سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر .. شکیل عادل زادہ ۔۔۔اعجاز احمد نواب                                                                                   

اردو کہانی کا سفر .. شکیل عادل زادہ ۔۔۔اعجاز احمد نواب                                                                                   

اُردو کہانی کا سفر 3
 اعجاز احمد نواب
سب رنگ ڈائجسٹ —————————————-
 کے مدیر اعلے ‘ شکیل عادل زادہ اور انکا اقابلہ امبر بیل ایسی کہانیوں کے خالق انوار صدیقی سے ملاقاتوں کا احوال
شکیل عادل زادہ، جون ایلیا کی کتاب ”فرنود“ کے ابتدائی صفحات میں لکھتے ہیں کہ ایک اچھی نثر کے لیے موضوع کا گہرا مطالعہ، مشاہدہ، موضوع پر گرفت اور خود راقم کی شرکت بلکہ شرکت ِ قلبی لازم ہے۔ اچھی نثر کے لیے بار بار چھاننا پھٹکنا پڑتا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ:
”اسے عطیہ کہنا چاہیے کہ لفظ اُمڈ رہ ہیں، لفظ بہہ رہے ہیں اور لفظ کسی خاص آہنگ سے اُتر رہے ہیں غیر شعوری طور پر…. شعوری کوششوں سے کوئی صاحب ِ طرز نہیں بن جاتا اور یہ کیا یک طرفہ ماجرہ ہے کہ صاحب ِ طرز ہونے کی فضیلت قبولیت کی سند بھی نہیں۔
شکیل صاحب کے اس آخری جملے سے یاد آیا کہ یہ بھی بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کے کچھ خاص گرامی لکھنے والوں کی کتب بھی بک سٹالوں پر پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہیں مگر انہیں کوئی ایسا قاری نہیں ملتا جو ان کی کتب کی قیمت ادا کر کے گھر لے جائے۔
بڑا نام…. ہر تحریر یا شعر اچھا ہونے کی ضمانت نہیں…. ممکن ہے قاری آپ کی بات کو، آپ کے شعر کو اس طرح نہ سمجھ پائے جس طرح آپ کی تمنا ہے اور یہ بھی ممکن ہے ایک نئے لکھاری کی کوئی بات یا نئے شاعر کا کوئی شعر قارئین کی اکثریت پسند کرلے کہ وہی اکثریت آپ کو وقت کا آئیڈیل یا شہرت یافتہ بنا دے، بہرحال محنت تو ہر معاملہ میں شرط ہے اور یہ ناممکن نہیں۔ شکیل عادل زادہ ڈائجسٹوں کی دنیا کا بہت بڑا نام ہے بل کہ …. قابلِ احترام ہستی ہیں۔ سب رنگ اور شکیل عادل زادہ کو برصغیر میں ہر کہانی پڑھنے والا جانتا ہے۔
جب کبھی ڈائجسٹ و رسائل یا کہانی کی تاریخ مرتب کی جائے گی تو مورخ شکیل عادل زادہ اور سب رنگ ڈائجسٹ کو نظرانداز کر کے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا…. سب رنگ ڈائجسٹ جس نے جنوری 1970 ءسے لے کر دسمبر 2010ءیعنی 41 سال تک لاکھوں پڑھنے والوں کو اپنے سحر میں اس طرح گرفتار رکھا کہ جس کی کوئی مثال و نظیر نہیں ملتی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ کسی اُردو ماہنامہ نے اتنا بڑا حلقہ قارئین نہیں دیکھا۔ حالانکہ گزشتہ نو برس سے سب رنگ ڈائجسٹ نہیں چھپ رہا لیکن آج بھی پڑھنے والے اپنے اس محبوب کا بے تابی اور شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ لگ بھگ انچاس سال قبل سب رنگ ڈائجسٹ کی اشاعت کو سرکاری سطح پر محکمہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (A.B.C) نے ایک لاکھ چھپن ہزار تسلیم کیا تھا۔
شکیل عادل زادہ (میرے سامنے) فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ چھپن ہزار اشاعت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی رسالہ ایک لاکھ پچپن ہزار فروخت ہو جاتا ہے۔ اتنی رجسٹرڈ اشاعت اس سے قبل اُردو کے کسی ماہنامہ کی تسلیم نہیں کی گئی۔ اسی لیے ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کو اُردو کا سب سے بڑا ڈائجسٹ مانا جاتا ہے!
میری شکیل عادل زادہ سے پہلی ملاقات ۲ مارچ 2001 ءکو کراچی میں ان کے دفتر واقع آئی آئی چندریگر روڈ میں ہوئی جب میں اپنا ذاتی ڈائجسٹ ماہ نامہ مسٹر میگزین نکالا کرتا تھا۔ مجھے کافی عرصہ سے ان سے ملاقات کا نہ صرف بہت شوق تھا بلکہ میں انہیں اپنا ڈائجسٹ بھی پیش کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔
میرا کراچی جانا ہوا تو میں نے اُردو بازار کراچی سے ان کے دفتر فون کیا۔ اتفاق سے اُنہوں نے ہی اُٹھایا۔ میں نے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے دفتر آنے کی اجازت دے دی۔ اور پھر مجھے ان کے دفتر پہنچنے میں اتنی ہی دیر لگی جتنی دیر میں رکشہ اُردو بازار سے ان کے دفتر تک لگاتاہے۔ کافی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد پھولے ہوئے سانس کے ساتھ سب رنگ کے دفتر میں داخل ہوا تو دل کو ایک مایوسی سی ہوئی کیونکہ دفتر میں پندرہ بیس لوگ بیٹھے تھے اس رش کو دیکھ کر میں بددل سا ہو گیا کیوں کہ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ مجھ سے ایک دو سرسری اور رسمی باتیں ہی کریں گے۔
دفتر کے دروازے سے داخل ہوتے ہی وہ سامنے والے صوفے پر بیٹھے تھے غالباً سب رنگ کے کسی پروف ریڈر سے بات کر رہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ یہ شکیل صاحب ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ ابھی میں نے آپ کو فون کیا تھا۔ میں راولپنڈی سے حاضر ہوا ہوں۔ تو میری سوچ کے برعکس وہ بڑے تپاک سے ملے بڑی عزت سے پیش آئے اور مجھے اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ چند لمحوں کے بعد وہ اپنی مصروفیت سے فارغ ہو کر پوری طرح میری طرف متوجہ ہوئے تو جھٹ سے میں نے انہیں اپنا ڈائجسٹ مسٹر میگزین پیش کیا۔ تقریباً پانچ منٹ تک وہ مسٹر میگزین مارچ 2001 ءکے شمارے کو اُلٹ پلٹ کر دیکھتے رہے۔ مصنفین میں ایم اے راحت کا نام، ٹائٹل ذاکر حسن اور اسکیچز پر گلزار شاہد دیکھا تو حوصلہ افزائی کے لیے مسکراتے ہوئے بولے۔ بہت خوب۔ میں نے دوبارہ عرض کیا کہ سر آپ نے مسٹر میگزین کو کیسا پایا؟ کہنے لگے۔ بہت اچھا رسالہ ہے۔ اس کی اُٹھان خوب ہے۔ میں نے جھٹ سے فرمائش کی کہ سر جو آپ نے فرمایا ہے مہربانی فرما کر اسے اپنے لیٹر پیڈ پر لکھ دیں۔ میری بات سن کر چونکے اور ہنس پڑے۔ اور پھر لیٹر پیڈ طلب فرمایا۔ اس پر مسٹر میگزین کے لیے
تحسینی کلمات تحریر کرکے اپنے دستخط ثبت کر دئیے۔
ان کی یہ تحریر مسٹر میگزین کے شمارہ اپریل 2001 ءمیں ہم نے بڑے فخریہ انداز میں شائع کی تھی۔ مہمان نوازی کے طور پر اُنہوں نے چائے بھی پلوائی۔ میں ان کی اس عزت افزائی پر بڑا ہی مسرور ہوا تھا۔ اس کے بعد بڑا عرصہ ہی گزر گیا۔ غالباً 2008ءیا 2009ءکے موسمِ گرما کی بات ہے کہ ایک دن جب میں اپنے دفتر میں تھا میرے دوست خاقان ساجد کا فون آیا کہ شکیل عادل زادہ اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں فوراً حامی بھر دی۔ خاقان ساجد صاحبِ طرز ادیب، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ بنیادی طور پر ادیب کہلاتے ہیں لیکن کبھی کبھی بے ادبی کرتے ہوئے ہارر سٹوریز بڑے اعلیٰ پائے کی لکھتے ہیں۔ ان کا ناول چمپون اور وحوش، ہارر کہانیوں کا مجموعہ بھی چھپ چکے ہیں۔ سب رنگ میں ان کے بے شمار تراجم اور افسانچے بھی شائع ہوئے ہیں۔
بہرکیف شام پانچ بجے کے قریب خاقان ساجد اور محمد الیاس گاڑی لے کر آ گئے اور مجھے ساتھ لے لیا۔ محمد الیاس صاحب بہت عمدہ قسم کے افسانہ نگار ہیں۔ جن کے بے شمار افسانے سب رنگ میں چھپ چکے ہیں جن میں ’وارے کی عورت‘ اور ’عورت گھوڑا اور مرد‘ کے علاوہ ایک سلسلہ وار ناول بھی سب رنگ کی زینت بن چکا ہے۔ ہم تینوں دوست اسلام آباد پہنچ گئے۔ شکیل صاحب جیو کی طرف سے ایک ریسٹ ہاؤس میں مقیم تھے۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد وہ ہمیں مل گئے۔ محمد الیاس صاحب سے ان کی بہت اچھی علیک سلیک تھی۔ تاہم مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب مجھ سے ہاتھ ملا کر معانقہ کیا تو چند لمحے غور سے دیکھنے کے بعدبولے کہ آپ کو کہیں پہلے بھی دیکھا ہے۔ میں تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ شکیل عادل زادہ اتنی زبردست یادداشت کے مالک ہیں۔ میری تو ان سے ساری زندگی میں ایک ہی آدھ گھنٹے کی ملاقات تھی۔ بہرکیف میں نے بتایا کہ ایسے میں فلاں وقت کے آپ کے دفتر کراچی آیا تھا تو انہیں فوراً ہی یاد آ گیا۔
اس کے بعد ہم لوگ انہیں لے کر مارگلہ پہاڑیوں کے دامن کوہ سے اوپر پیر سوہاوہ کے مقام پر منال ریسٹورنٹ میں جا بیٹھے…. یہ اسلام آباد کا سب سے اُونچا مقام ہے جہاں خوبصورت اسلام آباد کا خوبصورت ترین نظارہ ہوتا ہے۔ یہاں ہم تقریباً تین گھنٹے تک بیٹھے۔ کھانا کھایا۔ چائے پی۔ دنیا جہاں کی گپ شپ کی۔
رات گئے ہم پھرتے پھراتے اسلام آباد سپر مارکیٹ آ گئے۔ یہاں ہم نے آئس کریم کھائی۔ انہوں نے ایک دکان سے پان لیے…. پان لے رہے تھے کہ زیرو پوائنٹ والے جاوید چوہدری صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کیا فقط علیک سلیک ہوئی۔ جاوید چوہدری صاحب کی ایک کتاب ”گئے دنوں کے سورج“ میرے چھوٹے بھائی کے ادارے رمیل ہاﺅس آف پبلی کیشنز سے ان دنوں شائع ہو رہی تھی۔ بعد ازاں شکیل صاحب کو جب ہم ان کی رہائش کی جگہ ڈراپ کر رہے تھے تو میں نے انہیں اگلے دن ظہرانہ کی پیشکش کی، جس کا انہوں نے صبح جواب دینے کا کہا۔ میرا خیال تھا کہ جواب میں سخت مصروفیت کی ”آڑ“ میں انکار ہو جائے گا۔ لیکن اگلی صبح گیارہ بجے مجھے شکیل صاحب کا فون آ گیا کہ میں ایک بجے آپ کے دفتر پہنچ رہا ہوں۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور پھر وعدے کے مطابق ٹھیک ایک بجے شکیل عادل زادہ اشرف بک ایجنسی پر پہنچ گئے۔ جس کے بالکل ساتھ ہی نواب سنز پبلی کیشنز کا آفس تھا۔ وہ دن میری زندگی کا یادگار ترین دن تھا اور وہ چند گھنٹے جو میں نے شکیل صاحب کے رُوبرو بحیثیت میزبان گزارے وہ میری حیات کے حسین ترین لمحات تھے۔
شکیل صاحب انتہائی باوقار شخصیت ہیں وہ اپنی ذات میں اُردو اکادمی ہیں۔ وہ ڈائجسٹوں کی دنیا کی قد آور شخصیت ہیں۔ اس دن ان سے ڈھیروں گفتگو ہوئی۔ اتنی شفاف اور صحیح تلفظ کے ساتھ اُردو بولنے والے اب خال خال ہی ملتے ہیں۔
شکیل عادل زادہ 10 مارچ 1940ءکو مراد آباد یو پی بھارت میں پیدا ہوئے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان کراچی آ گیا۔ مراد آباد میں ان کے والد عادل مراد ماہنامہ مسافر نکال رہے تھے، وہ بھی شعر و ادب کے میدان کے کھلاڑی تھے۔
شکیل عادل زادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ڈبل ایم اے اور بی کام ہیں۔ مختلف ادارں میں کئی رسائل کے ادارتی عملہ کا حصہ رہے۔ کتب و رسائل پر تبصرہ نگاری بھی کرتے تھے۔ سب رنگ کے اجراءسے قبل رئیس امروہوی اور جون ایلیا کے ماہنامہ ”عالمی ڈائجسٹ“ کے مدیر تھے۔ بوجوہ عالمی ڈائجسٹ کی ادارت سے الگ ہو گئے اور عزمِ مصمم کے ساتھ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ سب رنگ کا آغاز نامساعد حالات میں کیا۔ سب رنگ کا پہلا شمارہ جنتری 1970 ءمیں منظرِعام پر آیا۔ پہلے تین شماروں تک اس کی اشاعت جوں کی توں رہی پھر اچانک ہی قارئین نے سب رنگ پر یلغار کر دی اور ہر ماہ اس کی اشاعت میں ہزاروں کے حساب سے اضافہ ہونے لگا۔ سب رنگ میں دنیا کے اعلیٰ پائے کے ادیبوں کی بہترین کہانیوں کے زبردست تراجم تو تھے ہی لیکن سب سے زیادہ سب رنگ کو شہرت ان کی سلسلہ وار ماورائی کہانیوں سے حاصل ہوئی اور ان سلسلوں کے خالق تھے انوار صدیقی۔ ان کہانیوں کے مرکزی خیال انتہائی زبردست اور پلاٹ مضبوط تھے۔ ان میں اکثر سلسلہ وار ماورائی کہانیاں ہندو معاشرے کے پس منظر میں لکھی گئی تھیں اور اس قدر دلچسپ پیرائے میں تھیں اور مصنف کے قلم کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ قارئین قسط پڑھتے ہی اگلے شمارے کے انتظار میں بے تاب ہو جاتے۔ (انوار صدیقی صاحب کا تفصیلی تعارف و تذکرہ بھی کیا جائے گا) ان کے علاوہ اُردو ادب سے انتخاب میں صف ِ اوّل کے اُردو ادیبوں کے افسانے شامل کیے جاتے اور ہر ماہ کسی کرامات والے ولی اللہ کی داستان بھی پیش کی جاتی اور پھر شروع کی تاریخی کہانی الیاس سیتا پوری اپنا الگ رنگ جماتی۔ اور سب سے بڑھ کر سب رنگ میں جو تراشے، اقتباسات، لطائف، واقعات لگائے جاتے اور ان کی چھان پھٹک میں جس قدر احتیاط، عرق ریزی کی جاتی وہ اپنا مثال آپ ہے۔ اور سب سے خاص بات ہر کہانی سے قبل تمہیدی نوٹ (انٹرو) وہ ایک آدھ لائن…. جس سے کہانی پڑھنے پر قاری راغب ہو جاتا۔ کسی بھی کہانی کا تمہیدی نوٹ لکھنے میں شکیل عادل زادہ کو ملکہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ہر کہانی کے ساتھ اسکیچ (تصویری خاکہ) دیگر تمام رسائل سے منفرد اور خوبصورت ہوتا ہی تھا لیکن سب سے قابلِ ذکر سب رنگ کی کہانی کا نام لکھنے کا انداز تھا جس کا سرسری طور پر پڑھ لیا جانا بہت مشکل ہوتا۔ اس کو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر ہی سمجھ آ سکتی تھی۔ میں نے بذاتِ خود لائبریریوں، بک سٹالوں پر قارئین کو شرطیں باندھ کر یہ نام پڑھتے ہوئے دیکھا۔
ان چیدہ چیدہ خوبیوں کی بہ دولت سب رنگ ڈائجسٹ دیکھتے ہی دیکھتے قارئین کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ اور ابتدائی چند سالوں میں ہی اس کی اشاعت ایک لاکھ تک جا پہنچی۔ اشاعت بڑھتے ہی سب رنگ کے صوری حسن میں بھی یک دم ہی مزید اضافہ ہو گیا۔ اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا اپریل 1976 ءمیں آڈٹ بیورو آف سرکولیشن محکمہ ABC نے ”سب رنگ“ کو پاکستان میں سب سے بڑی اشاعت کا حامل ڈائجسٹ قرار دیتے ہوئے تسلیم کر لیا کہ سب رنگ کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ بلاشبہ ”سب رنگ“ پاکستان کی تاریخ کا مشہور ترین اور رسائل میں سب سے بڑی اشاعت رکھنے والا رسالہ تھا۔ سب رنگ میں  جو سلسلہ وار کہانی سب سے پہلے مقبول ہوئی  وہ تھی  سونا گھاٹ کا پجاری، لیکن اس کے بعد دوسرے طویل سلسلہ  نے تو ریکارڈ ہی توڑ دئیے، جی ہاں.. انکا کو کون بھول سکتا ہے ، جو سر پر ہما کی طرح آن بیٹھتی تھی، اس کے بعد اقابلہ تاریک براعظم افریقہ کا فسوں.. امبر بیل ایک انتہائی طویل سلسلہ جس نے سب رنگ میں ایک عشرے تک وہ رنگ جمائے کہ میر جمشید عالم کو قارئین آج تک نہ بھلا پائے  ان سب شہرہءآفاق داستانوں کے فسانہ گو داستاں گو  ہیں انوار صدیقی،
مسٹر میگزین میں قبر کا بیٹا کے نام سے ایک سلسلہ شروع ہوا تھا جو بعد ازاں کتابی شکل میں بھی شائع ہوا، تاہم اب شاید نمونے کی کاپی بھی میرے پاس موجود نہیں، اس سلسلہ وار کہانی کے مصنف تھے شہزاد  احمد صدیقی  کراچی کے نوجوان تھے، میری کراچی موجودگی کے دوران ملنے کو آئے، اور باتوں باتوں میں انوار صدیقی صاحب کا تزکرہ آیا تو کہنے لگے کہ انوار صدیقی ماورائی کہانیوں کے لیجنڈ ہیں میرا بڑا دل کرتا ہے کہ ان سے ملاقات کروں ، ان کا فون نمبر بھی میرے پاس ہے، میں نے کہا کہ نمبر ہے تو فون کر کے چلے جاؤ، کہنے لگا نہیں، وہ بہت بڑا نام ہیں، آپ بھی میرے ساتھ چلیں آپ پبلشر بھی ہیں اور ڈائجسٹ کا حوالہ بھی آپ کے ساتھ ہے، میں نے کہا لاؤ نمبر ابھی فون کر لیتے ہیں  نمبر ملایا تو کسی نے اٹھایا  میں نے عرض کیا کہ انوار صدیقی صاحب سے بات کرنی ہے ، چند ہی لمحات میں صدیقی صاحب آن لائن تھے میں نے اپنا تعارف کرایا اور حاضری کی استدعا کی، فرمانے لگے ابھی آجاؤ، گلشن اقبال میں ان کی خوبصورت رہائش گاہ پر پہنچے،  تو دراز قد صاف رنگت کی باریش پون صدی کی وجہیہ شخصیت نے استقبال کیا، انوار صاحب اس وقت امبر بیل کا وہ آخری حصہ لکھ رہے تھے جو سب رنگ میں تو نہیں چھپا، البتہ کتابی شکل میں  شائع ہوا ہے، انوار صدیقی صاحب بڑی شفقت سے پیش
آئے، اور ہمیں ڈھیروں وقت دیا  خوب خاطر مدارت کی، انوار صاحب بھی ڈائجسٹوں کی چلتی پھرتی تاریخ ہیں……
لکھنے چھاپنے اور پڑھنے والوں کی  یہ داستان طولانی… اردو کہانی کا سفر ، ابھی جاری ہے  بقیہ واقعات کے لئے  ،انتظار فرمائئے،  قسط نمبر 4کا جس میں انوار صدیقی کے ساتھ ساتھ بچوں کے مشہور و معروف مصنف اشتیاق احمد کے ساتھ ملاقاتوں کا نہ صرف احوال پیش کیا جائے گا بلکہ اشتیاق صاحب سے متعلق وہ باتیں جو اس سے قبل آپ نے کہیں نہ پڑھی ھوں گی، ایم اے راحت صاحب راولپنڈی میں، چوتھی قسط انشاءاللہ جمعرات آٹھ اگست کی شب دس بجے  شائع ہو جائے گی!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 تحریر : اعجاز احمد نواب بیسویں صدی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے