سر ورق / کہانی / رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا

پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی ہنگنا، ضلع اراریہ (بہار)۔میدان: کہانی، ناول، رپورتاژ، یادداشتیں۔ناول: میلا آنچل، پرتی پریکتھا، جلوس، دِیرگھتپا، کتنے چوراہے، پلٹو بابو روڈ۔کہانیوں کے مجموعے: ، ٹھمری، اچھے آدمی، وغیرہ۔یادداشتیں:رنجل دھنجل، شرُت اشرت پوروے، آتم پرچیہ، و ن تلسی کی گند، وقت کی شلا پر۔رپور تاژ: نیپالی کرنتی کتھا ،وغیرہ۔انتقال:۱۱ اپریل ۷۷۹۱ ئ۔

…. …. ….

دھول میں پڑے قیمتی پتھر کو دیکھ کرجوہری کی آنکھوں میں ایک نئی چمک جھلملا گئی ۔ اپروپ روپ۔

 چرواہے موہنا چھونڑا کو دیکھتے ہی پنچکوڑی مِردنگیا کی منہ سے نکل پڑا ۔ اپروپ روپ

کھیتوں، میدانوں، باغوں باغیچوں اور گائے بیلوں کے بیچ چرواہے موہنا کی سندرتا۔

 مِردنگیا کی کمزور، بے نور آنکھیں روشن ہو گئیں۔

 موہنا نے مسکرا کر پوچھا،”تمہاری انگلی تو رسپریا بجاتے ٹیڑھی ہو گئی ہے، ہے نہ؟“

”اے۔“بوڑھے مِردنگیا نے چونکتے ہوئے کہا،” رسپریا ؟ ۔۔۔ ہاں ۔۔۔نہیں۔ تم نے کیسے ۔۔۔تم نے کہاں سنا بے ۔۔۔؟“

”بیٹا” کہتے کہتے وہ رک گیا۔پرمان پور میں اس بار ایک برہمن لڑکے کو اس نے لاڈسے ”بیٹا“ کہہ دیا تھا۔ سارے گاو ¿ں کے لڑکوں نے اسے گھیر کر مار پیٹ کی تیاری شروع کردی تھی ،”بہردار ہوکر برہمن کے بچے کو بیٹا کہے گا؟ مارو سالے بڈھے کو گھیر کر۔ ۔۔۔مردنگ پھوڑ دو۔“

 مِردنگیا نے ہنس کر کہا تھا،”اچھا، اس بار معاف کر دو سرکار۔ اب سے آپ لوگوں کو باپ ہی کہوں گا۔“

بچے خوش ہو گئے تھے۔ ایک دو ڈھائی سال کے ننگے لڑکے کی ٹھوڑی پکڑ کر وہ بولا،”کیوں، ٹھیک ہے نہ باپوجی؟“

بچے ٹھٹھا مار کر ہنس پڑے تھے۔

لیکن، اس واقعے کے بعد پھر کبھی اس نے کسی بچے کو بیٹا کہنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ موہنا کو دیکھ کر بار بار بیٹا کہنے کی خواہش ہوتی ہے۔

”رسپریا کی بات کس نے بتائی تم سے؟ ۔۔۔بولو بیٹا۔“

دس بارہ سال کا موہنا بھی جانتا ہے کہ پنچکوڑی اَدھ پگلا ہے۔کون اس سے نجات پائے۔ اس نے دور میدان میں چرتے ہوئے اپنے بیلوں کی طرف دیکھا۔

 مِردنگیا، کمل پور کے بابو لوگوں کے یہاں جا رہا تھا۔کمل پور کے نندوبابو کے گھرانے میں بھی مِردنگیا کو دو چار میٹھی باتیں سننے کو مل جاتی ہیں۔ ایک دو وقت کا بھوجن تو بندھا ہوا ہی ہے، کبھی کبھی رس چرچا کتھا بھی یہیں آ کر سنتا ہے وہ۔ دو سال کے بعد وہ اس علاقے میں آیا ہے۔ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔آج صبح شوبھا مشر کے چھوٹے لڑکے نے تو صاف صاف کہہ دیا ۔

 ”تم جی رہے ہو یا مذاق کر رہے ہومِردنگیا ؟“

 ہاں ، یہ جینا بھی کوئی جینا ہے۔نری بے شرمی ہے، اور مذاق کی بھی حد ہوتی ہے۔پندرہ سال سے وہ گلے میں مردنگ لٹکا کر گاو ¿ں گاﺅں گھومتا ہے،بھیک مانگتا ہے۔دائیں ہاتھ کی ٹیڑھی انگلی مردنگ پر بیٹھتی ہی نہیں ہے، مردنگ کیا بجائے گا۔ اب تو،”دھاتِنگ دھاتِنگ“ی بڑی مشکل سے بجاتا ہے۔ بے تحاشہ گانجے،بھنگ کے استعمال سے گلے کی آواز مضروب ہوگئی ہے۔ مگر مردنگ بجاتے وقت ودیاپتی کی پداولی گانے کی وہ کوشش ضرور کرے گا۔پھٹی دُھنکنی کی جیسی آواز نکلتی ہے، ٹھیک ویسی ہی آواز۔سوں یہ ،سوں یہ۔

پندرہ بیس سال پہلے تک ودیاپتی نام کی تھوڑی پوچھ ہو جاتی تھی۔ شادی بیاہ، یاگی اپنےن، منڈن چھےدن وغیرہ جیسے شبھ کاموں میں ودپتیا منڈلی کا بلاوا ہوتا تھا۔ پنچکوڑی مِردنگیا کی منڈلی نے سہرسہ اور پورنیہ ضلع میں کافی نام کمایا ہے۔ پنچکوڑی مِردنگیاکو کون نہیں جانتا۔ سب جانتے ہیں، وہ ادھ پگلا ہے۔گاو ¿ں کے بڑے بوڑھے کہتے ہیں ۔ ”ارے، پنچکوڑی مِردنگیا کا بھی ایک زمانہ تھا۔“

اِس زمانے میں موہنا جیسا لڑکا بھی ہے، سندر، سلونا اور سریلا۔رسپریا گانے کی درخواست کرتا ہے،”ایک رسپریا گاﺅ نہ مِردنگیا۔“

”رسپریا سنو گے؟ ۔اچھا سناﺅںگا۔ پہلے بتاﺅ، کس نے ۔۔۔“

”ہی اے اے ہی اے اے ۔۔۔ موہنا ، بیل بھاگے۔“ایک چرواہا چلایا،”رے موہنا ، پیٹھ کی چمڑی ادھےڑے گاکرمو۔“

”ارے باپ۔“ موہنا بھاگا۔

کل ہی کرمو نے اسے بری طرح پیٹا ہے۔ دونوں بیلوں کو ہرے ہرے پاٹ کے پودوں کی مہک کھینچ لے جاتی ہے بار بار۔کھٹ مٹھال پاٹ۔

پنچکوڑی نے پکار کر کہا،”میں یہیں درخت کے سائے میں بیٹھا ہوں۔ تم بیل ہانک کر لوٹو۔ رسپریا نہیں سنو گے؟“

 موہنا جا رہا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں۔

ودیاپت ناچ والے رسپریا گاتے تھے۔ سہرسہ کے جوگیندر جھا نے ایک بار ودیاپتی کے بارہ پدوں کی ایک کتاب چھپوائی تھی۔ میلے میں خوب بکری ہوئی تھی رسپریا پوتھی کی۔ وداپت ناچ والوں نے گا گا کر جنپریا بنا دیا تھا رسپریا کو۔

کھیت کے ”آل” پر جھرجامُن کے سائے میں پنچکوڑی مِردنگیا بیٹھا ہوا ہے، موہنا کی راہ دیکھ رہا ہے۔جیٹھ کی چڑھتی دوپہریامیں کام کرنے والے بھی اب گیت نہیں گاتے ہیں۔کچھ دنوں کے بعد کوئل بھی کوکنا بھول جائے گی کیا؟ ایسی دوپہریا میں خاموشی سے کیسے کام کیا جاتا ہے۔ پانچ سال پہلے تک لوگوں کے دل میںانبساط باقی تھا۔پہلی بارش میں بھیگی ہوئی دھرتی کے ہرے ہرے پودوں سے ایک خاص قسم کی خوشبو نکلتی ہے ۔ تپتی دوپہریا میں موم کی طرح گل اٹھتی تھی ۔ رس کی ڈالی۔ وہ گانے لگتے تھے۔بِرہا، چانچر، لگنی۔ کھیتوں میں کام کرتے ہوئے گانے والے گیت بھی، وقت کا خیال کر کے گائے جاتے ہیں۔ رم جھم بارش میں بارہ ماسا، چلچلاتی دھوپ میں بِرہا، چانچر اور لگنی ،

” ہاں رے،ہل جوتے ہلوایا بھیا رے ۔۔۔“

کھرپی رے چلاوے ۔۔۔ مجدور۔

اےہ پنتھے،دھنی موراہے رُُسلی۔

کھیتوں میں کام کرتے ہلواہوں اور مزدوروں سے کوئی بِرہی پوچھ رہا ہے، محتاط لہجے میں ،اس کی روٹھی ہوئی دھنی کو اس راہ سے جاتے دیکھا ہے کسی نے؟ ۔۔۔

اب تو دوپہریایک رنگی کٹتی ہے، گویا کسی کے پاس ایک لفظ بھی نہیں رہ گیا ہے۔

آسمان میں چکر کاٹتے ہوئے چیل نے ٹِنکاری بھری۔ ٹ ۔۔۔ای ۔۔۔ٹِن۔ہِی۔ا۔

 مِردنگیانے گالی دی۔ ”شیطان۔“

اسکو چھوڑ کر موہنا دور بھاگ گیا ہے۔ وہ مشتاق ہوکر انتظار کر رہا ہے۔ جی کرتا ہے، دوڑ کر اسکے پاس چلا جائے۔ دور چرتے ہوئے مویشیوں کے جھنڈوں کی طرف بار بار وہ دیکھنے کی بیکار کوشش کرتا ہے۔سب دھندلا۔

اس نے اپنی جھولی ٹٹول کر دیکھا۔آم ہیں،مُوڑھی ہے۔اسے بھوک لگی۔ پھر موہنا کے سوکھے منہ کی یاد آئی اور بھوک مٹ گئی۔

 موہنا جیسے سندر، شریف لڑکوں کی تلاش میں ہی اسکی زندگی کے سب سے زیادہ دن گزرے ہیں۔وداپت ناچ میں ناچنے والے ”نٹوآ“ کی تلاش کھیل نہیں۔اعلی ذات کے گھر کا پتہ نہیں، پر چھوٹی ذات کے لوگوں کے یہاں موہنا جیسے سندر چہرہ، لوچدار لڑکے ہمیشہ پیدا نہیں ہوتے۔ یہ اوتار لیتے ہیں وقت وقت پر جدا جدا ۔۔۔

مےتھل برہمنوں، کائیستھوں اور راجپوتوں کے یہاں وداپتوالو ںکی بڑی عزت ہوتی تھی۔اپنی بولی ، متھلام میں نٹوآ کے منہ سے ”جنم اودھی ہم روپ نِہارل“سن کر وہ نہال ہو جاتے تھے۔ تو ہر منڈلی کا ”مُول گےن“نٹوآ کی تلاش میں گاو ¿ں گاﺅں بھٹکتا پھرتا تھا۔ ایسا لڑکا، جسے سجا سنوار کرناچ میں اتارتے ہی تماشبین میں سرگوشی کی ایک لہر پھیل جائے۔

”ٹھیک براہمنی کی طرح لگتا ہے۔ ہے نہ؟“

”مدھو کانت ٹھاکر کی بیٹی کی طرح ۔۔۔“

”نا۔ چھوٹی چمپاجیسی صورت ہے۔“

 پنچکوڑی گنی آدمی ہے۔ دوسری دوسری منڈلی میں مُول گےن اور مِردنگیا کی اپنی اپنی جگہ ہوتی ہے۔ پنچکوڑی مُو ل گےن بھی تھا اور مِردنگیابھی ۔ گلے میں مردنگ لٹکا کر بجاتے ہوئے وہ گاتا تھا، ناچتا تھا۔ ایک ہفتے میں ہی نئے لڑکے بھانوری دے کر پنڈال میں اترنے کے قابل ناچ سیکھ لیتے تھے۔

اسے ناچ اور گانا سکھانے میں کبھی مشکل نہیں ہوئی، مردنگ کے خاص ”بول“پر لڑکوں کے پاو ¿ں خود ہی تھرکنے لگتے تھے۔ لڑکوں کے ضدی ماں باپ سے نمٹنا البتہ مشکل بیوپار ہوتا تھا۔ خالص مےتھلی زبان میں اور بھی شہد میں لپیٹ کر وہ پھسلاتا ۔۔۔

”سن کنہیا بھی ناچتے تھے۔ ناچ تو ایک گُن ہے۔ارے، جاچک کہو یا دسدوآری۔ چوری ڈکیتی اور آوارہ گردی سے اچھا ہے، اپنا اپنا ”گن“ دکھا کر لوگوں کو رِجھا کر گزارا کرنا۔“

ایک بار اسے لڑکے کی چوری بھی کرنی پڑی تھی۔بہت پرانی بات ہے۔ اتنی مار لگی تھی کہ ۔۔۔بہت پرانی بات ہے۔

پرانی ہی سہی، بات تو ٹھیک ہے۔

”رسپریا بجاتے وقت تمہاری انگلی ٹیڑھی ہوئی تھی۔ ٹھیک ہے نہ؟“

 موہنا نہ جانے کب لوٹ آیا۔

 مِردنگیا کے چہرے پر چمک لوٹ آئی۔ وہ موہنا کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگا۔ آہ یہ گُن وان مر رہا ہے۔ دھیرے دھیرے، گھل گھل کر ۔وہ کھو رہا ہے۔ لال لال ہونٹوں پر بیڑی کی کاجل لگ گئی ہے۔ پیٹ میں تِلّی ہے ضرور۔ ۔۔۔

 مِردنگیا حکیم بھی ہے۔ ایک جھنڈ برابربچوں کا باپ آہستہ آہستہ ایک خاندانی طبیب کی قابلیت حاصل کر لیتا ہے۔تہواروں کے باسی تباسی بھوجنوں کی مار کبھی کبھی بہت بری ہوتی۔ مِردنگیا اپنے ساتھ نمک سلیمانی، چانمار پاچن اور کونین کی گولی ہمیشہ رکھتا تھا۔لڑکوں کو ہمیشہ گرم پانی کے ساتھ ہلدی کی بُکنی کھلاتا۔ پیپل، کالی مرچ، ادرک وغیرہ کو گھی میں بھون کر شہد کے ساتھ صبح شام چٹاتا۔۔۔۔گرم پانی۔

پوٹلی سے موڑھی اورآم نکالتے ہوئے مِردنگیا بولا،” ہاں ، گرم پانی۔ تیری تِلّی بڑھ گئی ہے، گرم پانی پیو۔“

”یہ تم نے کیسے جان لیا؟ فاربس گنج کے ڈاگڈربابو بھی کہہ رہے تھے، تِلّی بڑھ گئی ہے۔ دوا ….”

آگے کہنے کی ضرورت نہیں۔ مِردنگیا جانتا ہے، موہنا جیسے لڑکوں کے پیٹ کی تِلّی ،چتا پر ہی گلتی ہے۔ کیا ہوگا پوچھ کر، کہ دوا کیوں نہیں کرواتے۔

”ماں، بھی کہتی ہے، ہلدی کی بُکنی کے ساتھ روز گرم پانی لو۔ تِلّی گل جائے گی۔“

 مِردنگیا نے مسکرا کر کہا،”بڑی سیانی ہے تمہاری ماں۔“

کیلے کے سوکھے پتلے پر موڑھی اور آم رکھ کر اس نے بڑے پیار سے کہا،”آو ¿، ایک مٹھی کھا لو۔“

”نہیں، مجھے بھوک نہیں۔“

مگر موہنا کی آنکھوں سے رہ رہ کر کوئی جھانکتا تھا، موڑھی اور آم کو ایک ساتھ نگل جانا چاہتا تھا۔ ۔۔۔بھوکا، بیمار،لاچار۔

”آو ¿، کھا لو بیٹا۔رسپریا نہیں سنو گے؟“

ماں کے سوا، آج تک کسی دوسرے شخص نے موہنا کو اس طرح محبت سے کبھی پروسے بھوجن پر نہیں بلایا۔لیکن، دوسرے چرواہے دیکھ لیں تو ماں سے کہہ دیں گے۔ ۔۔۔بھیک کا اناج۔

”نہیں، مجھے بھوک نہیں۔“

 مِردنگیا شرمندہ ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں پھر دھندلا جاتی ہیں۔ مِردنگیا نے موہنا جیسے درجنوں بچوں کی خدمت کی ہے۔ اپنے بچوں کو بھی شاید وہ اتنا پیار نہیں دے سکتااور اپنا بچہ۔ ہوں۔ ۔۔۔اپنا پرایا؟ اب تو سب اپنے، سب پرائے۔

” موہنا ۔“

”کوئی دیکھ لے گا تو؟“

”تو کیا ہوگا؟“

”ماں سے کہہ دے گا۔تم بھیک مانگتے ہو نہ؟“

”کون بھیک مانگتاہے؟“ مِردنگیا کی خود داری کو اس بھولے لڑکے نے بلا وجہ ٹھیس پہنچا دی۔ اس کے دل کی جھانپی میں سویا ہوا کنڈلی دار سانپ پھن پھیلا کر پھنکار اٹھا،”اے سالا۔ ماریں گے وہ طمانچہ کہ ۔۔۔“

”اے۔ گالی کیوں دیتے ہو۔“ موہنا نے ڈرتے ڈرتے مذمت کی۔

وہ اٹھ کھڑا ہوا، پاگلوں کا کیا اعتبار۔

آسمان میں اڑتی ہوئی چیل نے پھر ٹِنکاری بھری ۔ ٹ ۔۔۔ای ۔۔۔ٹِن۔ہِی۔ا۔

” موہنا ۔“ مِردنگیا کی آواز گھمبیر ہو گئی۔

 موہنا ذرا دور جا کر کھڑا ہو گیا۔

”کس نے کہا تم سے کہ میں بھیک مانگتا ہوں؟ مردنگ بجا کر،پداولی گا کر، لوگوں کو رجھا کر پیٹ پالتا ہوں۔تم ٹھیک کہتے ہو، بھیک کا ہی اناج ہے یہ۔ بھیک کا ہی پھل ہے یہ۔میں نہیں دوں گا۔تم بیٹھو، میں رسپریا سنا دوں۔“

 مِردنگیا کا چہرہ آہستہ آہستہ پرسکون ہو رہا ہے۔آسمان میں اڑنے والی چیل اب درخت کی ڈالی پر آ بیٹھی ہے۔ ۔۔۔ٹِن۔ٹِن ٹِن ٹِک۔

 موہنا ڈر گیا۔ ایک ڈگ، دو ڈگ ۔۔۔دے دوڑ۔ وہ بھاگا۔

ایک بیگھہ دور جا کر اس نے چلا کر کہا،”ڈائن نے بان مار کر تمہاری انگلی ٹیڑھی کر دی ہے۔ جھوٹ کیوں کہتے ہو کہ رسپریا بجاتے وقت۔۔۔“

”ایں۔ کون ہے یہ لڑکا؟ کون ہے یہ موہنا ؟رمپتیا بھی کہتی تھی، ڈائن نے بان مار دیا ہے۔“

” موہنا ۔“

 موہنا نے جاتے جاتے چلا کر کہا،”کرےلا۔“

اچھا، تو موہنا یہ بھی جانتا ہے کہ مِردنگیا”کرےلا“کہنے سے چڑتا ہے،”کون ہے یہ موہنا ؟“

 مِردنگیا دہشت زدہ ہو گیا۔ اس کے دل میں ایک نامعلوم سا خوف سما گیا۔ وہ تھر تھر کانپنے لگا۔ اس میں کمل پور کے بابوو ¿ں کے یہاں جانے کا جوش بھی نہیں رہا۔ ۔۔۔صبح شوبھا مشر کے لڑکے نے ٹھیک ہی کہا تھا۔

اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔

جاتے جاتے موہنا ڈنک مار گیا۔ اس کے زیادہ تر شاگردوں نے ایسا ہی سلوک کیا ہے اسکے ساتھ۔ ناچ سیکھ کر پھُر سے اڑ جانے کا بہانہ کھوجنے والے ایک ایک لڑکے کی باتیں اسے یاد ہیں۔

سونما نے تو گالی ہی دی تھی ،”گرگری کہتا ہے، چوٹّا۔“

رمپتیا آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولی تھی۔ ”اے دِنکر۔ گواہ رہنا۔ مِردنگیا نے پھسلا کر میرا سروناش کیا ہے۔ میرے من میں کبھی چور نہیں تھا۔ اے سورج بھگوان۔ اس دانتوں والے کتے کا انگ انگ پھٹ کر۔۔۔“

 مِردنگیا نے اپنی ٹیڑھی انگلی کوہلاتے ہوئے ایک طویل سانس لی۔رمپتیا؟ جودھن گروجی کی بیٹی رمپتیا۔ جس دن وہ پہلے پہل جودھن کی منڈلی میں شامل ہوا تھا ،رمپتیا بارہویں میں پاو ¿ں رکھ رہی تھی۔بال ودھوا، رمپتیا پدوں کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کام کرتے کرتے وہ گنگناتی ،”نوانوراگنی رادھا،کچھو نانہ مانیہ وادھا۔“

 مِردنگیا ،مو ل گےنی سیکھنے گیا تھا اور گرو جی نے اسے مردنگ تھما دیا تھا۔ آٹھ سال تک تعلیم پانے کے بعد جب گورو جی نے خانہ بدوش پنچکوڑی سے رمپتیا کے چمونا کی بات چلائی تو مِردنگیا سب تال ماترا بھول گیا۔ جودھن گرو جی سے اس نے اپنی ذات پوشیدہ رکھی تھی۔ رمپتیا سے اس نے جھوٹا پریم کیا تھا۔ گرو جی کی منڈلی چھوڑ کر وہ راتوں رات بھاگ گیا۔ اس نے گاو ¿ں آ کر اپنی منڈلی بنائی، لڑکوں کو سکھایا پڑھایا اور کمانے کھانے لگا۔لیکن، وہ مول گےن نہیں ہو سکا کبھی۔ مِردنگیا ہی رہا سبھی دن۔جودھن گرو جی کی موت کے بعد، ایک بار گلاب باغ میلے میں رمپتیا سے اسکی ملاقات ہوئی تھی۔ رمپتیا اسی سے ملنے آئی تھی۔ پنچکوڑی نے صاف جواب دے دیا تھا۔ ”کیا جھوٹ فریب جوڑنے آئی ہے؟ کمل پور کے نندوبابو کے پاس کیوں نہیں جاتی، مجھے الو بنانے آئی ہے۔ نندوبابو کاگھوڑا بارہ بجے رات کو۔۔“

چیخ اٹھی تھی رمپتیا۔“ پانچو۔ ۔۔۔چپ رہو۔“

اسی رات رسپریا بجاتے وقت اس کی انگلی ٹیڑھی ہو گئی تھی۔ مردنگ پر جمنیکا دے کر وہ ابتدائی تال بجانے لگا۔ نٹوآ ، ڈیڑھ ماترا بے تال ہو کر داخل ہوا ،تو اس کا ماتھا ٹھنکا۔ ابتدائی ناچ کے بعد اس نے نٹوآ کو جھڑکی دی ،”اے سالا۔ تھپڑوں سے گال لال کر دوں گا۔“

اور رسپریا کی پہلی کڑی ہی ٹوٹ گئی۔ مِردنگیا نے تال کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی۔ مردنگ کی سوکھی چمڑی جل اٹھی، دائیں پورے پر لاواپھر سے پھوٹنے لگا اور نیچے آتے آتے اسکی انگلی ٹیڑھی ہو گئی۔ جھوٹی ٹیڑھی انگلی۔ ۔۔۔ہمیشہ کےلئے پنچکوڑی کی منڈلی ٹوٹ گئی۔ آہستہ آہستہ علاقے سے ودیاپتی ناچ ہی اٹھ گیا۔ اب تو کوئی بھی ودیاپتی کا ذکر بھی نہیں کرتاہے۔دھوپ پانی سے پرے، پنچکوڑی کا بدن ٹھنڈی محفلوں میں ہی پلا تھا ۔ بیکار زندگی میں مردنگ نے بڑا کام دیا۔ بیکاری کا اکلوتا سہارا ۔۔۔ مردنگ ۔

ایک زمانے سے وہ گلے میں مردنگ لٹکا کر بھیک مانگ رہا ہے ۔ دھا تِنگ۔دھا تِنگ۔

وہ ایک آم اٹھا کر چوسنے لگا۔،لیکن، لیکن، ۔۔۔لیکن ۔۔موہنا کو ڈائن کی بات کیسے معلوم ہوئی؟

انگلی ٹیڑھی ہونے کی خبر سن کر رمپتیا دوڑی آئی تھی، گھنٹوں انگلی کو پکڑ کر روتی رہی تھی ،”ہے دِنکر، کس نے اتنی بڑی دشمنی کی؟ اس کا برا ہو۔ ۔۔۔میری بات لوٹا دو بھگوان۔ غصے میں کہی ہوئی باتیں۔ نہیں، نہیں۔ پانچو، میں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ ضرور کسی ڈائن نے بان ماردیا ہے۔“

 مِردنگیا نے آنکھیں پونچھتے ہوئے سورج کی طرف دیکھا۔اس مردنگ کو کلیجے سے چپکا کر رمپتیا نے کتنی راتیں کاٹی ہیں۔ مردنگ کو اس نے اپنے سینے سے لگا لیا۔

درخت کی ڈالی پر بیٹھی ہوئی چیل نے اڑتے ہوئے جوڑے سے کہا۔ٹِن۔ٹِن ٹِن ٹِک۔۔

”اے سالا۔“اس نے چیل کو گالی دی۔ تمباکو چنیا کر منہ میں ڈال لی اور مردنگ کے پورے پر انگلیاں نچانے لگا۔ دھری ناگی، دھری ناگی، دھری ناگی دِھنتا۔

پورا جمنِکا وہ نہیں بجا سکا۔ بیچ میں ہی تال ٹوٹ گئی۔

ا ۔ک۔ ہی۔اے۔اے۔اے،ہا۔آآ۔ہ۔ہا۔

سامنے جھڑبیری کے جنگل کے اس پار کسی نے سریلی آواز میں، بڑے اہتمام کے ساتھ رسپریا کی پداولی اٹھائی ۔

”ن۔و۔ ورند۔ون ۔ن۔و۔ن ۔و۔تُر۔گ۔ن، ن ن وکست پھول ۔۔۔“

 مِردنگیا کے سارے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔ اسکی انگلیاں آپ ہی آپ مردنگ کے پُورے پر تھرکنے لگیں۔ گائے بیلوں کے جھنڈ دوپہر کے اترتے سائے میں آ کر جمع ہونے لگے۔

کھیتوں میں کام کرنے والوں نے کہا،”پاگل ہے۔ جہاں جی چاہا، بیٹھ کر بجانے لگتا ہے۔“

”بہت دن کے بعدلوٹا ہے۔“

”ہم تو سمجھتے تھے کہ کہیں مر کھپ گیا۔“

رسپریا کی سریلی راگنی تال پر آ کر کٹ گئی۔ مِردنگیاکا پاگل پن اچانک بڑھ گیا۔ وہ اٹھ کر دوڑا۔جھڑبیری کی جھاڑیوں کے اُس پار کون ہے؟ کون ہے یہ شدھ رسپریا گانے والا؟ اس زمانے میں رسپریا کا عاشق ۔۔۔؟ جھاڑی میں چھپ کر مِردنگیا نے دیکھا، موہنا مستغرق ہوکر دوسرے پد کی تیاری کر رہا ہے۔ گنگناہٹ بند کر کے اس نے گلے کو صاف کیا۔ موہنا کے گلے میں رادھا آ کر بیٹھ گئی ہے۔کیا بندش ہے۔

”نہ۔وی۔ وہ نینک نی ۔ر۔

آہو۔پلّی بہی تاہی دی ۔ر۔“

 موہنا بے سدھ ہوکر گا رہا تھا۔ مردنگ کی دھن پر وہ جھوم جھوم کر گا رہا تھا۔ مِردنگیا کی آنکھیں اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھیں اور اسکی انگلیاں پھرکی کی طرح ناچنے کو مضطرب ہو رہی تھیں۔چالیس سال کاآدھا پاگل زمانے کے بعد جذبات میں ناچنے لگا۔ رہ رہ کر وہ اپنی پھٹی آواز میں پدوں کی کڑی بولتا، پھو نی پھونیہ، سونی سونیہ۔

دھری ناگی دِھنتا۔

”دُوہُو رس ۔۔۔م ۔۔۔یہتنو،گُنے نہیں اور۔

لا گل دُوہک بھنگ ہجور۔“

 موہنا کے آدھے کالے اورآدھے لال ہونٹوں پر نئی مسکراہٹ دوڑ گئی۔ پد ختم کرتے ہوئے وہ بولا،”اس ٹیڑھی انگلی پر بھی اتنی تیزی؟“

 موہنا ہانپنے لگا۔ اسکی چھاتی کی ہڈیاں۔

اف۔ مِردنگیا دھم سے زمین پر بیٹھ گیا ۔ ”کمال۔ کمال۔کس سے سیکھے؟ کہاں سیکھی تم نے پداولی؟ کون ہے تمہاراگرو؟“

 موہنا نے ہنس کر جواب دیا،”سیکھوںگا کہاں؟ ماں تو روز گاتی ہے۔پراتکی، مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے، لیکن ابھی تو اس کا وقت نہیں۔“

” ہاں بیٹا۔بے تالے کے ساتھ کبھی مت گانا بجانا۔ جو کچھ بھی ہے، سب چلا جائے گا۔وقت کا بھی خیال رکھنا۔ لو، اب آم کھالو۔“

 موہنا بلا جھجھک آم لے کر چوسنے لگا۔

”ایک اور لو۔“

 موہنا نے تین آم کھائے اور مِردنگیا کے خصوصی اصرار پر دو مٹھی موڑھی بھی پھانک گیا۔

”اچھا، اب ایک بات بتاﺅگے موہنا ۔ تمہارے ماں باپ کیا کرتے ہیں؟“

”باپ نہیں ہے، اکیلی ماں ہے۔ بابو لوگوں کے گھر کُٹائی پسائی کرتی ہے۔“

”اور تم نوکری کرتے ہو۔ کس کے یہاں؟“

” کمل پور کے نندوبابو کے یہاں۔“

”نندوبابو کے یہاں؟“

 موہنا نے بتایا کہ اس کا گھر سہرسہ میں ہے۔ تیسرے سال سارا گاو ¿ں کوسی میا ندی کے پیٹ میں چلا گیا۔ اس کی ماں اسے لے کر اپنے میکے آئی ہے ۔۔۔ کمل پور ۔

” کمل پور میں اپنی ماں کے ماموں رہتے ہیں؟“

 مِردنگیا کچھ دیر تک خاموشی سے سورج کی طرف دیکھتا رہا۔نندوبابو، موہنا،موہنا کی ماں۔

”ڈائن والی بات تمہاری ماں کہہ رہی تھی؟“

” ہاں ۔“

”اور ایک بار سام دےو جھا کے یہاں جنےو میں تم گردھرپٹّی منڈلی والو ںکا مردنگ چھین لیا تھا۔ ۔۔۔بے تالہ بجا رہا تھا۔ ٹھیک ہے نہ؟“

 مِردنگیا کی کھچڑی داڑھی گویا اچانک سفید ہو گئی۔ اس نے خود کو سنبھال کر پوچھا،”تمہارے باپ کا نام کیا ہے؟“

”اجودھاداس۔“

”اجودھاداس؟“

بوڑھا اجودھاداس، جس کے منہ میں نہ بول، نہ آنکھ میں نور۔منڈلی میں گٹھری ڈھوتا تھا۔بِنا پیسے کا نوکر بیچارہ، اجودھاداس۔

”بڑی سیانی ہے تمہاری ماں۔“ایک طویل سانس لے کر مِردنگیا نے اپنی جھولی سے ایک چھوٹا بٹوا نکلا۔ لال پیلے کپڑوں کے ٹکڑوں کو کھول کر کاغذ کی ایک پڑیا نکالی اس نے۔

 موہنا نے پہچان لیا ۔ ”لوٹ؟ کیا ہے، لوٹ؟“

” ہاں ، نوٹ ہے۔“

”کتنے روپے والا ہے؟ پنچ ٹکیا ہے۔یا۔ دس ٹکیا؟ ذرا چھونے دو گے؟ کہاں سے لائے؟“ موہنا ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ لیا،”سب دس ٹکیا ہیں؟“

” ہاں ،سب ملا کر چالیس روپے ہیں۔“ مِردنگیا نے ایک بار ادھر ادھر نگاہیں دوڑائی، پھر سرگوشی میں بولا،” موہنا بیٹا۔ فاربس گنج کے ڈاگڈر بابو کو دے کر اچھی دوا لکھا لینا۔کھٹامٹھا پرہیز۔گرم پانی ضرور پینا۔“

”روپے مجھے کیوں دیتے ہو؟“

”جلدی رکھ لے، کوئی دیکھ لے گا۔“

 موہنا نے بھی ایک بار پھر چاروں جانب نظر دوڑائی۔ اس کے ہونٹوں کی کاجل اور گہری ہو گئی۔

 مِردنگیا بولا،”بیڑی تمباکو بھی پیتے ہو؟ خبردار۔“

وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

 موہنا نے روپے لے لئے۔

”اچھی طرح گانٹھ باندھ لے۔ ماں سے کچھ مت بتانا۔“

”اور ہاں، یہ بھیک کا پیسہ نہیں۔ بیٹا، یہ میری کمائی کے پیسے ہیں۔ اپنی کمائی کے۔۔۔“

 مِردنگیا نے جانے کےلئے قدم بڑھایا۔

”میری ماں کھیت میں گھاس کاٹ رہی ہے۔ چلو نہ۔“ موہنا نے زور دیا۔

 مِردنگیا رک گیا۔ کچھ سوچ کر بولا،”نہیں موہنا۔ تمہارے جیسا گُنوان بیٹا پا کر تمہاری ماں ”مہارانی” ہیں، میں مہابھکاری گھر گھر مانگنے والا ہوں۔ جاچک، فقیر ۔دواسے جو پیسے بچیں، اس کا دودھ پینا۔“

 موہنا کی بڑی بڑی آنکھیں کمل پور کے نندوبابو کی آنکھوںجیسی ہیں۔۔۔

”رے موہنا رے۔ بیل کہاں ہیں رے؟“

”تمہاری ماں پکار رہی ہے شاید۔“

” ہاں ۔ تم نے کیسے جان لیا؟“

”رے موہنارے۔“

ایک گائے نے تال میں تال میں ملا کر اپنے بچھڑے کو بلایا۔

گائے بیلوں کے گھر لوٹنے کا وقت ہو گیا۔ موہنا جانتا ہے، ماں بیل ہانک کر لا رہی ہوگی۔ جھوٹھ موٹھ اسے بلا رہی ہے۔ وہ چپ رہا۔

”جاو ¿۔“ مِردنگیا نے کہا،”ماں بلا رہی ہے۔جاﺅ۔۔۔اب سے میں پداولی نہیں، رسپریا نہیں، نرگُن گاو ¿ں گا۔ دیکھو، میری انگلی شایدسیدھی ہو رہی ہے۔ شدھ رسپریا کون گانا سکتا ہے آج کل؟ ۔۔۔“

”ارے، چلُو من چُلومن سسراریجوے ہو راما،

کی آہو راما،

نَہیرا میں اگیالگایب ری رے ”

کھیتوں کی پگڈنڈی، جھڑبیری کے جنگل کے درمیان سے ہوکر جاتی ہے۔ نرگُن گاتا ہوا مِردنگیا جھڑبیری کی جھاڑیوں میں چھپ گیا۔

”لے۔ یہاں اکیلاکھڑا ہوکر کیا کرتا ہے؟کون بجا رہا تھا مردنگ رے؟“گھاس کا بوجھا سر پر لے کر موہنا کی ماں کھڑی ہے۔

” پنچکوڑی مِردنگیا۔“

”ایں، وہ آیا ہے؟ آیا ہے وہ؟“اس کی ماں نے بوجھ زمین پر پٹکتے ہوئے پوچھا۔

”میں نے اسکی تال پر رسپریا گایا ہے۔ کہتا تھا، اتنا شدھ رسپریا کون گا سکتا ہے آج کل۔اسکی انگلی اب ٹھیک ہو جائے گی۔“

ماں نے بیمارموہنا کو لاڈ سے اپنی چھاتی سے چپکا لیا۔

”لیکن تُو تو ہمیشہ اس کی ٹوکری بھر شکایت کرتی تھی ،بے مان ہے،گرو دروہی ہے، جھوٹا ہے۔“

”ہے تو۔ایسے لوگوں کی سنگت ٹھیک نہیں۔ خبردار، جو اس کے ساتھ پھر کبھی گیا۔ فقیروں، جاچکوں سے ہےل مےل کرکے اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔ ۔۔۔چل، اٹھا بوجھ۔“

 موہنا نے بوجھ اٹھاتے وقت کہا،”جو بھی ہو،گُنی آدمی کے ساتھ رسپریا۔۔“

”چپ۔ رسپریا کا نام مت لے۔“

عجیب ہے ماں۔ جب غصہ کرے گی تو شیرنی کی طرح اور جب خوش ہوتی ہے تو گائے کی طرح ہنکارتی آئے گی اور سینے سے لگا لے گی۔ گھڑی بھر میںخوش،گھڑی بھر میںناخوش ۔۔۔

دور سے مردنگ کی آواز آئی۔ دھا تِنگ۔دھا تِنگ۔

 موہنا کی ماں کھیتوں کی ناہموار منڈیرپر چل رہی تھی۔ ٹھوکر کھا کر گرتے گرتے بچی۔ گھاس کا بوجھا گر کر کھل گیا۔ موہنا پیچھے پیچھے منہ لٹکا ئے آ رہا تھا۔ بولا،”کیا ہوا، ماں؟“

”کچھ نہیں۔“

دھا تِنگ دھا تِنگ۔

 موہنا کی ماں کھیت کی منڈیر پر بیٹھ گئی۔ جیٹھ کی شام سے پہلے جو پُروا چلتی ہے، آہستہ آہستہ تیز ہو گئی ۔مٹی کی خوشبو ہوا میں آہستہ آہستہ گھلنے لگی۔

دھا تِنگ دھا تِنگ۔

” مِردنگیا اور کچھ بولتا تھا، بیٹا؟“ موہنا کی ماں آگے کچھ بول نہ سکی۔

”کہتا تھا، تمہارے جیسا گُنوان بیٹا ۔۔۔“

”جھوٹا، بے ایمان۔“ موہنا کی ماں آنسو پونچھ کر بولی،”ایسے لوگوں کی سنگت کبھی مت کرنا۔“

 موہنا چپ چاپ کھڑا رہا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 پرندے ۔۔۔۔ نرمل ورما/عامر صدیقی

 پرندے نرمل ورما/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  نرمل ورما،پیدائش، ۳ اپریل ۹۲۹۱ ء،شملہ، ہماچل پردیش۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے