزت دار کو بھی ڈھونڈھ کے نکالو۔ نا ملے تو سب عزت دار گھر والوں کو آج میزبانی کا شرف بخشو۔”

پولیس والے دھڑ دھڑ کمروں کے دروازے کھولنے لگے بسمہ کچن میں شام کا کھانا پکا رہی تھی اتنی دیر میں وہ کچن سے ہال میں پہنچ گئی۔

”کیا ہوا آپ نے میرے ہسبنڈ کو کیوں پکڑا ہے”

”او بی بی آپ سائیڈ پہ رہیں ہمیں ہمارا کام کرنے دیں پھر بعد میں ہم پہ نام آتا کہ ہم خواتین کی عزت نہیں کرتے۔”

”مگر آپ کچھ بتائیں تو”

اتنی دیر میں پولیس والے باری باری ابو، رافع بھائی اور واحد بھائی کو پکڑ کر ہال میں لے آئے تھے۔ سب ہی کے چہرے پہ حیرت اور دہشت کے ملے جلے تاثرات تھے۔ اس وقت سب سے باہمت بسمہ ہی لگ رہی تھی جس نے اپنے ہوش و حواس قابو میں رکھے ہوئے تھے۔

 ”او بی بی، یہ مسمات نازیہ رافع نے رپورٹ درج کرائی ہے آپ کے شوہر نامدار اور اپنے میاں کے خلاف زنا بالجبر اور اس میں معاونت کی۔ ساتھ بچوں کو ان کے قبضے سے بازیاب کرانے کی بھی درخواست کی ہے۔”

”جھوٹ بول رہی ہے وہ ہم نے کچھ نہیں کیا وہ خود بد کردار عورت ہے۔”

 ”ابے اوشریف زادے چپ کر کے بیٹھ مامے کا لڑکا نہیں تو میرے جو میں بکواس سنوں گا تیری۔ لے کے چلو ان دونوں کو رافع کون ہے اس میں سے۔ او باولے، اس بابے کو تو چھوڑ۔” باسط کو جواب دیتے دیتے اس نے اپنے حوالدار کو بھی جھاڑ دیا۔ حوالدار فورا بسمہ کے سسر کو چھوڑ کر الگ ہوگیا۔ دو لیڈی کانسٹیبل اوپر سے بچوں کو بھی لے آئی تھیں دونوں بچے تڑپ تڑپ کے رو رہے تھے۔

آگے والا پولیس والا بچوں کے پاس گیا۔

”ارے بھئی کیوں رو رہے ہو۔ امی کے پاس جانا ہے اپنی؟”

دونوں بچوں نے روتے روتے سر ہلا دیا۔

”بس تو آنسو صاف کرو۔ فرخندہ بچوں کو جوس پلاو گاڑی میں بیٹھا کے ان کی امی سے بھی ملاو۔”

 ”ہاں آجاو بیٹا آپ کی امی گاڑی میں بیٹھی ہیں چلو میں ملوا کے لاوں”۔

پولیس والیوں نے بہت پروفیشنل انداز میں بچوں کو بہلانے کے کوشش کی اور تقریبا گھسیٹتی ہوئی باہر لے گئیں۔

پیچھے پیچھے پولیس والے رافع اور باسط کو بھی دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے۔ صوفے کے قریب کھڑی ساس ایک دم لڑکھڑائیں۔ زیبا پکڑ نہ لیتی تو وہ نیچے گر جاتیں۔ زیبا نے انہیں سنبھال کر صوفے پہ بٹھایا۔ سنیہ بھی ساتھ بیٹھ کر ہاتھ سہلانے لگی بسمہ کچن میں بھاگی کہ پانی لے کر آئے۔ وہ خود ابھی تک اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ دل کے دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ اسے حیرت تھے کہ پولیس والوں کے سامنے وہ اتنی ہمت سے ان سے سوال جواب کیسے کر رہی تھی۔ اس کے دل کا حال تو اسے ہی پتا تھا۔

فہد بائیک لے کر کہیں گیا ہوا تھا واحد نے فورا کال کرکے اسے بلایا اور ایک جاننے والے وکیل کو بھی کال کر کے بتا دیا کہ وہ ملنے آرہے ہیں۔

 ”ارے جلدی جاو یہ ظالم پولیس والے مار نا ڈالیں میرے بچوں کو۔ کیسی چلتر عورت ہے ایک دم گھر برباد کردیا میرا۔ کیسے محنت سے پال پوس کے جوان کیا تھا میں نے ارمانوں سے بیاہ کیے تھے یہ دن دیکھنے کے لیے؟”

ساس نے ایسے بین کرنے شروع کردیئے جیسے خدا نا خواستہ دونوں بیٹےمر گئے ہوں۔

 ”امی آپ پریشان نا ہوں میں جا رہا ہوں وکیل کے پاس کوشش کرتا ہوں ابھی بیل (ضمانت) ہوجائے۔” واحد بھائی بھی ماں کے قریب نیچے بیٹھ گئے اور ہاتھ تھپتھپا کر تسلی دی۔

 ”تم بھی کردو کوئی رپورٹ، سب مل کر میرے گھر کو کھا جاو۔ بہووں ہیں کہ آستین کے سانپ۔” وہ روتے وہ روتے ایک دم بسمہ سے مخاطب ہوئیں بسمہ نے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولا مگر زیبا بھابھی نے اشارے سے چپ رہنے کو کہ دیا۔

کچھ دیر بعد واحد بھائی فہد کے ساتھ وکیل کے پاس چلے گئے سنیہ نے امی کو سکون کی گولی دے کر سلا دیا اور ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ زیبا بھابھی بسمہ کو لے کر اپنے کمرے میں آگئیں۔ چھوٹے دونوں بچے ابھی ابھی سوئے تھے۔

”بسمہ میرا تو مشورہ ہے تم کچھ دن اپنے میکے چلی جاو۔”

”بھابھی ایسے حالات میں کیسے جاسکتی ہوں۔”

 ”ایسے حالات کی وجہ ہی سے تو مشورہ دیا ہے۔ دیکھو تمہیں ان لوگوں کو جانے سال بھی نہیں ہوا مجھے سولہ سال ہوگئے ہیں انہیں جھیلتے ہوئے۔ نازیہ اتنی بری نہیں جتنا ان کے رویوں نے اسے بنا دیا۔ تمہیں کیا لگتا ہے باسط ہی بس ایسا ہے؟ اپنے باپ پہ گیا ہے وہ بھی۔ یہ تو اب سسر صاحب کی ہمت جواب دے گئی ورنہ کیا گھر کیامحلہ ہر جگہ کی عورتیں ان سے کترا کر گزرتی تھیں۔ نازیہ کی شادی کے وقت اس کا کمرہ اوپر رکھوانے کی وجہ بھی یہی تھی۔ تاکہ وہ ان سے کچھ دور دور رہے۔ مگر مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ باسط بھی اپنے باپ کے نقش قدم پہ ہی چلے گا۔ ساس کو کیا کہوں ان کا رویہ بھی بس ایک عام روایتی عورت جیسا ہی ہے کہ مرد کچھ بھی کرلے عورت نے اپنے گھر کے مرد کی ہی تعریف کرنی ہے۔ ویسے ان میں کوئی برائی نہیں تمہارے ساتھ کام بھی کروائیں گی اچھے کام پہ تعریف بھی کریں گی۔ میاں کے ساتھ گھومنے پھرنے پہ کوئی اعتراض بھی نہیں، جو چاہے پہنو اوڑھو مگر جب بہو کے حق کی بات آتی ہے تو انہیں یہ باہر سے لائی ہوئی عورت ہی غلطی پہ لگتی ہے اپنا شوہر یا بیٹا نہیں۔ مجھے تو اب فہد سے بھی ڈر لگنے لگا ہے کئی بار میں نے اسے ڈانٹا تمہیں گھورتے دیکھ کر۔ ہے شرمندگی کی بات مگر کیا کروں۔”

انہوں نے رک کے گہرا سانس لیا۔

 ”میں شکر کرتی ہوں کہ واحد ان سے کچھ الگ ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچپن کے کچھ سال یہ اپنی بڑی پھپھو کے گھر رہے اور ان کے گھر کا ماحول تم نے دیکھا ہی ہے کتنا سلجھا ہوا ہے۔ مگر کچھ جگہ وہ بھی مجبور ہوجاتے ہیں۔”

 ”بھابھی آپ کی بات بھی ٹھیک ہے۔ مگر میں کیا کہہ کرجاوں۔ پھر سچی بات یہ ہے کہ میرے اپنے گھر والے بھی کوئی اتنے سپورٹ کرنے والے نہیں۔ میرے لئے اب یہی گھر ہے جیسا بھی ہے۔ انہوں نے تو میری شادی کر کے اپنی ذمہ داری پوری کر دی انہیں اب میری کسی پریشانی کی کوئی پروا نہیں۔”

بسمہ کے اعصاب اتنے تناو کا شکار تھے کہ پہلی بار کسی کے سامنے اپنے گھر والوں کی شکایت کی تھی۔ فائزہ کے بعد پہلا کوئی ملا تھا جس نے اس کی حوالے سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ سچا یا جھوٹا کچھ بھی مگر بسمہ کے لیے یہی ڈھارس بندھانے کو کافی تھا۔

بسمہ اور زیبا تھوڑی دیر اسی مسئلے پہ بات کرتی رہیں، پھر بسمہ اوپر کمرے میں آگئی۔ آتے ہی کمرے کی کنڈی لگادی اور لیٹ گئی۔ اسے اتنی تھکن محسوس ہورہی تھی جیسے سارا دن مشقت کی ہو۔ عجیب سا احساس تھا ڈر بھی کہ وہ بالکل اکیلی ہے اور سکون بھی کہ شاید ایک رات تو تکلیف نہیں سہنی پڑے گی۔ اس کے دماغ میں خیالات کی جنگ سی جاری تھی۔ ایک طرف نازیہ تھی جو ہر وقت دوسری عورتوں کی کردار کشی پہ تیار رہتی تھی مگر اپنے ہی دیور سے تعلقات بھی تھے۔ دوسری طرف باسط اور رافع بھائی تھے۔ رافع بھائی والا مسئلہ اسے ٹھیک سے سمجھ میں بھی نہیں آیا تھا۔ اس کا دماغ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا کہ رافع بھائی کی رضامندی سے یہ سب ہوا ہوگا۔ پھر باسط تھا جس کا ماننا یہ تھا کہ عورت بےوقوف، کمزور اور بے وفا ہوتی ہے مگر یہی سب خصوصیات کا اظہار اس نے خود بھی کیا۔ بےوقوف نا ہوتا تو اسلم والے معاملے کو اتنا غلط رنگ دے کر مسئلے کو اتنا نا الجھاتا۔ کمزور اتنا کہ اگر کوئی عورت اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی تو خود کو روک ہی نہیں پایا۔ بسمہ کو تو خیر اب اس بات میں بھی شک تھا کہ نازیہ بھابھی نے ہی متوجہ کیا یا انہیں مجبور کیا گیا جیسا کہ نازیہ بھابھی کا دعوا تھا۔ صرف نازیہ بھابھی کا رویہ دیکھا ہوتا تو بات الگ تھی مگر سب کے ردعمل کے پس منظر میں بسمہ کو لگ رہا تھا کہ کہیں نا کہیں کسی وجہ سے نازیہ بھابھی کو مجبوری میں یہ سب کرنا پڑا ہوگا۔ آج بسمہ کے سامنے مردانگی کا وہ شاندار محل زمیں بوس ہوگیا جس کا چرچا ہر جگہ ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد پہ مرد خود کو عورت سے برتر کہہ کر ہر آسائش پہ اپنا حق جتاتا ہے اور ہر خدمت کی ذمہ داری عورت پہ ڈال دیتا ہے۔ جس وقت پولیس رافع اور باسط کو ہتھکڑیاں لگا رہی تھی دونوں کے چہروں کی دہشت دیکھنے والی تھی۔ یہ تھے وہ جو خود کو بہادر کہتے تھے۔ گھر کی عورتوں کے چھپکلی سے ڈرنے پہ مذاق اڑانے والے مرد خود سے ذرا طاقتور کے سامنے خود چھپکلی اور چوہے بن گئے تھے کہ موقع ملتا تو بل میں جاگھستے۔ بسمہ کو ایک دم احساس ہوا۔ میں اس سے ڈر رہی تھی؟ اس باسط سے جو اپنے حق میں دو لفظ بھی نا بول سکے؟ سارا تنتنا، غصہ صرف خود سے کمزور عورت کے لیے تھا؟ وہ اپنے اندر ایک طاقت سی محسوس کر رہی تھی۔ باسط کو کنٹرول کرنا کتنا آسان ہے۔ وہ لاشعوری طور پہ طنزیہ ہنسی۔ پھر اپنی ہی ہنسی کی آواز پہ چونک گئی۔ وہ لیٹی لیٹی انہی باتوں پہ سوچتی رہی۔ پتا نہیں کیا کیا سوچتے کافی وقت گزر گیا۔ گھڑی پہ نظر پڑی تو اندازہ ہوا کہ تین گھنٹے سے زیادہ گزر گیا ہے۔ اسے خیال آیا واحد بھائی ابھی تک نہیں آئے؟ وہ اٹھ کر نیچے آئی تو ساس سسر کے کمرے سے سسر کی زور زور سے بولنے کی آواز آرہی تھی۔ اس کے قدم رک گئے۔

 ”ساری زندگی تو میں خرچہ نہیں اٹھاوں گا نا۔ ابھی وکیل کے پیسے دے دیئے تو اگلی دفعہ پھر میرے سامنے کھڑے ہونگے۔ باسط کی بیوی سے کہو وہ دے، باسط نے گھر میں کچھ پیسے تو رکھے ہونگے نا، نہیں بھی ہیں تو اپنے گھر والوں سے مانگ لے بیٹی کے لیئے اتنا بھی نہیں کرسکتے کیا؟”

 ”ارے یہ تو بعد کی بات ہے نامسئلہ تو ابھی ضمانت کے پیسوں کاہے۔ بیٹا ہے آپ کا قرض سمجھ کے ہی دے دیں۔ رانا صاحب! کبھی تو اولاد کو اصولوں پہ ترجیح دے دیا کریں۔”

 ”حاجرہ بس تم ہمیشہ کی بےوقوف ہی رہنا میرے انہی اصولوں کی وجہ سے آج تک یہ اولاد میرے قابو میں ہے ورنہ دیکھو دوسرے گھروں میں ساس سسر کو جوتے کی نوک پہ رکھا ہوتا ہے کاٹھ کباڑ کے کمرے میں کاٹھ کباڑ کی طرح رکھا ہوتا ہے۔ آج کل کی اولاد کو جتنا سر چڑھاو اتنا ہی نقصان ہے۔ بس میں نے کہہ دیا ریٹائرڈ بندہ ہوں جو پینشن آتی ہے اولاد پہ لٹا کے ہاتھ پاوں نہیں کٹا سکتا اپنے۔”

دروازہ کھلا تو بسمہ تیز قدم اٹھا کر کچن میں گھس گئی۔ ساس باہر آئیں تو ہاتھ میں موبائل تھا شاید کسی سے بات کرنی تھی انہوں نے۔

 ”ہیلو۔ واحد؟ ہیلو۔۔۔۔ ہاں سنو میں نے تمہارے ابو سے بات کی ہے بیٹا مگر تمہیں ان کی عادت کا پتا تو ہے۔ میری تو سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہوگا۔ مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا وکیل اتنے پیسے مانگ لے گا۔۔۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔؟ اچھا پولیس والے کو بھی دینے ہیں۔ لعنت پڑے ان پہ اللہ کی۔ غریبوں کو ستانے کے کوئی راستے نہیں چھوڑتے اب اتنی رات میں کوئی کہاں سے پیسوں کا بندوبست کرے گا؟” وہ کچھ سیکنڈ رکیں۔

 ”اچھا سنو سنیہ کے جہیز کے لیئے کچھ پیسے پڑے ہیں میرے پاس، پچھلے ہفتے کمیٹی کھلی تھی۔” دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا گیا

 ”ارے اللہ بھائیوں کو زندگی دے بھائی ہونگے تو دوبارہ انتظام بھی ہوجائے گا۔ بس تم میرے بچوں کو چھڑا لاو میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہے فہد کو بھیج دو میں پیسے دیتی ہوں”

ساس بات ختم کرکے فورا کمرے میں چلی گئیں۔ جیسے وہ بات کر رہی تھیں اس سے پتا چل رہا تھا کہ وہ اپنے میاں سے یہ ساری بات چیت چھپانا چاہتی ہیں۔ کمیٹی والی بات تو بسمہ کو بھی پہلی دفعہ پتا چلی تھی ورنہ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی اس نے یہی دیکھا تھا کہ جب بھی سنیہ کے جہیز کے بندوبست کی کوئی بات نکلتی تھی تو سسر اور بھائی یا تو بات بدل دیتے یا اپنے خرچوں کی تفصیل بتانے لگتے واحد بھائی ہی تھوڑا بہت سنیہ کی فیس وغیرہ کا خرچ دے دیتے جب سے بسمہ یہاں آئی تھی، رافع بھائی اور باسط نے اتنے عرصے میں خاص طور سے سنیہ کے لیے کچھ نہیں کیا تھا سسر کا کہنا تو یہ ہوتا کہ میں نے جتنا کرنا تھا اولاد کے لیے کرلیا اب مجھ سے کوئی خرچے کا نا بولے۔۔ ساس اتنا سن کر خاموش ہوجاتیں۔ بسمہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے طور پہ انتظام کر رہی تھیں۔ مگر ان کے پاس کمیٹی ڈالنے کے پیسے کہاں سے آرہے تھے یہ سوچنے کی بات تھی۔ تھوڑا بہت جو بسمہ کو اندازہ ہوا وہ یہ کہ تینوں بھائی جو ہزار پانچ سو مہینے کا خرچ انہیں دیتے تھے اسی میں سے شاید وہ کمیٹی کے پیسے بھی دیتی ہوں گی۔ آج اسے اپنی سسرال بہت پراسرار لگ رہی تھی ہر بندے کی شخصیت کی کئی پرتیں تھیں۔ ایک دم کوئی بہت اچھی پرت سامنے آجاتی اور ایک دم کوئی بری۔ اس نے شکر بھی ادا کیا کہ ساس نے اسے میکے سے پیسے منگوانے کا نہیں کہا۔ اتنا تو اسے اندازہ تھا کہ میکے سے اس معاملے میں اسے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ مگر اسے یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ آگے کبھی بھی اس سے یہ تقاضہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر کب؟ اس کا اندازہ نہیں تھا اسے۔

مزید کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد واحد بھائی، رافع بھائی اور باسط کو لے کر آئے۔ تھوڑی سی دیر میں ہی پولیس والوں نے اچھا خاصا حال برا کردیا تھا۔ باسط کی ایک آنکھ سوجی ہوئی تھی اور رافع بھائی کا جبڑا۔ دونوں مسلسل کراہ رہے تھے۔ ساس ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر رو رہی تھیں۔ اور وقتا فوقتا نازیہ کو کوسنے بھی دے رہی تھیں۔ آخر سسر چڑ کے بولے

 ”اففو چپ کر جاو کم عقل عورت نحوست پھیلا رہی ہو مسلسل۔ یہ شکر نہیں کرتی کہ بیٹے ذرا سی دیر میں واپس آگئے۔”

واحد بھائی ہونٹ چبا رہے تھے

 ”ابو ضمانت تو ہوگئی ہے مگر مسئلہ بھی چھوٹا موٹا نہیں ہے۔ زنا بالجبر کا الزام ایسا ہے ان بیل ایبل چارج(ناقابل ضمانت الزام) لگتا ہے۔ پچیس پچیس ہزار دونوں کے،تھانے کے بڑے منشی کو دیئے پندرہ ہزار وکیل کو۔ اور جب تک کیس چلے گا اتنے ہی کئی بار دینے ہونگے۔”

 ”پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوا۔” سسر کا ماتھا ٹھنکا

 ”امی نے دیئے کچھ، کچھ میں نے ملا دیئے۔”

 ”واہ حاجرہ بیگم دولتیں جمع کی ہوئی ہیں ہمیں بتایا ہی نہیں۔” سسر کے الفاظ سے زیادہ لہجے کا شک ساس کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔

 ”رانا صاحب میری کونسی فیکٹریاں چلتی ہیں یہی مہینے پہ تینوں بیٹے اور آپ جو دیتے ہیں وہ خرچ تو ہوتا نہیں بس وہی ہوتا ہے میرے پاس۔”

 ”مزے ہیں تم عورتوں کے نا کام نا کاج گھر میں بیٹھے بیٹھے ہن برستا ہے تم پہ۔ اس پہ بھی شکر گزار نہیں ہوتیں۔ دیکھ لو نازیہ بیگم کے حال شوہر کی عزت رکھنے کی بجائے سب کے سامنے اپنی بھی عزت اتاری شوہر کی بھی۔ ارے عزت دار عورت مر جاتی ہے مگر گھر کی بات باہر نہیں نکالتی۔” پھر ان کی بات رافع کی طرف مڑ گئی۔

 ”ایک یہ احمق ہیں۔ بات بھی سنبھالنی نہیں آتی۔ اور ایک بات میں بتا دوں حاجرہ بیگم یہ جو زنخہ پیدا کیا ہے نا تم نے یہ میری اولاد تو ہو ہی نہیں سکتا۔”

 ”ابو آپ کے ان طعنوں نے ہی میری زندگی تباہ کردی۔ آپ کی ہی ضد تھی کہ شادی کرو شادی کرو مرد بن کے دکھاو۔ جب پتا تھا کہ آپ کے اس مردانگی کے امتحان میں، میں کبھی پاس ہی نہیں ہوسکتا تو مجھے مجبور کیوں کیا تھا؟”

رافع ایک دم پھٹ پڑا اسے شاید پتا بھی نہیں تھا کہ اس کے آنسو بہہ رہے ہیں۔

 ”بالکل ٹھیک فرمایا برخوردار، میری ہی غلطی ہے۔ آپ کو تو بچپن میں ہی آپ کی برادری کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔ عزت دار مرد کی زندگی آپ کو راس کہاں۔ جایئے ابھی بھی وقت ہے چلے جایئے اپنے لوگوں میں۔”

 ”ابو میں ہیجڑا نہیں ہوں۔ کیسے یقین دلاوں؟ میری زندگی ایک جھوٹی عزت کے پیمانے تک پہنچنے کی کوشش میں جہنم ہوگئی ہے۔ اور آپ نے پاس رکھ کر مجھ پہ احسان نہیں کیا بلکہ مجھے مزید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ میری شخصیت سوائے اس ایک خامی کے کچھ بھی نہیں بچی۔ شادی نا کرتا تو آپ کی بے عزتی اولاد ناہوتی تو آپ کی بے عزتی۔ میں کہاں ہوں میری ذات کہاں ہے؟ خود کو آپ بہت عزت دار مرد کہتے ہیں نا نکلیں ذرا باہر اور پوچھ کے تو دیکھیں کہ جناب محمد شکیل رانا صاحب کی کیا ”عزت” ہے معاشرے میں۔ اسکول میں کسی کو پتا چل جاتا تھا کہ ہم آپ کے بیٹے ہیں تو لیڈیز ٹیچرز اور لڑکیاں ہم سے کترا کے گزرتی تھیں۔ اشتہاری مجرموں جیسا رویہ ہوتا تھا ہمارے ساتھ ہر نئی آنے والی اسٹوڈنٹ کو اشاروں میں بتا دیا جاتا تھا کہ ان سے بچ کے رہنا۔ یہ ہے آپ کی مردانگی جس کے جھنڈے گاڑنے کی لیے آپ نے ہماری زندگیاں تباہ کردیں۔ والدین کو کم از کم یہ اختیار تو ہوتا ہے کہ اولاد ان چاہی ہے تو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم کروا سکتے ہیں۔ آپ جیسے باپ سے اولاد کیسے بچے؟ کیسے ہٹائے یہ ولدیت کا ٹھپا؟ شکر کریں ابو آپ کا سابقہ کسی نازیہ سے نہیں پڑا ورنہ کئی سال پہلے آپ اپنی مردانگی سمیت جیل پہنچ چکے ہوتے۔ مجھے نازیہ سے شکایت نہیں اگر چونٹی کو مسلیں تو وہ بھی پلٹ کے کاٹتی ہے نازیہ تو پھر انسان ہے۔”

 ”واہ پولیس کی ٹھکائی نے تو ضمیر جگا دیا رافع صاحب کا۔ اب یہ باپ کو بتائیں گے کہ صحیح غلط کیا ہوتا ہے۔ میرے گھر میں رہ کر مجھے آنکھیں دکھائی جارہی ہیں۔ صحیح کہہ رہے ہو کہ ماں باپ کو اختیار ہوتا ہے اور اب مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میں یہ اختیار استعمال کر ہی لیتا تم جیسے بیٹے سے ایک اولاد کم ہوتی تو اچھا تھا۔ اور رافع میاں یہ تھانے کچہریاں کوئی مرد کی عزت کم نہیں کرتیں۔ تم جیسے زنانے ہی ڈرتے ہیں ان سے۔”

رافع کچھ لمحے باپ کو گھورتا رہا پھر جھٹکے سے اٹھا۔

”ٹھیک ہے آپ کو مبارک ہو آپ کا گھر اور مردانگی میری واقعی یہاں کوئی جگہ نہیں۔”

رافع دو دو سیڑھیاں پھلانگتا ہوا تیزی سے اوپر گیا۔

کچھ ہی دیر بعد وہ نیچے آیا تو ایک چھوٹا سا بیگ تھا اس کے ہاتھ میں۔ اس کے چہرے پہ شدید تکلیف کے آثار تھے۔

”دیکھ لیں آپ کی دولت میں سے کچھ نہیں لے کے جارہا صرف میرے کاغذات اور کچھ ضرورت کی چیزیں ہیں۔”

 ”رافع بیٹا کیا پاگل پن ہے۔ باپ ہیں تمہارے غصے میں کچھ بھلا برا کہہ دیا تو چپ کر کے سن لو۔ تمہیں بھی پتا ہے فکر کرتے ہیں تبھی ڈانٹتے ہیں۔ کبھی کوئی ماں یا باپ چاہے گا کہ اس کی اولاد کی معاشرے میں بے عزتی ہو؟ چلو رکھ کے آو یہ۔” حاجرہ بیٹے کو جاتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔

 ”جانے دو حاجرہ بیگم اسے۔ ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔ آرام سے رہنے کی جگہ میسر ہے نا تبھی دماغ آسمان پہ ہیں ان کے۔ پیدا کیا اچھا کھلایا اچھا پہنایا اب باپ سے لمبے ہوگئے تو ہمیں ہماری غلطیاں بتائیں گے۔ جس سے ایک بیوی نا سنبھلے وہ اور کیا کرے گا۔ آئے گا روتا ہوا کچھ دن میں یہیں۔”

رافع غصے میں تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا پیچھے حاجرہ، رافع رافع کہتی بھاگیں مگر بوڑھی ٹانگیں جوان قدموں کا مقابلہ کیا کرتیں۔ ان کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے وہ کافی دور جا چکا تھا۔

”چلو ختم تماشہ اپنے کمروں میں جاو سب”

ابو ہاتھ جھاڑ کے کھڑے ہوئے وہ کمرے کی طرف مڑے پھر ایک دم مڑے۔

”واحد کل باسط کے سلسلے میں وکیل کے پاس جاو تو ایک عاق نامہ بنوا لینا مجھے جلد سے جلد اس کا اشتہار دینا ہے۔”

”ابو آپ آرام کرلیں صبح دیکھ لیتے ہیں اس مسئلے کو۔”

 ”جو بات کہہ دی سمجھ نہیں آتی؟ تم نہیں جاو گے تو میں خود چلا جاوں گا۔ بوڑھا ہو گیا ہوں تو یہ مت سمجھو کہ تم لوگوں کے رحم و کرم پہ ہوں کسی نے اعتراض کیا تو اس کا بھی نام ساتھ لکھوا دوں گا۔ اور بوریا بستر کے ساتھ روانہ کردوں گا۔”

وہ مڑ کر کمرے میں چلے گئے۔ امی منہ میں دوپٹہ ٹھونسے سسکیاں لے رہی تھیں۔ بسمہ اور سنیہ انہیں چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھیں سنیہ خود بھی روتی جارہی تھی۔

نازیہ کی کہانی

میں نازیہ رافع ہوں۔ پہلے نازیہ سہیل شیخ تھی کیونکہ والد کا نام محمد سہیل شیخ ہے۔ میں نے جب سے شعور میں قدم رکھا ہمیشہ گھر میں جھگڑے دیکھے۔ امی اور بابا یعنی میرے والدین کی آپس میں کبھی نہیں بنی۔ ہم دو ہی بہن بھائی ہیں۔ بھائی بڑا تھا اور اس نے بہت جلد گھر کے باہر کے ماحول میں پناہ لے لی۔ اور میں گھر کے اندر امی اور بابا کی توجہ کے لیے ترستی رہی۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ امی غلط ہیں یا بابا۔ دونوں کا جب جھگڑا ہوتا تو ساری اخلاقیات طاق پہ رکھ کر دونوں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ایک دوسرے کہ کردار پہ کیچڑ اچھالتے دونوں کے خیال میں اولاد دوسرے کی ذمہ داری ہے اسکول میں کبھی کوئی پوچھنے نہیں گیا کہ ہم کیسا پڑھ رہے ہیں یا ہم اسکول آتے بھی ہیں یا نہیں۔ بھائی تو ساتویں کے بعد سے دو دن اسکول جاتا تین دن چھٹی نتیجہ یہ نکلا کہ میں جو ان سے تین سال چھوٹی تھی میں بھی ساتویں میں آگئی مگر وہ ساتویں میں ہی رہا۔ پڑھائی میں اچھی تھی اس لئے ٹیچرز کو لگتا تھا کہ میں بھائی کے مقابلے میں سمجھ دار ہوں۔میں شاید تیسری کلاس میں تھی جب پہلی بار مجھے بھائی کی شکایت کے لیے پرنسپل کے آفس بلایا گیا اور اس کے بعد یہ معمول بن گیا۔ تب تک میں پڑھائی میں بس ٹھیک تھی مگر اس دن مجھے احساس ہوا کہ میری اچھی کارکردگی نے مجھے کچھ اہمیت دلوائی۔ میں نے پڑھائی پہ اور توجہ دینی شروع کر دی۔ میں توجہ کے لیے اتنی ترسی ہوئی تھی کہ تھوڑی سی بھی توجہ کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوجاتی تھی۔ میرے پیسے عموما دوسرے کلاس فیلوز پہ خرچ ہوتے مجھے اچھا لگتا تھا ان کا اپنے اردگرد رہنا مجھ سے بات کرنا۔ بہت بچپن ہی سے میں ہر نئے بندے سے بہت جلدی قریب ہوجاتی تھی۔ محلے کی کوئی نئی آنٹی ہوں بھائی کے دوستوں کی فیملی ہو کوئی ٹیچر ہو یا کلاس فیلو۔ محلے کی کئی خواتین کو ہمارے گھر کا حال پتا تھا اس لیے جب تک میں چھوٹی تھی وہ ترس کھا کر مجھے اپنے گھر آنے دیتی تھیں۔کچھ کو میرے گھر کی چٹپٹی خبروں سے دلچسپی تھی۔ میں ان کے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی گھر کی ساری باتیں باتیں بتاتی صرف اس لئے تاکہ ان کی توجہ مجھ پہ رہے کبھی کبھی امی اور بابا میں کوئی خاص لڑائی نہیں بھی ہوتی تھی۔ پھر میں کوئی جھوٹا سچا قصہ بنا کے انہیں سنا دیتی۔ پھر میں نے یہی سب کے گھروں کے لئے کرنا شروع کر دیا۔ ایک گھر کی بات دوسرے گھر میں بتاتی دوسرے کی تیسرے گھر میں بلکہ کبھی کبھی تو امی بھی میری بات بہت دلچسپی سے سنتی تھیں جب میں کسی کے گھر کی راز کی بات انہیں بتاتی۔مجھے احساس ہوا کہ یہ بہت کار آمد نسخہ ہے توجہ حاصل کرنے کا۔ ایک دم میری پذیرائی بڑھ گئی۔ اور میں اسی طرح نئی نئی کہانیاں گڑ کے ادھر ادھر گھروں میں سناتی رہتی۔ کچھ گھر ایسے بھی تھے جہاں کا ماحول بہت اچھا اور پرسکون تھا۔ شروع شروع میں مجھے وہی گھر سب سے پسند تھے۔ مگر اپنے بچپنے میں میں بہت خطرناک حرکتیں کر گئی۔ میں نے دوسرے گھروں میں توجہ حاصل کرنے کے لئے ان پرسکون گھروں میں ایک دوسرے کے متعلق بے بنیاد باتیں بتانی شروع کردیں۔ ان کو رسول اللہ کا اور دوسری مقدس شخصیات کے واسطے دیتی کہ میرا نام لیے بغیر بات کیجیے گا۔ کافی عرصے تک ان لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ گھر میں ایک دم شروع ہونے والے جھگڑوں کی وجہ میں ہوں۔ مگر باشعور شخص کبھی نا کبھی سمجھ ہی جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ وہ جو مجھے چٹپٹی خبروں کے شوق میں یا توجہ کے لیے ترسی ہوئی بچی سمجھ کر گھر میں آنے دیتے تھے یہی ان کا گھر خراب کرنے کی وجہ تھی۔ عموما خواتین نے مجھ سے کترانا شروع کردیا۔ امی کو کہلوادیا کہ آپ کی بیٹی اب بڑی ہوتی جارہی ہے اسے اس طرح دوسرے گھروں میں نا بھیجیں۔ میں اس وقت کوئی 12 سال کی تھی۔ ایک ساتھ ہی دو باتیں ہوئیں خواتین مجھ سے کترانے لگیں مگر کچھ گھروں کے مرد اور جوان لڑکوں نے میری طرف توجہ دینی شروع کردی۔

کیونکہ محلے کے ہی لوگ تھے تو شروعات تو بہت تمیز کے دائرے میں ہوئی اور ایک حد تک ہی پیش قدمی ہوئی شاید اسی لیے میں سمجھ بھی نہیں پائی کہ میرا استعمال ہورہا ہے۔ گھر کی خواتین نے پابندی لگائی تو مردوں نے مجھے ان سے چھپ کر بلانا شروع کردیا۔ مجھے توجہ چاہیے تھی کوئی بھی ہو۔ آنٹیاں نا صحیح انکل اور بھائی صحیح۔ کچھ صرف مجھ سے باتیں کرتے کچھ گود میں بٹھا لیتے کچھ بہانے بہانے سے چھوتے۔ ایجڈ، انکل ٹائپ زیادہ دیدہ دلیری دکھاتے تھے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیویوں سے چھپ کر تحفے بھی دیتے۔ مجھے ان کے پاس الجھن ہوتی مگر تحفے بھی توجہ کا ہی نعم البدل لگتے۔ مگر مجھے نوجوان لڑکوں کی توجہ زیادہ پسند تھی۔ وہ بہت کم ہاتھ لگاتے تھے بس باتوں سے ہی دل بہلاتے تھے۔انہی مردوں کا کہنا ہوتا تھا کہ وہ تو مجھے اپنی بیٹی بہن وغیرہ سمجھتے ہیں۔ میں نے تب ہی سیکھا کہ جس سے چھپ کے ملنا ہو تو ان رشتوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ ان کی ہی توجہ دیکھتے ہوئے میں نے کپڑوں کا انتخاب بھی بدل لیا۔ مجھے یہ تو پتا چل ہی گیا تھا کہ جب میرے کپڑے زیادہ فٹنگ والے ہوتے یا گلا زیادہ بڑا ہوتا تو ان کی توجہ بھی زیادہ ہوتی اور تعریفیں بھی زیادہ ملتیں۔ ہاں یہ ہوا کہ ایک دو انکلوں نے زیادہ پیش قدمی کی تو میں ڈر کے بھاگ آئی اور پھر پلٹ کے ان کے گھر نہیں گئی۔ عمر بڑھتی گئی تو اندازہ ہو ہی گیا کہ معاشرے میں اس قسم کے میل جول کو بہت غلط نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ میں کسی ایک سے ہی محبت کروں اسی کی محبت اور توجہ کافی ہو میرے لیئے۔ میں نے محلے کے گھروں میں آنا جانا کم کردیا یہ سمجھ لیں کہ یہ کوئی دو سال کا عرصہ تھا یعنی بارہ سال کی عمر سے پندرہ سال کی عمر کا آغاز تک۔ میں میٹرک میں آئی تھی۔ تب ہی محلے میں ایک نئی فیملی آئی ان کے گھر میں میاں بیوی اور دو لڑکے تھے۔ مجھے بڑا لڑکا ظہیر اچھا لگا وہ بھی آتے جاتے مجھے مسکرا مسکرا کر دیکھتا تھا۔ میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ اس سے محبت کروں گی کچھ بھی کرنا پڑے اور اس کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزاروں گی۔ جہاں وہ ہوگا اس کی توجہ ہوگی۔ میں نے پکا فیصلہ کیا تھا کہ میں کبھی اپنے بچوں کو نظر انداز نہیں کروں گی۔ بہت بہت بہت ساری توجہ پیار اور شفقت دوں گی۔ میری راتیں ایک عام سی لڑکی کی طرح اس کے تصور میں گزرنے لگیں۔ بالکل بسمہ کی طرح۔ مگر میں اس معاملے میں بسمہ سے کم شرمیلی تھی اسی لیے بہت جلد ہی ظہیر کو ہمت ہوگئی کہ وہ مجھ سے بات شروع کرے سادی بات چیت سے عشق و محبت تک کی باتوں کا فاصلہ جلد ہی طے ہوگیا۔ تقریبا ایک سال تک سب کچھ بہت اچھا تھا۔ میں بہت خوش تھی۔ مجھے خود اپنے رویئے میں بہت اچھی تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی باتیں ادھر ادھر نہیں کہنی پڑتی تھیں۔ میرا دن یا تو ظہیر سے باتیں کرنے میں یا پھر اس کے بارے میں سوچنے اور مستقبل کے خواب بننے میں گزرتا۔ پھر ظہیر کی طرف سے رابطہ کم ہونے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اس سے اتنی توجہ مانگتی ہوں جتنی دینا اس کے بس میں نہیں۔ وہ ہروقت مجھ سے بات نہیں کرسکتا۔ جبکہ میرا دل چاہتا تھا کہ میرا ذہن ہر وقت اس کی طرف رہے تاکہ گھر کے ماحول کی طرف میری توجہ نا جائے۔ 16 سال کی عمر میں ہی میں نے اس سے شادی کا تقاضہ شروع کردیا میں چاہتی تھی کہ کسی طرح میں اس ماحول سے نکل جاوں۔ ایک پرسکون گھر بناوں جہاں سب ایک دوسرے کی فکر کرتے ہوں۔ بہت جلد۔ مجھ سے انتظار نہیں ہورہا تھا۔ مگر ظہیر کا کہنا تھا کہ وہ اتنی جلدی شادی نہیں کرسکتا وہ خود گریجویشن کے دوسرے سال میں تھا۔ میرا تقاضہ بڑھتا گیا اور اس کا اجتناب۔ آخر ایک دن اس نے کہہ دیا۔

 ”دیکھو نازیہ تم کوئی ایسی حور پری نہیں ہو کہ میں تم سے شادی کرنے کے لیے اپنے گھر والوں سے لڑ جاوں۔ شادی کے لیے میرا آئیڈیل ایک بہت خوبصورت اور باحیا لڑکی ہے تمہاری طرح لڑکوں سے دوستیاں کرنے والی لڑکی نہیں، شکل وکل تمہاری کوئی خاص نہیں فحش کپڑے پہن کر تم لڑکوں کو متوجہ کرتی ہو،تمہیں کیا لگا کہ میں محلے میں نیا ہوں تو مجھے تمہاری حرکتیں پتا نہیں چلیں گی۔ تم سے بات ہی اسی لیے شروع کی تھی کیونکہ تم سے رابطہ سب سے آسان تھا۔”

اس نے تو سچ بول دیا مگر یہ سچ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں اس رات سوئی ہی نہیں صرف روتی رہی۔ مجھے اس بات پہ بالکل افسوس نہیں تھا کہ اس نے میری کردار کشی کی۔ کیونکہ مجھے محلے کی کہنے کو باحیا لڑکیوں کی حرکتیں بھی پتا تھیں۔ مجھے پتا تھا کہ ان میں سے پارسا شاید کوئی دو تین ہی تھیں۔ مگر وہ خود کو پارسا ثابت کرنے کے لیے عموما پردے کا سہارا لیتی تھیں۔ بلکہ ان میں ایک دو تو باقاعدہ اپنے اپنے فرقے کی تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ تھیں۔ میں نے سیکھ لیا کہ معاشرے میں پارسائی کا امیج بنانے کے لیے پارسا بننا ضروری نہیں بلکہ دکھنا کافی ہے۔ میں نے اپنی اسی ڈریسنگ کے اوپر بڑی سی چادر اوڑھنی شروع کردی۔ مگر میں اپنی اس پرسکون گھر کی خواہش کو کیا کرتی۔ جو کسی طرح ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ حالانکہ ظہیر کے احساس دلانے سے پہلی بار مجھے یہ تو پتا چل گیا کہ میں ایک عام سی شکل و صورت والی لڑکی ہوں۔ ظہیر کی طرف سے چوٹ کھانے کے بعد میں نے دو تین دفعہ اور سچے دل سے کوشش کی کہ کوئی پرخلوص لڑکا مل جائے۔ مگر یا تو لڑکا صرف وقت گزاری کر رہا ہوتا یا پھر اس کے گھر والوں کو میری جیسی بہو نہیں چاہیئے ہوتی تھی۔ حالانکہ وہ مجھ سے ملے بھی نہیں ہوتے تھے مگر خود ہی سمجھ لیتے تھے کہ اگر میں نے ان کے بیٹے سے دوستی کی ہے تو میں بدکردار ہی ہوں گی۔

میری ہر دفعہ سدھرنے کی کوشش ضائع گئی اور پھر میں نے سدھرنے کی کوشش ہی ترک کردی۔ میں

بیک وقت کئی لڑکوں سے دوستی کرتی اور معاشرے میں عزت بنائے رکھنے کے لیے اور اپنی تسلی کے لیے مذہب اور پردے کا سہارا لیتی۔ مگر اس کے باوجود میرا ان سے تعلق ایک حد سے نہیں بڑھا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر بچے وچے کا چکر ہوگیا تو میں کہاں جاوں گی۔ مجھے واقعی سیدھی سادھی لڑکیوں سے چڑ ہونے لگی وہ جو واقعی پردہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کرتی تھیں جو مذہب کو اپنی ڈھال کے لیے استعمال نہیں کرتی تھیں۔ میں محفل میں بیٹھ کر ان پہ اعتراض کرتی ان کو مذہب سے دور ثابت کرنے کی کوشش کرتی ان کے پردے کو تنقید کا نشانہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی کہ یہ تھوڑا بہت بھی خود کو دکھا رہی ہیں تو مردوں کی توجہ لینے کے لئے۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ایسی لڑکیوں کی وجہ سے میری اہمیت کم ہورہی ہے۔ میں نے اپنی ہر صلاحیت زبانی کلامی حد تک محدود کرلی۔ اور یہ فارمولا کامیاب بھی رہا عموما لوگ میری باتوں پہ یقین کر لیتے۔ میری عادتیں پختہ ہوتی چلی گئیں۔ میری عمر تقریبا 23 سال ہوچکی تھی۔ عمومی والدین کے برعکس ابھی تک مجھے اپنے والدین کی طرف سے ایسے کسی ارادے کا اظہار ہوتا نظر نہیں آیا تھا کہ لگے کہ وہ کچھ عرصے میں میری شادی کروائیں گے۔ میں بلا وجہ گھر میں جھگڑے کرنے لگی۔ عموما کہتی کہ میری شادی کردیں تو میری اس جہنم سے جان چھوٹے۔ شاید میری عمر کی وجہ سے یا میرے تقاضوں کی وجہ سے امی نے رشتے والی ایک خاتون کو میرے لیے بھی رشتہ دیکھنے کے لیے کہہ دیا۔ لڑکے والے آتے اور میرا پوسٹ مارٹم کر کے چلے جاتے۔ عموما کا اعتراض ہوتا لڑکی کی عمر زیادہ ہے، کچھ کا کہنا ہوتا کہ ناک نقشہ مناسب نہیں ہمیں پیاری سی معصوم سی لڑکی چاہیے۔ کچھ کو میرے کارنامے پہلے سے پتا ہوتے۔ مزے کی بات یہ کہ پہلے سے پتا ہونے کے باوجود دعوت ٹھونسنے سب پہنچ جاتے تھے۔ پھر ایک دن رشتہ کرانے والی خاتون آئیں تو امی کو اشارہ کیا کہ مجھے دوسرے کمرے میں بھیج دیں۔ امی نے بہانے سے مجھے اٹھا دیا۔ میں نے بھی وہاں سے ہٹ جانا مناسب سمجھا کیونکہ میں جب تک رہتی وہ خاتون مطلب کی بات پہ نہیں آتیں۔ میں کمرے سے نکل کر دروازے کے ساتھ ہی کھڑی ہوگئی۔ امی والا کمرہ چھوٹا سا ہی تھا باہر صاف آواز آتی تھی۔

”ہاں بتاو شہناز”

 ”زبیدہ باجی ایک رشتہ آیا ہے رشتہ ہوجانے کی امید زیادہ ہے مگر ایک مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے میں کافی جگہوں سے بےعزتی بھی کروا چکی ہوں۔ مگر آپ کا بھی مسئلہ ہے۔ آپ کی لڑکی کے کارنامے اتنے مشہور ہیں کہ اب لوگ یہاں آتے ہوئے کتراتے ہیں۔”

 ”یہی تو مسئلہ ہے۔ ویسے بھی میری کوئی خاص اونچی اونچی فرمائشیں نہیں ہیں۔ باپ تو پیدا کر کے سمجھتا ہے ہر ذمہ داری سے الگ ہوگیا اب میں اکیلی تو سب نہیں کرسکتی نا۔ بس جیسے تیسے کوئی رشتہ آئے تو میرے سر سے یہ بوجھ ہٹے اس لڑکی نے میرا جینا بھی حرام کیا ہوا ہے۔”

پہلے سے پتا ہونا کہ والدین کو آپ کی پروا نہیں الگ بات ہوتی ہے مگر اتنے کھلے الفاظ میں کسی دوسرے کے سامنے بے زاری کا اظہار مجھے بہت تکلیف دے تھا۔ مجھے اپنا حلق آنسو ¶ں سے کٹتا محسوس ہونے لگا۔

”اصل میں سننے میں آیا ہے کہ لڑکے میں کوئی مسئلہ ہے۔ ہے تو پیارا سا مگر شادی کے قابل نہیں ہے۔”

”آئے ہئے ہیجڑا ہے کیا”

”نہیں نہیں بولتا چالتا ٹھیک ہے بالکل، مگر لڑکیوں میں دلچسپی نہیں۔”

”ارے تو شریف سیدھا ہوگا”

 ”نہیں زبیدہ باجی شریف اور سیدھے کا مسئلہ نہیں سننے میں آیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔” شہناز آپا کی پہلے سے دھیمی آواز اور پھس پھسا گئی ”اپنے جیسوں میں دلچسپی ہے۔”

”اے لو پھر گھر والے کیوں شادی پہ تلے بیٹھے ہیں۔”

 ”مجھ سے جو بات ہوئی تو اس کی ماں حاجرہ نے سختی سے تردید کردی ایسی کسی بھی افواہ کی۔ بلکہ وہ تو غصے میں مجھ سے لڑنے کو تیار تھی کہ اس کی خوبصورت گبرو بیٹے کے لیے میں نے ایسا کہا کیسے۔”

 ”ہمم۔ ہوسکتا ہے کہ ماں ٹھیک ہی کہہ رہی ہو۔ شہناز تم لے ہی آو ان لوگوں کو۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے میں تو سچی بےزار آگئی ہوں اس لڑکی کے لچھنوں سے، باپ پہ گئی ہے پوری۔”

مجھے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔ ایسے بھی مرد ہوتے ہیں۔ اور اتنے لاکھوں کروڑوں صحیح مردوں میں سے میری قسمت میں یہ لکھا جارہا تھا؟ پھر میں نے بھی سوچا کیا پتا واقعی افواہ ہو۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی مرد ہو اور اسے عورت میں دلچسپی نا ہو۔ پھر مجھے خود پہ بھی اعتماد تھا کہ میں کسی بھی طرح اسے اپنی طرف متوجہ کر ہی لوں گی۔ میں پھر سے ایک پرسکون گھر کے لیے پر امید ہوگئی۔ رافع کے گھر والے آئے اور جیسے سب کچھ آنا فانا ہوگیا۔ رافع مجھے پہلی دفع میں ہی اچھے لگے تھے ان کا رنگ اپنے باقی دونوں بھائیوں کی نسبت زیادہ صاف تھا چہرے پہ معصومیت محسوس ہوتی تھی۔ ان سے چھوٹا بھائی تو عموما گھورتا تھا مگر جتنی دفع رافع سے سامنا ہوا وہ شرمائے شرمائے سے لگتے تھے۔ مجھ سے عمر میں پانچ سال بڑے تھے یعنی میں 24 کی ہوگئی تھی اور وہ 29 سال کے۔ واحد بھائی ان سے دوسال بڑے تھے پھر رافع اور پھر ان کے بعد رافیعہ باجی تھیں پھر باسط اور پھر سنیہ۔ باسط مجھ سے عمر میں ایک سال بڑا تھا۔ اور سنیہ چھ سال چھوٹی۔

رشتہ پکا ہوا تو میں نے بھی تہیہ کرلیا کہ اپنی سب بری عادتیں چھوڑ دوں گی۔ مگر مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ ان میں سے بہت سی بری عادتیں میری فطرت ثانیہ بن چکی ہیں اور اب مجھے بری لگتی ہی نہیں ہیں۔ ہاں اتنا اندازہ تھا کہ اب مجھے شوہر کا وفادار رہنا ہے۔ شکر بھی کیا کہ دوسروں کی نظر میں میں جیسی بھی سہی مگر میں نے خود کو اپنے شوہر کے لیے تو محفوظ ہی رکھا۔

شادی کی رات میں بہت خوش تھی۔ دل قابو میں ہی نہیں آرہا تھا۔ میں نے سوچ لیا تھا میں زیادہ نہیں شرماوں گی وہ بھی شرمیلے میں بھی شرماتی پھر تو بس۔۔۔۔۔

رافع کمرے میں آئے تو میں نے مسکرا کے ان کو دیکھا۔ وہ بھی مسکرائے مگر بہت کنفیوز مسکراہٹ تھی ان کی۔ مجھے صحیح طریقے سے گڑبڑ کا احساس ہوا کہ سب اچھا نہیں ہے۔

”آپ تھک گئی ہونگی سو جائیں۔”

میں نے خود کو سنبھالا اور غلط فہمی دور کرنے کا سوچا۔ یہ بھی تو ہوسکتا تھا نا کہ مجھے غلط محسوس ہوا ہو وہ واقعی صرف شرما رہے ہوں۔

 ”شادی کی رات اتنی جلدی نیند کہاں آتی ہے۔” میں نے کوشش کی کہ لہجہ شرمیلا بھی رہے اور رومینٹک بھی۔

”جی مگر مجھے اندازہ ہے دلہن بیچاری بہت تھکی ہوئی ہوتی ہے۔”

 ”تھکن اتارنے کے بھی کئی طریقے ہوتے ہیں نا۔” میں نے مزید معنی خیز لہجہ بنایا

رافع کی گھبراہٹ مزید واضح ہوگئی۔

 ”نازیہ میرا خیال ہے فی الحال ہم سوجاتے ہیں۔ ایک دو دن یہ شادی کا ہنگامہ کم ہو تو اس حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہیں۔”

انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کے تھپتھپایا۔ پہلی بار کسی مرد کا ہاتھ سرد نا ہونے کے باوجود اتنا سرد لگا تھا۔ بہت غیر جذباتی ٹچ تھا۔

”ارے ہاں سوری یہ آپ کی منہ دکھائی۔”

انہوں نے جیب سے انگوٹھی نکال کے پہنا دی۔

اگلے دو تین دن عجیب ہی گزرے۔ خاندان کی لڑکیاں بلکہ سب ہی عورتیں مجھ سے معنی خیز مذاق کر رہی تھیں اور میں ان سے کترا رہی تھی۔ حالانکہ شادی سے پہلے تک اس قسم کے مذاق میں نے بہت انجوائے بھی کیے اور بہت کھل کے جواب بھی دیئے۔ مگر اب ایسی مذاق پہ اندر گہرا سناٹا اتر رہا تھا۔ پتا نہیں کسی نے یہ محسوس کیا یا نہیں مگر میرے سامنے یہی اظہار کیا کہ انہیں میرا ردعمل فطری شرم لگ رہا ہے۔ کچھ خواتین کے سوالات کافی واضح رافع کی مردانگی کے حوالے سے ہی تھے۔ دل تو چاہا اپنی فطرت کے مطابق ٹھیک ٹھاک کرارا جواب دوں کہ خود آزما لیں۔ مگر سختی سے اپنی زبان روکی کہ سسرال کا معاملہ ہے اور میں نبھانے کا ارادہ کرکے آئی ہوں۔ اللہ اللہ کرکے یہ چند دن گزرے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔

سب مہمانوں کے جانے کے بعد صبح پہلا ناشتہ تھا جب صرف گھر والے ہی تھے۔ رافیعہ باجی بھی گھر چلی گئی تھیں۔ زیبا بھابھی کے دونوں بچے سو رہے تھے تو ٹیبل پہ صرف گھر کے بڑے ہی بیٹھے تھے۔ سنیہ کافی دن بعد کالج جا رہی تھی جلدی جلدی دو تین نوالے منہ میں رکھ کر باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی رافع کے ابو نے رافع کو مخاطب کیا۔

”برخوردار دوا کھا رہے ہو نا حکیم صاحب کی؟”

 ”جی ابو؟” رافع کی چہرے سے اندازہ ہوا کہ یہ سوال ان کے لیئے بالکل غیر متوقع تھا۔ پھر شاید سمجھ آیا

 ”جی ابو۔” انہوں نے آہستہ سے کہہ کر سر ہلا دیا۔

”بھئی بہو ہمارے یہ برخوردار کچھ بیمار ہیں ان کی دوا کا خیال اب تمہیں رکھنا ہے۔”

 ”ابو میں بالکل ٹھیک ہوں۔” رافع کا لہجہ دھیما مگرمضبوط تھا۔

 ”آپ کچھ دیر چونچ بند کر کے بیٹھ سکتے ہیں برخوردار؟ آپ کی یہ بات مان لی ہوتی تو آج آپ کا گھر بسا نا ہوتا۔ دوا کا فائدہ ہوا ہے تبھی یہ سب ممکن ہوا۔” مجھے اب جاکے اندازہ ہوا کہ وہ کس دوا کی بات کر رہے ہیں۔ مگر شاید انہیں کوئی غلط فہمی تھی جو رافع ہی دور کر سکتے تھے مگر شاید ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ناشتے کے بعد ہم کمرے میں آئے تو میں نے سوچا اب بات صاف ہوجائے تو ہی بہتر ہے۔

”رافع ابو کس دوا کی بات کر رہے ہیں؟”

”کچھ نہیں بس کچھ عرصہ پہلے بخار کی وجہ سے ویک نیس ہوگئی تھی تو ابو نے حکیم سے خمیرہ ٹائپ کوئی دوا لا کر دی تھی۔”

 ”مگر اس کا شادی سے کیا تعلق۔ دیکھیں رافع پلیز آپ بہتر ہے مجھے ٹھیک سے بتا دیں۔ شادی سے پہلے بھی مجھے کچھ الٹی سیدھی باتیں سننے کو ملیں تھیں بہتر ہے آپ ہی سب بتا دیں کہ یہ سب مسئلہ ہے کیا؟”

”مجھے بتانے میں مسئلہ نہیں مگر تم سمجھ نہیں پاو گی اس لیے بتانے کا فائدہ نہیں۔”

 ”کیوں کیا کیمسٹری کا فارمولا ہے یا میتھ کی ایکویشن جو اتنی مشکل بات ہے کہ مجھےسمجھ نہیں آئے گی۔ ویسے بھی آپ کی بیوی ہونے کے ناطے میرا یہ حق بنتا ہے کہ مجھے پتا ہو کہ آپ میرا حق زوجیت ادا کرسکتے ہیں یا نہیں۔”

رافع کچھ دیر خاموشی سے ہونٹ کاٹتے رہے پھر ایک گہرا سانس لے کے بولے

 ”نازیہ تم نے کیا سنا ہے وہ مجھے نہیں پتا مگر عموما لوگوں کو لگتا ہے کہ میں شاید مرد نہیں ہوں مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے بس مجھے مخالف صنف میں کشش محسوس نہیں ہوتی۔”

”ایسا کیسے ہوسکتا ہے” یہ بات میرے لیئے بالکل انوکھی تھی تبھی جب شہناز آپا نے کہا تھا مجھے تب بھی یقین نہیں آیا تھا۔

 ”اسی لیے کہا تھا کہ تم نہیں سمجھ پاو گی۔ عموما افراد کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے میرے جیسے افراد بہت کم ہوتے ہیں مگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے کئی بار بہت واضح انداز میں منع بھی کیا ابو سے پٹا بھی ہوں عاق کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔”

 ”پھر میری زندگی برباد کیوں کی” میری آواز کانپ گئی۔

 ” نازیہ میں بہت شرمندہ ہوں مجھے مجبور کردیا گیا تھا۔ امی نے ابو کے دباومیں آکر مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے شادی نا کی تو وہ کچھ کھا کے مر جائیں گی۔ مجھے پتا تھا کہ یہ صرف دھمکی ہے مگر مجھ سے زبردستی منوانے کے لیئے وہ چوہے مار زہر کی گولی ہاتھ میں نکال کے لے آئی تھیں کہ یا تو میں ہاں کروں یا پھر وہ یہ گولی نگل لیں گی۔ بعد میں امی نے رو کر مجھے منایا بھی اور یہ بھی بتا دیا کہ ابو نے انہیں دھمکی دی تھی کہ کسی طرح مجھے منائیں ورنہ ابو انہیں طلاق دے کر میرے ساتھ گھر سے نکال دیں گے۔” رافع کے چہرے پہ واضح شرمندگی تھی۔

”آپ نے علاج کی کوشش نہیں کی؟”

 ”بہت دفعہ کی۔ شروع میں، میں خود بھی اسے بیماری سمجھتا تھا، حکیموں کے پاس گیا، جنسی بیماریوں کے ڈاکٹر کے پاس گیا، پیر فقیروں سے تعویز لیے اس سے پہلے کہ گھر والوں کو پتا چلے میں اپنے طور پہ مسئلہ حل کر لینا چاہتا تھا۔ کئی ہزار برباد بھی کیے۔ مگر فائدہ رتی برابر نہیں ہوا۔ جتنی دفعہ اچھے ڈاکٹرز کے پاس گیا ان سب نے مجھے یہی بتایا کہ یہ کوئی بیماری نہیں اور اگر میں نے حکیموں اور ان جعلی سرٹیفکیٹ والے ڈاکٹروں کی دوائیں مزید کھائیں تو میرا ہی نقصان ہوگا۔ ایک ڈاکٹر نے مجھے پوری تفصیل سے سائنسی حوالے سے سمجھایا تو مجھے اپنا مسئلہ سمجھ آیا تب سے میں نے اس مسئلے کے لیئےکسی بھی قسم کی دوا کھانی چھوڑ دی۔”

میں بے یقینی کی کیفیت میں رافع کو دیکھ رہی تھی۔ مجھے بالکل یقین نہیں آیا جو انہوں نے مجھے بتایا تھا۔ میں نے سوچا شاید ان کا کبھی کسی لڑکی سے اتنا قریبی تعلق نا رہا ہو کہ انہیں اندازہ ہوتا۔ میں نے اپنے طور پہ کوشش کرنے کا سوچا۔ مجھے یقین تھا کہ میں کامیاب ہوجاوں گی۔ میں نے اپنے پرانے حربے آزمانے کا ارادہ کیا۔ اپنی اداں اور ہوش ربا لباس کو ہتھیار بنانے کا ٹھان لیا۔ مجھے شروع شروع میں تھوڑی جھجھک ہوئی کیونکہ رافع تو کیا توجہ دیتے مگر سسر صاحب اور باسط کی نظریں میرے ساتھ ساتھ گردش کرنے لگیں۔ مگر مردوں کو ان کی حد میں کیسے رکھنا ہے مجھے یہ بھی آتا تھا۔ اگر میں رافع کی توجہ پانے میں کامیاب ہوجاتی تو باقی سب ثانوی تھا۔ مگر دن مہینوں میں بدلتے رہے اور رافع کی طرف سے کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آئی۔ عورت ہونے کے باوجود میں نے انتہائی حد تک کوشش کی مگر ان کی توجہ پانے میں ناکام رہی۔ کبھی کبھی خیال آتا کہ شاید وہ کسی اور کو پسند کرتے ہوں اسی لیے مجھے اس اذیت میں رکھا ہوا ہے کہ میں خود ہی ان کا پیچھا چھوڑ دوں مگر ان کا سرد لمس اس بات کی تردید کردیتا تھا۔

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے