سر ورق / افسانہ / دوڑ ۔۔۔ صغیر رحمانی

دوڑ ۔۔۔ صغیر رحمانی

دوڑدوڑ

صغیر رحمانی

”آپ کا خون سفید ہو چکا ہے۔“

ڈاکٹر کی حیران کن بات سن کر اپنی جھلاہٹ کو چھپا نے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ ڈالنے کی سعی کی۔ باوجود اس کے میری مسکراہٹ سے خفگی نمایاں ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ میں تغیرات کو سنبھالتے ہوئے ڈاکٹر سے گویا ہوا ” یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک جیتے جاگتے انسان کا خون سفید ہو، آپ کی یہ بات دماغ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔“ اس بات سے میری بیوی کو بھی قدرے حیرانی ہوئی۔ “ ”نہیں جی ، یہ نا ممکن ہے کہ ہم سب کا خون لال ہو اور آپ کا سفید۔“ اس نے بھی ڈاکٹر کی بات کو کھیر ے کی طرح کاٹتے ہوئے کہا اورمیں مزید تائید کے الفاظ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا رہا۔ آئے دن عام طور پر طبقاتی، قومی، لسانی اور رنگ و نسل کے نام پر اندرون ملک و بیر ون ملک جو خون خرابہ ہورہا ہے، نیتجتاََ دکیھا گیا ہے کہ بلا تفریق یکسا ں طور پر سب کا خون لال ہی ہے۔ بہتی ہوئی غلیظ نالیوں میںمل کر رنگ کی تبدیلی ایک فطری عمل ضرور ہے، لیکن انسان کے جسم سے نکلتا ہوا خون اپنی اصلیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بلڈ بنکوں میں مختلف اقسام کے خون کی ایک رنگی کو کیا کہوگے، چرند پرند تک کا خون اپنی لالی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ آج تک کسی نے دیکھا نہ سنا کہ خون سفید بھی ہوتا ہے۔ یہ پہلا اتفاق ہے، بلکہ حیرت ناک انکشاف تھا کہ میرا خون اس ڈاکٹر کے بقول سفید پڑ چکا ہے۔

ہمارے اسٹاف میں بھی حیرانی ہوئی۔ ایک صاحب کچھ نہ کہتے ہوئے بھی کہہ گئے کہ ڈاکٹر نے ضرور کرائے پر ڈگری حاصل کی ہوگی۔بہر کیف مجھے اس سے کیا واسطہ ، ڈگری چاہے جیسے بھی حاصل کی گئی ہو۔ مجھے تو صرف اتنا اعتراض ہے کہ میری رگوںمیںچاہے جیسا بھی خون ہے بس پردہ ہے۔ لیکن ڈاکٹر نے میرے خون کا رنگ ایسا تبدیل کیا کہ سفید ہی کر دیا۔ عام طور سے اب جس کی چہ میگوئیاں بھی ہونے لگی ہیں۔ یہرہی ڈاکٹر کی بات مجھے اس سے کیا واسطہ۔ تنفس کی گھٹن محسوس کرتے ہوئے میں نے اشارتاََ بیوی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔

”وہ دیکھو سڑکیں بھاگ رہی ہیں کہ لوگ دوڑ رہے ہیںجبکہ اس بھاگ دوڑ میں لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہیں زلزلہ آیا ہے یا قیامت ہونے کی خبر کسی نے دیدی ہے جو اس طرح بے تحاشہ سب بھاگے جا رہے ہیں۔میرے دماغ کو جیسے جھٹکا لگا، اور منہ سے بے تحاشہ چیخ نکل کر فضاﺅں میں تحلیل ہو گئی © ارے رکو رکو ٹھہرو میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں میں پیچھے رہ جاﺅںگا مجھے تیز دوڑنا چاہئے تیز اور تیز

جب ہم یہاں آئے تھے تو ایک کھولی سر چھپانے کے لیے کافی تھی لیکن میری تیز روی کا یہ عالم کہ پچھلی فر سو دہ روایات کے حدود سے بہت آگے نکل آیا ہوں۔ اب میرے پاس عالیشان بنگلہتیزرفتار گاڑی اور خاصا بینک بیلنس یعنی زندگی کی تمام آرام و آسائش کے لوازمات مہیا ہیں۔ میرا دفتر، میری میز میرے لیے نہایت لکی ثابت ہوئی تھی۔ شاید مجھ سے پہلے والے کو اس کی قدر و قیمت کا اندازہ نہ ہوا ہو۔ میں جب بھی دفتر آتا پہلے میز کو جھاڑ تا پونچھتا، اگربتی دکھلاتا پھر نمسکار کر تا بعد ازاں فائلوں کو کھولنے کا کام شروع کرتا۔یہ روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔ دفتر کے لوگ میرے عمل سے مجھے قدامت پسند اور دقیانوس جیسے الفاظ سے نواز تے رہتے لیکن اس راز کو میں جانتا تھا کہ اس میز نے میری تیز رفتاری میں کتنی مدد کی تھی۔ یہی میرا دقیانوسی عمل میری خوشحالی کا سبب بنا ہوا تھا۔میں ترقیاتی دور کی ایک نمائندہ حیثیت تسلیم کیا جانے لگا۔ اس کی بدولت میں بہت آگے جا چکا تھا۔اپنے آپ سے بھی آگے۔ یعنی میری رفتار میری دسترس سے بھی آگے نکل چکی تھی۔

شورشور کا لامتنا ہی سلسلہ اور آوازوں کا اتنا و سیع دائرہ کہ پورا وجود صدائے بازگشت کی گرفت میں آ چکا تھا۔ کون؟ جیسے اپنے اندر کوئی چیخ محسوس ہوئی۔ میں نے عالم اضطراب میں چیخ ماری خاموش ہو جاﺅ بند کرو یہ شور شرابا ختم کر و یہ کھیل ”لکشمی“ میں نے جستہ پکارا میری بیوی میرے پاس آکر کھڑی ہو گئی ”تم ؟ میں نے اس لکشمی کو آواز دی تھی اچھا سنو تمہیں معلوم ہے نا جس دن میری داڑھی کٹ گئی تھی اور خون کا جیسے بلبلہ ابھر آیا تھا۔ لال، بالکل لال قطعئی سفید نہیں۔

 میں کلی کی مانند کھل اٹھا۔ میری مسکراہٹ میں میری انا کا پندار انگڑائیاں لے رہا تھا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے