سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 15 آخری قسط 

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 15 آخری قسط 

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 15

آخری قسط

” میں تمہاری رپورٹس کے ساتھ کچھ لٹریچر بھی دے رہی ہوں ، اس کے ساتھ میرے ساتھ رابطہ نمبر وغیرہ ہیں۔تم جب بھی مجھے سے بات کرنا چاہو کر سکتی ہو ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے فائل آ یت کی جاب بڑھا دی ۔ اس نے وہ رپورٹ پکڑی اور وہاں سے اٹھ گئے ۔

فارم ہاﺅس آ کر طاہر نے آ یت کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے کہا

” اب آ پ آ رام کریں اور آ پ کا یہ شوہر نامدار اب آ پ کی خدمت کے لئے حاضر ہے ۔“

” بہت شکریہ ، یہ خدمت آپ اپنی اولادکے لئے کر رہے ہیںیا ….“

” دونوں کے لئے ، بیوی کو آ رام دوں گا تو….“

’لیکن میںنے آ رام نہیںکرنا، مجھے اور بہت کچھ کرنا ہے ۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ حیرت سے بولا

” آپ نے اور بہت کچھ کیا کرنا ہے ؟ “

”یہ میں بعد بتاﺅں گی ۔“ آیت نے خوشدلی سے کہا

”آپ نے جو بھی بتانا ہے تو وہ میں سُن لوں گا،لیکن ابھی آپ میری سُنو۔“ اس نے کہا اور پھر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا،” میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں آ پ کو آرام اور سکون دوں ۔میں زیادہ محنت کروں گا ،جس قدر ممکن ہو سکے گا آ پ کو ایک بہترین پر سکون ماحول دوں تاکہ میری آنے والی اولادکو کوئی پریشانی نہ ہو ۔“

 ”طاہر ۔! میں سمجھتی ہوں ۔آپ مجھے پر سکون ماحول دو ، میں آ پ کو ہر طرح سے صحت مند اولاد دینے کا وعدہ کر تی ہوں۔“

”رَبّ تعالی نے عورت کو تخلیق کی جو قوت اور صلاحیت دی ہے ، وہ ایسا کر سکتی ہے اور بہتر کر سکتی ہے ۔میں اپنی ہر ممکن حد تک ایک بہترین ماحول دینے کی پوری کوشش کروں گا مگر آپ میری ایک بات مانیں گی۔“ طاہر نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا تو وہ خوش ہو تے ہوئے بولی

” کس بات کا یقین ؟“

” اب آ پ آ فس نہیں جائیں گی۔“ اس نے کہا تو آیت نے سوچتے ہوئے کہا

” گھر پر رہ کر آپ کی مدد کر سکتی ہوں ؟“آیت نے کہا

” کیا ایسا ممکن ہے ؟“ اس نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا

” بالکل ممکن ہے۔“ وہ پر شوق لہجے میں بولی

” تو پھر ڈن ۔“ طاہر نے کہا تو ان میں طے ہو گیا۔

شام ہونے تک دادا جی سمیت سبھی ملنے والوں کو معلوم ہو گیا۔

اس دن کے بعد آیت کسی بزنس میٹنگ میں نہیںگئی ،بلکہ اس نے فارم ہاﺅس کا ایک کمرہ اپنے آ فس کے طور پر بنا لیا ہوا تھا۔ جدید دور میں رابطے کی سہولیات اس نے وہاں میّسر کر لیں تھیں۔وہ بہت سارا کام وہیں بیٹھ کر دیکھ لیتی تھی ۔وہ چونکہ تخلیق کے عمل سے گزر رہی تھی ، اس لئے وہ ہمہ وقت ڈاکٹر الماس کے ساتھ رابطے میں رہتی تھی ۔دن بہت پر سکون گزر رہے تھے۔

ز….ژ….ز

دو ماہ یونہی بیت گئے ۔

اس دن آیت النساءفارم ہاﺅس میں بنائے اپنے آفس میں بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ تھا اور وہ اس کی اسکرین پر دیکھ رہی تھی ۔دن کا پہلا پہر ختم ہونے کوتھا کہ امبرین کا فون آ گیا۔وہ سکول ہی کے کچھ معاملات پر بات کرنا چاہتی تھی ۔آیت نے اسی وقت آ جانے کا کہا اور فون بند کر کے اپنے کام سمیٹنے لگی ۔

آیت کو لاﺅنج میں آ کر بیٹھے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ امبرین آ گئی ۔جیسے ہی اس کی نگاہ آیت النساءپر پڑی ، وہ بے ساختہ حیرت زدہ ستائشی لہجے میں بولی

”آیت ۔! اتنی پر کشش ہو گئی ہو تم ؟ ماں بننے جا رہی ہو یا مقابلہ حسن کی تیاری کر رہی ہو ؟“

”ارے آ ﺅ بیٹھو تو سہی ۔“

 آیت نے عام سے انداز میں کہا تو اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی

” کیا کرتی ہو کیا کھاتی ہو کہ اس قدر پیاری لگ رہی ہو،لگتا ہے پر سکون زندگی کا اثر ہے ۔سارا دن آرام کرنا، خود پر توجہ دینے کے علاوہ تمہیں کوئی کام تو ہوگا نہیں۔“اس نے یوں کہا جیسے اس کی حیرت ابھی تک کم نہ ہو ئی ہو ۔تب آیت النساءنے سوچتے ہوئے کہا

”تمہارے اندازے کچھ غلط ہیں اور کچھ درست۔مگر۔! جس طرح تم سمجھ رہی ہو ، ایسا نہیںہے۔“

” میں سمجھی نہیں،ٹھیک بھی اور غلط بھی ؟“ اس نے پوچھا

”اچھا، میں تمہیں تمہاری ایک ایک بات کا جواب دیتی ہو ۔میں پر سکون زندگی گزار رہی ہو ں ، اس میں کوئی شک نہیں۔میری پرسکون زندگی کا سارا حصار طاہر نے بنایا ہے وہ باہر کی کسی پریشانی کو گھر میں داخل نہیںہونے دیتا۔“ اس نے پرسکون انداز میں بتایا

” ہاں مجھے پتہ ہے ، طاہر بھائی نے سارا بزنس سنبھال لیا ہے ۔“امبرین نے کہا

”نہیں، ہم دونوں ، میں گھر میں بیٹھ کراس کا پورا ساتھ دیتی ہو۔ہم ایک ایک معاملے پر پوری طرح مشورہ کرتے ہیں۔“اس نے بتایا

” تو پھر پریشانی کاہے کی ہے۔“امبرین نے پوچھا

” میرے ساس سسر ہمارے لئے پریشانیاں پیدا کر رہے ہیں۔وہ ہر حالت میں طاہر کی واپسی چاہتے ہیں ۔اسکے لئے ان سے جو ہو سکتا ہے وہ کر رہے ہیں۔لیکن طاہر نے باہر کی ساری پریشانیاں اپنے خود اپنے ذمے لے کر اپنے گھر کو محفوظ رکھا ہوا ہے ۔وہ ہفتے میں دو دن بہاول پور رہتے ہیں، مطلب زیادہ کام کرتے ہیں۔بزنس بھی دیکھتے ہیں اور اپنی سیاست کو بھی ۔“ آیت نے سمجھانے والے انداز میںکہا

”پھر تم سارا دن آ رام ….“ امبرین نے کہنا چاہا تو آ یت بولی

”نہیں، میں آ رام نہیںکرتی ،مجھے خود پر پہلے سے زیادہ توجہ دینا پڑتی ہے ۔میں اپنے آ نے والے بچے کی تربیت کر رہی ہوں۔“

” تربیت ابھی سے ، مطلب میں سمجھی نہیں؟“ اس نے پوچھا

”اچھا ، میں تمہیں سمجھاتی ہو ، کل تم نے بھی ماں بننا ہے ، تمہیں یہ پتہ ہونا چاہئے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی پھر کہتی چلی گئی ،”رَبّ تعالیٰ نے ماں کو ایسے ہی اعلیٰ درجے پرفائز نہیںکر دیا،بلکہ عورت میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جس سے وہ نہ صرف وہ اپنی نسل کی تخلیق کرتی ہے بلکہ اس کی تربیت بھی کرسکتی ہے۔ایسے بچے کی تربیت بھی جو ابھی اس کی کوکھ میں ہے۔ماں کو چاہے نہ بھی معلوم ہو لیکن بچے کی تربیت وہیں سے شروع ہو جاتی ہے ۔“ آیت نے سمجھانے والے انداز میں اسے بتایا

”یہ کیسے ہو جاتا ہے ؟“ امبرین نے پوچھا

” یہ انسان کے اپنے ہی تجرباتی علم سے یہ ثابت ہوا ہے ۔ تم اتناتو جانتی ہو کہ ماں جو کچھ کھاتی پیتی ہے ،اس کا اثر بچے پر ہوتا ہے ۔ماں کے جذبات بھی بچے پر اثر چھوڑتے ہیں۔بالکل اسی طرح ماں کا تخیل بھی بچے کی ذہنی نشوونما پر اثر کرتا ہے ۔ماں جو سوچتی ہے وہی بچے کی سوچ کا بھی حصہ بن جاتا ہے ۔“ آیت نے بتایا

” یہ بات تو سمجھ میںآ تی ہے کہ ماں کو پرسکون ماحول دیا جائے ماں کی خوراک ، تخیل ،سوچ سب اثر رکھتے ہیں، ایسا ہوتا کیسے ہے ؟“ امبرین نے پوچھا

”اس کی بھی وجہ ہے ، بے سبب کچھ نہیںہوتا،میں تمہیںایک چھوٹی سی کہانی سناتی ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکی اور پھر بولی ،”دیکھو ۔! جس طرح رَبّ تعالیٰ کی دوسری انواع ہیں،دوسری جاندار مخلوقات، اسی طرح انسان بھی ایسی مخلوق ہے ، جس نے اس دنیا میں آ نے والے بڑے بڑے طوفانوں ، زلزلوں اور دوسری آ فات کے باوجود اپنے آ پ کو برقرار رکھا۔ ایسا اِ س لئے ہوا کہ انسان وہ واحد مخلوق ہے ، جسے شعور ہے ۔ یہ شعور کیسے ہے؟یہ ایک الگ بحث ہے ۔تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انسان کا بچہ دوسری انواع کے مقابلے میں انتہائی نازک ہے ۔اسے زیادہ دیر تک اپنی ماں سے جڑے رہنے یا اپنی حفاظت کی ضرورت پڑتی ہے ۔پرانے وقتوں میں بہت زیادہ بچے ہونے کے باوجود بہت کم بچے ، بچ پاتے تھے۔آہستہ آ ہستہ انسان کے تجربات بڑھے ، موجودہ دور میں آنے تک بہت سارے مصائب، آفا ت اور حادثات کا سامنا کرنے کے بعد اسے اپنے بچے کی حفاظت کا طریقہ آ گیا۔ تب ماں اور بچے کے درمیان تعلق کو بھی سمجھنے کا موقعہ ملا۔ یہ سب تجربات سے سامنے آ یا۔اب ماں قبل از پیدائش اپنے بچے کی ذہنی اور جسمانی استعداد بڑھا سکتی ہے ۔اسے جیسا بننا ہے اپنی کوکھ ہی میں سبق دے سکتی ہے ۔ اب سمجھ میں آ یا ہے کہ ماں کی گود کس طرح بچے کی پہلی درس گاہ ہے ۔“

”میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ کیسے ، کیسے دے سکتی ہے یہ سبق؟“ امبرین نے پوچھا

”اس کے لئے تمہیں اصل حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان جب تک مادے کے ساتھ اپنے باطن سے نہیں جڑے گا تب تک اسے خود سمجھ میں نہیںآ ئے گا کہ یہ دراصل ہوتا کیسے ہے ۔انسان جب نیچر سے جڑتا ہے تو نہ صرف نیچر کو مسخّر کر کے اسے کھولتا ہے بلکہ انسان کی اپنی صلاحیتیں بھی اس پر آ شکار ہوتی ہیں۔انسان جیسا ماحول بنائے گا ، اس کا بچہ ویساہی پروان چڑھے گا۔کیا تم نے آقاﷺ کی حدیث مبارکہ نہیںسنی کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیداہوتا ہے اب والدین اسے یہودی بنا دیں یا نصرانی ۔”بنانے “ کا یہاں مطلب ماحول ہی سے ہے ۔اگر ماں اپنی کوکھ ہی سے اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کا شعور دیتی ہے تو بچہ اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کا شعور لے کر ہی پیدا ہوتا ہے ۔ہم فطرت سے الگ نہیںہو سکتے انسان مادے سے ، نیچر سے نبردآ زما ہے اور اپنے تجرباتی علم سے کبھی ہواﺅںکو مسخر کر رہا ہے اور کبھی پانی کو ۔ انسان نےچر ہی سے اپنی بقا کا سامان پیدا کر لیا۔ضروریات پوری کیں، سہولیات لیں یہاں تک کہ آسائشات سے زندگی گذار رہا ہے ۔“ آیت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ بولی

” مگر میںنے جو پوچھا،اس کا جواب نہیں دیا تم نے ۔“

”بتا رہی ہوں نا۔“ اس نے کہا ، پھر بولی،”یہ سب اپنی جگہ لیکن انسان کا انسان سے تعلق ایک الگ علم رکھتا ہے ۔ ہمارے بہت سارے سماجی علوم ہیں۔جو دراصل ماحول ہی کو بہتر بنانے کے لئے ہیں۔ انسانوں کے جس معاشرے نے سماجی علم سے استفادہ کرکے اپنے ماحول کو بہتر بنایا۔وہ زیادہ ذہین، اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے مالک اور دنیا کے بہترین دماغ ہیں۔کیونکہ ذہنی پسماندگی ، دراصل ماحولیاتی پس ماندگی سے ہوتی ہے ۔“ آیت نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو امبرین خاموش ہو گئی پھر دکھی لہجے میںبولی

” جب معاشرہ ہی ایسا ہو ، جس میں ساس اور بہو ایک دوسرے کی دشمن ہیں۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کشمکش ہو ، اپنی بقا کی جنگ لڑی جا رہی ہو ۔ایسے میں نئی نسل کی ذہانت ….“

” تم ٹھیک کہہ رہی ہو ،مگر یہ ممکن ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو ذہین، اور اعلی صلاحیتوں کا مالک بنانا چاہئے ، ماحول بن سکتا ہے ۔ ماں کو صاف ستھرا پریشانیوں سے پاک ماحول دیں۔ دیکھو۔! ماضی میں ہمیں بہت ساری ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بچے حافظ قرآن پیدا ہوئے ۔کیونکہ ان کی مائیں قرآن کو پڑھتی ہی نہیں سمجھتی بھی تھیں۔ذہین اور فطین لوگوں کی ماﺅں کو دیکھیں ، ان کے بارے میںجانیں۔“

” تم کیا کر رہی ہو ؟“ امبرین نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”میں جو کر رہی ہوں وہ میںنے انسان کے تجرباتی علم اور اپنے دین سے سیکھا۔قرآن پاک میں آ یا ہے کہ رَبّ تعالیٰ نے ہَوا کو انسان کے لئے مسخر کر دیا۔میں سوچتی ہوں کیسے کردیا۔مجھ پر راز کھلتے ہیں۔میں اپنے تخیل کو آ زماتی ہوں ۔اس سے متعلق دستاویزی فلمیں دیکھتی ہوں۔یہی سبق میں اپنے بچے کو دیتی ہوں۔ رَبّ تعالیٰ نے’ شدید محبت‘ کرنے والوں کا ذکر کیا، میں سوچتی ہوں وہ کیسے ہوتے ہیں؟’شدید محبت ‘ کسے کہتے ہیں؟ رَبّ تعالیٰ کی کیسی کیسی نعمتیں ہیں؟ ان نعمتوں کا استعمال کیا ہے ؟ رَبّ تعالیٰ حسین ہے اور حُسن کو پسند کرتا ہے ، میں سوچتی ہوںحُسن کیا ہے ؟میں میوزک سنتی ہوں۔وہ میوزک جو نیچر سے متعلق ہے ۔میں پرندوں کی ، جھرنوں کی آ وازوں کو اپنے اندر اُتارتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں میرے آقا ﷺ نے ایک ماں سے اعلیٰ اُمت کی پرورش کا جو مطالبہ کیا ہے میں اس پر عمل پیرا ہو کر اپنے بچے کو سبق دیتی ہوں ۔اس سے باتیں کرتی ہوں ۔ میں طاہر کے ساتھ ، کمپیوٹر کے ساتھ ریاضی کے عقدے حل کرتی ہوں۔میں ہر لمحہ اپنے بچے کے ساتھ منسلک ہوں۔میںآرام نہیںکرتی ہر لمحہ اپنے بچے کے ساتھ تربیت میں مشغول رہتی ہوں۔“

 ” واہ ۔! تم تو واقعی مصروف ہو ۔یہ کیسا حسین عمل ہے۔“ اس نے کہا

” دیکھو۔! جس طرح نور سے سارے رنگ پھوٹتے ہیں،اسی طرح ماں اپنے بچوں کو بہت کچھ دے رہی ہوتی ہے ۔اگر ماں بے رنگ ہوگی تو بچہ بھی بے رنگ ہوگا۔میں اگر محبت میں جی رہی ہوں تو میرا بچہ بھی محبت لے کر پیدا ہوگا۔ماں ہی بچے کو بے رنگی کی قوت دیتی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ رَبّ تعالیٰ نے انسان کو بے رنگ ہونے کی صلاحیت بخشی ہے ، رحمتہ العالمین ﷺ کی تعلیمات انسان کو بے رنگ کر دیتی ہیں ۔پھر اسی کی بے رنگی سے دُنیا میں رنگ پیدا ہوتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے، جو مائیں بے رنگ تھیں، انکے بے رنگ بچوں نے اس دنیا کو الوہی رنگ دئیے اور آج بھی انکا نام روشن ہے۔“آیت نے کہا تو ان کے درمیان کافی لمحے خاموشی رہی ،امبرین سوچتی رہی ، پھر بولی

” ایک بات ہے آ یت ؟“

” وہ کیا؟“ آ یت نے پوچھا

”جب تمہاری اپنی اولاد ہو جائے گی تو کیا سرمد سے تمہاری محبت ویسے ہی رہے گی ، جیسی اب ہے ؟“

” یہ میں تمہیں ابھی نہیںکہہ سکتی ، کیا ہوتا ہے ، یہ وقت بتائے گا؟“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا

”یہاں تم تذبذب کا شکار کیوں ہو؟“ امبرین نے پوچھا

” اس لئے کہ یہ بات میرے لئے کوئی معنی نہیںرکھتی ۔یہ سب سوشل کرئیٹس (social creates) ہیں۔معاشرے کی اپنی تخلیق کردہ ۔اور ہم اس پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر دریا تو دریا ہے لیکن اگر کوئی دریا کو بھگوان کا درجہ دے دے، دیوتا کہے انسانوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والا کہے تو کوئی کیا کہہ سکتا ہے ۔لیکن انسان کے اپنے تجرباتی علم نے دریاﺅں کی طغیانی کو زیر کر لیا ہوا ہے ان کے راستوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔اب اگر کوئی معاشرہ اس تجرباتی علم سے فائدہ نہیںاٹھاتا تو اسکی مرضی ،یا وہ دریاکو بھگوان ہی سمجھتا رہے ۔ہمارے معاشرے میں کیوں یہ فرض کر لیا گیا ہے ماں اپنی اولاد کے بغیر دوسرے بچے سے محبت نہیں کر سکتی ؟چاند گرہن میں کیوں سکون سے نہیں بیٹھ سکتی؟ یہ سب سوشل کرئیٹس (social creates) ہیںجبکہ ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے۔“

” میں ضرور سوچوں گی ۔“امبرین نے کہا

” یہی تو بات ہے کم ازکم سوچنا ضرور۔خیر تم بتاﺅ ، کیا بات ڈسکس کرنا تھی۔“ آیت نے پوچھا تو وہ سکول کے معاملات اسے بتانے لگی ۔

ز….ژ….ز

 صبح کا نور دھیرے دھیرے دُنیا پر پھیل رہا تھا۔آیت النساءہسپتال کے کمرے میں موجود بستر پر پڑی تھی ۔اسے کافی دیر پہلے آپریشن روم سے یہاں لایا گیا تھا۔ ڈلیوری نارمل ہو گئی تھی ۔وہ آ نکھیں بند کئے ہوئے تھی ، جیسے گہری نیند میں ہو ۔ہر طرف سکوت تھا ۔ایسے میں کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک نرس اپنے ہاتھوں میںگول گتھنے اور صحت مند بچہ لئے اندر آ گئی ۔ اس کے پیچھے ہی ڈاکٹر الماس تھی ۔آیت النساءنے اپنی آ نکھیںکھول دیں۔

”یہ لیںجی اپنا بیٹا۔ مبارک ہو آ پ کو ۔“ نرس نے یہ کہتے ہوئے وہ بچہ آ یت النساءکو تھمایا۔ وہ اسے پکڑتے ہوئے بولی

” خیر مبارک۔“ یہ کہہ کر اس نے بیٹے کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا،” اسے میرے پاس لانے میں اپنی دیر کیوں کر دی ؟“

” یہ رویا نہیںتھا۔جیسے عام بچے روتے ہیں۔میں پریشان ہو گئی ۔سو میں اس کے مختلف ٹیسٹ کرتی رہی ۔اس لئے دیر ہو گئی ۔“ڈاکٹر الماس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

” آپ کو کیا لگا تھا؟“ آ یت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”نہیں وہ نہیں،جومیں نے سوچا ، یہ بالکل نارمل ہے ۔ہر طرح سے نارمل ۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحے سوچتی رہی ، پھر بولیں ،” ویسے ایک بات ہے ، جس طرح اس بچے نے مجھے حیران کیاہے نا آیت النساء، اسی طرح تم نے بھی حیرت زدہ کیا۔ میری زندگی میں ،میرے ہاتھوں ان گنت بچے پیدا ہوئے ہیں لیکن میں نے پہلی بار تمہیں اور تمہارے بچے کو بہترین حالت میں پایا ہے ۔خوش وخرم ، بے خوف ، صحت مند ، سب ٹھیک ۔یہ کیسے ؟“

”میںنے ماں کے مقام کو سمجھا ہے ۔اور پھر اس مقام پر فائز ہو نے کے لئے پوری محنت کی ہے ۔یہ مقام تو بڑی خوش قسمتی ہے تو اس میں خوف کیسا؟“ آ یت نے مسکراتے ہوئے کہا، انہی لمحات میںدروازہ کھلا اور طاہر کے ساتھ سرمد اندر داخل ہوئے ۔طاہر نے آ یت نے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

” سرمد ۔! وہ دیکھو ، وہ ہے تمہارا بھائی ۔“

” میرا بھائی ۔“سرمد یہ کہتے ہوئے آ گے بڑھا، سبھی دیکھ رہے تھے ۔ انہی لمحات میں نوزائیدہ بچے نے آ نکھیں کھول دیں۔سرمد نے انتہائی خوشی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،”پاپا ، پاپا ، یہ میری طرف دیکھ رہا ہے ۔“ لفظ ابھی سرمد کے منہ ہی میںتھے کہ نوزائیدہ بچے نے اس کی انگلی تھام لی ۔

یہ ایک ایسا عمل تھاجسے سب دیکھ رہے تھے۔سبھی کی آ نکھوں میں حیرت جم گئی ۔کمرے میںکافی دیر تک حیران کن خاموشی جم رہی ۔سکوت تھا کہ ٹوٹ ہی نہیںرہا تھا۔ تبھی آ یت نے خوش کن لہجے میںطاہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

” گواہ رہنا، میرا عشق منتقل ہو گیا ہے ۔“

” ہاں۔“ اس نے سرہلاتے ہوئے کہا پھرچند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا،” اب توبتا دو کیا نام رکھا ہے اس کا؟“

” صبغت اللہ ۔“ آ یت نے یوں کہا جیسے شہد اس کے لبوں میں گھل گیا ہو ۔طاہر نے نوزائیدہ بچے کو لیا اور سرمد کی گود میں ڈال دیا۔ آیت کو لگا جیسے ہر طرف نور ہی نور بکھر گیا ہے ۔

ز….ژ….ز

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

DEVINE CHROMA Epi 13 .. Abdul Hnnan Ch

DEVINE CHROMA Epi 13 (Bay Rang Peyya By Amjad Javeed) Abdul Hnnan Ch   Rabia …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے