سر ورق / مضامین / پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال … خرم شہزاد

پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال … خرم شہزاد

پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال

خرم شہزاد

                ’ارے بھائی صاحب اب کون کتابیں پڑھتا ہے بھلا، ہم تو بس اس لیے بیٹھے ہیں کہ اب اس عمر میں کہاں کچھ اور کرنے کے قابل ہیں، اس لیے چلو جب تک یہ چلے، دیکھتے ہیں‘۔

                ’معاوضہ ۔۔۔ کتاب کا ۔۔۔ بھائی صاحب اگر کوئی پبلیشر مفت میں بھی چھاپ دے تو اس کی مہربانی ہو گی کیونکہ قاری تو آج کل کتاب پڑھتا ہی نہیں ہے‘۔

                ’ڈالر کا ریٹ دیکھا ہے کہاں سے کہاں جا رہا ہے ایسے میں کتاب کی قیمت تو چھوڑیں اخراجات کا حساب لگائیں۔ اب کتاب کہاں کوئی چھاپ سکتا ہے بھلا‘۔

                ’چلیں ایسا کرتے ہیں کہ آپ اپنی کتاب پر خود سرمایہ کاری کریں ، اپنی جیب سے چھپوا لیں، ہم آپ کی کتاب بیچنے میں مدد کریں گے اور منافع میں حصہ طے کر لیتے ہیں‘۔

                یہ اور اس جیسے بہت سے جملے ایک لکھاری کو اس وقت سننے کو ملتے ہیں جب وہ اپنی کتاب چھپوانے کے لیے نکلتا ہے۔ تقریبا ہر پبلیشرزبوں حالی کی ایسی داستان سے آغاز کرتا ہے کہ لکھاری کی تھوڑی سی جمع شدہ ہمت بھی پرانی دیوار کی طرح بغیر پتہ لگے زمین پر آ لگتی ہے اور آخر کار کسی ایک کی میز پر اپنا مسودہ چھوڑ کر لکھاری گھر واپس آ جاتا ہے۔ کتاب کی زندگی میں ایسا زوال کا زمانہ شائد ہی کبھی آیا ہو لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہ زوال تو اب کتاب کی جان لے کر ہی چھوڑے گا ۔ کیا تصویر اتنی ہی واضح ہے جتنی ہم سمجھتے ہیں یا پھر ہم کوئی اور تصویر دیکھ رہے ہیں اور ہمیں سمجھایا کچھ اور جا رہا ہے۔ ڈالر کی بڑھتی اور مزید بڑھتی قدر، قاری کی سوشل میڈیا پر مصروفیت اور پی ڈی ایف کی ارزانی بلکہ مفت دستیابی کے بعد کیا حالات اتنے ہی خراب ہیں جتنے ایک پبلیشر ایک لکھاری کو دیکھا رہا ہوتا ہے یا حقیقت کچھ اور ہے، آئیے حقیقی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔

                کتاب کوئی خرید نہیں رہا ، اس لیے پبلیشر کے پاس لکھاری کو دینے کو صرف آس اور امید ہے معاوضہ نہیں جس کی وجہ سے لکھاری بھوکا مرنے پر مجبور ہے لیکن کیا کسی نے چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں ہونے والے کتاب میلے میں شرکت کی ہے؟کسی صاحب کی مونچھوں میں اتنے بال نہ ہوں اور کسی درزی کو عید پر اتنے کپڑے سینے کو ملے نہ ہوںگے جتنے پبلیشرز نے وہاں سٹال لگا رکھے تھے۔ اس کے باوجود کہ میلہ بہت بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا تھا لیکن پنڈی اسلام آباد کے بہت پبلیشرز نے صرف اس وجہ سے اس میں شرکت نہیں کی کہ بقول ان کے، ہمارا یہ اسٹینڈرڈ نہیں کہ ہم یوں اسٹالوں پر کھڑے ہو کر اپنی کتابیں بیچیں۔ لاہور ، کراچی پشاور اور کوئیٹہ جیسے شہروں سے تو خال خال پبلیشرز نے شرکت کی کہ اتنی دور سے کتابیں لانے میں ہی بڑا خرچہ لگ جاتا ہے، اس کے باوجود وہاں زیر زبر کے فرق سے پبلیشرز موجود تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قاری پڑھ ہی نہیں رہااور لکھاری کو دینے کے لیے پبلیشرز کے پاس معاوضہ نہیں ہے تو اتنے پبلیشنگ ہاوس کس لیے اور کیسے قائم ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ فاقوں اور برے حالوں جی رہے درجنوں لکھاریوں کے نام چند لمحوں کی کوششوں سے اکھٹے کئے جا سکتے ہیں کہ بہت سے نامور لکھاریوں کے نام تو منہ زبانی یاد ہیں لیکن کتاب سے وابسطہ کسی شخص کو فاقوں اور برے حالوں میں جی رہے کسی پبلیشر کا نام پتہ ہے؟ یہاں تو کئی پبلیشر عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں کہ ان پر ان کے ساتھیوں، رشتہ داروں اور بھائیوں تک نے مقدمے کر رکھے ہیں ۔۔۔کوئی پوچھے کہ زوال پذیر اس کاروبار سے بھلا کسی کو کیوں اتنی دلچسپی ہے کہ برسوں سے مقدمے چل رہے ہیں اور ہر کوئی حصے کے لیے نہ صرف پریشان ہے بلکہ بقول ایک فریق دوسرا تو آمادہ قتل بھی ہے۔

                چلیں ساری باتیں چھوڑتے ہوئے ایک اور سوال کرتے ہیں کہ کتاب کا معاوضہ نہ دینے والے کی بات کرنے والے پبلیشر جب مفت میں مسودہ ہتھیا لیتے ہیں تو کیا کاغذ بھی مارکیٹ میں مفت دستیاب ہوتا ہے جس سے وہ کتاب چھاپ دیتے ہیں؟ مجھے مارکیٹ میں مفت کام کرنے والے کمپوزر سے بھی ملنا ہے کہ پوچھوں اس کے گھر والے کیسے زندہ ہیں اگر وہ مفتے میں کمپوزنگ کر رہا ہے؟ کیا پرنٹرز نے اللہ واسطے کا کام شروع کر رکھا ہے کہ بھئی آو اور مفت میں کچھ بھی چھپواو۔۔۔؟؟ کیا بائنڈرکے بچے صرف مٹی کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں اس لیے اس نے بھی مفت میں جلد سازی شروع کر دی ہے۔۔۔؟؟ کیا ہتھ گاڑی پر کاغذ لے کر آنے والے سے لے کر کتاب کو ٹرک اڈوں، پوسٹل سروس کے دفاتر اور کورئیر سروس تک پہنچانے والے بھی مفت میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں اور کیا سب نے مرتی ہوئی کتاب کی خاطر فی سبیل اللہ تقسیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔؟؟میں لکھاری سے پوچھتا ہوں کہ کتاب سے وابسطہ کوئی ایک شخص بتائیے جو مفت میں کام کر رہا ہے اور جسے پبلیشر نے کتاب کی زبوں حالی کا رونا روتے ہوے مفت کام کروایا ہو؟جب ایسا ایک بھی شخص نہیں ہے تو پھر کیوں اور کس لیے آپ نے اپنا مسودہ مفت میں کسی بھی پبلیشر کی میز پر رکھ چھوڑا؟ابھی تو ہم نے پبلیشر سے یہ تو پوچھا بھی نہیں کہ صاحب کتاب ہونے کے شوق میں جو آپ کو مفت مسودے دے دیتے ہیں ان کی کمائی اور منافع بھی کیا اتنا نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے کو چند ریوڑیوں جتنا ہی کچھ آپ دے سکیں۔ ابھی ڈائجسٹوں کے ان مالکان کا تو ذکر ہی نہیں کیا جو کہتے ہیں کہ ہم معاوضہ تین کہانیوں کی اشاعت کے بعد دیتے ہیں، کوئی پوچھے کہ پہلی تین کہانیوں کا معاوضہ بھلا کیوں اور کس لیے نہیں دیتے ہو؟

                قصہ مختصر کہ آپ جتنا سوچتے چلے جائیں پبلیشرز کے اتنے ہی جھوٹ آپ کے سامنے عیاں ہوتے چلے جائیں گے۔ کسی بھی پبلیشر کو ظالم کہنا یقینا ایسا ہی ہے جیسے ہلاکو خان پر ایک چیونٹی کے قتل کی فرد جرم عائد کی جائے لیکن یہ تو لکھاری سے پوچھنا چاہیے کہ آپ اپنا وقت، صلاحیت اور ہنر کیسے کسی کو مفت میں دے آتے ہو ؟ ہم سمجھتے تھے کہ کتاب سے وابسطہ لوگ حساس ہوتے ہیں لیکن ان سے بڑھ کر ظالم تو معاشرے میں کوئی موجود ہی نہیں ہے۔جھوٹے، دو نمبر اور دغاباز لوگ جن کے ہاتھوں میں ہماری ذہنی اور فکری نشوونما کا اختیار ہے۔

نوٹ:۔ ایسے تمام پبلیشرز جو اپنے نئے اور کم مقبول لکھاری کو بھی معاوضہ دیتے ہیں اور ایک اچھے انسان کی خوبیاں رکھتے ہیں ان سے بھی یہاں معذرت نہیں چاہوں گا کیونکہ انہوں نے بھی اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

حامدی کاشمیری کی غزل گوئی (اکیسویں صدی میں) غلام نبی کمار۔

                حامدی کاشمیری کی غزل گوئی                 (اکیسویں صدی میں) غلام نبی کمار۔                 ریاست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے