سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر ……. قسط 2 ..ایم اے راحت کی باتیں

اردو کہانی کا سفر ……. قسط 2 ..ایم اے راحت کی باتیں

ا

اردو کہانی کا سفر….
اعجاز احمد نواب

✴️ایم اے راحت کی باتیں ✴️ دوسری قسط

وقت بند مٹھی میں ریت کی مانند ہے، یوں آہستگی اور ملائمت سے سرکتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا دیکھتے ہی دیکھتے آج، کل میں بدل جاتی ہے اور کل پرسوں میں ڈھل جاتی ہے، اور یوں برسوں بیت جاتے ہیں! آدمی بچپن سے لڑکپن پھر جوانی ادھیڑ عمری اور اس کے بعد بڑھاپے کے سنگ میل پر ہاتھ دھرےہانپنا شروع کر دیتا ہے خال خال ہی آدمی ہوں گے جنہوں نے زندگی سے لمحات نچوڑے ہوں…. آدھا وقت سوتے گزر گیا، کچھ جاگتے میں خواب دیکھتے، کچھ دوسروں کی کن سوئیاں لیتے، کچھ دوسروں پر کیچڑ اچھالتے، کچھ دوسروں کو دوران بحث جھوٹا ثابت کرنے میں، کچھ وقت بددعائیں سمیٹتے ہوئے، کچھ غصے میں لال پیلا ہوتے ہوئے کچھ مال اکٹھا کرنے میں کچھ دوسروں کو کوسنے دیتے ہوئے!
وقت ملے تو آدمی ضیاع وزیاں کا حساب بھی کرے، وقت ملے تو ناں، اسراف کا حساب لگائیں تو دوکان گھاٹے میں نظر آئے گی،…….. وعدہ تو کر بیٹھا ہوں.. منتشر یادوں کو قرطاس ابیض پر رقم کرنے کا، مگر جب یادوں کی کتاب کی ورق گردانی شروع کی، تو بوسیدہ اوراق پر تلخ اور میٹھی یادداشتوں کو باہم دست و گریباں پایا،
🌠🌠🌠🌠🌠
کچھ مدیر ڈیڑھ سیانے ہوتے ہیں، جب کہانی لینے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارا رسالہ سب سے مشہور ہے اتنی ہماری سرکولیشن ہے، ابھی پچھلے ماہ ہی دوبارہ ایڈیشن چھاپنا پڑا، کئی ایجنٹوں کے پاس تو دوسرے دن ہی ختم ہو جاتا ہے، یوں دو قسطوں کے پیسے دے کر چلے جاتے ہیں اور وعدہ کرکے جاتے ہیں کہ ہر قسط کے پیسے ایڈوانس بھیجیں گے، میں دوسری کے بعد مروت میں تیسری قسط بھی بھیج دیتا ہوں، پھر ان کی طرف سے یوں خاموشی چھا جاتی ہے، جیسے سالوں کو سانپ سونگھ گیا ہو، فون کرو تو سریلی آواز والیاں سالیاں ہمیں گولیاں دیتی ہیں ابھی آئے تھے ابھی چلے گئے ہیں، صبح آپ کو پیسے بھیجنے کی بات تو کررہے تھے، اب انہیں یہ تو نہیں پتہ ہوتا کہ راحت نے کچی گولیاں تو نہیں کھیلیں، سارا کھیل یہ ہوتا ہے، لہذا پھر چند قسطوں بعد فٹ نوٹ لکھا آجاتا ہے کہ مصنف کی طرف سے بروقت قسط موصول نہ ہونے کی بناء پر فلاں سلسلہ اس ماہ شامل اشاعت نہیں،
🌠🌠🌠🌠🌠
دوسری ملاقات لگ بھگ چھ ماہ بعد ہوئی، اب کی بار میرے ساتھ ندیم صدیقی بھی تھے،ندیم صدیقی کا تعارف یہ ہے کہ یہ پس پردہ فنکار ہیں مسٹر میگزین کے اول تا آخر تمام شماروں کے ساتھ، نواب سنز پبلی کیشنز سے شائع ہونے والے ایم اے راحت سمیت تمام ناولوں کی حروف آرائی انہی کی انگلیوں کا شاخسانہ ہے، یوں سمجھیں کہ ناولوں کا بیک گراؤنڈ میوزک ندیم صدیقی کا ترتیب دیا ہوتا ہے ایم اے راحت اور ندیم صدیقی میں ایک قدر مشترک بھی ہے کہ راحت صاحب جیسا تیز رفتار لکھاری میں نے دوسرا کوئی نہیں دیکھا اسی طرح ندیم صدیقی جیسا تیز رفتار اردو کمپوزر میں نے کوئی دوسرا نہیں دیکھا، ان میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ صرف خالی خولی کمپوزر نہیں بلکہ باذوق قاری ہونے کے ساتھ ساتھ تنقید نگار بھی ہیں وسیع تر مطالعہ رکھنے کی بناء پر صاف ستھری گفتگو کرتے ہیں شکیل عادل زادہ اور انوار صدیقی جیسی شخصیات سے بھی میرے ہمراہ ملاقات کر چکے ہیں، ان پر ہی پوری قسط لکھی جا سکتی ہے، تاہم ان کا ذکر بھی گاہے بگاہے ہوتا رہے گا،
قصہ مختصر میں اور ندیم صدیقی بزریعہ نان سٹاپ ٹرین لاہور پہنچے، راحت صاحب کو دو دن قبل فون کردیا تھا انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا گھر تبدیل کرچکے ہیں،نئی جگہ باوجود ان کے سمجھانے کے ہماری سمجھدانیوں میں نہ سما سکی بالآخر کسی مشہور شاپنگ مال کے پاس ہم رکشہ سے اتر گئے، جہاں راحت صاحب نے ہمیں انتظار کرنے کا کہا تھا، تھوڑی ہی دیر میں ایک کیری ڈبہ ہمارے پاس آکر رکا دیکھا تو راحت صاحب ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان تھے، بولے باہر نکل کر سواگت کرتا، مگر بڑی مشکل سے یہاں پیک ہوا ہوں بھئ، اب واپس گھر جا کر ہی نکلوں گا
🌠🌠🌠🌠🌠

ایم اے راحت صاحب جاسوسی ڈائجسٹ یا سسپنس ڈائجسٹ کے ابتدائی دور کے مدیر بھی رہے، پچھلے پانچ سات سال سے روزنامہ مشرق لاہور کے سنڈے میگزین کے نگران بھی راحت صاحب ہی تھے، نجمہ صفی کے نام سے سیکڑوں عمران سیریز لکھیں
ایم اے راحت کے نام سے بھی ان گنت عمران سیریز لکھیں جو یوسف برادرز پاک گیٹ ملتان سے شائع ہوئیں یہی ادارہ مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیریز بھی شائع کرتا تھا، جو اشرف قریشی اور یوسف قریشی دو بھائی مل کر چلاتے تھے افسوس.. اب اس ادارے کے دو حصے ہو چکے ہیں یوسف برادرز اردو بازار لاہور صرف عمران سیریز فروخت کرتا ہے اور اشرف قریشی صاحب ارسلان پبلی کیشنز کے تحت مظہر کلیم کے بچوں کے لئے مشہور زمانہ کرداروں آنگلو بانگلو چلوسک ملوک ،فیصل شہزاد سیریز اور چھن چھنگلو کی کہانیوں کے ساتھ نئے رائٹرز کی عمران سیریز چھاپتے ہیں،
🌠🌠🌠🌠
اس بار راحت صاحب سے قدرے بےتکلف ماحول میں گفتگو ہوئی، انہوں نے ہمارے ظہرانے کا بندوبست کیا تھا، ماشاءاللہ خود بھی خوش خوراک تھے، اور اس کا برملا اظہار بھی فرماتے رہتے، کھانے کے دوران انہوں نے مجھ سے نجی سوالات بھی کئے گھر بچوں اہلیہ کام کاج کے بارے استفسار کیا ، اور کہنے لگے اگلی بار آؤ تو اکیلے نہیں آنا بچوں کو بھی ساتھ لانا
🌠🌠🌠🌠🌠
اس کے بعد کافی عرصہ میرا جانا نہ ہوا لیکن راحت صاحب کا اصرار بڑھتا گیا کہ فیملی کے ساتھ آؤ اس دوران مسٹر میگزین میں دھڑا دھڑ راحت صاحب کی کہانیاں چھپتی اور داد تحسین سمیٹتی رہیں، اور سلسلہ وار کہانی روپ کنڈ کی روپا شروع ہوگئی کچھ مسودات بھی انہوں نے مجھے دئیے کہ کتابی شکل میں پیش کروں ، اس زمانے میں کافی ناول راحت صاحب کے میں نے شائع کئے جن میں پازیب خوف، بھرم، تتلی، الزام، بگولے، شاہکار ( سو شارٹ سٹوریز کامجموعہ ) شامل ہیں،
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایم اے راحت نے بچوں کے لئے بھی لکھا، میں نے خود لگ بھگ 40 بچوں کی کہانیاں راحت صاحب سے لکھوائیں، جن میں شہزادے شہزادیاں عمرو ٹارزن اور ہارر کہانیاں شامل ہیں، اور اب بھی دستیاب ہیں،
🌠🌠🌠🌠🌠
آخر ایک شب نان سٹاپ ٹرین سے اہلیہ اور چار بچوں سمیت لاہور.. ڑیلوے ٹیشن.. (لاہورئیے ایسے ہی بولتے ہیں) اتر گئے علی الصبح ان کے گھر پہنچ گئے ناشتہ وہیں کیا، اتوار کی چھٹی تھی، ان کے بیٹے وجیہہ اور راشد بھی گھر تھے، پوری فیملی ملنسار اور خوش اخلاق، پرتکلف ناشتہ کے بعد ہم خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے،
لیکن پھر راحت صاحب کے پوتے پوتیوں اور میرے چار بچوں نے مل جو اودھم مچانا شروع کیا، تو ناک میں دم آنے لگا، بات کرنی مشکل ہو گئی، میں نے راحت صاحب کو کہا، کہ یہ تو چڑیا گھر والا ماحول بن گیا ہے، تو مسکرا کر کہنے لگے کہ بچے شرارتیں کرتے ہی اچھے لگتے ہیں، بحرحال ان کو چڑیا گھر ہی بجھواتے ہیں، پھر مخصوص انداز سے آواز لگائی، را.. شد، بھئی ان کو چڑیا گھر لے جاؤ ، اور پھر میں نے دیکھا کہ ان کی ایک عمومی انداز کی آواز پر ان کے سب سے بڑے شادی شدہ بال بچے دار بیٹے نے نہائیت فرما برداری سے سر تسلیم خم کیا اور چند ہی منٹوں میں میرے اور گھر کے تمام بچوں کو گاڑی میں ڈالا اور چڑیا گھر لے گئے..
🌠🌠🌠🌠🌠
راحت صاحب کے متعلق ایک اور بات بتا دوں کہ راحت صاحب انتہائی مصروف آدمی تھے سارا دن فون پر اور بالمشافہ باتوں ملاقاتوں میں بندھے رہتے.. اور لکھنے کا یہ عالم تھا کہ وہ بیک وقت سات آٹھ ڈائجسٹوں رسالوں میں ان کی قسطیں چلتی تھیں، میں جن دنوں کی بات کررہا ہوں ان دنوں، غلام محمد غوری صاحب کا مسٹری میگزین،اور ایڈونچر.. خالد صاحب کا ڈر ڈائجسٹ، میرا مسٹر میگزین، دبئی سے نکلنے والا اردو میگزین ہفت روزہ اخبار جہاں میں ایک ماہ میں چار قسطیں اور خواتین شعاع کے ادارے کا عمران ڈائجسٹ میں ہر ماہ ایک سلسلہ وار اور ایک مکمل کہانی بھی لکھتے تھے ماہ نامہ ریشم لاہور میں بھی ان کی سلسلہ وار کہانی چھپتی تھی، جس کی چیف ایڈیٹر بشری’مسرور اور مدیر عرفان رامے تھے، مکمل ناول پبلشرز کی ڈیمانڈ اور موضوع کے کے مطابق ساتھ ساتھ چلتے رہتے تھے اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ قلم سے کاغذ پر تحریر نہیں لکھتے تھے بلکہ ایک ٹیپ ریکارڈر انہوں نے رکھا تھا اس میں کیسٹ ڈال کر اپنی آواز میں کہا نی کسی داستان گو کی طرح بیان کرتے ہوئے ریکارڈ کرتے تھے ، ایک کیسٹ کی دونوں سائیڈز کی ریکارڈنگ کسی بھی کہانی کی ایک قسط کہلاتی تھی
کالجز میں زیر تعلیم وہ بچیاں جنہیں مطالعہ اور لکھنے کا شوق ہوتا اور وہ مختلف چھوٹے موٹے جرائد اور کالج میگزین میں چھپتی رہتی تھیں، ایم اے راحت ان کے لئے اکادمی کا درجہ رکھتے تھے، راحت صاحب انہیں پارٹ ٹائم جاب مہیا کرتے ان کا کام یہ ہوتا تھا، کہ.. راحت صاحب کی ریکارڈ شدہ کہانیاں، ہیڈ فون کانوں میں لگا کر راحت صاحب کی آواز میں ریکارڈ کی گئی کہانیاں اپنے قلم سے کاغذ پر منتقل کرتی رہتیں
اس کام کا مناسب معاوضہ بھی انہیں ملتا اور راحت صاحب کی تحریروں سے ان کے اندر چھپی ادیبہ کی آبیاری بھی ہوتی رہتی، کئی ایسی خواتین نے آگے جا کر بطور مصنفہ نام بھی کمایا اور دام بھی کمائے،ایسی کئی خواتین مصنفین سے میں واقف بھی ہوں،
🌠🌠🌠🌠





ایم اے راحت کے ساتھ باتوں ملاقاتوں کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے،انتظار فرمائیے، تیسری قسط کا جو انشاءاللہ جمعرات یکم اگست کی رات دس بجے آپ کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی، تیسری قسط میں، سب رنگ ڈائجسٹ، کے مدیر اعلے’ جناب شکیل عادل زادہ اور انکا اقابلہ امبر بیل ایسی کہانیوں کے خالق انوار صدیقی صاحب کی باتیں اور ان سے ملاقاتوں کا احوال پیش کرنا شروع کیا جائے گا،

بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب

،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️جب سے.. اردو کہانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے