سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری…قسط نمبر14

ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری…قسط نمبر14

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر14

اگلی صبح چاروں لڑکیاں ایک ایک کیمرہ مین کے سمیت اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکی تھیں…. الحان اپنے گھر نہیں گیا تھا…. وہ ایک کیمرہ مین سمیت ایک بار پھر سے دی ڈورچیسٹر ہوٹل جا ٹھہرا تھا….

مانہ اپنے اپارٹمنٹ کا لاک کھولتی، اندر داخل ہوئی…. اس نے ایک اُداس سی نگاہ اپنے اپارٹمنٹ پر دوڑائی…. پھر اس نے پیچھے ہٹتے ہی، کیمرہ مین کو اندر آنے کا راستہ دیا…. کیمرہ مین اپنے کیمرے سمیت صوفے پر جا بیٹھا…. مانہ کچن میں چلی آئی…. اس نے ایک گلاس میں پانی ڈالا اور کیمرہ مین کے سامنے بڑھا دیا…. مانہ اب اس کے سامنے والے صوفہ پر براجمان تھی….

”میں کس سے ملواﺅں گی الحان کو؟ کون ہے میرا، جو آ کر الحان سے ملے گا؟“

وہ من ہی من میں ہمکلام ہوئی…. اس کی آنکھوں میں ویرانی تھی….

”آپ کے گھر والے نظر نہیں آ رہے؟“

کیمرہ مین نے گلاس ٹیبل پر رکھتے ہی پوچھا….

”وہ یہاں نہیں ہیں….“

مانہ نے سرسری سا جواب دیا

”آپ انہیں انوائٹ نہیں کریں گی؟“

وہ حیرانی سے پوچھنے لگا…. مانہ خاموش رہی…. پھر دھیمے سے بولی….

”نہیں!“

کیمرہ مین حیران ہوا…. پھر اپنے کندھے اُچکاتااٹھ کھڑاہوا….

”کیا میں آپ کے گھر کی ریکارڈنگ کر سکتا ہوں؟“

اس نے پوچھا….

”شیور!“

مانہ دھیمے لہجے سے بولتی، کندھے اُچکا کر رہ گئی….

کیمرہ مین ریکارڈنگ کرتا ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں داخل ہونے لگا…. مانہ نے کریڈل پر سے ریسیور اٹھایا اور نمبر ڈائل کیا…. دوسری ہی بیل پر کال ریسیو کر لی گئی….

”زرین Hi! کیسی ہو؟“

زرین کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی…. دوسری جانب زرین، شاپنگ بیگز گاڑی میں رکھتی خوشگوار لہجے میں گویا ہوئی….

”مانہ! ایک دن کے لیے گئی تھیں تم…. دو مہینے ہو چلے ہیں…. کیسی ہو میری جان؟ سب ٹھیک ٹھاک ہے ناں؟“

”ہاںٹھیک ہوں…. سب ٹھیک ہے…. تم مجھ سے ملنے آ سکتی ہو؟“

”مانہ! میں اس وقت برمنگھم میں ہوں…. میری کزن کی شادی ہے…. ہم لوگ کل ہی یہاں آئے ہیں…. ایک ہفتہ یہیں رکنے والے ہیں…. ایک منٹ، ایک منٹ، ایک منٹ….“

اس نے کچھ یاد آتے ہی حیرانگی کا مظاہرہ کیا….

”تم ایلیمنیٹ ہو گئیں؟“

”نہیں….“

”تو پھر؟“

مانہ چند ثانیے خاموش رہی…. پھر بولی….

”ایک ٹاسک سمجھ لو…. چار فائنلسٹ اپنی اپنی فیملیز سے ملوائیں گی الحان کو….“

”اوہ….“

زرین سوچ میں پڑ گئی….

”الحان نے کب وزٹ کرنا ہے تمہیں؟“

”شاید کل یا پھر پرسوں…. ابھی اطلاع نہیں ملی….“

”میں آ جاتی ہوں مانہ…. ڈونٹ وری!“

”نہیں نہیں، تم نہیں آﺅ…. میں سب سنبھال لوں گی….“

”مانہ!“

”اٹس اوکے زرین! میں سچ میں سنبھال لوں گی…. تم اپنی کزن کی شادی انجوائے کرو…. اچھا یہ بتاو…. لاسٹ پبلشنگ کا رسپانس کیسا رہا؟“

وہ اپنی بک کے حوالے سے بات کرنے لگی…. زرین مسکرادی….

”سپرب…. تم یقین نہیں کرو گی مانہ! 2000 کاپیز ایک ہی دن میں سیل ہو گئیں….“

”رئیلی؟“

مانہ کو اچنبھہ ہوا….

”ہاں میری جان!…. سچ میں…. تمہارے ناولز کی دھوم تو اب دور دور تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے…. سبھی لوگ بہت پسند کر رہے ہیں تمہارا ناول….“

زرین نے خوشی کا اظہار کیا…. مانہ ہلکے سے مسکرا دی….

”شکر ہے اللہ کا!….“

”اچھا یہ بتاﺅ…. تم اب الحان سے کیا کہو گی؟“

”کس بارے میں؟“

”فیملی کے بارے میں، افکورس!“

”دیکھو کیا ہوتا ہے…. بہرحال میں مینیج کر لوں گی…. ڈونٹ وری…. اور ہاں! آنٹی انکل کو میرا سلام دینا….“

”ضرور!“

”چلو تم انجوائے کرو…. تم آ جاﺅ گی تو ملاقات کریں گے….“

”ان شاءاللہ!“

”ان شاءاللہ!…. ٹیک کیئر….“

”یُو ٹو!“

”اللہ حافظ!“

”اللہ حافط!“

ریسیور کریڈل پر رکھتے ہی وہ لمبی سانس کھینچتی،کچن میں چلی آئی…. وہ لنچ بنانے میں مصروف تھی کہ ارسلان (کیمرہ مین) کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی….

”اوکے میڈم! مجھے اب اجازت دیں….“

”کیوں؟“

مانہ حیرانی سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”جتنی ریکارڈنگ ہو سکتی تھی…. وہ میں نے کر لی…. آپ کے گھر والے یہاں موجود نہیں…. ورنہ ان سب کا انٹرویو کر لیتا….“

اس نے گھر پر نگاہ دوڑاتے ہی اپنا کیمرہ سنبھالا…. مانہ خاموش ہو کھڑی ہوئی….

”ہاں….ابھی مجھے کال پر بتایا گیا کہ الحان آپ کے یہاں پرسوں وزٹ کرنے آئیں گے…. تو پھر میں بھی اب پرسوں ہی حاضری دوں گا…. اجازت دیجیے….“

وہ جانے لگا….

”میں لنچ بنا رہی تھی….“

مانہ نے پیچھے سے آواز لگائی…. وہ پلٹ کر کھڑا ہوا….

”تھینک یُو میڈم! فی الحال مجھے طلب نہیں…. چلتا ہوں…. اللہ حافظ!“

”اللہ حافظ!“

وہ جا چکا تھا…. مانہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازے کو اندر سے لاک لگا دیا…. دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی اب وہ کچھ سوچتے سوچتے لب بھینچ کھڑی ہوئی تھی….

ض……..ض……..ض

اگلے دن الحان سب سے پہلے مسکان کے یہاں گیا…. کیمرہ مین الحان کی تیاری سے لے کراس کی ڈرائیونگ کے دوران تک ریکارڈنگ کرتا رہا…. الحان فل بوریت سے تیار ہوا تھا…. لیکن بظاہر چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ مسکان کے گھر کے باہر گاڑی روکتا، گاڑی سے باہر نکل آیا…. مسکان اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی، بے چینی سے اس کا انتظار کرتی دکھائی دی…. مسکان کا کیمرہ مین بھی ریکارڈنگ میں مصروف تھا…. الحان چہرے پر مسکان سجائے آگے بڑھا….

"Hi !”

"Hi !”

الحان نے مصنوعی خوشی کا اظہار کیا….

”میری فیملی سے ملنے کے لیے تیار ہو؟“

مسکان نے شرارت سے پوچھا…. الحان کندھے اُچکا کر رہ گیا….

”یس!“

”اوکے…. کم!“

وہ الحان کا ہاتھ تھامتی، دونوں کیمرہ مین سمیت گھر کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گئی…. الحان اچٹتی نگاہ اس کے گھر کے در و دیوار پر دوڑاتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا…. ڈرائنگ روم میں پہنچتے ہی الحان یکایک چونک اٹھا….

”الحان! یہ ہیں میرے بھائی…. دانش، عمیر، حمزہ، دانیال، عادل، زبیر، رضوان اور یہ رضا!“

مسکان نے خوشی خوشی اپنے آٹھ ہٹے کٹے،باڈی بلڈر، بھائیوں کا تعارف کرایا….“

”یہ میرے اماں ابا اور اماں ابا، بھائی! یہ ہے الحان ابراہیم!“

مسکان بے حد شاداں تھی…. الحان کا حلق خشک ہونے کو آیا تھا…. مسکان کے آٹھوں بھائی اپنی جسامت کے بنا پر اچھے خاصے مضبوط اور وحشی دکھائی دیتے تھے…. الحان خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتا،اپنے ساتھ موجود ان دونوں سوکھے کانگڑی کیمرہ مین کی جانب دیکھنے لگا….

"Hi!”

بمشکل وہ بول پایا….

”بیٹھو بیٹا!“

مسکان کے ابا حضور نے اس کے لیے جگہ بنائی…. وہ گلا کھنگارتا، مسکان کے بھائیوں کی گھورتی نگاہوں کواگنور کرتا،اس کے ابا جان کے برابر میں براجمان ہو گیا…. سبھی لوگ باتوں میں مشغول ہو گئے…. کیمرہ مین اپنا کام کرتے رہے…. الحان بظاہر مسکراتا ان کے سوالوں کے جواب دیتا رہا…. پھر لنچ کرنے کے بعد وہ سب کو بائے بولتا…. دل ہی دل میں شکر ادا کرتا گھر کے مین دروازے تک چلا آیا….

”الحان! یہ چار گھنٹے کتنی جلدی بیت گئے ناں؟….“

مسکان افسردگی سے بولی….

”مجھے تو لگتا ہے کہ جیسے میں 40 سال بعد کسی جیل سے رہا ہو کرباہر نکل رہا ہوں….“

الحان نے دل ہی دل میں سوچا…. بظاہر وہ مسکرا دیا….

”ہوں….“

وہ اثبات میں سر ہلانے لگا تھا….

”چلو Ranch میں ملاقات ہو گی تم سے…. اپنا خیال رکھنا…. اللہ حافظ!“

الحان جلد از جلد وہاں سے کھسکنے کو بیقرار تھا…. مسکان بدستور افسردہ دکھائی دی…. الحان مسکراتا ہوا کار میں آ بیٹھا…. دونوں کیمرہ مین الحان کے ساتھ کار میں سوار ہو چکے تھے….

”بائے الحان!“

مسکان نے دروازے پر کھڑے کھڑے آواز لگائی…. الحان ہلکے سے مسکراتا…. ہاتھ کے اشارے سے بائے بولتا کار سٹارٹ کرتے ہی راہِ فرار کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا….

ض……..ض……..ض

ہوٹل میں ایک گھنٹہ کے ریسٹ کے بعد وہ ایک بار پھر سے نک سک سا تیار ہوا تائبہ کے گھر جا پہنچا…. کیمرہ مین اس کے ساتھ تھا…. اور تائبہ کا کیمرہ مین الگ ریکارڈنگ میں مصروف دکھائی دیا…. تائبہ اسے خوشی خوشی ریسیو کرتی گھر کے اندرونی حصہ میں چلی آئی…. تائبہ کے دادا، دادی لاﺅنج میں بیٹھے الحان کا انتظار کرتے دکھائی دئیے تھے…. وہ دونوں بے حد ضعیف تھے….

”دو سال پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ میں میرے پیرنٹس کی ڈیتھ ہو گئی…. تب سے میں اپنے دادا، دادی کے ساتھ رہتی ہوں….“

تائبہ نے افسردگی سے بتایا…. الحان بھی تاسف کا اظہار کرتا دادا، دادی کی جانب دیکھنے لگا….

”تم دونوں کی ملاقات کہاں پر ہوئی بیٹا؟“

تائبہ کی دادی، اپنے موٹے شیشے والے چشمے سے الحان کو دیکھتیں،کانپتی آواز میں گویا ہوئیں….

”ایک شو میں…. رئیلٹی شو میں!“

الحان نے جلدی سے جواب دیا….

”کیسا شو؟‘

وہ کانپتی آوازمیں انکوائری کرنے لگیں….

”رئیلٹی شو دادی جی!“

الحان نے پھر سے دہرایا…. سوالات کا سلسلہ چلتا رہا…. تائبہ دبی دبی ہنسی ہنستی ڈنر کی تیاری میں جا لگی…. اللہ اللہ کرتے وہ ڈنر کے اختتام پر، وہاں سے بھی فرار ہو گیا….

”اب ایک اور محترمہ رہ گئی ہیں…. آشلے…. ایک بار پھر سے تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے مجھے…. اچھی طرح اپنا موڈ خراب کرنے کے بعد اپنی مانو کے یہاں جاﺅں گا…. اسے دیکھتے ہی موڈ اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا…. اسی لیے مانو کو سب سے آخر میں وزٹ کرنے کا پلان بنایا تھا…. تاکہ اس سے ملنے کے بعد میرا موڈ پھر سے خراب نہ ہو….“

وہ دل ہی دل میں سوچتا، لندن کی کھلی صاف شفاف سڑک پر گاڑی دوڑاتا ہوٹل کی جانب روانہ ہو گیا….

ض……..ض……..ض

الحان، آج رات کا ڈنر، مانہ کے یہاں کرنے والا تھا…. اسے اچھے سے ڈنر کی تیاری کرنا تھی…. تبھی وہ گروسری کے لیے مارکیٹ چلی آئی…. ڈنر کے بعد، چائے کے ساتھ پیش کیے جانے والے بسکٹ سلیکٹ کرتی وہ باقی چیزوں پر نگاہ دوڑانے لگی….

”وہ دیکھو مانہ!“

اسے عقب سے کسی عورت کی آواز سنائی دی…. وہ پلٹ کر عقب سے اُبھرتی آواز کی سمت دیکھنے لگی…. دو ماں، بیٹی، ایک ساتھ کھڑی اسے خوشی کا اظہار کرتیں، اپنی جانب بڑھتی دکھائی دیں…. اسے لگا کہ شاید وہ دونوں اس کے مصنفہ ہونے کی حیثیت سے اسے پہچانتی، اس کے قریب چلی آ رہی ہیں….

”Hi مانو!“

عورت نے خوشی کا اظہار کیا…. مانہ (مانو) پکارے جانے پر یکایک چونک اٹھی…. پھر دھیمے سے مسکرا دی….

"Hi!”

اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا….

”الحان کہاں ہے؟“

وہ دونوں متلاشی نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھنے لگیں….

”کل کے ایپی سوڈ الحان نے مسکان اور تائبہ کو وزٹ کیا تھا…. آج وہ تمہیں وزٹ کرنے والا تھا ناں؟“

وہ لڑکی پوچھنے لگی…. مانہ خاموش ہو کھڑی ہوئی….

”اوہ…. لگتا ہے پہلے وہ آشلے کو وزٹ کرنے گیا ہے….“

اس لڑکی نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا….

”ایکسکیوزمی!“

مانہ ایکسکیوز کرتی، جلدی سے آگے بڑھ گئی….

”ارے…. بات تو سنو!“

وہ دونوں ماں بیٹی حیرانگی سے اسے دور جاتا دیکھتی رہیں….

ض……..ض……..ض

الحان، آشلے کے گھر پر موجود تھا…. آشلے کے موم، ڈیڈ اور دونوں چھوٹی بہنیں الحان کو گھیرے اس سے باتیں کرنے میں مشغول تھیں…. آشلے نک سک سی تیار ہوئی اس طرح سے الحان کے ساتھ براجمان تھی جیسے کہ الحان اسی کی ملکیت تھی….

”آﺅ الحان! میں تہیں اپنا گھر دکھاتی ہوں….“

آشلے ایک ادا سے اٹھتی، دھیمے لہجے میں بولتی الحان سے مخاطب ہوئی….

”شیور!“

الحان انگلش میں ہی اسے جواب دیتا، اس کے قدم سے قدم ملاتا اس کے گھرکا وزٹ کرنے لگا…. آشلے کا گھر، مسکان اور تائبہ کے گھر کی بہ نسبت اچھی جگہ پر اورخاصی اچھی ڈیکوریشن کی ملکیت کا حامل تھا…. الحان خاموشی سے اس کے ساتھ ساتھ چلتا گھر پر نگاہ دوڑاتے ساتھ ہی چپکے سے اپنی کلائی میں بندھی مہنگی گھڑی پر نگاہ دوڑاتا…. آشلے اب اسے لیے اپنے کمرے میں چلی آئی…. کیمرہ مین ساتھ ساتھ چلتا ریکارڈنگ میں مصروف تھا….

”یہ میرا کمرہ ہے….“

اس نے خوشی کا اظہار کیا…. الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرا دیا….

”نائس!“

”اچھا یہاں بیٹھو…. میں تمہیں اپنی خاص البم دکھاتی ہوں….“

آشلے نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا…. اور جلدی سے چلتی وارڈروب کی جانب قدم بڑھانے لگی…. وہ اب ایک بڑی سی خوبصورت البم تھامے، الحان کے برابر والی کرسی پر آ بیٹھی….

”یہ تب کی تصویر ہے…. جب میں سات سال کی عمر میں اپنے سکول میں منعقد کی جانے والی ماڈلنگ میں اول ایوارڈ جیتی تھی….“

وہ خوشی سے ایک تصویر پر انگلی جمائے اس تصویر کی ہسٹری بتانے لگی…. الحان دھیمے سے مسکرا دیا…. تقریباً آدھ گھنٹہ تک تصویروں کا سلسلہ چلتا رہا…. الحان اُکتا گیا…. آشلے مسلسل اپنی تعریف کیے چلی جا رہی تھی…. الحان نے لمبی سانس کھینچی….

”لنچ ریڈی ہے؟“

الحان نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا…. وہ اب جلد از جلد یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا…. آشلے بے باکی سے قہقہہ لگانے لگی…. الحان پھنکار کر رہ گیا…. اسے اس طرح سے قہقہہ لگانے والی لڑکیوں سے سخت قسم کی الرجی تھی….

”ہاں ریڈی ہے…. بس ابھی چلتے ہیں لنچ کے لیے…. اچھا یہ دیکھو…. یہ میرا سب سے پہلا بوائے فرینڈ جارڈن…. ہماری دوستی دو سال تک رہی…. پھر جارڈن عجیب سا بی ہیو کرنے لگا…. اور معلوم ہے…. ایک دن تو اس نے حد ہی پار کر دی…. وہ مجھ پر چلّایا…. مجھے ایسے مردوں سے سخت قسم کی نفرت ہے…. جو عورتوں پر چلاّتے ہیں….“

آشلے اپنے پہلے بوائے فرینڈ کی تصویر پر انگلی رکھتی غصہ میں پھنکارنے لگی…. الحان دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”کیوں؟ وہ تم پر کیوں چلاّیا؟“

اس نے پوچھا….

”یار! وہ شادی کی ڈیمانڈ کر رہا تھا…. میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی…. میں نے انکار کر دیا…. اور وہ ایک دم مجھ پر چلاّنے لگا…. بس وہ دن تھا…. اور آج کا دن ہے…. میں نے دوبارہ اس کی شکل تک نہیں دیکھی….“

وہ منہ بسور بیٹھی….

”لکی ہے جارڈن…. بچ گیا بیچارہ!“

الحان نے من ہی من میں سوچا…. آشلے اٹھ کھڑی ہوئی….

”چلو لنچ کرتے ہیں….“

الحان نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا…. وہ دونوں کیمرہ مین سمیت کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں چلے آئے…. لنچ واقعی تیار تھا…. آشلے کی پوری فیملی اپنی اپنی کرسی سنبھالے انہی دونوں کی راہ تکتی پائی گئی…. الحان اپنی ایک کرسی سنبھال بیٹھا…. لنچ سے فری ہوتے ہی وہ واپس جانے کے لیے اٹھ کھڑاہوا….

”الحان! تمہیں میں ایک کمرہ تو دکھانا ہی بھول گئی…. میرا وہ کمرہ جہاں میں نے اپنا بچپن کھیلتے کھیلتے گزارا….“

آشلے نے بم بلاسٹ کیا…. الحان لمبی سانس کھینچتا تحمل کا مظاہرہ کرنے لگا….

”نہیں آشلے! ٹائم کی کمی ہے…. میری طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں…. آئی ایم سوری…. پلیزڈونٹ مائنڈ!“

الحان کے ایکسکیوز کرنے پر وہ منہ بسور کھڑی ہوئی….

”بہترین لنچ کے لیے شکریہ!“

الحان اب اس کی فیملی سے مخاطب تھا…. وہ سبھی مسکرانے لگے….

”اوکے…. سی یو…. بائے….“

”بائے!“

الحان آنکھیں پھیلاتا، لمبی سکون بھری سانس کھینچتا پورچ میں چلا آیا…. کار میں بیٹھتے ہی اس نے کار سڑک کی جانب دوڑائی….

”اُف…. جان چھوٹ گئی….“

اس نے دل ہی دل میں ہمکلامی کی…. اب وہ سکون کی سانس لیتا، چہرے پر پُرسکون مسکراہٹ بکھیرے، پُرسکون اندازمیں گاڑی ڈرائیو کرنے لگا….

ض……..ض……..ض

ہوٹل پہنچتے ہی اس نے بنا ریسٹ کیے وارڈروب کا جائزہ لیا…. سات سے آٹھ جوڑے ریجیکٹ کرتا وہ اینڈ میں بلیک شرٹ اور گرے پینٹ ہاتھ میں لیے شیشے کے سامنے آ کھڑا ہوا…. آئینے میں اپنا عکس دیکھتا وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرادیا…. جلدی سے وہ چینجنگ روم میں گیا…. کپڑے چینج کرتا، آئینے میں اپنی فائنل لُک دیکھتا، وہ دلنشین مسکراہٹ لبوں پر سجائے ٹیبل پر سے والٹ، موبائل اور کار کی چابی اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا…. دوسری جانب مانہ، ڈنر کی تیاری کے لیے کچن میں کھڑی مصروف انداز میں ڈنر کی تیاری میں لگی تھی کہ اپارٹمنٹ کی بجتی اطلاعی بیل نے اس کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی…. اس نے پلٹ کر دیکھا اور پھر جلدی سے چلتی دروازے تک آئی….

”کون؟“

”ارسلان!“

کیمرہ مین نے بند دروازے کے پیچھے سے آوازلگائی…. مانہ نے جلدی سے دروازہ کھول دیا…. کیمرہ مین کیمرہ ہاتھ میں تھامے، اس کی رف حالت اور ملگجی کپڑوں کی جانب دیکھنے لگا….

”میڈم! وہ لوگ نکل چکے ہیں…. کسی بھی ٹائم یہاں پر پہنچتے ہوں گے…. آپ چینج کر لیجیے….“

”ہاں…. بس کھانا بھی تقریباً تیار ہے…. میں کر لیتی ہوں….“

مانہ مصروف انداز میں بولتی، چلتی ہوئی کچن تک آئی…. کھانے پر فائنل نگاہ دوڑاتی وہ اپنے کمرے میں داخل ہو گئی…. تقریباً آدھ گھنٹہ بعد وہ شاور لے کر، بلیک ٹائٹس پر بلیک لانگ شرٹ پہنتی، شیشے میں اپنا جائزہ لینے لگی…. بال سنوارنے کے بعد وہ شفون کا دوپٹہ گلے میں ڈالتی سٹنگ روم میں چلی آئی…. وہ ابھی صوفہ پر بیٹھی ہی تھی کہ گھر کی اطلاعی بیل بج اٹھی…. مانہ اُچھل کرکھڑی ہوئی…. اس کا دل زوروں سے دھڑکتا محسوس ہوا…. اس کا حلق خشک ہوا چاہتا تھا….

”میں دیکھتا ہوں….“

ارسلان اٹھ کر دروازے تک پہنچا…. تھوری ہی دیر بعد وہ ایک انویلپ ہاتھ میں تھامے واپس چلا آیا۔

”یہ کوئی چٹھی ہے شاید….!“

ارسلان اس انویلپ کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا…. مانہ کے ہاتھ میں انویلپ تھماتا وہ واپس صوفہ پر جا بیٹھا…. مانہ انویلپ کھولتی، اندر سے ایک لیٹر نکال کر، اپنا چشمہ درست کرتی اس لیٹر پر نظریں دوڑانے لگی….

”پبلشر کا لیٹر ہے….“

منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہ لیٹر سائیڈ پر رکھتی ایک بار پھر سے خود کو نارمل پوز کرنے کی غرض سے ایک گہری لمبی سانس کھینچنے لگی….

ض……..ض……..ض

الحان نے راستے میں رک کر، ایک بہت خوبصورت، بڑا سا بکے خریدا…. وہ بہت خوش اور ایکسائیٹڈ دکھائی دے رہا تھا…. بلڈنگ کے پارکنگ ایریا میں کار روکتا…. وہ بکے سنبھالتا، کیمرہ مین سمیت، کار سے باہر نکلا…. اس نے نظر اٹھا کر، بلڈنگ پر نظر دوڑائی…. بلڈنگ کافی پرانی معلوم ہوتی تھی ، لیکن پھر بھی صاف ستھری دکھائی دیتی تھی…. وہ ریکارڈنگ کرتے کیمرہ مین سمیت بلڈنگ کی جانب بڑھا….

”وہ دیکھو الحان ابراہیم!“

ایک سترہ سالہ لڑکی نے الحان پر نظر پڑتے ہی چلاتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا…. الحان اس کی جانب دیکھتا ہلکے سے مسکرا دیا…. لڑکی کی آوازپر، وہاں موجود سبھی لوگ الحان کی جانب متوجہ ہو کھڑے ہوئے…. وہ سبھی لوگ خوشی کا اظہار کرتے الحان کو اپنے گھراﺅ میں لینے لگے…. کیمرہ مین اور وہاں پر موجود مقامی گارڈز نے آگے بڑھ کر الحان کا بچ نکلنے کا راستہ بنایا…. ایک ہی لمحے میں وہاں ڈھیر سا ہجوم اکٹھا ہو کھڑا ہوا…. ایسا معلوم پڑتا تھا کہ جیسے پوری بلڈنگ میں بستے لوگ ایک دم سے باہر نکل آئے ہوں…. الحان ہجوم سے باہر نکلتا، لمبی سانس کھینچتا، حیران کن نگاہوں سے ہجوم کی جانب دیکھنے لگا….

”سر! اس طرف جانا ہے….“

کیمرہ مین نے موبائل پر ارسلان سے اپارٹمنٹ کا راستہ پوچھا تھا…. وہ اب اشارہ کرتا الحان سے مخاطب تھا…. دوسری جانب ارسلان چوکنا ہو کھڑا ہوا….

”وہ لوگ آ گئے….“

مانہ کا گلا خشک ہونے لگا…. نجانے وہ اتنا گھبرا کیوں رہی تھی…. چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اُڑستی، شہادت کی انگلی سے اپنا چشمہ ناک پرٹکاتی وہ اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی…. دروازے پر کسی نے دستک دی…. اسے لگاجیسے اس پل اس کا دل دھڑکنا بند ہو جائے گا…. گلا کھنگارتی وہ لمبا سانس کھینچتی، اٹھ کھڑی ہوئی…. دروازے کا پٹ نہایت مو ¿دبانہ انداز میں آہستگی سے وا ہوا…. الحان نہایت آہستگی اور مہذبانہ انداز میں بکے تھامے اندر داخل ہوا…. مانہ اپنے خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی، اندر داخل ہوتے الحان کی جانب بڑھی….

"Hi !”

نظریں ملتے ہی الحان کا دل بے قابو ہو گیا…. اسے لگا جیسے اس کا دل سینے سے اُچھل کر باہر نکل آئے گا…. بکے اس کی جانب بڑھاتا وہ پسندیدگی کی نگاہ سے سر تا پا اس کا جائزہ لینے لگا….

"Hi !”

مانہ کی زبان بمشکل ہل پائی…. بکے تھامتی وہ الحان کے ساتھ آئے ریکارڈنگ کرتے کیمرہ مین پر نگاہ دوڑانے لگی….

”آئیے!“

صوفہ کی جانب اشارہ کرتی وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی…. الحان اس پر سے نگاہ نہیں ہٹا پا رہا تھا…. اس نے پہلی بار مانہ کو اس ڈریسنگ میں ملبوس دیکھا تھا…. اور وہ اسے یقینا پسند بھی آئی تھی…. تبھی وہ ٹکر ٹکر، بنا نظر ہٹائے، کھوئے کھوئے عالم میں اس کی جانب دیکھتا چلا گیا…. مانہ اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکی…. نظریں جھکاتی وہ گلا کھنگارنے لگی…. الحان ہوش میں آیا…. پھر اردگرد نگاہ دوڑاتا وہ صوفہ پر براجمان ہوا…. مانہ اس کے سامنے والے صوفے پر جا بیٹھی…. دونوں کیمرہ مین ریکارڈنگ کرتے دکھائی دئیے….

”سو؟“

الحان نے اپنی زبان کھولی….

”میں پانی لاﺅں؟ شربت، کولڈ ڈرنک، چائے، کافی؟“

وہ ایک سانس میں بولتی چلی گئی….

”کچھ بھی نہیں…. آئی ایم اوکے….“

مانہ بکے سائیڈ میں رکھتی سیدھی ہوبیٹھی…. الحان نے اس پر نگاہ دوڑائی…. وہ کافی نروس دکھائی دے رہی تھی…. الحان نگاہوں کا زاویہ بدلے، ادھر اُدھر دیکھتا دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”گھر والے….“

”نہیں ہیں….“

اس نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی…. الحان سوالیہ حیران نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا…. پھر اسے شاید یاد آیا…. وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”میرا مطلب…. تمہاری نانی ماں؟“

”شی از نو مور!“

مانہ بنا تاثر سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی تھی…. الحان اب باقاعدہ طور پر حیران دکھائی دینے لگا….

”آئی ایم سوری!“

”اٹس اوکے!“

مانہ نظریں جھکا بیٹھی…. الحان لب بھینچنے لگا…. پھر بولا….

”تو پھر تم یہاں کس کے ساتھ رہتی ہو؟“

”اکیلی!“

مانہ بے ساختہ بولی…. الحان خاموش ہو بیٹھا…. وہ اسے کرید کر اس کے زخموں کو تازہ ہرگز نہ کرنا چاہتا تھا…. وہ کافی دیر یونہی خاموش بیٹھا رہا….

”گائز! ہم لوگ یہاں مزید ریکارڈنگ نہیں کریں گے…. اور جو ریکارڈنگ کی جا چکی ہے…. وہ آن ایئر نہیں جائے گی….“

الحان ان دونوں کیمرہ مین سے مخاطب تھا….

”میں عاشر سے بات کر لیتا ہوں…. وہ کچھ نہ کچھ مینج کر لے گا…. اس لیے پلیز!“

دونوں کیمرہ مین اگلے ہی پل، اپنے اپنے کیمرے آف کرتے ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے…. مانہ الگ حیران دکھائی دی …. الحان بول رہا تھا….

”میرے پاس ایک آئیڈیا ہے…. ہم لوگ ابھی اسی وقت یہاں سے واپس جائیں گے….“

”مگر…. ڈنر؟“

مانہ صرف اتنا ہی بول پائی…. الحان خوشگوار انداز میںاس کی جانب دیکھنے لگا….

”ڈونٹ وری میڈم! آپ کا بنایا گیا ڈنر ہم ویسٹ نہیں ہونے دیں گے….“

وہ اٹھ کر کچن کی جانب بڑھا…. مانہ اس کے پیچھے لپکی….

”ہم یہ ڈنر دو حصوں میں پیک کریں گے….“

”لیکن!“

”لیکن ویکن کچھ نہیں…. برتن کہاں ہیں؟….“

وہ متلاشی نگاہوں سے برتن ڈھونڈنے لگا…. مانہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر دو ٹفن باہر نکالے…. الحان نے اس کے ساتھ ملتے ہی کھانا دو حصوں میں تقسیم کیا…. ایک ٹفن پیک کرتا وہ دونوں کیمرہ مین کی جانب بڑھانے لگا….

”یہ لو بھائی…. یہ آپ دونوں کا حصہ!“

ٹفن ان دونوں کی جانب بڑھاتا اب وہ دوسرے ٹفن کو سنبھال کھڑا ہوا….

”اور یہ مانو کا اور میرا حصہ!“

مانہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”چلیں؟“

الحان پوچھ رہا تھا….

”ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں؟“

مانہ نے حیرانی کا مظاہرہ کیا….

”چلو…. میں بتاتا ہوں….“

الحان باہر کی جانب بڑھنے لگا….

”لیکن!“

”چلو ناں!“

الحان اس کا ہاتھ تھامتا،اسے کھینچتا، کیمرہ مین سمیت دروازے سے باہر نکل آیا….

”مجھے اپارٹمنٹ لاک تو کرنے دیں….“

مانہ ہاتھ چھڑاتی اندر داخل ہو گئی…. کچھ دیر بعد وہ اپارٹمنٹ کی چابی سمیت باہر نکلی…. اپارٹمنٹ لاک کرتی وہ ان تینوں سمیت نیچے کی جانب بڑھ گئی….

نیچے ابھی تک ہجوم لگا تھا….

”شِٹ!“

الحان اپنا سر تھام کر رہ گیا…. پھر مانہ کے گرد گھیراﺅ کرتا وہ بچتا بچاتا پارکنگ ایریا میں کھڑی اپنی کار کے نزدیک چلا آیا…. سبھی لوگوں کا ہجوم الحان کو ایک نظر دیکھ لینے کو بے چین تھا…. اور اس ہجوم میں زیادہ ترلڑکیاں اور عورتیں صاف دکھائی دیتی تھیں…. ہر ایک کی زبان پر الحان کا ہی نام رقص کرتا سنائی دیا…. شور اس قدر تھا کہ مانہ اپنے کان ڈھانپ کر رہ گئی…. سبھی لوگ اپنے اپنے موبائل تھامے ان دونوں کی وڈیو بناتے دکھائی دئیے…. بمشکل چاروں گاڑی میں سوار ہوئے…. الحان وہاںپر موجود گارڈز کی مدد سے اپنی گاڑی اس ہجوم سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا…. سڑک پر آتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا….

”اُف…. کیا چیز ہیں یہ لوگ یار!“

اس نے ایک لمبی سانس کھینچی…. مانہ خاموش بیٹھی، باہر سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کی جانب تکتی رہی…. الحان نے اس پر نگاہ دوڑائی…. پھر خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا…. سورج غروب ہو چکا تھا…. آسمان پر تنی کالی چادر اب واضح طور پر دکھائی دینے لگی…. کچھ دور جاتے ہی الحان نے ان دونوں کیمرہ مین کو ڈراپ کر دیا…. وہ دونوں کار سے نکلتے اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے…. مانہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولنے لگی تھی….

”تم کہاں جا رہی ہو؟“

الحان نے حیرانگی سے اس کی جانب دیکھا….

”مجھے آپ کے ساتھ اکیلے کہیں نہیں جانا….“

مانہ بنا اس کی جانب دیکھے ناراضی کا اظہار کرنے لگی….

”ڈونٹ وری مانو! میں تمہیں کڈنیپ نہیں کر رہا…. نہ ہی تمہارے ساتھ کچھ ایسا ویسا کرنے والا ہوں…. تمہارے ساتھ کچھ وقت بیتانہ چاہتا ہوں…. اپنا مائنڈ ریلیکس کرنا چاہتا ہوں بس….“

”پر مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا!“

”اچھا اوکے! دروازہ بند کرو….“

الحان نے اس کی جانب جھک کر دروازہ بند کیا…. مانہ اپنے آپ میں سمٹ بیٹھی تھی…. الحان نے لاک لگا دیا…. مانہ گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان دوبارہ سے کار ڈرائیو کرنے لگا….

”اب لڑتی رہو جی بھر کر…. میں نے تمہیں پنجرے میں قید کر لیا ہے…. اب نہ تم کہیں بھاگ سکتی ہو…. نہ مجھ سے منہ پھیر سکتی ہو….“

الحان شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے، اسے اپنی جانب گھورتے دیکھ کر شرارت سے ایک آنکھ دباتا سامنے دوڑتی گاڑیوں کی جانب نظر ٹکا بیٹھا….

ض……..ض……..ض

الحان کی آنکھوں میں تشکر اور اطمینان کے روشن روشن دھندلکے تیرنے لگے…. مانہ، الحان کو گھورتی رہی…. الحان نے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ پھیلائی…. وہ ایک نظر اس پر دوڑاتا شیریںلہجے میں گویا ہوا….

”تم مجھے یوں گھور رہی ہو جیسے میںنے کوئی گناہ کیا ہو…. تم سے کوئی غلط بات کہہ دی ہو…. حالانکہ تم مجھ سے جو سلوک کر رہی ہو…. وہ کوئی بھی مرد برداشت نہیں کرتا…. اور انتقام پر اُتر آتا ہے….“

وہ اب شرارت پر آمادہ تھا…. مانہ اسے گھورتی، ناک پُھلاتی، سامنے دوڑتی گاڑیوں پر نظر ٹکا بیٹھی….

”اُف یہ غصہ….“

الحان مسکراتا رہ گیا…. ان دونوں کے بیچ کافی دیر خاموشی راج کرتی رہی…. الحان نے نظر گھما کر ایک بار پھر سے اپنے بغل میں خاموش بیٹھی مانہ پر نگاہ دوڑائی…. پھر وہ سامنے دیکھنے لگا….

”پچھلے دو دن بہت مشکل سے گزارے ہیں میں نے…. اس پل کا انتظار کرتا رہا…. اور پھر اسی پل کو سوچ کر دل کو سکون آ جاتا…. تمہارا میرے آس پاس موجود ہونا، میرے دل کو سکون دیتا ہے…. بہت سکون ملتا ہے تمہیں دیکھ کر….“

وہ بہت دھیمے لہجے اور محبت بھرے انداز میں گویا تھا…. مانہ خاموش رہی…. الحان نے ایک گہری لمبی سانس کھینچی….

”تمہیں شاید میرے جذبات کا ظہار اور محبت کا دعویٰ اس لیے ناگوار گزرتا ہے…. کیونکہ میں تم سے اس شو میں ملا ہوں….جہاں تمہیں لگتا ہے کہ سب کچھ کیمرہ کے لیے کیا جا رہا ہے…. لیکن تمہارے لیے ایسا کچھ نہیں ہے مانو!…. ہاںمیں اقرار کرتا ہوں کہ باقی تمام لڑکیوں کی تعریفیں…. ان سے ملنا جلنا…. یہ سب میں یقینا اس شو کے لیے کر رہا ہوں…. کیونکہ مجھے مجبوراً ایسا کرنا پڑ رہا ہے…. لیکن یقین جانو…. تم سے جو کچھ میں کہتا ہوں…. کیمرے کے سامنے یا پھر آف کیمرہ…. وہ میں دل سے کہتا ہوں…. And I mean it!…. مجھے تم سے محبت ہے مانو! دل و جان سے محبت ہے…. تمہارے بغیر اک لمحہ گزارنا محال ہو جاتا ہے میرا….“

اس کے لہجے میں کچھ تھا…. بے پناہ پیار، محبت، انتظار، یقین…. التجا…. سچائی…. مانہ نے محسوس کیا…. وہ خاموش بیٹھی باہر دوڑتی گاڑیاں تکتی رہی…. الحان بول رہا تھا….

”تم میری نظر میں بہت اعلیٰ اور بہت بلند مقام رکھتی ہو…. تمہیں مجھے قبول کرنے کے لیے سوچ کی کافی مدت چاہیے تو میں انتظار کر سکتا ہوں مانو! …. میں دل کو سمجھا لوں گا کہ منزل کی جھلک نظر آنے کے باوجود منزل ابھی دور ہے…. میںنہ صرف تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں، عزت کرتا ہوں…. بلکہ میرے دل میں تمہاری جو جگہ ہے…. اس کے آس پاس بھی مرتے دم تک کوئی نہ آ سکے گا….“

وہ اُمید بھری نگاہ سے مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. وہ ساکت بیٹھی تھی…. بالکل ساکت…. ایسے جیسے اس کی روح پرواز کر چکی ہو…. الحان پھر سے سامنے دوڑتی گاڑیوں کو دیکھنے لگا….

”تم میرے لیے چراغ راہ ہو…. جہاں تمہاری روشنی کی حد ختم ہوتی ہے…. وہیںمیری منزل کی حدود شروع ہوتی ہیں…. اور میرا دل کہتا ہے کہ میری منزل اب بہت ہی قریب ہے…. میرے قلب و نظر کو تم سے دور رہنا منظورہی نہیں….“

وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا…. ایک گہری لمبی سانس کھینچی…. بالوں میں انگلیاں پھنساتا، وہ بال سنوارتا پھر سے گویا ہوا….

”میری جنت بھی تُو، میرا جہنم بھی تُو…. تُو وہ آتش فشاں پہاڑ ہے…. جس کے لاوے سے میری حیات نو کی مٹی زرخیز بنے گی….“

وہ شاعرانہ انداز میں بولا تھا…. مانہ نظریں گھما کر اس کی جانب دیکھنے لگی….

”آپ میری شخصیت کو بہت ہی ڈراﺅنا رُوپ دے رہے ہیں….“

”ہرگز نہیں….“

وہ دھیمے سے مسکرایا….

”مت بھولیں….جو جلتی آگ پر بسیراکرنا چاہتا ہے…. وہ راکھ ہو جاتا ہے….“

وہ گہری سنجیدگی سے بولی…. الحان اس کی جانب دیکھنے لگا….

”میرا ہاتھ تھام لو بس…. اتنا کافی ہے…. پھر خوشی ملے یا غم…. میرا نصیب ہے….“

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے