سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر ….. پہلی قسط ایم اے راحت کی باتیں

اردو کہانی کا سفر ….. پہلی قسط ایم اے راحت کی باتیں

اردو کہانی کا سفر ………………. پہلی قسط

ایم اے راحت کی باتیں

ایم اے راحت سے میرا عشق کا رشتہ تھا ان کا اور میرا ساتھ سترہ برس رہا یعنی بمشکل ہمارا عشق ابھی نوجوانی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع ہی ہوا تھا، کہ وہ داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے ان سترہ برسوں کے دوران انہوں نے چار بار میرے غریب خانے کو رونق بخشی رات بھر قیام بھی کرتے ان کے بیٹے اور بیٹی بھی ساتھ آتے ان کی بہؤویں ان کے پوتے پوتیاں بھی بعض اوقات ہمراہ ہوتے، اور میں اور میرے بچے میری اہلیہ بھی ان گنت بار ان کے گھر گئے اور رہے، ان سے میری فون پر بہت گفتگو رہتی تھی حالانکہ عام طور میری فون کال کا اوسط دورانیہ 30سیکنڈ کا ہوتا ہے لیکن راحت صاحب کے ساتھ آدھ گھنٹے سے کم بات کرنا میرے بس میں کہاں تھا،
ایم اے راحت نے ایک ہزار کے لگ بھگ ناول سیکڑوں طویل سلسلے لکھے اور ہزاروں شارٹ سٹوریز لکھی ہیں، مسلسل پچاس سال سے ڈائجسٹ کی دنیا میں چھائے رہے، مسلسل پچاس سال تک مدیران اور ناشران کی نظر میں معتبر رہنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں، جیو اور جنگ اخبار کاہفت روزہ اخبار جہاں میں جس میں چھپنے کے لئے اردو کے بڑے بڑے نامی گرامی ادیب شاعر کالم نگار افسانہ نگار پاپڑ بیلتے رہتے ہیں، اس اخبار جہاں نے سب سے زیادہ ایم اے راحت کو شائع کیا، دو ارب سے زیادہ الفاظ لکھنے والے ایم اے راحت اردو کے سب سے زیادہ لکھنے والے مصنف ہیں اور اس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں، ایم اے راحت، علی گڑھ یونیورسٹی سےاردو میں ایم اے کی ڈگری رکھتے تھے،
یکم جنوری سنہ 2000 سے میں نے راولپنڈی سے پہلے ڈائجسٹ کا اجراء کیا جس کا نام ماہنامہ مسٹر میگزین تھا، انتہائی نا مساعد حالات میں اس ڈائجسٹ کی شروعات تھیں پہلا شمارہ صرف 160 صفحات پر مشتمل تھا، اور اس میں کسی معروف لکھاری کی تحریر نہ تھی
لیکن اپریل کے یعنی چوتھے شمارے سے اسے باقاعدہ ڈائجسٹ کی شکل دے دی گئی، تب محسوس کیا گیا کہ مشہور مصنفین سے رابطہ کرنا چاہئیے، اس ضمن میں پہلا نام ذہن میں راحت صاحب کا ابھرا جن کے بارے میری معلومات تھیں کہ وہ لاہور میں قیام رکھتے ہیں
سرورق ذاکر صاحب سے بنوایا گیا تھا، جو تمام معروف ڈائجسٹوں کے سرورق بناتے تھے، ان سے میری آشنائی اس وقت بھی بارہ تیرہ برس پرانی تھی اپنے

 

 

شعبے میں لیجنڈ کا درج رکھتے تھے انتہائی ہنس مکھ اور خوشگوار طبیعت کے مالک تھے، میں نے سوچا ذاکر صاحب کے پاس جانا چاہیے وہ اس میدان کے پرانے شہ سوار ہیں، ذاکر صاحب سے متعلق یادداشتیں پھر کبھی ضبط تحریر لاؤں گا اس وقت تزکرہ ہورہا ہے، راحت صاحب کا ، میں نے سوچا ذاکر صاحب کو ایم اے راحت کے متعلق ضرور معلوم ہوگا کہ ان کی رہائش گاہ یا دفتر کہاں ہے میری امید درست ثابت ہوئی، ذاکر حسن آرٹسٹ کا آفس ان دنوں کیپیٹل سینما بلڈنگ میں تیسری منزل پر واقع تھا، ذاکر صاحب نے فوراً فون ملایا، اور یہ بھول ہی گئے، کہ کس لئے فون کیا تھا دس منٹ تک وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلفانہ انداز میں گفتگو کرتے اور قہقہے بکھیرتے رہے، اور قریب تھا کہ رسیور کو واپس کریڈل پر رکھ دیتے میں نے ان ہاتھ پکڑ کر کہا کہ حضور آپ نے میرے لئے فون ملایا تھا، بہرکیف پھر ذاکر صاحب نے میرا تعارف کروایا، اور رسیور میرے ہاتھ میں تھما دیا، تو میں نے السلام علیکم کہا اور وعلیکم السلام کی صورت میں پہلی بار ایم اے راحت کی آواز سنی یہ میرا راحت صاحب سے پہلا رابطہ ہوا تھا، میں نے مدعا بیان کیا، تو فوراً ہی کہنے لگے، کہ ذاکر سے میرا پتہ لیں اور رکشہ کروا کر سیدھے سیدھے میرے گھر آجائیں
علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے کسی بلاک میں رہتے تھے، تھوڑی تگ و دو کے بعد گھر مل گیا، اطلاعی گھنٹی بجانے پر ایک نوجوان نے صدر دروازے کاچھوٹا پٹ وا کیا، میں نے تعارف کروایا، اس نے خوش مزاجی سے خوش آمدید کہا اورسر کی ہلکی جنبش سے ساتھ آنے کا خفیف اشارہ کر کے پلٹ گیا، اور مجھے پہلی منزل پر لے گیا، ایک بڑا قالین یافتہ کمرہ جہاں بے شمار الماریوں میں سیکڑوں کتابیں صاف ستھرے اور سلیقے سے سجی تھیں بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تمام ریکارڈ ہے راحت صاحب کی تحریروں کا،
سفید کارٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس فربہ دراز قد ہنستی مسکراتی شخصیت ایم اے راحت جو ایک وسیع و عریض میز کے پیچھے کرسی پر بیٹھے تھے، اٹھ کر گلے لگا کر یوں ملے جیسے ہماری پرانی آشنائی ہو، یہ ملاقات جو میرے خیال میں تھا کہ پندرہ بیس منٹ کی ہوگی ڈیڑھ دو گھنٹے تک پھیل گئی اتنی دلچسپ باتیں انہوں نے کیں کہ میں اپنے باقی سارے کام بھول گیا، میں نے ان سے اپنے ڈائجسٹ کے لئے سلسلہ وار طویل کہانی کی فرمائش کی، تو انہوں نے جلدی سے تین چار مختصر کہانیاں نکال کر سامنے رکھ دیں، فرمانے لگے کہ اگلے شمارے میں ان میں سے دوکہانیاں تو لگاؤ، طویل سلسلہ بھی جلد شروع کرتے ہیں، میں بولا سر ایک ایک کر کے لگاؤں گا، دو لگاؤں گا تو آئندہ کیا لگاؤں گا، ہنس کر بولے، کیا سمجھتے ہو راحت کو ارے بھئی اللہ کا ایسا کرم ہے کہ تیرا بھائی ایسی کہانی اتنی دیر میں لکھ سکتا ہے جتنی دیر چائے پینے میں لگتی ہے، میں نے کہا کہانی کی امان پاؤں تو ایک عرض کروں، کہنے لگے بولو.. میں نے کہا کہ سنا ہے کہ آپ سلسلہ وار کہانی میں ڈائجسٹ والوں کو بڑا تنگ کرتے ہیں یہ سوال کر کے میں ڈرے سہمے انداز میں انہیں تکنے لگا، ہونٹوں سے لگے چائے کے کپ سے سپ لے کر پیالی پرچ میں رکھی، اچانک ہی ان کے چہرے پر گھمبیر یت چھا گئی، چند لمحے کے لئے خاموشی چھا گئی. لیکن اگلے ہی لمحے وہ ہنس پڑے، اور کہنے لگے ہاں ایسے بھی ہوا ہے، اور آئندہ بھی ہوسکتا ہے لیکن… کیوں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں…………؟؟؟.



ایم اے راحت کے ساتھ باتوں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے
بقیہ واقعات کے لئے : انتظار فرمائئے: دوسری قسط کا
آئندہ جمعہ المبارک 26 جولائی تک… راحت صاحب کے بعد سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر اعلے’ شکیل عادل زادہ سے ملاقاتوں کا احوال شروع ہو گا انشاءاللہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 تحریر : اعجاز احمد نواب بیسویں صدی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے