سر ورق / ناول / بلاوا … خورشید پیر زادہ قسط نمبر7

بلاوا … خورشید پیر زادہ قسط نمبر7

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر7

”یار میری تو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ نتن آخر یہاں آ کیوں رہا ہے—- اور وہ بھی شروتی کو لے کر؟-“ روہن حیرت زدہ سا بیٹھا کچھ سوچتے سوچتے اچانک بول پڑا-

”ارے بھائی اس میں اتنا دماغ کھپانے والی کون سی بات ہے- آ رہا ہے تو آنے دے- اس کی بھی سن لینا- دقت کیا ہے؟-“ شیکھر نے روہن کے پاس بیٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا-

”وہ بات نہیں ہے یار- مگر وہ رہیں گے کہاں— نتن کو بھی ایڈجسٹ کرلیتے مگر شروتی-“ بولتے بولتے وہ اچانک رک گیا-

پاس بیٹھا ہوا رویندر بھلا موقع کا فائدہ اٹھانے سے کیسے چوک سکتا تھا- ”یار تمہیں لڑکی کی اتنی پریشانی ہے تو چلو اسے میں رکھ لوں گانا اپنے کمرے میں- ہی ہی ہی-“

”تمہیںاس کے علاوہ بھی کوئی کام ہے کہ نہیں- جب دیکھو-“ روہن نے کسی قدر تیز لہجے میں کہا-

”یار اس بات کو تو بھول ہی جاﺅ- اتنی بڑی کوٹھی میں کیا چھ لوگ بھی نہیں رہ سکتے-“ شیکھر نے اس کو پھر سمجھانے کی کوشش کی-“ اور اگر ضرورت پڑ ی بھی تو ہم اپنے کمرے شیئر بھی تو کر سکتے ہیں- لڑکی اکیلی رہ لے گی-کیا مشکل ہے-“

”یہ بات نہیں ہے یار – پہلے ہی آپ نے اور امان بھائی نے ہم پر احسان کر رکھا ہے-“ روہن بول ہی رہا تھا کہ شیکھر نے پیار سے اس کو لتاڑ دیا-

”تم نے خوب دوست مانا بھائی- احسان کی بات کرکے تو تم نے شرمندہ ہی کر دیا ہے ہمیں- امان کو تم ٹھیک سے جانتے نہیں ہو- یاروں کا یار ہے وہ- اگر تم پوری زندگی بھی یہاں رہنا چاہو تو اس کے چہرے پر شکن تک نہیں آئے گی- بلکہ وہ تو اور بھی خوش ہوگا- اکیلا رہ رہ کر ہی تو وہ شراب کا سہارا لینے لگا ہے— اس جیسا دوست نہ میں نے کبھی دیکھا ہے اور نہ شائد تم کبھی دیکھ پاﺅ گے—- جسٹ ریلیکس اور اپنی تمام توجہ نیرو پر رکھو- اوکے-“

”ٹھیک ہے یار- اور میں کوشش کروں گا انہیں جلد واپس بھیجنے کی-“ روہن نے کہا ہی تھا کہ امان کمرے میں آ گیا-

”کس کو جلدی بھیج رہے ہو بھائی-“

”وہ یار- میرا ایک دوست اور آ رہا ہے کل- ایک لڑکی بھی ہے ساتھ میں-“ روہن نے جواب دیا-

”ارے واہ- پھر تو پارٹی ہونی چاہئے یار- وہ —لڑکی پرسنل ہے کیا؟“ امان نے کچھ رک کر پوچھا-

”نہیں یار- وہ ایسی نہیں ہے- بہت ہی شریف اور بھولی ہے- اس کے ساتھ کوئی ایسی ویسی بات مت کرنا پلیز—- مجھے تو یہی سمجھ نہیں آرہا ہے کہ نتن اس کو لائے گا کیسے؟—- مطلب اس کے گھر پر کیا کہے گا؟-“ روہن نے امان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”شریف لڑکیوں سے تو مجھے ویسے ہی ڈر لگتا ہے بھائی- میں تو ایسی ویسی لڑکیوں سے ہی کام چلا لیتا ہوں- چلو آنے دو- دیکھتے ہیں تمہاری اس شریف اور شرمیلی لڑکی کو بھی—- آج کا کیا پروگرام ہے— “ کہہ کر امان ہنسنے لگا- ”اور تمہارا کیا خیال ہے- کوشل کو بلاﺅں یا نہیں- رات کو آنے کو بول رہی ہے؟-“ اس نے رویندر ی طرف دیکھ کر آنکھ ماری-

”کتنے بجے تک آئے گی- ہا ہا ہا-“ رویندر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا-

اس کی بات کا جواب دینے ہی والا تھا کہ امان کو گوری کی بات یاد آ گئی- اس نے شیکھر کی طرف دیکھا اور بولا-

”گوری یاد ہے تمہیں؟-“

”گوری—- اچھا گوری– ہاں نا- یاد ہے—- کیا ہوا؟-“ شیکھر کو اچانک یاد آگیا-

”تمہیں بلا رہی ہے گھر پر— شام کو چلے جانا— ایک بار-“ امان بولا-

”مجھے— مگر مجھے کیوں؟-“ شیکھر نے حیرت سے پوچھا-

”یہ لے—- یہ بھی میں ہی بتاﺅں- تمہارا ہی کوئی چکر ہوگا اس کے ساتھ‘ یہاں سے جانے سے پہلے-“ امان نے چٹخارہ لیتے ہوئے کہا-

”نہیں یار- جہاں تک مجھے یاد ہے ‘ ایسی تو کوئی بات تھی ہی نہیں-ایک اور بھی تو لڑکی رہتی تھی ان کے ساتھ والے گھر میں- آں- —ہاں—- شلپا-“ شیکھر کو نام اچھی طرح سے یاد تھا- مگر جان بوجھ کر اس نے یاد کرنے کا ناٹک کیا تھا- نہیں تو امان ابھی اس کے لتے لینا شروع کر دیتا- چھپن چھپائی اور رضائی والی بات وہ بھی آج تک نہیں بھولا تھا- آخر پہلی بار اس نے کسی لڑکی کے نرم او رگرم جسم کو چھوا تھا- اور پہلے لمس کا نشہ کون بھول سکتا ہے بھلا-

”وہ بھی وہیں رہتی ہوگی – اب بھی- اس کی ممی کو دیکھا ہے میں نے- گاڑی سے اترتے ہوئے – اس کے ساتھ کوئی چکر تھا کیا؟-“ امان نے پوچھا-

”سب کو اپنے جیسا کیوں سمجھتے ہو تم— لڑکی کا نام آتے ہی تمہیں چکر نظر آنے لگتا ہے-“ شیکھر کہتے ہی ہنسنے لگا-

”ٹھیک ہے— چلا جائے گا نا—- چلے جانا یار ایک بار— نہیں تو وہ سمجھے گی میں نے بولا ہی نہیں ہوگا تمہیں-“ امان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا-

”ہاں- چلا جاﺅں گا-“ شیکھر کی آنکھوں میں شلپا کو دیکھنے کی تڑپ ابھر آئی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

تقریباً پانچ بجے ایک کار گوری کے گھر کے سامنے آکر رکی- شیکھر کا پلکیں بچھائے انتظار کر رہی شلپا کے دل کی دھڑکن اچانک بڑھ گئی-

”گوری- دیکھ تو آگیا کیا-“

”آگیا ہوگا تو اندر ہی آئے گا- وہ کیا گھر بھول گیا ہوگا؟-“ گوری نے مذاق میں کہا اور کھڑکی کھول کر باہر جھانکنے لگی-

شیکھر نے کار سے اترتے ہی شلپا کے گھر پر نگاہ ڈالی- کوئی نظر نہیں آیا- بے تاب نگاہوں سے بار بار ادھر ہی دیکھتے ہوئے وہ گوری کے گھر کے دروازے تک آگیا- اپنے کپڑے درست کئے اور ہلکے دستک دی-

”آگیا- جاﺅ تم ہی اس کا استقبال کرو-“ گوری ہنسنے لگی-

”نہیں یار- مجھے شرم آ رہی ہے- جا نا- جلدی جا-“ شلپا بوکھلا سی گئی-”اوہ— میں کیا کروں؟-“

خود سے سوال کرتی ہوئی شلپا ‘ شیکھر کو گوری کے ساتھ آتا دیکھ کر ڈرائنگ روم کے ساتھ والے کمرے میں چھپ گئی- شیکھر کو نظر بھر دیکھنے سے ہی شلپا کے دل میں ہلچل سی مچ گئی تھی- کل تک جس کو وہ للو اور جھینپو کہہ کر پکارتی تھی آج وہ ایک بھرپورمرد اور شاندار فلمی ہیرو کے روپ میں اس کے سامنے موجود تھا- شلپا دروازے کے پیچھے چھپ کر اپنی سانس روک کر کھڑی ہوگئی-

گوری شیکھر کو شلپا کے روپ میں سرپرائز دینا چاہتی تھی- مگر اندر آتے ہی جب اس نے شلپا کو غائب پایا تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی-

”کیا ہوا-“ شیکھر نے بیٹھتے ہوئے پوچھا-”چاچا اور چاچی نہیں ہیں کیا؟-“

”نہیں- کچھ نہیں- گوری نے یونہی مسکراتے ہوئے کہا- ”امی باہر گئی ہیں اور ابو تو ہفتے ہفتے ہی آتے ہیں— یہ لو-“ گوری نے پانی کا گلاس دیتے ہوئے کہا-

”شکریہ- یہاں تو کچھ بھی نہیں بدلا- سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے-“ شیکھر ‘ شلپا کے بارے میں پوچھنے کے لئے بہانے بنا رہا تھا-

”لیکن تم تو بہت بدل گئے ہو شیکھر- ماڈلنگ کی تیاری کر رہے ہو کیا- ہی ہی ہی-“ گوری نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے شیکھر کے ڈیل ڈول اور خوبصورتی کو سراہتے ہوئے کہا-

”ارے نہیں- کہاں ماڈلنگ—- انسان تو بدلتے ہی رہتے ہیں- وقت کے ساتھ ساتھ-“ شیکھر نے کہا-

”سچ— لیکن اگر کوئی اب تک بھی نہیں بدلا ہو تو؟-“ گوری کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تیر گئی-

”کیا مطلب؟-“ شیکھر سچ مچ کچھ نہیں سمجھا تھا-

”ایک منٹ-“ کہہ کر ہنستے ہوئے گوری اندر گئی اور دروازے کے پیچھے کھڑی شلپا کا ہاتھ پکڑ کر باہر کھینچنے لگی- شلپا شرم سے مری جا رہی تھی-

”ارے چھوڑو – پلیز چھوڑ دو نا-“ مگر گوری پر شلپا کی التجا کا کوئی اثر نہیں ہوا- زبردستی کھینچ تان کر وہ شلپا کو ڈرائنگ روم میں شیکھر کے سامنے لے آئی – شلپا کی تو جیسے دل کی دھڑکن ہی تھم گئی- پہلی ہی نظر میں شیکھر نے شلپا کو پہچان لیا- سیاہ لانبے کھلے ہوئے بالوں میں اس کا چہرہ بادلوں کی آڑ میں چھپے ہوئے چاند کی خوبصورتی کو مات دے رہا تھا-

جیسے تیسے خود کو چھڑا کر شلپا واپس اندر بھاگ گئی-

”پہچانا اس کو؟-“ گوری نے ہانپتے ہوئے پوچھا-

”ہاں- شلپا تھی نا- ´“ شیکھر نے جواب دینے کے ساتھ ہی اس سے تصدیق بھی کروانی چاہی-

”ہاں—- باہر آﺅ نا شلپا- یہ کیا بچپنا ہے-“ گوری نے اس کو بلاتے ہوئے کہا-

”ایک منٹ- ذرا یہاں آنا گوری- “

شلپا کے پاس جاتے ہی گوری نے اس کو ہلکے سے ڈانٹا- ”کیا ہے یہ— کیا سمجھے گا وہ- ا ب تم کوئی بچی نہیں ہو- چلو-“

”بچی نہیں ہو ں تبھی تو-“ شلپا بڑبڑائی –

”ارے کچھ نہیں ہوتا- آﺅ-“

گوری نے شلپا کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کردوبارہ ڈرائنگ روم میںلے آئی- شلپا کا چہرہ دیکھنے لائق تھا- وہ آکر بیٹھ تو گئی تھی لیکن شیکھر سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی-

”نمستے-“ شیکھر نے ہی اس کی خاموشی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے سلام کیا-

”نمستے-“ بولتے ہوئے شلپا نے اپنی پلکوں کو اٹھانے کی کوشش کی مگر شیکھر سے نظریں ملتے ہی حیا کے بوجھ سے واپس جھک گئیں- ”کیسے ہو شیکھر؟-“

”نظریں اٹھا کر خود ہی دیکھ لو نا کہ میں کیسا ہوں- ہا ہا ہا-“ شیکھر نے ہنستے ہوئے کہا-

”میں ایک منٹ میں آئی-“ یہ کہہ کر گوری کمرے سے باہر نکل گئی-

”تم تو ایک دم بدل گئی ہو شلپا- یہ سب کیسے ہوا؟-“ شیکھر نے گوری کے جاتے ہی اس کو چھیڑا-

شلپا کو محسوس ہوا کہ شیکھر اس کے جسمانی نشیب و فراز کی بات کر رہا ہے شاید- وہ یہ بات سن کر مزید سکڑ گئی-

”اور سناﺅ کیا کرتے ہو آج کل- کافی اسمارٹ ہوگئے ہو- پہلے جیسے نہیں رہے- جھینپو-“ کہتے ہی شلپا نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا-آہستہ آہستہ اس کی جھجھک ختم ہو رہی تھی-

”تم بھی تو شادی کے لائق ہوگئی ہو- کوئی- لڑکا وڑکا دیکھا ہے کیا؟-“ شیکھر کی اس بات نے اس کے جذبات کو جھنجھنا دیا-وہ بھڑکنا چاہتی تھی مگر بھڑک نہیں پائی- پہلے بھی شیکھر اکثر یہی مذاق اس کے ساتھ کیا کرتا تھا- مگر ان دنوں تووہ یہ بات کہتے ہی رفو چکر ہوجاتا تھا- ورنہ اس کو پتہ تھا کہ شلپا رو رو کر سارے محلے کو اکٹھا کر لے گی-

”تم بالکل ویسے ہی ہو-“ شلپا نے روٹھنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اپنے رسیلے ہونٹوں کو باہر نکال لیا- مگر مسکراہٹ کو اپنے چہرے سے نہیں ہٹا پائی-اور نہ ہی نظریں اٹھا پائی-

”مگر تم اب ویسی نہیں رہیں شلپا- تم تو اب شرمانے لگی ہو- اب تو جھگڑا کرنا بھی بند کر دیا ہے شاید- ورنہ اس بات پر تو میرے اوپر چڑھ کر بالوں کو نوچنے لگتیںتھیں تم-“ شیکھر نے ہلکی مسکان کے ساتھ کہا-

اب شلپا کیا کہتی- اوپر تو وہ اب بھی چڑھنا چاہتی تھی مگر بدن پر جوانی کا چڑھنا ہوا وزن ا س کو آگے بڑھنے سے روک رہا تھا-

”کتنے دن ہو ابھی- یہاں پر؟-“

”پتہ نہیں- سوچ کر تو ہفتے بھر کا آیا تھا- دیکھتے ہیں-“ شیکھر نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ گوری اپنی امی کے ساتھ اندر آتی ہوئی دکھائی دی-جبکہ یہ دونوں پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے دھیرے دھیرے ایک دوسرے کے نزدیک ہونے کی کوشش کررہے تھے- اور انہیں اپنی اس کوشش پر یکدم روک لگانی پڑی–

”نمستے چاچی-“ شیکھر نے کھڑے ہوکر ادب و احترام سے کہا-

”نمستے بیٹا – بڑے دنوں بعد یاد کیا اپنا شہر- ارے کچھ کھانے پینے کو بھی دیا ہے کہ نہیں تم لوگوں نے-“ چاچی نے پوچھا-

”وہ – میں – ٹھنڈا لینے ہی گئی تھی امی– – ابھی دیتی ہوں- “

٭٭٭٭٭٭٭

امان کی کوٹھی پر اوپر بیڈ روم میں بیٹھی نندنی امان کو اندر آتے دیکھ کر چونک گئی اور کھڑی ہوکر ایک کونے میں جا سمٹی-

”کیا ہوا نندنی- میری جان- تمہیں مجھ سے کیا ناراضگی ہے؟-“ امان کی آواز میں ہلکا سا نشہ چھلک رہا تھا-بستر پر بیٹھتے ہوئے اس نے انگلی کے اشارے سے نندنی کو اپنے پاس بلایا-

”لیکن— لیکن تم نے کہا تھا کہ تم میرے پاس نہیں آﺅ گے- تم نے وعدہ کیا تھا-“نندنی نظریں جھکائے کونے میں ہی کھڑی رہی-

”چھوڑو نا یہ وعدے قسمیں- آﺅ نا – پیار کرتے ہیں-“ امان اب بستر پر پھیل چکا تھا-

”نہیں – مجھے نہیں کرنا پیار- تم پلیز جاﺅ یہاں سے-“ نندنی نے ہاتھ جوڑ لئے-

”کمال ہے یار- پیار نہیں کرنا ہے تو رات کو چھپ کر گھر سے آنے کا خطرہ کیوں مول لیا- وہیں سوجاتیں آرام سے- بولو-“

اس بات کا نندنی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا-

”ٹھیک ہے مجھے گھر چھوڑ آﺅ- کوشل کہاں ہے- اس کو بلا دو پلیز ایک بار-“ نندنی لاچار سی وہاں کھڑ ی تھی-

”کوشل رویندر کے ساتھ عیش کر رہی ہے- اس نے مجھے سب بتا دیا ہے- وہ تم کو لانا نہیں چاہتی تھی- میں نے بھی تمہیں نہیں بلایا تھامگر تم خود اپنی مرضی سے اس کے ساتھ آئی ہو-“

نندنی کونے میں اور زیادہ دبک گئی- وہ نہیں چاہتی تھی کہ امان اس کو ہاتھ بھی لگائے-

” ہاں- مگر میں نے بول دیا تھا کہ تم میرے پاس نہیں آﺅ گے- پوچھ لو اس سے-“

”اب یہ تو حد ہوئی یار- میں تمہارے پاس آتا بھی نہیں- مگر وہ کوشل نے بولا تھا کہ تم – مجھ سے— سمجھ رہی ہو نا— ایک بات بتاﺅ- آج تک میں نے تمہیں ہاتھ بھی لگایا ہے-“

نندنی نے اپنا سر انکار میں ہلا دیا-

”میں نے آج تک کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی- حالانکہ مجھے تم پہلے دن سے ہی پیاری لگتی ہو- مگر تمہیں تمہاری مرضی کے خلاف کبھی چھوا بھی نہیں میں نے- سچ تو یہ ہے کہ میں نے کوشل سے دوستی بھی تمہاری ہی وجہ سے کی تھی- تاکہ تمہیں حاصل کرسکوں– مگر دیکھ لو- آج چھ مہینے ہونے کو آرہے ہیں- تم یہاں تین چار بار آچکی ہو- تم نے مجھے ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی اور میں نے تمہاری اس مرضی کا احترام کیا- ہے کہ نہیں-“ امان اب اس کے ٹھیک سامنے آکھڑا ہوا-

”آں– ہاں-“ نندنی سٹپٹا کر بولی-

”پتہ ہے کیوں؟-“ امان نے پھر سوال کیا-

نندنی نے نظریں اٹھا کر جھکا لیں اور امان سے پیٹھ پھیر کر کھڑی ہوگئی– مگر کوئی جواب نہیں دیا-

”کیونکہ تمہارا نام مجھے کسی کی یاد دلاتا ہے— جو میرے دل میں اتر گئی تھی—- ہم ہونہی جدا ہوگئے- ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے- میں ایک بار نندنی کو پانا چاہتا ہوں – مگر زبردستی نہیں-“ امان نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وضاحت کی-

”مگر— مگر میں تمہاری نندنی نہیں ہوں- صرف نام ایک ہونے سے کیا ہوتا ہے؟-“ نندنی بولی-

نندنی گھومی تو اس کو امان کی آنکھوں میں آنسو تیرتے ہوئے نظر آئے-

”ٹھیک کہتی ہو – صرف نام ایک ہونے سے کیا ہوتا ہے- مگر کچھ نہ ملنے سے‘ کچھ مل ہی جائے تو بہتر ہے—- اور تمہارا نام ہی نہیں ملتا اس سے ‘ تمہاری آنکھیں بھی ملتی ہیں- تمہاری آنکھوں میں جو کشش ہے وہ بہت پہلے میں نے نندنی کی آنکھوں میں دیکھی تھی- تمہاری آنکھیں مجھے اپنی طرف کھینچتی ہیں— جیسے کبھی اس کی آنکھیں کھینچتی تھیں- — میں آج بھی اس پل کے لئے خود کو کوستا ہوں جب وہ اپنے گھر میں اکیلی تھی- اور اس نے مجھے اشارے بھی کئے- لیکن میں کبھی ان اشاروں کو سمجھ نہیں پایا– اس کو کبھی چھو نہیں پایا— مگر ایک بار مجھے نندنی کو چھو کر دیکھ لینے دو پلیز- دوبارہ کبھی نہیں بلاﺅں گا-“

امان نے نندنی کو اپنی طرف کھینچا اور اپنا سر اس کے سینے سے ٹکا دیا اور نندنی کے بدن میں عجیب سی کھلبلی مچ گئی- مگر وہ اپنے آپ کو سنبھالے ہوئے تھی-

”اب تو چھو لیا نا- اب تو چھوڑ دو مجھے- میں اور آگے نہیں بڑھنا چاہتی- چھوڑ دو مجھے-“ وہ اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے کوشش کرنے لگی- اوراپنے ہاتھوں سے امان کو پیچھے دھکیلنے لگی-

نشے کا سرور تو تھا ہی‘ نندنی کی اس حرکت نے امان کو بھڑکا دیا-

”تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے لڑکی- میں چھ مہینے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں اور تم نخرے کرتی جا رہی ہو- رویندر کے ساتھ تو تم پہلی ہی ملاقات میں ساری حدیں پار کر گئی تھیں-کوشل سب بتا چکی ہے مجھے- میرے ساتھ کیا دشمنی ہے تمہیں-“ امان نے اس کی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا-

”مم مجھے نہیں پتہ- مگر میں تم سے پیار نہیں کر سکتی- امان تم بہت اچھے ہو- لیکن سمجھنے کی کوشش کرو-“ نندنی نے اس کو پیار سے منانے کی کوشش کی-

لیکن نشہ امان کے دماغ پر پوری طرح حاوی ہوچکا تھا اور کمرے میں طوفان بکھرتا چلا گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

جب امان کمرے سے باہر نکلا تو رویندر اور کوشل بالکنی میں کھڑے ایک دوسرے سے اٹھکیلیاںکر رہے تھے- امان کو دیکھتے ہی کوشل اس کی طرف لپکی لیکن امان کے چہرے پر شکن دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی-

”کیا ہوا؟— بات آج بھی نہیں بنی کیا- “

امان نے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا ”جاﺅ سنبھال لو اس کو- اور آئندہ میرا نام اور نمبر دونوں بھول جانا-“

کوشل اس کی بات سن کر چونک پڑی-

”مگر ہوا کیا— میں تو کتنے دنوں سے کہہ رہی ہوں کہ ایک بار زبردستی کرلو- پھر سب ٹھیک ہوجائے گا- آﺅ میں بتاتی ہوں اس کو-“ کوشل نے امان کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا-

”سب ہوگیا ہے- اب وہ بیٹھی رو رہی ہے- جاﺅ اس کو سنبھال لو اور لے آﺅ اپنے ساتھ- میں تم لوگوں کو چھوڑآتا ہوں- پھر سونا بھی ہے-“ امان نے کہتے ہوئے کوشل سے منہ پھیر لیا-

کوشل امان کے پاس ہی کھڑی رہی- مگر نندنی کے رونے کا سن کر رویندر بنا کچھ کہے اس کے کمرے میں چلا گیا- نندنی بستر پر گھٹنوں میں سر دیئے سبک رہی تھی-

”کیا ہوا؟-“ رویندر بس یونہی اس کے پاس بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھرنے لگا –

نندنی نے اس کی آواز سنتے ہی اپنا سر اوپر اٹھایا- اس نے رویندر کی آنکھوںمیں دیکھا اور اچانک اس کا سبکنا بلکنے میں بدل گیا- چھوٹے بچے کی طرح رویندر کے سینے سے لگ کر زور زور سے رونے لگی-

رویندر کا دل تڑپ اٹھا- ”اگر تمہیں یہ سب پسند نہیں تھا تو تمہیں یہاں آنا ہی نہیں چاہئے تھا-“

اس بات کا نندنی پر الٹا اثر ہوا- کوئی جانتا ہی نہیں تھا کہ وہ یہاں آئی کیوں تھی- نندنی نے اپنے دونوں ہاتھ رویندر کے کندھے پر ٹکا دیئے- وہ اب بھی مسلسل روئے جا رہی تھی- تبھی کوشل کمرے میں داخل ہوئی-

”کیا ڈرامے بازی ہے نندنی- یہ سب کیا ہے- چلو اٹھو- دیر ہو رہی ہے-“

نندنی نے اس کی بات ان سنی کر دی- رویندر اٹھ کر خاموشی سے باہر نکل گیا-

”چلو بھی اب- کیا ہو جاتا ہے تمہیں— کل تو اپنے آپ ہی بیچ میں کود پڑی تھیں اور آج ایسے رو رہی ہو— امان نے کہہ دیا ہے کہ وہ کبھی تمہیں ہاتھ نہیں لگائے گا- سوری بھی بول رہا ہے-“

کوشل نے باتوں کے دوران اس کو اٹھایا اور نیچے گاڑی میں انتظار کرتے ہوئے امان کے پاس لے گئی- رویندر شاید اپنے کمرے میں جاکر لیٹ چکا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

اگلی دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب عمر کوٹ سے گزرتی ہائی وے پر روہن اور شیکھردونوں نتن کے آنے کا انتظار کر رہے تھے- نتن کی کار کو روہن نے دور سے ہی پہچان لیااور شیکھر کی کار سے اتر کر اس کو رکنے کا اشارہ کیا- نتن نے کار روک دی- روہن نے نتن سے ہاتھ ملایا اور ساتھ بیٹھی شروتی کو بے دلی سے وش کرتا ہوا پچھلی نشست پر جا بیٹھا-

”اگلی گاڑی کے پیچھے پیچھے چلنا بھائی-“ روہن نے نتن کو ہدایت دیتے ہوئے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

”تو—- آپ کا کہنا یہ ہے کہ میرے خواب کی وجہ آپ ہی ہیں-“ روہن نے شروتی سے پوچھا- وہ اور شروتی امان کے ڈرائنگ روم میں اکیلے آمنے سامنے بیٹھے تھے- نتن‘ رویندر کو لے کر جان بوجھ کے باہر نکل گیا تھا تاکہ شروتی بھولے بھالے روہن کو آسانی سے اس کی جانب سے رٹائی ہوئی باتیں بول سکے- رویندر ‘ نتن کے پلان میں اڑنگا ڈال سکتا تھا- لیکن وہ کچھ سوچ کر خاموش رہا-

 شروتی روہن کے سوال پر کچھ دیر چپ سادھے رہے- پھر پہلے ہاں میں سر ہلایا اور نظریں اٹھا کر بولی- ”ہاں-“

شروتی کی شکل و صورت اتنی پیاری اور معصوم تھی کہ اگر روہن نے نیرو کو نہ دیکھا ہوتا تو شاید وہ اس کے اسی جواب کو آخری جواب مان لیتا- مگر اب اس کے پاس پوچھنے کے اور بھی بہت ساری باتیں تھیں-

”مگر کیوں؟— میرا مطلب ہے کہ میں نے تمہیں پہلی بار تمہارے گھر ہی دیکھا تھا- اور شاید تم نے بھی- پھر ایسا کیوں کر رہی ہو- اور ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی زندہ لڑکی کسی کے خواب میں آکر جو کہنا چاہتی ہے وہ کہہ سکے- اس کو اپنے پاس بلانے کے لئے بہانے کر سکے- پلیز مجھے ساری بات تفصیل سے سمجھاﺅ- میں بہت کنفیوز ہوں-“

بولنے کے لئے منہ کھولتے ہوئے شروتی کے چہرے پر شکن ابھر آئی- وہ جانتی تھی کہ اب جو کچھ بھی وہ بولے گی‘ جھوٹ بولے گی- نتن کے کہنے کے مطابق کہے گی- جو کچھ اس نے یاد کر رکھا تھا ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی- بنا رکے-

”دراصل جو کچھ بھی ہوا ہے- وہ آدھا میں نے کیا ہے اور آدھا قدرت کی طرف سے ہوا- پہلے میں خوابوںمیں تم دکھائی دینے لگے تھے- میں بے چین رہنے لگی- تم بھی اکثر وہی باتیں کہا کرتے تھے جو میں نے تمہارے سپنے میں کہی- یہ سلسلہ جب مہینوں تک چلتا رہا تو ہار کر میں اپنے گاﺅں کے قریب ایک عامل کے پاس گئی‘ ان خوابوں کی وجہ جاننے کے لئے‘ اس نے مجھے بتایا کہ ہمارا پچھلے جنموں کا کوئی تعلق ہے- اور اسی لئے مجھے ایسے خواب آتے ہیں- ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اکیس دن کا چلہ کاٹ کر ہماری روحوں کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے ہیں تاکہ پھر کبھی مجھے ایسے خواب نہ آئیں-“ کہتے ہوئے شروتی اچانک چپ ہوگئی- نتن نے اس کو ایسا ہی کرنے کو بولا تھا-

”پھر-“ روہن بڑی دلچسپی سے اس کے کہے ہو ئے ہر لفظ پر یقین کرتا ہوا سن رہا تھا – شروتی کے رکتے ہی وہ بے چین ہوگیا- ”آگے بتاﺅ نا-“

”انہوں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے میری زندگی سے دور کرنے کا اطمینان دلایا تھا– – لیکن-“ شروتی پھر چپ ہوگئی- لیکن اس بار نتن کی مرضی کے مطابق نہیں- مگر جو اس کو بولنے کے لئے کہا گیا تھا – شروتی اس کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی-

”لیکن کیا؟-“ روہن جلدی سے بول پڑا-

”لیکن – تب تک مجھے تم سے پیار ہوگیا تھا- رات کو ہی نہیں- میں دن میں بھی تمہارے سپنے دیکھنے لگی تھی- مجھے پتہ نہیں چلا کہ کب ایسا ہوا- پھر جب عامل نے تمہیں میری زندگی سے نکال دینے کی بات کہی تو میں نے منع کر دیا-“ شروتی بولتے بولتے پھر رک گئی-

”تم بیچ بیچ میں رک کیوں رہی ہو- ساری بات بتاﺅ نا- آگے کیا ہوا-“ روہن خود ایسے سپنے دیکھ چکا تھا اس لئے شروتی کی باتوں پر یقین نہ کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں تھا-

” میں نے عامل کو بتایا کہ میں آپ سے پیار کرنے لگی ہوں- اور اگر ہمارا پچھلے جنموں کا کوئی تعلق ہے تو ہم اس جنم میں کیوں نہیں مل سکتے؟— انہوں نے کہا مل سکتے ہو- میں نے ذریعہ پوچھا تو انہوں نے ایک ہی راستہ بتایا- انہوں نے کہا کہ وہ مجھے خواب میں آپ کے پاس بھیج سکتے ہیں- انہوں نے کہا کہ میں جو چاہوں سپنے میں کہہ سکتی ہوں- باقی آپ پر منحصر تھا کہ آپ ان خوابوں کو کیا سمجھتے ہیں- پھر میرے کہنے پر انہوں نے عمل شروع کر دیا- اور میں نے آپ کے خوابوں میں آنے لگی-“ شروتی کی آنکھوں سے آنسو لڑھک گئے- روہن کے پیار میں نہیں- ایک نہایت ہی شریف لڑکے کے سامنے جھوٹ پر جھوٹ بولنے پر-

”اوہ- آپ ایسے کیوں رو رہی ہیں؟-“ روہن نے اس کے رونے کو اس کے بے انتہا پیار کا جذبہ سمجھا- سچ میں- روہن کا دل پگھل رہا تھا اس کی باتیں سن کر- شروتی نے رومال نکالا اور اپنے آنسوﺅں کو پونچھ لیا- مگر پہلے بہے ہوئے آنسوابھی خشک بھی نہیں ہوئے تھے کہ شروتی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-

روہن اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا سمجھانے لگا-

”پلیز آپ رویئے مت- میں آپ کی حالت سمجھ سکتا ہوں- دراصل میں بھی پیار کا مطلب کچھ دن پہلے ہی سمجھا ہوں- نیرو- سوری— تمہارے سپنے میں آنے کے بعد- آپ رویئے مت- پلیز- میرا دل بھی دکھ رہا ہے آپ کو روتے دیکھ کر-“

کتنا فرق تھا روہن اور نتن میں- ایک وہ تھا انسان کی کھال میں چھپا ہوا بھیڑیا‘ جس کے لئے نہ تو دوستی کچھ معنی رکھتی تھی اور نہ جذبات کی کوئی قدر تھی- دوسری طرف روہن‘ انسان کے روپ میں فرشتہ- کتنی شرافت اور انسانیت بھری ہوئی تھی اس کے دل میں-

یہ سب سوچتے ہوئے شروتی نے اپنے بدن کو ڈھیلا چھوڑ کر سر روہن کے کندھے سے ٹکا دیا- آنکھیں یونہی رس رہی تھیں- روہن نے اس کے ہاتھ سے رومال لیا اور اس کے گالوں پر آنسوﺅں سے بنی لکیروں کو صاف کرنے لگا- شروتی کو اس کی نظروں میں ہوس کا ایک قطرہ بھی دکھائی نہیں دیا- اس کے دل میں تو صرف پیار ہی پیار بھرا ہوا تھا-

آہستہ آہستہ شروتی کا رونا بند ہوتا گیا اور وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی- شروتی کو سنبھلتے دیکھ کر روہن کچھ الجھے ہوئے سوالوں کے جواب جاننے کے لئے بے تاب ہوا-

”اگر آپ کچھ بہتر محسوس کر رہی ہیں تو ایک بات پوچھوں-“

شروتی اس کو سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہتی تھی- مگر اس کامطلب صرف اور صرف اس کی اپنی زندگی کی بربادی ہی ہوتا- اس نے پوچھے گئے سوالوں کے لئے خود کو تیار کیا اور روہن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی-

”ہاں میں ٹھیک ہوں- “

”آپ نے مجھے ٹیلے پر کیوں بلایا؟— گھر کیوں نہیں؟— “ روہن واپس اٹھ کر اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا-

”وہ مجھے اس عامل نے ایسا کرنے کے لئے کہا تھا- دراصل عمل وہیں ہو رہا تھا اور عمل کامیاب کرنے کے لئے ایک بار آپ کا آنا ضروری تھا- اس لئے انہوں نے آپ کو وہاں بلایا تھا-“ اس سوال کا جواب شروتی پہلے ہی یاد کئے ہوئے تھی- اس لئے بولتے ہوئے وہ کہیں نہیں جھجھکی-

”اوہ- اس کا مطلب ہے جب ہم وہاں گئے تھے تو اور کوئی بھی وہاں تھا- گاڑی کی ہوا بھی اسی نے نکالی ہوگی- کیا نام ہے اس عامل کا-“ روہن نے یونہی پوچھ لیا-

”پتہ نہیں – — لوگ ان کو ملنگ بابا کہتے ہیں-“ شروتی نے پہلے سے ہی یاد کیا ہوا نام بھی بتا دیا-

”ایک بات میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آئی-جب آپ ہی میرے خوابوں میں آتی تھیں— اور آپ ہی مجھے بلانا چاہتی تھیں تو یہ نیرو نام کا کیا چکر ہے؟-“ روہن کو یہ سوال سب سے اہم محسوس ہو رہا تھا-

”وہ بابا نے ہی مجھے ایسا کرنے کو کہا تھا- دراصل انہو ں نے مجھے بتایا تھا کہ میرا نام پچھلے جنم میں نیرو تھا- اس نام کی وجہ سے آپ نہ چاہتے ہوئے بھی کھچے چلے آئیں گے- اس لئے-“

”پھر اپنے سپنے میں یہ کیوں کہا کہ میں نیرو نہیں ہوں- نیرو تو عمر کوٹ میں رہتی ہے-“

ایک اور سوال شروتی کے سامنے منہ کھولے کھڑا تھا- کمال کی تیاری کر رکھی تھی نتن نے اپنے شیطانی تیز دماغ کا استعمال کرتے ہوئے س نے چھوٹی سے چھوٹی بات پر غور کیا تھا- شروتی کو مشن پر لگانے سے پہلے-

شروتی کے پاس ہر سوال کا جواب پہلے ہی سے تیار رکھا ہوا تھا- ”ایسا بھی میں نے ملنگ بابا کے کہنے پر کیا تھا- انہوں نے کہا تھا کہ عمل کے دوران مجھے آپ کے پاس نہیں جانا ہے- آپ کو چھونا نہیں ہے- اس لئے- اس لئے اس دن میں نے آپ کو دیکھا تک نہیں- سر جھکائے رہی ہر وقت- اور رات کو سپنے میں کہیں آپ مجھے چھو نہ لیں- اس لئے ایسا کہا-“

”اوہ- مگر یہاں بھی مجھے نیرو مل گئی ہے- بالکل جیسا تم نے سپنے میں بتایا تھا- اور سپنے میں جس گھر کے باہر آپ مجھے کھڑی دکھائی دیتی تھیں بالکل ویسا ہی گھر ہے ان کا- میں تو حیران ہو گیا تھا دیکھ کر- آپ کی بات پر مجھے پورا یقین ہے- لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ یہ اتفاق کیسا ہے- یا اس کے پیچھے بھی ملنگ بابا کا ہی ہاتھ ہے؟-“ روہن کے دماغ میں اب بھی سوالوں کا ایک بھنور اتھل پتھل مچائے ہوئے تھا-

روہن کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شروتی بولان شروع ہوگئی تھی- نتن کو یقین تھا کہ یہ سوال بھی ضرور پوچھا جائے گا-

”ہاں- انہوں نے ہی اپنے عمل کی طاقت سے کسی نیرو کا پتہ لگایا تھا- عمل کی کامیابی کے لئے مجھے پچھلے جنم کے نام کا استعمال کرنا ضروری تھا- اور میری کی ہوئی بات عمل کی کارروائی کے مطابق سچ ہونا بھی لازمی تھی- اس لئے انہوں نے اپنی طاقت سے یہاں والی نیرو کا پتہ لگایا اور مجھے سپنے میں اسی جگہ کے بارے میں بتانے کا کہا-

”ہوں- “ شروتی کے آخری جواب کا مطلب روہن سمجھ نہیں پایا تھا- مگر کیونکہ وہ اس کی کسی بات پر شک نہیں کر رہاتھااس لئے ا س نے زیادہ دھیان نہیں دیا-عمر کوٹ کی نیرو اس کے دماغ سے پوری طرح نکل چکی تھی-

”اب تو خوابوں میں آکر مجھے نہیں ڈراﺅ گی نا-“ روہن اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا- بیچاری شروتی روہن کی مسکراہٹ کا جواب بھی اپنی مرضی سے نہیں دے پائی-

”بابا نے کہا ہے کہ جب تک ہم – وہ– شادی نہیں کر لیتے – آپ کو ایسے ہی سپنے آتے رہیں گے- میں یونہی آپ کو ٹیلے پر بلاتی رہوں گی- اور یونہی کہتی رہوں گی کہ میں عمر کوٹ میں ہوں- میں شروتی نہیں ہوں- نیرو ہوں-“

”لیکن ایسا کیوں؟-“ روہن نے حیرت سے پوچھا-

یہاں شروتی ہڑبڑا گئی- یہ پہلا ایسا سوال تھا جو کہ اس کے سامنے پہلے نہیں آیا تھا- مگر جلد ہی وہ سنبھلتے ہوئے بولی-

”ہوں- پتہ نہیں- شاید عمل کا اثر تبھی تک رہے گا‘ جب تک ہم مل نہیں جاتے- وہ- میں تھوڑی دیر آرام کرلو ں کیا؟- مجھے تھکن سی محسوس ہو رہی ہے-“ شروتی نے پیچھا چھڑانے کے لئے کہا-

”اوہ ہاں – کیو ں نہیں- مجھے آپ سے ایک دم اتنے سوال نہیں کرنے چاہئے تھے-نیچے تین بیڈ روم ہیں- پہلے والے کو چھوڑ کر آپ کہیں بھی جاکر آرام کر لیں- تب تک میں کھانے پینے کا بندوبست کرواتا ہوں-“

”تھینکس-“ شروتی تھکے ہوئے قدموں سے اٹھی اور گیلری کی طرف بڑھنے لگی- اچانک پیچھے سے اس کو روہن کی آواز سنائی دی-

”شروتی-“

”ہاں؟-“ شروتی ایک دم پلٹ گئی-

”کچھ نہیں – بس ایسے ہی- ایک بار اور تمہارا چہرہ دیکھنے کا دل کر رہا تھا-“ روہن کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی-

شروتی نے اپنی پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی مسکراہٹ کا جواب دیا اور مڑ کر اندر چلی گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے