سر ورق / ناول / دلربا۔۔۔نفیسہ سعید ۔۔۔۔قسط نمبر 3

دلربا۔۔۔نفیسہ سعید ۔۔۔۔قسط نمبر 3

دلربا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 3

اکیس دسمبر کو سمرن کی شادی تھی سمن کو آئے ہوئے ہفتہ ہو چکا تھا اور سمرن کی شادی کی تیاریاں اس نے اور فاریہ بھابی نے مل کر کی تھیں رات ہی کارڈ چھپ کر آئے تھے جن پر نام لکھا جا رہا تھا۔

”دریہ کو کارڈ دینے جاﺅ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا۔“ یہ بات وہ جانے کتنی بار شاہ ویز کو بتا چکی تھی کہ اسے دریہ سے ملنے اس کے گھر جانا ہے اس لئے کارڈ دینے جاتے ہوئے اسے بھی ساتھ لے جایا جائے کیونکہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے دریاب سے نہیں ملی تھی۔

”چلو آجاﺅ میں جا رہا ہوں۔“ شاہ ویز کارڈ پر نام لکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اس کے ساتھ دریہ کے گھر آگئی گاڑی جیسے ہی اس کے عظیم الشان بنگلے کے سامنے کھڑی ہوئی سمن ہکا بکا رہ گئی۔

”واہ بھئی زبردست بڑا خوبصورت گھر ہے۔“ سنگ مر مر سے بنے سفید بنگلے پر نظر ڈالتے ہی ستائشی جملہ خود بخود اس کے منہ سے نکل گیا۔

”یہ تم ظاہری نمود و نمائش پر کب سے جان دینے لگیں۔“

شاہ ویز نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے گیٹ کا انٹر کام بجایا۔

دریاب دو دن قبل ہی اپنی فلم کی شوٹنگ سے واپس لوٹی تھی اور اس کی نئی سرگرمی کے متعلق فی الحال کسی کو علم نہ تھا فلم پچھتر فیصد مکمل ہو چکی تھی ڈبنگ اور آﺅٹنگ کا کام جاری تھا وہ بڑی بے چینی سے اپنی اس فلم کے مکمل ہو کر سینما میں لگنے کی منتظر تھی تاکہ اسے اپنی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ ہو سکے اسی لئے اس نے پہلے کسی کو نہ بتایا تھا وہ اچانک میڈیا میں آکر سب کو حیران کر دینا چاہتی تھی خاص طور پر اپنے سکول اور کالج کی فرینڈز کو جن کیلئے دریاب کو بحیثیت ایک اداکارہ دیکھنا حیرت انگیز ہوتا ابھی بھی وہ ان ہی خوش کن خیالات میں گھری ہوئی تھی جبکہ صغرا اس کا مساج کر رہی تھی اتنے میں انٹر کام پر اسے اپنے گھر سے آئے ہوئے مہمانوں کے متعلق اطلاع ملی۔

”اندر بھیجو۔“ ملازم کو ہدایت دے کر وہ جلدی جلدی تیار ہونے لگی اپنے گھر سے کسی کی آمد کا سن کر اسے یقینا دلی خوشی ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی شاہ ویز کا تصور اس کی طبیعت کو خاصا مکدر کر گیا کیونکہ وہ ابھی بھی فائیو اسٹار ہوٹل کی لابی میں شاہ ویز سے اچانک ہونے والے اس سامنے کو بھولی نہ تھی یہ ہی سب سوچتی ہوئی وہ ڈرائننگ روم میں داخل ہوئی۔

”اوہو سمن باجی آپ کب آئیں۔“ اتنے سالوں بعد سمن کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ باقی سب کچھ یکسر فراموش کر بیٹھی اور بڑی محبت سے سمن کے گلے ملی۔

”مجھے تو ایک ہفتہ ہو گیا۔“ سمن نے بڑی محبت اس کا ماتھا چوما۔

”شاہ ویز کے پاس ہی وقت نہ تھا ورنہ میں تو تم سے ملنے میں کبھی اتنے دن نہ لگاتی۔“ سمن کی اس وضاحت پر اس نے ایک سرسری سی نظر شاہ ویز پر ڈالی جو چہرے پر یکسر اجنبیت طاری کئے بیٹھا تھا۔

”اور تم تو ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت ہو گئی ہو۔“ سمن کے نہ صرف الفاظ بلکہ نظروں میں بھی اس کیلئے ستائش تھی سمن کی اس تعریف پر وہ صرف ہلکا سا مسکرا کراس کے قریب صوفے پر بیٹھ گئی صغرا ٹرالی لے کر آگئی تھی۔

”ارے تم نے یہ سب، اتنا تکلف کیوں کیا میں تو بس اب جا رہی ہوں۔“ سمن شاہ ویز کو مسلسل پہلو بدلتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔

”جی نہیں آپ آج کھانا کھا کر جائیں گی۔“ جانے کیوں اس کا دل چاہ رہا تھا کہ سمن آج کچھ دیر اور اس کے پاس بیٹھے اسے یکدم ہی سمن کی وہ محبت یاد آئی جو ایک گھر میں رہتے ہوئے سمن اس سے اور سمرن سے کرتی تھی اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آگئی جانے کیوں وہ اس قدر جذباتی سی ہو رہی تھی۔

”میں پھر آﺅں گی یہ سمرن کی شادی کا کارڈ ہے تم نے ہر رسم میں شرکت کرنی ہے میں خاص طور پر تمہارا انتظار کروں گی دانش بھائی کو بھی لے کر آنا۔“ شاہ ویز کے اشارہ کرتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

”اچھا اللہ حافظ۔“ا ب کے دریاب کے انداز میں وہ والہانہ پن نہ تھا اور یہ بات سمن بھی محسوس کر چکی تھی اس لئے جیسے ہی اس سے الوداعی ہاتھ ملایا اس کے دونوں ہاتھوں کو بڑی محبت سے تھام کر بولی۔

”تمہارا گھر بڑا خوبصورت ہے بالکل تمہاری طرح اور ہاں شادی پر ضرور آنا ہم سب تمہارا انتظار کریں گے۔“ سمن کی والہانہ محبت اور ستائشی جملوں نے اس کے دل کے بوجھل پن کو کافی حد تک دور کر دیا۔ شاہ ویز شیشے کا دروازہ دھکیل کر باہر نکل چکا تھا۔ اس نے سمن سے وعدہ ضرور کیا کہ وہ شادی کی تمام رسومات میں شریک ہو گی لیکن بظاہر اس کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا اس نے کارڈ اپنے کمرے میں لے جا کر خاموشی سے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی دراز میں ڈال دیا۔

QQQQ

اس کی فلم اگلے ہفتے تک سینما میں لگنے والی تھی فلم کے پوسٹرز مختلف سینما گھروں کے باہر لگ چکے تھے ہاتھ سے بنے ہوئے ان پوسٹرز میں وہ قدرے مختلف دکھائی دے رہی تھی اس کا فلمی نام ”دل ربا“ رکھا گیا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ ابھی تک اس کے قریبی جاننے والوں کو بھی اس کی نئی سرگرمی کا علم نہ ہو سکا تھا یا شاید کسی کو اس حد تک امید نہ تھی وہ ریڈ کارپٹ کے سلسلے میں ایک، دو ٹی وی چینل پر بھی آچکی تھی اور اب جانچنا چاہتی تھی کہ آیا لوگ اسے فلم اسٹار دل ربا کی حیثیت سے جان پائے ہیں یا نہیں یہ ہی سوچ کر وہ سمرن کے ولیمے میں شریک ہونے پیراڈائز لان آگئی۔

ریڈ قیمتی ساڑھی میں خوبصورت اور جدید جیولری کے ساتھ وہ ایک منفرد سی شخصیت دکھا دے رہی تھی باہر استقبالیہ پر ہی اسے شاہ ویز کے ہمراہ زوار بھی کھڑا نظر آگیا ان دونوں کو یکسر نظر انداز کرتی وہ تایا سرفراز کی جانب بڑھی جنہوں نے اس کے سلام کا جواب دے کر منہ دوسری جانب پھیر لیا۔

”مجھے انہیں بھی سلام نہیں کرنا چاہئے تھا۔“ وہ سخت پچھتائی اور اندر کی جانب بڑھ گئی شہ پارا بڑی محبت اور والہانہ پن سے ملی۔

”ایکسکیوزمی میڈم آپ دل ربا ہیں نا۔“ وہ کوئی پندرہ، سولہ سالہ لڑکی تھی جو بڑے اشتیاق سے اس سے دریافت کر رہی تھی۔

”جی….“ لڑکی کو مختصر سا جواب دے کر وہ پارو کی رہنمائی میں آگے بڑھ گئی۔

”اس کا مطلب ہے میں لوگوں میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو چکی ہوں۔“ ٹیبل کے گرد دھری کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس سوچ نے اطمینان کی ایک لہر اس کے اندر تک اتار دی اسے محسوس ہوا تقریب میں موجود اکثر افراد اسے پہچان چکے ہیں یا پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں اس خیال کے آتے ہی اس کی گردن فخر سے اکڑ گئی وہ ٹانگ پر ٹانگ دھرے بڑے تفاخر سے بیٹھی تھی کہ اچانک ہی اس کی نظر بے دھیانی میں اسٹیج پر جا پڑی جہاں رسٹ اور اونج شرارہ سوٹ میں سمرن بے حد خوبصورت دکھائی دے رہی تھی اور اس کے پہلو میں بیٹھا شاہ ویز خوشی سے کھلا جا رہا تھا اس کی خوشی کا اندازہ وہ اتنے فاصلے سے بھی لگا سکتی تھی وہ جانے سمرن کے کان میں ہر سکینڈ بعد کیا کہتا تھا کہ سمرن کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی۔ ایک مکمل منظر جو کبھی اس کا نصیب نہ بن سکا پتا نہیں اس منظر میں کب تک وہ کھوئی رہتی اگر اسے سمن کی آواز نہ سنائی دیتی۔

”ارے تم یہاں کیوں بیٹھی ہو وہاں آﺅ اسٹیج پر سمرن سے ملو۔“ اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے سمن کے ساتھ اسٹیج پر جانا پڑا جہاں تائی سادیہ، پھوپھو اور فاریہ بھابی بھی پہلے سے ہی موجود تھیں۔ ان تینوں خواتین کا رویہ اس سے بالکل روکھا سا تھا۔ اس نے بھی کوئی پروا نہ کی اور بڑی نزاکت سے سمرن کے پاس جا بیٹھی اس کے فوٹو سیشن کے فوراً بعد آرزو اور زوار بھی ایک ساتھ ہی اوپر آگئے سجی سنوری آرزو پہچانی ہی نہیں جا رہی تھی پھو پھو بڑی محبت سے اس سے ملیں اور اسے لاکر سمرن کے پہلو میں بٹھا۔

”اصل میں کل ہی زوار اور آرزو کا نکاح ہوا ہے کیونکہ زوار کو لندن میں جاب مل گئی ہے پھوپھو اسے اکیلا بھیجنا نہیں چاہتی تھیں اسی لئے ان دونوں کا اچانک ہی نکاح ہو گیا۔“ سمن آرزو کی جانب محبت سے دیکھتے ہوئے جانے، کیا کچھ کہہ رہی تھی لیکن اسے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کہ زوار حسن آج بھی اس کی محبت کا جوگ لئے بیٹھا ہے سمن کی فراہم کردہ اس اطلاع نے اس کی اس غلط فہمی کو یکسر ختم کر دیا زوار حسن کے چہرے پر اپنی محبت کھوجتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وہاں اب آرزو کا نام درج تھا وہ بے حد بد دل ہو گئی اور پھر کھانا کھائے بغیر گھر واپس آگئی۔ حالانکہ اسے شہ پارا، سمرن، سمن حتیٰ کہ ارم نے بھی روکا لیکن وہ نہ مانی یہ عادت اس کی بڑی پرانی تھی جب کوئی کام کرنے کا فیصلہ کر لیتی تو کبھی بھی اس سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹتی آج بھی اس نے ایسا ہی کیا وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ اس کا رعب حسن لوگ کے دلوں کو اسیر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

شاہ ویز کے بعد اب زوار کا نظر انداز کیا جانا بالکل بھی برداشت نہ کر سکی اور اس رات شاید پہلی بار وہ اپنے اکیلے کمرے میں پھوٹ پھوٹ کر روئی۔

QQQQ

آج اس کی فلم کا پریمیئر شو تھا جس میں شرکت کیلئے وہ فاضل کریم کے ساتھ آگئی تھی۔ دانش اپنے بزنس کے سلسلے میں دوبئی گیا ہوا تھا اور اگر ہوتا بھی تو کون سا اس کے ساتھ آجاتا اور اسی پریمیئر شو کے دوران اس کی ملاقات شعازل کے ہمراہ موجود مہر علی سے ہو گئی۔

”آپ نہیں جانتیں آپ سے ملاقات میرا ایک دیرینہ خواب تھا جو آج شعازل کے طفیل پورا ہوا۔“ مہر علی کا بطور مذاق کیا جانے والا یہ جملہ جانے کیوں اس کے دل میں ترازو ہو گیا اسے بھی یہ سانولا سلونا، بھرے بھرے جسم والا ہینڈسم سا نوجوان اچھا لگا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی محبت دریہ کیلئے ایک بالکل نیا تجربہ تھی۔

”شاید مجھے غلط فہمی ہو گئی ہو۔“ یہ کہہ کر دریہ نے اپنے دل کے کہنے کو جھٹلانا چاہا لیکن پھر بھی وہ کئی دنوں تک مہر علی سے ہونے والی اپنی اس سرسری سی ملاقات کو بھلا نہ پائی۔ حالانکہ وہ لوگوں کو اتنا عرصہ یاد رکھنے کی عادی نہ تھی۔

اس کی فلم ریلیز ضرور ہوئی لیکن باکس آفس پر کوئی خاص بزنس نہ کر سکی اور اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی تھیں ایک تو یہ کہ پاکستان میں فلموں کی وہ مارکیٹ ویلیو نہ رہی تھی جو کچھ عرصہ قبل تک تھی دوسرا شاید ہماری عوام اتنی باشعور ہو گئی تھی کہ فلم میں اچھی اور معیاری کہانی چاہتی تھی اور آٹھ، دس گانوں اور ڈانس کے ذریعے کسی بھی فلم کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا جو بھی تھا اس فلم کی ریلیز سے دریہ کو فائدہ ضرور ہوا شوبز کے حلقہ میں وہ پہچانی جانے لگی تھی۔ وہ ٹی وی کے ایک دو مارننگ شوز میں بھی بطور مہمان بلوائی گئی اور پھر اسے کچھ اشتہارات بھی مل گئے پہلے تو دل ربا نے اشتہار کرنے سے انکار کر دیا اس کے خیال میں اس طرح اس کی مارکیٹ ویلیو ڈاﺅن ہونے کا خطرہ تھا لیکن پھر دانش کے سمجھانے پر آمادہ ہو گئی اب اس نے پڑوسی ملک میں فلم حاصل کرنے کی اپنی کوشش کو مزید تیز تر کر دیا۔

QQQQ

جے آنند کا تعلق پڑوسی ملک کی انڈسٹری سے تھا دانش کی ہر ممکن کوشش تھی کہ وہ پنی فلم میں دل ربا کو بھی کاسٹ کرے اسی سلسلے میں اس نے آج جے آنند کے اعزاز میں ایک فنکشن کا اہتمام کر رکھا تھا جس کی روح رواں ”دل ربا“ تھی رات اس تقریب میں جب وہ شفون کی سفید ساڑھی میں نہایت مختصر بلاوز کے ساتھ ہال میں داخل ہوئی تو ہر نگاہ میں اس کیلئے ستائش ہی ستائش تھی اور پھر بھیگی رات میں چند مخصوص مہمانوں کیلئے سجائی گئی اس محفل میں اس کے قیامت خیز رقص نے ایسا سماں باندھا کہ مہمان پروڈیوسر جے آنند اپنا دل اس کے قدموں پر رکھنے کیلئے آمادہ ہو گیا۔

پھر اگلے چوبیس گھنٹے دل ربا کی زندگی میں ایسے آئے کہ اس کی پوری زندگی ہی بدل گئی دل ربا نے بطور ہیروئن جے آنند کی فلم سائن کر لی اب تو جیسے وہ ہواﺅں میں اڑ رہی تھی۔ اگلے ہی ہفتے وہ جے آنند کے ساتھ دوبئی روانہ ہو چکی تھی جہاں اس فلم کی اوپننگ تھی یقینا اس کی زندگی کا وہ سنہرا دور شروع ہوا تھا جس کےلئے اس نے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا کھا تھا۔

QQQQ

دانش اسے جے آنند کے ساتھ دوبئی چھوڑ کر آج صبح کی فلائٹ سے لندن چلا گیا تھا جہاں سے اس کی واپسی تقریباً پندرہ دن بعد تھی وہ فلم کے دیگر افراد کے ساتھ ہوٹل مون لائٹ میں مقیم تھی جے آنند کی منظور نظر ہونے کے سبب اسے یہاں بھی خاصا وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا تھا وہ صبح سو کر اٹھی تو جے آنند جا چکا تھا پہلے اس نے پہلے سوچا کہ ناشتہ کمرے میں ہی منگوا لے لیکن جانے کیا سوچ کر اپنے اس خیال کو اس نے خود ہی مسترد کر دیا اور شاور لے کر جینز پر لیمن کلر کی ٹی شرٹ کے ساتھ وہ نیچے ہال میں آگئی۔

”ہیلو۔“ ناشتے کی ٹرے اپنے آگے سرکا کر ابھی اس نے پلیٹ ہی اٹھائی تھی کہ ایک جانی پہچان آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی بغیر دیکھے ہی وہ جان چکی تھی کہ یہ آواز یقینا نشاءکی تھی جو کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔

”کیسی ہو تم؟“

”ٹھیک ہوں۔“ مختصر سا جواب دے کر وہ ناشتہ کرنے میں مشغول ہو گئی کہ نشاءنہایت فرصت سے اس کا جائزہ لینے کا شغل سرانجام دینے لگی۔

”آج کل تو بھئی تمہارے بڑے ٹھاٹ ہیں سنا ہے جے آنند کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہو۔“

سگریٹ سلگاتی ہوئی نشاءکی اس بات نے دل ربا کو اندر تک سلگا ڈالا۔

”تمہیں کس نے یہ غلط اطلاع فراہم کی ہے؟ تم شاید جانتی نہیں میں نے اس کی فلم سائن کی ہے جس کا معاوضہ اس نے مجھے ادا کیا ہے جو کہ میرا حق تھا۔“ باوجود کوشش کے بھی وہ اپنا لہجہ دھیما نہ رکھ سکی۔

”اس معاوضے کے علاوہ میں نے ابھی تک جے آنند سے ایک روپے کا کوئی گفٹ بھی حاصل نہیں کیا۔“ اپنی صفائی پیش کرکے اس نے نیپکن اٹھا لیا تاکہ ہاتھ صاف کر سکے کیونکہ نشاءکی آمد نے اس کی طبیعت خاصی مکدر کر دی تھی۔ اس کی بھوک بالکل ختم ہو چکی تھی۔

”بے بی یا تم بہت معصوم ہو یا بننے کی کوشش کر رہی ہو۔“ وہ ٹیبل پر آگے کی جانب جھکی اور قدرے راز دارانہ انداز میں گویا ہوئی۔

”حیرت ہے تم نہیں جانتیں دانش سہگل تمہارے قیمتی وقت کی قیمت دنوں ہاتھ سے وصول کر رہا ہے وہ قیمتی وقت جو تم جے آنند کو فلم کے علاوہ دے رہی ہو۔“ اس کا انداز قدرے استہزائیہ تھا جبکہ یہ دل ربا کےلئے ایک بالکل نیا انکشاف تا۔

”غلط کہہ رہی ہو تم ایسا نہیں ہو سکتا امپاسبل۔“ بے یقینی کے لہجے سے عیاں تھی۔

”ہو سکتا ہے میں جھوٹ ہی کہہ رہی ہوں لیکن تمہارے پاس یقینا چودھری صاحب، فاضل کریم اور اپنے دیگر چاہنے والوں کے نمبر تو ضرور ہوں گے تو ہو سکے تو ان سے رابطہ کرکے دریافت کرنا کہ دانش تمہاری اب تک کتنی قیمت وصول کر چکا ہے۔“ بڑی بے دردی سے تمام حقیقت اس کے گوش گزار کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ دل ربا کے جسم میں تو گویا جان ہی نہ رہی اس کی ٹانگوں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹ کر کمرے تک لے کر آئی۔

اسے اس احساس نے شدت سے گھیر لیا کہ آج تک وہ دانش کے ہاتھوں میں ایک کھلونے کی مانند زندگی گزارتی رہی ایک ایسا کھلونا جس کی قیمت وہ دونوں ہاتھوں سے وصول کرتا رہا جبکہ وہ بے خبر ہی رہی اس احساس نے دل ربا کا دل دانش سے مکمل طور پر اچاٹ کر دیا۔

”اگر مجھے کامیابی حاصل کرنی ہے تو سب سے پہلے دانش سہگل سے چھٹکارہ پانا ہو گا۔“ یہ فیصلہ کرتے ہی اس کا دل مطمئن ہو گیا حالانکہ وہ جانتی تھی کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے پھر بھی اسے یقین تھا کہ وہ کامیاب ضرور ہو گی کیونکہ اب وہ دریاب گل نہیں بلکہ ایک فلم اسٹار ”دل ربا“ تھی اسے تلاش تھی کسی ایسے ہاتھ کی جو اسے دانش کے چنگل سے باحفاظت نکال سکے اور قدرت نے یہ موقع بھی اسے خود ہی فراہم کر دیا جلد ہی اس کی ملاقات ایک مشہور صنعتکار راجہ بشارت سے ہو گئی راجہ صاحب کی شخصیت اور طاقت دیکھتے ہوئے دل ربا کو یقین آگیا کہ یہ ہی وہ ہاتھ ہے جو اسے دانش سہگل کے چنگل سے نکال سکتا ہے۔

QQQQ

فلم میں اس کا کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا اور وہ آج رات کی فلائٹ سے واپس جا رہی تھی اس دو ماہ کے عرصہ میں صرف ایک بار دانش اس سے ملنے آیا اسی وقت جب وہ بنکاک میں شوٹنگ کے سلسلے میں مصروف تھی وہ دانش سے اسی طرح ملی جیسے آج تک ملتی آرہی تھی جے آنند دوبارہ ملنے کا وعدہ لے کر اسے ایئر پورٹ چھوڑ گیا تھا وہ نہایت ہی سست قدموں سے لاونج میں داخل ہوئی۔ دو ماہ کی تھکن اس کے جسم پر قابض تھی۔ فلائیٹ دو تھی وہ وہیں لاﺅنج میں رکھے صوفے پر بیٹھ گئی اس کا سامان لوڈ ہو چکا تھا جبکہ ہینڈ کیری کے طور پر ایک بیگ اس کے قریب دھرا تھا اسی طرح بیٹھے اسے جانے کتنی دیر ہو چکی تھی وہ اپنے آس پاس موجود چہروں کو خالی الذہنی سے تکتی ہوئی ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی جب اس کے قریب کوئی آکر بیٹھا۔

”ایکسکیوزمی مس۔“ اس نے پلٹ کر دیکھا چالیس سال سے اوپر کا ایک مرد، جس کی صحت قابل رشک تھی نہایت قیمتی ٹی شرٹ میں ملبوس اس سے کچھ دور بیٹھا تھا۔

”کافی۔“ اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کپ دل ربا کی جانب بڑھایا۔

”نو تھینکس آپ پئیں۔“

”میں پی چکا ہوں یہ کپ آپ کیلئے ہے۔“ دل ربا نے حیرت سے پلٹ کر اس کی جانب تکا۔

”دراصل میں کافی دیر سے آپ کو نوٹ کر رہا ہوں۔ آپ تنہا ہیں اور شاید کچھ ڈپریسڈ بھی اسی لئے سوچا آپ کو کچھ کمپنی دے جائے۔“ دل ربا کی آنکھوں میں جھانکتا سوال شاید وہ پڑھ چکا تھا اسی لئے وضاحت کرتا ہوا بولا۔ اب انکار کی گنجائش نہ تھی دل ربا نے خاموشی سے کپ تھام لیا اور آہستہ آہستہ پینے لگی حالانکہ چائے اور کافی وہ بالکل نہ پیتی تھی۔

مجھے راجہ بشارت کہتے ہیں اور آپ؟“ اس کے قریب سے آتی مہنگے ترین کلون اور پرفیوم کی خوشبو اس کے اعلیٰ ذوق کی نشاندہی کر رہی تھی۔

”دل ربا۔“ اتنا ہی تعارف کافی تھا راجہ بشارت درحقیقت ایک بہت بڑا صنعکار ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی عیاش شخص تھا اسے پہلی ہی نظر میں دل ربا کے معصوم حسن نے اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا کوئی اور وقت ہوتا تو دل ربا کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہ کرتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دانش کی رضا مندی کے بغیر وہ کسی شخص سے دوستی جیسا بے ضرر رشتہ بھی استوار نہیں کر سکتی تھی لیکن اب پہلے والی بات نہ تھی ”نشائ“ کی لگائی ہوئی آگ نے اس کے تمام جسم کو جلا کر خاکستر کر ڈالا تھا اور وہ بغاوت کی آگ میں گیلی لڑکی کی مانند سلگ رہی تھی اسی جذبے نے اسے راجہ بشارت کے قریب کر دیا اور راجہ بشارت کو زیادہ مشقت نہ کرنی پڑی چونکہ عورت تو ہوتی ہی شخصیت پرست ہے خصوصاً وہ شخصیت جو تقدس کا لبادہ اوڑھ کر آئے وہ اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی اور ایسا ہی دل ربا کے ساتھ ہوا وہ بھی راجہ بشارت کی ظاہری شخصیت سے دھوکا کھا گئی یا شاید دھوکا تو اس فیلڈ میں آتے ہی اس کا مقدر ہو چکا تھا اس کا سفر راجہ بشارت کی ہمراہی میں نہایت ہی سہل اور آرام دہ ہو گیا راجہ نے اسے اپنا رابطہ نمبر دے دیا اور اس کا نمبر خود حاصل کر لیا تاکہ آگے ملاقاتوں کےلئے راہ ہموار ہو سکے۔

QQQQ

”تم راجہ بشارت سے کب سے مل رہی ہو۔“ وہ ابھی سو کر اٹھی تھی جب دانش زور دار آواز سے دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا۔

”پلیز آہستہ بولو میرے سر میں درد ہے۔“ دانش کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی وہ بیڈ سے نیچے اتر آئی پاﺅں میں سلیپر ڈالے اور اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔

”میری بات کا جواب دو پھر تم کہیں جا سکتی ہو۔“ اس سے قبل کہ وہ باتھ روم کے دروازے کی ناب گھماتی طیش میں بل کھاتا ہوا دانش اس کے اور دروازے کے درمیان میں حائل ہو گیا دانش کا یہ روپ اس کیلئے بالکل انوکھا تھا۔

”تمہیں میری ذاتیات جاننے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔“ دل ربا کا جواب دانش کے غیض و غضب میں اضافے کا سبب بن گیا لیکن وہ نہایت گھاگ شخص تھا وقت کے بدلتے چہرے کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فن جانتا تھا۔ دریاب کا موڈ اسے بہت کچھ سمجھا گیا۔

”اختیار ہے کیونکہ میں تمہارا قانونی اور شرعی شوہر ہوں۔“ اس کا لہجہ پہلے سے کافی تبدیل ہو گیا اور وہ اپنی آواز کو قدرے دھیما کرتا ہوا بولا۔

”شوہر۔“ دل ربا پر ہنسی کا شدید دورہ پڑا ہنستے ہنستے اسے کھانسی ہونے لگی اور آنکھوں سے پانی بہہ نکلا وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئی دانش کھسیانا سا ہو گیا۔

”شوہر دانش صاحب آپ نے آج کیسے خود کو میرا شوہر تسلیم کر لیا۔ حیرت ہے؟“ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور آہستہ روی سے چلتی دانش کے عین مقابل آکھڑی ہوئی۔

”آپ شوہر کا مطلب جانتے ہیں؟“ وہ عین اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی دانش کے پاس اس کے اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔

”شوہر وہ ہوتا ہے جو اپنی بیوی کو عزت، محبت اور تحفظ فراہم کرے، خود اپنے ہاتھوں اپنی بیوی کا سودا کرنے والا آج شوہر کہلانے کا حق دار کیسے ہو گیا بولو جواب دو؟ تم شوہر نہیں ایک عزت دار دلال ہو نہایت ماڈرن سوسائٹی میں عزت کے ساتھ لڑکیاں سپلائی کرنے والے۔“ اس نے لفظ عزت پر زور دیا۔

”بہرحال تم جو بھی ہو مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ میں اب تم جیسے نامکمل مرد کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی مجھے تم سے طلاق چاہئے۔“ طلاق کا لفظ نہایت روانی سے اس کی زبان سے ادا ہو گیا اور وہ خود بھی حیران رہ گئی جبکہ دانش ابھی تک ناقابل فہم حالت میں کھڑا تھا اس کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ دل ربا میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کیسے؟ وہ سخت پچھتا رہا تھا کوس رہا تھا اس وقت کو جب اس نے راجہ بشارت کے سلسلے میں دل ربا سے باز پرس کی۔

”اور ہاں۔“ باتھ روم کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ پھر رکی۔

”میرے ساتھ کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا ورنہ راجہ بشارت تمہیں زمین میں زندہ ہی گاڑ دے گا۔“

وہ تیزی سے دروازہ بند کرکے باتھ روم میں گھس گئی۔

”الو کی…. میںنہ ہوتا تو دیکھتا آج کون تمہیں اپنی فلم میں سائن کرتا۔“ بند دروازے کو دیکھتے ہوئے دانش نے زیر لب نہایت بے ہودہ گالیاں دیں اور باتھ روم کے دروازے کو ٹھوکر مارتا تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

QQQQ

دل ربا آج کل راجہ بشارت کے دیئے ہوئے فلیٹ میں رہائش پذیر تھی جبکہ کورٹ میں اس نے خلع کا مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا۔ دل ربا کی انڈین فلم ریلیز ہو چکی تھی جس میں اس کے کردار کو نہ صرف مختصر بلکہ نہایت مسخ کرکے پیش کیا گیا تھا جس نے دیکھنے والوں پر کوئی خاص تاثر نہ چھوڑا اب اس کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہ تھا سوائے راجہ بشارت کے، شوبز کے حلقوں میں اس کی پی آر اتنی نہ تھی جتنا وہ سمجھ بیٹھی تھی اب اسے احساس ہوا کہ جو بھی تھا دانش غیر محسوس انداز سے اس کے سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ آج تک اس نے اپنی ظاہری خوبصورتی کو ہی استعمال کیا تھا دماغی استعمال کا تو کبھی اسے موقع ہی نہ ملا یقینا کوئی ایسا پر خلوص دوست چاہئے تھا جو اس میں اس کی رہنمائی کر سکتا۔ آخر کار بہت کوشش کے بعد اسے ایک ٹیلی فلم میں کام تو ملا لیکن اسے جلد ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ ٹی وی اس کی منزل نہیں ہے کیونکہ وہ تو ڈانس کی شیدائی تھی جبکہ ٹی وی میں اداکاری دیکھی جاتی ہے جو شاید اس کے بس کی بات نہ تھی لاکھ کوشش کے باوجود وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو سین کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب نہ ہو سکتی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ ایک ڈرامے کے بعد اس کا دل ٹی وی سے مکمل طور پر اچاٹ ہو گیا اور ایسے ہی بے زار ترین دنوں میں اسے راجہ نے ایک انوکھا مشورہ دیا۔

”تم اپنے ڈانسز کی ایک پرائیویٹ سی ڈی کیوں نہیں تیار کرکے ریلیز کرواتیں؟“

شام سے ہی راجہ اس کے فلیٹ پر تھا ابھی ابھی کے ایف سی کا نمائندہ ان کی مطلوبہ ڈیل پہنچا کر گیا تھا وہ راجہ کے پہلو میں بیٹھی اپنا پسندیدہ مشروب پینے میں مشغول تھی راجہ کا دیا ہوا مشورہ اسے ایک پل کو حیران کر دیا گیا۔

”جانتے ہو سی ڈی کی تیاری اور ریلیز کےلئے کتنا پیسہ چاہئے اور سچ یہ ہے کہ میرے پاس اگر پیسہ ہوتا تو میں اپنی ایک ذاتی فلم نہ بنا لیتی۔“

”خیر فلم میں تو زیادہ سرمایہ درکار ہے اس کام میں اتنی رقم کی ضرورت نہیں پڑتی اگر تم تیار ہو تو اس سلسلے میں میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔“ راجہ نے اسے نیم رضا مند دیکھ کر اپنی خدمات پیش کیں اس کا کوئی ایسا جاننے والا تو تھا نہیں جس سے مشورہ کرنے کی ضرورت پیش آتی لہٰذا تھوڑے سے پس و پیش کے بعد خود ہی آمادہ ہو گئی۔

اور پھر جلد ہی اس کے رقص کی پرائیویٹ سی ڈی تیار ہو کر مارکیٹ میں آگئی اور اس سی ڈی کی تیاری اور پھر مارکیٹ میں اس کا تعارف، اس قدر مشکل اور تھکا دینے والا مرحلہ تھا کہ دل ربا نے دوبارہ ایسی غلطی نہ کرنے کا پکا فیصلہ کر لیا دوسری طرف دانش نے اپنے کیس کی بالکل بھی پیروی نہ کی اور جلد ہی اسے کورٹ سے خلع حاصل ہو گئی راجہ بشارت اپنے قیمتی وقت کی قیمت اس کی قربت سے حاصل کرکے کنارہ کش ہو چکا تھا لیکن اب دل ربا اس ماحول کی عادی ہو چکی تھی وہ جان چکی تھی کہ کچھ حاصل کرنے کیلئے سب کچھ کھونا پڑتا ہے پھر کامیابی حاصل ہوتی ہے لیکن اصل مشکل تو یہ تھی کہ جو کامیابی وہ چاہتی تھی اس تک پہنچنے کیلئے اسے کوئی راستہ نہ مل رہا تھا اور اس وقت جب وہ شہرت کی بلندیوں کی جستجو میں غلاظت کی دلدل میں دھنستی جا رہی تھی ایک بار پھر قسمت نے اس پر یاوری کی اور اس کی ملاقات مہر علی سے ہو گئی۔

QQQQ

”میڈم ایک کلاسیکل فلم ہے اگر آپ کام کرنا چاہیں تو میں کوشش کروں۔“ سہیل باجوہ کو اس نے حال ہی میں اپنے سیکریٹری کے طور پر اپائمنٹ کیا تھا اس سے قبل وہ ایک مشہور فلمی اداکارہ کے ساتھ ہوتا تھا جس کی شادی نے باجوہ کو مکمل طور پر فارغ کر دیا تا۔

”کس کی فلم ہے؟“ اس نے اپنے ناخن فائل کرتے ہوئے بڑی بے نیازی سے دریافت کیا۔

”مہر علی شاید کوئی نیا پروڈیوسر ہے آپ نہیں جانتیں۔“

مہر علی کا نام سنتے ہی دل ربا کے ذہن کے پردہ سکرین پر مسکراتی آنکھوں والا ایک نوجوان آگیا جس سے ہونے والی کئی ماہ قبل کی ملاقات وہ آج تک نہ بھولی تھی۔

”تم ایڈووکیٹ مہر علی کی بات تو نہیں کر رہے۔“ بے یقینی اس کے لہجے سے عیاں تھی۔

”وہ مہر علی جو شاید مشہور ڈیزائنر شعازل کا بھی دوست ہے۔“

”ہو سکتا ہے کہ وہ ہی ہو آپ جانتی ہیں اسے؟“ باجوہ نے سوالیہ انداز سے اس کی جانب دیکھا۔

”ہوں۔ ہو سکے تو میری اس سے ایک ملاقات کروا دو مجھے یقین ہے۔ وہ بھی مجھے اچھی طرح جانتا ہو گا۔“ اسے یقین تھا کہ مہر علی اسے نہ بھولا ہو گا اور اپنے اس ہی یقین کو جانچنے کےلئے وہ مہر علی سے ملنا چاہتی تھی اور پھر سہیل کی کوششوں کی بدولت اس کی یہ خواہش جلد ہی پوری ہو گئی مہر علی سے ہونے والی ملاقات نے اسے یقین دلا دیا کہ اس سے ملنا مہر علی کی بھی ایک ایسی خواہش تھی جو یقینا باجوہ کے ذریعے پوری ہو گئی تھی۔

QQQQ

کلاسیکل فلم بنانے کا آئیڈیا فیض محمد کا تھا جس کا سرمایہ مہر علی نے فراہم کیا لیکن ان ہی دنوں اچانک فیض محمد کو اپنے کسی کام سے ابروڈ جانا پڑ گیا جس کی بنا پر فلم میکنگ کا یہ منصوبہ التواءکا شکار ہو گیا لیکن اس فلم کے ذریعے مہر علی اور دل ربا ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ دل ربا کو آج کئی سالوں بعد ایک حقیقی دوست کا ساتھ میسر آیا مہر علی اس کا ایک ایسا دوست تھا جسے اس کے جسم سے کوئی غرض نہ تھی اس کے نزدیک دل ربا آج بھی ایک دیوی کی حیثیت رکھتی تھی جس کی صرف پوجا کی جا سکتی ہو، سچ تو یہ ہے کہ مہر علی عام مردوں سے ہٹ کر ایک قدرے پر خلوص مرد تھا دل ربا کے تمام حالات جان کر اسے اس لڑکی پر بہت افسوس ہوتا جس نے شوبز کی جھلملاتی روشنیوں کے تعاقب میں خود کو اندھیروں کی نذر کر دیا یہ جانے بغیر کہ یہ چکا چوند ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی اور اب وہ اتنا سفر طے کر چکی تھی کہ واپسی کے راستے مسدود ہو گئے تھے جلد ہی باجوہ کے مشورے پر لاہور منتقل ہو گئی۔

دانش سے طلاق کے بعد وہ اپنے موبائل کے سم تبدیل کر چکی تھی اور اس تمام عرصے میں اس نے اپنے گھر والوں سے بالکل بھی رابطہ نہ کیا جانے کیوں اسے کبھی کبھی یہ احساس شدت سے ہوتا کہ اسے اس مقام تک پہنچانے میں زیادہ کردار اس کے ماں باپ کا ہے جن کی لاپرواہی کے سبب وہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھول کر ان راہوں کی مسافر ہو گئی جہاں کوئی کسی کا نہیں ہوتا سب اپنی غرض کے بندے ہوتے ہیں نہایت مایوسی کے عالم میں اسے شدت کے ساتھ یہ احساس گھیر لیتا کہ اگر آج اس سے بے جا لاڈ پیار نہ کیا گیا ہوتا تو شاید وہ بھی سمن، سمرن اور آرزو کی طرح گھریلو زندگی گزار رہی ہوتی لیکن اس پر مایوسی اور خود شکستگی کی یہ یلغار کچھ ہی دیر کیلئے ہوتی پھر وہ جلد ہی ان تمام خیالوں کو اپنے ذہن سے جھٹک کر خود کو اپنی موجودہ زندگی کی رنگینوں میں گم کر لیتی کیونکہ اب یہ ہی اس کا اصل تھا باقی سب تو بہت پیچھے رہ گیا تھا اور پیچھے پلٹ کر دیکھنا اسے پسند نہ تھا۔

اس دن وہ اپنا پرانا ہینڈ بیگ چیک کر رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی پرانی سم مل گئی جانے کیا سوچ کر اس نے وہ سم موبائل میں لگا لی وہاں سمرن کا ایک مےسج موجود تھا جو جانے کب کا تھا۔

”مما بہت بیمار ہیں اگر ہوسکے تو ایک بار آکر مل جاﺅ۔“ مسیج بے شک پرانا تھا لیکن پھر بھی پڑھ کر وہ رہ نہ سکی اور پہلی ہی فلائٹ سے کراچی آگئی ایئر پورٹ سے اسے مہر علی نے ریسیو کیا اور اپنے فلیٹ پر لے آیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد فریش ہو کر وہ مہر علی کی گاڑی اور ڈرائیور کے ہمراہ آشیانہ گل پہنچی جہاں گیٹ پر ہی اس کے مڈ بھیڑ ارم سے ہو گئی جن کے ساتھ غالباً ولید تھا آٹھ، نو سالہ ولید ایک خوبصورت نوجوان میں تبدیل ہو چکا تھا جانے کیوں اس کا دل چاہا وہ ولید کو گلے لگا کر پیار کرے لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کیونکہ ارم کے ساتھ، ساتھ ولید کی آنکھوں میں بھی وہ اپنے لئے اجنبیت اور سرد مہری دیکھ چکی تھی ارم اس کے پاس سے ایسے گزریں جیسے دیکھا ہی نہ ہو وہ بھی نہایت خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر شہ پارا کے فلور میں آگئی۔

سامنے ہی سمرن بیٹھی جانے شہ پارا سے کیا باتیں کر رہی تھی کہ یکدم ہی اس کی نگاہ دروازے پر کھڑی دل ربا پر پڑی جو آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی جتنی اس گھر سے جاتے ہوئے، ہوتے ہیں کچھ ایسے لوگ جن پر زمانے کے سرد و گرم اپنے اثرات مرتب نہیں کرتے۔ سمرن نے دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی کو سراہتے ہوئے اپنی کرسی خالی کر دی لیکن وہ بیڈ پر شہ پارا کے قریب ہی بیٹھ گئی شہ پارا کو جانے کیا ہوا اسے دیکھ کر خود پر ضبط نہ کر سکی اور دریہ کو گلے لگاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی دریہ نے بڑی مشکل سے اسے خود سے دور کیا اور قریب رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے منہ سے لگایا پانی پلا کر ٹشو سے اس کا منہ صاف کیا اور تکیے سے ٹیک لگا کر بٹھا دیا اتنی دیر میں سمرن اس کیلئے جوس کا گلاس لے آئی اور بنا کچھ کہے خاموشی سے اس کے سامنے رکھی ٹیبل پر دھر دیا۔

”امی اب جاتی ہوں شازل جاگ گیا تو بہت روئے گا۔“ اس نے دریہ کی طرف ایک نظر ڈالنا بھی گوارہ نہ کیا بات کرنا تو دور کی بات تھی۔ دریہ بھی مکمل طور پر اسے نظر انداز کرکے شہ پارا کی طرف ہی متوجہ تھی کہ یکدم ہی دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا۔

”کتنی دفعہ کہا ہے نیچے آﺅ تو اسے….“

باقی الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے ایک دم ہی اس کی نگاہ دریہ پر پڑی دریہ نے پلٹ کر دیکھا شاہ ویز کی نگاہوں میں اپنے لئے موجود واضح نفرت اسے قدرے فاصلے سے بھی دکھائی دے رہی تھی۔

”چلو اوپر تم….“ دریہ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اس نے اپنی گود میں موجود بے حد خوبصورت بچہ جو تقریباً ایک سال کا تھا سمرن کی گود میں ڈالا اور واپس پلٹ گیا سمرن بھی اس کے پیچھے ہی نکل گئی اب کمرے میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا سوائے سانسوں کی آواز کے جو شہ پارا اور دریہ کی تھیں اور جانے کیوں پندرہ منٹ شہ پارا کے ساتھ گزار کر جب وہ واپس آئی تو سارے راستہ اس کی نگاہوں میں رہ رہ کر گل گوتھنے سے شازل کا چہرہ ہی آتا رہا اور شاید وہ پہلی رات تھی جس دن وہ کئی سالوں بعد اپنے گھر والوں کی یاد میں ٹوٹ کر روئی آج اسے سب کچھ بہت یاد آیا یہاں تک کہ آج پہلی بار اس نے اپنی کھوئی ہوئی عصمت اور عزت کو بھی یاد کرکے آنسو بہائے تھے۔

QQQQ

اسٹوڈیو میں جو ایک دو فلمیں زیر تکمیل تھیں مکمل ہو گئیں اب اسٹوڈیو پر مکمل طور سے سناٹا طاری ہو گیا۔ باجوہ اپنے بھائی کے پاس دوبئی چلا گیا تھا دل ربا مختلف پروڈیوسرز کے پاس چکر لگانے لگی، ایسا ہی ایک دن تھا جب وہ اسٹوڈیو کی لابی میں بیٹھی ملک حیات سے ملاقات کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک ہی وہاں میڈم روبی آگئی میڈیم روبی ان چند لوگوں میں سے تھی جو خود کو دنیا کے ساتھ نبھانے کا فن جانتے ہیں وہ اپنے وقت کی ایک کامیاب اداکارہ تھی اور اب نہ صرف اسٹیج کی کامیاب اداکارہ بلکہ پروڈیوسر بھی تھی فلموں کی گرتی ہوئی ساکھ نے روبی جیسے لوگوں پر کوئی اثر نہ ڈالا تھا اس کے ٹھاٹ باٹ ابھی بھی اتنے ہی شاہانہ تھے ایک نئی فلمی اداکارہ کے طور پر وہ دل ربا کو پہچانتی تھی۔

”کیا بات ہے دل ربا یہاں کیوں بیٹھی ہو۔“ چلتے چلتے اچانک ہی اس کی نگاہ دل ربا پر پڑی اور اس نے اپنے بڑے سے کالے چشمہ کی اوٹ سے اسے جھکانکا۔

”کچھ نہیں ملک صاحب سے ملنے آئی تھی۔ اس نے اندر موجود پروڈیوسر کا نام لیا۔

”یہ تم کیا ملک صاحب کے چکروں میں پڑ گئی ہو جانتی تو ہو کہ آج کل فلموں کا دور ختم ہو گیا ہے اب کوئی بھی عقل مند سرمایہ دار فلموں پر اپنی رقم نہیں ڈبوتا چھوڑو فلم کا چکر میرے ساتھ آجاﺅ میں تمہیں اسٹیج کی ملکہ بناﺅں گی دیکھنا دولت اور شہرت دونوں تمہارے قدم چومیں گی اب تو اسٹیج کا دور ہے چھوڑو ان فلموں کے چکر کو۔

یہ میرا کارڈ رکھ لو اگر آنا چاہو تو مجھ سے رابطہ کر لینا اس نے اپنی ساڑھی کے پلو کو بڑی نزاکت سے جھٹکا دیا اور تیزی سے آگے بڑھ گئی وہ تو اپنی آفر دے کر جا چکی تھی اب فیصلہ دل ربا کو کرنا تھا اور اب اس کے فیصلے عام طو رپر مہر علی سے مشورے کے بعد ہوتے تھے آج بھی ایسا ہی ہوا گھر آکر اس نے مہر علی کو فون کیا تو اس کا موبائل آف تھا گھر کے نمبر سے پتا چلا کہ وہ گاﺅں گیا ہوا ہے۔ ایک ہفتے تک مہر علی سے رابطہ نہ ہو سکا اب وہ مایوس ہو گئی مایوس کن حالت میں گھر کر اس نے میڈم روبی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہیں سے اس پر کامیابیوں کا ایک نیا دروا ہوا اپنے ہیجان خیز رقص کی بدولت وہ تماشائیوں کے دلوں پر راج کرنے لگی اس کا رقص لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا اسے بھی اس کام میں لطف آنے لگا اس کے دن سوتے اور راتیں جاگتی تھیں میڈم اسے ایک معقول معاوضہ دیتی اپنے وقت کو رنگین بنانے کےلئے اس کے آس پاس کئی پروانے منڈلانے لگے تھے ان دنوں وہ مہر علی کو مکمل طور پر فراموش کر چکی تھی۔ وہ حالت مایوسی سے نکل گئی تھی اب ایک اور منزل اسے اپنے سامنے دکھائی دے رہی تھی اور اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ تھا، باقر درانی، جو نہ صرف ایک بہت بڑا زمین دار بلکہ اس علیٰ حکومتی عہدیدار بھی تھا۔

باقر درانی سے دل ربا نے خوب فائدہ اٹھایا باقر نے بھی دل کھول کر اس پر رقم خرچ کی۔

ان دنوں بھی وہ باقر کے ساتھ مری آئی ہوئی تھی جہاں سخت سردی میں اسے مال روڈ پر واک کرنا اچھا لگتا دو دن بھوربن پی سی میں گزارنے کے بعد وہ مری میں باقر کے کاٹیج میں قیام پذیر تھی اس شام برف باری کے بعد ایک دم ہی سردی بڑھ گئی تھی وہ فرکا کوٹ پہنے سر پر مفلر لئے باقر کے ساتھ مال روڈ پر گھوم رہی تھی جب اپنے عقب میں سنائی دینے والی آواز نے لمحہ بھر کر اسے ساکت کر دیا۔

”منع کیا تھا تمہیں کہ باہر بہت سردی ہے بیمار پڑ جاﺅ گی لیکن تمہاری سمجھ میں کوئی بات آئے تب نا چلو اب جلدی واپس چلو۔“ یقینا یہ آواز زوار کی تھی وہ مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہ کر سکی اسے یقین تھا کہ آج اگر اس نے مڑ کر دیکھ لیا تو ساری زندگی پتھر کی بن کر گزار دے گی اس کے دل میں ایک تیز درد کی لہرا تھی جس نے اس کے سارے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا پیچھے آنے والے اس کے قریب سے گزر کر آگے بڑھ گئے تھے اس نے نہایت حسرت سے دیکھا زوار کے ساتھ آرزو تھی جس کی گود میں ایک بچہ بھی تھا وہ دونوں نہایت خوش و خرم تھے ایک دوسرے کو پانے کا احساس نہ صرف ان کی آواز بلکہ چال سے بھی جھلک رہا تھا سب ہی ایک مکمل زندگی گزار رہے تھے ہنستی کھیلتی زندگی اور وہ۔ خود کہاں کھڑی تھی۔ انجانے میں ہی اس کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔

”یہ شال دیکھو کیسی ہے؟“ باقر درانی نے بے حد خوبصورت پنک شال اس کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے نہایت پیار سے پوچھا۔

”اچھی ہے۔“ اس کی دھیمی آواز آنسوﺅں سے رندھی ہوئی تھی۔

”کیا ہوا تمہیں۔“ باقر علی سخت حیران تھا۔

”میری ایک بات مانو گے۔“ اسے جانے کیا ہوا یکدم ہی باقر علی کے دونوں ہاتھ تھام کر بولی۔

”مجھ سے شادی کر لو بے شک مجھے اپنے گھر نہ لے کر جاﺅ یقین جانو میں کبھی تم سے کچھ نہ مانگوں گی پلیز تم صرف مجھ سے شادی کر لو۔“ وہ رو دینے کو تھی۔

”ٹھیک ہے آﺅ پہلے کاٹیج چلیں پھر وہاں بات کریں گے۔“ باقر علی اس کی بکھری ہوئی حالت دیکھ کر پریشان ہوا تھا اور بڑی مشکل سے اسے بہلا پھسلا کر گھر تک لایا وہ ساری رات اس نے تڑپ تڑپ کر رو کر گزار دی درانی نے اسے بہلانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر لاحاصل دوپہر دو بجے جب وہ جاگی تو رات والے کمزور لمحہ کی گرفت سے نکل چکی تھی شاور لینے کے بعد خاموشی سے اس نے اپنا سامان پیک کرنا شروع کر دیا درانی بیڈ کے کراﺅن سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش لگاتا بڑی خاموشی سے اس کی ساری کارروائی دیکھ رہا تھا۔

”کہاں جا رہی ہو؟“ بالآخر اس سے رہا نہ گیا سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں جھاڑتے ہوئے اس نے سوال کیا۔

”لاہور۔“

”ابھی تم لاہور کیسے جا سکتی ہو جانتی ہو تمہاری مجھ سے ایک ہفتے کی کمٹ منٹ ہے جبکہ ابھی صرف تین دن….“

”اپنے سارے پیسے مجھ سے واپس لے لینا لیکن تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جب میں کوئی فیصلہ کر لوں تو واپس نہیں ہٹتی مجھے آج اگر لاہور جانا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آج ہی، آج سے کل ہونا میرے لئے ناممکن ہے۔“ وہ تیزی سے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے بولی۔

”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے چلی جانا میں تمہیں نہیں روک رہا لیکن پہلے کچھ کھا تولو۔“ درانی نے بڑے پیار سے اسے کندھے سے تھامتے ہوئے کہا اور دل ربا کو ہمیشہ سے درانی کی یہ ہی عادت پسند تھی وہ زبردستی کرنے کا قائل نہ تھا اور پھر رات ہونے سے قبل وہ لاہور واپس آگئی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ مری میں اس کا دوبارہ سامنا آرزو یا زوار سے ہو وہ خود میں ان سے سامنا کرنے کی ہمت نہ پاتی تھی۔

QQQQ

الحمرا میں لگا اس کا ڈرامہ ”گجر بادشاہ“ بہت ہی کامیاب جا رہا تھا اس کے ہو شربا رقص نے تماشائیوں کے دل لوٹ لئے تھے میڈم روبی اس سے بہت خوش تھیں تقریباً دس دن کی مصروفیات کے بعد آج اس ڈرامہ کا وقفہ تھا دل ربا بہت تھک چکی تھی سارا دن ہی بے خبر سو کر گزار دیا جانے کب شام ہوئی کچھ پتا ہی نہ چلا آنکھ کھلی تو کمرے میں مکمل طور سے اندھیرا طاری تھا اور اس اندھیرے میں سیل فون کی آواز ایک عجیب ہی سماں پیش کر رہی تھی جو جانے کب سے بج رہا تھا۔

اس نے جب سے اسٹیج ڈراموں میں کام شروع کیا تھا مہر علی نے اس سے رابطہ ہی نہ رکھا تھا شروع میں تو ایک دو بار فون کرکے اس نے دل ربا کو منع بھی کرنے کی کوشش کی لیکن جب وہ باز نہ آئی تو وہ خاموشی سے کنارہ کش ہو گیا بغیر دیکھے ہی اس نے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا۔

”ہیلو۔“

”کہاں غائب ہو کب سے فون کر رہا ہوں۔“ دوسری جانب درانی تھا۔

مری سے واپسی کے بعد آج کئی دن کے بعد اس کا فون آیا تھا۔

”بس سو رہی تھی۔“ اس نے مختصر سا جواب دیا ابھی تک وہ اس رات کے اپنے جذباتی پن پر شرمندگی محسوس کر رہی تھی جانے درانی میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا یہ خیال اکثر ہی اسے جی بھر کر شرمندہ کرتا۔

”مجھ سے شادی کرو گی۔“ درانی کا سوال اتنا اچانک تھا کہ وہ ایک سکینڈ کےلئے شاکڈ ہی رہ گئی۔

”یہ یقینا مجھ سے مذاق کر رہا ہے۔“ اس سوچ نے اسے مزید شرمندہ کیا۔

”دیکھو درانی اس رات میں….“

”کوئی وضاحت نہیں صرف ہاں یا نہ جلدی بولو میں ایک گھنٹے تک تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں لیکن صرف اس صورت میں جب تمہارا جواب ہاں میں ہو۔“ وہ اس کی بات کاٹ کر تیزی سے بولا۔

”ٹھیک ہے آجاﺅ۔“ اسے صرف ایک پل لگا اور فیصلہ ہو گیا اور اسی رات اپنے وعدے کے مطابق درانی نے اس سے نکاح کر لیا بے شک یہ ایک مکمل طور پر خفیہ شادی تھی لیکن اس کیلئے اتنا ہی کافی تھا باقر درانی نے اس رات کی اس کی جذباتی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کی بات کو اہمیت دے کر اسے ”مسز باقر درانی“ کا اعزاز بخشا۔

باقر چاہتا تھا کہ وہ اب ڈراموں میں کام نہ کرے لیکن چونکہ اس نے کچھ ڈراموں کا ایڈوانس لے کر ایگریمنٹ سائن کر رکھے تھے اس لئے ان میں کام کرنا ضروری تھا اور ویسے بھی میڈم روبی نے جس طرح اس کا ساتھ دیا تھا اس کیلئے لازم تھا کہ وہ بھی ایک حد تک اس کا ساتھ دے اور آہستہ آہستہ ڈرامے چھوڑے باقر اسے اپنے ساتھ لے کر ہنی مون منانے بنکاک لے گیا جہاں سے واپس آتے ہی باقر نے اسے ایک پوش ایریے میں فرنشڈ فلیٹ خرید کر دیا اس فلیٹ کے تمام ضروری کاغذات اس کے حوالے کرتے ہوئے باقر کی صرف ایک ہی شرط تھی کہ اس فلیٹ میں باقر کے علاوہ کوئی دوسرا شخص دل ربا سے ملنے نہ آئے اور اس وقت جو دل ربا کی کیفیت تھی اس کے سبب اس کے پاس کسی بھی بات سے انکار کی گنجائش ہی نہ تھی یہ ہی وجہ تھی کہ اس نے باقر کی اس شرط کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کیا ویسے بھی باقر کے ساتھ نے اسے بہت خوشی بخشی تھی۔

QQQQ

کچھ عرصہ بعد ہی زندگی پرانے ڈگری پر واپس آگئی پرانے ڈرامے ختم ہونے سے قبل ہی اس نے مزید نئے ڈرامے سائن کر لئے وہ جو کہتے ہیں کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تو دل ربا اس کی عملی تفسیر تھی ہر بار وہ دل میں تہہ کرتی کہ یہ اس کا آخری ڈرامہ ہے بس ایک آخری بار لیکن جلد ہی اپنا عہد توڑ کر نیا ڈرامہ سائن کر لیتی۔

شروع شروع کے جوش کے بعد درانی کا جذبہ محبت کافی حد تک ماند پڑ چکا تھا اس کی بیٹی کی منگنی ہو چکی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی کے سسرال تک کوئی ایسی خبر پہنچے جس کا اثر اس کی بیٹی کی آئندہ زندگی پر پڑے یہ ہی وجہ تھی کہ دل ربا سے ملنے میں وہ مزید محتاط ہو چکا تھا پھر آہستہ آہستہ اس نے دل ربا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اس کے شروع دنوں والا والہانہ پن تقریباً ختم ہو چکا تھا شاید اس طرح کی غلطیاں درانی جیسے مردوں کی زندگی کا حصہ تھیں جنہیں کرکے بھول جانا ان کی فطرت میں شامل تھا اب دل ربا صرف اس کی ضرورت بن کر رہ گئی تھی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے نے ایک فلیٹ کے عوض اس کی زندگی کو گروی رکھ لیا ہو اور اسی سوچ نے ایک دفعہ پھر اس کے دل میں بغاوت کے جذبے کو ابھار دیا یہ ہی وجہ تھی کہ جب کئی دنوں بعد باقر کو اس کی یاد آئی تو وہ سلگ ہی اٹھی وہ چاہتی تھی کہ جس طرح وہ اس کی دوری میں تڑپتی ہے باقر بھی تڑپے اور اس کی اسی سوچ کی بنا پر وہ سب کچھ ہو گیا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔

رات ہی باقر کا فون آیا تھا وہ تقریباً دو دن بعد لاہور اس سے ملنے آنے والا تھا اس کے فون نے دل ربا کو کوئی دلی مسرت نہ دی اور پھر اپنے ڈرامے کی مصروفیات میں وہ باقر کی آمد یکسر فراموش کر بیٹھی۔

QQQQ

”اب آپ ملاقات کا شرف کب بخشیں گی۔“ گاڑی سے باہر نکلتے نکلتے وہ حیدر کا سوال سن کر رک گئی اور ایک ادا سے اسکی جانب پلٹ کر دیکھا۔

”جب آپ چاہیں۔“

ہم تو چاہیں گے کہ آج کی ملاقات ہی کبھی ختم نہ ہو۔“ وہ ہنس کر بولا۔ وہ جاتے جاتے رک گئی۔

”سوچ لیں حیدر صاحب اگر آپ کی بیوی کو پتا چل گیا تو جانتے ہیں نا کیا ہو گا۔“ کھنکتے لہجے میں اس کو وارن کرتی وہ داخلی گیٹ کی جانب بڑھ گئی جبکہ حیدر اس وقت تک کھڑا اسے دیکھتا رہا جب تک داخلی گیٹ سے اندر داخل ہو کر اس نے الوداعی ہاتھ نہ ہلایا پارکنگ عبور کرکے وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی تو اسے یکدم ہی باقر یاد آگیا۔

”آج جب نور محمد نے واپس جا کر میرے نہ آنے کی اطلاع دی ہو گی تو کس قدر تڑپا ہو گا۔“ یہ تصور ہی دل ربا کےلئے بڑا خوش کن تھا باقر کی بے چینی کے تصور ہی نے اسے سرشار کر دیا۔

بڑی ترنگ سے اس نے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا اور پرس جھلاتی اندر داخل ہوئی تو سامنے صوفے پر بیٹھے باقر کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔

وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ باقر تمام احتیاط بالائے طاق رکھ کر اس کے فلیٹ تک آجائے گا اس نے ایک نظر باقر کی جانب دیکھا جو بلوریں گلاس ہاتھ میں لئے گھونٹ گھونٹ تلخ مشروب اپنے حلق سے نیچے اتار رہا تھا سامنے رکھی بوتل تقریباً خالی ہو چکی تھی۔

”اس کا مطلب ہے یہ کافی دیر سے آیا بیٹھا ہے۔“ وہ دل ہی دل میں سوچتی اسے یکسر نظر انداز کرتی اندر کمرے کی جانب بڑھی۔

”کہاں سے آرہی ہو؟“ باقر کی سخت آواز نے اس کے بڑھتے قدم روک دیئے۔

”تم سے مطلب۔“ وہ سخت چڑی ہوئی تھی، یہ ہی وجہ تھی کہ باقر کا استحقاق جتانا اسے ذرا اچھا نہ لگا۔

”مجھ سے مطلب نہیں، تو پھر کس سے مطلب ہو گا؟“ صوفے پر ہی بیٹھے بیٹھے وہ اس کا بھرپور جائزہ لیتا ہوا بولا۔

”اور یہ کون تھا جس کے ساتھ تم اتنی رات کو آئی ہو۔“ اس کا اشارہ یقینا حیدر کی جانب تھا۔

”میرا دوست۔“ جواب دے کر اس نے اندر کی جانب بڑھنا چاہا، لیکن ایک دم ہی باقر اس کے سامنے آگیا۔

”تمہیں پتا تھا آج میں نے آنا ہے، پھر کیوں گئیں کسی اور کے ساتھ ہاں بولو، جواب دو کیوں گئیں؟“ وہ اس کے بازو کو سختی سے تھام کر بولا۔

”میں تمہاری غلام نہیں ہوں، باقر کہ جب تمہارا دل چاہے تم میرے پاس آﺅ، یہ جانے بغیر کہ میرا دل کیا چاہتاہے میں جو دن رات تنہائی کی آگ میں سلگتی رہتی ہوں تمہیں احساس ہے اس بات کا تم سے نکاح کرکے تو میں اور اکیلی ہو گئی ہوں۔“ وہ غصے کی شدت سے پھٹ ہی پڑی اور چلا کر بولی۔

”یہ تم اکیلی ہو ابھی تو اپنے کسی یار کے ساتھ عیاشی کرکے آئی ہو۔“ اپنی عادت کے برخلاف وہ تیز آواز میں چیخا اس کی بڑھتی ہوئی طلب غصے کی شکل میں ظاہر ہو رہی تھی۔

”بکواس مت کرو تم اچھی طرح جانتے ہومیں اس طرح کے انداز گفتگو کی عادی نہیں ہوں۔“ جواباً وہ بھی دھاڑی۔

”اچھا ٹھیک ہے نہیں بکواس کرتا۔ چلو شاباش اندر آﺅ تم جانتی ہو میں تمہارے پاس اپنے سارے غم بھولنے آتا ہوں اسی لئے چاہتا ہوں کہ جب میں آﺅں تو صرف میرے لئے ہو صرف میرے لئے۔“ وہ اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتا قدرے نرم لہجے میں بولا لیکن جانے کیوں دل ربا کا دل اس کی قربت کے تصور سے ہی متلانے لگا یا شاید وہ تھکن سے نڈھال ہونے کے سبب باقر کی ضرورت پوری کرنے کی ہمت خود میں نہ پا رہی تھی۔ اسے باقر کی ایک ماہ کی غیر حاضری پربھی غصہ تھا اس نے دل ہی دل میں یہ عہد کر رکھا تھا کہ باقر کو ایک دفعہ کم از کم انکار ضرور کرے گی تاکہ اسے احساس ہو کہ ضرورت پوری نہ ہونا کس قدر تکلیف وہ امر ہوتا ہے۔

”تمہیں اپنی ضرورت کا بہت احساس ہے کبھی میری ضرورت کا سوچا ہے تم نے، اپنا پابند کرکے میری تمام ضروریات سے پردہ پوشی اختیار کر رکھی ہے۔“

”ہر مرد ایسا ہی ہوتا ہے، عورت کو اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے کب مرد اسے بلائے اور دیکھ لو آج میں صرف تمہارے لئے سب کچھ چھوڑ کر آیا ہوں اب وہ دو دن میں صرف اور صرف تمہارا ہوں۔“ وہ اسے کمرے کی جانب لے جاتا ہوا بولا۔

”وکی۔ وکی۔“ اس نے پوری شدت سے زور لگا کر خود کو باقر کی گرفت سے چھڑانے کی ایک اور کوشش کی۔

اس نے خود کو چھڑانے کیلئے باقر کو پیچھے کی جانب دھکا دیا نشے میں ہونے کے باعث باقر لڑکھڑا کر صوفے پر جا گرا اس کی شدت پسندی، غصے اور ضد نے باقر جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کے آدمی کو یکدم ہی غصہ دلا دیا اور وہ اپنا صبر و ضبط کھو بیٹھا اور غصے کی شدت سے اس پر پل پڑا دل ربا نے بھی اپنے بچاﺅ کیلئے اس کی کمر اور منہ پر ناخن مارے لیکن جو بھی تھا ایک عورت کسی بھی طرح مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی تو وہ ایک نرم و نازک عورت اور باقر ایک طاقتور مرد جو نشے میں ہونے کے باوجود اس پر حاوی ہو گیا اور اس وقت جب وہ نڈھال دل ربا کو سر کے بالوں سے گھسیٹتا ہوا کمرے کی جانب لے جا رہا تھا جانے کیسے دل ربا کے ہاتھ میں کارپٹ پر لڑھکی ہوئی شیشے کی بوتل آگئی جو اس نے کھینچ کر باقر کو مارنی چاہی باقر تو بچ گیا لیکن ٹوٹی ہوئی بوتل کا شیشہ پورے کارپٹ پر پھیل گیا اور ایک نوکیلا ٹکڑا اچانک ہی دل ربا کے پیٹ میں گھس گیا خون کا فوارہ ابل پڑا خون دیکھتے ہی باقر کے حواس ساتھ چھوڑ گئے وہ بوکھلاہٹ میں سب کچھ ویسے ہی چھوڑ کر باہر کی جانب بھاگا اور اگر کچھ دیر تک وکی واپس نہ آتا تو شاید خون کی زیادہ مقدار بہہ جانے کے سبب وہ مر ہی چکی ہوتی لیکن وکی کی بروقت آمد اس کی زندگی بچانے میں کافی مددگار ثابت ہوئی وکی گیارہ سالہ لڑکا تھا جو اس کے پاس بطور ملازم کام کرتا تھا۔ دل ربا کو خون میں نہایا دیکھ کر فوری طور پر وہ اپنے حواس کھو بیٹھا وہ جان چکا تھا کہ یہ سب کارروائی باقر صاحب کی ہے اس کیلئے اس وقت بڑا مسئلہ دل ربا کو ہسپتال پہچانے کا تھا۔

اس نے صرف ایک سکینڈ لگایا اور سب سے پہلے میڈم روبی کو اس حادثہ کو اطلاع دی میڈم روبی کے ساتھ ہی ایمبولینس بھی پہنچ گئی اسے فوری طبی امداد کیلئے ایمرجنسی پہنچایا گیا بے شک یہ پولیس کیس تھا لیکن میڈم کے تعلقات نے دل ربا اور وکی دونوں کی مشکلوں کو قدرے آسان کر دیا۔

QQQQ

سمرن ابھی ابھی حوریہ اور علی کو ہوم ورک کروا کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ اچانک بدحواس سی شہ پارا گھبرائی ہوئی اوپر آگئی اس کے ہاتھ میں ایک فلمی اخبار تھا سمرن جانتی تھی کہ اس کی ماں شام کے علاوہ، صبح شائع ہونے والے اخبارات کے بھی فلمی صفحات بڑے شوق سے پڑھتی تھی غیر شعوری طور پر وہ دل ربا سے متعلق کسی بھی خبر کی منتظر رہتی اور ایسے تمام اخبارات کو الماری میں چھپا کر رکھتی جن میں دل ربا کا نام بھی شائع ہوا ہو۔

”یہ دیکھو سمرن یہ اخبار میں کیا آیا ہے۔“ گھبراہٹ کے سبب وہ بول ہی نہ پا رہی تھی سمرن کو اس کی آواز رندھی ہوئی محسوس ہوئی۔

”کیا ہو گیا ہے امی آرام سے بیٹھیں۔“ سمرن نے اخبار ان کے ہاتھ سے لے لیا۔ ان کی حالت اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ معاملہ خاصا سیریس ہے ان کی آواز سن کر فاریہ بھابی اور تائی سادیہ بھی باہر نکل آئیں۔

”مشہور اسٹیج ڈانسر دل ربا اپنے فلیٹ پر شدید زخمی حالت میں پائی گئیں عام طور پر خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا اپنے کسی چاہنے والے سے جھگڑا ہوا ہے جس کی طرف سے کئے گئے تشدد نے انہیں اس حال تک پہنچایا ہے۔“

بے شک پچھلے کئی سالوں سے ان کا دل ربا سے کوئی تعلق نہ تھا پھر بھی انسانیت کے ناتے اس خبر نے سمرن اور فاریہ بھابی دونوں کو ہی لمحہ بھر کیلئے دکھی کر دیا۔

”ظاہر ہے جیسی کرنی ویسی بھری، برے کا انجام برا۔“ یہ تائی سادیہ تھیں جو ہمیشہ سے ہی دریہ کی آزاد خیالی کی سب سے زیادہ مخالف رہیں سمرن نے پلٹ کر خاموشی سے انہیں اندر جاتے دیکھا اور خود شہ پارا کے قریب بیٹھ گئی جو گھٹنوں میں سر دیئے رو رہی تھی۔

”خاموش ہو جائیں امی اللہ بہتر کرے گا۔“ ظاہر ہے وہ صرف تسلی ہی دے سکتی تھی اس کے تسلی آمیز الفاظ سنتے ہی شہ پارا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

”میری بچی جانے کس حال میں ہو گی تنہا، بالکل اکیلی۔“ روتے روتے اچانک ہی اس نے سمرن کے ہاتھ تھام لئے۔

”خدا کیلئے سمرن مجھے اس کے پاس لے چلو میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔“

”میں….“ سمرن گھبرا اٹھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ گھر کا کوئی بھی فرد اسے اکیلے شہ پارا کے ساتھ لاہور نہ جانے دے گا ویسے بھی اس نے خود بھی کبھی اتنا سفر اکیلے طے نہ کیا تھا۔

”آپ جانتی ہیں مجھے شاہ ویز کبھی نہیں جانے دیں گے۔“

”شاہ ویز سے میں خود بات کر لوں گی بس تم ہاں کرو۔“ وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔

”ٹھیک ہے آپ بات کرکے دیکھ لیں۔“ اور پھر اس کا خدشہ درست ثابت ہوا شاہ ویز ساری بات سنتے ہی بھڑک اٹھا۔

”سمرن تو کیا گھر کا کوئی فرد بھی اسے دیکھنے لاہور نہیں جائے گا۔“ اس نے حتمی انداز میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔

”بیمار کی عیادت عین ثواب ہے وہ جیسی بری سہی، تھی تو ہمارا خون سمرن تم تیاری کرو شہ پارا کے ساتھ جانے کی میں ابھی تم دونوں کے ٹکٹ منگوا دیتا ہوں بلکہ میرا خیال ہے کہ شاہ ویز تم بھی ان کے ساتھ چلے جاﺅ۔“ تایا جی کے فیصلے نے پل بھر کو سب ہی کو حیران کر دیا اور شاہ ویز جس نے اپنے گھر کے کسی بھی فرد کو کبھی دریہ سے ہمدردی کرتے نہ دیکھا تھا اپنے باپ کی بات سن کر ساکت ہی رہ گیا۔

”دیکھو بیٹا ہم کون ہوتے ہیں کسی کے گناہ پر اسے سزا دینے والے، سزا اور جزا کا اختیار تو صرف اس کو ہے جو سب کا خالق و مالک ہے۔“ وہ اٹھ کر شاہ ویز کے قریب آگئے اور بڑی شفقت سے اس کے دائیں کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔

”تمہاری نفرت بجا سہی لیکن یہ یاد رکھو جب اللہ اپنے بندوں کے بڑے سے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے تو پھر ہمیں بھی دلوں میں بغض اور کینہ رکھنے سے پرہیز کرنا چاہئے وہ اچھی ہے یا بری اس بات کا فیصلہ کرنا ہمارا تمہارا کام نہیں ہے۔“

اور اب شاہ ویز کے پاس انکار کی گنجائش بالکل نہ تھی رات ہی ان کے ٹکٹ آگئے اگلے دن صبح آٹھ بجے کی ان کی فلائٹ تھی ہسپتال کا نام اخبار میں درج تھا جسے سمرن نے نوٹ کر لیا اور اگلے ہی دن وہ تینوں اس ہسپتال پہنچ گئے جہاں دریہ ایڈمٹ تھی۔

QQQQ

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے