سر ورق / سعادت حسن منٹو / بارہ روپے…سعادت حسن منٹو

بارہ روپے…سعادت حسن منٹو

 

منٹو کا ایک گمشدہ ا فسانہ

تناظر: شمارہ نمبر ۲

ڈاکٹر اسد فیض

منٹو نے سن ۴۷ءکے واقعات کو جس قدر سچائی اور انسانی جذبوں کی گھلاوٹ سے تحریر کیا ہے۔ وہ بے حد پرُ اثر اور یاد رہ جانے والا ہے۔یوں لگتا ہے کہ فسادات پر لکھی گئی کہا نیاں ہی دراصل منٹو کا اصل اثاثہ ہیں۔ان افسانوں میں منٹو نے نچلے متوسط طبقے کو موضوع بنایا ہے جو اس المیہ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔منٹو جرات مندی سے اس المیہ کی تمام جہتوں کو سامنے لاتا ہے۔اُس کالہجہ ان افسانوں میں بے حد تلخ ہے اور وہ ان کرداروں سے ہمدردی بھی رکھتا ہے۔اس کے کردار شہری طبقے پر مشتمل ہیں ان میں اکثر اب معدوم ہوچکے ہیں جیسے کوچوان ،لیکن یہ اب بھی منٹو کی کہانیوں میں جیتے جاگتے موجود ہیں۔ان افسانوں کی افادیت یہ ہے کہ یہ کہانیاں ۷۴ءکے واقعات کی ایک سچی دستاویز ہیں جو آنے والی نسلوں کو اس المیہ کی داستان اور حقائق سے آگاہ رکھیں گی۔

          ذیل میں منٹو کے ایک افسانہ”بارہ روپے“ کا اصل متن قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذر ہے۔یہ افسانہ کراچی کے ایک ادبی جریدہ ماہ نامہ” ادب“ میں شائع ہوا ہے۔اس کے ایڈیٹر غلام محمد بٹ تھے(۱)افسانہ ماہ نامہ” ادب “کراچی جولائی ۔اگست ۱۹۵۲شمارہ ۱۵۔۱۶میں صفحہ۲۹۱سے صفحہ۳۰۷تک شائع ہوا ہے اور منٹو کے کسی افسانوی مجموعہ میں شامل نہیں۔(۲)

           یہ افسانہ تقسیم ہند کے واقعات پر مشتمل ہے اور ایک کوچوان عیدے کی کہانی ہے منٹو نے ایک عام تانگے والے عیدے کی ذات کے اصل جوہر شرافت،انسان دوستی اور محبت کے لازوال رشتہ کو اس میں بیان کیا ہے۔اس افسانے کا اصل موضوع فلسفہ وجودیت ہے کہ ا نسان قدرت کے سامنے اپنی تمام کوششوں کے باوجود کتنا بے بس ہے ۔عیدا فسادات میں ایک سکھ لڑکی کی جان اور عزت بچاتا ہے اور اسے اپنے گھر میں پناہ دیتا ہے بعد ازاں اس کی مرضی سے اُس سے نکاح کرلیتا ہے لیکن عیدے کو یہ خوشیاں راس نہیں آتی ہیںاور اس کی زندگی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔عیدا قلاش ہوجاتا ہے اور اس کی بیوی اور بیٹا مر جاتے ہیں۔ آخر میں عیدا اپنی تمام متاع لٹا کرتہی دامن رہ جاتا ہے۔منٹو نے اس افسانے کو المیہ انجام سے دوچار کیا ہے۔حالانکہ عیدے کی شادی پر ختم کرکے وہ اِسے اچھے موڑ پر اختتام پذیر کرسکتا تھایہاں منٹو اپنی ذاتی زندگی میں معاش کے مسئلے اوراس دور میں شب وروز کی مجبوریوں اور تذلیل کے زیر اثر فلسفہ وجودیت کا قائل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔منٹو ہمارے عہد کا اتنا بڑا ادیب ہے کہ اردو ادب کی تاریخ اس کا متبادل پیش کرنے سے قاصر ہے۔میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسے ادیب کی ہر تحریر محفوظ کر دینے کے لائق ہے ۔اس لئے یہ افسانہ منٹو کے قارئین کے لئے ایک تحفہ ہے۔

حواشی:

۱۔اس جریدے کے کتنے شمارے شائع ہوئے اور یہ کب تک جاری رہا۔اس بارے میں کہیں معلومات دستیاب نہیں ۔حتاکہ انور سدید نے بھی اپنی کتاب” پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ“ مطبوعہ ۱۹۹۲ءمیں اس کاکہیں ذکر نہیں کیا۔ انھوں نے اس کا تذکرہ تو کیا لیکن اس جریدے کی ابتدا اور اس کے شماروں کی تعداد کی تفصیلات رقم نہیں کیں۔

۲۔ منٹو کے افسانوں میں ایک اور افسانہ دس روپے کے نام سے بھی ہے جو اس کی کتاب ”منٹوکے افسانے“ مطبوعہ ۱۹۴۰ءمیں شامل ہے،لیکن یہ اُس سے مختلف افسانہ ہے۔

بارہ روپے

سعادت حسن منٹو

عیدے کا ٹانگہ گھوڑا ریگل سینما کے اڈے کی ناک تھا۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب بٹوارہ نہیں ہوا تھااور مال روڈ زندگی کے بو قلموں رنگوں سے بھرپور تھی اور جنگ ختم ہونے کے بعد لوگ کھل کھیل رہے تھے اسٹینڈرڈ۔اسٹفلز،لورینگ۔وولگا اور میٹرو میں رات بھر ہنگامہ ہاﺅہو برپا رہتا تھا۔ظاہر ہے کہ ٹانگے والوں کی چاندی تھی۔مگر عیدے کی آمدن سب سے زیادہ تھی،اس لئے کہ اس کا ٹانگہ نمبر ون تھا۔اس کا ساز اول درجے کا۔گھوڑا تندرست،جس کی بوٹی بوٹی پھڑکتی تھی۔مضبوط اور تنو مندپٹھے ایسے تھے جیسے ربڑ کے ہیں ۔اور پھر پیتل اور تانبے کا پالش کیا ہوا سازوسامان۔گھوڑے کی رنگ برنگ پروں والی کلغی ۔اُس کے پاوں کے جھانجھن گلے کے گھنگرو اور ان سب کے اوپر عیدا۔خوش پوش عیدا۔

          وہ کسی حد تک بد دماغ بھی تھا۔کسی سواری کے کپڑے میلے کچیلے ہوں تو وہ اس کو اپنے ٹانگے میں نہیںبٹھا تا تھا صاف کہہ دیتا تھا کہ میاں یہ ٹانگہ اشرافوں کے لئے ہے۔عیدے کی آمدن اس میں کوئی شک نہیں کہ اڈے کے دوسرے ٹانگے والوںکے مقابلے میںبہت زیادہ تھی،لیکن اس کا خرچ بھی اسی تناسب سے بہت زیادہ تھا۔۔۔پیتل اور تانبے کے سازو سامان کو ہر روز پالش کرنے کے لئے اُسے ہفتے میں ایک بڑا ڈبہ براسو کا خریدنا پڑتا تھا ۔۔پھر اس نے ایک سائیس ملازم رکھا ہوا تھا جو صبح شام گھوڑے کو مالش کرتا تھا۔اس کو نہاری کھلاتا تھا۔۔اور ہر دوسرے دن اُسے گدوں کے غلاف دھلوانے پڑتے تھے کہ بے داغ رہیں اس کا اپنا خرچ علیحدہ تھا ۔اچھا کھاتا تھا۔اچھا پہنتا تھا۔اس کو اپنے ٹانگے گھوڑے سے عشق تھا۔اس کی ہمیشہ یہی خواہش ہوتی تھی کہ جہاں کہیں بھی اس کا ٹانگہ کھڑا ہو ،دوسروں سے نمایاں نظر آئے چونکہ اعتقاد کے اعتبار سے کمزور تھا،اس لئے اس نے اپنے ٹانگے گھوڑے کو نظر بد سے بچانے کے لئے مختلف پیروں فقیروں سے کئی تعویز حاصل کررکھے تھے ۔ان میں سے کچھ تو گھنگھروﺅں کے ساتھ اس کے گھوڑے کی گردن میں لٹکے رہتے اور کچھ اس کے اپنے بازو کے ساتھ بندھے رہتے۔عیدے کو لاہور میں ٹانگہ چلاتے دو ڈھائی برس ہوگئے تھے،مگر اس نے کچھ پس انداز نہیں کیا تھا ۔ویسے اس کے اڈے کے تمام کوچوان دل میں یہی سمجھتے تھے کہ اس کے پاس ہزاروں روپے ہیں ،مگر وہ کسی کو بتاتا نہیں ،تاکہ کوئی اس سے اُدھار نہ مانگ لے۔

          عیدا بالکل بے پرواہ تھا ۔اُس کو اڈے کی سیا سیات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔وہ خود کو میلے کچیلے اور گندہ ذہن کو چوانوں سے بالکل الگ ایک ارفع و اعلیٰ ہستی سمجھتا تھا۔اس کا اپنا گھر نہیں تھا۔مزنگ میں ایک چھوٹا سا مکان اُس نے ایک عرصے سے کرائے پر اٹھا رکھا تھا ۔جس کا کرایہ وہ ہر مہینے با قا عدگی کے ساتھ ادا کرتا ۔یہی وجہ ہے کہ مالک مکان اس کی عزت کرتا اور عیدے کی بجائے اُسے عید محمد کہا کرتا تھا۔عید محمد بالکل اکیلا تھا۔تن تنہا ۔اُس کے ماں باپ اُس کے بچپن ہی میں اُسے داغ مفارقت دے گئے تھے۔اُس کے مرحوم باپ کا ایک دوست خلیفہ ٹینی تھا۔اُس نے عیدے کی پرورش کی اور جب اس نے دیکھا کہ بچے کا رحجان ٹانگے گھوڑے کی طرف ہے تو اس نے اُس کو ایک بڈھے کوچوان جمالے کے سپرد کردیاجس نے چند مہینوں ہی میں اُسے سب کچھ سکھا دیا۔عیدا جب بارہ برس کا ہوا تو جمالے اور خلیفہ ٹینی نے مل کر مشورہ کیا اور اسے ایک ٹانگہ گھوڑا کرائے پر لے دیا۔خلیفہ ٹینی اور جمالے کو قطعایقین نہیں تھا کہ وہ اتنا کما سکے گا جو گھوڑے کے دانے کے لئے بھی کافی ہو ۔مگر پہلے ہی دن جب اُس نے اپنے استاد جمالے کے ہاتھ میں دن بھر کی کمائی دی تو وہ حیران ہوگیا۔دو روپے کرائے کے نکال کر اور ایک روپیہ گھاس دانے کا الگ رکھ کے پورے پونے تین روپے بچتے تھے ۔جمالے نے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور کہا  ،جیو ،عیدے جیو! ۔ پر جب جمالے نے پونے تین روپے اپنی جیب میں ڈالنا چاہے تو عیدے نے کہا

          اُستاد مجھے اس رقم میں سے کچھ نہیں چاہیے۔روٹی کپڑا مجھے تم سے مل ہی جاتا ہے،مگر مجھے ایک روپیہ دے دو،جمالے نے پوچھا ،کیا کروگے روپیہ لے کر،

          عیدے نے جواب دیا ،یہ روپے میں نے نہیں کمائے۔گھوڑے نے کمائے ہیں ۔میں ایک روپے میں اُسے بہت بڑھیا نہاری کھلانا چاہتا ہوں۔

          جمالا مسکرایا ۔ہتھیلی میں سے اُس نے ایک روپیہ اُٹھایا اور عیدے کو دے دیا ،لیکن دیکھ عیدے۔۔ہر روز ایسی عیاشی نہ کرانا جانور کو۔۔بگڑ جائے گا۔عیدے نے صرف اتنا کہا ،استاد ،میں ان جانوروں کو جانتا ہوں ۔۔تم کوئی فکر نہ کرو۔اور صبح سویرے اُس نے اپنے ہاتھ سے کرائے کے گھوڑے کوبہت عمدہ نہاری کھلائی ۔خوب مالش کی ۔جب اصطبل سے وہ ٹانگہ جوت کر باہر نکلا تو گھوڑا خوشی سے ہنہنا رہا تھا۔بہت دیر تک عیدا کرائے کا ٹانگہ چلاتا رہا۔مالک اُس سے بہت خوش تھا۔اس لئے کہ گھوڑا ہمیشہ تندرست رہتا تھا اور ٹانگے کی کوئی چُول ڈھیلی نہیں ہوتی تھی جس کی مرمت پر کچھ خرچ ہو۔یہ سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا۔اس دوران میں خلیفہ ٹینی اور استاد جمالا اللہ کو پیارے ہوگئے۔عیدے کو اپنے ان محسنوں کی موت کا بہت صدمہ پہونچا۔مگر اُس نے سوچا،اللہ کی مرضی میں کس کو دخل ہے،چنانچہ اُس نے صبر سے کام لیا اور خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا۔ایک برس کے بعد گھوڑے کا مالک بھی اللہ کو پیارا ہوگیا،مگر اس نے مرنے سے پہلے عیدے کو اپنے پاس بلایا اُس کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا اور کہا ،عیدے بیٹے۔۔تو ایماندار لڑکا ہے۔۔میں یہ ٹانگہ گھوڑا جو تو جوتتا ہے،تجھے دیتا ہوں ۔۔اب تو اس کا مالک ہے!

          عیدے نے کہا ،خدا آپ کی زندگی سلامت رکھے۔۔آپ سدا اِس ٹانگے گھوڑے کے مالک رہیں۔۔خدا نے چاہا تو میں اپنے بازووں کی محنت سے خود ایک ٹانگہ گھوڑا خرید لوں گا،۔۔مگر اُس کا مالک مرگیا اور عیدا اُس ٹانگے گھوڑے کا مالک ہوگیا۔

          عیدے کو ٹانگہ گھوڑا پسند نہیں تھا۔گو اس نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس کو ہر ممکن طریقے سے خوش شکل بنانے کی کوشش کی تھی،مگر معلوم نہیں وہ کب کا بنا تھا۔دس سال پہلے کا،پچیس سال پہلے کا اُس کی چُول چُول ہلی ہوئی تھی چناچہ دوسری کمیٹی سے پہلے پہلے اُس نے اُس کو بیچ ڈالا اور اپنی خواہش کے مطابق ایک نیا پشاوری ٹانگہ خرید لیا اُس کے پاس سو پچاس کا پس اندوختہ موجود تھا۔کچھ اُس نے ادھار لے لئے۔استاد جمالے کی وجہ سے سب اُس کا اعتبار کرتے تھے مگر عیدے کو بھی اپنے اوپر پورا پورا اعتماد تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کے اندر اندر سارے قرضوں سے سبکدوش ہوجائے گا اور ہوا بھی ایسا ہی ایک مہینے سے پہلے پہلے اُس نے سب قرض ادا کردیئے۔اب وہ ٹانگے گھوڑے کا سو فی صد مالک تھا۔گھوڑا بہت اچھا تھا۔مگر اب عیدے کو یقین تھا کہ وہ اور بھی اچھا ہو جائے گا کیونکہ پہلے اسے ہاتھ روک کے گھاس دانہ دینا پڑتا تھا کہ اس کے سر پر قرض کا بوجھ تھا مگر اب وہ اپنی مرضی کے مطابق اسے نہاری کھلا سکتا تھا اور جس طرح چاہے اُس کی خدمت کر سکتا تھا ۔ایک برس کے اندر اندر عیدے کے ٹانگے اور گھوڑے ،دونو کی شکل آہستہ آہستہ تبدیل ہوتی گئی ،گھوڑا ،بڑا ہٹا کٹا ہوگیا اور ٹانگہ دولہن کی طرح سجتا گیا۔۔یہ سب آہستہ آہستہ ہوا۔اصطبل کے کرائے اور گھوڑے کے دانے کے خرچ کے بعد جو کچھ بھی بچتا تھااُس میں سے عیدا کوئی نہ کوئی چیز خرید لیا کرتا تھا اور اپنے ٹانگے یا گھوڑے کے ساتھ سجاوٹ کے طور پر لگا دیا کرتا تھا۔ ایک برس کے اندر اندر چنانچہ اُس کا ٹانگہ گھوڑا نمبر ون ہوگیا۔۔۔عیدے کا اپنا خرچ کیا تھا ؟۔۔۔بہت معمولی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اُجلے کپڑے پہنتا تھا اچھے بھٹیارے سے روٹی کھاتا تھا،بڑھیا سگرٹ پیتا تھا۔مگر اس کی روزانہ کی کمائی بھی اڈے کے دوسرے کوچوانوں کے مقابلے میں دوگنی تھی۔اب تو لگی بندھی سواریاں تھیں ۔صبح سویرے کسی لالہ جی کی بچیوں کو اسکول پہنچانا،پھر ان کو واپس لانا ۔شام کو کسی سیٹھ کو لارنس کی سیر کرانا ۔پھر راتیں تھیں ۔۔ہیرامنڈی کی راتیں ۔۔۔۔عیدے نے ایک اور گھوڑا خرید لیا تھا ،تاکہ دن اور رات کی مشقت دونو میں بَٹ جائے ۔عیدا بہت خوش تھا دو برس کے اندر اندر اس نے ایک ہزار روپے کے قریب جمع کرلیا تھا۔اب وہ سوچ رہا تھاکہ تجرد کی زندگی کو خیر باد کہے اور شادی کرے ۔اُس نے سوچا تھا کہ شادی کرتے ہی وہ کچھ عرصے کے بعد روپیہ جمع کرکے ایک اور ٹانگہ خرید لے گا اور اسے کرائے پر چلائے گا ۔اس سے مزید آمدن ہوگی اور دونو میاں بیوی آرام سے زندگی گزاریں گے ۔اُس نے دل دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ شادی کے بعد وہ رات کو ٹانگہ نہیں چلائے گا۔۔۔رات کا سلسلہ یوں بھی اُسے ناپسند تھا۔اڈے میں کئی کوچوانوں نے اُسے اچھے اچھے رشتے بتائے ۔مزنگ میں اُس کے پڑوسیوں نے بھی چند رشتے تجویز کئے۔مگر عیدے نے کوئی فیصلہ نہ کیا اُس کو کوئی جلدی نہیں تھی ۔یکایک ہوا پلٹی اور فسادات شروع ہوگئے۔عیدے کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ قصہ کیا ہے۔ہندو مسلمان کیوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔مگر یہ ایسی چیز تھی جو بڑے بڑے سیاست دانوں کی سمجھ سے بھی با لا تر تھی۔فسادات شروع ہوئے تو تھمنے کا نام نہ لیا ۔۔دن دہاڑے قتل ہورہے تھے ۔۔کئی بار عیدے کو ایسی واردات کا سامنا کرنا پڑا، وہ یوں کہ اس کی آنکھوں کے سامنے کسی کو چھُرا بھونکا گیا۔لوگ جمع ہوئے اور زخمی کو اُس کے ٹانگے میں لادنا چاہا مگر اس نے صاف انکار کردیا کہ وہ اپنا ٹانگہ خراب نہیں کرنا چاہتا۔تھوڑے ہی عرصے کے بعد فسادات انتہائی شدت اختیار گئے ۔۔۔ہندو لالے شہر چھوڑکر بھا گنے لگے ۔اڈے میں جتنے کوچوان تھے ،منہ مانگے دام لیتے تھے۔صرف اسٹیشن تک چھوڑنے کے سو یا دو سو روپے ۔عیدے کو بھی اسقدر روپے پیش کئے گئے مگر اس نے انکار کردیا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک صرف اُس کا ٹانگہ جو اڈے کی ناک تھا اڈے پر بیکار کھڑا رہتا اور باقی کوچوان دن بھر اپنی جیبیں بھرتے رہتے ۔شام کو بوتلیں لے کر آتے ۔مٹی کے تیل کی کپیوں کی روشنی میں پیتے اور گندے گندے گانے گاتے۔شہر میں اک آگ لگی ہوئی تھی۔اس کا اثر مال روڈ پر بھی پڑا تھا ۔یہاں سے بھی ہندو بھاگ رہے تھے۔

عیدے نے اس دوران میں صرف دو جان پہچان کے رئیسوں کو اُن کے خاندان سمیت اسٹیشن پہونچایا تھا ۔انہوں نے اس کو کافی روپیہ انعام کے طور پر دینا چاہاتھا مگر عیدے نے قبول نہیں کیا تھا ”لالہ جی ۔۔یہ وقت ہے کہ میں آپ سے انعام لوں ۔۔؟

          جب آپ واپس آئیں گے تو دیکھا جائے گا !“جب بہت زیادہ بھگدڑ مچی تو عیدے نے چند روز کے لئے چھٹی کردی ۔مزنگ میںاپنے ایک گوجر دوست کے پاس سارا دن چارپائی پر بیٹھا رہتا اور بھانت بھانت کی خبریں سنتا رہتالیکن دو دن ہی میں اکتا گیا۔چنانچہ اُس نے اصطبل سے ٹانگہ نکالا اور اللہ کا نام لے کر ریگل سینما کے اڈے کی طرف بڑھا ۔صبح کا وقت تھا ۔بازار بالکل سنسان تھا ۔۔عیدا اپنی شادی کے متعلق سوچ رہا تھا کہ اچھا ہی ہوا جو نہ ہوئی ور نہ ایسے وقتوں میں نیک بخت جان کا وبال ہو جاتی ۔اب اسکی اکیلی جان تھی ۔اُس کو کسی بات کی فکر نہیں تھی ۔۔۔۔زخمی ہو جاتا تو اُس کو ہسپتال میں صرف اپنی ذات کا خیال ہوتا بیوی ہوتی تو وہ ہر وقت بستر پر اضطراب کے باعث کروٹیں بدلتا رہتا۔اُس کے زخموں میں بیوی کی فکر سب سے بڑا زخم ہوتی۔دن بھر میں اُسے پانچ یا چھ سواریاں ملیں۔ انہوں نے اُسے منہ مانگا کرایہ دینا چاہا مگر عیدے نے وہی لیا جو کہ اس کا حق تھا ۔۔شام ہوگئی۔۔شہر میں لگی ہوئی آگ کی روشنی مال روڈ تک آسمان کے زریعے سے پہونچ رہی تھی ۔ہو کا عالم تھا ۔اڈے میں صرف عیدے کا ٹانگہ تھا ۔

          معلوم نہیں وہ کیوں گھر نہیں جا رہا تھا ۔بس اگلی سیٹ پر اپنی پگڑی سر کے نیچے رکھے لیٹا اونگھ رہا تھا اور غالبا سوچ بھی رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔کبھی کبھی وہ اپنی ہونے والی شادی کے متعلق بھی سوچتا تھا مگر فورا اس کے دماغ میں لاشیں آجاتیں جو اس نے سٹرکوں پر پڑی دیکھی تھیں ۔۔۔جلے ہوئے اور سلگتے ہوئے مکا ن اُس کی آنکھوں کے سامنے آجاتے جن سے لاہور شہرکا سینہ داغدار تھا۔۔اور وہ ایک عجیب قسم کی تلخی اپنے حلق میں محسوس کرتا جسے تھوک دور نہیں کرسکتی تھی ۔ہو کا عالم تھا ۔۔ریگل سینما ٹھنڈا پڑا تھا ۔کوئی بتی روشن نہیں تھی۔عیدا کارپوریشن کے قواعد کا بہت پابند تھا۔اڈے میں وہ سب سے پہلے اپنے ٹانگے کی بتیاں روشن کرتا تھا ۔مگر اب کے اند ھیرے کا دور دورہ تھا ،اُس نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی وہ قریب قریب سو گیا تھا کہ اچانک ،معلوم نہیں کب،اُس کا گھوڑا مضطرب ہو کر ہنہنایا ۔عیدا چونک کر اُٹھ بیٹھا۔گرجے کے اس طرف یعنی لارنس روڈ پر ایک سایہ سا متحرک تھا ۔عیدے نے غیر ارادی طور پر اپنی پگڑی اٹھائی اور سر پر باندھنے لگا ۔سایہ کھمبے کے پاس آگیا۔عیدے نے دیکھا کہ کوئی عورت ہے۔چند لمحات میں وہ اُس کے ٹانگے کے پاس تھی۔عیدے نے اُس کی طرف دیکھاکہ کوئی عورت ہے۔چند لمحات میں وہ اس کے ٹانگے کے پاس تھی ۔عیدے نے اُس کی طرف دیکھا ۔جوان لڑکی تھی ۔۔غالبا سکھ لڑکی نے اپنے سوکھے ہوئے حلق سے آواز نکال کر عیدے سے پوچھا ”تم کون ہوتے ہو“

          عیدے نے پگڑی کا آخری پیچ درست کرتے ہوئے کہا ”مسلمان!“لڑکی سرتاپا کانپ گئی ۔چند لمحات اس نے کچھ سوچا ،پھر شکست خوردہ انداز میں کہا ”میں اتنی مشکلوں سے بچ بچا کر یہاں تک پہونچی ہوں۔۔پر تم بھی مسلم نکلے۔۔بہتر ہے کہ مجھے مار ڈالو۔“

          عیدے کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس سے کیا کہے ۔۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد خود بخود اُس کی زبان پر یہ لفظ آئے اور باہر نکل گئے ”مرنا چاہتی ہو تو کہیں اور چلی جاﺅ“۔۔عیدے نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا کام نہیں کیا۔۔ویسے اگر تم کہیں جانا چاہتی ہو تو قسم واحد لا شریک کی کہ عیدا اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر تمہیں وہاں پہو نچاکرآئے گا“

          عیدے کی اس بات سے لڑکی بہت متاثر ہوئی اور ٹانگے میں بیٹھ گئی ۔عیدے نے اُس سے پوچھا ”بولو کہاں جانا ہے“لڑکی اس کا جواب نہ دے سکی ”مجھے معلوم نہیں“

          عیدا بو کھلا گیا، تو میں کہاں لے جاوں تمہیں۔۔کوئی اپنا ٹھکانہ بتاﺅ ۔۔قسم واحدہ لا شریک کی جلتی آگ میں لے جاﺅںگا ۔۔تم بھی یاد رکھوگی کہ ایک مسلمان نے تمہاری مدد کی ۔۔ویسے میں مسلمان اور ہندو دونو پر لعنت بھیجتا ہوں اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ بھی ضرور ان دونو پر اپنی لعنتیں نازل کرے گا۔۔۔بولو،کہاں جانا ہے؟“ وہ لڑکی پھر نہ بتا سکی کہ اُسے کہاں جانا ہے۔عیدے نے ٹانگہ اڈے سے باہر نکالا اور مال روڈ کا رخ کیا۔۔۔اُس نے سوچا کہ لڑکی گھبرائی ہوئی ہے، خدا معلوم کہاں سے اپنی جان بچاتی بچاتی آئی ہے۔ذرا سنبھل جائے تو اپنا ٹھکانہ بتادے گی۔بڑے ڈاک خانے کے قریب پہو نچ کر عیدے نے پلٹ کر اُس لڑکی کی طرف دیکھا جو اب کسی قدرسنھبلی ہوئی تھی ۔بتاﺅ اب کہاں جانا ہے؟“ لڑکی خاموش رہی ۔عیدے نے مارکیٹ کے پاس پھر اُس سے پوچھا”کہاں جانا ہے بھئی۔۔۔کچھ بتاﺅ تو سہی ،اُس کے لہجے میں کسی قدر تیزی تھی ۔۔لڑکی نے پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کردیا ۔

          عیدا پریشان ہوگیا ۔۔اُس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ ۔۔چاروں طرف خاموشی تھی اور اس کا رونا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک شور برپا ہے۔عیدے نے بھنگیوں کی توپ کے پاس ٹانگہ کھڑا کردیا اور اتر کر اُس لڑکی کو دم دلاسا دیا مگر اس کا الٹا اثر ہوا کہ وہ اور زیادہ رونے لگی۔۔تھک ہار کر عیدے کے جی میں آئی کہ لڑکی کو وہیں ٹانگے میں چھوڑے اور خود کہیں بھاگ جائے ۔مگر وہاں لڑکی کا سوال نہیں تھا،اُس کے رونے کا تھا ،جو بیڑیوں کے مانند عیدے کے پاﺅں میں پڑگیا تھا وہ اُس جگہ سے ہل ہی نہیں سکتا تھا۔وہ اُسے رات کے سناٹے میں بہت دیر تک ڈھارس دیتا رہا۔آخر اُس لڑکی نے بتایا کہ اُس کے ماں باپ اُس کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے جاچکے ہیں۔اُن کا مکان جل کے راکھ ہوگیا ہے اور اب اُس کا کوئی ٹھور ٹھکانا نہیں ۔جو اس کے عزیز تھے اُن میں سے کوئی بھی شہر میں موجود نہیں کیونکہ وہ سب بھاگ گئے ہیں۔عیدے نے اُس سے کہا تو دیکھو،میں ایسا کرتا ہوں،تمہیں اسٹیشن لے جاتا ہوں وہاںتمہیں اپنی ذات کے کئی آدمی مل جائیں گے،اُن کے ساتھ ہندوستان چلی جانا۔اُس لڑکی نے کہا مجھے اپنی ذات کے آدمیوں پر بھی پھروسہ نہیں ۔۔کل میں ایک کے گھر گئی تو اس نے ۔۔۔اُس نے۔۔۔یہ کہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔عیدے نے تنگ آکر پوچھا ”تو پھر کیا کیا جائے“

          لڑکی نے کہا مجھے معلوم نہیں۔۔مار ڈالو مجھے!

          عیدے کے دل پر جیسے ایک گھونسا سا لگا۔اُس نے اُس سکھ لڑکی کی طرف دیکھا،جس کی موٹی موٹی خوبصورت آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا ”یہ کام قصائیوں کا ہے“۔۔

          مجھ سے نہیں ہوسکے گا“

          لڑکی روتی رہی۔جب عیدے کے سمجھ میں کچھ نہ آیا تو اُس نے اُس کو اپنی گود میں لے لیا اور پچکارنے لگا”دیکھو ہمت سے کام لو۔۔جو ہونا تھا ہوگیا اب رونے دھونے سے کیا فائدہ “

          مگر اُس کے پچکارنے اور ڈھارس دینے کا الٹا اثر ہوا۔یہ لڑکی رو رو کے نڈھال ہوگئی اور تھوڑی دیر کے بعد بیہوش ہوگئی عیدے کی خود اعتمادی کام آئی ۔اُس نے اگلی اور پچھلی سیٹ کے بیچ تختہ نکال دیا اور اُس پر بے ہوش لڑکی کو اس طرح لٹا یاکہ اُس کا سر اُس کی گود میں رہے۔اسٹیشن جانا بیکار تھا عیدے نے اپنے گھر کا رخ کیا۔گھوڑا بھی شائد معاملے کی نزاکت محسوس کر چکا تھا۔بڑے نرم و نازک انداز میں چلتا رہا۔مزنگ پہنچ کر عیدے نے اپنے گھر کے پاس اُس لڑکی کو اپنے بازوﺅں میں اٹھایا اور اندر لے گیا۔صرف ایک چارپائی تھی۔اِس پر عیدے نے اُس لڑکی کو لٹا دیا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہئیے۔عورت ذات سے اُسے کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا تھا۔پڑوس میں ایک بھڑبھونجے کی بیوہ عورت تھی جو اُس کو اپنے بیٹوں کے مانند سمجھتی تھی عیدے نے سوچا کہ اُس سے مدد لینی چاہیئے،چنانچہ وہ فورا اس کو بلا لیا۔بڑھیا نے بے ہوش لڑکی کو غور سے دیکھا۔اُس کی نبض ٹٹولی اور عیدے سے کہا ”فکر نہ کرو بیٹا ابھی ہوش میں آجائے گی“یہ کہ کر اس نے لڑکی کے ہاتھ پاﺅں سہلائے ۔منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ ہوش میںآگیا اور ویران آنکھوں سے ادہر اُدہر دیکھنے لگی۔بڑھیا نے اُس سے پوچھا ”اب طبعیت کیسی ہے بیٹا “

          لڑکی نے ایک لمبی آہ بھری ”اچھی ہے!“ عیدے نے آگے بڑھ کر اس سے کہا”اگر اچھی ہے ،تو بتاﺅ، میں تمہیں کہاں چھوڑ آﺅں۔۔میرا ٹانگہ باہر موجود ہے! لڑکی اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئی ”میں کہیں جانا نہیں چاہتی۔۔جب تم لوگ مجھے اتنے اچھے مل گئے ہو۔تو میں اور کہیں جانا نہیں چاہتی۔۔“عیدے نے اُس سے کہا ”تم غلطی کررہی ہو ۔۔میں نے تم سے کہا کہ اسٹیشن پر تمہیں اپنی ذات برادری کے کئی آدمی مل جائیں گے ۔اُن کے ساتھ چلی جانا“

          لڑکی نے روتے ہوئے کہا”ذات برادری کے آدمی ہوں یا غیر ہوں سب کا ہاتھ مجھ پر ایک جیسا ہی پڑے گا ،اس لئے کہ میں جوان ہوں اور بالکل اکیلی ہوں ۔“عیدے نے اس پر اُس سے کہا ”میں بھی تو غیر ہوں“ ”نہیں“ لڑکی نے وثوق کے ساتھ کہا۔تم ٹانگے والے ہو،جو عام طور پر بدمعاش ہوتے ہیں،مگر تم نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی جس نے مجھے ڈرایا ہو۔جس نے مجھے یہ بتایا ہو کہ میں محفوظ نہیں ۔۔میں ۔۔میں تمہارے پاس ہی رہوں گی۔۔۔یہ۔۔۔یہ الگ بات ہے کہ تم مجھے دھکے دے کر باہر نکال دو“

          عیدا سر کھجانے لگا ۔۔سوچنے سمجھنے کے معاملے میں وہ بہت سست تھا اور دراصل اُسے کبھی ایسے معاملے سے واسطہ ہی نہیں پڑا تھا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے متعدد مرتبہ اپنی شادی کے متعلق سوچا تھا اور تصور میں کئی لڑکیاں بھی دیکھی تھیں ۔۔مگر یہ سلسلہ کچھ اور ہی قسم کا تھا مگر آدمی دبنگ تھا ۔اُس نے سوچا ،جو ہو سو ہو ،یہ لڑکی یہیں رہے گی ، وہ خود اصطبل میں چلا جائے گا یا پھر وہ اُس کو بھڑ بھونجے کی بیوہ کے ہاں بھیج دے گا اور جو خرچ ہوگا ،اُسے دے دیا کرے گا ۔چنانچہ اُس نے کہا ”دیکھو۔۔اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو مجھے کوئی انکار نہیں ۔حالات جیسا کہ تم جانتی ہو بہت خراب ہیں،لیکن عیدا اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گا۔اگر کسی نے تمہاری طرف آنکھ اٹھا کے دیکھا تو خدا کی قسم وہ اس دنیا کے تختے پر زندہ نہیں رہے گا۔۔تم نے عیدے پر بھروسہ کیا ہے۔۔۔وہ انشااللہ اس بھروسے کو پورا کرکے دکھائے گا۔۔۔لو اب یہ گھر تمہارا ہے ۔۔میں جا رہا ہوں “

          لڑکی نے پوچھا ”کہاں“ اپنے اصطبل!“

          ”کیوں؟“

          بات یہ ہے کہ ۔۔۔لیکن تم کوئی فکر نہ کرو ۔۔۔مائی جیواں تمہارے پاس ہوگی ۔۔اور میں ۔۔۔میرا اصطبل یہاں سے دور نہیں ۔۔ضرورت ہوگی تو مائی مجھے بلا لے گی” لیکن تھوڑے وقفے کے بعد اُس نے سوچ کر کہا “ میں اصطبل جاتا ہوں ۔گھوڑا کھول کے پھر واپس آجاﺅں گا “ پھر وہ مائی جیواں سے مخاطب ہوا۔مائی تم ایک کھٹیا دروازے کے باہر بچھا دینا“ اور یہ کہ کر وہ چلا گیا۔گھر کے باہر بازار میں وہ کھری کھاٹ پر ساری رات جا گتا رہا اور سوچتا رہا کہ اُسے کیا کرنا چاہیئے۔مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا ۔۔لیکن اُس کے دل کے کسی کونے میں یہ سوال دباہوا تھا کہ وہ اس سکھ لڑکی سے جو غالبا اس کے مانند اندر جاگ رہی ہے اور کروٹوں پر کروٹیں بدل رہی ہے،محبت تو نہیں کرتا ؟عیدے کی زندگی عشق و محبت سے بالکل کوری تھی۔۔لیکن کھری چارپائی پر کروٹیںبدلتے ہوئے اُس لڑکی کا ناک نقشہ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہزار مرتبہ آیا۔کئی دفعہ اس نے عالم خیال میں اُس کے آنسو پونچھے ،اور جب اُس نے رونا بند نہ کیا تو غیر ارادی طور پر اُس نے اُس کا منہ چوم لیا ۔عیدے پر جھر جھری سی طاری ہوگئی ۔اُس کے ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے ۔وہ اٹھ بیٹھا اور بازار میں ٹہلنے لگا ۔اُس نے یوں محسوس کیا جیسے اُس سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے۔لیکن اس گناہ میں ایک لذت تھی گو یہ سب چیز عالم خیال کی تھی،پھر بھی اُس کے ہونٹوں نے عجیب قسم کا حظ محسوس کیا تھا اوروہ یہ کبھی محسوس کرتا تھا کہ اُس لڑکی نے بھی جس کے نام تک سے وہ ناواقف تھا ،اس لمس سے لطف اٹھایا تھا۔

          صبح ہوئی ۔عیدے نے دروازے پر دستک دی ۔دروازہ اُس لڑکی نے کھولا۔۔۔اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔عیدے کے دل پر ایک اور گھونسا لگا۔اُس نے کھڑے کھڑے دہلیز کے باہر ہی سے پوچھا ”طبیعت کیسی ہے اب“بھاری پپوٹوں کے پیچھے اُس کی آنکھیں متحرک ہوئیں ”ٹھیک ہے“

          مائی جیواں کہاں ہے؟ ابھی تھوڑی دیر ہوئی اپنے گھر گئی ہے ۔کہتی تھی ناشتہ تیار کرکے لاتی ہوں۔عیدے نے مائی جیواں کو دل ہی دل میںلا کھوں دعائیں دیں پھر اُس لڑکی سے مخاطب ہوا ”کیا تمہارا فیصلہ وہی ہے جو کل تھا؟لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا ”ہاں“

          عیدے نے کہا اچھی طرح سوچ لو!“

          میں سوچ چکی ہوں ۔۔۔اس عرصے میں مجھے سوچنے کے علاوہ اور کام ہی کیا تھا “۔

          عیدا خاموش ہوگیا۔مگر اُس نے محسوس کیا کہ وہ چور آنکھ سے اس لڑکی کی جوانی کا جائزہ لے رہا ہے۔اُس کے نزدیک یہ بڑی واہیات حرکت تھی مگر وہ باوجود کوشش کے اس سے باز نہ رہ سکا۔

          عیدے نے اُس لڑکی کے لئے جس کا نام روپ کور تھا آسایش کے تمام سامان مہیا کردئیے۔آہستہ آہستہ اُس نے اُس کو تین جوڑے بنوادئیے۔ کنگھی اور تیل تو وہ دوسرے روز ہی لے آیا تھا ۔حالانکہ اُن دنوں قریب قریب تمام دکانیں بند رہتی تھیں ۔عیدا حیرت زدہ تھا کہ روپ اس کے سُونے گھر میں خوش تھی ۔۔اُس کا چہرہ جو پہلے روز اجڑا پجڑا دکھائی دیتا تھا،اب کسی قدر کھلا ہوا تھا ۔وہ اب مسکراتی بھی تھی ۔گو اُس کی یہ مسکراہٹ آہوں کے ساتھ گھلی ملی ہوتی تھی ۔عیدا خوش تھا مگر اُسے ایک بات کا دکھ تھاکہ اُس کا دل روپ کی طرف دوڑ رہاتھا۔ایک دن جب اُسے موقع ملا تو اُس نے روپ کو صاف لفظوں میں کہہ دیا ۔دیکھو روپ تم یہاں سے چلی جاو ۔تم جوان ہو ۔میں بھی جوان ہوں میرے دل میں تمہیں دیکھ کر معلوم نہیں کیا ہوتا ہے۔ابھی وقت ہے میں اسے سنبھال لوں گا۔لیکن اگر تم یہاں کچھ دیر اور رہیں تو میں نہیں کہہ سکتا کیا ہوگا۔کیا ہو جائے گا۔تم چلی جاو۔روپ کور نے صرف اتنا کہا۔میرا کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں ۔میں یہیں رہوں گی “

          عیدے نے چڑ کر کہا ”تو نفع نقصان کی تم ذمہ دار ہو ۔جب سے تم آئی ہو ،میں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں سویا ۔ساری راتیں جاگتا رہا ہوں۔“

          ”کیوں؟“

          عیدے نے اور زیادہ چڑ کرکہا۔اس لئے کہ تم جوان ہو۔خوبصورت ہو۔اس لئے کہ تم میرے دل کے اندر گھس گئی ہو۔۔۔پھر اس نے لہجہ کی تلخی دور کی دیکھو روپ میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں انسان ہوں تمہارے آنے سے پہلے میں اپنی شادی کا سوچ رہاتھا مگر یہ کم بخت فسادات آگئے اور میرے خواب ادھورے رہ گئے ۔مگر اب تم میرے پاس ہو۔لیکن تمہارے متعلق کچھ سوچنا میں گناہ سمجھتا ہوں ۔پھر بھی کیا بھروسا ہے۔۔عیدا لاکھ ایماندار سہی ،مگر وہ اپنے جی پر تو قابو نہیں رکھ سکتا ۔دل ہے اُس کو وہ کیسے اس بات سے باز رکھ سکتا ہے کہ وہ کسی کو دیکھ کر نہ دھڑکے۔۔سو میری جان ۔۔“

          میری جان کہنا بہت بڑی زیادتی تھی ۔عیدے نے اِسے محسوس کیا اور روپ سے معافی مانگی۔ دیکھو اب میری زبان بھی میرے قابو میں نہیں رہی ۔۔خدا کے لئے تم چلی جاو یہاں سے !روپ نے عیدے کو غور سے دیکھا اور صرف اتنا کہا عیدے اب تو میں ایک قدم باہر نہیں نکال سکتی۔بڈھی مائی جیواں کو تمام حالات معلوم تھے ۔ادھر اُدھر پڑوس کے آدمیوں نے جب اُس سے پوچھا کہ عیدا عورت کہاں سے اڑا کر لایا ہے تو اُس نے اپنے مخصوص انداز میں اُن سے کہا”ہائیں ۔۔عیدا اور عورتیں اڑا کر لائے ۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا ؟وہ تو مہاجر لڑکی ہے جو عیدے کی رشتے میں۔۔۔خدا تمہارا بھلا کرے ۔چاچے کی لڑکی ہے۔بے چاری کے ماں باپ فساد میں مارے جا چکے ہیں ۔۔جانے کتنی مصیبتوں کے بعد اڈے تک پہنچی ۔۔۔یہ تو اس کی قسمت تھی ورنہ اس زمانے میں صحیح و سلامت اپنے ٹھکانے پر پہونچنا بھی تم جانتے ہو۔۔۔

          اور وہ لوگ سب جانتے تھے کہ بہت مشکل ہے۔

          اڈے کے کوچوان روزانہ سیکڑوں روپے کماتے تھے بعض اوقات ہزاروں ۔لوٹ کھسوٹ میں حصہ لیتے تھے ،مگر عیدا اُن سے الگ تھلگ تھا۔اُس کو ایسا محسوس ہوتاتھا کہ اُس کے ہم پیشہ لاشوں کی تجارت کررہے ہیں۔وہ ہر روز اڈے میں موجود ہوتا تھا مگر اُس کی کمائی وہی تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی کئی لالے اُسے سوسو کے نوٹ دیتے تھے مگر وہ لوٹا دیتا تھا ”نہیں لالہ جی ،مجھے وہی کرایہ دیجئے جو آپ پہلے دیا کرتے تھے“اور لالے سخت متحیر ہوتے تھے کہ یہ عیدا کیسا آدمی ہے۔۔۔۔مگر عیدا جیسا بھی تھا بہت مطمئن تھااُس کو روپ کی محبت مل گئی تھی ۔اُس گودڑ میں جس میں کہ وہ ایک عرصے سے رہ رہاتھا ،اُسے ایک لعل مل گیا تھا ۔جب وہ شام کو گھر جاتا تو روپ اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوتی حالانکہ اُس کی اِس خوشی میں بھی غم کی ایک گہری لکیر نمایا ں ہوتی۔عیدا باہر سوتا تھا۔اب مائی جیواں کے گھر سے کھانا نہیں آتا تھا۔روپ خود پکاتی تھی اُن دنوں جو بھی دستیاب ہوتا عیدا لے آتا ۔اُس نے کئی مرتبہ روپ سے کہا”دیکھو روپ ۔۔تمہارا مذہب اور،میرا اور ۔۔تم اپنے لئے پکا لیا کرو ۔۔میں مائی جیواں کے ہاں کھا لیا کروں گا ۔۔اتنے برس اُس کے ہاں کھاتا رہا ہوں۔مگر وہ نہیں مانتی تھی عیدے سے کہتی ”اِن فسادوں نے مجھے بتادیا ہے کہ مذہب وذہب سب بکواس ہے۔۔۔اگر تم سکھ ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ مجھے مار ڈالتے ۔۔۔تم مسلمان ہو مگر تم نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا میں نہیں کہتی کہ سب مسلمان اچھے ہیں اور سب سکھ برے۔۔نہیں ۔۔۔دونوں قوموں میں اچھے برے سبھی موجود ہیں ۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ تم ایک اچھے مسلمان مجھے مل گئے ،ورنہ میں تباہ اور برباد ہوگئی تھی ۔۔اور شائد مر بھی گئی ہوتی ۔۔تم کھانے کے متعلق کہتے ہو ۔۔اس میں کیا رکھا ہے۔تم اگر میرے ہاتھ کا پکا کھا لوگے تو کیا مسلمان نہیں رہوگے ۔میں اگر تمہارے ساتھ بیٹھ کر تمہارا جوٹھا کھاتی ہوں تو اس میں مذہب کہاں سے آجائے گا ۔۔تم مجھ سے ایسی نکمی باتیں نہ کیا کرو عیدے! اور ایک مہینے کے بعد روپ عیدے کی آغوش میں تھی ۔۔اُس رات وہ بالکل مدہوش رہا ۔اُسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔بس ہوگیا اور وہ روپ کا ممنون و متشکر تھا۔مگر وہ اس تشکر کا اِظہار نہ کرسکا اور سارا دن غائب رہا۔اُس نے دوپہر کی روٹی کسی بھٹیارے کے ہاں بھی نہ کھائی۔اُس کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اُس سے کوئی گناہ سر زد ہوگیا ہے۔۔۔بہت بڑا گناہ رات کو وہ ٹانگہ گھوڑا اصطبل میں چھوڑ کر خالی پیٹ چپ چاپ اپنے گھر کے باہر کھری چارپائی پر لیٹ گیا نیند کیا آنی تھی ۔بس کروٹیں بدلتا رہا اور اپنے گناہ کے متعلق سوچتا رہا۔لیکن صبح کو جب روپ سے اُس کی ملاقات ہوئی اور اُس کے ہو نٹوں پر ایک عجیب قسم کی حزنیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تو اُس کا احساس گناہ غائب ہوگیا ۔۔اور ایک مہینے کے اندر اندر تو وہ یوں آپس میں گھل مل گئے جیسے برسوں کے شادی شدہ ہیں۔فسادات کے باعث حالات بہت خراب تھے آمدن کے علاوہ اور کوئی ذرائع نہ تھے اڈے کے تمام کوچوان سیکڑوں بلکہ ہزاروں کماتے تھے ،مگر اس قسم کی کمائی سے عیدے کو کوئی دلچسپی نہ تھی وہ اِسے حرام کاری سمجھتا تھایہی وجہ ہے کہ اُس کی آمدن بہت کم ہوگئی تھی ۔کبھی دو روپے۔۔کبھی تین اور کبھی کچھ بھی نہیں ۔اُدھر کئی دنوں سے وہ محسوس کررہاتھا کہ روپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔وہ اندر ہی اندر گھلی جارہی تھی،عیدے کو معلوم تھا کہ یہ اندرونی غم ہے ۔اُس کے ماں باپ کی موت کا۔ اُن حادثات کاجو روپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے دیکھے تھے۔ اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کا غم کسی حیلے ہلکا ہوجائے مگر ناکام رہا ۔یوں تو روپ ہر وقت اُس کے سامنے مسکراتی رہتی تھی مگر عیدا محسوس کرتا تھا کہ یہ مسکراہٹیں سب مصنوعی ہیں،صرف اُس کو دھوکا دینے کے لئے ہونٹوں پر پیدا کی جاتی ہیں۔روپ میں اب وہ روپ ہی نہیں تھا دن بدن سوکھ کے کانٹا ہوئی جارہی تھی ۔اُ کی یہ حالت عیدے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی اُس نے مزنگ کے ایک مشہور حکیم سے مشورہ لیا تو اُس نے بتایا کہ اُس کی روپ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہے جس کا علاج لگ کے ہونا چاہیے عیدے نے اپنا دوسرا ٹانگہ بیچ دیا ۔لگ کے روپ کا علاج کیا ،مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ مائی جیواں نے اُس سے کہا کہ حکیموں کا علاج چھوڑو،کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاو ۔جواچھے ڈاکٹر تھے ،وہ ہندوستان جاچکے تھے۔بہر حال عیدے کو جو بھی اچھا ڈاکٹر ملا،روپ کے متعلق اُس سے مشورہ لیا۔سیکڑوں روپے پانی کی طرح بہہ گئے ۔روپ کو معلوم تھا کہ عیدا اُس پر کس طرح جان ماررہا ہے،اور کس طرح اپنا روپیہ ضائع کررہاہے،چنانچہ وہ اُس سے دن میں کئی مرتبہ کہتی عیدے ۔۔اپنا روپیہ ضائع نہ کرو ۔۔مجھے کوئی بیماری نہیں ۔۔میں ٹھیک ہوں اور ٹھیک ہو جاﺅگی ۔۔تم فکر نہ کرو !“

          مگر عیدا سر تا پا فکر تھا۔اُس کو روپ سے محبت تھی۔وہ اپنی جان تک دینے کے لئے تیار تھا اگر کوئی ڈاکٹر اُس سے کہتا کہ دیکھو تمہاری روپ بچ سکتی ہے ،بشرطیکہ تم اپنا سارا خون اُسے دے دو،تو وہ فورا تیار ہو جاتا۔۔اپنے گھوڑے کو تھوڑی دیر کے لئے پیار کرتا اور اُس سے رخصت لے کر اپنا سارا خون ڈاکٹر کے حوالے کردیتا۔گھوڑے سے اُسے بہت پیار تھا ۔لیکن یہ پیار اب بٹ گیا تھااب رُوپ ہی رُوپ تھی لیکن اس کے باوجود جب بھی اُسے چند لمحات فرصت کے ملتے تو وہ اپنے گھوڑے کی گردن میں باہیں ڈال کر اُسے چومتا چاٹتا ۔اُس کے ایا ل پر پیار سے ہاتھ پھیرتا اور اُس کی بلائیں لیتا۔مثل مشہور ہے کہ مصیبتیں تنہا نہیں آتیں ۔ایک روز صبح سویرے اصطبل سے خبر آئی کہ عیدے کا گھوڑا یک لخت بیمار ہوگیا ہے بچنے کی کوئی اُمید نہیں عیدے نے زرد رو، روپ کی طرف اجازت لینے والی نگاہوں سے دیکھا اور بھاگا اصطبل پہونچا ،مگر اُس کے پہنچنے سے پہلے وہ دم توڑ چکا تھا۔عیدے نے رونا چاہا ،مگر اُس کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہ آیا گھوڑے کی لاش اٹھوا کر گھر آیا تو اُس نے روپ سے اس موت کا کوئی ذکر نہ کیا ۔۔لیکن دل ہی دل میں وہ رو رہاتھا۔۔اُس کو اپنا گھوڑا بہت پیارا تھا۔۔لیکن روپ اس سے بھی کہیں زیادہ پیاری تھی۔اصل میں گھوڑے کی موت کا غم روپ کے زرد چہرے ہی نے عیدے کے پاس آنے نہیں دیا تھا۔

          گھوڑے کی موت یقینا عیدے کی زندگی کا بہت بڑا صدمہ تھی مگر اُس نے اُس وقت اسے محسوس نہیں کیا تھا ۔لیکن جب دوادارو کے لئے پیسوں کی ضرورت محسوس ہوئی اور عیدے کی جیب بالکل خالی ہوگئی تو وہ بہت مضطرب اور پریشان ہوا ۔صبح سویرے روپ کے زرد رخساروں کو چوم کر باہر نکل جاتا کہ کام پر جا رہا ہے۔مگر اب کام کہاں تھا۔اُس کے گھوڑے کی ہڈیاں پسلیاں معلوم نہیں ۔،کہاں تھیں ۔بک گئی تھیں یا دفنا دی گئی تھیں ۔

          اب وہ ادھر اُدھر سے قرض مانگ مانگ کر گذارہ کر رہاتھا۔روپ کی دوائیں تھیں ۔گھر کا خرچ علیحدہ تھا۔مگر عیدے نے روپ پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیاتھاکہ وہ تہی دست ہے۔ہر دوا وقت پر آجاتی تھی ۔سودا سلف بھی باقاعدہ آرہاتھا۔لیکن یہ عیدا ہی جانتا تھاکہ یہ سب کچھ کیسے ہورہا ہے وہ قرض کے نیچے دبا چلا جا رہاتھا۔عیدے نے پہلے تو اپنا ٹانگہ کرائے پر اٹھا دیاتھا ۔مگر اُس سے کیا ملتا تھا ایک دو روپے اور وہ بھی قسطوں میں ۔۔۔تنگ آکر اُس نے اپنے دونوں ٹانگے بیچ دیئے۔۔اب اُسکے پاس کافی روپے تھے ۔ان سے اُس نے روپ کے علاج کی طرف مزید توجہ دی۔شہر کا جو بڑے سے بڑا ڈاکٹر تھا اُس کو بلایا ۔اُس کو منہ مانگی فیس دی۔۔مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔۔مگر اس اثنا میں وہ ایک لڑکے کا باپ ہوگیااور روپ اور زیادہ کمزور ہوگئی۔عیدا تلملا رہا تھا ۔اگر حالات پہلے جیسے ہوتے تو اُسے کیا پرواہ تھی ۔وہ روپ اور اُس کے بچے کو ہر قسم کی راحت پہونچاتا ۔مگر اب اُس کی آمدن کے وسائل ہی نہیں تھے ۔دو ٹانگے بیچ کر جو رقم اُسے ملی تھی،وہ قریب قریب زچہ اور بچہ پر خرچ کر چکا تھا۔بچے کو دودھ چاہئے تھا،مگر روپ کی چھا تیاں خشک تھیں۔۔کچھ عرصے تک وہ ڈبے کا دودھ لاتا رہا۔مگر ایک دن دکاندار نے اُدھار دینا بند کردیا۔۔عیدے کی حالت اُس روز قابل رحم تھی وہ چاہتاتھا کہ خدا اُس پر بجلی گرائے اور اُسے دودھ کا سفوف بنادے ،جو اُس کے بچے کے کام آسکے۔ روپ سمجھتی تھی۔۔روپ سب کچھ سمجھتی تھی کہ عیدے پر کیا گذررہی ہے۔۔اُس کو آہستہ آہستہ غیر شعوری طور پر یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ عیدا بنتا ہے۔۔اُس کے پاس روزی کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں۔۔جب کوئی شخص دروازے پر آتا تھا اور عیدا اُسے ایک طرف لے جا تا تھا تو روپ کو یہ تکلیف دہ احساس ہوتا کہ وہ اُس سے منتیں خوشامدیں کررہا ہے کہ وہ اس کو کچھ عرصے کے لئے بخش دے۔۔ روپ کے لئے یہ لمحات بہت تکلیف دہ تھے ۔وہ دل میں یہ سمجھتی تھی کہ وہ منحوس ہے ۔۔عیدا اچھا بھلا تھا۔بڑے مزے کی زندگی بسر کررہاتھا۔لیکن جب وہ اُس کی زندگی میں زبردستی داخل ہوئی تو ہر چیز الٹی ہوگئی ۔گو عیدے نے اُس کو گھوڑے کی موت اور ٹانگوں کی فروخت کے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا مگر وہ جانتی تھی کہ یہ سب کچھ ہوچکا ہے۔اور صرف عیدے کی خاطر وہ اُس سے اپنے صحیح اندیشوں کا ذکر نہیں کرتی تھی کہ وہ اور زیادہ ملُول ہوگا۔ دن گذرتے گئے اور عیدا قرض کے بوجھ تلے دبتا گیا۔وہ جب اپنے ٹانگے گھوڑے کے متعلق روپ سے بات کرتا تھا تو اُس کی پیشانی عرق آلود ہو جاتی تھی ،اس لئے کہ اب وہ اُس کی ملکیت ہی نہیں تھے گھوڑا مرچکا تھااور دو ٹانگے خدا معلوم کون چلا رہے تھے ۔مائی جیواں نے حتی المقدور عیدے کی مدد کی مگر وہ ایک بیوہ عورت تھی ،جس کی آمدن کے وسائل بہت محدود تھے۔وہ کب تک عیدے کا سہارا بن سکتی تھی اور خود عیدا بھی اتنا خوددار تھا کہ وہ کسی کی مددایک لمبے عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا تھا ۔دن گذرتے گئے اور ایک دن وہ آگیا ۔جب ڈاکٹر نے عیدے سے کہہ دیا کہ اُس کی روپ کی جان خطرے میں ہے اور یہ وہ دن تھے جب عیدے کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا ۔یہ صرف روپ تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح گذارہ کرلیتی تھی ۔بچے کو اپنی سوکھی چھا تیوں پر پالتی تھی مگر عیدے سے کچھ نہیں کہتی تھی۔روپ کی جان واقعی خطرے میں تھی ۔دق کی آخری منزل تھی اور عیدا بالکل لاچار تھا۔۔اُس کے پاس اب کچھ بھی نہیں تھا۔اُس نے بہتیری کوشش کی کہ کوئی اُسے کوچوان کے طور پر ملازم رکھ لے ۔مگر اُن دنوں کوچوانوں کی اتنی بھر مار تھی کہ اُسے کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔اپنے دوستوں یاروں سے الگ شرمندہ تھاکہ اُن سے قرض لے چکا تھا۔اور ادا نہیں کر سکا تھا اب وہ کیا کرتا۔روپ سے اُسے بے پناہ محبت تھی ۔۔اور وہ سوکھا ،مریل سا لڑکا جو روپ کی کوکھ سے پیدا ہوا تھا ،اُسے بے حد عزیز تھا ۔اس لیئے بھی کہ وہ اُس کا اپنا لخت جگر تھا۔مگر مصیبت یہ تھی کہ عیدے کے پاس اب پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی اور اُس کو اِس بات کا بہت بڑا دکھ تھا کہ وہ جو کبھی سیکڑوں گھوڑے کی معمولی بیماری پر خرچ کر دیتا تھا اب اِس قابل بھی نہیں تھا کہ اپنی روپ اور اپنے بیٹے کے لئے چند آنوں کا شربت بھی لاسکے ۔مفلسی کے ایسے سخت دن عیدے نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھے تھے ۔ہر وقت مغموم رہتا تھا ۔ٹانگہ گھوڑا بک گیا تھا ۔لیکن پھر بھی وہ روپ پر بھی یہی ظاہر کرتا تھاکہ وہ موجود ہے اور ہر روز وہ صبح سے لے کر شام تک اُسے جو تتا ہے ۔۔لیکن یہ سب جھوٹ تھا ۔۔شام کو جب وہ گھر آتا تو کسی سے ادھار لے کر اپنے تہمد کے ڈب میں دو ڈھائی روپے ڈال لیتا اور روپ سے کہتا ،کاروبار بہت مندا ہے ،بس یہی کچھ ملا ہے،اور روپ کے ہو نٹوں پر حزنیہ مسکراہٹ نمودار ہوتی اور چند لمحات کے بعد غائب ہوجاتی ۔۔وہ سب کچھ سمجھتی تھی ۔۔سب کچھ جانتی تھی۔

          روپ دل ہی دل میں یہ سمجھتی تھی کہ عیدے کی تباہی کا باعث اس کا وجود ہے۔۔اگر وہ اُس کی زندگی میں نہ آتی تو وہ یقینا خوش حال رہتا۔۔اُس نے خواہ مخواہ اُس پر اپنی زندہ لاش کا بوجھ ڈالا۔ اُس کی خواہش تھی کہ وہ مرجائے تاکہ عیدا پھر سے اپنی پہلی دنیا میں چلا جائے ۔وہ یہ بھی چاہتی تھی کہ جو مریل سا لڑکا اس کے بطن سے پیدا ہوا ہے ،وہ بھی اس کے ساتھ ہی موت کی آغوش میں چلا جائے۔روپ کی صحت دن بہ دن گر رہی تھی۔۔۔اور عیدا دن بدن قرض کے بوجھ تلے دبا جارہا تھادونو ں ایک دوسرے سے تکلف برتتے تھے ،جیسے دور کے رشتے دار ہوں ۔عیدا ہر روز روپ کا مزاج پوچھتا تھااسی طرح روپ اس کی اور اُس کے گھوڑے کی صحت کے متعلق پوچھتی تھی ۔۔حالانکہ گھوڑے کے متعلق اُسے یقین تھا کہ مرکھپ چکا ہے۔چند مہینوں کے بعد اُس کی اپنی صحت اتنی گر گئی کہ عیدا سر تا پا تشویش بن گیا۔مگر روپ برابر یہی کہتی تھی کہ فکر کی کوئی بات نہیں ۔۔دس بیس روز میں ٹھیک ٹھاک ہوجائے گی ۔کئی دس بیس روز گذرگئے مگر روپ کی صحت گرتی گئی۔ بچہ تو یوں بھی سوکھا اور کمزور تھا اُس کی جو حالت تھی، اُس کے متعلق فورا اندازہ لگا یا جا سکتا تھا۔سب سے بری حالت عیدے کی تھی۔روپ اپنے متعلق کچھ نہیں کہتی تھی لیکن عیدے کو یقین تھاکہ اُس کی حالت بہت نازک ہے۔اُس کو بچے کی کوئی فکر نہیں تھی اس لئے کہ اسکی پیدائش ہی پر عیدے کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گالیکن روپ کے متعلق و ہ جب بھی سوچتاتو اُسے سخت صدمہ پہو نچتا۔ اُس کی آمدن کے اب کوئی ذرائع نہیں تھے اُس نے روپ سے سب کچھ چھپا کے رکھا تھا ۔مگر اس کو ہر حقیقت معلوم تھی ۔عورت انجانے طور پر بھی سب کچھ جان لیتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ وہ اند ہی اندر گھلی جارہی تھی ۔پاکستان کی تیسری سالگرہ تھی اور بہت ٹھاٹ سے منائی جا رہی تھی ۔لیکن عیدے کے لئے یہ دن ماتم کا دن تھا اس لئے کہ وہ اپنی روپ کے لئے دوا خریدنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تھا وہ دوا جو ڈاکٹروں نے بتائی تھی بلیک مارکیٹ سے ملتی تھی اور عیدے کے پاس اتنے روپے کہاں تھے کہ وہ بلیک مارکیٹ سے کوئی چیز حاصل کرتا۔قرض مانگنے کا سلسلہ کب تک جاری رہتا۔عیدے کا بال بال مقروض تھا۔وہ اب کسی کے سامنے دست سوال دراز ہی نہیں کر سکتا تھا۔کس سے مانگتا؟۔۔جس سے وہ مانگ سکتا تھا،اُس سے کئی مرتبہ مانگ چکا تھااور جو کچھ مانگا تھا واپس ادا نہیں کرسکا تھا۔۔عیدا تنگ آکر اب یہ سوچنے لگا تھا کہ خود کشی کرلے اور تمام جھنجھٹوں سے نجات پا جائے مگر اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی روپ بہت زیادہ بیمار ہوگئی۔مائی جیواں نے ایک روز طعنے کے طور پر اُس سے کہا کہ یہ تمہارا مرد عیدا کیسا ہے کہ تمہارے لیئے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔اُس نے ایسی ہزاروں باتیں کیں کہ جب عیدا آیا تو روپ نے اُس سے کسی قدر تلخ کلامی کی اور کہا کہ تم اب تک مجھ سے فریب کرتے رہے ہو ۔تمہارے پاس گھوڑا ہے نہ ٹانگہ ۔۔تم اگر میرا علاج نہیں کراسکتے تو بہتر ہے کہ مجھے اور میرے بچے کو گلا گھونٹ کے مار ڈالو۔

          عیدے نے یہ تلخ کلامی سنی ،مگر اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکالا اور باہر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر کے پاس۔۔ڈاکٹر اُس کی حالت جانتا تھا۔اُس نے عیدے سے کہا ،دیکھو بارہ روپے کی دوائیں آئیں گی اگر تم اتنی رقم لے آو تو میں علاج شروع کردونگا۔اس کے بغیر میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔عیدا ڈسپنسری سے بارہ روپے پیدا کرنے کے لئے چلا گیا۔بارہ روپے کہاں سے پیدا ہوں ؟۔۔کوئی شخص عیدے کو ادھار دینے کے لئے تیار نہیں تھا،اس لئے کہ اُس کے پاس اب کوئی ٹانگہ گھوڑا نہیں تھا۔سارا دن وہ اِدھر اُدھر چکر لگاتا رہا۔۔کئی آدمیوں کے پاس گیا جو اُس کی جان پہچان کے تھے مگر اُن سے وہ ایک پیسہ بھی نہ مانگ سکا ۔۔آخر وہ اپنے ایک عزیز دوست کے پاس گیا جو اُس کا لنگوٹیا بھی تھا ۔عیدے نے اُس سے ضرورت کے بارہ روپے قرض کے طور پر مانگے جو اُس نے فورا دے دئیے۔یہ روپے لے کر جب عیدا گھر کی جانب روانہ ہوا تو اُس کے دماغ میں روپ کی باتیں گونج رہی تھیں ۔اُ س روپ کی جس نے کبھی شکایت نہیں کی تھی۔اُس نے اُس سے کہا تھا کہ تم میرے لئے کیا کروگے جب کہ تمہارے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ۔دو نوں ٹانگے تم بیچ چکے ہو۔گھوڑاتمہارا مرچکا ہے۔اب میری باری ہے۔تم مجھے نہیں بچا سکتے۔۔تم بے پرواہ ہو!۔عیدے کے سینے پر سب سے بڑا مکا صرف یہ بے پروائی کا تھا۔یہ اُس کا دل جانتا تھاکہ وہ کتنا بے پرواہ تھا۔روپ سے اُسے بے انتہا محبت تھی ۔وہ اس کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار تھا چنانچہ اُس نے زہر کے گھونٹ پی کر روپ سے صرف اتنا کہا تھا ”روپ جی،میں بے پرواہ نہیں ۔۔میرا خدا بے پرواہ ہے ۔۔خدا کی قسم وہی بے پرواہ ہے“اور روپ نے دیکھا تھا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔شام کو وہ بارہ روپے حاصل کرکے لوٹا۔اُس کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اُس کی جیب میں روپ کی زندگی ہے۔۔وہ پہلے ڈاکٹر کے پاس گیا۔اُس کے پاس بارہ روپے تھے ،چنانچہ اُس نے ڈاکٹر سے کہا۔دیکھئے،روپے میں لے آیا ہوں ۔گھر جاتا ہوں اور اپنی بیوی کو آپ کے پاس لاتا ہوں کہ آپ اُسے اچھی طرح دیکھ لیں ۔یہ کہ کر اُس نے بڑے اطمینان سے اپنے گھر کا رخ کیا راستے میں اُسے کئی جان پہچان کے آدمی ملے اِن سے علیک سلیک کرتا گھر پہونچا،مگر اُس نے دیکھا کے دروازے کے باہر بھیڑ لگی ہے۔وہ بہت متعجب ہوا ۔مائی جیواں بھیڑ میں موجود تھی اور زور زور سے بول رہی تھی،معلوم نہیں کیا کہہ رہی تھی ۔جب عیدا پاس گیاتو وہ اُس سے چمٹ کر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔عیدا بہت پریشان ہوا ۔اُس نے پوچھا”کیا بات ہے مائی جیواں؟“

          مائی جیواں نے اچھی طرح رونے کے بعد بتایا تم لٹ گئے ۔۔برباد ہوگئے ۔۔روپ نے کنوئیں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی ہے۔تمہارا بیٹا۔۔تمہارا بیٹا ۔۔اور عیدے نے دیکھا کہ مزنگ کے آدمی چارپائی پر روپ کی لاش اُس کے گھر کی طرف لا رہے ہیں ۔عیدا دوڑاچارپائی گھر کے دروازے کے باہر رکھ دی گئی ۔عیدے نے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ روپ کے ہونٹوں پر حزنیہ مُسکراہٹ منجمدہے۔اور اُس کے پہلو میں اُس کا پہلوٹی کا لڑکا چپ چاپ لیٹا ہے۔،جیسے ابھی ابھی نہا کر سویا ہے۔مائی جیواں نے عیدے کو بتا یا کہ روپ کو اس بات کا بہت رنج تھا کہ اُس نے کیوں مائی جیواں کی باتیں سن کر عیدے سے سخت بد کلامی کی جب کہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اُس غریب کے پاس کچھ بھی نہیں اُس نے کہا تھا کہ مجھ ایسی عورت ہرگز ہرگز عیدے ایسے شریف آدمی کے قابل نہیںاور بارہ روپے عیدے کی جیب میں تھے جو روپ کے علاج کے لئے قرض مانگ کے لایا تھا۔۔پورے بارہ روپے تھے یعنی بارہ لوہے،جست،یا اور کسی دھات کی ٹھیکریاں۔یہ اُس کی جیب میں بج رہی تھیں صبح جب روپ اور اس کے بچے کا جنازہ اٹھا تو عیدے کی جیب خالی ہوگئی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقے ۔۔۔۔ نوید ظفر کیانی

سیلفیوں میں بٹا ہوا بھیجا ایک چہرہ بنا ٹھنا بھیجا پہلے بھیجا میاں کو تھانے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے