سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 49 ۔۔۔ سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 49 ۔۔۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 49

سید انور فراز

ایچ اقبال اپنی نوعیت کی ایک منفرد ترین شخصیت ہیں، اگر انھیں روایت شکن کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا لیکن کبھی کبھی حد سے بڑھی ہوئی انفرادیت اور روایت شکنی بھی نقصان دہ ہوتی ہے، شاید اقبال صاحب کے لیے بھی ان کی یہ ادائیں ہمیشہ ہی نقصان دہ رہیں، ضروری نہیں ہے کہ وہ خود ہماری ان باتوں سے اتفاق کریں اور وقتاً فوقتاً گفتگو کے دوران میں ایسا ہوا بھی ہے کہ جب انھوں نے ہماری کسی بات سے اتفاق نہیں کیا کیوں کہ بہت سے معاملات پر ان کی سوچ اور فکروفلسفہ جداگانہ رہا ہے، الف لیلہ ڈائجسٹ کا آغاز انھوں نے کیا تھا اور انجام بھی ان کے اپنے ہاتھوں ہوا، کیا ضرورت تھی کہ پرچے میں لکھنے کا سارا بوجھ خود اٹھائیں، اس زمانے میں اچھا لکھنے والوں کی کمی نہیں تھی، ایک بہت اچھی مصنفین کی ٹیم وہ بھی اسی طرح تیار کرسکتے تھے جیسے معراج رسول صاحب نے کی، ہم پہلے بھی اس حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ ایک اچھے مصنف کو پبلشر یا ایڈیٹر نہیں ہونا چاہیے، اسے کاروباری تقاضوں کے مطابق ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر بننا چاہیے تو ہمارے خیال میں اقبال صاحب میں انتظامی صلاحیتوں کا فقدان رہا، انھوں نے خود ہی بہت زیادہ لکھنے کا بوجھ اٹھاکر خود کو مریض بنالیا جس کے نتیجے میں انھیں پرچے سے دور ہونا پڑا اور دور بھی ایسا کہ سیرو تفریح کے لیے ملک سے باہر چلے گئے،یہ بھی ایک متفقہ اصول ہے کہ اپنی چیز کی دیکھ بھال اور حفاظت آپ خود ہی کرسکتے ہیں، کوئی دوسرا آپ کا متبادل نہیں ہوسکتا،نتیجے کے طور پر جب طویل سیر سپاٹے کے بعد واپس لوٹے تو الف لیلہ اتنا نیچے آچکا تھا کہ دوبارہ اسے اپنے قدموں پر کھڑا کرنا مشکل ہوگیا۔

ہمیں یاد ہے کہ خان آصف جب اپنے والد کو پاکستان لانے کے لیے انڈیا گئے تو داستان ڈائجسٹ کی اشاعت رک گئی، اس وقت ان کے ساتھیوں کا مشورہ یہی تھا کہ عارضی طور پر پرچے کو بند نہ کیا جائے، اشاعت جاری رکھی جائے اور ہم اسے سنبھال لیں گے لیکن خان آصف اس کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے، ہم نے بھی یہی مشورہ دیا تھا کہ پرچے کو بند کرکے نہ جائیں لیکن خان اس کے لیے تیار نہیں ہوئے، ان کا خیال تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دو ماہ میں واپس آجائیں گے لیکن بدقسمتی سے انھیں تقریباً ایک سال انڈیا میں گزارنا پڑا اور جب وہ واپس آئے تو صورت حال بدل چکی تھی، دوبارہ داستان ڈائجسٹ نکالنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہوسکی،اس حوالے سے خاصی تفصیل ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، ایسا ہی کچھ ایچ اقبال صاحب کے ساتھ ہوا لیکن داستان ڈائجسٹ اور الف لیلہ ڈائجسٹ کے درمیان بڑا فرق تھا، الف لیلہ داستان سے بڑا پرچا تھا اور اس کے ساتھ اقبال صاحب کا نام جڑا ہوا تھا، ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگر وہ اسی پر توجہ دیتے اور ایک نیا پرچا نکالنے کے بجائے الف لیلہ ہی کو جاری رکھتے تو اس کی اشاعت دوبارہ بڑھ سکتی تھی مگر ضروری تھا کہ وقت کے تقاضوں کا بھی خیال رکھا جاتا، جیسا کہ دوسرے ڈائجسٹوں نے کیا اور جنرل ضیاءالحق کے دور میں اپنی بقا کی جنگ لڑی۔

ایچ اقبال کی انفرادیت اور روایت شکنی بطور مصنف تو یقیناً ایک اعلیٰ پائے کی خوبی ہے لیکن ان کی ذاتی زندگی کے لیے ہمیشہ تکلیف دہ ثابت ہوئی جس کے نتیجے میں وہ آج بھی کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں زندگی گزار رہے ہیں اور پیرانہ سالی کے اس زمانے میں بھی انھیں اپنی گزر بسر کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے،انھوں نے کبھی اپنا ذاتی مکان نہیں بنایا، ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ ذاتی مکان نہ لے سکیں، 70 ءکی دہائی میں ہم نے سنا کہ وہ 35 ہزار روپے مہینے کے شاندار بنگلے میں رہائش پذیر رہے، حالاں کہ صرف دو میاں بیوی کے لیے یہ بنگلہ تقریباً ایک فضول خرچی ہی تھا اور اس وقت وہ ایسا بنگلہ خریدنے کی طاقت بھی رکھتے تھے لیکن کبھی اپنا ذاتی گھر بنانے کے بارے میں نہیں سوچا، ایک اور مرحلہ ہمیں یاد ہے جب ہم نے ان سے کہا تھا کہ جناب اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا ذاتی مکان لینے کی کوشش کریں لیکن اس مرحلے پر ان کی انا آڑے آئی اور انھوں نے صاف انکار کردیا۔

اقبال صاحب کو قریب سے جاننے والے ہمیشہ ان کی ان اداوں پر معترض رہے، دبے دبے یا کھلے انداز میں ان پر تنقید بھی کرتے رہے، ہم بھی ان باتوں پر حیران ہوا کرتے تھے لیکن جب ہم نے ان کا زائچہ ءپیدائش بنایا تو یہ راز ہم پر منکشف ہوا کہ وہ پیدائشی طور پر ایسے ہی ہیں جیسے نظر آتے ہیں اور انسان بہر حال اپنی فطری خصوصیات کے خلاف بہر حال نہیں جاتا، ان کے ساتھ جب آرٹس کونسل میں ایک شام کا اہتمام کیا گیا تو ہم نے بھی تھوڑا سا اظہار خیال کیا تھا اور یہ اظہار خیال ان کے زائچے کی روشنی میں تھا جس پر اقبال صاحب نے کہا کہ آپ تو ہمارے بارے میں کوئی بھی غیر معمولی انکشاف نہیںکرسکے تو ہم نے یہی جواب دیا تھا کہ اس موضوع پر کبھی تنہائی میں گفتگو ہوگی اور پھر یہ گفتگو ہوئی جس سے وہ کسی حد تک مطمئن بھی ہوئے یا شاید نہ ہوئے ہوں، اگر اس حوالے سے زائچے کی روشنی میں ہم نے مزید کچھ لکھا تو برادرم اخلاق احمد کو اعتراض ہوگا لہٰذا اس موضوع کو ہم اپنی آنے والی کتاب پر چھوڑتے ہیں جو دنیا کی مشہور شخصیات کے زائچوں کے حوالے سے مرتب کر رہے ہیں۔

وداعِ آخر

ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن میں کام کے دوران ہی میں ہم نے اپنے علیحدہ ہومیوپیتھک اور ایسٹرولوجیکل کلینک کا آغاز کردیا تھا، اس حوالے سے ہم نے خاصی تفصیل سے لکھا تھا کہ یہ خیال ہمیں کیوں آیا، ادارے سے جو تنخواہ ملتی تھی، اس میں گزارا مشکل ہوگیا تھا اور ہم نے اپنا کلینک کھولنے کے لیے معراج صاحب سے باقاعدہ اجازت بھی لی تھی جو انھوں نے خوشی خوشی دے دی،اس کے ساتھ ہی یہ پروگرام بھی زیر غور آیا کہ ادارے سے ”مسیحا“ کے نام سے ایک میگزین جاری کیا جائے جس کا موضوع ہر نوعیت کا علاج معالجہ ہو، اسی مقصد کے تحت ماہنامہ پاکیزہ میں ہم جو کالم لکھا کرتے تھے ، حال و مسقبل کے نام سے ، اس کا نام تبدیل کرکے مسیحا رکھا گیا، پہلے یہ کالم ہم اپنی مرحوم وائف کے نام سے لکھتے تھے، اب اس پر ہمارا نام دیا گیا، تھوڑے ہی دن میں اس کالم نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے، اس کی ڈاک ہزاروں کی تعداد میں آنے لگی، بلاشبہ اس کالم کی مقبولیت کی وجہ سے ہمارے کلینک کو بھی غیر معمولی فوائد حاصل ہوئے کیوں کہ اسی کالم میں ہمارے کلینک کا اشتہار بھی شائع ہوتا تھا، یہ صورت حال ہمارے لیے نہایت خوش آئند اور منافع بخش تھی، ہمیں اپنے مالی مسائل کے حل میں خصوصی مدد ملی اور وہ وقت بھی آیا کہ جب ہم اپنی ماہانہ تنخواہ بھی بینک سے نکالنا بھول گئے، ہر مہینے تنخواہ کا چیک بینک میں جمع ہوجاتا تھا جسے نکالنے کی ہمیں ضرورت ہی نہ رہی۔

معراج صاحب ہفتے میں ایک بار کلینک آتے اور خوش ہوتے تھے،یقیناً وہ بڑے دل کے آدمی تھے،کبھی کسی تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ خوش ہوتے اور کلینک کے حوالے سے دامے درامے سخنے ، ہر طرح کی مدد بھی کرتے رہے لیکن سب لوگ اتنا بڑا دل نہیں رکھتے، دفتر میں اکثر لوگ اس صورت حال سے شدید جیلیسی کا شکار ہونے لگے لیکن وہ اس جیلیسی کا اظہار کرنے کی ہمت اور جرات نہیں رکھتے تھے، البتہ خاموشی سے ایسے موقعوں کی تاک میں رہتے کہ ہمیں کوئی نقصان پہنچاسکیں، معراج صاحب سے ہماری قربت ان دنوں عروج پر تھی، چناں چہ ایسے موقع کم ہی میسر آتے تھے۔

جاسوسی اور سرگزشت کی ذمے داریوں کو ادا کرتے ہوئے اپنے ذاتی کاروبار کو دیکھنا ہمارے لیے بڑا ہی سخت اور کٹھن مرحلہ تھا، عام طور پر ہم دفتر دیر سے پہنچتے یعنی تقریباً 12 بجے تک اور پھر شام کو 7 بجے سے رات 11 بجے تک کلینک میں مصروف ہوجاتے، پرچوں کا بہت سا کام گھر لے جاتے اور رات کو دیر تک کام کرتے،بے شک یہ صورت حال صحت کو بھی متاثر کر رہی تھی اور اب ہمارے ذہن میں یہ خیال پیدا ہورہا تھا کہ ہم پرچوں کے کام سے اپنی جان چھڑالیں لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا۔

نئے پرچے مسیحا کے سلسلے میں اکثر مشورے ہوتے رہتے تھے جن میں ڈاکٹر اعجاز حسین خصوصی طور پر شریک ہوتے،اعجاز صاحب کے ساتھ ایک خصوصی نشست ہر جمعہ کو ہوا کرتی تھی جس میں خصوصی طور پر ہومیو پیتھی پر بات ہوتی کیوں کہ معراج صاحب کا بہت زیادہ جھکاو اسی جانب تھا، ان کا خیال تھا کہ میڈیکل کے موضوع پر ایک بہت معیاری اور قابل بھروسا میگزین ہونا چاہیے، اس حوالے سے مسیحا کے نام سے ڈکلیریشن حاصل کرنے کے لیے بھی معلومات کی گئیں تو پتا چلا کہ اس نام سے پہلے ہی ایک ڈکلیریشن کسی صاحب نے لے رکھا ہے لیکن پرچا شائع نہیں ہوتا، چناں چہ ڈکلیریشن کا مسئلہ بھی کسی اور طریقے سے حل کرنے کی ترکیبیں سوچی جاتیں تھیں۔

معراج صاحب کی صحت کے مسائل اگرچہ ان کی اوپن ہارٹ سرجری کے بعد سے بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں تھے،مزید خرابی ایک گہرے دلی صدمے کے نتیجے میں شروع ہوئی، انھیں یہ احساس بہت شدید ہوگیا تھا کہ دنیا کی تمام کامیابیاں ، دولت ، عزت ، شہرت حاصل کرنے کے باوجود وہ دنیا میں تنہا ہیں، ان سے ملنے جلنے والے عام طور پر اپنے کسی مفاد کے تحت ہی رابطہ کرتے یا رابطے میں رہتے ہیں لیکن درحقیقت کسی کو ان سے محبت نہیں ہے، شاید یہی وہ احساس تھا جو انھیں بہت زیادہ ڈاکٹر اعجاز حسین کے قریب لے گیا کیوں کہ ڈاکٹر صاحب بہت ہی بے لوث اور پرخلوص انسان تھے، انھوں نے کبھی معراج صاحب سے کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی، ادارے سے وابستہ افراد کے بارے میں وہ یہ سوچ سکتے تھے کہ یہ میرے ملازمین ہیں، ان کا روزگار مجھ سے وابستہ ہے، جہاں تک قریبی رشتوں کا تعلق ہے ان سے بھی وہ ناراض نہیں تو مطمئن بھی نہیں تھے جس کا اظہارکبھی کبھی کردیا کرتے تھے، اس آخری دور میں صحت کی خرابیوں نے زندگی کی تمام رنگینیوں دوسرے معنوں میں حقیقی خوشیوں سے محروم کردیا تھا، چناں چہ عادت کے خلاف اب زیادہ بولنے لگے تھے اور بہت سے ماضی سے جڑے قصے انھیں یاد آنے لگے تھے،ڈپریشن کی یہ کیفیت ایسے مشاغل میں اضافہ لاتی ہے جو اس کیفیت سے نکال نہ سکیں تو کم از کم انھیں کم کردیں، بقول غالب یک گو نہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے۔

دفتر میں جاسوسی اور سرگزشت کی ذمے داری ہم پر تھی جب کہ سسپنس جعفر حسین نامی ایک صاحب دیکھتے تھے ، ماہنامہ پاکیزہ محمد رمضان کے ذمے تھا،ہمارے کالم مسیحا نے پاکیزہ کی اشاعت پر بھی اچھا اثر ڈالا تھا، تینوں پرچے اطمینان بخش اشاعت کے حامل تھے، ہمارا دفتر میں دیر سے آنا عموماً بعض لوگوں کے لیے قابل اعتراض تھا اور یہ باتیں بھی شروع ہوچکی تھیں کہ اب وہ اپنے کلینک پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور پرچوں کے کام سے غفلت برت رہے ہیں، دفتر میں ان دنوں کمپیوٹر سیکشن جو مرحوم اعجاز رسول کی ملکیت تھا ، اب ان کی بیٹی عنبرین کے زیر انتظام چل رہا تھا جو ظاہر ہے معراج صاحب کی سگی بھتیجی تھی اور ان لوگوں میں شامل تھی جو ہم سے جیلسی کا شکار تھے لیکن ہمارے سامنے وہ بھی ہمیشہ محتاط ہی رہی ، ہمارا خیال ہے کہ معراج صاحب تک ہمارے دیر سے آنے کی شکایت اور پرچوں سے عدم توجہی برتنے کا الزام اسی کے ذریعے معراج صاحب تک پہنچایا گیا جس پر انھوں نے فوری طور پر پرچوں کی سرکولیشن کا ریکارڈ طلب کرلیا جس سے معلوم ہوا کہ جاسوسی اور سرگزشت کی اشاعت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا، البتہ سسپنس کی اشاعت کم ہورہی تھی، اسی ریکارڈ سے یہ اعدادو شمار بھی سامنے آئے کہ پاکیزہ کی اشاعت ہمارا کالم مسیحا شروع ہونے کے بعد بڑھی تھی، یہ تمام اعداد و شمار دیکھنے کے بعد معراج صاحب نے ہمارے دیر سے آنے کی شکایت کو نظرانداز کردیا اور کہا کہ فراز ادارے کا سرمایہ ہے،اس کے دیر سے آنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ادارے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں لیکن ممکن ہے وہ ایسا نہ کریں جس کی ہمیں ضرورت بھی نہیں ہے لیکن یہ تمام صورت حال ہمیں بد دل کر رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ معراج صاحب سے اپنے تعلق کو قائم رکھتے ہوئے ، ادارے سے الگ ہوجائیں، البتہ مسیحا نکالنے کی دلچسپی برقرار تھی اور بہت بعد تک رہی۔

ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ دفتر میں کون لوگ کیا کر رہے ہیں، معراج صاحب کی توجہ پرچوں پر اب تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، ان کا زیادہ وقت اپنی پسندیدہ دلچسپیوں میں گزرتا تھا جن میں سرفہرست ہم خیال و پسندیدہ لوگوں کے ساتھ گپ شپ اور ہومیوپیتھک طریقہ علاج پر تحقیق و جستجو تھی۔

مثل مشہور ہے کہ اگر کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر مسلسل یہ تکرار کی جائے کہ درخت گرجائے تو بالآخر کسی روز درخت ضرور گرجائے گا، چناں چہ ہمارے دیر سے آنے اور اپنے کلینک کے حوالے سے مصروف رہنے کا چرچا کچھ زیادہ ہی موقع محل کی مناسبت سے کیا جانے لگا، مثلاً عالم بے خودی میں اگر کسی وقت معراج صاحب نے ہمیں پکارا تو انھیں یہی جواب ملا ”وہ کہاں ، انھیں فرصت کہاں؟“

اس کا اندازہ ہمیں اس طرح ہوا کہ اب معراج صاحب خود بھی ہم سے یہ کہنے لگے کہ بھئی تم بہت مصروف ہوگئے ہو، ہم نے بھی سمجھ لیا تھا کہ اب جدائی کے دن قریب ہیں لیکن معراج صاحب سے تعلق ہم کسی طور ختم نہیں کرنا چاہتے تھے، آخر ایک روز وقتِ رخصت آہی گیا۔

فروری 2004 ءکا ایک جمعہ کچھ ایسا ہی تھا، حسب معمول اس روز ڈاکٹر اعجاز حسین کو دفتر بلایا جاتا تھا اور پھر ہم لوگ بیٹھ کر بات چیت کیا کرتے تھے، اتفاق سے ہم دو روز سے پاکیزہ کا کالم لکھنے میں مسیحا میں مصروف تھے اور خاص طور پر شب جمعہ کالم لکھتے ہوئے گزری تھی کیوں کہ پاکیزہ کی کاپی جانا تھی، کالم مکمل کرکے ہم نے آفس بھیجا اور تقریباً صبح 8 بجے سوگئے تھے۔

ڈاکٹر اعجاز حسین اپنے مقررہ وقت پر دفتر پہنچ گئے یعنی دوپہر 12 بجے ،معراج صاحب نے ہمارے بارے میں پوچھا کہ فراز کہاں ہیں؟ تو بتایا گیا کہ وہ نہیں آئے، معراج صاحب نے کہا انھیں فون کریں، ایک پیون نے فون کیا ، ہماری وائف نے ہمیں اٹھانے کی بہت کوشش کی لیکن آنکھ نہیں کھلی چناں چہ انھوں نے پیون سے کہا کہ وہ بہت گہری نیند میں ہیں، اٹھ نہیں رہے، یہی جواب کچھ مرچ مسالے کے ساتھ معراج صاحب تک پہنچادیا گیا، اس وقت وہ کسی حد تک عالم بے خودی میں تھے ، انھیں شاید یہ جواب پسند نہیں آیا۔

اس روز ہم تقریباً سہ پہر 3 بجے سو کر اٹھے تو وائف نے بتایا کہ دفتر سے بلاوا آیا تھا، ہمیں یاد آیا کہ آج ڈاکٹر اعجاز کی آمد کا دن ہے اور ہمارا آفس پہنچنا ضروری تھا لیکن بہر حال تاخیر ہوچکی تھی، شام 4 بجے کے قریب معراج صاحب کا فون آیا اور انھوں نے خاصے روکھے لہجے میں کہا ”تم اپنے ضروری کاموں کو دیکھو، اب آفس آنے کی ضرورت نہیں ہے“

ہم ایسی کسی بات کی توقع نہیں کر رہے تھے لیکن خاموش رہے، شام کو کلینک گئے تو حسام بٹ سے ملاقات ہوئی، وہ ان دنوں ہمارے کلینک ہی میں بیٹھ کر لکھا کرتے تھے کیوں کہ لکھنے کے لیے ان کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی، چناں چہ ہم نے اپنے کلینک کی ایک چابی انھیں دے دی تھی، انھوں نے سارا ماجرا ہمارے گوش و گزار کیا اور بتایا کہ اس سازش میں کس نے کیا کردار ادا کیا، ہمارے بروقت آفس نہ پہنچنے پر معراج صاحب سے کیا کہا گیا اور ان کی تھوڑی سی برہمی کو کس طرح بڑھاوا دیا گیا، یہ تمام تفصیل بعد میں ڈاکٹر اعجاز حسین کے ذریعے بھی ہمیں معلوم ہوئی کہ وہ بہر حال وہاں موجود تھے، فوری طور پر ہماری جگہ علی سفیان آفاقی صاحب کے چھوٹے بھائی علی عمران آفاقی کو بلاکر جاسوسی اور سرگزشت کی ذمے داری سونپ دی گئی، علی عمران صاحب کو ہم ہی ادارے میں لائے تھے اور وہ سرگزشت کے لیے لکھتے تھے، ہماری نظر میں وہ نہایت معقول اور ذمے دار انسان تھے، ان کے انتخاب سے ہمیں خوشی ہوئی، اسی روز یا شاید دوسرے روز وہ ہمارے پاس آئے اور سارا ماجرا گوش و گزار کیا، ہم نے ان سے یہی کہا کہ آپ یہ ذمے داری قبول کرلیں، جہاں ضرورت محسوس ہوگی ہم آپ کو گائیڈ کرتے رہیں گے۔

علی عمران آفاقی اسلام آباد میں کسی بڑے ایجوکیشنل ادارے سے ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی شفٹ ہوگئے تھے، ان سے ہماری ملاقات ان کے بھتیجے ڈاکٹر علی ارسلان کے ذریعے ہوئی تھی، بہت کثیرالمطالعہ اور تحریر کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے ،چناں چہ ہم نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ سرگزشت کے لیے لکھیں، علی عمران آفاقی آج بھی ہمارے قریبی احباب میں شامل ہیں۔

اتوار کے روز ہم نے معراج صاحب کو ان کے گھر پر فون کیا اور ان کے انتخاب پر داد دی اور کہا کہ میں واقعی اب جاسوسی اور سرگزشت کی ذمے داری اٹھانے سے معذور ہوں لیکن آپ سے جو طویل تعلق رہا ہے اسے ختم نہیں ہونا چاہیے، ہماری بات سن کر وہ کھل اٹھے اور بولے ”تم کل آفس آجاو، باقی باتیں آفس میں ہوں گی“

پیر کو ہم آفس پہنچ گئے اور معراج صاحب سے ملاقات ہوئی، ہم نے ان سے کہا کہ فوری طور پر علی عمران صاحب کے لیے تمام معاملات کو سمجھنا ممکن نہیں ہوگا، ہم اعزازی طور پر روزانہ کچھ دیر کے لیے دفتر آکر ان کی رہنمائی کریں گے، معراج صاحب ہماری بات سے بہت خوش ہوئے اور فوراً ہی لاہور علی سفیان آفاقی صاحب کو فون کیا اور بتایا کہ فراز آگئے ہیں اور علی عمران صاحب کی معاونت کے لیے بھی تیار ہیں پھر ہماری بھی آفاقی صاحب سے بات کرائی، اس کے بعد ہم بالکل نارمل انداز میں بیٹھ کر نئے پرچے مسیحا کے بارے میں پروگرام بناتے رہے کیوں کہ یہ ہمارے اور معراج صاحب کے درمیان خصوصی شوق کا معاملہ تھا، دوسرے روز بھی ہم گئے اور مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں، ساتھ ہی ہم نے تمام ضروری کہانیاں وغیرہ اور ضروری چیزیں عمران صاحب کے حوالے کیں، ان دنوں لبنیٰ ہماری معاون تھیں اور اب انھیں عمران صاحب کی معاونت کرنا تھی، لبنیٰ کی تمام ٹریننگ ہماری نگرانی میں ہوئی تھی اور وہ تمام کام کو بہ خوبی جانتی اور سمجھتی تھیں۔

دفتر میں ہمارے مخالف گروپ کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ ہم معراج صاحب کے قریب رہیں، مسیحا کے سلسلے میں معراج صاحب نے ہم سے کہا تھا کہ ایک کمرا اس کام کے لیے مخصوص کردیا جائے گا اور تم وہیں بیٹھ کر پرچے کی تیاری شروع کرو لیکن مخالفین یہ کیسے گوارا کرسکتے تھے، ایک روز ہمیں معراج صاحب سے ملنے سے روک دیا گیا، بہانہ یہ کیا گیا کہ وہ مصروف ہیں، ہم نے کافی دیر انتظار کیا، آخر اٹھ کر چلے آئے، ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ لوگ جن میں اعجاز صاحب کی صاحب زادی عنبرین اور جعفر حسین کے علاوہ حضرت اقلیم علیم سرفہرست تھے، اب یہ ہمیں برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے، اقلیم صاحب کے دل میں ہماری طرف سے ایک پرانی گرہ تھی اور کافی عرصے سے ہماری ان کی بات چیت بھی نارمل نہیں رہی تھی چناں چہ ہم نے آئندہ دفتر نہ جانے کا فیصلہ کرلیا، البتہ حسام بٹ یا بعض دیگر پرانے ساتھیوں کے ذریعے صورت حال سے آگاہی ہوتی رہتی تھی۔

معراج صاحب درحقیقت کچھ زیادہ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہے تھے، روزانہ دفتر ضرور پابندی سے آرہے تھے لیکن رفتہ رفتہ ان کی یادداشت کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی تھی، ڈاکٹر اعجاز حسین صاحب نے بھی ہمیں بتایا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور کسی وقت بھی وہ مفلوجیت کا شکار ہوسکتے ہیں، ہم نے فروری کے آخری ہفتے میں آفس چھوڑا تھا اور اپریل میں ہمیں اطلاع ملی کہ معراج صاحب پر کوئی بڑا اٹیک ہوا ہے، فوری طور پر انھیں اسپتال لے جایا گیا اور پھر ایک طویل علاج معالجے کا سلسلہ شروع ہوگیا، وہ سب کچھ بھول چکے تھے، دماغ کی یادداشت سے متعلق رگیں سوکھ چکی تھیں، اگر انھیں کوئی بات یاد تھی تو وہ ڈاکٹر اعجاز حسین سے اپنی جمعہ کی ملاقات یاد تھی، جمعہ کے روز اعجاز صاحب سے ملنے کے لیے بے چین ہوجایاکرتے تھے۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 50

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے