سر ورق / ناول / خون ریز۔۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر6

خون ریز۔۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر6

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر6

ہم پھر سے اسی ڈیرے کے پاس تھے ۔ ہمیں کمک پہنچ گئی تھی ۔ ڈیرہ چاروں طرف سے گھیرا جا چکا تھا ۔وہاں پر پہلے سے موجود نگرانی کرنے والوں نے بتا دیا تھا کہ ابھی تک یہاں سے کوئی نہیں گیا ۔یہ بہرحال حیران کرنے والی بات تھی ۔ اگر وہاں پر موجود لوگ سمجھ دار ہوتے تو ہمارے ڈیرے سے بھاگ جانے کے بعد خود بھی بھاگ گئے ہوتے ۔انہیں یہ احساس ہونا چاہئے تھا کہ اس ڈیرے پر کریک ڈاﺅن ہو سکتا تھا ۔میری چھٹی حس مجھے بتا رہی تھی کہ جو کچھ سامنے ہے ، ویسا نہیں ہے ۔ یہ احساس جب میں نے ارم سے کہا تو وہ بھی الجھتے ہوئے بولی

” مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ، یہ لوگ اتنے بے وقوف نہیں ہو سکتے ۔“

” تو پھر کیا خیال ہے ؟“میںنے پوچھا

” جو تم کہو ۔“ اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہاتو ایک دم سے میرے ذہن میں آ یا ۔میں نے ارم سے کہا ،” اس لڑکے سے بات کراﺅ، جو سائیں کو لے کر گیا ہے ۔مجھے سائیں سے بات کر نی ہے ۔“

میرے یوں کہنے پر اس کی آ نکھیں پھیل گئیں ۔ اس نے جلدی سے فون نکلا اور کال ملا کر بولی

” سائیں سے بات کراﺅ ۔“

چند لمحوں بعد سائیں لائین پر تھا ۔

” سائیں ، ڈیرے پر کوئی نہیں ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی باہر نکلا ہے ، بتا کدھر گئے ؟“

” مجھے پتہ تھا کہ ایسے ہی ہوگا ۔اس ڈیرے سے ایک سرنگ ہے ۔جو یہاں سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر جا کر ایک دوسرے ڈیرے پر جا نکلتی ہے ۔ وہ سب ادھر چلے گئے ہوں گے ۔“ اس نے بتایا

”کس طرف ہے ؟“ میںنے تیزی سے پوچھا

”جنوب مشرق کی طرف ۔“ اس نے بتایا

” چل ٹھیک ہے ، میں کرتا ہوں پھر بات۔“میں نے کہا اور فون واپس کر دیا ۔ تبھی ارم نے کہا

” تیرے پاس تنّی کا فون نمبر ہے ؟“

” بالکل ہے ؟“ میںنے کہا

”وہ مجھے دے اور اس سے خود بات کر۔“ ارم نے کہا

ایک منٹ بعد میں نے ارم کو نمبر دیا اور پھر تنّی سے کال ملا لی ۔ کچھ دیر اس نے کال رسیو کر لی

” بھاگ گئے ہو ؟“

” ہمت ہے تو تلاش کر لو۔“ اس نے حقارت سے کہا

” کب تک بھاگو گے ۔ ایک دن تو میرے سامنے آ نا ہی پڑے گا ۔“ میںنے سرد لہجے میں کہا

” اوئے یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ تم میرے سامنے آ تے ہو یا میں ۔ میں اب تمہیں زندہ چھوڑنے کی دوبارہ غلطی نہیں کروں گا ۔“

”چلو دیکھتے ہیں ۔ کون کس کے ساتھ کیا کرتا ہے ۔“ میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔

ارم فون سے الجھی ہوئی تھی ۔ ذرا سی دیر بعد بولی

” سائیں ٹھیک کہہ رہا تھا ۔ وہ اسی طرف ہی ہیں ۔لیکن ابھی وہ ایک کلو میٹر بھی نہیں گئے ۔“

” مطلب ابھی دوسرے ڈیرے تک نہیں پہنچے ۔“ میں نے پر جوش لہجے میں پوچھا

” مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے، یہ لوکیشن بتا رہی ہے ۔“ اس نے کاندھے اچکا کر کہا

” ہمیں ان سے پہلے پہنچنا ہوگا ۔“ میںنے کہا

” چل پھر ۔“ یہ کہتے ہیں ہم تیزی سے گاڑیوں کی جانب بڑھ گئے ۔

وہ ڈیرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔اندر کہیں کسی مدقوق بلب کی اتنی سی روشنی تھی جیسے چند دیّے جل رہے ہوں ۔ وہ بھی ڈیرے کے صحن میں تھی۔ ممکن ہے صحن میں کوئی الاﺅ جلایا ہوا ہو ۔ لیکن وہ روشنی الاﺅ والی نہیں تھی ۔ باہر کسی طرح کی بھی روشنی نہیں تھی ۔ ہم نے ڈیرے کے قریب پہنچنے سے پہلے ہیڈ لائیٹس بند کر دیں تھیں ۔ ہمارے ساتھ تین فور وہیل مزید تھیں ، جن میں جوان تھے ۔ ہمارے اترتے ہی وہ بھی اتر کر پھیل گئے ۔ ان کی کمانڈ ایک نہایت پھرتیلا نوجوان کر رہاتھا ۔

ارم نے سیل فون پر دیکھا۔ تنّی تھوڑے سے فاصلے پر حرکت میں تھا ۔جوانوں نے ڈیرے کو گھیر لیا تھا ۔کمانڈر کا ارم سے مسلسل رابطہ تھا۔ کمانڈر کو معلوم تھا کہ اس نے کیا کر نا ہے ۔ کچھ دیر میں وہ ڈیرے کے اندر اتر گئے ۔ہم تب تک گیٹ تک جا پہنچے ۔ ہمارے پہنچتے ہی گیٹ کھل گیا ۔ صحن میں ایک مدقوق سا بلب جل رہا تھا ۔ ہمیں وہاں کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیا تھا ۔ سامنے چند کمرے بنے ہوئے تھے ۔ ایسے عموماً روہی میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ہی قطار میںکچے کمروں کے آ گے برآمدہ اور پھر بڑا سارا صحن ۔ جوان پوری طرح حرکت میں تھے ۔ وہ ایک ایک کمرے کو ٹٹول رہے تھے ۔ سوائے ایک کے سبھی کمرے خالی تھے ۔ ایک میں ایک بوڑھا آ دمی سو رہا تھا ۔ جوان اُسے باہر لے آئے ۔میں نے آ گے بڑھ کر بڑے نرم لہجے میں پوچھا

”بابا، یہاں تم اکیلے ہوتے ہو ؟“

” جی ، میں ہی رہتا ہوں ۔“ اس نے مقامی زبان میں الجھتے ہوئے انداز میں بتایا

” کوئی اور ….“ میں نے پوچھا

” کوئی نہیں ، کبھی کبھی کچھ لوگ آ جاتے ہیں سائیں کے مہمان ، ان کی تابع داری کر چھوڑتا ہوں ۔“ اس نے بتایا

” سائیں ، مطلب ، سائیں محبت خان ؟“ میں نے تصدیق کرتے ہوئے پوچھا

” جی ہاں سائیں ، وہی ۔“ اس نے تصدیق کر دی ۔

” یہاں نیچے سے ، سائیں کے دوسرے ڈیرے تک کس کمرے سے راستہ جاتاہے ؟“ میںنے ایک خیال کے تحت پوچھا تو بابا نے حیرت سے میری طرف دیکھتا، پھر اسی اُلجھے ہوئے لہجے میں بولا

” نہ سائیں ، مجھے تو پتہ نہیں ۔“ اس نے کہا تو مجھے ایک دم سے غصہ آ گیا ۔ میںنے اپنے لہجے کو نرم رکھتے ہوئے کہا

” بابا ، میںنہیں چاہتا کہ تم پر ہاتھ اٹھاﺅں ۔ مگر تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ ابھی پتہ چل جاتا ہے ۔“ میںنے کہا اور کمانڈر کو اشارہ کیا ۔

ارم مسلسل فون پر نگاہ رکھے ہوئے تھی ۔فون کی مدہم روشنی میں اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بہت پر جوش ہے ۔ چند منٹ بعد کمانڈر نے ایک راستہ تلاش کر لیا ۔ اسی لمحے ارم نے بھی کہا

” وہ بالکل قریب ہیں ۔“

سب کی توجہ اس طرف ہو گئی ۔ میرے دماغ میں نجانے کیوں ایک احساس گھس گیا تھا جیسے کوئی چیز کھو گئی ہو ۔ میں ان سب کو دیکھ رہا تھا ۔ ہم سب ان کی گھات میں تھے ۔ کمروں کو گھیرا ہوا تھا ۔ بابا کو دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا تھا ۔ تبھی کمرے میں ہلکی سی روشنی ہو ئی ، ایک شخص نے اپنا سر نکالا، اور پھر وہ کمرے میں آ گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک کے بعد ایک تہہ خانے سے نکلنے لگا ۔وہ لوگ کمرے ہی میں تھے ۔ شاید باہر نہیں آ نا چاہتے تھے ۔ ہر طرف خاموشی تھی ۔تاہم ان کی بھنبھناہٹ جاری تھی ۔ بالکل آخر میں تنّی باہر آ یا ۔ اس نے آ تے ہی کہا

” چلو ، اب باہر چلیں ۔“

” لیکن ہم جائیں گے کہاں ؟“ کسی نے پوچھا

”یہاں سے تو نکلیں ، پھر دیکھتے ہیں ۔“ تنّی نے جواب دیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک بندہ باہر نکلا، پھر اس کے ساتھ ہی وہ سب نکل کر باہر صحن میں آ گئے ۔ ان کی حالت بری ہو رہی تھی ۔ وہ مٹی میں اَٹے ہوئے تھے ۔ جیسے ہی وہ سارے باہر صحن میں آ ئے ۔ اچانک فائر ہونے لگا ۔ وہ اس قدر بری طرح چونکے جیسے ابھی مر جائیں گے ۔انتہائی بد حواسی میں وہ اپنے حواس کھوبیٹھے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی کمانڈر کی آ واز گونجی

” ہلنا نہیں ۔“ یہ کہ کر لمحہ بھر توقف کے بعد بولا ،” اگر کسی نے حرکت کی ،وہ اپنی موت کا ذمے دار خود ہو گا ۔ ہتھیار پھینکو ، ہاتھ اوپر کرو ۔“

انہیں اپنے ارد گرد کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ مدقوق بلب کی روشنی میں تھے ۔ انہوں نے روبورٹ کی طرح ہاتھ اوپر اُٹھادئیے ۔ تنّی کو ہاتھ اٹھاتے ایک دو لمحے لگے ۔ وہ صورت حال سمجھنے کی کوشش میں تھا ۔اس کا چہرہ فق ہو گیا تھا ۔

” اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر لمبے لیٹ جاﺅ ۔“ کمانڈر نے حکم دیا تو چند لمحے وہ ایک دوسرے کی جانب دیکھتے رہے ، جیسے یہ یقین کر لینا چاہتے ہو کہ ایسا کرنا بھی چاہئے یا نہیں ۔کمانڈر ان سے کچھ زیادہ ہی نرمی برت رہا تھا ۔میں نے لمحہ بھر انتظار کیا اور پھر ایک ایسے شخص کا نشانہ بنایا جو میرے لئے انتہائی آسان تھا ۔ میں نے اسکی ٹانگوں کا نشانہ لیا تھا ۔ فائر کے ساتھ ہی اس کی کراہ بلند ہوئی ۔ ایک بلند آ واز چیخ فضا میں پھیلی اور زمین پر گر کر تڑپنے لگا ۔ اس کے ساتھ ہی وہ سبھی حواس باختہ زمین پر گر گئے ،ان میں تنّی بھی شامل تھا ۔

اس کے ساتھ ہی ہر طرف سے جوان ان کے قریب آ گئے ۔ وہ انہیں باری باری باندھنے لگے تھے ۔ زخمی کو دو جوان ایک طرف لے گئے تھے ۔ اندر کمرے میں تہہ خانے کے راستے پر دو نوجوان چلے گئے ۔ ممکن ہے کوئی پیچھے رہ گیا ہو۔ جیسے ہی وہ تنّی کو باندھنے لگے میںنے آ گے بڑھ کر زور دار انداز میں کہا

”رُک جاﺅ ، اسے مت باندھو۔“

 تنّی کی روح فنا ہو گئی ۔وہ میری طرف یوں دیکھنے لگا تھا جیسے موت اس کے سر پر آ گئی ہو ۔میں آ ہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب جا پہنچا ، پھر اس کے سینے پر اپنا پاﺅںرکھ کر بولا

” بول ، اب کون سی ڈیل ہے تیری ؟“

” کک …. کوئی ڈیل نہیں۔“ اس نے اٹکتے ہوئے کہا تو میںنے اس کی بات نظر انداز کر کے پوچھا

” مجھے ایم این اے بنا رہے تھے نا، اب تم بتاﺅ، تمہیں کیا بننا ہے ؟ میں وہی بنا دیتا ہوں ۔“

میرے یوں کہنے پر وہ چند لمحے میری جانب دیکھتا رہا ، اس وقت تک وہ اپنے اعصاب پر قابو پا چکا تھا ۔ اس لئے کافی حد تک اعتماد سے بولا

” دیکھ علی ،میری اب بھی وہی ڈیل ہے ۔“ اس نے کہا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔وہ موت کو دیکھ کر پاگل ہو گیا تھا ، یا اس قدر مضبوط اعصاب تھے اس کے؟ وہ موت کے منہ میں بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا ؟ اس سے پہلے میں کچھ کہتا ، ارم نے بھنا کر ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا

” اس کے مغز میں مار ایک گولی ، بالکل اس طرح جیسے پاگل کتے کے مارتے ہیں ۔“

” مجھے ماردینے سے کچھ نہیں ہوگا ، میری جگہ کوئی نیا بندہ آ جائے گا ۔سسٹم وہی رہے گا۔ اگر تم زندہ لوٹ بھی گئے تو کرنا وہی پڑے گا ، جو میںنے کہا ۔“

” اس کی بکواس سنتے رہو گے یا گولی اس کے بھیجے میں مارو گے بھی ؟“ ارم نے اکتاکر کہا تو میںنے سرد لہجے میں کہا

” اس طرح نہیں، آرام سے نہیں مارنا اسے ۔“

” کیا کرو گے اس کے ساتھ ؟“ ارم نے پوچھا

” تم ان بندو ں کو لے کر نکلو ۔“ میں نے کہا

 میں ان بندھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا جنہیں وہ فور وہیل میں ٹھونس رہے تھے ۔

” مجھے بتا ﺅ۔“ ارم نے سختی سے کہا تو میںنے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا

” میں دشمن کو تو چھوڑ سکتا ہوں لیکن منافق کو نہیں ۔“ یہ کہہ کر میںنے تنّی کی طرف دیکھا اور اسے اٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اٹھا تو میں نے کہا ” چل بھاگ ، جتنا بھاگ سکتا ہے ۔“

تنّی اٹھ کر بھاگنے لگا ، میں سامنے کھڑی فور وہیل کی جانب بڑھا اور اسے اسٹارٹ کر کے اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ اتنی دیر میں کافی فاصلہ طے کر چکا تھا ۔میںنے فور وہیل اس کے پیچھے لگا دی ۔ وہ ان راستوں پر بھاگنے لگا ، جہاں فور وہیل نہ پہنچ سکے ۔

میرے سامنے صحرا تھا اور اس میں بھاگتا ہوا تنّی ۔ایک بار وہ گرا بھی لیکن وہ پھر بھاگنے لگا ۔ اسے سمجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کس جانب بھاگے ۔وہ بھاگتا رہا یہاں تک کہ وہ بے دم ہو کر گر گیا ۔میں فور وہیل اس کے بالکل پاس لے گیا ۔ اس سے اٹھ انہیں جا رہا تھا ، میں فور وہیل سے اتر اور اس کے سر پر جا پہنچا ۔وہ بے دم سے پڑا تھا ۔ اس کی سانسوں سے ناک کے قریب ریت اُڑ رہی تھی ۔ میں کچھ دیر اس کے اٹھنے کا انتظار کر تا رہا ۔وہ اٹھ نہ سکا۔ میں نے اسے اٹھایا ، فور وہیل کے آ گے سیف گارڈ کے اندر ڈال دیا ۔ پھر ایک رسی سے اسے باندھا اور واپس مڑ گیا ۔میںنجانے کہاںنکل آ یا تھا ۔میرے پاس فون بھی نہیںتھا میں نے اندازے سے فور وہیل کو بھگا دیا ۔ تقریبا ً بیس منٹ بعد میں ارم سے جلا ملا ۔ وہ میرے لئے بہت پریشان ہو رہی تھی ۔

٭….٭….٭

صبح کی نیلگوں روشنی پھیل رہی تھی جب ہم دربار کے قریب جا پہنچے تھے ۔ہر طرف سناٹا طاری تھا۔وہ ڈرامہ بنانے والے رات ہی واپس جا چکے تھے ۔ انہیں واپس جانے کا کہہ دیا تھا ۔کیونکہ ان کا کام ختم ہو چکا تھا ۔تنّی فور وہیل کے آ گے بندھا ہوا تھا ۔ نجانے مر گیا تھا یا ابھی زندہ تھا ۔میں نے دربار کے پاس فور وہیل روکی اورنیچے اُتر کر دیکھا۔وہ زندہ تھا لیکن بے ہوش تھا ۔ میں ڈیش بورڈ پر پڑی پانی کی بوتل لی اور اس کے منہ پر پھینک دی ۔ وہ ہوش میں آ گیا ۔اس نے ادھ کھلی آ نکھوں سے میری جانب دیکھا ، چند لمحے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ، پھر بڑے دردناک انداز میں بولا

” خدا….کے لئے ….چھ…. چھوڑدو۔“

”ابھی کہاں ، ذرا انتظار کرو۔“ میں نے کہا اور گاﺅں کی جانب چل دیا ۔

ارم مجھے مسلسل کہہ رہی تھی کہ میں اسے گولی مار کر پھینک دوں لیکن میرے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔میرا فون مل گیا تھا ۔ وہ پکڑے جانے والے لوگوں میں سے ایک کے پاس تھا ۔میں نے فور وہیل اسے ڈرائیو کرنے کو کہا اور فون پر چوہدری سردار سے رابطہ کر لیا۔ پہلی بار بیل جاتی رہی لیکن فون نہ اٹھایا گیا ۔ دوسری جب کوشش کی تو فون رسیو کر لیا گیا

” ہیلو ،“نیند بھری آ واز میں چوہدری سردار بولا تو میں نے اپنے بارے میں بتا کر کہا

”تنّی آپ کا آ دمی ہے ؟“

” نہیں تو ؟ بات کیا ہے ؟“اس نے تیزی سے پوچھا

” تو پھر آپ اپنے ہاں کام کرنے والے غفورے اور چوہدری سلطان کو لے کر گاﺅں کے چوک میں آ جائیں ۔ “ میں نے سرد سے لہجے میں کہا

” یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟“ اس نے الجھتے ہوئے پوچھا

”میں اسے گاﺅں کے چوک میں گولی مارنے لگا ہوں ۔لیکن اس سے پہلے تم لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہتا ہوں ۔ کیونکہ وہ مجھے آپ کے نام کی دھمکی دے رہا ہے ۔“ میں نے اس بار غصے میں کہا

” دیکھو ، قانون اپنے ہاتھ میں نہ لو ۔بہت مشکل ہو جائے گی ۔“ اس نے تیزی سے کہا

”اگر حقیقت پتہ چل گئی تو آپ خود اسے گولی مارو گے ؟“ میںنے طنزیہ لہجے میں کہا

” خیر ہے ، اصل بات بتا ؟“اس نے پوچھا

” سائیں محبت خان پکڑا گیا ہے اور اس نے سب کچھ اُگل دیا ہے ۔بھاگ سکتے ہیں تو بھاگ جائیں ۔“ میں نے ایک مختلف بات کہی ۔ جس کا فوری ردعمل مجھے مل گیا

” کیا کیا کہہ رہے ہو ؟“ اس نے حیرت سے کہا

” میں سچ کہہ رہا ہوں ۔“ میں نے طنزیہ انداز میں کہا

” بہت برا ہوا یہ ، کس نے پکڑا؟“ اس نے پوچھا

”آپ کو بھی پتہ ہے کہ اسے کون پکڑ سکتا ہے ۔“ میں نے بال اس کے کورٹ میں پھینک دی

” دیکھو ، تم میرے بیٹے کی طرح ہو ، میں نے نہیں جانتا ، معاملہ کیا ہے اور کہاں تک ہے ۔ تم میری ایک بات مان لو ، اسے گاﺅں کے چوک میں مت لے جاﺅ ۔“اس نے منت بھرے انداز میں کہا ۔

میرا اندازہ درست ثابت ہوا تھا ۔میرے ذہن میں یہی خیال تھا کہ اگر وہ سائیں محبت خان کے ساتھ شامل ہے ، اس کا شریک کار ہے تو پھر وہ حتی امکان تنّی کو بچانے کی کوشش کرے گا ۔تبھی میںنے پوچھا

” تو پھر میں کیا کروں ؟“

” اسے لے کر میرے ڈیرے پر آ جا ، یہیں بات کرتے ہیں ۔“ اس نے تیزی سے کہا

” میں ابھی تک آپ کو ’آپ ‘ اسی لئے کہہ رہا ہوں میں آپ کی عزت کرتا ہوں ۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا ، اب بھی اگر آپ مجھے بے وقوف سمجھیں تو یہ آپ کی مرضی ہے ۔“

“اُو نہیں، نہیں بیٹا، تم غلط سمجھے ہو ۔ میرا مطلب وہ ہر گز نہیں، جو تم سمجھ گئے ہو ۔ “ اس نے تیزی سے معذرت خو ا ہا نہ انداز میں کہا تو میںنے پوچھا

” تو پھر میں اسے کیا سمجھوں ؟“

” تم جہاں کہو ، میں وہیں آ جا تا ہوں ۔ لیکن یہ معاملہ عوام میں مت لاﺅ …. اور ایک بات ۔“

” کیا بات ؟“میںنے پوچھا

” چوہدری سلطان یہاں سے بھاگ گیا ہے ۔ وہ دوبئی میں ہے ۔میں اُسے فوراً نہیں لا سکتا ۔“

” چلیں تو پھر تیار رہیں ، جہاں بلاﺅں ، غفورے کو ساتھ لے کر آ جائیں ۔ورنہ میں آپ سے تم پر اتر آ ﺅں گا ۔“ یہ کہتے ہی میں نے فون بند کر دیا ۔میں نے اس کا جواب سننے کی بھی زحمت نہیں کی ۔

ہمارا رخ ہیڈ کوارٹر کی طرف تھا۔ سائیں محبت خان وہیں تھا ۔ ارم کا جو معاملہ تھا وہ تو اس نے کرنا ہی تھا۔ وہ اس کا فرض تھا۔ لیکن میں اس معاملے سے اپنا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا ۔ارم کی ساری تو جہ ڈرائیونگ پر تھی ۔ اس نے مجھ سے پوچھنا تو کجا ، میری بات میں ہنکارا بھی نہ دیا ۔

ہم ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے جو شہر سے ملحقہ تھا ۔جیسے ہی فور وہیل پورچ میں رکی ، چند لوگ آ گے بڑھے ۔ ارم نے انہیں تنّی کو اتار کر لانے کو کہا ۔وہ اسے اتارنے لگے اور ہم اندر کی جانب بڑھ گئے ۔ جیسے ہی ہم نے راہداری پار کی ایک آفیسر اپنے کچھ ماتحت لوگوں کے ساتھ آ تا ہو ا دکھائی دیا ۔ اس نے انتہائی خوشی سے ارم کی طرف دیکھ کر کہا

” ویلڈن ارم ، گڈ جاب ۔“

یہ کہ کر اس نے میری جانب دیکھا ، پھر مجھ سے ہاتھ ملاتا ہوا بولا

” ویلڈن علی اینڈتھینک یو ۔“

” ویلکم سر ۔“ میں نے کہا تو ہم دونوں کی جانب دیکھ کر بولا

” آپ پہلے فریش ہوں ، پھر ناشتہ کریں ، اس کے بعد ہم نے بہت ساری باتیں کرنی ہیں ۔“

” وہ تو ٹھیک ہے ۔ لیکن یہاں میں کچھ لوگوں کو بلانا چاہ رہا ہوں ۔مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ بھی اسی ….“ میں کہنا چاہ رہا تھا کہہو میری بات سمجھ کر فوراً بولا

” گڈ ، بلائیں ۔ “ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے ایک ماتحت کی جانب اشارہ کر کے کہا ،” آپ خیال رکھیں ۔“

” یس سر ۔“ اس نے ایڑیاں جوڑتے ہوئے کہا

آ فیسر آ گے نکل گیا اور ہم تینوں وہیں رک گئے ۔ وہ ہمیں اوپر منزل کے ایک کمرے میں لے گیا ۔ایک طرف لکڑی کی دیوار گیر الماری میں کھولتے ہوئے کہا

” یہ مختلف سائیز کے ڈریس ہیں ۔ آپ دیکھ لیں ۔ فریش ہو جائیں تو یہ گھنٹی بجا دیں ۔ میں تب تک ناشتہ لگواتا ہوں ۔“ اس نے مودب لہجے میں ایک بار ہی ساری بات کر دی ۔ یہ کہہ کر وہ مڑا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔ تبھی ارم نے میری طرف دیکھا اور ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولی

”اب یقین آ یا ، موت کا ایک دن معین ہے ۔“

” لمجھے بڑی نیند آ رہی ہے ۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں سو پاﺅں گا ۔“ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ بولی

” چل جا پہلے نہا لے ۔ میں تیرے لئے کوئی کپڑے دیکھتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے باتھ روم کی جانب اشارہ کیا ۔ میں فورا ہی اس جانب بڑھنے لگا پھر فون نکال کر چوہدری سردار کو کال کر دی ۔ اسے وہیں ہیڈ کوارٹر بلا لیا ۔ وہ اس جگہ آ نے سے کترا رہا تھا لیکن میںنے اس کی ایک بھی نہیں سنی اور فون بند کر دیا ۔

٭….٭….٭

سائیں محبت خان ایک بڑے سارے کمرے کی دیوار سے ٹیک لگائے پختہ فرش پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کی لمبی زلفیں پھیلی ہوئی تھیں ۔ سرخ چہرے پر زردی پھیل چکی تھی ۔اس کے مسلے ہوئے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ سکون سے نہیں رہا تھا ۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی بولا

” یہ اچھا نہیں کیا تم نے ؟“

” کیا اچھا نہیں ہوا ؟“ میں نے پوچھا تو وہ ایک دم سے ہذیانی لہجے میں بولا

” میں یہاں قیدی ہو گیا ہوں سمجھتے ہو تم ؟“

” سائیں کچھ نہیں ہوتا تمہیں ۔جو تمہیں کہا ہے وہی کر ، جو تیرے ساتھ ڈیل ہوئی ہے ، میں اس پر پورا اتروں گا ۔“ یہ کہہ کر میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ ارم اس کی طرف کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ انہی لمحات میں تنّی کو کمرے میں لایا گیا ۔ وہ سائیں محبت خان کو دیکھ کر چونکا نہیں ۔ وہ سمجھتا تھا کہ اب اس کے ساتھ کیا ہو نے والا ہے ۔اس نے میری طرف دیکھا تو میںنے اسے سائیں محبت خان کے ساتھ بیٹھ جانے کا اشارہ کیا ۔ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ چوہدری سردار کے ساتھ چوہدری سلطان اور اس کے پیچھے غفورا اندر داخل ہوئے ۔ میں نے ان سے کوئی بات نہیںکی بلکہ انہیں بھی وہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا جہاں پہلے وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے ۔اس پر چوہدری سردار نے حیرت سے میری طرف دیکھالیکن پھر کوئی بات کئے بغیر وہ وہاں پر جا بیٹھا ۔وہ سب بیٹھ گئے اور میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ تب میں نے بڑے سرد سے لہجے میں پوچھا

” تم میں سے کس کی دشمنی تھی میرے ساتھ ؟“

میری بات کا کسی نے جواب نہیں دیا تو ارم نے حقارت سے کہا

” اوئے علی، کہانیاں مت ڈال، سیدھی بات کر ۔“

” تم خاموش رہو ۔“ میںنے ارم کو ڈانٹ دیا ۔

”بولو ، میں نے کس کا کیا بگاڑا تھا ۔جو مجھے پھنسانے کے لئے مجھ پر حملے کئے گئے ۔ مجھے کیوں مارنے کی کوشش کی گئی ؟“ میں نے دھاڑتے ہوئے پوچھا توپھر وہی خاموشی تھی ۔ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا ۔میں ان کی طرف جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ وہی آ فیسر اندر داخل ہوا اور پورے ماحول کو دیکھا۔ میں نے اپنا سوال دہرایا تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا

” ان میں سے کوئی بھی جواب نہیں دے گا ۔“

” وہ کیوں ؟“ میںنے تیزی سے پوچھا

” کیونکہ یہ سارے کسی اور کے مہرے ہیں ۔تمہارا جرم صرف یہی تھا کہ ارم تمہاری دوست بن گئی تھی ۔ یہ تمہیں تب سے نگاہوں میں رکھے ہوئے تھے ، جب تم لاہور میں پڑھ رہے تھے ۔یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ تم اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بنا سکو ۔“

” میں تو کچھ بھی نہیں کر رہا تھا اور میرا ایسا کوئی ذہن بھی نہیں تھا ؟“میں حیرت سے کہا

” لیکن ان کے ذہن ڈال دیا گیا تھا نا ۔ انہیں باور کرایا گیا تھا کہ ایک بندہ آ رہا جو تم سب کو بے نقاب کر دے گا ۔ ہمارے لوگ ان کے اندر جا چکے تھے ۔“آ فیسر نے کہا توسامنے فرش پر بیٹھے لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ۔ وہ عجیب سے انداز میں ہمیں دیکھنے لگے ۔

 ” تو پھر یہ ….“میں نے کہنا چاہا تو آفیسر نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور کہنے لگا

”یہ لوگ بڑے معمولی سے ہیں ، لیکن بڑے اہم بھی ۔ یہ ایک طرح سے دربان یا گیٹ پر بیٹھنے والے ہیں ۔ ان کے دروازے پر دہشت گرد آ تے ہیں اور یہ انہیں ہمارے ملک میں داخل کر دیتے ہیں ۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کیا کر رہے ہیں ، یہ ملک کا کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں ۔ کتنی زندگیا ں ان کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہیں ۔“ یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ جذباتی ہو گیا تھا ۔

” تو آ پ نے انہیں اسی وقت کیوںنہیں مار دیا ، جب ان کے بارے میں پتہ چلا تھا ؟“ اس بار ارم نے پوچھا تھا

”بات انہی تک ہوتی تو شاید ایسا ہی ہوتا ، لیکن انہی کے ذریعے پتہ چلا کہ یہ ایک بڑے نیٹ ورک کے معمولی سے مہرے ہیں ۔“

” بڑا نیٹ ورک ؟“ میں نے پوچھا

” ہاں ، وہ دہشت گرد ہیں، اپنے مفادات کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔“

” سر ، وہ کیسا نیٹ ورک ہو گا ، جس کے بارے میں یوں پتہ چل گیا ، وہ تو ….“ ارم نے طنزیہ انداز میں کہا تو آفیسر نے نرم انداز میں کہا

”تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن پتہ ہے تمہیں کیوں بتا رہا ہوں کیونکہ تم نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر انہیں پکڑا۔ نہ صرف پکڑا، بلکہ زندہ پکڑ کر لے آ ئی ۔ صاف لفظوں میں کہوں تو مجھے اس کی امید نہیں تھی ۔“

” ایسا ہے سر ؟“ ارم نے حیرت سے پوچھا

” اگر تمہیں پہلے بتا دیا جاتا تو ممکن ہے تم کسی بھی طرح کے دباﺅ کا شکار ہو جاتی ۔ لیکن تم نے کر دکھایا۔“آفیسر نے خوش ہو تے ہوئے کہا ، پھر لمحہ بھر بعد بولا ،” تین برس پہلے اس نیٹ ورک کے بارے میں پتہ چل گیا تھا ۔لیکن کوئی واضح شواہد نہیں مل رہی تھے ۔ہمیں تین برس کی مسلسل محنت کے بعد اتنا پتہ چلا کہ یہ صرف یہیں کام نہیں کر رہے ، دوسری بہت ساری جگہوں پر ان کی طرح مہرے پکڑے گئے ہیں اور دیکھنا اگلے گھنٹے کے دوران ا ن کی پشت پر کتنے لوگ آ جائیں گے ؟“

”ایسا ہے تو ابھی انہیں ٹھکانے لگا دیتے ہیں ؟“ ارم نے کہا تو آفیسر نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا

” تم نے انجانے میں ہی سہی ، بہت بڑا کام کیا ہے ۔تمہیں بتائے بغیر جس طرح ہم نے پلاننگ کی وہ کامیاب رہی ۔تم ان سے جو بھی پوچھوگے، یہ بتا نہیں پائیں گے ۔ لیکن میں تمہیں بتا دوں ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک یہ ہے جو باقاعدہ تربیت لے کر آ یا ہے ۔“

آ فیسر نے تنّی کی طرف اشارہ کر دیا ۔ تنّی کے چہرے پر شرمندگی کی بجائے ایک طرح کی حقارت پھیل گئی ۔اس سے پہلے آ فیسر کچھ کہتا وہ نفرت سے بولا

” مجھے پتہ ہے کہ اب میں زندہ نہیں رہ سکتا ، لیکن اتنا بتا دوں ، میں جوکچھ کر چکا ہوں جو تمہاری سوچ میں بھی نہیں آ سکتا ۔آﺅ مجھے چیرو ، پھاڑو اورہوا میں اُڑا د و۔میری جگہ کوئی نیا آ چکا ہوگا ۔وہ تم سب کو ملیا میٹ کر دے گا ۔“

”ہمیں اسی کاانتظار ہوگا ۔“ آ فیسر نے بڑی نرمی سے کہاپھر میری جانب دیکھ کر بولا ،” اب تم جو چاہو ، وہ ان کے بارے میں فیصلہ کرو ، ہمارے لئے اب یہ ٹشو پیپر ہیں ، جنہیں ہم استعمال کر چکے ۔“

یہ کہہ کر اس نے چند لمحے ان سب کو دیکھا اور پھر اپنے آ دمیوں کی جانب دیکھا۔ وہ تیزی سے آ گے بڑھے ۔ انہوں نے سائیں محبت خان اور چوہدری سردار کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے ۔ آفیسر بھی ان کے پیچھے چلا گیا۔

اس کمرے میں وہ دونوں تھے جو دیوار کے ساتھ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں اور ارم ان کے سامنے تھے ۔تنّی کھا جانے والی نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ میں نے حقارت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر طنزیہ انداز میں کہا

” تنّی صاحب ، کتنے ایم این اے بنانے ہیں اب ؟“

میرے لفظوں کی گونج ابھی باقی تھی کہ اچانک وہ اٹھا اور اُڑتا ہوا مجھ پر آ رہا ۔ مجھے اس قدر پھرتی کی امید نہیں تھی ۔لہذا میرے سنبھلنے سے پہلے ہی وہ مجھ پر وار کر گیا ۔ اس نے مجھے گردن سے پکڑ کر نیچے گرانا چاہا تھا ۔ وہ مجھے گرا تو نہ سکا لیکن میرے پاﺅں اکھڑ گئے تھے ۔ جب تک میں سنبھلا تب تک اس نے میرے سینے پر ٹکر مار دی تھی ۔ درد کی شدت کو سہتے ہوئے میںنے اسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تووہ مچھلی کی مانند تڑپا ، میںجانتا تھاکہ اب گر گیا تو میری موت لازمی ہے ۔ میںنے اسے وہیں گھمایا اور فرش پر پٹخ دیا ۔ وہ وہیں سکڑ گیا ۔ میںنے اسے اٹھایا ، ایک پاﺅں اس کے سینے پر رکھا دوسرے سے ہاتھ پکڑ کر اپنا پاﺅں اس کی چھاتی پر رکھ دیا ۔ میں نے ایک جھٹکا دیا اور اس کا بازو نکال دیا ۔ ایک چیخ بلند ہوئی ۔وہ بے بس سا فرش پر ڈھ گیا ۔میں نے اسے گردن سے پکڑ کر اٹھایا اور سیدھا کھڑا کر دیا ۔پھر اس کے کان کے پاس منہ لے جا کر بولا

”میں دشمن کو معاف کر تاہوں ، منافق کو نہیں ۔“

یہ کہتے ہوئے میں نے اسے اوپر اٹھایا اور گھما کر فرش پر دے مارا ۔ اس کا سر فرش پر لگتے ہی چٹخنے کی آ واز آ ئی ۔ اس کے منہ سے آ واز نہ نکلی ۔ خون فرش پر چھینٹوں کی مانند پھیل گیا ۔ مجھے پھر بھی قرار نہیں آ یا ۔ میں نے اسے پھر سے اٹھایا اور پوری قوت لگا کر دیوار پر دے مارا ۔دھپ کی آ واز آ ئی اور پھر وہ بے جان ہو کر فرش پر آ رہا ۔میں اسے پکڑنے کے لئے آ گے بڑھا تو ارم بولی

” علی ، وہ مر چکا ہے ۔“

مجھے یوں لگا جیسے یہ آ واز بہت دور سے آ رہی ہو ۔ میرے دماغ میں غصہ ہی اتنا بھر گیا تھا ۔میں نے ارم کے لفظوں پر غور کیا تو لاشعوری طور پر رُک گیا ۔ارم اسے دیکھ رہی تھی ۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مر چکا ہے ۔ تبھی میری نگاہ دیوار کے ساتھ لگے غفورے پر پڑی ۔ میں اس کی جانب بڑھنے لگا ۔ بلاشبہ اسے اپنی موت دکھائی دے گئی تھی ۔اس نے مجھے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تو دونو ں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا تھا ۔دوسرے لفظوں میں وہ معافی کا طلب گار تھا ۔ سر جھکا کر اس نے مجھے باور کرادیا کہ میں جو چاہوں اس کے ساتھ سلوک کروں ۔ میں نے اس کے قریب جا کر اس کی گردن پکڑی تو وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولا

” میں سب بتا دوں گا ۔ ایک بار معافی مل جائے ۔“

میں نے اسی لمحے اسے چھوڑ دیا ۔چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔

میں واپس اسی کمرے میں آ گیا جہاں سے مجھے کپڑے ملے تھے ۔ میں دوبارہ نہایا ۔ وہاں سے مزید کپڑے لے کر پہنے اور بیڈ پر لیٹ گیا ۔ میں خود پر قابو پانے میں بڑی مشکل محسوس کر رہا تھا ۔

مجھے وہاں بید پر پڑے نجانے کتنا وقت گزر گیا تھا ۔ شاید میری آ نکھ لگ گئی تھی ۔ کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا ، میرے ساتھ ارم پڑی ہوئی تھی ۔ جیسے ہی میںنے اس کی جانب دیکھا ، وہ ہولے سے بولی

” یہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں ۔ “

” تو پھر میں کیا کروں ۔“میںنے پرسکون انداز میں کہاتو وہ ہنستے ہوئے بولی

” یہی کہ اب اٹھو ، یہاں سے نکلیں ۔ تم اپنے گھر جاﺅ اور میں اپنے گھر ۔“

” مطلب کھیل ختم پیسہ ہضم ۔“ میںنے مسکراتے ہوئے کہا تو قہقہ لگا کر ہنس دی پھر بولی

” میں نے تیرا کون سا پیسہ ہضم کیا ہے ؟“

” کر بھی لو گی تو کیا ہوگا ۔“ میںنے کہا

” اچھا ، میں تمہیں تمہارے علاقے کے بارے میں سب بتاتی ہوں ، اب تمہیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔غفورے نے جو بندے بتائے ہیں ، وہ اب فوراً تو نہیں ملیں گے لیکن بہر حال علاقے میں جو چاہئے کرنا ۔“ اس نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ پھر مجھے بتاتی چلی گئی ۔ میں اس کی اطلاعات بڑے غور سے سنتا رہا ۔وہ سب کہہ چکی تو بڑے خمار بھرے لہجے میں بولی ،” اب لاہور جلدی آ نے کی کوشش کرنا ۔ کچھ وقت تمہارے ساتھ گزارناچاہتی ہوں ۔“

” اوکے ۔“ میں نے کہا اور بیڈ سے اُٹھ گیا

 دو پہر ہو چکی تھی ، جب میں حویلی پہنچا ۔ بابا اور اماں میرے لئے بہت پریشان تھے ۔ اس وقت میں ان کے پاس بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ بابا کا فون بج اٹھا ۔وہ فون سنتے رہے پھر رنجیدہ سے لہجے میں بولے

” اُو، یار بڑی بری خبر ہے ، وہ چوہدری سردار ایک حادثے میں چل بسا ہے ۔“

” حادثہ ، وہ کیسے ہو گیا ؟“ میں نے پوچھا

” وہ کہیں سے آ رہا تھا ، غالباً شہر سے آ رہا ہوگا ، اس کی گاڑی بے قابو ہو کر درخت سے ٹکرا گئی ۔اس کا ڈرائیوربھی چل بے چارہ فوت ہو گیا ۔“ بابا نے بتایا

” اوہ ہو ، افسوس ہوا ۔“ میںنے کہا

” آج رات جنازہ ہوگا اس کا۔میں گیا تو ٹھیک ورنہ تم ضرور جانا ۔“ بابا نے مجھے ہدایت کی تو میں خاموش رہا ۔ پھر کچھ دیر باتیں کرتے رہنے کے بعد میں اٹھ گیا ۔

میں اپنے کمرے میں جا لیٹا تھا ۔ میرے بڑے سارے دشمن صاف ہو گئے تھے ، جو باقی بچے تھے ان کے بارے میں پتہ چل گیا تھا ۔اگرچہ میرے لئے اس علاقے میں اب اتنا خطرہ نہیں تھا لیکن ایک تلوار مزید لٹک گئی تھی ۔ وہ جو کوئی بھی دہشت گرد نیٹ ورک تھا ، وہ بہر حال مجھے چھوڑنے والا نہیں تھا ۔ اس علاقے میں اب ان کو نکال باہر کیا تھا ۔ اگرآ فیسر کی بات کو بھی اہمیت دی جاتی تو وہ کئی جگہوں سے نکل گئے تھے ۔تنّی کی ایک بات میرے ذہن میں اٹک کر رہ گئی تھی ۔ یہ بات اس نے دو تین مرتبہ کہی تھی کہ میں مر گیا تو کوئی بات نہیں میری جگہ کوئی دوسرا آ جائے گا وہ تجھے چھوڑے گا نہیں ۔ اگر یہ محض دھمکی تھی تو اس کا کوئی نتیجہ سامنے آ نے والا نہیں تھا لیکن اگر واقعی ہی ایسا ہوا تو ایک نادیدہ دشمن پیدا ہو گیا تھا ۔وہ کب میرے سامنے آ تا ہے ، مجھ پر وار کرتا ہے ، سامنے نہیں آتا ،کیا صورت ہو گی ، میں اس بارے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا ۔یہی سوچتے ہوئے نجانے کب میری آ نکھ لگ گئی ۔

میری آ نکھ کھلی تو شام کے سائے پھیل چکے تھے ۔میں فریش ہو کر لاﺅنج میں آیا تو بابا تیار بیٹھے تھے ۔ ان کے پاس میرا کزن اکبر بھی بیٹھا ہوا تھا ۔اس نے میری طرف دیکھ کر عام سے لہجے میں پوچھا

” تم نہیں جاﺅ گے ؟“

” یار ، جب آپ دونوں جا رہے ہو تو میرا جانا کیا ضروری ہے ؟“میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

” چل یار چلتے ہیں ، جنازہ پڑھ کر آ جائیں گے ۔آخر علاقے کا ایم این اے رہا ہے ۔“ اس نے کہا

”آپ اور بابا ہو آئیں ، میں پھر بعد میں چلا جاﺅں گا ۔“ میں نے کہا ہی تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا ۔ وہ انجانے نمبر تھا۔میں نے کال رسیو کی تو دوسری طرف سے انہائی نرم انداز میں آ واز آ ئی

” سائیں محبت خان بات کر رہا ہوں ۔“

” ہاں جی سائیں جی ، کیسے ہیں آپ ؟“میں نے خوشدلی سے پوچھا

”میں چوہدری صاحب کے جنازے پر جا رہا ہوں ، کیا ادھر ملاقات ہو گی ؟“اس نے پوچھا

”کیا وہاں پر ملاقات ضروری ہے ؟“ میںنے پوچھا

” نہیں ضروری تو نہیں …. لیکن میں آپ سے ملنا چاہ رہا تھا ۔“ اس نے جھجکتے ہوئے کہا

” اچھا مل لیں گے ۔“ میں نے بے اعتنائی سے کہا

”ٹھیک ہے ۔“ اس نے سعادت مندی سے کہا تو میںنے فون بند کر دیا ۔

 میرے فو ن کرنے کے دوران ہی بابا اور اکبر اٹھ کر چلے گئے تھے ۔ میں کچھ دیر یوں خالی الذہن بیٹھا رہا ۔تبھی اچانک مجھے خیال آ یا کہ چاچا فیضو کو ممکن حد تک ان حالات کے بارے میں بتا دینا چاہئے ۔وہ باخبر آ دمی تھا ۔ اس نے تنّی کو دیکھ کر مجھے تنبہہ کی تھی ۔اس کا شک بالکل درست نکلا تھا ۔ میں اٹھا ، میںنے ایک بڑی ساری چادر لی اور موٹر سائیکل نکال کر دیرے کی طرف چل دیا ۔

چاچا فیضو ڈیرے کے صحن ہی میں چارپائی پر بیٹھا چائے پی رہا تھا ۔ اس کے پاس تھرماس بھرا پڑا تھا ۔ میں اس کے پاس ہی دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ اس نے علیک سلیک کے دوران پیالی میں ڈال کر چائے دی تو میں نے گرما گرم چائے کا سپ لے کر کہا

” چاچا، تمہارے خیال میں کیا آج سے علاقے کی صورت حال بدل جائے گی ؟“

” کچھ دیر کے لئے ؟“ اس نے گہرے انداز میں کہا

” کیوں ، کچھ دیر کے لئے کیوں ؟“ میںنے پوچھا

” کل کوئی دوسرا چوہدری سردار پیدا ہو جائے گا ۔“ اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” یہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے ۔کوئی نیا چوہدری سردار پیدا نہ ہو ، اس کے لئے کیا ہونا چاہئے ؟“ میںنے ایسے ہی پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا

” کہیں تم تو ایم این اے بننے کے خواب تو نہیں دیکھ رہے ہو ؟“

” نہیں ، میں نہیں ، “ میں نے واضح انداز میں انکار کر دیا تو وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولا

”جب تک سیاست سے یہ جرائم پیشہ لوگ نہیں نکلتے نا ، اس وقت تک یہ ماحول ایسا ہی رہے گا ۔اسی طرح ظلم ہوتا رہے گا ، جرم بڑھتا رہے گا ۔ کیونکہ یہ عہدہ ان لوگوں نے اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ پر کس طرح ماحول بدلے ۔تیرے جیسے پڑھے لکھے لوگ جو جرم سے نفرت کرتے ہیں آ گے نہیں آئیں گے تو ماحول کیسے بدلے گا ۔“اس نے دکھے ہوئے دل سے کہا

” چاچا فیضو ، ہم اگر ایم این اے نہیں ہیں تو کیا ہوا ، اب اس علاقے میں ہماری ہی چلے گی ،بتا کرنا کیا ہوگا ؟“ میں نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا

” بس پھر پتر غریبوں کے دل جیت لے ۔ ان سے ہمدردی کر ۔انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو نے میں مدد دے ۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔بندہ ، بندے کا دارو ہوتا ہے ، اگر سمجھا جائے تو ۔“ اس نے بڑی گہری بات کر دی تھی ۔میں اس کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا ۔ ساری بات بتانے کی بجائے یہ باور کر دیا کہ اب اس علاقے کو ہم نے بدلنا ہے ۔ وہ بہت ساری باتیں کرتا رہا ۔ یہاں تک کہ اس نے کہا

” باقی رہے بندے ، وہ دو بندے میںنے چن لئے ہیں ، بڑے کام کے ہیں ، چالاک ، ہو شیار اور سمجھ دار ، مگر لالچی نہیںہیں ۔ اگر انہیں عزت دو گے نا تو وہ تمہارے لئے جان تک دینے کو تیار ہو جائیں گے ۔“

” کون ہیں وہ ؟“ میں نے پوچھا

” میں ایک دو دن میں ملوا دیتا ہوں ۔یہیں ڈیرے پر ان سے بات ہو جائے گی ۔“ اس نے کہا تو مجھے لگا وہ غافل نہیں ہے اپنے طور پرپورا کام کر رہا ہے ۔میں کچھ دیر اس کے پاس بیٹھ کر حویلی واپس چلا گیا ۔ میں بڑی حد تک مطمئن ہو گیا تھا ۔

رات کافی گہری ہو گئی تھی ۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔ میں بیڈ روم میں پڑا ایک کتاب پڑھ رہا تھا ۔میں کتاب میں کھویا ہوا تھا کہ میرا فون بج اٹھا ۔اسکرین پر ارم کے نمبر جگمگا رہے تھے ۔ میںنے کال رسیو کرتے ہوئے کہا

” ہاں بولو۔“

”آ جاﺅ کچھ دن کے لئے ۔“ اس نے کہا

” مجھے یہاں کوئی کام نہیں جو تیرے پاس آ جاﺅ ں ۔“ میں نے اسے چھیڑنے کے لئے کہا

”میں دو دن بعد دوبئی جا رہی ہوں ۔ اگر جانا چاہو تو آ جاﺅ ۔“اس نے اداس لہجے میں کہا

” واپس آ ﺅ گی تو آ جاﺅں گا ۔“ میںنے کہا

” اچھا ، خیر جب مرضی آ نا ، میں تمہیں یہ بتانے لگی تھی کہ اب تمہیں سیاست میں ….“

وہ جو کہنا چاہ رہی تھی ، میں سمجھ گیا تھا اس لئے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا

” ارم ، مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اور دوسرا اب مجھے اپنے معاملات میں مت گھسیٹو۔ تیرے ڈیپا ر ٹمنٹ کے معاملات تم خود جانو ۔“

میرے لہجے میں شاید کچھ زیادہ ہی سختی آ گئی تھی ، جس کی وجہ سے وہ چند لمحے خاموش رہی پھر حتمی لہجے میں بولی

” اوکے ، آ ئندہ میں اس معاملے میں بات نہیں کروں گی ۔ لیکن ہماری دوستی تو رہے گی نا ۔“

” بالکل ، رہے گی ۔“ میں نے کہا تو اس نے کال ختم کر دی ۔ میںنے سکون کا سانس لیا ۔ جو بات میں اسے بڑا سوچ سمجھ کر طریقے سے کہنے والا تھا ، وہ اس جذباتی لمحے میں کہہ دی تھی ۔ ایک بوجھ میرے دماغ سے اُتر گیا تھا ۔میں نے کتاب ایک طرف رکھ کر اپنے اور اپنے علاقے کے بارے میں سوچنے لگا ۔

٭….٭….٭

علاقے میں سکون چھا گیا تھا یا میں پر سکون ہو گیا تھا ۔کئی دن تک کوئی ایسا ہنگامہ سامنے نہیں آ یا تھاجس میں میں خود کوڈ سٹرب سمجھتا ۔ان دنوں میں اپنی زمینوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ میں کاشتکاری کے نئے طریقوں کے مطابق کاشت کاری کروں ۔میں لوگوں میں رہنا چاہتا تھا ۔گاﺅں کے یا علاقے میں جو چھوٹے چھوٹے مسائل تھے انہیں حل کرنے کا جذبہ رکھتا تھا ۔ لوگوں کے وہ چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی کوشش کرتا، جو مختلف دفتروں میں اَڑے رہتے تھے ۔ اس کے لئے میں نے شہر والا بنگلہ بھی آ باد کر لیا تھا ۔ ہر دورے تیسرے دن وہاں کچھ وقت ضرور گزارتا تھا ۔

اس دن میںنے علاقے کے زراعت آ فیسر سے ملنا تھا ۔میں حویلی کے لاﺅنج میں اس کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایسے میں باہر سے بابا نے مجھے بلوایا ۔ میں کچھ ہی دیر میں ان کے پاس گیا تو وہاں بابا کے دوستوں کے علاوہ گاﺅں کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔میں جب وہاں بیٹھ گیا تو بابا نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

” یار علی ، ان کی درمیان وراثت کی زمین کا تنازعہ ہے ۔ یہ کئی برسوں سے چل رہا ہے ۔اب ان کے درمیان معاملات طے ہو گئے ہیں ۔ ان کی صلح بھی ہو گئی ہے ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے جو آ پس میں درخواست بازی کی تھی ، وہ تو چل رہی ہے ۔وہ سب لاہور سیکریٹریٹ میں جا کر ختم ہو گی ۔ تم ان کی مدد کرو وہ سب ختم کروا دو ۔“

بابا کا مجھے یہ حکم دینا کئی باتوں کی جانب اشارہ کر رہا تھا ۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن گاﺅں کے لوگوں کے لئے بہر حال یہ مسئلہ تھا ۔جس چیز کے بارے میں ہم نہیں جانتے وہ ہمارے لئے مشکل ہی ہو تی ہے اور جس کے بارے میں جانتے ہیں وہ آ سان لگتی ہے ۔بابا کے اس حکم میں واضح طور پر یہ اشارہ تھا کہ وہ لوگوں کو میری طرف متوجہ کر رہے ہیں ۔تاکہ میں الیکشن میں سامنے آ جاﺅں ۔ حالانکہ پہلے وہی یہ سب کرتے تھے ۔

” جیسے حکم بابا ۔“ میں نے کہا

” ٹھیک ہے ، انہیں بتا دو کیا کرنا ہے ۔“ انہوںنے کہا اور اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے ۔ ان آ ئے ہوئے لوگوں کو میںنے یہ کہا کہ میں ایک دو دن میں لاہور جا رہا ہوں ۔ وہاں جا کر میں انہیں فون کروں گا وہ آ جائیں اگر ان کی ضرورت پڑی تو ، ورنہ وہ مجھے اپنے سارے کاغذات دے جائیں ، میں حل کروادوں گا ۔وہ تو چلے گئے لیکن میں سوچنے لگا کہ اس الیکشن اور سیاست سے کیسے بچوں ؟

دوپہر کے کھانے کے بعد میں خود بابا کے کمرے میں چلا گیا ۔ کچھ دیر باتوں کے بعد میںنے پوچھا

” بابا آپ کہیں مجھے الیکشن تو نہیں لڑوانا چاہ رہے ؟“

” بالکل ، اس میں کوئی شک نہیں ؟“انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تومیں نے دھیرے سے بولا

” لیکن میں سیاست میں نہیںآنا چاہتا ۔“

” کیوں بیٹا؟“ انہوںنے حیرت سے پوچھا

”پتہ نہیں کیوں ، میں خود کو مطمئن نہیں کرپارہا ہوں ۔“

” بیٹا، بہت عرصے بعد ،میری اتنی محنت کرنے کا صلہ اب جا کر کہیں ملا ہے ۔ مجھے ہر طرف سے یہی کہا جا رہا ہے کہ میں جس پر ہاتھ رکھوں ، وہ رکن منتخب ہو جائے گا ۔سب کی نگاہیں تم پر لگی ہوئی ہیں ۔“انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو میں نے کہا

” میں نہ آپ کو مایوس کروں گا اور نہ ہی میں آپ کی محنت ضائع ہونے دوں گا ۔ اپنے ہی گھر میں یہ رکنیت رہے گی ، اگر آپ میری بات مانیں ۔“

” بولو ،۔“ انہوںنے پرسکون لہجے میں کہا

”اکبر بھائی کو الیکشن لڑوائیں ۔“میںنے کہا تو وہ چند لمحے سوچتے رہے ، پھر بولے

” بات تو تمہاری ٹھیک ہے ۔اس طرح اس کے گلے شکوے بھی ختم ہو جائیں گے ۔ لیکن ….“ وہ کہتے کہتے رُک گئے تو میںنے تیزی سے پوچھا

” بابا، لیکن کیا ؟“

” لیکن اگر وہی ہم سے بدلے لینے پر اتر آیا جو، اب تک اس نے خواہ مخواہ ہم سے بد گمانی میں رکھی تو پھر کیا ہوگا میرے بیٹے ؟“وہ سنجیدگی سے بولے

”بابا مولا علی ؓ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو عزت دو ، اگر ظرف والا ہواتو زیادہ عزت کرے گا اور اگر کمینہ ہوا تو اس کی اصلیت کھل جائے گی ۔ میں سنبھال لوں گا اسے ۔“میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو بابا نے حتمی لہجے میں بڑے سکون سے کہا

” ٹھیک ہو گیا ۔اب اس کے الیکشن کے تیاری کرو ۔“

”سمجھیں ابھی سے شروع ہو گئی ۔“ میں نے کہا تو وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے بولے ،” ان کا کام کروا دو ۔“

” جی میں ابھی نکل جاتا ہوں ۔“ میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا تو وہ خوش ہو گئے ۔ میں کچھ دیر مزید ان کے پاس بیٹھ کر اپنے کمرے میں چل دیا ۔

رات نے اپنے پَر پھیلا دئیے تھے جب میں لاہور پہنچا ۔یونیورسٹی نہر پر پہنچ کر میںنے ٹرن لیا اور سیدھا ہو سٹل کی جانب مڑ گیا ۔تبھی میں نے انور کو فون کیا۔ کچھ دیر میں رابطہ ہو گیا۔

” اوئے کدھر ہو تم۔“ میں نے پوچھا

” کمرے میں ہوں ۔“ اس نے بتایا

” اچھا، اُدھر ہی رہ ،میں دس منٹ میں تیرے پاس آ یا ۔“ میںنے کہا تو وہ تیزی سے بولا

” دیکھ ، دس منٹ کا مطلب دس منٹ ، میں اس کے بعد نکل جاﺅں گا ، مجھے کہیں جانا ہے ۔“ اس نے بے رُخی سے کہا تو میں نے تیزی سے کہا

” ابے چل نومنٹ میں ۔“

میں گاڑی کھڑی کر کے کمرے میں پہنچا تو وہ تیار کھڑا تھا ۔ پورا کمرہ مہنگی خوشبو سے بھرا ہوا تھا ۔ انور جدید تراش کا سیاہ سوٹ پہنے کھڑا تھا ۔اس نے بُو لگائی ہوئی تھی ۔ تازہ شیو ، سنورے بال ، ایک دم تیار ۔

” اوئے کدھر ؟“

” میں جدھر بھی جا رہا ہوں ، تم اس وقت کسی کالی بلی کی مانند میرا راستہ مت کاٹواور نہ ہی میرے پروگرام کے کباب میں ہڈی بننا ۔ میں دو منٹ بعد نکلنے والاہوں تم یہاں آ رام کر و میں ….“

” بکواس ہی کرتا چلا جائے گا یا مجھے بتائے گا بھی ، کہاں جا رہا ہے ۔“میںنے کہا

”اگر میںنے بتایا نا تم بھی جانے کو تیار ہو جاﺅ گے ۔تمہاری تیاری میں کوئی ایک گھنٹہ لگ جانا ہے ۔ میں اتنی دیر افورڈ نہیں کر سکتا ۔“ اس نے تیزی سے کہا اور باہر نکلنے لگا

” چل بتا، ورنہ تم ایک قدم آ گے بڑھا کر دکھاﺅ ۔“ میں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو وہ ایک دم سے رُک گیا

” یار ایک پارٹی ہے ۔ بڑے خاص قسم کے لوگوں کی ، میں اس میں جا رہا ہوں ۔پہلے ہی دیر ہو گئی ہے ۔“

” اوکے جاﺅ ۔“ میں ایک دم سے اُکتاتے ہوئے کہااور بیڈ پر جا بیٹھا۔میں اس کے پرگروام میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔میں سکون سے لیٹ گیا ۔میں کافی تھک گیا تھا ۔ مجھے معلوم کہ انور نے غائب ہونا تھا تو میں ادھر آتا ہی نہ بلکہ کسی ہوٹل کا رُخ کرتا۔

”ٹھیک ہے ، میں چلتا ہوں ۔“ اس نے کہا اور پھر سے آ ئینے میں ایک نگاہ خود کو دیکھ کر باہر نکل گیا ۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ پھر سے پلٹ کر آ گیا ۔

”وہ یار تم یہاں اکیلے رہو گے ؟“اس نے دھیمے سے پوچھا تو مجھے ایک دم سے غصہ آ گیا ، تبھی میںنے دھاڑتے ہوئے کہا

” اور تیری روح میرے ساتھ رہے گی ؟“

” نہیں، یار تم بور ہو گے ۔ میں نا اپنے میزبان سے پوچھتا ہوں ، اگر دوست کو ساتھ لانے کی ….“

” یار مجھے نہیںجانا،جاﺅ تم ۔“ میںنے اکتاہٹ میں کہا اور پر سکون ہو گیا ۔ وہ میرے باوجود جواب دینے کے فون پر بات کرنے لگا ۔مجھے اس کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا ۔ دو منٹ بعد اس نے کہا

” چل آ ، میرے ساتھ چل ۔دیکھ اب منانے میں وقت نہ لگانا ۔“

میں چند لمحے سوچتا رہا پھر اس کا اترا ہو ا چہرہ دیکھ کر چپ چاپ اٹھ گیا ۔

وہ لاہور کے جنوب مشرق میں ایک نیا آباد پوش علاقہ تھا ۔درمیان میں کچی بستیاں بھی آ ئیں ۔ پرانا علاقہ بھی آ یا لیکن جیسے ہی اس علاقے میں پہنچے تو لگا جیسے کسی سنسان علاقے میں آ گئے ہوں ۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ لاہور کا کوئی حصہ ہے ۔ بڑی ساری سڑک کے اطراف میں کھلی جگہیں اور پھر بڑے بڑے گھر ، جیسے کسی گاﺅں میںآ گئے ہوں ۔ مگر بنگلے نما گھر دیکھ کر وہاں کے مکینوں کی امارت کا احساس ہو تا تھا ۔ایک بنگلے کے سامنے انور نے کار رو ک دی ۔ پھر فون پر اپنے آنے کی اطلاع دی ۔ چند لمحے بعد گیٹ کھل گیا ۔ وہ کار پورچ میں لے گیا ۔

لاﺅنج میں چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ان میں ادھیڑ عمر مرد ، نوجوان لڑکیاں لڑکے اور آنٹیاں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انور کے جاتے ہی ایک آ نٹی اس کی جانب بڑھی تو مجھے انور پر بے تحاشا غصہ آ یا ۔اب اس کا معیار یہ رہ گیا تھا کہ اسے آنٹی جیسی عورتوں سے تعلق رکھنا پڑ گیا تھا ۔ آ نٹی کچھ زیادہ ہی جدید تھی ۔ انور سے گلے ملنے کے بعد اس نے خوشگوار حیرت سے میری طرف دیکھا اور مجھ سے بھی ویسے ہی گلے لگ کر ملی ۔ میری آ مد پر کافی خوشی کا اظہار کیا ۔میں ایک جانب صوفے پر بیٹھنے لگا تو اس نے سب کو متوجہ کر کے ہم دونوں کا تعارف کرایا۔ ہم وہاں بیٹھ گئے ۔

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا ۔ ایک کے بعد ایک مہمان آ تا چلا گیا ، وہاں تقریباً بیس کے لگ بھگ لوگ ہو گئے تھے ۔ میں سب کو پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔ کسی کا تعارف ہوا اور کسی کا نہیں ۔انہی مہمانوں میں ایک لڑکی لاﺅنج میں داخل ہوئی ۔ میں نے بہت کم ایسا حسن دیکھا تھا ۔وہ دراز قد تھی۔پتلی سی کمر کے ساتھ بھاری سینہ ،پہلی نگاہ میں اس کی اسمارٹس کو ظاہر کر رہا تھا ۔ اس نے سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی ۔ اس کے اوپر کھلے گریبان والی سلیو لیس ہلکے سبز رنگ کی شرٹ تھی ۔اس کی گردن سے ذرا سا نیچے بالکل درمیان میں ایک ہیرا جڑا نازک سا نکلس دمک رہا تھا ۔ اس نے ہلکا ہلکا میک اپ کیا ہوا تھا ۔ تیکھے نین نقش ، بڑی بڑی بھنوراآ نکھیں، جنہیں کاجل سے مزید ’قاتل‘ بنایا ہو اتھا ۔ اس کے چہرے پر اس کی آ نکھیں سب سے زیادہ دل فریب تھیں ۔ پہلی نگاہ میں اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کی گہری سیاہ آ نکھیں پر سوز ہیں یا نشیلی ۔ پہلے مجھے خیال آیا کہ اس نے لینز لگائے ہیں ، لیکن بعد میں کنفرم ہو گیا کہ یہ اس کی قدرتی آ نکھیں ہیں ۔نازک سی ناک کے نیچے پتلے پتلے ہونٹوں پر گہرے رنگ کی لپ اسٹک تھی ۔ اس کا رنگ اتنا گورا تھا ، گمان یہ ہو رہا تھا کہ کسی یورپی ملک سے آ ئی ہے ۔ ا س کے گیسو گھنے لیکن بوائے کٹ تھے ۔ اس کی ایک کلائی میں سرخ دھاگہ بندھا ہوا تھا ۔جو اس کی گلابی رنگت پر بہت جچ رہا تھا ۔ پتلی پتلی لانبی انگلیاں ، دائیں ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی میں سیاہ بڑا سا پتھر جڑا ہو اہوا تھا ۔اس کے پاﺅں میں ہلکے سے سلیپر تھے ۔ میںنے اسے سر سے پاﺅں تک بڑے غور سے دیکھا تھا ، وہ واقعی ہی غور سے دیکھنے والی شے تھی ۔اس کے آ تے ہی بقول شاعر چرا غوں میں روشنی ہی نہ رہی ۔وہ ان سب میں منفر د لگ رہی تھی ۔میں اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا کہ میرے کان کے قریب آ واز آئی

” پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے ؟“

میں نے مڑ کر دیکھا تو انور میرے پیچھے کھڑا تھا ۔

” یار کیا کمال کی شے ہے ؟“ میرے منہ سے بے ساختہ نکلاتو وہ ہنس دیا

” میرا خیال ہے آپ کی ساری بوریت ختم ہو گئی ہو گی ۔“ اس نے ہنسی دباتے ہوئے کہا

” بے شک ، بہت پیاری شے ہے ۔“میں نے اس پر نگاہیں جمائے کہا

” چل آ بیٹھتے ہیں۔“ اس نے کہا

” اور وہ تیری آ نٹی ….؟“ میںنے پوچھا

” اسے بڑا تجربہ ہے سنبھال لے گی ساری پارٹی ۔“ یہ کہہ اس نے میرا ہاتھ پکڑااور صوفو ں کی جانب بڑھا گیا ۔ ابھی ہم بیٹھے ہی تھے اور کوئی بات نہیں کی تھی کہ میزبان خاتون نے کہا

” مہمان تقریباً آ چکے ہیں ۔ آ ئیں اب ہال میں چلتے ہیں ۔“ یہ کہہ کر وہ ایک دروازے کی جانب بڑھ گئی ۔ سبھی اس جانب چل دئیے ۔ ہم ہال میں آ گے پیچھے داخل ہوئے تو راستے میں آ نٹی نے اسے دھیرے سے کچھ کہا ۔ وہ وہیں رُک گیا ۔اس کے بعد وہ مجھ سے بے گانہ ہو کر آنٹی کے ساتھ ہی جڑ گیا ۔

ہال میں داخل ہوتے ہی وہ لڑکی مجھے پھر سے دکھائی دے گئی ۔بہت سارے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے ۔خاص طور پر وہ لڑکے جو نئی لڑکی دیکھ کر اسے متوجہ کرنے کے خبط میں مبتلا ہو تے ہیں ۔ میں ایک صوفے پر بیٹھ کر ان کا تماشا دیکھنے لگا ۔ایسے میں آ نٹی کی آ واز گونجی

” لیڈیز اینڈ جنٹلمین…. خوش آ مدید ۔“ سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے ۔” آج کی یہ گیٹ ٹو گیدر اس تنظیم کے بارے میں ہے جس کے متعلق ہمارے درمیان بات ہو چکی ہے ، آج ہم اسے حتمی صورت دے دیں ۔ہمارے یہاں کچھ نئے دوست بھی آ ئیں ہیں ، انہیں صرف اتنا بتا دیں کہ ہماری یہ تنظیم غریبوں کے حقوق کے لئے بنائی جا رہی ہے ۔میں اس کے لئے دو نوجوان کواڈی نیٹر مقرر کر رہی ہوں ۔ وہی اس تنظیم کے سارے معاملات دیکھیں گے ۔ وہی آ پ کے ساتھ مشاورت کریں گے ۔ وہ ہیں ینگ مین انور جمیل اور ینگ گرل ماہ نور ۔“

اس نے کہا تو انور جمیل اٹھ کر آ نٹی کے پاس چلا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی وہی لڑکی اور دھیمے قدموں کے ساتھ ادھر ہی بڑھ گئی ۔وہاں موجود سبھی لوگوں نے ان کے تالیاں بجائی۔اس کے ساتھ ہی محفل میں شراب سرو ہو نے لگی ۔ میں انکار کر کے ایک طرف پڑے صوفے پر جا بیٹھا ۔ میری طرح ایک لڑکی بھی وہیں میرے پاس آ بیٹھی ۔ وہ تھوڑی فربہ مائل تھی ۔ اس نے عینک لگائی ہوئی تھی ۔چہرے مہرے سے قبول صورت تھی ۔ باقی سب شراب پینے میں مست ہو گئے ۔ہلکا ہلکا میوزک شروع ہوگیا تھا۔اسی دوران ایک لڑکا اور لڑکی اس میوزک پر ہلکے ہلکے تھرکنے لگے ۔میرے دماغ میں غصہ بھرنے لگا تھا ۔ کہاں غریبوں کے حقوق کی تنظیم اور کہاں یہ محفل رقص و سرور ۔کیسی منافقت ہے یہ ؟

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے