سر ورق / کہانی /  وانگ چُو  بھیشم ساہنی/عامرصدیقی ہندی کہانی

 وانگ چُو  بھیشم ساہنی/عامرصدیقی ہندی کہانی

 وانگ چُو

 بھیشم ساہنی/عامرصدیقی

ہندی کہانی

………………..

بھیشم ساہنی،پیدائش:۸ اگست ۵۱۹۱ ءجائے پیدائش، راولپنڈی (پاکستان)،میدان: کہانی،ایکٹر وغیرہ،اہم کام: کہانیوں کے مجموعے:

بھاگی ریکھا، وانگ چو، پہلا پاٹھ،بھٹکتی راکھ،پٹریاں،شوبھا یاترا،ناول:جھروکے،تمس،میّا داس کی موڑی، بسنتی،وغیرہ،ڈرامے:کبیرا کھڑا بازار میں،ہانُوس،مادھوری،بچوں کا ادب:غلیل کا کھیل،ایوارڈ:پدم بھوشن ،ناول”تمس” پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ،سوویٹ لینڈ ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ اور اعزازات سے نوازا گیا ۔انتقال :۱۱ جولائی ۳۰۰۲ ئ

…………….

تبھی دور سے وانگ چُو آتا دکھائی دیا۔ دریا کے کنارے، لال منڈی کی سڑک پر دھیرے دھیرے ڈولتا سا چلا آ رہا تھا۔ گیروی رنگ کا چوغہ پہنے تھا اور دور سے لگتا تھا کہ بدھ مت کے بھکشوﺅں کی ہی مانند اس کا سر بھی گُھٹا ہوا ہے۔ پیچھے شنکرآچاریہ کی اونچی پہاڑی تھی اور اوپر صاف نیلا آسمان۔ سڑک کی دونوں جانب اونچے اونچے سفےدے کے درختوں کی قطاریں۔ لمحے بھر کےلئے مجھے لگا، جیسے وانگ چُو تاریخ کے صفحات سے اترکر آ گیا ہے۔ زمانہ قدیم میں دیس بدیس سے اسی شباہت کے حامل چِیوردھاری بھکشو ، پہاڑوں اور وادیوں کو پھلانگ کر ہندوستان آیا کرتے ہوں گے۔ ماضی کے ایسے ہی تجسس آمیز دھندلکے میں مجھے وانگ چُو بھی چلتا ہوا نظر آیا۔ جب سے وہ سرینگر میں آیا تھا، بدھ مت کی تہذیب کے کھنڈروں اور عجائب خانوں میں گھوم رہا تھا۔ اس وقت بھی وہ لال منڈی کے عجائب گھر سے نکل کر آ رہا تھا، جہاں بدھ دور کے کئی عجائبات رکھے ہیں۔ اسکی ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ وہ حقیقت میں حال سے کٹ کر ماضی کی ہی کسی صدی میں جی رہا تھا۔

 ”بدھ کے آثار سے ملاقات ہو گئی؟“پاس آنے پر میں نے چٹکی لی۔ وہ مسکرا دیا، ہلکی سی ٹیڑھی مسکراہٹ، جسے میری خالہ زاد بہن ڈیڑھ دانت کی مسکراہٹ کہا کرتی تھی، کیونکہ مسکراتے وقت وانگ چُو کا اوپری ہونٹ صرف ایک جانب سے تھوڑا سا اوپر کو اٹھتا تھا۔

 ”میوزیم کے باہر بہت سی مورتیاں رکھی ہیں۔ میں وہی دیکھتا رہا۔“ اس نے آہستہ سے کہا۔، پھر وہ اچانک جذباتی ہوکر بولا،”ایک مورتی کے صرف پیر ہی بچے ہیں ….“

 میں نے سوچا، آگے کچھ بولے گا، لیکن وہ اتنا جذباتی ہو اٹھا تھا کہ اس کا گلا رندھ گیا اور اس کےلئے بولنا ناممکن ہو گیا۔ ہم ایک ساتھ گھر کی طرف لوٹنے لگے۔

”مہاپران کے بھی پیر ہی پہلے دکھائے جاتے تھے۔“ اس نے کانپتی سی آواز میں کہا اور اپنا ہاتھ میری کہنی پر رکھ دیا۔ اس کے ہاتھ کا ہلکا سا لمس، دھڑکتے دل کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔

”ابتدامیں مہاپران کی مورتیاں نہیں بنائی جاتی تھیں نا۔ تم تو جانتے ہو، پہلے اسٹوپے کے نیچے صرف پیر ہی دکھائے جاتے تھے۔ مورتیاں تو بعد میں بنائی جانے لگی تھیں۔“

ظاہر ہے، بدھ کے پاو ¿ں دیکھ کر اسے مہاپران کے پاو ¿ں یاد آگئے تھے اور وہ جذباتی ہو اٹھا تھا۔ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا، کون سی بات کس وقت وانگ چُو کوخاموش کردے، کس وقت وہ فضول گو ہونے لگے۔

”تم نے بہت دیر کر دی۔ سب لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ میں چنارو ںکے نیچے بھی تمہیں تلاش کر آیا ہوں۔“ میں نے کہا۔

 ”میں میوزیم میں تھا ….“

  © ©”وہ تو ٹھیک ہے، پر دو بجے تک ہمیںہبّا کدل پہنچ جانا چاہئے، ورنہ جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔“ اس نے چھوٹے چھوٹے جھٹکوں کے ساتھ تین بار سر ہلایا اور قدم بڑھا دیئے۔ وانگ چُو بھارت میں عاشق بنا گھوم رہا تھا۔ وہ مہاپران کی جائے پیدائش لمبینی کی یاترا ننگے پاو ¿ں کر چکا تھا، سارے راستے ہاتھ جوڑے ہوئے۔ جس جس سمت میں مہاپران کے قدم اٹھے تھے، وانگ چُو فریفتہ سااسی سمت میں گھوم آیا۔ سارناتھ میں، جہاں مہاپران نے اپنا پہلا وروچن دیا تھا اور دو ہرن مسحور ہوکر، جھاڑیوں میں سے نکل کر ان کی طرف دیکھتے رہ گئے تھے، وانگ چُو ایک پیپل کے درخت کے نیچے گھنٹوں جھکا ہوا بیٹھا رہا تھا، یہاں تک کہ اسکے بیان کے مطابق اسکے دماغ میں عجیب سے جملے گونجنے لگے تھے اور اسے لگا تھا، جیسے مہاپران کا پہلا وروچن سن رہا ہے۔ وہ اس وارفتگی بھرے تصور میں اتنا گہرا ڈوب گیا تھا کہ سارناتھ میں ہی رہنے لگا تھا۔ گنگا کی دھار کو وہ دسیوں صدیوں پہلے کے دھندلے میں پوتر جل پروا کے روپ میں دیکھتا۔ جب سے سری نگر میں آیا، برف سے ڈھکے پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف دیکھتے ہوئے اکثر مجھ سے کہتا۔

”وہ راستہ لہاسا کو جاتا ہے نا، اسی راستے بدھ گرنتھ تبت میں بھیجے گئے تھے۔“

 وہ اس پہاڑی سلسلے کو بھی پوتر مانتا تھا ،کیونکہ اس پر بچھی پگڈنڈیوں کے راستے بدھ بھکشو تبت کی جانب گئے تھے۔ وانگ چُو چند سالوں پہلے عمر رسیدہ پروفیسر تانشان کے ساتھ بھارت آیا تھا۔ کچھ دنوں تک تو وہ انہی کے ساتھ رہا اور ہندی، انگریزی زبانوں کا مطالعہ کرتا رہا، پھر پروفیسر شان چین لوٹ گئے اور وہ یہیں رکا رہا اور کسی بدھ سوسائٹی سے گرانٹ حاصل کرکے سارناتھ میں آکر بیٹھ گیا۔ پرجوش، شاعرانہ عہد کی زندگی، جو عہدِعتیق کے دل فریب ماحول میںمشغول رہنا چاہتی تھی۔ وہ یہاں حقائق کی تلاش کرنے تھوڑے آیا، وہ تو بدھ عہد کی مورتیوں کو دیکھ کر مسرور ہونے آیا تھا۔ مہینے بھر سے عجائب گھروں کے چکر کاٹ رہا تھا، لیکن اس نے کبھی نہیں بتایا کہ بدھ مت کی کس تعلیم سے اسے سب سے زیادہ ترغیب ملتی ہے۔ نہ تو وہ کسی حقیقت کو پا کر جوش و خروش سے کھِل اٹھتا، نہ اسے کوئی ابہام پریشان کرتا۔ وہ بھگت زیادہ اور متجسس کم تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس نے ہمارے ساتھ کبھی کھل کر بات کی ہو یا کسی موضوع پر اپنا نقطہ ءنظر پیش کیا ہو۔ ان دنوں میرے اور میرے دوستوں کے درمیان گھنٹوں بحثیں چلا کرتیں، کبھی ملک کی سیاست کے بارے میں، توکبھی مذہب میں بارے میں، لیکن وانگ چُو ان میں کبھی حصہ نہیں لیتا تھا۔ وہ تمام وقت ہولے ہولے مسکراتا ،کمرے کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھا رہتا۔ ان دنوں ملک میں ولولوں کا سیلاب سا اٹھ رہا تھا۔ آزادی کی تحریک کون سا رخ اختیار کرے گی۔عملی سطح پر تو ہم لوگ کچھ کرتے کراتے نہیں تھے، لیکن جذباتی سطح پر اس کے ساتھ بہت جڑے ہوئے تھے۔ اس پر وانگ چُو کی غیر جانبداری کبھی ہمیں کچوکے لگاتی، تو کبھی اچنبھے میں ڈال دیتی۔ وہ ہمارے ملک کی سرگرمیوں کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ اپنے ملک کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ اس سے اس کے اپنے ملک کے بارے میں بھی پوچھو تو مسکراتا سر ہلاتا رہتا تھا۔

کچھ دنوں سے سرینگر کی ہوا بھی بدلی ہوئی تھی۔ کچھ عرصے پہلے یہاں گولی چلی تھی۔ کشمیر کے لوگ مہاراجہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور اب کچھ دنوں سے شہر میں ایک نئی ہلچل پائی جاتی تھی۔ نہرو جی سرینگر آنے والے تھے اور ان کا استقبال کرنے کےلئے شہر کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا۔ آج ہی دوپہر کو نہرو جی سرینگر پہنچ رہے ہیں۔ دریا کے راستے کشتیوں کے جلوس کی شکل میں ان کو لانے کی منصوبہ بندی تھی اور اسی وجہ سے میں وانگ چُو کو تلاش کرتا ہوا ،اس طرف آ نکلا تھا۔ ہم گھر کی طرف بڑھے جا رہے تھے،تبھی اچانک وانگ چُو ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا۔

”کیا میرا جانا بہت ضروری ہے؟“

”جیسا تم کہو …. “مجھے دھکا سا لگا۔

ایسے وقت میں، جب لاکھوں لوگ نہرو جی کے استقبال کےلئے جمع ہو رہے تھے، وانگ چُو کا یہ کہنا کہ اگر وہ ساتھ نہ جائے تو کیسا رہے گا، مجھے واقعی برا لگا۔ لیکن پھر خود ہی کچھ سوچ کر اس نے اپنے اصرار کو دوہرایا نہیں اور ہم گھر کی جانب ساتھ ساتھ بڑھنے لگے۔ کچھ دیر بعد ہبّا کدل کے پل کے قریب لاکھوں کی بھیڑ میں ہم لوگ کھڑے تھے ،میں، وانگ چُو اور میرے دو تین دوست۔ چاروں جانب جہاں تک نظر جاتی، لوگ ہی لوگ تھے۔ مکانوں کی چھتوں پر، پل پر، دریا کے ڈھلواں کناروں پر۔ میں بار بار کنکھیو ںسے وانگ چُو کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اس کا کیا ردعمل ہے، اور یہ کہ ہمارے دل میں اٹھنے والے ولولوں کا اس پر کیا اثر ہوا ہے۔ یوں بھی یہ میری عادت سی بن گئی ہے، جب بھی کسی بدیسی کے ساتھ میں ہوں۔ تومیں اسکے چہرے کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں کہ ہمارے رسم و رواج، ہماری طرزِ معاشرت کے بارے میں اس کاکیا ردعمل ہوتا ہے۔

وانگ چُو نیم وا آنکھوں سے سامنے کا منظر دیکھے جا رہا تھا۔ جس وقت نہرو جی کی کشتی سامنے آئی، تو جیسے مکانوں کی چھتیں بھی ہل اٹھیں۔ راج ہنس کی شکل والی سفید کشتی میں نہرو جی ،مقامی رہنماو ¿ں کے ساتھ کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ اور ہوا میں پھول ہی پھول بکھر گئے تھے۔ میں نے پلٹ کر وانگ چُو کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی کی طرح غافل سا سامنے کا منظر دیکھے جا رہا تھا۔

 ”آپ کو نہرو جی کیسے لگے؟“ میرے ایک ساتھی نے وانگ چُو سے پوچھا۔

وانگ چُو نے اپنی ترچھی سی آنکھیں اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا، پھر اپنی ڈیڑھ دانت کی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،”اچّا، بہت اچّا۔“ وانگ چُو معمولی سی ہندی اور انگریزی جانتا تھا۔ اگر تیز بولو، تو اس کے پلے کچھ نہیں پڑتا تھا۔ نہرو جی کی کشتی دور جا چکی تھی، لیکن کشتیوں کا جلوس اب بھی رواں دواں تھا۔

 تبھی وانگ چُو دفعتاً مجھ سے بولا،”میں تھوڑی دیر کےلئے میوزیم میں جانا چاہوں گا۔ ادھر سے راستہ جاتا ہے، میں خود چلا جاو ¿ں گا۔“ اور وہ بغیر کچھ کہے، ایک بار پھر نیم وا آنکھوں سے مسکرایا اور ہولے سے ہاتھ ہلا کر مڑ گیا۔ ہم سب حیران رہ گئے۔ اسے سچ مچ جلوس میں دلچسپی نہیں رہی ہو گی۔ جبھی اتنی جلدی میوزیم کی جانب تنہا چل دیا ہے۔

 ”یار، کس بودم کو اٹھا لائے ہو؟ یہ کیا بات ہے؟ کہاں سے پکڑ لائے ہو اسے؟ © ©“ میرے ایک دوست نے کہا۔

”باہر کا رہنے ہے، اسے ہماری باتوں میں کیسے دلچسپی ہو سکتی ہے۔“ میں نے صفائی دیتے ہوئے کہا۔

 ”واہ، ملک میں اتنا کچھ ہو رہا ہو اور اسے دلچسپی نہ ہو۔“

وانگ چُو اب تک دور جا چکا تھا اور بھیڑ میں سے نکل کر درختوں کی قطار کے نیچے آنکھوں سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا۔

 ”مگر یہ ہے کون؟“ ایک دوسرا دوست بولا،”نہ یہ بولتا ہے، نہ چہکتا ہے۔ کچھ پتا نہیں چلتا، ہنس رہا ہے یا رو رہا ہے۔ سارا وقت ایک کونے میں دبک کر بیٹھا رہتا ہے۔“

 ”نہیں، نہیں بڑا سمجھدار آدمی ہے۔ پچھلے پانچ سال سے یہاں پر رہ رہا ہے۔ بڑا پڑھا لکھا آدمی ہے۔ بدھ مت کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔“ میں نے پھر اس کی صفائی دیتے ہوئے کہا۔ میری نظر میں اس بات کی بڑی اہمیت تھا کہ وہ بدھ گرنتھ سیکھتاہے اور انہیں سیکھنے کےلئے اتنی دور سے آیا ہے۔

 ”ارے بھاڑ میں جائے ایسی پڑھائی۔ واہ جی، جلوس کو چھوڑ کر میوزیم کی جانب چل دیا ہے۔“

 ”سیدھی سی بات ہے یار۔“ میں نے مزید کہا،”اسے یہاں بھارت کا حال گھسیٹے نہیں لایا، بھارت کا ماضی لایا ہے۔ ہیون تسانگ بھی تو یہاں بدھ گرنتھ ہی سیکھنے آیا تھا۔ یہ بھی سیکھتا ہے۔ بدھ مت میں اسے دلچسپی ہے۔“ گھر لوٹتے ہوئے ہم لوگ سارے رستے وانگ چُو کے متعلق ہی گفتگو کرتے رہے۔ اجے کا خیال تھا، اگر وہ پانچ سال بھارت میں کاٹ گیا ہے، تو اب وہ زندگی بھر یہیں پر رہے گا۔

”اب آ گیا ہے، تو لوٹ کر نہیں جائے گا۔ہندوستان میں ایک بار پردیسی آجائے، تو واپس جانے کا نام نہیں لیتا۔“

  © ©”ہندوستان نامی ملک وہ دلدل ہے کہ جس میں ایک بار باہر کے آدمی کا پاو ¿ں پڑ جائے، تو دھنستا ہی چلا جاتا ہے، نکلنا چاہے بھی تو نہیں نکل سکتا۔“دلیپ نے مذاق میں کہا،”نہ جانے کون سے کنول کے پھول توڑنے کےلئے اس دلدل میں گھسا ہے۔“

”ہمارا ملک ہم ہندوستانیوں کو پسند نہیں، باہر کے لوگوں کو تو بہت پسند ہے۔“ میں نے کہا۔

 ”پسند کیوں نہ ہو گا۔ یہاں تھوڑے میں گزارا ہو جاتا ہے، سارا وقت دھوپ کھلی رہتی ہے، پھر باہر کے آدمی کو لوگ پریشان نہیں کرتے، جہاں بیٹھا ہے وہیں بیٹھا رہنے دیتے ہیں۔ اس پر انہیں آپ جیسے پاگل بھی مل جاتے ہیں، جو ان کی ستائش کرتے رہتے ہیں اور ان کی آﺅبھگت میں مصروف رہتے ہیں۔ تمہارا وانگ چُو بھی یہیں پر مرے گا ۔“

ہمارے یہاں ان دنوں میری چھوٹی خالہ زاد بہن ٹھہری ہوئی تھی، وہی جو وانگ چُو کی مسکراہٹ کو ڈیڑھ دانت کی مسکراہٹ کہا کرتی تھی۔ چلبلی سی لڑکی بات بات پر ٹھٹھولی کرتی رہتی تھی۔ میں نے دو ایک بار وانگ چُو کوکنکھیوں سے اس کی جانب دیکھتے پایا تھا، لیکن کوئی خاص توجہ نہیں دی، کیونکہ وہ سبھی کو کنکھیوں سے ہی دیکھتا تھا۔ پر اس شام نیلم میرے پاس آئی اور بولی،”آپ کے دوست نے مجھے تحفہ دیا ہے۔ پیار سے۔“

 میرے کان کھڑے ہو گئے،”کیا دیا ہے؟“

 ”جھومروں کی جوڑی۔“ اور اس نے دونوں مٹھیاں کھول دیں ،جن میںچاندی کے کشمیری انداز کے دو سفید جھومر چمک رہے تھے۔ اور پھر وہ دونوں جھومر اپنے کانوں کے پاس لے جا کر بولی،”کیسے لگتے ہیں؟“ میں بے حس سا نیلم کی طرف دیکھ رہا تھا۔”اس کے اپنے کان کیسے بھورے بھورے ہیں۔“ نیلم نے ہنس کر کہا۔

 ”کس کے؟“

 ”میرے اس پریمی کے۔“

 ”تمہیں اس کے بھورے کان پسند ہیں؟“

 ”بہت زیادہ۔ جب شرماتا ہے براو ¿ن ہو جاتے ہیں گہرے براو ¿ن۔“ اور نیلم کھلکھلاکر ہنس پڑی۔

 لڑکیاں کیسے اس آدمی کی محبت کا مذاق اڑا سکتی ہیں، جو انہیں پسند نہ ہو۔ یا کہیں نیلم مجھے بنا تو نہیں رہی ہے؟ پر میں اس خبر سے بہت پریشان نہیں ہوا تھا۔ نیلم لاہور میں پڑھتی تھی اور وانگ چُو ،سارناتھ میں رہتا تھا اور اب وہ ہفتے بھر میں سرینگر سے واپس جانے والا تھا۔ اس محبت کی کونپل اپنے آپ ہی جل بھن جائےگی۔

 ”نیلم، یہ جھومر تو تم نے اس سے لے لئے ہیں، اس طرح کی دوستی آخر میں اس کےلئے تکلیف دہ ثابت ہو گی۔ بنے بنائے گا کچھ نہیں۔“

”واہ بھیا، آپ بھی کیسے دقیانوس ہو۔ میں نے بھی چمڑے کا ایک رائٹنگ پیڈ اسے تحفے میں دیا ہے۔ میرے پاس پہلے سے پڑا تھا، میں نے اسے دے دیا۔ جب لوٹے گا تو پریم پتر لکھنے میں اسے آسانی ہو گی۔“

”وہ کیا کہتا تھا؟“

 ”کہتا کیا تھا، تمام وقت اس کے ہاتھ کانپتے رہے اور چہرہ کبھی سرخ ہوتا رہا، کبھی زرد۔ کہتا تھا، مجھے خط لکھنا، میرے خطوں کا جواب دینا۔ اور کیا کہے گا بے چارہ، بھورے کانوں والا۔“

 میں نے غورسے نیلم کی طرف دیکھا، پر اس کی آنکھوں میں مجھے مسکان کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیا۔ لڑکیاں دل کی بات چھپانا خوب جانتی ہیں۔ مجھے لگا، نیلم اسے بڑھاوا دے رہی ہے۔ اس کےلئے تو یہ سارا کھیل تھا، لیکن وانگ چُو ضرور اس بات کا دوسرا ہی مطلب نکالے گا۔ اس کے بعد مجھے لگا کہ وانگ چُو اپنا توازن کھو رہا ہے۔ اسی رات ،جب میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا ،باہر میدان میں چناروں کی قطار کی جانب دیکھ رہا تھا، تبھی چاندنی میں، کچھ فاصلے پر درختوں کے نیچے مجھے وانگ چُوہوا ٹہلتا دکھائی دیا۔ وہ اکثر رات کو دیر تک درختوں کے نیچے ٹہلتا رہتا تھا۔ پر آج وہ اکیلا نہیں تھا۔ نیلم بھی اس کے ساتھ ٹھمک ٹھمک کر چلی جا رہی تھی۔ مجھے نیلم پر غصہ آیا۔ لڑکیاں کتنی ظالم ہوتی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سارے کھیل سے وانگ چُو کی بے چینی بڑھے گی، وہ اسے بڑھاوا دیئے جا رہی تھی۔ دوسرے روز کھانے کی میز پر نیلم پھر اس کے ساتھ ٹھٹھولی کرنے لگی۔ وہ کچن میں سے ایک پتلاسا المونیم کا ڈبا اٹھا لائی تھی۔ اور اس کا چہرہ تپے تانبے جیسا سرخ ہو رہا تھا۔

 ”آپ کےلئے روٹیاں اور آلو بنا لائی ہوں۔ آم کے اچار کی پھانک بھی رکھی ہے۔ آپ جانتے ہیں پھانک کسے کہتے ہیں؟ ایک بار کہو تو پھانک ۔ کہو وانگ چُو جی،پھانک۔“

 اس نے نیلم کی طرف کھوئی کھوئی نظروں سے دیکھا اور بولا،”بانک۔“ ہم سب کھلکھلاکر ہنس پڑے۔

”بانک نہیں،پھانک۔“پھر ہنسی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ نیلم نے ڈبا کھول دیا۔ اس میں سے آم کے اچار کا ٹکڑا نکال کر اسے دکھاتے ہوئے بولی،”یہ ہے پھانک، پھانک اسے کہتے ہیں۔“ اور اسے وانگ چُو کی ناک کے پاس لے جا کر بولی،”اسے سونگھنے پر منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ آیا منہ میں پانی؟ اب کہو، پھانک۔“

”نیلم، کیا فضول باتیں کر رہی ہو۔ بیٹھو آرام سے۔“ میں نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔ نیلم بیٹھ گئی، پر اسکی حرکتیں بند نہیں ہوئیں۔ بڑے لگاﺅ سے وانگ چُو سے کہنے لگی،”بنارس جا کر ہمیں بھول نہیں جائیے گا۔ ہمیں خط ضرور لکھئے گااورلیکن کسی چیز کی ضرورت ہو توتکلف نہیں کیجئے گا۔“ وانگ چُو الفاظ کے معنی تو سمجھ لیتا تھا، لیکن ان میں چھپے مذاق کو وہ نہیں پکڑ پاتا تھا۔ وہ بہت زیادہ پریشانی محسوس کر رہا تھا۔

”بھیڑ کی کھال کی ضرورت ہو یا کوئی نمدا یااخروٹ ۔۔۔“

 ”نیلم۔“

”کیوں بھیا، بھیڑ کی کھال پر بیٹھ کر گرنتھ سیکھیں گے۔“وانگ چُو کے کان سرخ ہونے لگے۔ شاید پہلی بار اسے احساس ہونے لگا تھا کہ نیلم ٹھٹھولی کر رہی ہے۔ اس کے کان سچ مچ بھورے ہو رہے تھے، جن کانیلم مذاق اڑایا کرتی تھی۔

 ”نیلم جی، آپ لوگوں نے میری بڑی مہمان نوازی کی ہے۔ میں بڑا معترف ہوں۔“ ہم سب خاموش ہو گئے۔ نیلم بھی جھینپ سی گئی۔ وانگ چُو نے لازمی اسکی ٹھٹھولی کو سمجھ لیا ہوگا۔ اس کے دل کو ضرور ٹھیس لگی ہوگی۔ پر میرے ذہن میں یہ خیال بھی اٹھا کہ ایک طرح سے یہ اچھا ہی ہے کہ نیلم کے بارے میں اسکے احساسات بھی بدلیں، ورنہ اسے ہی سب سے زیادہ مصیبت ہوگی۔ شاید وانگ چُو اپنے مقام کو جانتے سمجھتے ہوئے بھی ایک قدرتی اپنائیت کی زد میں آ گیا تھا۔ جذباتی شخص کا خود پر کوئی قابو نہیں ہوتا۔ وہ شکست کھا کر گرتا ہے، تبھی اپنی بھول کو سمجھ پاتاہے۔

 ہفتے کے آخری دنوں میں وہ روز کوئی نہ کوئی تحفہ لے کر آنے لگا۔ ایک بار میرے لئے بھی ایک چوغہ لے آیا اور بچوں کی طرح ضد کرنے لگا کہ میں اور وہ اپنے اپنے چوغے پہن کر ایک ساتھ باہرگھومنے جائیں۔ میوزیم میں وہ اب بھی جاتا تھا، دو ایک بار نیلم کو بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا اور واپسی پر ساری شام نیلم بدھ مت سے جڑے نوادرات کا مذاق اڑاتی رہی تھیں۔ میں دل ہی دل میں نیلم کے اس رویے کا خیر مقدم ہی کرتا رہا، کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وانگ چُو کا کوئی خیال ہمارے گھر میں جڑجما پائے۔ ہفتہ گزر گیا اور وانگ چُو ،سارناتھ لوٹ گیا۔ وانگ چُو کے چلے جانے کے بعد اس کے ساتھ میرا رابطہ ویسا ہی رہا، جیسے عموماً ایک واقف کار شخص کے ساتھ رہتا ہے۔ گاہے گاہے کبھی خط آ جاتا، کبھی کسی آتے جاتے شخص سے اس کی اطلاع مل جاتی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا، جو برسوں تک رسمی تعارف کے گھیرے پر ہی ڈولتے رہتے ہیں، نہ گھیرا پھلانگ کر اندر آتے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹ کر آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ مجھے اتنی ہی جانکاری رہی کہ اس کی سیدھے اور بندھے بندھائے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ کچھ دیر تک مجھے تجسس سا بنا رہا کہ نیلم اور وانگ چُو کے بیچ کی بات آگے بڑھی یا نہیں، لیکن لگا کہ وہ محبت بھی وانگ چُو کی زندگی پر حاوی نہیں ہو پائی۔

 مہینے اور سال گزرتے گئے۔ ہمارے ملک میں ان دنوں بہت کچھ برپا ہورہا تھا۔ آئے دن جلسے ہوتے، بنگال میں قحط پڑا، ”ہندوستان چھوڑو“کی تحریک چلی، سڑکوں پر گولیاں چلیں، بمبئی میں ملاحوں کی بغاوت ہوئی، ملک سے انگریزوں کا اخراج ہوا، پھر ملک کا بٹوارہ ہوا اور تمام وقت وانگ چُو سارناتھ میں ہی بنا رہا ۔ وہ خود سے مطمئن دِکھتا تھا۔ کبھی لکھتا کہ تنترجنجان کا مطالعہ کر رہا ہے، کبھی پتہ چلتا کہ کوئی کتاب لکھنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

 اس کے بعد میری ملاقات وانگ چُو سے دہلی میں ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے، جب چین کے وزیر اعظم چوا ن لائی ہندوستان کے دورے پر آنے والے تھے۔ وانگ چُو اچانک سڑک پر مجھے مل گیا اور میں اسے اپنے گھر لے آیا۔ مجھے اچھا لگا کہ چین کے وزیر اعظم کی آمد کی اطلاع اسے ملی ہے، تو مجھے اسکے رویے پر تعجب ہوا۔ اس کا مزاج ویسے کاویسا ہی تھا۔ پہلے کی ہی طرح ہولے ہولے اپنی ڈیڑھ دانت کی مسکراہٹ بکھیرتا رہا۔ ویسا ہی آلکسی، بے لچک۔ اس دوران اس نے کوئی کتاب یا مقالہ بھی نہیں لکھا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس کام میں اس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ تنترجنجان کا حوالہ دیتے وقت بھی وہ بہت چہکا نہیں۔ دو ایک گرنتھوں کے بارے میں بتاتا رہا، جس سے وہ کچھ اقتباسات لیتا رہا تھا۔ اپنے کسی مضمون کی بات بھی اس نے کی، جس پر وہ آج کل کام کر رہا تھا۔ نیلم کے ساتھ اس کی خط و کتابت چلتی رہی، اس نے بتایا۔ اگرچہ نیلم کب کی بیاہی جا چکی تھی اور دو بچوں کی ماں بن چکی تھی۔

 وقت کی رفتار کے ساتھ ہماری اصل سوچیں بھلے ہی نہ بدلی ہوں، پر ان کی طلب اور بیتابی میں توازن سا آگیا تھا،اب پہلے جیسی جذباتیت نہیں تھی۔وہ بدھ کے پیروں پر اپنی جان نچھاور نہیں کرتا پھرتا تھا۔ لیکن اپنی زندگی سے مطمئن تھا۔ پہلے ہی کی طرح تھوڑا کھاتا، تھوڑا پڑھتا، تھوڑا سفر کرتا اور تھوڑا سا سوتا تھا۔ اور لڑکپن کے ملگجے دور سے کسی انجان دےش میں چنی گئی اپنی شاہراہ ِزندگی پر کچھوے کی چال مزے سے چلتا آ رہا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد ہمارے درمیان بحث چھڑ گئی ۔

 ”سماجی طاقتوں کو سمجھے بغیر آپ بدھ مت کو بھی کیسے سمجھ پاو ¿ گے؟ علوم کی ہر شاخ ایک دوسرے سے منسلک ہے، زندگی سے منسلک ہے۔ کوئی چیز زندگی سے الگ نہیں ہے۔ تم زندگی سے الگ ہو کر مذہب کو کس طرح سمجھ سکتے ہو؟ “

کبھی وہ مسکراتا، کبھی سر ہلاتا اور تمام وقت فلسفیوں کی طرح میرے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میرے کہے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا، گویاکسی چکنے گھڑے پر میں پانی انڈیلے جا رہا ہوں۔

 ”ہمارے ملک میں نہ سہی، تم اپنے ملک کی زندگی میں تو دلچسپی لو۔ اتنا جانو سمجھو کہ وہاں پر کیا ہو رہا ہے۔“ اس پر بھی وہ سر ہلاتا اور مسکراتا رہا۔ میں جانتا تھا کہ ایک بھائی کو چھوڑ کر چین میں اس کا کوئی نہیں ہے۔ ۹۲۹۱ ءمیں وہاں پر کوئی سیاسی اتھل پتھل ہوئی تھی، اس میں اس کا گاو ¿ں جلا ڈالا گیا تھا اور سب سگے رشتے دار مر گئے تھے یا بھاگ گئے تھے۔ لے دے کر ایک بھائی بچا تھا اور وہ بیجنگ کے قریب کسی گاو ¿ں میں رہتا تھا۔ برسوں سے وانگ چُو کا رابطہ اس کے ساتھ ٹوٹ گیا تھا۔ وانگ چُو پہلے گاو ¿ں کے اسکول میں پڑھتا رہا تھا، بعد میں بیجنگ کے ایک اسکول میں پڑھنے لگا تھا۔ وہیں سے وہ پروفیسر شان کے ساتھ بھارت چلا آیا تھا۔

 ”سنو وانگ چُو ،ہندوستان اور چین کے درمیان بند دروازے اب کھل رہے ہیں۔ اب دونوں ممالک کے درمیان رابطے قائم ہو رہے ہیں اور اسکی بڑی اہمیت ہے۔تحقیق کا جو کام تم ابھی تک الگ تھلگ کرتے رہے ہو، وہی اب تم اپنے ملک کے موزوں نمائندے کی حیثیت میں کر سکتے ہو۔ تمہاری حکومت تمہارے لئے گرانٹ کا انتظام کرے گی۔ اب تمہیں الگ تھلگ پڑے نہیں رہنا پڑے گا۔ تم پندرہ سال سے زیادہ عرصے سے بھارت میں رہ رہے ہو، انگریزی اور ہندی زبانیں جانتے ہو، بدھ مت گرنتھوں پر تحقیق کرتے رہے ہو، تم دونوں ممالک کے ثقافتی رابطے کی ایک مضبوط کڑی بن سکتے ہو۔“

 اس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی۔واقعی اسے کچھ سہولیات مل سکتی تھیں۔ کیوں نہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی خیر سگالی سے وہ بھی متاثر ہوا تھا۔ اس نے بتایا کہ چند دن پہلے گرانٹ کی رقم لینے جب وہ بنارس گیا، تو سڑکوں پر راستہ چلتے لوگ اسکے گلے مل رہے تھے۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ کچھ وقت کےلئے ضرور اپنے ملک لوٹ جائے اور وہاں ہونے والے سیاسی تبدیلیوں کو دیکھے اور سمجھے ، کیوں کہ سارناتھ میں الگ تھلگ بیٹھے رہنے سے اسے کچھ فائدہ نہیں ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔

وہ سنتا رہا، سر ہلاتا رہا اور مسکراتا رہا، لیکن مجھے کچھ معلوم نہیں ہو پایا کہ اس پر کوئی اثر بھی ہوا ہے یا نہیں۔ تقریبا ًچھ ماہ بعد اس کا خط آیا کہ وہ چین جا رہا ہے۔ مجھے بڑا اطمینان محسوس ہوا۔ اپنے ملک میں جائے گا تو دھوبی کے کتے والی اس کی حیثیت ختم ہو جائےگی، کہیں کا ہو کر تو رہے گا۔ اس کی زندگی میں نئی ولولہ انگیزی آئے گی۔ اس نے لکھا کہ وہ اپنا ایک ٹرنک سارناتھ میں چھوڑے جا رہا ہے ،جس میں اس کی کچھ کتابیں اور تحقیق کے کاغذات وغیرہ رکھے ہیں،کیونکہ برسوں تک ہندوستان میں رہ چکنے کے بعد وہ اپنے آپ کوہندوستان کا ہی شہری مانتا ہے اور وہ جلد ہی واپس لوٹ آئے گا اور پھر اپنا تحقیقی کام کرنے لگے گا۔ میں دل ہی دل ہنس دیا، ایک بار اپنے ملک میں گیا تولوٹ کر یہاں نہیں آنے کا۔

 چین میں وہ تقریباً دو سال تک رہا۔ وہاں سے اس نے مجھے بیجنگ کے قدیم شاہی محل کا پوسٹ کارڈ بھیجا، دو ایک خط بھی لکھے، پر ان سے اسکی حیثیت کے بارے میں کوئی خاص جانکاری نہیں ملی۔ ان دنوں چین میں بھی بڑا جوش و خروش اٹھ رہا تھا، بڑا ولولہ تھا اور اس و لولے کی لپیٹ میں لگ بھگ سبھی لوگ تھے۔ زندگی نئی کروٹ لے رہی تھی۔ لوگ کام کرنے جاتے تو ٹولیاں بنا کر، گاتے ہوئے، سرخ پرچم ہاتھ میں اٹھائے ہوئے۔ وانگ چُو سڑک کے کنارے کھڑا انہیں دیکھتا رہ جاتا۔ اپنے شرمیلے مزاج کی وجہ سے وہ ٹولیو ںکے ساتھ گاتے ہوئے جا تو نہیں سکتا تھا، لیکن انہیں جاتے دیکھ کر حیران سا کھڑا رہتا،مانو کسی دوسری دنیا میں پہنچ گیا ہو۔ اسے اپنا بھائی تو نہیں ملا، لیکن ایک پرانا استاد ، دور پار کی اسکی خالہ اور دو ایک واقف کار ضرور مل گئے تھے۔ وہ اپنے گاو ¿ں گیا۔ گاو ¿ں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ اسٹیشن سے گھر کی طرف جاتے ہوئے اس کا ایک ساتھی اس سے کہنے لگا۔

”وہاں، اس درخت کے نیچے، زمیندار کی تمام دستاویزات، تمام کاغذات جلا ڈالے گئے تھے اور زمیندار ہاتھ باندھے کھڑا رہا تھا۔“

 وانگ چُو نے بچپن میں زمیندار کا بڑا ساراگھر دیکھا تھا، اس کی رنگین کھڑکیوں اسے ابھی بھی یاد تھیں۔ دو ایک بار زمیندار کی بگھی کو بھی قصبے کی سڑکوں پر جاتے دیکھا تھا۔ اب وہ گھر گاﺅںانتظامیہ کامرکز بنا ہوا تھا اور بہت کچھ بدلا ہوا تھا۔ پر یہاں پر بھی اس کےلئے ویسی ہی صورتحال تھی جیسی ہندوستان میں رہی تھی۔ اس کے دل میں بشاشت نہیں اٹھتی تھی۔ دوسروں کا جوش اس کے دل پر سے پھسل پھسل جاتا تھا۔ وہ یہاں بھی تماشائی ہی بنا گھومتا تھا۔

 شروع شروع کے دنوں میں اس کی آوبھگت بھی ہوئی۔ اپنے پرانے ٹیچر کے بلاوے پر اسے اسکول میں مدعو کیا گیا۔ ہندوستان،چین ثقافتی تعلقات کی اہم کڑی کے روپ میں اس کی قدردانی بھی کی گئی۔ وہاں وانگ چُو دیر تک لوگوں کو ہندوستان کے بارے میں بتاتا رہا۔ لوگوں نے طرح طرح کے سوال پوچھے، رسم و رواج کے بارے میں،تیرتھوں، میلوں ٹھیلوں کے بارے میں، وانگ چُو صرف ان سوالات کا اطمینان بخش جواب دے پاتا، جن کے بارے میں ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔

 کچھ دنوں بعد چین میں ”بڑی چھلانگ” کی مہم زور پکڑنے لگی۔ اس گاو ¿ں میں بھی لوگ لوہا جمع کر رہے تھے۔ ایک دن صبح اسے بھی ردی لوہا بٹورنے کے لئے ایک ٹولی کے ساتھ بھیج دیا گیا تھا۔ دن بھر وہ لوگ بڑے فخر سے دکھادکھا کر لا رہے تھے اور مشترکہ ڈھیر پر ڈال رہے تھے۔ رات کے وقت آگ کے لپلپاتے شعلوں کے درمیان اس ڈھیر کو پگھلایا جانے لگا۔ آگ کے ارد گرد بیٹھے لوگ انقلابی گیت گا رہے تھے۔ تمام لوگ ایک آواز میں کورس میں حصہ لے رہے تھے۔ اکیلا وانگ چُو منہ دبائے بیٹھا تھا۔

 چین کے ماحول میں دھیرے دھیرے کشیدگی سی آنے لگی اور ایک جھٹپٹا سا چھانے لگا۔ ایک روز ایک آدمی نیلے رنگ کا کوٹ اور نیلے ہی رنگ کی پتلون پہنے اس کے پاس آیا اور اسے اپنے ساتھ گاﺅں انتظامیہ کے مرکز میں ساتھ لے گیا۔ راستے بھر وہ آدمی خاموش ہی رہا۔ مرکز میں پہنچنے پر اس نے پایا کہ ایک بڑے سے کمرے میں پانچ افراد کی ایک ٹیم میز کے پیچھے بیٹھی اس کی راہ دیکھ رہی ہے۔ جب وانگ چُو ان کے سامنے بیٹھ گیا، تو وہ باری باری اس کی ہندوستان میں موجودگی کے بارے میں پوچھنے لگے،

 ”آپ وہاں کتنے سالوں تک رہے؟“

”وہاں پر کیا کرتے تھے؟ “

”کہاں کہاں گھومے؟ “ وغیرہ وغیرہ۔

 پھر بدھ مت کے بارے وانگ چُو کے تجسس کے بارے میں جان کر ان میں سے ایک شخص بولا،”تم کیا سوچتے ہو، بدھ مت کی فکری بنیاد کیا ہے؟“

سوال وانگ چُو کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے آنکھیں میچیں۔”مادہ پرستی کے نقطہ نظر سے تم بدھ مت کو کیسے جانتے ہو؟“

سوال پھر بھی وانگ چُو کی سمجھ میں نہیں آیا، لیکن اس نے بدبداتے ہوئے جواب دیا،”انسان کی روحانی ترقی کے لئے اس کے سکھ اور امن کے لئے بدھ مت کی راہ بہت اہم ہے۔ مہاپران کے اپدیش ۔۔۔“ اور وانگ چُو بدھ مت کے آٹھ اپدیشوں کی تشریح کرنے لگا۔ وہ ابھی اپنا بیان ختم بھی نہیں کر پایا تھا کہ وزیر کی کرسی پر بیٹھے گہرائی میں جھانکتی آنکھوں والے ایک شخص نے بات کاٹ کر کہا،”ہندوستان کی غیر ملکی پالیسی کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟“

وانگ چُو مسکرایا ،اپنی ڈیڑھ دانت کی مسکراہٹ، پھر بولا،”آپ معززین اس سلسلے میں زیادہ جانتے ہیں۔ میں تو عام سا بدھ مت کا محقق ہوں۔ پر ہندوستان بڑا قدیم ملک ہے۔ اس کی ثقافت امن اور انسانی خیر سگالی کی ثقافت ہے۔ “

”نہرو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“

 ”نہرو کو میں نے تین بار دیکھا ہے۔ ایک بار تو ان سے باتیں بھی کی ہیں۔ ان پر مغربی سائنس کا اثر ہے، لیکن قدیم ثقافت کے وہ بھی بڑے پرستار ہیں۔“ اس کے جوابات سنتے ہوئے کچھ رکن پھر سر ہلانے لگے، کچھ کے چہرے تمتمانے لگے۔ پھر طرح طرح کے آڑھے تیڑھے سوالات پوچھے جانے لگے۔ انہوں نے محسوس کیا جہاں تک حقائق کا اور بھارت کے موجودہ زندگی کا سوال ہے، وانگ چُو کی معلومات ادھوری اور مضحکہ خیز ہیں۔

 ”سیاسی اعتبار سے تو تم صفر ہو۔ بدھ مت کے تصورات کو بھی سوشیالوجی کی نظر سے تم دیکھ نہیں سکتے۔ نہ جانے وہاں بیٹھے کیا کرتے رہے ہو۔ پر ہم تمہاری مدد کریں گے۔“

تفتیش گھنٹوں تک چلتی رہی۔ پارٹی حکام نے اسے ہندی پڑھانے کی نوکری دے دی، ساتھ ہی بیجنگ کے میوزیم میں ہفتے میں دو دن کام کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ جب وانگ چُو پارٹی دفتر سے لوٹا تو تھکا ہوا تھا۔ اس کا سر گھوم رہا تھا۔ اپنے ملک میں اس کا دل جم نہیں پایا تھا۔ آج وہ اور بھی زیادہ اکھڑا اکھڑا محسوس کر رہا تھا۔ چھپر کے نیچے لیٹا تو اسے اچانک ہی ہندوستان کی یاد ستانے لگی۔ اسے سارناتھ کی اپنی کوٹھری یاد آئی، جس میں دن بھر بیٹھا پوتھی پڑھاکرتا تھا۔ نیم کا گھنا درخت یاد آیا جس کے نیچے کبھی کبھار سستایا کرتا تھا۔ یادوں کا سلسلہ طویل ہوتا گیا۔ سارناتھ کی کینٹین کا رسوئیا یاد آیا، جو ہمیشہ پیار سے ملتا تھا، ہمیشہ ہاتھ جوڑ ے”کہو بھگوان“ کہہ کرملاکرتا تھا۔ ایک بار وانگ چُو بیمار پڑ گیا تھا تو دوسرے روز کینٹین کا رسوئیا ،اپنے آپ اس کی کوٹھری میں چلا آیا تھا ۔

”میں بھی کہوں، چینی بابو چائے پینے نہیں آئے، دو دن ہو گئے۔ پہلے آتے تھے تو درشن ہو جاتے تھے۔ ہمیں خبر کی ہوتی بھگوان، تو ہم ڈاکٹر بابو کو بلا لاتے، میں بھی کہوں، بات کیا ہے۔“

پھر اس کی آنکھوں کے سامنے گنگا کا کنارہ آیا ،جس پر وہ گھنٹوں گھوما کرتا تھا۔ پھر اچانک منظر بدل گیا اور کشمیر کی جھیل آنکھوں کے سامنے آ گئی اور پیچھے ہمالیہ پہاڑ، پھر نیلم سامنے آئی، اس کی کھلی کھلی آنکھیں، موتیوں سی جھلملاتی دانتوں کی قطاریں۔ اس کا دل بے چین ہو اٹھا۔ جیسے جیسے دن گزرنے لگے، بھارت کی یاد اسے اور زیادہ پریشان کرنے لگی۔ وہ پانی میں سے باہر پھینکی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ سارناتھ کے وِہار میں سوال جواب نہیں ہوتے تھے۔ جہاں پڑے رہو، پڑے رہو۔ رہنے کےلئے کوٹھری اور کھانے کا انتظام وِہار کی جانب سے تھا۔ یہاں پر نئے نقطہ نظر سے دھرم گرنتھوں کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے اس میں صبر نہیں تھا، تجسس بھی نہیں تھا۔ برسوں تک ایک معمول پر چلتے رہنے کی وجہ سے وہ تبدیلی سے کتراتا تھا۔

 اس اجلاس کے بعد وہ دوبارہ خود میںسمٹنے لگا تھا۔ کہیں کہیں اسے ہندوستان مخالف جملے سننے کو ملتے۔ اچانک وانگ چُو بہت تنہا محسوس کرنے لگا اور اسے لگا کہ زندگی حاصل کرنے کےلئے اسے اپنے لڑکپن کے اسی ”کھلی آنکھوں والے خواب“ میں پھر سے لوٹ جانا ہوگا، جب وہ بدھ بھکشو بن کر بھارت کی سیر کا تصور کرتا تھا۔ اس نے اچانک بھارت واپسی کی ٹھان لی۔ لوٹنا آسان نہیں تھا۔ بھارتی سفارت خانے سے تو ویزا ملنے میں مشکل نہیں ہوئی، لیکن چین کی حکومت نے بہت سے اعتراضات اٹھائے۔ وانگ چُو کی شہریت کا سوال تھا اور کئی دیگر سوال تھے۔ لیکن بھارت اور چین کے تعلقات ابھی تک بہت بگڑے نہیں تھے، اس لئے بالآخر وانگ چُو کو بھارت واپسی کی اجازت مل گئی۔ اس نے دل ہی دل تہیہ کر لیا کہ وہ بھارت میں ہی اب زندگی کے دن کاٹے گا۔ بدھ بھکشو ہی بنے رہنا اس کی قسمت تھی۔

 جس روز وہ کلکتہ پہنچا، اسی روز سرحد پر چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان تصادم ہوا تھا اور دس بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس نے پایا کہ لوگ گھور گھورکر اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ اسٹیشن کے باہر ابھی نکلا ہی تھا کہ دو سپاہی آکر اسے پولیس اسٹیشن میں لے گئے اور وہاں گھنٹے بھر ایک افسر اسکے پاسپورٹ اور کاغذوں کی جانچ پڑتال کرتا رہا۔

”دو برس پہلے آپ چین گئے تھے۔ وہاں جانے کا کیا مقصد تھا؟“

”میں بہت برسوں تک یہاں رہتا رہا ہوں، کچھ وقت کےلئے اپنے ملک جانا چاہتا تھا۔“

پولس افسر نے اسے سر سے پیر تک دیکھا۔ وانگ چُو پراعتماد تھا اور مسکرا رہا تھا،وہی ٹیڑھی سی مسکراہٹ۔

 ”آپ وہاں کیا کرتے رہے؟“

”وہاں ایک کمیون میں میں کھیتی باری کی ٹولی میں کام کرتا تھا۔“

”مگر آپ تو کہتے ہیں کہ آپ بدھ گرنتھ پڑھتے ہیں؟“

”ہاں، بیجنگ میں ایک ادارے میں ہندی پڑھانے لگا تھا اور بیجنگ میوزیم میں مجھے کام کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔“

”اگر اجازت مل گئی تھی تو آپ اپنے ملک سے بھاگ کیوں آئے؟“ پولیس افسر نے غصے میں کہا۔

وانگ چُو کیا جواب دے؟ کیا کہے؟”میں کچھ وقت کےلئے ہی وہاں گیا تھا، اب لوٹ آیا ہوں۔“

 پولس افسر نے دوبارہ سر سے پاو ¿ں تک اسے گھورکر دیکھا، اس کی آنکھوں میں شک اتر آیا تھا۔ وانگ چُو عجیب سا محسوس کرنے لگا۔ بھارت میں پولیس حکام کے سامنے کھڑے ہونے کا اس کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس سے ضامن کے لئے پوچھا گیا، تو اس نے پروفیسر تان شان کا نام لیا، پھر گرودیو کا، لیکن دونوں مر چکے تھے۔ اس نے سارناتھ کے ادارے کے منتری کا نام لیا، شانتی نکیتن کے پرانے دو ایک ساتھیوں کے نام لئے، جو اسے یاد تھے۔ سپرنٹنڈنٹ نے تمام نام اور پتے نوٹ کر لئے۔ اس کے کپڑے کی تین بار تلاشی لی گئی۔ اس کی اس ڈائری کو رکھ لیا گیا، جس میں اس نے اقتباسات اور تبصرے لکھ رکھے تھے اور سپرنٹنڈنٹ نے اس کے نام کے آگے تبصرہ لکھ دیا کہ اس آدمی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

 ریل کے ڈبے میں بیٹھا، تو مسافر گولی اسکینڈل پرگفتگو کر رہے تھے۔ اسے بیٹھتے دیکھ کر سب خاموش ہو گئے اور اس کی طرف گھورنے لگے۔ کچھ دیر بعد جب مسافروں نے دیکھا کہ وہ تھوڑی بہت بنگالی اور ہندی بول لیتا ہے، تو ایک بنگالی بابو اچک کر اٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ جھٹک جھٹک کر کہنے لگے،”یا تو کہو کہ تمہارے دیش والو ں نے دھوکہ کیا ہے، نہیں تو ہمارے ملک سے نکل جاو ¿ ۔۔نکل جاو ¿۔۔ نکل جاو ¿۔“ ڈیڑھ دانت کی مسکراہٹ جانے کہاں اوجھل ہو چکی تھی۔ اس کی جگہ چہرے پر کرب اتر آیا تھا۔دہشت زدہ اور خاموش وانگ چُو خاموشی بیٹھا رہا۔ کہے بھی تو کیا کہے؟ گولی اسکینڈل کے بارے میں جان کر اسے بھی گہرا دھکا لگا تھا۔ اس جھگڑے کی وجہ کے بارے میں اسے کچھ بھی واضح طور پر معلوم نہیں تھا اور وہ جاننا چاہتا بھی نہیں تھا۔ ہاں ، سارناتھ میں پہنچ کر وہ واقعی جذباتی ہو اٹھا۔ اپنا بیگ رکشہ میں رکھے جب وہ آشرم کے قریب پہنچا تو کینٹین کا رسوئیا سچ مچ لپک کر باہر نکل آیا ۔

 ”آگئے بھگوان۔ آگئے میرے چینی بابو۔ بہت دنوں بعددرشن دیے۔ ہم بھی کہیں، اتنا عرصہ ہو گیا چینی بابو نہیں لوٹے۔ اور کہیے، سب کُشل منگل ہے؟ آپ یہاں نہیں تھے، ہم کہیں کہ جانے کب لوٹیں گے۔ یہاں پر تھے تو دن میں دو باتیں ہو جاتی تھیں، بھلے آدمی کے درشن ہو جاتے تھے۔ اس سے بڑا پُنیہ کیا ہوتا ہے۔“

 اور اس نے ہاتھ بڑھا کر بیگ اٹھا لیا،”ہم دیں پیسے، چینی بابو۔“ وانگ چُو کو لگا،جیسے وہ اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔”آپ کاٹرنک، چینی بابو، ہمارے پاس رکھا ہے۔منتری جی سے ہم نے لے لیا۔ آپ کی کوٹھری میں ایک دوسرے سجن رہنے آئے تو ہم نے کہا کوئی فکر نہیں، یہ ٹرنک ہمارے پاس رکھ جائیے اور چینی بابو، آپ اپنا لوٹا باہر ہی بھول گئے تھے۔ ہم نے منتری جی سے کہا، یہ لوٹا چینی بابو کا ہے، ہم جانتے ہیں، ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔“

وانگ چُو کا دل بھر بھر آیا۔ اسے لگا، جیسے اس کی ڈانواڈول زندگی میں توازن آ گیا ہے۔ ڈگمگاتی زندگی کی گاڑی دوبارہ مستحکم رفتار سے چلنے لگی ہے۔ منتری جی بھی پیار سے ملے۔ پرانی جان پہچان کے آدمی تھے۔ انہوں نے ایک کوٹھری بھی کھول کر دی، لیکن گرانٹ کے بارے میں کہا کہ اس کے لئے دوبارہ کوشش کرنی ہوگی۔

وانگ چُو نے پھر سے کوٹھری کے بیچوں بیچ چٹائی بچھا لی، کھڑکی کے باہر وہی منظر دوبارہ ابھر آیا۔ کھوئی ہوئی مخلوق اپنے مقام پر واپس لوٹ آئی۔ تبھی مجھے اس کا خط ملا کہ وہ ہندوستان لوٹ آیا ہے اور دوبارہ جم کر بدھ گرنتھوں پر تحقیق کرنے لگا ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ اسے ماہانہ گرانٹ کے بارے میں تھوڑی فکر ہے اور اس سلسلے میں، میں اگر بنارس میں اگر فلاں آدمی کو خط لکھ دوں، تو گرانٹ ملنے میں مدد ہوگی۔

 خط پاکر مجھے کھٹکا ہوا۔ کون سا سراب اسے دوبارہ واپس کھینچ لایا ہے؟ یہ لوٹ کیوں آیا ہے؟ اگر کچھ دن اور وہاں رہتا تو اپنے لوگوں کے درمیان اس کا من لگنے لگتا۔ پر کسی کی سنک کا کوئی علاج نہیں۔ اب جو واپس آیا ہے، تو کیا چارہ ہے۔

 میں نے ”فلاں“ جی کو خط لکھ دیا اور وانگ چُو کی گرانٹ کا چھوٹا موٹا انتظام ہو گیا۔ پر لوٹنے کے دس ایک دن بعد وانگ چُو ایک دن صبح چٹائی پر بیٹھا ایک گرنتھ پڑھ رہا تھا اور بار بار اس کا مزہ لے رہا تھا،تبھی اس کی کتاب پر کسی کا سایہ پڑا۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، تو پولیس کا ایس ایچ او کھڑا تھا، ہاتھ میں ایک فارم اٹھائے ہوئے۔ وانگ چُو کو بنارس کے بڑے پولیس اسٹیشن میں بلایا گیا تھا۔ وانگ چُو کا من خدشات سے بھر اٹھا تھا۔ تین دن کے بعد وانگ چُو بنارس کے پولیس کے برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اسی کے ساتھ بینچ پر بڑی عمر کا ایک اور چینی شخص بیٹھا تھا، جو جوتے بنانے کا کام کرتا تھا۔ آخر کاربلاوا آیا اور وانگ چُو چک اٹھا کر بڑے افسر کی میز کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

 ”تم چین سے کب لوٹے؟“

وانگ چُو نے بتا دیا۔

 ”کلکتہ میں تم نے اپنے بیان میں کہا کہ تم شانتی نکیتن جا رہے ہو، پھر تم یہاں کیوں چلے آئے؟ پولیس کو پتہ لگانے میں بڑی پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔“

 ”میں نے دونوں مقامات کے بارے میں کہا تھا۔شانتی نکیتن تو میں صرف دو دن کے لئے جانا چاہتا تھا۔“

”میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں …. © ©“ اس نے پہلے کا جواب دہرا دیا۔

”جو لوٹ آنا تھا، تو گئے کیوں تھے؟“

یہ سوال وہ بہت بار پہلے بھی سن چکا تھا۔ جواب میں بدھ گرنتھوں کا حوالہ دینے کے علاوہ اسے کوئی اور جواب نہیں سوجھ پاتا تھا۔ بہت لمبا انٹرویو نہیں ہوا۔ وانگ چُو کو ہدایت کی گئی کہ ہر مہینے کے پہلے پیر کو بنارس کے بڑے پولیس اسٹیشن میں اسے آنا ہوگا اور اپنی حاضری لکھوانی ہوگی۔

وانگ چُو باہر آ گیا، پر اداسی سی محسوس کرنے لگا۔ مہینے میں ایک بار آنا کوئی بڑی بات نہیں تھی، لیکن وہ اس کی سیدھی زندگی میں رکاوٹ تھی، دخل اندازی تھی۔ وانگ چُو دل ہی دل اتنی افسردگی محسوس کر رہا تھا کہ بنارس سے لوٹنے کے بعد کوٹھری میں جانے کی بجائے وہ سب سے پہلے اس سنسان پوتر مقام پر جا کر بیٹھ گیا، جہاں صدیوں پہلے مہاپران نے اپنا پہلا پروچن دیا تھااور دیر تک بیٹھا غور کرتا رہا۔ بہت دیر بعد اس کا دل پھر سے ٹھکانے پر آنے لگا اور دل میں پھر سے احساس کی ترنگیں اٹھنے لگیں۔

 لیکن وانگ چُو کو چین نصیب نہیں ہوا۔ چند دن بعد اچانک چین اورہندوستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ ملک بھر میں جیسے طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اسی روز شام کو پولیس کے کچھ افسران ایک جیپ میں آئے اور وانگ چُو کو حراست میں لے کر بنارس چلے گئے۔ حکومت یہ نہ کرتی، تو اور کیا کرتی؟ حکومت والوں کو اتنی فرصت کہاں کہ بحران کے وقت خوش دلی اور خیر سگالی کے ساتھ دشمن کے ایک ایک شہری کی حیثیت کی جانچ پڑتال کرتے پھریں؟ دو دنوں تک دونوں چینیوں کو پولیس اسٹیشن کی ایک کوٹھری میں رکھا گیا۔ دونوں کے درمیان کوئی بات بھی مشترک نہیں تھی۔ جوتے بنانے والا چینی سارا وقت سگریٹ پھونکتا رہتا اور گھٹنوں پر ہاتھ ٹکائے بڑبڑاتا رہتا، جبکہ وانگ چُو اداس اور نڈھال سا دیوار کے ساتھ پیٹھ لگائے بیٹھا ،خلا میں دیکھتا رہتا۔

 جس وقت وانگ چُو اپنی پوزیشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، اسی وقت دو تین کمرے چھوڑ کر پولیس سپرنٹنڈنٹ کی میز پر اس کی چھوٹی سی پوٹلی کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ اسکی غیر موجودگی میں پولیس کے سپاہی کوٹھری میں سے اس کا ٹرنک اٹھا لائے تھے۔ سپرنٹنڈنٹ کے سامنے کاغذوں کا پلندہ رکھا تھا، جس پر کہیں پالی میں، تو کہیں سنسکرت زبان میں اقتباسات لکھے تھے۔ لیکن بہت سا حصہ چینی زبان میں تھا۔ صاحب کچھ دیر تک تو کاغذوں کو الٹتے پلٹے رہے، روشنی کے سامنے رکھ کر ان میں لکھی کسی خفیہ زبان کو ڈھونڈتے بھی رہے، آخر میں انہوں نے حکم دیا کہ کاغذوں کے پلندے کو باندھ کر دہلی کے حکام کے پاس بھیج دیا جائے، کیونکہ بنارس میں کوئی آدمی چینی زبان نہیں جانتا تھا۔ پانچویں دن جنگ بند ہو گئی، لیکن وانگ چُو کو سارناتھ واپسی کی اجازت ایک ماہ کے بعد ملی۔ چلتے وقت جب اسے اس کا ٹرنک دیا گیا اور اس نے اسے کھول کر دیکھا، تو سکتے میں آ گیا۔ اسکے کاغذات اس میں نہیں تھے، جس پر وہ برسوں سے اپنے تبصرے اوراقتباسات لکھتا رہا تھا اور جو ایک طرح سے اس کا سرمایہ تھے۔ پولیس افسر کے کہنے پر کہ انہیں دہلی بھیج دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ سر سے پیر تک کانپ اٹھا تھا۔

 ”وہ میرے کاغذات آپ مجھے دے دو۔ ان پر میں نے بہت کچھ لکھا ہے، وہ بہت ضروری ہیں۔“

اس پر افسر بے رخی سے بولا،”مجھے ان کاغذوں کا کیا کرنا ہے، آپ کے ہیں، آپ کو مل جائیں گے۔“ اور اس نے وانگ چُو کو چلتا کیا۔ وانگ چُو اپنی کوٹھری میں لوٹ آیا۔اپنے کاغذوں کے بغیر وہ ادھ مرا سا ہو رہا تھا۔ نہ پڑھنے میں دل لگتا، نہ کاغذوں پر نئے اقتباس اتارنے میں۔ اور پھر اس پر سخت نگرانی بھی رکھی جانے لگی تھی۔ کھڑکی سے تھوڑا ہٹ کر نیم کے درخت کے نیچے ایک آدمی روز بیٹھا نظر آنے لگا۔ ڈنڈا ہاتھ میں لئے وہ کبھی ایک کروٹ بیٹھتا، کبھی دوسری کروٹ۔ کبھی اٹھ کر ڈولنے لگتا۔ کبھی کنویں کی منڈیر پر جا بیٹھتا، کبھی کینٹین کی بنچ پر آ بیٹھتا ، کبھی دروازے پر جا کھڑا ہوتا۔ اس کے علاوہ اب وانگ چُو کو مہینے میں ایک بار کی جگہ ہفتے میں ایک بار بنارس میں حاضری لگوانے جانا پڑتا تھا۔

تبھی مجھے وانگ چُو کا خط ملا۔ ساری تفصیلات دینے کے بعد اس نے لکھا کہ بدھ وِہار کا منتری تبدیل کر دیا اور نئے منتری کو چین سے نفرت ہے اور وانگ چُو کو ڈر ہے کہ گرانٹ ملنا بند ہو جائےگی۔ دوسرے، کہ میں جیسے بھی ہو سکے، اس کے کاغذوں کو بچا لوں۔ جیسے بھی بن پڑے، انہیں پولیس کے ہاتھوں سے نکلوا سارناتھ میں اس کے پاس بھجوا دوں۔ اور اگر بنارس کے پولیس اسٹیشن میں فی ہفتہ پیش ہونے کے بجائے اسے مہینے میں ایک بار جانا پڑے تو اس کے لئے آسان ہو جائے گا، کیونکہ اس طرح مہینے میں تقریبا دس روپے آنے جانے میں لگ جاتے ہیں اور پھر کام میں دل ہی نہیں لگتا، سر پر تلوار ٹنگی رہتی ہے۔

وانگ چُو نے خط تو لکھ دیا، لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ مجھ جیسے آدمی سے یہ کام نہیں ہو پائے گا۔ ہمارے یہاں کوئی کام بغیر جان پہچان اور سفارش کے نہیں ہو سکتا۔ اور میرے تعارف کا بڑے سے بڑا آدمی میرے کالج کا پرنسپل تھا۔ پھر بھی میں کچھ ایک پارلیمنٹ اراکین کے پاس گیا، ایک نے دوسرے کی طرف بھیجا، دوسرے نے تیسرے کی طرف۔ گھوم پھر کے میں لوٹ آیا۔ یقین دہانیاں تو بہت ملیں، پر سب یہی پوچھتے ۔

 ”وہ چین کو گیا تھاتو وہاں سے واپس کیوں آیا؟“

یا پھر پوچھتے۔”گزشتہ بیس سال سے تحقیق ہی کر رہا ہے؟“

 جب میں اس کے قلمی نسخوں کا ذکر کرتا، توسب یہی کہتے،”ہاں، یہ تو مشکل نہیں ہونا چاہئے۔“ اور سامنے رکھے کاغذ پر کچھ نوٹ کر لیتے۔ اس طرح کی یقین دہانیاں مجھے بہت ملیں۔سبھی سامنے رکھے کاغذ پر میری سفارش نوٹ کر لیتے۔ پر سرکاری کام کے راستے، مایاجال کے معمے کی طرح ہوتے ہیں اور ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی شخص تمہیں تمہاری حیثیت کا احساس کراتا رہتا ہے۔ میں نے جواب میں اسے اپنی کوششوں کی مکمل تفصیل بتائی، یہ بھی یقین دلایا کہ میں پھران لوگوں سے ملوںگا، پر ساتھ ساتھ میں نے یہ بھی تجویز دی کہ جب حالات بہتر ہو جائیں، تو وہ اپنے ملک واپس لوٹ جائے، اس کے لئے یہی بہتر ہے ۔

 خط سے اس کے دل کی کیا حالت ہوئی، میں نہیں جانتا۔ اس نے کیا سوچا ہوگا؟ لیکن ان کشیدگی کے دنوں میں جب مجھے خود چین کے رویے پر غصہ آ رہا تھا، میں وانگ چُو کی پوزیشن کو بہت ہمدردی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کے بعد ایک خط آیا۔ اس میں چین واپس جانے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس میں صرف گرانٹ کی بات کی گئی تھی۔ گرانٹ کی رقم اب بھی چالیس روپے ہی تھی، لیکن اسے پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی کہ سال ختم ہونے پر اس پر دوبارہ غور کیا جائے گا کہ وہ ملتی رہے گی یا بند کر دی جائے گی۔

تقریباً سال بھر بعد وانگ چُو کو ایک پرزہ ملا کہ تمہارے کاغذ واپس کئے جا سکتے ہیں، تم پولیس اسٹیشن آکر انہیں لے جا سکتے ہو۔ ان دنوں وہ بیمار پڑا تھا، لیکن بیماری کی حالت میں بھی وہ گرتاپڑتا بنارس پہنچا۔ لیکن اس کا ہاتھ ایک تہائی کاغذ لگے۔ پوٹلی اب بھی ادھ کھلی تھی۔ وانگ چُو کو پہلے تو یقین نہیں آیا، پھر اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور ہاتھ پیر کانپنے لگے۔اس پر ایس ایچ او بے رخی کے ساتھ بولا،”ہم کچھ نہیں جانتے۔ انہیں اٹھاﺅ اور یہاں سے لے جاو ¿ ورنہ ادھر لکھ دو کہ ہم لینے سے انکار کرتے ہیں۔“

 کانپتی ٹانگوں سے وانگ چُو پوٹلی بغل میں دبائے لوٹ آیا۔ کاغذوں میں صرف ایک مکمل مضمون اور کچھ تبصرے بچے تھے۔ اسی دن سے وانگ چُو کی آنکھوں کے سامنے دھول اڑنے لگی تھی۔ وانگ چُو کی موت کی خبر مجھے مہینے بھر بعد ملی، وہ بھی بدھ وہار کے منتری کی جانب سے۔ مرنے سے پہلے وانگ چُو نے زور دیا تھا اس کا چھوٹا سا ٹرنک اور اس کی گنی چنی کتابیں مجھے پہنچا دی جائیں۔ عمر کے اس حصے میں پہنچ کر انسان بری خبریں سننے کا عادی ہو جاتا ہے اور وہ دل پر گہرا صدمہ نہیں کرتیں۔ میں فوراً سارناتھ نہیں جا پایا، جانے میں کوئی تک بھی نہیں تھی، کیونکہ وہاں وانگ چُو کا کون بیٹھا تھا، جس کے سامنے افسوس کا اظہار کرتا، وہاں تو صرف ٹرنک ہی رکھا تھا۔ پر کچھ دنوں بعد موقع ملنے پر میں گیا۔

منتری جی نے وانگ چُو کے بارے میں خیر سگالی کے الفاظ کہے، ”بڑا نیک دل آدمی تھا، حقیقی معنوں میں بدھ بھکشو تھا۔“ وغیرہ وغیرہ۔ میرے دستخط لے کر انہوں نے ٹرنک دیا ،جس میں وانگ چُو کے کپڑے تھے، وہ پھٹاپرانا چوغہ تھا جو نیلم نے اسکی احسان مندی میں دیا تھا۔ تین چار کتابیں تھیں، پالی اور سنسکرت کی چٹھیاں تھیں، جن میں کچھ میری، کچھ نیلم کی رہی ہوں گی، اورکچھ دیگر لوگوں کی۔ ٹرنک اٹھائے میں باہر کی طرف جا رہا تھا ،تبھی مجھے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ ملی۔ میں نے مڑ کر دیکھا، کینٹین کا رسوئیا بھاگتا چلا آ رہا تھا۔ اپنے خطوط میں اکثر وانگ چُو اس کا ذکر کیا کرتا تھا۔

 ”بابو آپ کو بہت یاد کرتے تھے۔ میرے ساتھ آپ کا بہت ذکر کرتے تھے۔ بہت بھلے آدمی تھے۔“ اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ تمام دنیا میں شاید یہی اکلوتا انسان تھا، جس نے وانگ چُو کی موت پر دو آنسو بہائے تھے۔

”بڑی بھولی طبیعت تھی۔ بیچارے کو پولیس والوں نے بہت پریشان کیا۔ شروع شروع میں تو چوبیس گھنٹے کی نگرانی رہتی تھی۔ میں اس حوالدار سے کہوں، بھیا، تو کیوں اس بیچارے کو پریشان کرتا ہے؟ وہ کہے، میں تو ڈیوٹی کر رہا ہوں۔“

میں ٹرنک اور کاغذوں کا پلندہ لے آیا ہوں۔ اس پلندے کا کیا کروں؟ کبھی سوچتا ہوں، اسے شائع کرا ڈالوں۔ پر نامکمل کتاب کو کون چھاپے گا؟ بیوی روز بگڑتی ہے کہ میں گھر میں کچرا بھرتا جا رہا ہوں۔ دو تین بار وہ پھینکنے کی دھمکی بھی دے چکی ہے، پر میں اسے چھپاتا رہتا ہوں۔ کبھی کسی فریم میں رکھ دیتا ہوں، کبھی پلنگ کے نیچے چھپا دیتا ہوں۔ پر میں جانتا ہوں کسی دن یہ بھی گلی میں پھینک دیے جائیں گے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے