سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد٭ قسط نمبر18

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد٭ قسط نمبر18

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ضیاءشہزاد
”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا”
٭
قسط نمبر18
٭
٬٬ ہاں بیٹھک کے بعد ۔ ۔ ۔ آدھی رات کو جیسلمیر ایکسپریس آئے گی ۔۔ ۔ ۔ تجھے ایکسپریس سے دلی جانا ہے ۔ ۔ ۔ اب تیرا یہاں رہنا جان کو جوکھم میں ڈالنا ہے ۔،، دادا نے کہا ۔ ایک بار پھر خاموشی چھا گئی ۔ ۔ ۔ اور تھوڑی دیر بعد حویلی کے دروازے پر کسی نے آواز لگائی ۔٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ دادا سراجو ۔،،
آواز سن کر سب چونک پڑے ۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔میرا دل بھی دھک دھک کر نے لگا اور میں نے قریب کھڑی ہوئی اماں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ تائی خیرن بڑ بڑائی ۔ ٬٬ ا ے لو ۔ ۔ ۔ اب کون آگیا رات کے وقت دادا سراجو کو پکارتا ہوا ۔،،
٬٬ بھابی ۔ ۔ بی ۔ جی میرا ۔ ۔ تو دل ۔ ۔ بیٹھا ۔ ۔ جا رہا ہا ۔ ۔ ہے ۔ ۔ کلو ۔ ۔ ۔ ابھی ۔۔۔ تک نہیں آیا ۔،، اندھی تائی ہکلاتے ہوئے بولی
٬٬بس چپ رہ ۔ ۔ ۔ ورنہ ۔ تجھے ایک موٹی سی گالی دوں گی۔،، تائی خیرن نے اندھی تائی کو ڈانٹ دیا ۔٬٬ یہ تیرے کلوے ہی کی تو کارستانی ہے ساری جو آج تجھ سمیت سب کا دل بیٹھا جا رہا ہے ، ، مر وادیا ہے اس مردوے نے سب کو ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں اب کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ اب رات کے وقت یہ کون دادا کوپکارتا ہوا آگیا ۔ ۔ الٰہی خیر ۔،،
جب حویلی کے دروازے پر دوبارہ کسی نے دادا کو پکارا تو بڑے ابا بولے٬٬ میں دیکھتا ہوں کون ہے۔،،
٬٬ نہیں بدرالدین رک جاﺅ ۔،،دادانے انہیں منع کر دیا اور میرے ابا سے کہا ٬٬ جاﺅ دیکھو حویلی کے دروازے پر کون ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے آواز کچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔،، اور اس کے ساتھ ہی پرساد کو گھور کر دیکھا ۔ وہ زمین پر نظریں گاڑے بیٹھا ہوا تھا ۔ حویلی کے دروازے پر رات کے وقت کسی کے دادا جی کو پکارنے پر وہ بھی پریشان ہو گیا تھا ۔
ابا فوراً آگے بڑھے ، بھائی اسلام اور فاروق بھائی بھی جانے کے لئے آگے بڑھے لیکن دادا نے انہیں بھی روک دیا ۔دادا کسی کام کے لئے کہتے تھے تو سب یہی چاہتے تھے کہ وہ بڑھ کر دادا کا کہنا مانے۔ تھوڑی ہی دیر میں ابا رحمان حلوائی کو اپنے ساتھ لئے اندر آگئے ۔ رحمان حلوائی کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی جوعمر میں مجھ سے بڑی تھی ۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور بہت زیادہ ڈری ہوئی لگتی تھی ۔ وہ ہماری حویلی میں پہلی بار آئی تھی ۔ رحمان حلوائی توکئی بار آچکا تھا ۔ جب بھی وہ کوئی نئی مٹھائی بناتا تھا ۔ وہ دادا ابا کو کھلانے کے لئے چلا آتا تھا ۔ہمارے گھر والوں کے اس کے تعلقات بالکل رشتے داروں جیسے تھے ۔ وہ ہم سب سے بڑی محبت کرتا تھا اور دادا سمیت ہم سب بھی اس سے محبت کرتے تھے۔ میں جب بھی ابا کے ساتھ اس کی دوکان پر گیا ہوں وہ بات بعد میں کرتا تھا ، میرے گالوں پر پیار سے چٹکی بھرتے ہوئے مٹھی بھر کر ریوڑیاں میرے ہاتھ یا جیب میں رکھ دیتا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ میں ریوڑی بڑے شوق سے کھاتا ہوں ۔ دادا نے ابا کے ساتھ رحمان حلوائی اور اس کے ساتھ لڑکی کو دیکھا تو حیرت سے چیخ پڑےئ۔٬٬ ارے رحمان ۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ اس وقت رات کو ۔ ۔ ۔ اور یہ تمہاری بیٹی ۔ ۔ ۔ خیریت تو ہے بیٹا ۔،،
٬٬ دادا ۔ ۔ آپ میرے باپ سمان ہو ۔ ۔ خیریت ہوتی تو میں اس وقت آپ کے پاس کیوں آتا۔،، رحمان کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ جیسے رو رہا ہے ۔ ۔ ۔ وہ سچ مچ رورہا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے غور سے دیکھا تو اس کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھری ہوئی تھیں ۔ اس کی بیٹی کی آنکھیں بھی آنسوﺅں میں تر تھیں۔ رحمان اپنی آستین سے آنسوپونچھتے ہوئے بولا۔٬٬ ابھی دودن پہلے ہی ہندو بلوائیوں نے میرے چھوٹے بھائی کو مار دیا۔ ۔ ۔ کیا بگاڑا تھا اس غریب نے یا میں نے ۔،،
دادا اپنے مونڈھے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور رحمان کی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے رحمان حلوائی کو سینے سے چمٹا لیا۔٬٬ ہاں بیٹا ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں تیرا دکھ ۔ ۔ تجھ پر بڑاظلم توڑا گیا ہے ۔ ۔ تو بڑی مشکل میں ہے ۔ ۔ ۔ اس وقت سارے مسلمان مشکل میں ہیں ۔ ۔ صبر کر ۔ ۔ ۔ مجھے بتا کہ اس وقت رات کو میرے پاس جو آیا ہے اپنی بیٹی کے ساتھ ۔ ۔ خیر تو ہے بیٹا۔،،
٬٬ دادا ۔ ۔ خیر کہاں ہو گی ۔ ۔ ۔ پورا باول جل رہا ہے اس وقت ۔ ۔ ۔ ہندو بلوائیوں نے مسلمانوں کے گھر پھونکنا شروع کر دئے ہیں۔۔ ۔ میرے بھائی سمیت دو مسلمان تو پہلے ہی مر چکے تھے ۔ ۔۔ آج شام کے وقت مندر کے پاس ٹیشن پر ایک مسلمان اور اس کی بیوی کو مار دیا ۔ ۔ ۔ ۔ وہ پلول سے یہاں اپنے کسی رشتے دار کے پاس آ رہے تھے ۔ ۔ انہیں حالات کا پتہ نہیں تھا کہ باول میں آگ لگی ہوئی ہے۔،،رحمان حلوائی یہ کہتے کہتے رک گیا ۔ ۔ ۔ میں اپنی بیٹی کو لے کر آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ مجھے میرے پڑوس میں رہنے والے بندو مل نے جس سے میرا بچپن کا یارانہ ہے ،یہ خبر دی تھی کہ بلوائی آدھی رات کو میرے گھر پر حملہ کر دیں گے ۔ مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے میری یہ بیٹی ۔ ۔ ۔
یہ کہتے کہتے رحمان حلوائی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ ۔ ۔ بدر الدین ابا آگے بڑھے اور رحمان کو اپنے گلے سے لگاتے ہوئے بولے۔٬٬ مت رو ۔ ۔ ۔ رحمان حوصلہ رکھ ۔ ۔ ۔ تو ہمارا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ یہ گھر تیرا ہی گھر ہے ۔ ۔ ۔ تیری بیٹی ہماری بیٹی ہے ۔ جب تک ہماری جان میں جان ہے تجھے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔ ۔ تو اپنی بیٹی کے ساتھ یہیں رہ ہماری حویلی میں۔،،
٬٬ہاں رحمان بدر الدین ٹھیک کہتا ہے ۔،، دادااپنے مونڈھے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور رحمان حلوائی کو حوصلہ دیا۔ ۔ ۔ ٬٬ تو اب یہیں رہ ۔ ۔ ۔ کچھ دیر میں ہم بیٹھک کرنے والے ہیں ۔ ۔ تجھ سے بھی مشورہ ہوگا کہ اب ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا باول جل رہا ہے ۔ ۔ مسلمان کٹ رہا ہے ۔ ۔ ۔ دل رو رہا ہے میرا ۔ ۔ ۔ میں نے اپنے بچپن کے یار میرا جی کو بھی بلوانا تھا بیٹھک کے لئے ۔ ۔ ۔ مگر کیسے بلاتا ۔ ۔ ۔ کلو بد ذات ساری آگ لگا کر جانے کہاں بھاگ گیا ۔ ۔ ۔ وہ ہوتا تو میرا جی کو بلوا لیتا ۔ ۔ ۔ بدر الدین کو میں نے جانے نہیں دیا ۔ ۔ ۔ اس کی جان کو خطرہ ہے ۔ ۔ ۔ اسی کے لئے بیٹھک بلائی ہے کہ اسے دلی کیسے بھجواﺅں ۔ ۔ اس کلو نے مداری کا کھیل ایسا دکھا یا ہے کہ باول میں آگ لگ گئی ہے۔،،
٬٬ دادا ۔ ۔۔ جب میں یہاں حویلی آ رہا تھا تو میرا جی مجھے راستے میں ملے تھے ۔ ،، رحمان حلوائی بولا ٬٬ میں نے انہیں ساری بات بتائی تو کہنے لگے کہ اچھا کیا جو تو اپنی بیٹی کولے کر حویلی جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھی تھوڑی دیر میں یہاں پہنچنے والے ہوں گے۔،،
اندر عورتیں اس کی بات غور سے سن رہی تھیں ۔ ۔ ۔ میں چور آنکھوں سے سب عورتوں کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ سب خاموش تھیں مگر رحمان کی بات پر ایک دوسرے کو کہنی مار رہی تھی ۔ ابا کی بات پر رحمان حلوائی نے اپنے آنسو پونچھے اور ایک گہرا سانس بھرا اورپھر کہنے لگا۔٬٬ بھائی بدرو تجھے تو اچھی طرح پتہ ہے کہ میرا مکان میری دوکان کے اوپر ہی ہے ۔ ۔ ۔ دو ہی کمروں میں گزارا کرتا چلا آرہا ہوں ۔ سوچا تھا کہ بیٹی بڑی ہو رہی ہے اوپر ایک کمرہ اور بنا لوں لیکن میری جورو کو اچانک نمونیہ ہو گیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے مر گئی ۔ ۔ ۔میرا دل ٹوٹ گیا ۔۔ ۔ آج صبح سے ہی قلعے والے چوک پر گڑ بڑ تھی ۔ ۔ ۔ دس بیس بلوائی ہاتھوں میں ڈنڈے لئے اکٹھے ہو گئے تھے اس لئے بازار نہیں کھلا ۔ ۔ ۔ میں نے بھی دوکان نہیں کھولی تھی ۔ ۔ ۔ بس یوں ہی شام کے وقت اپنی دوکان کے آگے کھڑا ہوا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے میری گلی میں بھی شمس الدین کو قتل کر دیا ۔ ۔ ۔ چوک پر بھی عبد الرحیم، سلطان فرید آباد والے کے بھائی کو مار دیا ہے ۔ ۔ ۔ ،، رحمان حلوائی بول رہا تھا اور سب اپنا سانس روکے اس کی بات سن رہے تھے ۔ سب کے چہرے اتر گئے تھے ۔ یہ سب سن کر دادا ابا پھر اپنے مونڈھے پر بیٹھ گئے ۔ لیکن ان کا بیٹھنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ گر پڑے ہوں ۔ انہوں نے اپنا سر جھکالیا اور وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گئے تھے ۔ میں اگرچہ بچہ تھا لیکن مجھے داداکی اس بات کا پتہ تھا کہ جب وہ اپنا سر جھکائے زمین کو دیکھتے رہتے تھے تو اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ وہ کوئی بڑی بات سوچ رہے ہیں ۔ ۔ وہ پریشان ہیں ۔ ۔ ۔ ایک دفعہ دادا اسی طرح زمین پر نظریں گاڑے اپنا سر جھکائے بیٹھے تھے اور میں ان کا کندھا پکڑ کر انہیں جھنجھوڑ رہا تھا ۔ ۔ ۔ مگر ان پر جیسا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ورنہ اس سے پہلے جب بھی میں داداکا کندھا ہلاتا تھا تو وہ بڑے پیار سے مجھے گود میں بھر کر مجھے چومتے تھے اور میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھتے تھے کہ بول میرا بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔کیا بات ہے۔ مجھے میرے ابا نے دادا کا کندھا ہلاتے ہوئے دیکھ لیا تھا تو وہ دوڑ کر میرے پاس آگئے تھے اور مجھے دادا سے الگ کرتے ہوئے سمجھایا تھا کہ اس وقت دادا کو پریشان مت کرو۔ ۔ ۔ دادا سوچ رہے ہیں ۔ ۔ ہٹ جاﺅ ان کے پاس سے ۔ اس وقت تو میری سمجھ میں ابا کی یہ بات نہیں آئی تھی لیکن رحمان حلوائی کی بات سنتے ہوئے جب میں نے انہیں زمین پر اپنی نظریں گاڑے دیکھا تو میری سمجھ میں آگیا تھا کہ دادا آج
بہت پریشان ہیں اور وہ کوئی بڑی بات سوچ رہے ہیں۔ رحمان حلوائی کی بات ختم ہو چکی تھی ۔ مگر دادا اسی طرح زمین پر اپنی نظریں گاڑے بیٹھے ہوئے تھے ۔ سب انہیں خاموشی سے دیکھ رہے تھے ۔ میرے ابا بھی پریشان تھے ۔ ۔ ۔ بڑے ابا کی بھی یہی حالت تھی ۔ ۔ ۔ بھائی اسلام اور فاروق بھائی بھی بار بار ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔ کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اب کیا ہوگا۔ رحمان حلوائی بھی اپنی بیٹی کو سینے سے چمٹائے کھڑا ہوا دادا کی یہ حالت دیکھ رہا تھا مگر اسے بھی چپ لگ گئی تھی ۔یہ سب دیکھتے ہوئے عورتوں میں سے تائی خیرن نے ہمت کر کے رحمان حلوائی کو پکارا۔ ٬٬ رحمان بھائی ۔ ۔ ۔ بیٹی کو اندر بھیج دو ہمارے پاس ۔،، تائی خیرن کی بات پر دادا چونک پڑے ۔ جیسے وہ نیند سے جاگ گئے تھے ۔ انہوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور اپنا گلا کھنکار کر صاف کرتے ہوئے قریب کھڑے فاروق بھائی سے کہا ۔ ٬٬ ہاں ۔ ۔ فاروق ۔ ۔ بیٹی کو اندر کمرے میں لے جاﺅ ۔،،
فاروق بھائی فوراً آگے بڑھے اور رحمان حلوائی کی بیٹی کے بازو کو پکڑا اور اسے اندر عورتوں کے پاس لے جانے لگے ، لیکن وہ ہچکچائی تو دادا نے بڑے پیار سے کہا ۔٬٬ جاﺅ بیٹی اندر جاﺅ ۔ ۔ ۔ یہ بھی تمہارا گھر ہے ۔،، لڑکی نے رحمان حلوائی کی طرف دیکھا تو اس نے اشارے سے اندر جانے کے لئے کہا جس کے بعد وہ کمرے میں آگئی اور تائی خیرن نے اسے پیار سے اپنی گود میں بھر لیا ۔
٬٬ رحمان ۔ ۔ ۔ حالات اتنی جلد بگڑ جائیں گے مجھے اندازہ نہیں تھا ۔ تمہارے چھوٹے بھائی کے مرنے کا مجھے بڑا دکھ ہے۔ میں تمہارے پاس آتا تمہیں پرسہ دینے کے لئے مگر حالات بگڑتے ہی چلے گئے ۔ ۔ ۔ بیٹا معاف کر دینا مجھے ۔ ۔
٬٬نہیں ابا ایسی بات مت کریں۔ ۔ ۔ میں سب سمجھتا ہوں ۔،، رحمان حلوائی بولا ۔٬٬ اچھا ہوا آپ حویلی سے باہر نہیں نکلے پتہ نہیں بنئے کے ذہن میں اور کیا پلان ہے ۔ ۔ ہو سکتا تھا وہ آپ کو نقصان پہنچاتا ۔،،
رحمان کچھ دیر کے لئے چپ ہو گیا پھر اس کی پرساد پر نظرپڑی تو وہ چونک کر دادا سے بولا۔٬٬ ارے ۔ ۔ ابا جی یہ پرساد کا بچہ یہاں کیا کر رہا ہے۔،،
٬٬ ایں ۔ ۔ ۔ کیا تو پرساد کو جانتا ہے رحمان؟۔،، دادا نے بھی چونک کر پوچھا اوروہ عجیب سی نظروں سے رحمان کو دیکھنے لگا ۔
٬٬ ٬ ہاں ابا ۔ ۔ ۔ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ فرید آباد کا ہے ۔ ۔ ۔ گنگا رام تیلی کے کولہو پر کام کرتا ہے ،، رحمان حلوائی نے کہا ۔٬٬ جب گنگا رام تیلی کی بیٹی کی شادی تھی تو یہ اس کے ساتھ میری دوکان پر مٹھائی بنوانے آیا تھا ۔ ۔ اس کے بعد بھی یہ میری دوکان پر آتا رہا ہے۔،،
٬٬ تجھے پتہ ہے اس خبیث نے کیا کام کیا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ یہاں کیوں بیٹھا ہے میرے پاس ؟۔،، دادا نے رحمان حلوائی سے کہا
٬٬ ہاں دادا مجھے حیرت ہوئی اسے یہاں بیٹھے دیکھ کر ۔،، وہ بولا ٬٬ کیا کیا ہے اس نے ۔ ۔۔ یہ بے چارہ تو بہت غریب اور مسکین ہے ابا؟۔،،
٬٬۔ اس نے میرے ضیاءالدین کو اٹھا لیا تھا ۔ ۔ ۔ بھاگ رہا تھا کہ اسلام اور فاروق نے عین موقع پر پکڑ لیا اور اسے یہاں لے آئے۔ ،، دادا نے رحمان کو بتایا
٬٬ ایں ۔ ۔ کیا کہہ رہے ہو ابا ۔ ۔ ۔ یہ اپنے ضیاءالدین کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا۔،، رحمان اچھل پڑا۔٬٬ یہ تو بہت ہی بھولا آدمی ہے ابا ۔ ۔ ۔ بلکل گائے سمجھ لو اسے ۔ ۔ ۔ اس سے تو مکھی بھی نہیں ماری جاتی اور پھر بھی اس نے اتنا بڑا کام کر دیا ۔،، یہ کہتے ہوئے رحمان نے پرساد کی طرف پلٹ کر دیکھا اور اس سے پوچھا ۔٬٬ ابے پرساد ۔ ۔ یہ تو نے کیا کردیا ۔ ۔ ۔ میں تو تجھے بڑا معصوم اور بھولا بھالا سمجھتا تھا۔ ۔ ۔ توواقعی بڑا خراب آدمی نکلا یار۔،،
٬٬میں نردوش ہوں رحمان بھائی ۔ ۔ ۔ مجھے شما کر دو ۔ ۔ ۔ گنگارام نے میری بیوی بچے کو مجھ سے چھین لیا اور مجھے دادا سراجو کا پوتا اٹھا لانے کے لئے کہا ۔،، پرساد رونے لگا اور اس نے ہاتھ جوڑ کر باری باری سب کی طرف دیکھا ۔٬٬میری بات پہ وشواش کرو ۔ ۔ ۔ مجبور ہو گیا تھا میں۔،،
٬٬ چپ کر بے تو نے مجھے شرمندہ کر وادیا۔ ۔ ۔مجھے اپنے آپ پر غصہ ہے کہ تجھے بھولا بھالا اور غریب سمجھ رہا تھا ۔،، رحمان غصے سے چیخا۔٬٬ دادا ابا اسے مت چھوڑ نا۔ ۔ ۔ ریواڑی سے پولیس آنے والی ہے ۔ ۔ ۔ حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو اس کو قلعہ کی پولیس چوکی پر لے چلین گے ۔،،
٬٬ نہیں رحمان ۔ ۔ ۔ اب یہ ہمارا مہمان ہے ۔ ۔ ۔ مجھے اس کی بات پر یقین آگیا ہے کہ اسے گنگا رام تیلی نے ہی میرے بچے کو اٹھانے کے لئے بھیجا تھا ۔ ۔ ۔ میرا جی آجائے تو ہم بیٹھک کریں گے ۔ ۔ ۔ اس میں ہی فیصلہ ہوگا کہ بگڑے ہوئے حالات میں ہندو مسلمان کو مار رہا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔ ۔ کیا ہم حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ ۔ یا باول چھوڑ کر چلے جائیں ۔ ۔ بیٹھک ہی فیصلہ کرے گی کہ اس پرساد کا کیا کرنا ہے ۔ میں نے اسے اپنا مہمان کہہ دیا ہے ۔ ۔۔ ویسے بھی یہ نہتا ہے تو اس کے ساتھ ہم کچھ بھی نہیں کریں گے۔،، دادا نے بڑی تفصیل سے رحمان کو سمجھایا
٬٬مگر ۔ ۔ ابا ۔ ۔ میرا خون کھول رہا ہے ۔ ۔ ۔ہم ہندوﺅں کا جس حد تک بھی مقابلہ کر سکتے ہیں کریں گے ۔۔۔ گنگارام یا پنڈت گوکل مل کے ہاتھوں نہ خود مریں گے نہ مسلمانوں کو مروائیں گے ۔،، رحمان نے کہا ۔٬٬آپ بیٹھک کریں ۔ ۔ مجھے چلنا ہے ۔ ۔ ۔ کلو بھائی مل جائے تو ہم مل کر بہت کچھ کریں گے ۔ ۔ ہندو سے مسلمان کے خون کا بدلہ لیں گے۔،،
٬٬ کلو خبیث کا نام مت لو ۔ ۔ ۔ یہ سارا اسی کا کیا دھرا ہے ۔ ۔ ۔ اسی نے آگ لگائی ہے جو آج باول جل رہا ہے ۔،، دادا ابا غصے سے چلائے ۔ ۔ ۔ وہ بھاگ گیا ہے ۔ ۔ ۔ اگر آگیا تو ٹکڑے کردوں گا اس کے ۔،،
٬٬ نہیں ابا ایسا مت کہو ۔ ۔ ۔ کلو کا قصور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ باول میں یہ آگ تولگنا ہی تھی ۔،، رحمان بولا ۔٬٬ کلو بڑا سمجھدار ہے اور ہندوﺅں کی رگ رگ سے واقف ہے اور ۔۔ ۔
٬٬ سراجو بھائی ۔ ۔ اور سراجو ۔،، حویلی کے دروازے پر پھر کسی نے دادا ابا کو پکارا اور رحمان کی بات ادھوری رہ گئی۔
(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 تحریر : اعجاز احمد نواب بیسویں صدی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے