سر ورق / مضامین / لباس…. محمدیاسین صدیق ۔

لباس…. محمدیاسین صدیق ۔

وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو

محمدیاسین صدیق ۔

وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو(القرآن)

اللہ تعالیٰ نے خاوند سے کہا کہ بیوی تمہارے لیے لباس ہے اور بیوی سے کہا کہ خاوند تمہارا لباس ہے۔قرب کا اس سے بہتر تصور، مثال ،تشبیہ کوئی اور مذہب ،فلسفی ،سکالر ،ازم یا کوئی اورمعاشرہ پیش نہیں کر سکا۔افسوس میاں بیوی کا اتنا قریبی تعلق ہونے کے باوجود دیکھا گیا ہے کہ اکثر جوڑے خوش نہیں ہوتے ۔اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ایک وجہ سب پر بھاری ہے وہ ہے دین اسلام سے دوری اپنے فرائض سے لاعلمی یا اس پر عمل نہ کرنا۔جس کا سبب آخرت کے خوف کا نہ ہونا ہے ۔ دیں اسلام نے یعنی اللہ اور اس کے رسول نے جو میاں بیوی کے حقوق و فرائض بتائے ہیں ان سے دوری ،ان پر عمل نہ کرنا ہے ۔مقام افسوس ہے اکثر میاں بیوی ان سے واقف نہیں ہوتے ۔اور جو واقف ہوتے ہیں ۔انہیں اس کا فکر نہیں ہوتا کہ اللہ کو کیا جواب دینا ہے ؟حالانکہ اس دنیا میں سدا کون رہا ہے ۔اللہ سبحان وتعالی نے یہ دنیا ،انسان یوں ہی نہیں بنا دیئے ۔اور نہ ہی ان کو بے مہار چھوڑا ہے ان سے حساب لیا جائے گا ۔بات ہو رہی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ میاں ،بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں لباس انسان کے کس کس کام آتا ہے۔ اس حساب سے میاں اور بیوی پر کون کون سے حقوق و فرائض ،ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔اور ہم کیا ان کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں کر رہے توآج سے ان پر عمل کریں ۔تاکہ دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنور جائے ۔اللہ کی خوشنودی حاصل ہو اور شیطان مردود کو ناکامی ہو ۔جسے سب سے زیادہ خوشی میاں بیوی کی ناخوشی سے ہوتی ہے ۔

لباس ہمارے کس کس کام آتا ہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہے ” ’ اے آدم کی اولاد، ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے ! ‘ (سورہءاعراف، آیت نمبر26)

؟لباس عیب چھپاتا ہے ۔ ؟

لباس انسان کے عیوب کو چھپاتا ہے ۔ اسی طرح مرد وعورت کو بھی چاہیے ایک دوسرے کے عیوب اور رازوں کی حفاظت کریں۔

لباس جسم کے عیب چھپاتاہے اس کے باوجود کہ کہ وہ جسم کے ایک ایک انگ کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہوتا ہے ۔ لیکن وہ انسان کا راز دار بن کر رہتا ہے ۔ انسان کی کمزوریوں کو دوسروں کی نگاہوں سے چھپائے رکھتا ہے ۔یہی مزاج زوجین کا ایک دوسرے کے بارے میں ہو نا چاہئے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہوتے ہیں ۔کیونکہ وہ ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور اگر وہ ایک دوسرے کو بے آبرو کرنا چاہیں تو وہ جس آسانی کے ساتھ وہ ایسا کرسکتے ہیں ۔ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔ جب میاں ،بیوی ایک دوسرے سے ناراض ہو جائیں ،مخالف ہوجائیں ،عدالت چلے جائیں،الگ ہو جائیں تو دیکھا جا سکتا ہے کس طرح ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ بیوی اپنے خاوند کی اکثر باتیں اپنی والدہ کو بتاتی رہتی ہے ۔گھروں میں لڑائی کا ایک یہ بھی سبب ہے ۔کبھی خاوند نے برا بھلا کہ دیا ،کوئی دل دکھانے والی بات کہ دی ،یا کوئی جانے انجانے میں ،وقتی طور پر کوئی ایسی بات کہ دی تو بیوی فوراََ یا جب موقع ملے اپنے میکے ضرور بتاتی ہے ۔اسی طرح میاں بھی اپنی والدہ کے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔

۔اللہ تعالی نے قرآن پاک میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے چنانچہ ایک دوسرے کے لئے لباس ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کا عیب چھپائیں۔ اس بات کو سمجھیں کہ ان کا سب سے زیادہ قریبی تعلق آپس میں ہے ۔ایک بات اس موضوع سے اور جڑی ہے میرے خیال میں اکثر گھروں میں لڑائیاں اسی سبب سے ہیں ۔

 اگر شریک زندگی ،شریک سفر ایک دوسرے کے عیب چھپائیں۔ اس بات پر عمل کرنا اپنے اوپر فرض سمجھیں تو شیطان کو منہ کی کھانی پڑے گئی۔ وہ اس گھر میں سرنگ لگا کر خوش ہونے کا موقع نہ پائے گا ۔لیکن اگر بیوی خود ہی اپنے خاوند کی خامیاں اپنے میکے بیان کرنے لگے ۔یا خاوند خود ہی اپنی بیوی کی خامیاں دوسروں کو بتاتا رہے تو انہوں نے ایک دوسرے کی نہیں خود اپنی خامیوں،عیبوں سے پردہ اٹھا یا ۔ہمارے ہاں ایک دونوں میں بہت بڑی خامی دیکھنے میں آتی ہے کہ ایک دوسرے کی دس خوبیاں نظر نہیں آتیں ایک خامی نظر آتی ہے۔ کاش اس بات کو دونوں شریک زندگی سمجھ سکیں ۔وہ ایک دوسرے کے عیوب کو چھپائیں ۔ ان کی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالیں اور ایک دوسرے کی عزت و آبرو کی حفاظت کا سامان بنیں ۔ خود ایک دوسرے کا احترام کریں اور کسی دوسرے (جو اپنے ہی ہوتے ہیںلیکن لباس نہیں ہوتے ان )کو بھی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے سامنے آپ کے شریک زندگی کے بارے میں کوئی گھٹیا جملہ کہ سکے ۔دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لباس بن کر خامیاں چھپائیں ،خوبیاں اجاگر کریں ۔اور کسی سے بھی اپنے شریک زندگی کے بارے میں غلط بات نہ سنیں ۔ جس طرح لباس انسان کے ظاہری عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے مردو عورت بھی ایک دوسرے کے لیے لباس کے مانند ہیں ان میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی پردہ پوشی کریں۔اگر لباس پردہ پوشی نہ کرے تو ہم اسے لباس نہیں سمجھتے اسے پہن کر کسی محفل میں نہیں جا سکتے ۔تو ایسے لباس کو ہم ضائع کر دیتے ہیں ۔چھوڑ دیتے ہیں ۔اس کی قدر نہیں کرتے ۔بہت سے خاوند اور بیویاں اپنے شریک زندگی کی نظروں سے ،دل سے اسی سبب سے اتر جاتے ہیں ۔

 ؟ لباس موجب زینت ہے ؟

لباس جسمانی عیب چھپاتا ہے ۔انسان لباس زیب و زینت کے لیے بھی پہنتا ہے۔ ،لوگ ہمارا ظاہر(لباس) ہی تو دیکھتے ہیں ۔لباس ہماری شخصیت کی پہچان بھی ہوتا ہے ۔اس سے ہمارا وقار ،سلیقہ ،نفاست ظاہر ہوتی ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے لباس ہیںان کو ایک دوسرے کے لیے موجب زینت بھی ہونا چاہیے ۔جیسا کہ اسلام میں بیوی کو اپنے خاوند کے لیے بننے سنورنے کا حکم ہے ۔خواتین لباس کے معاملے میں بڑی حساس ہوتی ہیں ۔لیکن اکثر خواتین اپنے خاوند جسے اللہ نے ان کا لباس کہا ہے حساس نہیں ہوتیں ۔ان کے لیے موب زینت نہیں بنتی۔بیوی کو اپنے شوہر کے لئے بناو ¿ سنگھار کا اظہار اس وقت کرنا چاہیے جب شوہر کسی جگہ سے گھر واپس آئے ۔ جب بھی شوہر گھر سے باہر ہو اور جب واپس آئے تو عورت کو بہت ہی پیار بھرے ، مشفقانہ اور والہانہ انداز میں استقبال کرنا چاہیے ۔ اچھا لباس پہن کر، بناو ¿ سنگھار، میک اپ کر کے جب بیوی ایسا کرے گی تو شوہر اس سے ہمیشہ خوش رہے گا۔ اور کسی دوسری عورت کی طرف مائل نہیں ہو گا۔افسوس یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں عورت جب باہر جانے لگتی ہے تو خوب بناو ¿ سنگھار کرتی ہے ، میک اپ کرتی ہے ، اور گھر کے اندر شوہر کے سامنے صحیح لباس بھی نہیں پہنتی ہیں جو کہ حرام ہے ، شریعت نے عورت کو اپنے خاوند کے لئے میک اپ کی اجازت دی ہے ، دوسروں کے لئے نہیں۔

؟ لباس تحفظ فراہم کرتا ہے؟

لباس انسان کو سردی اور گرمی سے بچاتا ہے ۔ اسی طرح نیک ہمسر انسان کو گناہوں کی گرمی اور سردی سے بچاتا ہے ۔لباس سردی گرمی سے تحفظ فراہم کرتا ہے ۔۔میاں بیوی کو دوسرے سب رشتے داروں کے سامنے اپنے زوج کی حفاظت کے لیے ڈھال بن جانا چاہیے ۔

لباس موسم کی سختیوں سے بچاتا ہے ۔سردی ہو یا گرمی ہولباس کا کام ہے حفاظت کرنا۔میاں بیوی کا بھی یہی کام ہے کہ وہ خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے کام آئیں ۔ وہ صرف سکھ کےساتھی نہ ہوں ،۔بلکہ زندگی کے دکھوںمیں بھی ایک دوسرے کے رفیق ہوں ۔دیکھا گیا ہے جب خاوند پر برا وقت آتا ہے تو بیوی اسے چھوڑ دیتی ہے ۔چھوڑ کر نہ جائے تو ساتھ رہ کر بھی طعنوں سے اس کی زندگی برباد کر کے رکھ دیتی ہے ۔اسی طرح بعض خاوند برے وقت کا سبب ہی اپنی بیوی کو قرار دیتے ہیں ۔اسے منحوس کہتے نہیں تھکتے ۔بیوی ایسا کر کے ناشکری کرتا ہے تو خاوند بھی اپنی ذمہ داری پوری کرتا نظر نہیں آتا۔

 اللہ پاک نے میاں بیوی کو اشارہ دیا ہے کہ خاوند اپنی بیوی کی حفاظت کرے بیوی اپنے خاوند کی حفاظت کرے ۔(حفاظت بمعنی لباس)شوہر کے رشتہ دار میاں بیوی کی زندگی میں اس طرح داخل ہوتے ہیں کہ بیوی کی زندگی تلخ ہوجاتی ہے۔ بعض مرتبہ بیوی کے ماں باپ یا اس کے بہن بھائی اس طرح دخل دیتے ہیں کہ خاوند ان سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔۔لباس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حفاظت کرے ۔اسلام میں بیوی کو حکم ہے کہ اپنے خاوند کی تابعدار رہے۔اس کی اجازت کے بناں اپنے میکے ملنے نہ جائے حتی کہ اگر خاوند ماں باپ کو گھر آنے سے روک دے تو ضد نہ کرے ۔اس کی رضا میں خوش رہے ۔خاوند کو بھی چائیے کہ بلا وجہ بیوی کو اس کے میکے والوں سے ملنے سے نہ روکے ۔لیکن اگر گھر میں فساد کا ڈر ہو تومضائقہ نہیں ہے ۔دونوں کے ماں باپ یا بہن بھائیوں کی طرف سے کوئی بھی کسی ایک کے بارے میں دل شکنی کی بات ہو تو ان کو چائیے ڈھال بن جائیں ۔اس بات کا یہ مظلب نہ لیا جائے کہ اپنے رشتہ داروں سے گستاخی کی جائے ۔بیوی کے رشتہ داروں کی طرف سے اگر کوئی ایسی بات ہو جس سے شوہر کی عزت مجروح ہو تو بیوی ان کے سامنے کھڑی ہوجائے۔ صا ف کہ دے کہ میں اپنے خاوند کی توہین کسی بھی طرح برداشت نہیں کروں گی ۔

 میاں اور بیوی کو چاہیے کہ ان کے رشتے دار (ماں ،بھائی ،باپ وغیرہ) بھی اگر میاں کے سامنے اس کی بیوی کا کوئی عیب ،خامی ،غلطی ،کوتاہی ،بیان کریں تو خاوند کو اس کا دفاع کرنا چاہیے ۔ ایسا بیوی کو بھی کرنا چاہیے جب اس کے والدین ،بھائی یا بہن کسی بات میں اس کے خاوند کا مذاق اڑائیں ،طعنہ دیں ،کوئی خامی بیان کریں تو بیوی کو سختی سے دفاع کرنا چاہیے کہ وہ اچھی طرح سمجھ جائیں ان کی بیٹی ،بہن اپنے خاوند کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتی ۔ایسا اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے ۔ایسا ہی خاوند کو کرنا چاہئے ۔اس بات کو یاد رکھیں یہ جو آپ کے رشتے دار ہیں ایک وقت آتا ہے ۔سب اپنے اپنے گھر کی سوچتے ہیں ۔بیوی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کی رضا خاوند کی رضا میں ہے ۔وہ ماں باپ کی بات ایک حد تک مانے ۔جہاں سے گھر میں خرابی کی صورت نکل رہی ہو وہ ماننے سے انکار کر دے ۔اس بات کا مشاہدہ ہے کہ مائیں اپنی بیٹی کو خاوند سے مقابلہ کا درس دیتی ہیں ۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہجو مائیں سسرال میں بیٹیوں کا پیچھا نہیں چھوڑتیں، انھیں ہدایات دیتی رہتی ہیں ، ان کی بیٹیوں کے گھروں میں کبھی خوشیاں نہیں آتی ۔

؟ لباس سے تسکین، سکون و اطمینان اور خود اعتمادی حاصل ہوتی ہے ؟

بیوی کو اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا ہے ۔اس لیے سکون کی زیادہ ذمہ داری بیوی پر ہی عائد ہوتی ہے ۔اور یہ بات ہم اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں گھروںمیں بے سکونی کی وجہ زیادہ تر عورت ہی ہوتی ہے۔ عورت اگر چاہے تو گھر میں سکون و راحت قائم رکھ سکتی ہے ۔بیوی کو چاہیے کہ اپنے لباس ،چال ڈھال ،اندازو زیبائش اپنے خاوند کے لیے کرے ۔(مفہوم حدیث ہے) اس کا خاوند اسے دیکھے تو ذہنی و قلبی سکون حاصل کرے ۔ایساحکم تو اسلام دیتا ہے لیکن شیطان کو یہ کہاں پسند ہے کہ کسی گھر میں سکون ہو سکھ ہو اس لیے شیطان کی غلام بیویاں ہر وقت اپنی زبان پر ناشکری ،خاوند کو طعنے ،لڑائی ،شکوے شکایت کے دفتر کھولے رکھتی ہیں اسی طرح بہت سے خاوند گھر سے باہر تو بڑے حلیم ہوتے ہیں ،بڑے نرم مزاج ،صلح جو لیکن گھر والوں کے ایک خوف کی علامت بن جاتے ہیں ۔بیوی پر حکم چلانا اپنا فرض خیال کرتے ہیں تو گھر میں سکون کیسے حاصل ہو سکتا ہے میاں بیوی کے لیے اور بیوی کو اپنے میاں کے لیے زیادہ سے زیادہ سکون کا باعث بننا چاہیے ۔لباس انسان کو سکون فراہم کرتا ہے ۔لباس تنگ ہو، جسم پر پھنسا ہوا ہو تو نہ صرف برا لگتا ہے بلکہ پہننے والے کے لیے بھی تنگی اور گھٹن کا باعث ہوتا ہے ۔اگر میاں یا بیوی تنگ مزاج ہو تو زندگی تنگی اور گھٹن میں بسر ہوتی ہے ۔بد نما لباس، اچھے خاصے آدمی کی شخصیت کو بد صورت بنا دیتا ہے ۔زوج میں سے ایک بھی بدکردار ہو تو ساری زندگی بدصورت بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے گندا لباساگر کسی صاف ستھرے انسان نے پہن رکھا ہو، اسے بھی لوگ گندا ہی سمجھتے ہیں۔میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے پر لوگوں کی باتوں کا کیچڑ نہ پڑنے دیں ۔کیونکہ اچھے خاصے نظر آنے والے لباس پر اگر کیچڑ کے چھینٹے پڑ جائیں تو ہم اسے دھوتے ہیں ۔

 جنسی خواہش بھی تسکین کا ذریعہ ہے ۔ شادی کے بعد ایک عورت کا حق ہے کہ اس کی جنسی خواہش کی تکمیل کی جائے ۔ مرد اگراس حق کو ادا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اسلام عورت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس سے اپنا رشتہ ختم کرلے ۔اسی طرح عورت کا بھی فرض ہے کہ اپنے مرد کی جنسی خواہش پوری کر کے اسے تسکین دے ۔ عورت یامرد کو اگر گھر میں تسکین حاصل نہ ہوتو وہ ہ گھر سے باہر ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں ۔جس سے معاشرے میںفساد پیدا ہوتا ہے ۔مردو عورت کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی بھی ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔

؟ لباس جسم کے سب سے قریب ہوتا ہے؟

 لباس انسان کے سب سے قریب ہوتا ہے ،لباس بیرونی آلائش سے حفاظت کرتا ہے ،لباس کا نرم ،آرام دہ ،نہ زیادہ تنگ نہ ڈھیلا ڈھالا ہونا چاہیے ایسے ہی میاں اور بیگم کو ایک دوسرے کے لیے ہونا چاہیے ایک دوسرے کو دیکھیں تو سکون ملے ،تھکاوٹ دور ہو ،غم ،دکھ ،پریشانی میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنے والے ہونا چاہیے ۔ایک کو پریشانی ہو ،نیند نہ آئے ،تو دوسرا بھی ساتھ جاگے ،ساتھ سوچے ،پریشان ہوکوئی تو ہو دونوں ہوں ۔خوش ہوں تو ایک ساتھ ۔معاشرے میں اکثریت ایسے جوڑوں کی ہے جو پوری زندگی مقابلہ میں گزارتے ہیں ۔ایک دوسرے کے قریب رہ کر بھی دل سے دور ہوتے ہیں ۔پوری زندگی منافقت میں گزار دیتے ہیں ۔

؟ لباس کا انتخاب ؟

لباس کو رنگ، جنس اور قیمت میں انسان کے مناسب ہونا چاہیے ۔ اسی طرح شوہر اور بیوی کو بھی ہم کفو اور ان کی شخصیت اور فرہنگ کی آپس میں مطابقت ہونی چاہیے ۔

لباس ایسا ہو جس سے جسم پورا ڈھکا رہے اور مکمل ستر حاصل ہو۔لباس تنگ نہ ہوبلکہ بھرپور اور کشادہ ہو، زیادہ کھلا بھی نہ ہو ۔باریک مختصر لباس شریعت کی نگاہ میں ناجائز ہے ۔اس طرح کا لباس پہننے والی عورتو ںکو حدیث ﷺمیں لباس پہننے کے باوجود برہنہ قرار دیا گیا ہے اور جنت سے محرومی کی وعید سنائی گئی ہے ۔ (مسندالفردوس)

بیوی کا اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہونا کتنا ضروری ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے کیوں فرمایا تھا کہ بیوی کے انتخاب میں اس کی دین داری کو اہمیت دو۔اس کے حسن ،خاندان،اور مال کو نہ دیکھو بلکہ اس کے تقوی کو اس ک دین اسلام کی تعلیمات سے آراستہ ہونے کو دیکھو ۔ نبی کریم ﷺ کے بہت سے ارشادات اس بات پر ہیں کہ دین دار بیوی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور شادی بیاہ میں دین داری کو ہی ترجیح دینی چاہیے ۔دین دار بیوی خوف خدا رکھتی ہو گئی ۔اسی طرح اللہ کا خوف رکھنے والے شوہر کا انتخاب ہونا چائیے ۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم کو مانتے ہیں ۔اللہ نے جو میاں یا بیوی کے فرائض رکھے ہیں ان کے مطابق ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں ۔رسول اللہ ﷺ نے نیک بیوی کو خوش بختی اور بری بیوی کو بدبختی کی علامت قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایاخوش بختی کی علامت یہ ہیںنیک بیوی، کشادہ گھراور اچھی سواری۔ اور آدمی کی بدبختی کی علامات یہ ہیں بری بیوی، تنگ گھراور ب ±ری سواری۔

ازواج میں سے اگر کسی ایک میں بھی غرور و تکبر پایا جاتا ہو ۔زندگی کو خوشی سے گزارنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ازدواجی خوشیاں ختم کرنے والی ایک وجہ غرور و تکبّر بھی ہے ۔غروروتکبّر کے بہت سارے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس بری عادت کے باعث انسان تنہا رہ جاتا ہے ۔شیطان نے سب سے پہلے تکبر کیا تھا ۔جس وجہ سے اسے لعنتی کہا جاتا ہے ۔اور غرور و تکبر کرنے والے شیطان کے پیروکار ہی ہوتے ہیں ۔شیطان کسی کا گھر بستے دیکھ نہیں سکتا یہ ہی خوبی ان میں ہوتی ہے جو دوسروں کے گھروں کو برباد کرتے ہیں ۔لباس وزیبائش غرور وتکبر کا مظہر نہ ہو۔حدیث ﷺکے مطابق رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر رکھنے والا شخص جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سرسید کے سماجی افکارکی عصری معنویت… غلام نبی کمار

سرسید کے سماجی افکارکی عصری معنویت                 غلام نبی کمار                 روشن خیالی،وسیع النظری،اولوالعزمی اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے