سر ورق / افسانہ / پھاٹک والا: اشرف گِل۔

پھاٹک والا: اشرف گِل۔

پھاٹک والا:

اشرف گِل۔

      اللہ دتا کا خاندان ایک چھوٹے سے گاوں میں تین چار پشتوں سے آباد تھا۔اس خاندان کی عورتیں زمینداروں کے گھروں میں اور مرد کھیتوں میں مزدوری کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔اسکا باپ دادا بھی مزدوری کے بے لگام گھوڑے کی باگ ڈور اللہ دتے کے والد کے ہاتھ میں پکڑا کر رخصت ہو گئے۔اللہ دتے کے باپ کے ہاتھوں ا نجانے میں نہ جانے کونسا کسی نیک دل شہری کا کام سنورا۔ کہ اس نے اللہ دتے کو شہر بلا کر اپنے دوست ریلوے گارڈ سے سفارش کرکے اسکو ریلوے میں پھاٹک مین لگوا دیا۔اللہ دتے نے گاو¿ں چھوڑ کر اپنی ڈیوٹی والی جگہ کے قریب رہائش کرلی۔ گاوں میں اس کا ہم عمر چودھری شیر محمد بھی جو دو تین زمینی مربعوں کا مالک تھا۔ اللہ دتااس کے ساتھ گاوں کے پرائمری سکول میں پڑھا ہوا تھا۔ جس سے ان دونوں کی دوستی تو تھی۔ مگر چودھری کے دماغ میں چودھراہٹ کا کیڑا سرسراتا رہتا تھا۔ اور اس انا کی بنا پر چودھری اسکو کسی نہ کسی بیگار میں الجھائے ہی رکھتا تھا۔ اللہ دتے کو غلامی اور شیر محمد کو چودھراہٹ وراثت میں ملی تھی۔ شیر محمد کی اکڑکا بوجھ چار عدد گدھے اٹھا کر چلتے تھے۔ ایسے ہی اس کے بچے بے جا ہی غریبوں پر رعب طاری کرکے ان کو احساس کمتری میں مبتلا بھی رکھتے تھے۔ کسی کی مجال بھی نہیں تھی۔ کہ ان بے لگام گھوڑوں کے مونہہ میںدہانہ چڑھاتا۔ اگر کوئی بھولے سے ان کے باپ سے شکائت کرتا۔ پھر الٹی کھال شکائت کنندہ ہی کی کھنچوائی جاتی۔چودھریوں کے ایسے وطیرے کو انگریزوں کی شہہ تھی۔ جو انہوں نے غریبوں کو دبانے کیلئے وضع کئے ہوئے تھے۔ اور غریبوں کی زندگی تو سہک سہک کر گذارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔کیونکہ ان کی زندگی ان چودھریوں کے رحم و کرم پر منحصر تھی۔ اور کسی کی جراءت نہیں تھی۔ کہ ان مغرور شہہ زوروں سے بگاڑ کر فاقے سے زندگی کو ہمکنار کریں۔

     جس ریلوے پھاٹک پر اللہ دتے کی ڈیوٹی تھی۔ وہ ریلوے لائن ایک پکی جرنیلی سڑک کے ما بین تھی۔ جو دو سٹیشنوں کے درمیان پر بنائی گئی تھی۔ یہ پھاٹک چھ میل کے فاصلے پر دو سٹیشنوں کے درمیان واقع تھا۔ جب گاڑی ایک سٹیشن سے روانہ ہوتی تو ہر سٹیشن سے الارم بجا دیا جاتا۔ الارم کے بجتے ہی پھاٹک کو ہر حالت میں بند کرنا پڑتا تھا۔ وہ پھاٹک چونکہ لیور کی مدد سے ہاتھوں سے بند کرنا اور کھولنا ہوتا تھا۔ اسلئے یہ ڈیوٹی کافی سخت تھی۔ اور ایک پھاٹک پر دو ملازموں کی بارہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ اور وہ بھی ہر وقت چوکس ہو کر وہاں حاضر رہنا پڑتا تھا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا۔ کہ جلد باز لوگ پھاٹک بند ہونے کا انتظار ہی نہیں کرتے تھے۔ اور اپنا موٹر سائیکل ۔ گاڑی۔ بیل گاڑی۔ گدھا گاڑی ریل لائن کے بیچ میں لے آتے۔ پھر ان کو کئی جتن کرکے لائن کو کلیئر کرنا پڑتا۔ مگر کبھی بھی کسی جانی نقصان کا اندیشہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا۔ نوکری تو تھی۔ مگر نہائت ہی ذمیداری کی۔اور اللہ دتا بھی نہائت دیانتداری سے سرانجام دیتا تھا۔ اور اپنے تین بچوں اور بیوی کے خاندان کو احسن طریقے سے پال رہا تھا۔ کبھی کبھار گندم چاول اسے چودھریوں کے ہاں سے ہی دستیاب ہو جاتے تھے۔ جن کو وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران ان کو ان کی زمین پر آتے جاتے سلام کرتارہتا۔ اور ان کو کسی وقت حقے میں چلم بھی رکھ کر پلاتا۔ اور چودھری ویسے ہی اسکی عزت کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے ہاں نوکری بھی نہیں کرتا تھا۔وہ توبس ان کے گاو ¿ں کا بندہ تھا جو ایک سرکاری نوکری کر رہا تھا۔ اور کسی قسم کی نوکری کرنے والا گاو ¿ ں کے لوگوں میں عزت کے قابل سمجھا جاتا تھا۔کیونکہ چودھریوں کی چاکری کرنے سے کسی دفتر میں چپراسی کا کام بہتر تھا۔ زمینداروں کی نوکری تو ان کی غلامی کے مترادف تھی۔اللہ دتے کی نوکری چاہے معمولی تھی۔مگر اس کے کنبے کے اخراجات پورے کر تی تھی۔

      اللہ دتے کے تین بچوں میں سب سے بڑا محمد یونس پڑھائی میں نہائت ہوشیار تھا۔ اور ہمیشہ اپنی خدا داد صلاحیت کی بنا کر پہلی جماعت سے میٹرک تک معمولی فیسوں کے بل بوتے پر پاس کر گیا۔ مگر وہ اب کالج جانا چاہتا تھا۔ اور اپنے گھر کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اور یہ تو تبھی ممکن تھا۔ جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ مگر وہ اپنے باپ کی کمائی کے بل بوتے پر کالج نہیں جا سکتاتھا۔ اس نے اپنی قابلیت کی بنا پر وظیفے کا امتحان دیا۔ اور اس کے تمام اخراجات کا بندوبست اس وظیفے کی بدولت پورا ہو گیا۔ اب اسے فیس کیلئے اور ہوسٹل میں رہنے کیلئے پیسوں کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ضرورت تھی۔ تو انتھک محنت کی۔ جس سے اس کا وظیفہ برقرار رہتا۔ اور اس کی تعلیم میں کوئی خلل نہ پڑنے دیتا۔ خیرکالج میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے پروفیسروں کا بھی مقبول نظر ہو گیا۔ اور پروفیسر لوگوں نے اسے آگے تعلیم جاری رکھنے کو کہا۔ مگر اس نے ان سے اپنی ناداری کے بارے بتایا۔ اس کی قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سبھی پروفیسروں نے مل کر اسکی مدد یوں کی۔ جو جس جس قسم کے تعلیمی وظائف جہاں جہاں سے بھی دستیاب تھے۔ انہوں نے یونس کی جانب سے درخواستیں بھجوا دیں۔اور اسکی قسمت نے اسکا ساتھ دیا۔تمام وظائف منظور ہوتے چلے گئے۔ اس نے میڈیکل کالج میں جانے کیلئے ایک خاص امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کرلیا۔لہٰذا اس کو ایک میڈیکل کالج میں داخلہ بھی اپنے آپ ہی اپنے امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کے بل بوتے پر مل گیا۔اور اسکو میڈیکل کالج میں جانے کیلئے اس سے بھی بڑے شہر کا رخ کرنا پڑا۔ جہاں اسے ہوسٹل میں کسی دوسرے دوست کے ساتھ ایک کمرہ بھی مل گیا۔

      چند سالوں کے بعد اب محمد یونس نے اپنے نام پر ایم۔بی۔بی۔ایس۔ کی ڈگری کا لیبل بھی سجا لیا تھا۔ اور اپنے گاو ¿ں کے قریبی بڑے شہر میں اپنا پرائیویٹ کلینک بھی کھول لیا تھا۔ لڑکا سمجھدار تھا۔ اور اسکو مرض کی تشخیص میں بھی کافی مہارت ہو گئی تھی۔ اور اسکی شہرت شہر کے چاروں کونوں میں پھیلتی جا رہی تھی۔ اور اس کی پیشے میں قابلیت اور اونچے اخلاق کی خاصیت سے لوگ مزید متاثر ہوتے گئے۔ اس کے گاو ¿ں کے لوگ تو اس کی تعریف کے گن کاتے نہیں تھکتے تھے۔اور بڑے فخر سے اس کا نام لیکر اس کے پاس آتے اور علاج معالجہ کرواتے تھے۔ اسکو اپنے باپ کی وجہ سے اپنے گاو ¿ں کے لوگوں کی حیثیت کا بھی کافی اندازہ تھا۔ اور وہ غریبوں اور ناداروں کا علاج مفت ہی کر دیا کرتا تھا۔ نیز ان کو اپنے کلینک سے دوائیاں بھی مفت مہیا کر دیتا تھا۔ جس سے اس کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا گیا۔ اس کا باپ بھی ریٹائر ہو چکا تھا۔ اور بڑھاپے کی وجہ سے انواع کی بیماریوں میں گرفتار ہو کے آہستہ آہستہ اللہ دتا اللہ کو پیارا ہو گیا تھا۔ بمصداق فرمان ربّی: ’ کُلُ و نفسُ ¾ ذائقة المَوت‘۔۔۔ محمد یونس اب اپنے بال بچوں کی پرورش میں مشغول تھا۔ اور اپنی ماں جو ابھی زندہ تھی۔ اسکی دیکھ بھال بھی متواتر کر رہا تھا۔ اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی ان کی من پسند کے کاروبار سیٹ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ ڈاکٹر نے چونکہ اپنے والد کو اتنی غریبی کے عالم میں دن گزارتے ہوئے اور بچوں کو پالنے میں صبح شام میں کچھ فرق نہ سمجھتے دیکھا تھا۔ اسلئے اسکو بھوکے کی بھوک ضرورت مند کی ضرورت کا احساس تھا۔ اور ہر جانب سے مال و دولت اور لوگوں کی دلی دعاو ¿ں میں بھی روز افزوں اضافہ کئے جا رہا تھا۔ پڑھائی نے اس کے اخلاق کو اور سر بلند کر دیا تھا۔خود داری سے کبھی دستبردار نہیں ہوا تھا۔اور نیک و بد کی تمیز سے واقف تھا۔

      ادھر چودھری شیر محمد جو ڈاکٹر کے باپ کا دوست اور ہمدرد بھی تھا۔ اس کے بیٹوں نے امارت کی فراوانی کے سبب بدتر و بر تر کی تمیز سے بے بہرہ ہو کر اتنی بے راہروی اختیار کی تھی۔ کہ گاو ¿ں کی نوجوان لڑکیوں کو ان کے گھر والوں نے تنبیہہ کی ہوئی تھی۔ کہ جب بھی وہ بگڑے ہوئے چودھریوں کے کسی لڑکے کو کسی راہ گذار میں دیکھیں تو کنارہ کشی کریں۔ لڑکیاں تو خود ان آوارہ منشوں کا نام ہی سن کر کانپ اٹھتی تھیں۔وہ سر عام بے خوف شراب کی بھٹھیاں چلاتے تھے۔ اور دن رات نشے کی حالت میں ادھر سے ادھر بھٹکتے پھرتے تھے۔ بے مہار اور بے لگام ہو چکے تھے۔ اور زمین بھی بیچ بیچ کر اپنی زندگی کو خراب اور خاندان کی نمود کو دھبا لگانے میں محو تھے۔مگر اپنی چودھراہٹ کی پگڑی کو ابھی تک مائع لگا کر شملا اونچا رکھنے کی بیکار کوشش میں اپنے آپ کو مبتلا رکھتے تھے۔وہی لڑکے جو محمد یونس کے ہم عمر ہوا کرتے تھے۔ چاہے محمد یونس اب گاو ¿ں کے سکول میں نہیں پڑھتا تھا۔ مگر کبھی کبھار ان چودھریوں کے لڑکوں سے اس کی اچانک مڈھ بھیڑ ہو جاتی۔ تو وہ اس کو ایک کمین برادری سے متعلق ہونے پر کبھی بھی طعن و طشنیع سے نہیں چوکتے تھے۔ اب وہ آوارہ مویشیوں کی طرح بھٹکتے پھرتے تھے۔اور جب کسی اور گاو ¿ں میں جا کر کسی کی کھرلی میں مونہہ ڈالتے۔ تو پٹوائی بھی کرواتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنے باپ شیر محمد کی بھی نہیں سنتے تھے۔اور جہاں جہاں بھی شیر محمد جاتا۔لوگ اس کے ساتھ افسوس کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کرتے تھے۔ والدین کو مجبوراََ ان کے ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ کوئی اور پناہ گاہ نہیں تھی۔ جہاں وہ جا کر گوشہ نشینی اختیار کر لیں۔جب کہ محمد یونس کے ایام جوانی میں وہ اللہ دتے کو کہا کرتے تھے۔ یار دتے۔ تم اپنے لڑکے کو پڑھا کر کیا کروگے بھلا؟ چلو اگر تمہارا لڑکا پڑھ بھی گیا۔ تو زیادہ سے زیادہ تم اسے اپنے اعلیٰ افسروں کی خوشامداور منت سماجت سے ریلوے میں ہی کہیں لگوا دو گے۔ اور وہ شاید اپنی تعلیم کی وجہ سے سٹیشن ماسٹر بن جائے۔ اس سے کیا ہوگا۔ آنے جانے والی گاڑی کو لال اور ہری جھنڈی ہی دکھلاتا رہیگا تمام عمر ۔ مگر جب اللہ دتا پوچھتا۔ اگر چودھری جی۔ میں اسے پڑھائی میں مشغول نہ رکھوں تو کیا کرواو ¿ں۔ تمہاری چاکری کے سوا اور کیا کریگا بےچارہ؟ چودھری بولتا۔ کہ ہماری چاکری نہ کروانا۔ مگر اپنی تھوڑی سی تنخواہ کے بہت سارے پیسے اسکی پڑھائی پر خرچ کر رہے ہو۔ اور خود مر مر کر جینے کا کیا فائیدہ؟ اللہ دتا بولتا۔ چودھری صاحب۔ تمہارے بیٹے اگر نہ بھی پڑھے تو ان کو کمائی کی فکر ہی کیا ہے۔ وہ تو زمین کا پیٹ چاک کرکے یا کروا کے اپنی زندگیاں اچھی گذار سکتے ہیں۔ مگر میرے غریب کے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ اس اولاد کے سوا۔ چلو مجھے بچوں کی تعلیم کو جوا ہی سمجھ کر کھیلنے دو۔ پھر چودھری کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔ ہر انسان کو اپنی سوچ کے مطابق ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ لاہور جانے کا راستہ تو سبھی بتا دینگے۔ مگر کرایا دینے کو اگر کہو گے۔ تو ہنس کر دکھا دینگے۔ بس۔

     اب جب ڈاکٹر محمد یونس ایم۔بی۔بی۔ایس کا کلینک خوب چلنے لگا۔ تو وہاں اس کو ملازم بھی بڑھانے پڑے۔ اب ایک لڑکا سامنے والے ڈیسک پر سیکریٹری و دیگر دفتری کام کیلئے بھی رکھ لیا۔ پہلے ایک نرس تھی اب ایک اور رکھ لی۔ نیز اس کے ساتھ ایک ان کی ہیلپر بھی۔ محمد یونس چاہے ڈاکٹر بن گیا تھا مگر اس نے اپنے بچپن کی غریبی کو ہمیشہ سامنے رکھا۔ اور جو بھی اس کے گاو ¿ں سے مستحق مریض آتا۔ اس سے کوئی فیس نہ لی جاتی۔ اور علاج بھی مفت ہوتا۔ اور دوائیوں کے سیمپل بھی مفت ہی دے دئے جاتے۔ جس سے اس کی خدا ترسی کے ڈھنڈھورے ہر طرف پٹنے لگے۔ مگر ایسی سہولیات صرف غریبوں یا اسکے باپ کے خاص دوستوں کیلئے ہی تھیں۔ ہر ایک کے لئے نہیں۔ڈاکٹر کا اپنا باپ تو فوت ہو چکا تھا۔ مگر اسکا قریبی دوست چودھری شیر محمد ابھی زندہ تھا۔ جو خود بھی کئی مرضوں کا شکار تھا۔ اور یہاں سے مفت علاج معالجہ کروا کر دوائیاں بھی مفت لیکر جاتا تھا۔ ایک دن چودھری کو دل کی کچھ زیادہ ہی تکلیف ہوئی۔ تو اس کے مضارع اسکو کلینک پر لیکر آ گئے۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا۔ اور انجیکشن دیا۔ جس سے چودھری کا دم میں دم آیا۔چودھری نے ڈاکٹر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ڈاکٹر کو بھی خوشامد اچھی لگی۔ مگر جب چودھری نے ڈاکٹر کے باپ اللہ دتے کی تعریف کی۔ تو یوں: بولا ۔ بیٹا۔ تمہارا باپ(مرحوم) بھی بہت نیک انسان تھا۔ جب بھی میں کبھی اپنی زمین پر جاتے ہوئے سڑک کا پھاٹک بند دیکھتا۔ تو تمہارا باپ میرے پاس آ کر میری کار کا دروازہ کھولتا۔ اور پھر مجھے چلم بھر کر حقہ بھی پیش کرتا تھا۔ اسکی خدمت میں کبھی نہیں بھولا۔ اور تم بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چل رہے ہو۔

     اب ڈاکٹر چونکہ ایک پڑھا لکھا اور سمجھ دار انسان تھا۔ اس نے چودھری سے اپنے مرحوم باپ کی اس قسم کے پیرائے میں تعریف کو تذلیل کے برابر سمجھا۔ اور اسکی دکھتی رگ پھڑک اٹھی۔ اور اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے اپنے نوکر کو بلایا۔ اور اس سے کہاجاو ¿ ’گڈو‘ بازار سے ایک کلو مٹھائی لیکر آو ¿۔ آج میرے چچا نے میرے باپ مرحوم کی تعریف کی ہے۔ اس کا مونہہ میٹھا کروانا ہے۔ مٹھائی آ گئی۔ تو ڈاکٹر نے چودھری کو ایک علیحدہ کمرے میں بٹھا کو اس کے مونہہ میں اپنے ہاتھوں سے لڈو رکھا۔ اور کہا۔ چچا۔ تم نے جس طریقے سے میرے باپ کی تعریف کی ہے۔ اس سے تمہاری گھٹیا سوچ کے سوا کچھ نہیں۔ تم لوگوں کو میرے باپ کی مزدوری بوجوہ مجبوری تو یاد ہے۔ مگر میرے مرحوم باپ کے بچوں نے جو ترقی کی ہے۔ اس طرف کبھی غور نہیں کیا۔ اپنے بچوں کو دیکھو۔ جنہوں نے تمہیں بادشاہ سے فقیر بنا دیا ہے۔ اور تمہارے لئے تمہاری اپنی زمین ہی تنگ کر رکھی ہے۔ تمہیں میرے باپ کی غلامی تو یاد ہے۔مگر اس کے بچوں نے جو ترقی کی ۔وہ نہیں۔ یہ لو باقی مٹھائی۔ اور سارا ڈبا اپنے گھر میں لے جاو ¿۔ تم لوگوں کی سوچ سے مجھے کچھ کام نہیں۔لہٰذا تم اب یہاں نہ ہی آو ¿ تو اچھا ہے۔۔ کیونکہ تمہیں سامنے دیکھکر میں احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔یاد کرو جب تمہارے بچے عیاشی میں غرق تھے تب ہم اپنے آپ کو علم کی تپتی بھٹی میں جھونک رہے تھے۔اس کا تمہیں علم نہیں۔ مگر اپنی چودھراہٹ کی شان کے قصیدے نہیں بھولتے۔ اللہ تمہارا بھلا کرے۔ تم نے آج میرے مرحوم باپ کا ذکر کیا۔چودھری نے بہت آئیں بائیں شائیں کی۔ مگر تیر کمان سے نکل کر زخم چھوڑ چکا تھا۔

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اختری…نادیہ عنبر لودھی 

اختری نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد —— اختری نے گھر کا کام ختم کیا اور سفید تکیہ پوش پر رنگ برنگے  چھوٹے چھوٹے  پھول کاڑ ھنے لگی – اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔ اسے یہ کام جلدی مکمل کرنا تھا اس کے بعد بستر کی چادر مکمل کر ناتھی – اختری یتیم تھی اس کا بچپن بہت کسمپرسی کے عالم میں گزرا تھا -باپ اس کی پیدائش کے چند ماہ بعد چل بسا ۔ ایک بڑ ی بہن تھی اور ایک ماں -ماں محنت مزدوری کر کے ان دونوں کو پال رہی تھی -اکثر گھر میںکھانے کے لیے صرف روٹی ہوتی جب وہ ماں سے پوچھتی اماں !روٹی کس کے ساتھ کھائیں ؟ ماں جواب دیتی :منہ کے ساتھ ۔ جیسے تیسے کرکے اس کا بچپن گزر گیا -وہ بھی ماں کا ہاتھ بٹانے کو سلائی کڑھائی کرنے لگی -لیکن یہ چادر اور تکیے اس کے جہیز کے تھے ان پر لگے ہر ٹانکے میں اس کے ارمان پروۓ ہوۓ تھے ۔ ان کے رنگوںمیں اس کے خواب سجے تھے ۔کنواری آنکھوں میں  سجے ایک شہزادے کے خواب – جس کا ساتھ اس کی زندگی کو دل کش بنادے گا۔ اس کا تعلق مشترکہ ہندوستان کے گاؤں گورداسپور سے تھا -یہ جنوری ۱۹۴۷کا زمانہ تھا – جنگ آزادی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا -اکثر گلی میں سے گزرتے جلوسوں کے نعرے سنتی اختری مستقبل کے اندیشوںسے لاعلم تھی -اس کی عمر چودہ سال تھی -اس نے ہوش سنبھالنے کے بعد صرف گھر کی چار دیواری دیکھی تھی -سیاست کی موجودہ صورت حال سے وہ بے خبر تھی -کبھی اماں سے پوچھتی کہ جلوس کیوں نکلتےہیں تو وہ جواب دیتی :یہ انگریز سرکار سے آزادی مانگتے ہیں – آزادی کیا ہوتی ہے یہ سوال اس کے لیے عجیب تھا کیونکہ وہ ان پڑھ تھی -قرآن اور نماز کی تعلیم ماں نے دی تھی اس کے نذدیک دین کا علم ہی کل علم تھا -دنیاوی علم سے وہ بے بہرہ تھی – دو ماہ بعد اس کی شادی طےتھی – شادی کا دن آپہنچا -ماں نے اپنی حیثیت کے مطابق اسے رخصت کردیا – سسرال میں ساس ،شوہر اور دیور تھے -نئی نئی شادی میں دہکتے جاگتے ارمانوں کا ایک جہان آباد تھا -یہ دنیا اتنی خوبصورت تھی کہ وہ ماضیکی سب محرومیاں بھول گئی -اس کا شریک ِحیات اس کے مقابلے میں بہت بہتر تھا پڑ ھا لکھا اور وجیہہ-اس کا شوہر سرکاری ملازم تھا -وہ ایف۔اے پاس تھا او ر محکمہ ڈاک میں کلرک تھا -خوابوں کے ہنڈولے میںجھولتے چند ماہ لمحوں کی طرح سے گزر گئے – ملک میں فسادات پھوٹ پڑے -حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے تھے -ان کے سارے خاندان نے ہجرت کی ٹھانی -ضرورت کے چند کپڑے گھٹریوں میں باندھے -وہ جہیزجو اس نے بہت چاؤ سے بنایا تھا حسرت بھری نظر اس پر ڈالی اور رات کی تاریکی میں سسرال والوں کے ساتھ گلی کی طرف قدم بڑ ھا دیے -وہ لوگ چھپتے چھپاتے شہر سے باہر جانے والی سڑک کی طرف قدم بڑھنے لگے – دبے پاؤں چلتے چلتے وہ شہر سے باہر نکلے -آبادی ختم ہوگئی تو قدموں کی رفتار بھی تیز ہو گئی -درختوں کے اوٹ میں ایک قافلہ ان کا منتظر تھا – جس میں زیادہ تر خاندان ان کی برادری کے تھے -قافلےچلنے میں ابھی وقت تھا کیونکہ  کچھ اور خاندانوں کا انتظار باقی تھا – اس کی ماں اور بہن پہلے ہی پہنچ چکی تھی – اگست کا مہینہ تھا ساون کا موسم تھا گزشتہ رات ہونے والی بارش کی وجہ سے میدانی علاقہ کیچڑ زدہ تھا -اسی گرمی ، حبس اور کیچٹر میں سب لوگ ڈرے سہمے کھڑ ےتھے -گھٹریاں انہوں نے سروں پہ رکھی ہوئی تھیں اتنے میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی -اللہ خیر کرے -قافلے والوں کی زبان سے پھسلا -چشم زدن میں گھڑ سوار قافلے والوں کے سروں پر تھے – انکے ہاتھوں میں کرپانیں اور سروں پر پگھڑیاں تھیں یہ سکھ حملہ آور تھے -کاٹ دو مُسلوں کو کوئی نہ بچے -صدا بلند ہوئی -لہو کا بازار گرم ہوگیا مسلمان کٹ کے گرنے لگے ان کے پاس نہ تو ہتھیار تھے نہ ہی گھوڑے- جان بچا کے جس طرف بھاگتے کوئی گھڑ سوار گھوڑے کو ایڑ لگاتا اور سر پہ جا پہنچتا – اختری کا شوہر اور دیور بھی مارے گئے ۔چند عورتیں رہ گئی باقی سب مار ے گئے – ان عورتوں کو گھڑ سواروں نے اپنے اپنے گھوڑوں پہ لادا اور رات کی تاریکی میں گم ہوگئے -شوہر کو گرتا  دیکھ کے اختری ہوشوحواس گم کر بیٹھی اور بے ہوش ہوگئی -رات گزر گئی دن کا اجالا نکلا گرمی کی شدت سے اختری کو ہوش آیا تو چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور وہ اکیلی زندہ تھی -اختری نے واپسی کے راستے کی طرفجانے کا سوچا اور شہر کی طرف چل پڑی -وہ ہندوؤں اور سکھوں سے چھپتی چھپاتی اپنے گھر کی طرف جانے لگی – گلی سے اندر داخل ہوئی تو گھر سے دھواں  نکلتے دیکھا – دشمنوں ے گھر کو لوٹ کے بقیہ سامانجلایا تھا نہ مکین رہے نہ گھر – وہ اندر داخل ہوئی اور ایک کونے میں لیٹ گئی – گزرا وقت آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے وقت نے کھل کے رونے بھی نہ دیا -زندگی کیا سے کیاہوگئی -انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ قدموں کی چاپ سنائی دی -آج یہاں جشن مناتے ہیں – تین ہندو ہاتھ میں شراب کی بوتل لیے گھر میں داخل ہوۓ – اختری نے ارد گرد نظر دوڑائی اپنی حفاظت کے لیے کوئی چیزنظر نہ آئی -وہ برآمدے میں بیٹھ گئے اور شراب پینے لگے اختری اندر کمرے کے دروازے کی درز سے انہیں دیکھنے لگی -ان میں سے ایک اٹھا اور بولا :تھک گیا ہوں آرام کرلوں ۔وہ اختری والے کمرے کی طرف بڑھا اختری پیچھے ہٹی اور کسی برتن سے جا ٹکرائ۔ اندر جانے والے نے چاقو نکال لیا – شور کی آواز سے باقی دونوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے :کوئی ہے -یہاں کوئی ہے – لڑکی ہے :پہلے والا بولا باقی دو کے منہ سے نکلا – لڑ کی پہلے والا ہاتھ میں چاقو لے کر اختری کی سمت بڑ ھا اختری پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی باقی دو بھی پہنچ گئے ایک نے چھپٹا مار کے اختری کو پکڑ نے کی کوشش کی ۔اختری نے چاقو والے سے چاقو چھینااور چشم زدہ میں اپنے پیٹ میں مار لیا ۔خون  کا فوارہ ابل پڑا -اختری نیچے بیٹھتی گئی فرش پہ خون پھیلنے لگا اور اس کی گردن ڈھلک گئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے