سر ورق / کہانی / نرم گھاس لیوگی پران دیلو (اٹلی): وجاہت مسعود

نرم گھاس لیوگی پران دیلو (اٹلی): وجاہت مسعود

نرم گھاس
لیوگی پران دیلو (اٹلی)۔۔
ترجمہ: وجاہت مسعود

سب لوگ ساتھ والے کمرے میں اس سے یہ پوچھنے گئے کہ کیا وہ تابوت پر ڈھکن رکھے جانے سے قبل اپنی بیوی کا آخری دیدار کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک بڑی سی کرسی پر سو رہا تھا۔
"بہت اندھیرا ہے۔ کیا وقت ہوا ہے؟”
اس نے پوچھا۔
صبح کے ساڑھے نو بج رہے تھے مگر بادلوں کے باعث روشنی بہت کم تھی۔ جنازے کے لیے دس بجے کا وقت رکھا گیا تھا۔
سینور پادری سپاٹ آنکھوں سے سب کو گھورتا رہا۔ یقین نہیں آتا تھا کہ وہ رات بھر ایسی اچھی نیند سویا رہا تھا۔ ابھی تک نیند اور گزشتہ چند روز کے صدمے سے وہ ماؤف سا ہورہا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر مدھم روشنی میں کرسی کے گرد کھڑے ہمسایوں سے اپنا چہرا چھپالے۔ مگر دیر تک سونے سے سارا جسم سیسے کی طرح بھاری ہورہا تھا۔ اس کے پنجوں میں کھڑا ہونے کی اکساہٹ پیدا ہوئی مگر فوراً ہی دم توڑ گئی۔ اس کے منہ سے اچانک بلند آواز میں ایک لفظ نکلا:
"۔۔۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔”
اس کا لہجہ ایسا تھا گویا کوئی کسمسا کر پھر سے چادر منہ پر ڈال لے اور سو جائے۔ سب سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ "ہمیشہ” کیا؟
وہ کہنا چاہتا تھا کہ دن کے وقت بھی ہمیشہ اندھیرا ہی چھایا رہتا تھا مگر پھر یہ بات اسے بڑی بے معنی لگی۔ بیوی کی موت سے اگلا دن اس کی تدفین کا دن۔ وہ ہمیشہ اس ملگجی روشنی اور گہری نیند کو یاد رکھے گا اور یہ حقیقت کہ ساتھ والے کمرے میں اس کی بیوی کی میت رکھی تھی، غالباً کھڑکیاں؟ ۔۔۔
کھڑکیاں ابھی تک بند ہیں۔ انہیں رات کو کھولا گیا تھا۔ بڑی بڑی موم بتیوں سے رات بھر موم لپکتی رہی تھی اور ابھی تک کمرے میں کچھ حرارت موجود تھی۔ نعش کو چارپائی سمیت کمرے میں لے جایا جاچکا تھا۔ اب زردی مائل سفید سائن کے کفن میں ملبوس اکڑی ہوئی اور راکھ راکھ نعش گدے دار تابوت میں رکھی تھی۔
نہیں نہیں بہت ہوچکی۔ میں اس کا چہرا دیکھ چکا ہوں۔ اس نے آنکھیں موند لیں جو پچھلے کئی دنوں سے مسلسل رونے کے باعث جل رہی تھیں۔ بہت ہوچکی۔ اس نیند میں سب کچھ دھل چکا۔ دکھ بھرے خلا کا اک احساس تو ضرور ہے مگر دکھ کی چُبھن کند ہوچلی ہے۔ بس اب یہ لوگ تابوت کو بند کردیں اور اس میں رکھی میری متاعِ حیات کو لے چلیں۔
"مگر وہ ابھی تک برابر والے کمرے میں پڑی ہے۔۔۔۔۔”
کوندے کی طرح ایک خیال لپکا۔
وہ اچھل کر کھڑا ہوگیا اور لڑکھڑاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔ انہوں نے اسکے بازو تھام لیے۔ اسکی آنکھیں نیم بند ہورہی تھیں۔ وہ اسے کھلے ہوئے تابوت کی طرف لے چلے۔ اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور اسکا نام لے کر اسے پکارا۔ صرف وہی اسے اس نام سے پکارا کرتا تھا۔ ایک ساتھ گزری ہوئی زندگی کے سارے رنگ اس نام سے وابستہ تھے۔ اس نے غصے سے اردگرد کھڑے لوگوں پر ایک نظر ڈالی جو اس کی مردہ بیوی کو دیکھ رہےتھے۔ وہ اس عورت کے متعلق کیا جانتے تھے؟ وہ تو یہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے تھے کہ اس سے کیا چیز چھن گئی تھی۔ وہ چیخنا چاہتا تھا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر اس کا بیٹا آگے پڑھاتا کہ اسے تابوت سے پرے لےجائے۔ بیٹے کا مقصد جان کر ایک سرد لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ اسے لگا جیسے وہ اس ہجوم میں ننگا ہوگیا ہو۔ اسے اپنے جزبات حتٰی کے رات کی نیند پر بھی خجالت محسوس ہوئی۔ بس اب جلدی کرنا چاہیئے تاکہ جو دوست جنازے کے ساتھ گرجا گھر تک جانا چاہتے ہیں انہیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔
"جانے دو پاپا، ہوش کرو ”
خفگی بھری مگر رحم آلود نظریں لیے دکھ زدہ شخص پھر سے اپنی کرسی کی طرف بڑھ گیا۔
ہاں۔ ہوش کرنی چاہیئے۔ اندر سے اُبلتے دکھ پر چلانا بے کار تھا۔ اس اذیت کو الفاظ یا افعال میں بیان نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس شوہر کے دکھ کا جس کی محبت ابھی زندہ ہو اور بیوی بچھڑ جائے اس بیٹے کے دکھ سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جس کے لیے عمر کے ایک خاص حصے میں یتیم ہونا فطری بات ہوتی ہے۔ بیٹے کے لیے تو یہ موت بہت بر وقت تھی۔ وہ اب شادی کرنے ہی والا تھا۔ تین ماہ کا سوگ ختم ہونے پر وہ شادی کرلے گا، اب تو اس کے پاس ایک جواز بھی تھا کہ باپ بیٹے کو گھر کے کام کاج کے لیے ایک عورت کی ضرورت تھی۔
"پادری ۔۔ پادری”
باہر والے کمرے سے کوئی پکار رہا تھا۔ یہ جان کر وہ اور بھی سرد پڑ گیاکہ اس کی بجائے اس کے بیٹے کو اس نام سے پکارا جارہا تھا۔ آج کے بعد بیٹا ہی اس خاندانی نام کا زیادہ حق دار ہوگا۔ یہ یاد کرکے اسے سخت ندامت محسوس ہوئی کہ سب کے سامنے اس نے اپنی بیوی کا محبت کا نام پکار کر گویا اسکی بے حرمتی کی تھی۔ تھی نا احقموں والی بات۔ بالکل بےکار۔ رات بھر کی نیند نے گویا اسکی عقل پر پردے ڈال دیے تھے۔
اب جینے میں اسکی صرف ایک ہی دلچسپی باقی تھی۔ اسے تجسّس تھا کہ گھر کا نیا بندوبست کیسا ہوگا۔ مثال کے طور پر اب وہ اسے کہاں سلائیں گے؟ بڑا والا ڈبل بیڈ تو پہلے ہی اس کے کمرے سے ہٹایا جاچکا تھا۔ کیا اسے چھوٹا پلنگ ملے گا۔ اس کے بیٹے والا پلنگ اور اس کے ڈبل بیڈ پر اسکا بیٹا اپنی بیوی سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر سوئے گا۔ وہ خود اپنے چھوٹے سے پلنگ پر بازو پھیلائے گا تو سرد ہوا کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
مختلف چیزیں اس کے بے بس ہوتے ذہن میں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔ اس کے اندر اور باہر خلا کی سی کیفیت تھی۔ دیر تک بیٹھے رہنے سے جسم سُن ہورہا تھا۔ اسے یقین سا ہورہا تھا کہ اگر اس نے کھڑا ہونے کی کوشش کی تو اس خلا میں اس کا جسم پروں کی طرح ہلکا ہوگا۔ اس کی زندگی اپنی حقیقت کھو چکی تھی۔ اس میں اور اسکی کرسی میں شاید ہی کوئی فرق باقی بچا ہو۔ پھر بھی کرسی چاروں ٹانگوں پر اعتماد سے کھڑی تھی اور خود اسے کچھ خبر نہیں تھیں کہ اس کے پاؤں اور ٹانگیں کہاں تھے یا یہ کہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا کرے۔ اب اسےاپنی زندگی کی پروا بھی کہاں تھی۔ اسے تو اب دوسروں کی زندگی سے بھی کوئی خاص واسطہ نہیں رہا تھا۔ مگر پھر بھی جینا بن پڑے گا۔ نئے سرے سے ایسی زندگی کی آغاز کرنا ہوگا، جس کا کوئی دھندلا سا خاکہ بھی اس کی ذہن میں نہیں تھا۔ ایسی زندگی جس کے بارے میں وہ کبھی سوچنا بھی گوارا نہ کرتا اگر اس کی دنیا یوں بدل نہ چکی ہوتی۔ وہ بے بس سا ہورہا تھا۔ بوڑھا تو نہیں مگر جوان بھی تو نہیں رہا تھا۔
مسکرا کر اس نے کندھے اچکائے یوں اچانک ہی وہ بیٹے کے لیے بچہ بن گیا تھا۔ مگر ہر کوئی جانتا ہے کہ جوان بیٹوں کے لیے باپ بچے ہی توبن جاتے ہیں۔ امنگوں سے بھرے جوان بیٹے جو کامیابی سے زندگی میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور باپ فارغ بیٹھے اس خدمت کی وصولی کرتے ہیں جو انہوں نے اولاد کی بچپن میں کی تھی۔
مگر اکیلا پلنگ۔۔۔۔
اور پھر انہوں نے اسے وہ چھوٹا کمرہ بھی نہ دیا جو کبھی بیٹے کے پاس ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے صحن کے ایک کونے میں چھپے ہوئے ایک کمرے میں اسے زیادہ آزادی محسوس ہوگی۔ وہاں جو چاہے گا کر سکے گا۔ اس کمرے میں انہوں نے بہترین فرنیچر لاکر رکھ دیا تا کہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ کبھی اس کمرے میں ملازم رہا کرتا تھا۔
شادی کے بعد گھر میں سامنے والے تمام کمرے نئے فرنیچر اور نت نئے سامان سے اچھی طرح سجا دیئے گئے حتٰی کہ قالین بھی بچھائے گئے۔ گھر میں ایک بھی نشانی ایسی نہ چھوڑی جو پرانے دنوں کی یاد دلاتی۔ نوجوان جوڑے کی زندگی سے الگ تھلگ، چھوٹے سے تاریک کمرے میں اپنے پُرانے فرنیچر کے درمیان بھی وہ بے چین رہتا تھا۔ تاہم حیران کُن طور پر اسے یوں پُرانے فرنیچر کے ساتھ اس کمرے میں پھینکے جانے کی بے عزتی پر کوئی خفگی نہیں تھی۔ اسے گھر کی نئی ترتیب پسند تھی اور بیٹے کی کامیابی پر اطمینان تھا۔
اس اطمینان کی ایک گہری گو قدرے غیر واضح وجہ بھی تھی۔ ایک اور زندگی کی اُمید۔ روشن اور رنگارنگ زندگی کی اُمید جو گزرے دنوں کی یاد کو محو کرتی جارہی تھی۔ اس کے دل میں کہیں یہ امید چھپی تھی کہ اسے بھی ایک نئی زندگی کل سکتی تھی۔ لاشعوری طور پر اسے کھول سکتا تھا۔ اب جبکہ کسی کو اس کی پروا نہیں تھی اور اسے اپنے چھوٹے سے کمرے میں من مرضی کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ سب بھی آسان لگتا تھا۔ وہ ہوا سے بھی زیادہ ہلکا پھلکا محسوس کرتا تھا۔ اسکی آنکھوں کی چمک ہر شے کو رنگ بخشتی حیرت کے دروازے کھول رہی تھی گویا وہ سچ مچ پھر سے بچہ بن گیا ہو۔ بچوں کی طرح زندگی سےبھرپور کھلی ہوئی آنکھوں سے وہ ایسی دنیا کا مشاہدہ کررہا تھا۔ جو اس کے لیے بالکل نئی تھی۔
اس نے صبح اُٹھ کر سیر کے لیےجانے کی عادت ڈال لی۔ یوں وہ تعطیلات کے ہر دن کا آغاز کرتا۔ اور یہ تعطیلات اتنی ہی طویل تھیں جتنی اسکی باقی ماندہ زندگی۔ تمام ذمہ داریاں ختم ہوچکی تھیں۔ چناچہ اسنےاپنے اخراجات کے لیے پنشن میں سے ہر مہینے کچھ رقم اپنے بیٹے کو دینے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ رقم نہایت معمولی تھی۔ اگرچہ اسے پیسوں کی ضرورت نہیں رہی تھی مگر اس کے بیٹے کا خیال تھا کہ اسے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ رقم اپنے پاس رکھنا چاہیئے تھی۔ مگر کیسی ضروریات؟ اسے تو یہی اطمینان کافی تھا کہ وہ زندگی کا مشاہدہ کررہا تھا۔
تجربے کے بھاری بھرکم بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے بعد اسے بڑوں کی دنیا کے آداب بھول گئے تھے۔ وہ جہاں تک ممکن ہوتا ان سے دامن بچاتا نوجوان لڑکے اسے بہت بوڑھا سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ بچوں کے پارک جاکر بیٹھا رہتا۔
چنانچہ اس نے نئی زندگی کا آغاز سبزہ زار میں گھاس پر کھیلتے بچوں کے درمیان کیا۔ گھاس کی خوشبو میں عجیب جادو تھا۔ درختوں کے پیچھے بہتی کسی جھرنا کی آواز میں پتوں کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔ یکایک بچوں نے اپنے کھیل کو بھول کر جوتے اور جرابیں اتار دیں۔ تازہ اور نرم گھاس اس میں ننگے پاؤں ڈبونے میں کتنا لطف تھا۔
اس نے بھی ایک جوتا اتار ڈالا اور چپکے چپکے دوسرا جوتا اتار رہا تھا کہ ایک نوجوان لڑکی اس کے سامنے آگئی۔ اسکا چہرہ تمتما رہا تھا۔
"سوئر!”
وہ شعلے برساتی آنکھوں سے چلا کر بولی۔
لڑکی کے لباس کا سامنے والا حصہ جھاڑی میں الجھ کر اوپر اٹھا ہوا تھا۔ اسنے جلدی سے اسے کھینچ کر ٹانگوں کے برابر کیا۔ کیوں کہ زمین پر بیٹھا بوڑھا شخص اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ سُن ہو کر رہ گیا۔ اس لڑکی نے کیا سوچا تھا۔ وہ تو صرف بچوں کے معصوم کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہ رہا تھا۔ جھک کر اس نے دونوں ہاتھ اپنے ننگے اور کھردرے پیروں پر رکھ دیئے۔ آخر اس لڑکی نے ایسی کیا غلط بات دیکھ لی تھی۔ کیا وہ بوڑھا تھا کہ گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کی بچوں جیسی مسرت بھی حاصل نہیں کر سکتا تھا؟ کیا بوڑھا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ آدمی صرف برائی ہی کےبارے میں سوچ سکتا تھا؟ اگر وہ چاہتا تو ایک لمحے میں بچے سے مرد کا روپ دھار سکتا تھا۔ آخر وہ ابھی جوان تھا گو وہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔
اس نے بالکل بچہ بن کر اپنے جوتے اتارے تھے اس کم بخت لڑکی نے اس طرح اسکی توہین کرکے کیسی غلطی کی تھی۔ وہ اوندھے منہ گھاس پر لیٹ گیا۔ اسکے دُکھ، صدمے اور روز مرہ کی تنہائی نے اس واقعے کو جنم دیا تھا۔ جسے دیکھیے تو صرف گھٹیا بدظنی کا مظاہرہ تھا۔ اسکے غصے میں نفرت اور تلخی آتی گئی۔ اگر وہ ایسا چاہتا۔۔۔۔ اسکا بیٹا بھی مانتا تھاکہ اسکی کچھ "خواہشات” ہوسکتی تھیں۔۔۔۔۔۔ تو اسکے پاس ایسی ضروریات کے لیے دافر رقم موجود تھی۔
غضب ناک ہوکر وہ اُٹھ بیٹھا۔ جھینپتے ہوئے، کانپتے ہاتھوں سے اس نے دوبارہ جوتے پہنے ۔ اسکے جسم کا سارا خون اسکے سر میں اکٹھا ہوگیا تھا۔ آنکھوں کے پیچھے خون کی گردش میں حرارت آگئی تھی۔ ہاں مجھے معلوم ہے ایسے کاموں کے لیے کہاں جاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں۔
کچھ دیر دم لے کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور گھر کی طرف چل دیا۔ کمرے میں ادھر اُدھر ٹھنسے ہوئے سامان کے درمیان (جو لگتا ہے اسے پاگل کرنے کے لیے وہاں رکھا گیا تھا) اس نے خود کو پلنگ پر گرادیا اور دیوار کی طرف منہ پھرلیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دادی اماں…کرشنا سوبتی/عامر صدیقی

دادی اماں کرشنا سوبتی/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. کرشنا سوبتی،پیدائش :۸۱ فروری ۵۲۹۱ ئ، گجرات، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے