سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 6

میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ ساس کیا اب سب ہی رشتہ دار خواتین بار بارخوش خبری کا پوچھنے لگی تھیں۔ کبھی کبھی جھنجھلا کر خود کو کوستی کہ اس سے تو اچھا تھا کہ پہلے ہی کسی کےساتھ۔۔۔۔۔۔۔ پھر خود ہی اس سوچ پہ خود کو لعنت کرتی۔

ایک دن دوپہر سے ہی بجلی بند تھی کافی دیر تک تو کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوا سب سمجھتے رہے کہ روٹین کی لوڈشیڈنگ ہے مگر جب کئی گھنٹے گزر گئے تو پریشانی شروع ہوئی، چاروں مرد ہی اپنی اپنی جابز پہ تھے کہ پتا کرکے آتے کہ مسئلہ کیا ہے۔ شام ڈھلے ان کے آنے کے بعد بھی کچھ دیر تو ان لوگوں کے کپڑے وغیرہ تبدیل کرنے میں لگ گئے پھر اندھیرا بڑھا اور برابر کے گھروں میں روشنی دیکھی تو پتا چلا صرف ہمارے گھر میں فالٹ ہے میں اوپر کمرے میں تھی جب رافع نے بتایا کہ گھر کی لائن خراب ہے وہ اور واحد بھائی بجلی والوں کو بلانے جارہے ہیں۔ میں نے دروازہ بھیڑ دیا اور لیٹ گئی۔ کمرے کا گیس لیمپ کئی دن سے خراب تھا کئی دفع رافع اور باسط کو کہہ چکی تھی کہ جسے بھی ٹائم ملے وہ ٹھیک کردے مگر کسی نا کسی وجہ سے اس کا ٹھیک ہونا رہ ہی جاتا تھا۔ اب کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ بس دروازے اور کھڑکیوں کے کناروں سے دوسرے گھروں کی ہلکی ہلکی روشنی نظر آرہی تھی مگر کمرے کے اندھیرے پہ ان سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ میری شاید لیٹے لیٹے آنکھ لگ گئی کہ ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز پہ میری آنکھ کھل گئی۔ شاید رافع واپس آئے تھے۔ مجھے آواز سے اندازہ ہوا کہ انہوں نے کنڈی بھی لگا دی ہے۔

رافع کیا ہوا لائٹ ٹھیک نہیں ہوئی” میں نے پوچھا۔ ”

”موم بتی لے آتے نا اب ساری رات اندھیرے میں رہنا پڑے گا”

انہوں نے ششش کہتے ہوئے میرے ہونٹوں پہ انگلی رکھی۔ان کی توجہ کی ترسی ہوئی اس پیش قدمی پہ میں کچھ سوچ ہی نہیں پائی۔ میں بہت خوش تھی کہ آخر میں کامیاب ہوگئی۔

میں دل ہی دل میں اپنی کامیابی کا جشن منا رہی تھی کہ لائٹ آگئی اور مجھے ایسا لگا کہ مجھے کسی نے آسمان سے اٹھا کر پاتال میں پھینک دیا ہو۔ جسے میں اتنی دیر سے رافع سمجھ رہی تھی وہ باسط تھا۔ میرے منہ سے چیخ نکلنے ہی والی تھی کہ اس نے سختی سے میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔

”خبردار کسی کو کچھ بتایا تو۔تیرا شوہر تو کچھ کر نہیں سکتا مجھ پہ الزام لگایا تو میں صاف مکر جاوں گا۔ لچھن تیرے ایسے ہیں کہ سب ہی میری بات پہ یقین کریں گے تجھ پہ کوئی یقین نہیں کرے گا” اس کی آنکھوں میں مجھے درندے کی سی سفاکیت جھلکتی ہوئی لگ رہی تھی۔

وہ تو چلا گیا میں چپکے چپکے سسکتی رہی۔ رافع تقریبا آدھا گھنٹے بعد آئے۔ آتے ہی والٹ وغیرہ نکال کے رکھنے لگے ساتھ تفصیل بتانے لگے کہ دیر کیوں لگ گئی۔ میری طرف ان کی توجہ تب گئی جب کافی دیر تک میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

 ”کیا ہوا چپ کیوں ہو؟” انہوں نے اتنی دیر بعد پہلی دفعہ میری طرف دیکھا۔

 ”تم رو رہی تھیں۔ کیا ہوا اندھیرے میں ڈر گئیں؟” وہ پاس آگئے۔ پہلے میں نے سوچا کہ چپ رہوں مگر چپ رہتی تو یہی سب کچھ دوبارہ بھی ہوسکتا تھا۔

”رافع آپ کے بھائی نے مجھے تباہ کردیا”

”کیا مطلب کیا ڈراموں جیسا ڈائیلاگ ہے یار، کتنا غلط مطلب نکلتا ہے اس کا اندازہ ہے تمہیں۔”

 ”اس کا جو مطلب نکلتا ہے میرا وہی مطلب ہے۔ اس نے۔۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ عزت” میں اتنا کہہ کر دوبارہ رونے لگی۔

” ”کس کی بات کر رہی ہو؟ واحد بھائی یا باسط؟

 ”باسط، اور مجھے دھمکی بھی دے کر گیا ہے کہ اگر میں نے کسی کو کچھ بتایا تو وہ مجھ پہ الزام لگائے گا کہ میرے کسی اور سے تعلقات ہیں۔ رافع اتنا تو آپ مجھے جان گئے ہونگے۔ میں اتنا نہیں گر سکتی، میں مانتی ہوں کہ میری دوستیاں تھیں مگر وہ کبھی بھی ایک حد سے آگے نہیں گئیں اور شادی کے بعد میں نے خود کو آپ کے لیے محدود کرلیا ہے۔”

 ”نازیہ مجھے تم پہ شک نہیں تم بے فکر رہو۔ باسط میرا بھائی ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ مگر یہ بات باہر بھی نہیں بتائی جاسکتی۔”

”تو؟” مجھے حیرت ہوئی کہ جب انہیں مجھ پہ یقین ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے۔

 ”نازیہ ابھی تک گھر والے سمجھ رہے ہیں کہ تمہارے اور میرے بیچ سب صحیح چل رہا ہے۔ یہ مسئلہ کھولیں گے تو باسط تم پہ الزام لگانے کے لیے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں اسی لئے تم کسی اور مرد۔۔۔۔۔ ” اتنا کہہ کر رافع شاید اپنی ہی بات پہ شرمندہ ہو کر چپ ہوگئے۔

 ”نازیہ مجھے بہت عرصے بعد گھر میں عزت ملنی شروع ہوئی ہے۔ پلیز یار میری عزت رکھ لو۔ اگر اس کے نتیجے میں کوئی اولاد ہوئی تو میں اسے اپنا نام دوں گا پلیز نازیہ۔”

رافع نے ایکدم میرے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔ میں سکتے کی کیفیت میں تھی مجھے یقین ہوگیا کہ رافع مرد ہو ہی نہیں سکتا جو اپنی بیوی کی عزت لٹنے پہ غیرت دکھانے کی بجائے ہاتھ جوڑ رہا ہے۔ مجھے اس لمحے اس سے شدید نفرت ہوئی۔ میں اس کی بات ماننے پہ مجبور تھی۔ کیونکہ مجھے پتا تھا کہ میرے والدین کبھی بھی مجھے سپورٹ نہیں کریں گے۔ اس کے بعد مجھے اپنی ذات سمیت اس گھر کے ہر فرد سے نفرت ہوگئی۔ میں نے خود کو حالات کے سپرد کردیا۔ میں وہی نازیہ بن گئی جیسی شادی سے پہلے تھی۔ ہر ایک کو تکلیف دے کر خوش ہونے والی۔ جھوٹی توجہ کے لیے کچھ بھی کردینے والی۔ وقت گزرتا رہا ساس کے لیے خوش خبریاں بھی آگئیں اور میری لیے میری بد بختی کے ثبوت۔ مجھے ان دونوں بچوں سے شدیدنفرت ہے۔ میرا بس چلے تو میں باسط اور رافع سمیت ان دونوں بچوں کو مار دوں مگر بس ہی تو نہیں چلتا۔ میرا بس چلتا ہوتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو ہی کچھ توجہ دینے پہ مجبور کر لیتی۔ میں نے باسط اور اپنے تعلق کو چھپانا چھوڑ دیا۔ ہاں زبانی کلامی کہہ لیتی کہ یہ میرے بھائی جیسا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سب گھر والے بھی آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے بنے ہوئے تھے۔

آخر کچھ سال بعد باسط کی بھی شادی کروا دی گئی۔ بسمہ میری توقع سے کہیں زیادہ اچھی لڑکی تھی۔ اور یہی مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ شادی کے پہلے دن بسمہ کے چہرے پہ وہ خوشی تھی جو مجھے کبھی نہیں ملی۔ شوہر کی توجہ اور پیار ملنے کی خوشی۔ میری ذات جیسے چاروں طرف سے شدید تکلیف کی آگ میں جھلس رہی تھی۔ دوسروں کو لگے گا کہ یہ حسد تھا مگر سچ یہ ہے کہ یہ ان تمام تکلیفوں کا ردعمل تھا جو میں نے سہیں۔ جن میں میرا قصور نہیں تھا مگر ہمیشہ مجھے قصوروار ٹہرایا گیا۔ اب جب برائی کا لیبل لگ ہی گیا تو اسے پورا ہی کر کے کیوں نا دکھایا جائے۔ میں نے بسمہ کو باسط اور باقی گھر والوں کی نظروں سے گرانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئی۔ میری ہر چال میری توقع سے زیادہ کامیاب جاتی۔ میں بڑھ بڑھ کے چالیں چلنے لگی یا تو میرے اوور کانفیڈنس کا نتیجہ یا بسمہ کی آہ لگی کہ میں جو اسلم والے معاملے پہ بسمہ کو گھر سے نکلوانے پہ تلی تھی دیکھتے ہی دیکھتے بازی ہی پلٹ گئی اور میں خود خالی ہاتھ گھر سے باہر کر دی گئی۔ میں نے وہ کرنے کا سوچا جو مجھے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ میں وہاں سے سیدھی پولیس اسٹیشن گئی۔ سدا کے ٹھرکی پولیس والوں کو تھوڑی ادائیں دکھانی پڑیں مگر کام ہوگیا۔ اور شام تک باسط اور رافع تھانے میں بند تھے اور بچے میرے پاس۔ میں جو والدین کے گھر جانے سے کتراتی تھی ڈھیٹ بن کر وہاں پہنچ گئی۔ بھائی بہت پہلے ہی انہیں چھوڑ کے اپنی دنیا الگ بسا چکا ہے شاید اسی لئے وہ مجھے رکھنے پہ راضی ہو ہی گئے۔ امی اب بھی طعنے دیتی ہیں مگر ان کا ردعمل اتنا شدید نہیں جتنا میں سمجھ رہی تھی۔ مجھے امی بابا کے گھر آئے دوسرا ہفتہ شروع ہوا تھا کہ میرے نام دو خط آئے۔ ایک تو لفافے سے کوئی قانونی ٹائپ ڈاکیومنٹ لگ رہا تھا دوسرا سادہ خط والا لفافہ تھا اس پہ رائٹنگ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ رافع نے بھیجا ہے۔ پہلے تو سوچا نا پڑھوں پھر کھول ہی لیا۔ لکھا تھا۔

 ”نازیہ میں تم سے بہت شرمندہ ہوں اور اس سے بھی زیادہ خود سے۔ کاش میں نے جو فیصلہ اب کیا وہ پہلے کیا ہوتا تو نا میری زندگی اذیت میں کٹتی نا تمہاری۔ مجھے خود سے شرمندگی اس لیے بھی ہے کہ میں کبھی کسی کو سمجھا ہی نہیں سکا کہ میں بھی ایک انسان ہوں میرے بھی جذبات ہیں۔ بچپن میں مجھے اس لئے حقارت سہنی پڑتی تھی کیونکہ میں رانا صاحب کا بیٹا تھا۔ لڑکپن شروع ہوا تو مجھے احساس ہونے لگا کہ میرے جذبات باقی لڑکوں جیسے نہیں۔ مجھے نہیں پتا کیسے مگر اسکول میں ساتھی لڑکوں کو اس کا اندازہ ہوگیا انہوں نے نا صرف مجھے استعمال کرنا شروع کردیا بلکہ کھلم کھلا میرا مذاق بھی اڑاتے۔ میری اتنی تشہیر کی گئی کہ یہ بات گھر تک پہنچ گئی۔ میں روز ابو سے اس بات پہ پٹتا جس میں میرا کوئی قصور ہی نہیں تھا۔ اسکول میں ٹیچرز اسٹوڈنٹس مجھ سے ایسے کتراتے جیسے مجھے کوئی چھوت کی بیماری ہے۔ میری ہر رات روتے ہوئے گزرتی تھی۔ میں بلک بلک کر خدا سے دعا مانگتا کہ یا تو مجھے ایسا پیدا ہی نا کرتا یا اب مجھے مار دے۔ میرے مسئلے کا کوئی حل ہی نہیں تھا۔ کم از کم ہیجڑا ہی ہوتا تو انہی کے ساتھ زندگی گزار لیتا۔ مجھے پتا تھا کہ کوئی فائدہ نہیں مگر پھر بھی جو کوئی بھی کسی علاج کا مشورہ دیتا وہ میں نے کروایا۔ نازیہ تمہیں شاید اندازہ نہ ہو ایسی زندگی کا جس پہ آپ کا اختیار ہی نا ہو۔ جہاں آپ کے جذبات ذہنی بیماری سمجھے جاتے ہوں۔ میں تمہیں ازدواجی خوشی نہیں دے پایا مگر پھر بھی ہر طرح سے تمہیں سپورٹ کیا تاکہ اس کا مداوا کرسکوں۔ مگر تم میری سپورٹ کو حق سمجھ کے وصول کرتی رہیں۔ تم کھانا نہیں بناتی تھیں میں خاموشی سے لے آتا تھا۔ اپنے کپڑے خود ہی دھو لیتا تھا۔ بچوں کی ضروریات کا بھی خیال کرلیتا تھا۔ بیماری میں کبھی تم نے زحمت نہیں کی کہ یہ دیکھ لو کہ میں نے دوا کھائی یا نہیں۔ مگر مجھے پتا تھا کہ تم میری وجہ سے وہ سب جھیل رہی ہو جس کی تم بالکل حقدار نہیں۔ اس دن جس طرح میں نے تمہیں گھر سے نکالا اس پہ میں بہت شرمندہ ہوں میں ایک دم بہت زیادہ ڈر گیا تھا مجھے لگا دوبارہ بچپن کی طرح سب میری تذلیل کریں گے میرا مذاق اڑائیں گے۔ مجھے ہر طرف سے تحقیر بھرے قہقہے سنائی دے رہے تھے۔ اور اس شور نے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بالکل ختم کردی تھی۔ تم نے جو کیا ٹھیک کیا۔ مجھے اور باسط کو ہماری غلطی کی سزا ملنی چاہیے۔ اور یہ سزا بہت پہلے مل جانی چاہیے تھی۔ میری کچھ لمحوں کی کمزوری نے کئی سال تمہیں اذیت میں مبتلا رکھا۔ نازیہ میں اگر زندہ رہا تو یہ سب اذیتیں مجھے پاگل کر دیں گی۔ ہوسکے تو مجھے معاف کردو۔ تمہیں طلاق نہیں دے سکتا ورنہ میری کسی چیز پہ تمہارا حق نہیں رہے گا۔ لیکن میری منکوحہ ہونے کی صورت میں میرے مرنے کے بعد تم میری پینشن اور باقی اثاثوں کی قانونی ملکیت حاصل کرسکو گی۔ جب تک تمہیں یہ خط ملے گا میں مر چکا ہونگا۔ خودکشی کے علاوہ میرے پاس اب اس اذیت کا کوئی حل نہیں۔ یہ خط میں اپنے اس دوست کو دے کے جاوں گا جس کے ساتھ رہ رہا ہوں اسے کہہ دوں گا کہ مجھے کچھ ہوجائے تو تمہیں یہ خط پوسٹ کردے اور مجھ سے متعلق کسی بھی قسم کے کاغذات بھی تمہیں ہی بھیجے۔ اگر تمہیں ڈیتھ سرٹیفکیٹ نا ملے تو خط میں سب سے نیچے لکھے نمبر پہ رابطہ کرلینا۔ اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔”

میں نے خط پڑھ کے فورا دوسرا لفافہ کھولا اور توقع کے مطابق وہ رافع کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہی تھا۔ وجہ فوڈ پوائزنگ سے ڈیتھ لکھی تھی۔

میں پہلی بار اتنا بلک کے روئی جیسے کبھی نہیں روئی تھی۔ مجھے لگا جیسے میں نے رافع کو مارا ہے۔ اس نے مجھے کتنی تفصیل سے اپنا مسئلہ بتایا اور ہربار میں نے اسے جھوٹا سمجھا۔ باسط کی غلطی میں رافع کا بھی ہاتھ تھا مگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا وہ اس کے علاوہ کچھ اور کرسکتا تھا؟ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہمارے کردار اور جذبات سے زیادہ اہم معاشرے کے معیار ہیں ایسے معاشروں میں ہر رافع کی زندگی جہنم ہے اور ہر نازیہ کے پاس سوائے خود کو نمائش کی چیز بنانے کے کوئی راستہ نہیں۔

احساس شرمندگی اتنا زیادہ تھا کہ شاید میں بھی خودکشی کرلیتی مگر ان دو معصوموں کے لیے جنہیں رافع نے اپنا نام دیا اورباسط کو سزا دلانے کے لیےمیں نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ باسط کو سزا دلانا اس لیے ضروری ہے تاکہ کوئی دوسرا باسط کسی دوسری نازیہ کی مجبوری کا فائدہ نا اٹھا سکے۔

آپ سے بس اتنی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو اتنا نظر انداز نا کریں کہ انہیں توجہ کے لیے نازیہ بننا پڑے۔

سب اٹھ اٹھ کر کمروں میں جانے لگے۔ باسط اٹھنے لگا تو بسمہ سہارا دینے لگی باسط نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور لڑکھڑاتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ بسمہ خاموشی سے ہونٹ کاٹنے لگی۔ اس نے بیچارگی سے اپنی طرف دیکھتی زیبا بھابھی کو دیکھا۔ انہوں نے رکنے کا اشارہ کیا اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

چند منٹوں کے بعد ہی وہ واپس آئیں تو ہاتھ میں دواوں والا ڈبہ تھا۔

”بسمہ تم ایک پیالے میں پانی لے آو میں اوپر جارہی ہوں۔”

بسمہ اتنی تیزی سے پیالے میں پانی لے کر پلٹی کہ زیبا بھابھی پوری سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ پائیں تھیں کہ وہ بھی پیچھے پہنچ گئی۔ وہ دونوں تقریبا ساتھ ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوئیں۔

باسط سیدھا سیدھا لیٹا ہوا تھا اور ایک بازو آنکھوں پہ رکھا ہوا تھا۔

”باسط! باسط اٹھو شاباش دوا لگواو۔”

زیبابھابھی نے باسط کو آواز دی۔ باسط نے بازو ہٹایا بسمہ پہ نظر پڑتے ہی دوبارہ رکھ لیا۔

”بھابھی اس کو کہیں میرے سامنے سے دفع ہوجائے۔ مجھے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنی”

 ”حد ہوتی ہے بچپنے کی باسط۔ اس کو صفائی کا موقع دیئے بغیر ہی اس پہ ناراض ہورہے ہو۔ خود تم نے کیا کیا اس پہ کچھ دھیان ہے کہ نہیں۔” ساتھ ہی زیبا بھابھی نے اسے بازو پکڑ کر بٹھا دیا۔ اور تھوڑا ڈیٹول روئی پہ لگا کر زخم صاف کرنے لگیں۔

 ”بھابھی آپ عورتوں کو بس اپنا آپ ہی مظلوم نظر آتا ہے۔ سسسس آہستہ کریں درد ہورہا ہے۔” اس نے ایک دم چہرہ پیچھے کیا۔ کچھ سیکنڈ کو رکا جیسے درد پہ قابو پانے کی کوشش کر رہا ہو۔

 ”جو کچھ ہوا اس میں نازیہ بھی شامل تھی بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اسی کی غلطی زیادہ ہے۔ اس کے کپڑے دیکھتی تھیں نا آپ، چھوٹا سا رومال سر پہ منڈھ لینے سے پردہ نہیں ہوجاتا۔ اب ایسے کپڑوں میں جوان عورت سامنے ہو تو مرد بہک ہی جاتا ہے۔”

 ”یہ تاویلیں تم ہمیں دے سکتے ہو عدالت میں نہیں۔ تمہارا جرم ثابت کرنے کے لیے وہ بچے ہی کافی ہیں۔اب پیناڈول کھاو دو اور سو جاو۔ بسمہ خیال کرنے والی لڑکی ہے اب اپنی زندگی بہتر بنانے کی طرف توجہ دو تھوڑی۔ جو بگڑ گیا اسے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا مگر آگے کی زندگی ٹھیک کی جاسکتی ہے۔”

 ”بھابھی آپ کو پتا ہے میں تو داغ والا سیب نہیں کھاتا ایسی عورت کو بیوی بنا کے کیسے رکھ سکتا ہوں جس کے دوسرے مردوں سے تعلق رہے ہوں بلکہ شاید اب بھی ہوں۔”

 ”واہ باسط صاحب آپ کے معیار اچھے ہیں آپ پہ زنا بالجبر کا الزام ہو تو بھی آپ پاکیزہ اور میرے لیئے ایک میسج بھی آجائے تو میں داغ دار۔”

 ”بسمہ تھوڑی دیر چپ رہو۔” زیبا بھابھی نے اسے ٹوکا۔

”دیکھو باسط ابھی تم پہ جو کیس ہے وہ مسئلہ زیادہ اہم ہے، اس پہ توجہ دو۔ یہ میسج والا مسئلہ بعد میں بھی نپٹایا جاسکتا ہے۔”

 ”آپ کے لیئے ہوگا چھوٹا مسئلہ میرے لیے نہیں ہے مجھے گھن آرہی ہے یہ سوچ سوچ کر کہ میں اتنی دن ایسی عورت کے ساتھ سویا ہوں جس کے کسی سے تعلقات رہ چکے ہیں۔”

 ”مجھے زیادہ گھن نہیں آنی چاہیے؟ میں نے آپ کو غیر عورتوں کو گھورتے ہوئے دیکھا ان پہ فحش کمنٹس کرتے سنا اپنی آنکھوں سے آپ کی اور نازیہ بھابھی کی بے تکلفی دیکھی اور آپ تو اب الزام بھی مان رہے ہیں۔” بسمہ چپ نہیں رہ پائی

”دیکھیں ذرا آپ مجھے سمجھا رہی ہیں اس کی زبان نہیں دیکھ رہیں۔ شوہر ہوں اس کا عزت کا محافظ ہو اس کی۔ میری جان کی فکر کرنے کی بجائے مجھے طعنے دے رہی ہے۔”

وہ ایک دم کھڑا ہوگیا۔ آگے بڑھ کے بسمہ کے بال پکڑ لیے۔

 ”تو اگر یہ سمجھ رہی ہے نا کہ تیرا کوئی یار ہے اور اس کی شہہ پہ تو مجھے دبا لے گی تو بھول ہے تیری۔ زندہ گاڑ دوں گا یہیں گھر کے صحن میں کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ بسمہ بیگم گئیں کہاں۔”

اتنی زور سے بال پکڑنے پہ بسمہ کی چیخ نکل گئی۔

 ”باسط بالکل ہی ہوش کھو بیٹھے ہو کیا۔ چھوڑو اسے۔ اور تم بھی خاموش رہو۔ شوہر کی حالت دیکھو مرہم پٹی کرو اس کی۔ اس مسئلے سے جان چھوٹے پھر لڑتے رہنا آپس میں۔” زیبا بھابھی نے دونوں کو سمجھا بجھا کر باسط کے زخم کے اردگرد سے مٹی وغیرہ صاف کر کے دوا لگائی اور خود ہی دوا کھلا کر نیچے گئیں۔

ان کے جاتے ہی باسط نے بسمہ کا تکیہ نیچے پھینکا اور کروٹ بدل کر سو گیا۔

باسط کا رویہ اگلے دن بھی اکھڑا اکھڑا ہی رہا۔ خود بسمہ کو بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک ایسے مرد کی جی حضوری کیوں کر رہی ہے جو ایک عورت کی عزت لوٹ چکا ہے۔ پھر خیال آتا کہ شاید نازیہ بھابھی بھی تو شامل تھیں ان کی بھی غلطی ہوگی۔ ان کے اور باسط کے تعلق سے کہیں سے بھی نہیں لگتا تھا کہ ان پہ کوئی زبردستی ہوئی ہے۔ اور وہ اگر باسط کے ساتھ نا رہتی تو کہاں جاتی۔ اسے پتا تھا کہ اس کے میکے میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ مگر شاید آگے اس کی زندگی میں کچھ اور لکھا تھا۔

چند دن ہی گزرے ہونگے ایک دن باسط نے خود اسے مخاطب کیا۔ اسے حیرت تو ہوئی مگر شکر بھی کیا کہ باسط نے شاید اپنی ناراضگی ختم کردی ہے۔ کیونکہ لہجہ بھی نرم ہی تھا۔

”بسمہ تم سے بات کرنی ہے، تمہاری مدد چاہیے”

” جی باسط میری کوشش ہوگی کہ میں جس حد تک آپ کی مدد کرسکوں ضرور کروں۔”

” صرف کوشش نہیں، ضرور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے”

” جی آپ بتائیں تو۔”

 ”دیکھو تمہیں پتا ہے میری تنخواہ بس مناسب ہے گھر وغیرہ کا خرچہ کرنے کے بعد بچت نہیں ہوتی۔ جب سے کیس شروع ہوا ہے میرا بہت خرچہ ہوگیا ہے۔ پولیس والوں کو اتنے پیسے دینے پڑے۔ وکیل کو دیئے آنے جانے میں بھی خرچہ۔ اب مزید پیسوں کی ضرورت ہے۔”

”باسط میں کہاں سے پیسے لاوں گی میں تو کوئی جاب بھی نہیں کرتی نا مجھے کوئی جیب خرچ دیتے ہیں آپ جو جمع ہو۔”

”اس وقت طعنے دینے کی ضرورت نہیں”

”طعنہ نہیں دے رہی صرف بتا رہی ہوں”

 ”میں نے کب کہا کہ تمہارے پاس پیسے ہونگے۔ میں تو کہہ رہا ہوں اپنے ابو اور بڑے بھیا سے بات کرکے دیکھو۔ ان کو راضی کرو کہ وہ کچھ پیسے دے دیں۔”

”باسط میں ان سے پیسے نہیں مانگتی عادت ہی نہیں۔”

 ”شوہر مر رہا ہے تمہیں عادت اور عزت کی پڑی ہے۔ یا تو کہہ دو کہ تم چاہ ہی یہ رہی ہو کہ میں جیل جاوں اور تم اپنے عاشق کے ساتھ گل چرے اڑاو۔”

”باسط ایسی بات نہیں ہے آپ بات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ اچھا کتنے پیسوں کا بندوبست کرنا ہے؟”

” فی الحال ایک لاکھ تو ہوں باقی دیکھتے ہیں کب کتنے کی ضرورت پڑے۔”

”ایک لاکھ؟ اتنے سارے پیسے کیوں؟”

 ”تمہارے باپ سے پیسے منگا کر ملیں لگاوں گا اپنی۔ احمق عورت اندازہ بھی ہے ابھی تک کتنا خرچہ ہوگیا ہے۔ پہلی ہی دفعہ ضمانت میں 80 ہزار سے زیادہ خرچہ ہوگیا تھا۔ اب تک ملا جلا کر ڈیڑھ لاکھ خرچ ہوچکا ہے۔”

”باسط آپ کی بات ٹھیک ہے مگر اتنے پیسے وہ دے کیسے سکتے ہیں۔”

 ”کیوں نہیں دے سکتے اچھا کھاتے کماتے ہیں۔ اب تو گاڑی بھی لے لی ہے تمہارے بھائی نے۔ شادی شدہ ہے نہیں کہ بیوی بچوں کا خرچ ہوگا۔ بہنوں کو نہیں دے گا تو کیا کرے گا اتنے پیسوں کا۔ باپ بھی کما ہی رہا ہے تمہارا ریٹائرڈ ہوتا تو چلو کہتے کہ پیسے کی تنگی ہے۔”

” وہ تو ہے مگر ان کی اپنے خرچے بھی تو ہیں۔ بھیا اوپر اپنے لیے پورشن بنوا رہے ہیں اس میں بھی ان کا خرچہ ہورہا ہے۔”

 ”سیدھا سیدھا کہو کہ تم پیسے لینا ہی نہیں چاہتیں۔”

بہن کے لیے پورشن لیٹ کروالیں گے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ بہن بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔””

”مگر باسط”

”بس بحث مت کرو سامان سمیٹو اپنے ابا کے گھر جاو اور اس گھر میں قدم اب تب ہی رکھنا جب پیسوں کا بندوبست ہوجائے۔”

باسط نے زبردستی اس کا سامان پیک کروایا اور خود ہی سسرال فون کردیا کہ اسد کو بھیج دیں بسمہ آپ لوگوں سے ملنے کے لیے بے چین ہورہی ہے۔

بسمہ میکے آتو گئی مگر اس کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ پیسے کیسے مانگے وہ بھی ایک لاکھ ایک ساتھ۔ اس کی ذات پہ گھر والوں نے ایک ساتھ کبھی 5 ہزار خرچ نہیں کیے سوائے شادی کے۔ تو ایک لاکھ کہاں سے دیتے۔ دو تین دن تو ایسے ہی گزر گئے۔ دادی اور امی دونوں اس کے اس طرح آنے پہ مشکوک ہوگئیں کیونکہ وہ اتنے دن رکنے آئی ہی نہیں کبھی۔ دادی کئی دفعہ خیریت پوچھتیں باسط کا حال پوچھتیں۔ ان کو ابھی تک مقدمے والی بات پتا نہیں چلی تھی۔ بس یہ پتا چلا تھا کہ نازیہ لڑ کے اپنے گھر چلی گئی ہے تو اس کے لیے دادی اور امی کا خیال تھا کہ اس جیسی عورت تو اتنے عرصے بس گئی وہی حیرت ہے۔ باسط کا روز فون آتا تھا اور باتوں باتوں میں روز ہی دھمکی بھی ملتی تھی۔

ایک دن دادی نے اسے گھیر ہی لیا۔ شاید امی اور دادی کا پہلے ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ ہوگیا تھا۔ کیونکہ امی بھی سب کام وام چھوڑ کر پاس آکر بیٹھ گئیں۔

”باسط میاں سے بات ہوئی کب لینے آرہے ہیں تمہیں؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے”

”دادی ابھی تو میرا کچھ دن رہنے کا ارادہ ہے۔ ویسے سب ٹھیک ہے”

”دیکھو بی بی دیکھنے میں سب ٹھیک لگ رہا ہے مگر جیسے تم آکر رہ رہی ہو یہ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔ ہمارا بھی کچھ تجربہ ہے”

”دادی میں اگر آتی نہیں تو کیا مجھے اپنے گھر آکر رہنے کا حق نہیں۔”

” ”آو ضرور آو جتنے دن رہنا ہے رہو مگر بیٹا بات ہی یہی ہے کہ تم رہ سکتی ہو مگر رہتی نہیں ہو تو اب یہ چپ چاپ اتنے دن کا رہنا کھٹک رہا ہے۔ کوئی جھگڑا ہوا ہے باسط سے؟” بسمہ کا سر جھک گیا نفی میں سر ہلایا۔ ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

”دادی باسط کو پیسوں کی ضرورت ہے”

”اے ہے کیوں”

”نازیہ بھابھی نے کیس کردیا ہے رافع بھائی اور باسط پہ”

”ہیں نازیہ نے کیوں۔ مجھے پہلے ہی اندازہ تھا وہ ہے ہی اوچھی قسم کی عورت اس سے کوئی بعید نہیں۔”

””وہ۔۔۔۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ باسط نے۔۔۔۔۔” بسمہ کہہ کر خاموش ہوگئی شاید اتنی شرمندگی باسط کو عزت لوٹ کے نا ہوئی ہو جتنی بسمہ کو یہ بتاتے میں ہورہی تھی کہ اس کا شوہر ایک عورت کی عزت لوٹ چکا ہے۔

” ”کیا باسط نے” اس بار امی بولیں

” ”ان کا کہنا ہے کہ باسط نے ان کا ریپ کیا ہے اور اس میں رافع بھائی کی مرضی شامل تھی” بسمہ کا دل چاہ رہا تھا یہ بتانے کی بجائے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔

” ”ہائے میرے اللہ۔” دادی نے ایک ہاتھ سینے پہ رکھ لیا۔

” ”دیکھا کیسی جھوٹی عورت ہے کیسا گھنا ¶نا الزام لگایا ہے اپنے دیور اور شوہر پہ بھلا شوہر بھی اپنی مرضی سے یہ کروائے گا۔ ایسے ہی پتا چل رہا ہے کہ یہ عورت کتنی جھوٹی ہے۔””

بسمہ نے دادی کی رائے پہ کچھ کہنے کی بجائے مقصد کی بات کی۔

” ”دادی اب مسئلہ یہ ہے کہ تھانے کچہری میں ان کا بہت خرچہ ہورہا ہے اور آپ کو اندازہ تو ہوگا کہ ان کی تنخواہ بھی زیادہ نہیں ہے۔ میں نے ہی ان سے کہا کہ میں ابو سے بات کر کے دیکھتی ہوں شاید کوئی بندوبست ہوسکے۔ وہ تو ناراض ہورہے تھے کہ کسی سے بھی کوئی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔””

”ائے ہاں اچھا کیا تم نے بتا کہ وہ بھی ہمارا بیٹا ہے جتنا ہوسکے گا ہم کریں گے۔”

دادی نے فورا حامی بھر لی۔

” ”کتنا چاہیئے تقریبا؟” امی نے پوچھا اب

”امی تقریبا لاکھ کے قریب خرچہ ہے آپ دیکھیں ابو سے بات کر کے کتنا ارینج ہوسکے گا؟”

”یہ تو کافی بڑی رقم ہے بسمہ آسانی سےتو نہیں ہوپائے گا انتظام۔”

”امی آپ بات تو کریں دیکھیں پھر بھیا اور ابو کیا کہتے ہیں۔”

” ”اپنے بھیا کا تو تم چھوڑ ہی دو کہ وہ کوئی پیسا دے گا تمہیں پتا نہیں ہے کیا۔ دیتا ویتا کچھ نہیں بس شور زیادہ مچاتا ہے۔” بسمہ نے سر ہلا دیا۔

شام میں ابو آئے تو امی نے فورا یہی بات نکال لی شاید انہیں موقعے کی نزاکت کا اندازہ ہوگیا۔

ابو نے سوچتے ہوئے سر ہلایا

”یعنی مجھے جو اڑتی اڑتی افواہیں پتا چل رہی تھیں وہ ٹھیک ہی تھیں کہ باسط صاحب کیا کارنامے کر چکے ہیں”

”اب آپ یہ چھوڑیں کہ اس نے کیا کیا ہے ابھی تو بیٹی کے گھر بچانے کا مسئلہ ہے۔”

”جب ایسی حرکت کی تھی تب ہی برخوردار کو سوچنا چاہیے تھا کہ مسئلہ گلے پڑا تو کیا کریں گے۔”

” ”اففو مشتاق صاحب بلاوجہ بحث کر رہے ہیں ابھی تو یہ بھی پکا نہیں کہ اس بیچارے نے یہ کیا بھی ہے یا نہیں نازیہ کوئی سیدھی سادھی عورت نہیں کہ اسے کسی نے ایسے استعمال کر لیا ہوگا۔ مجھے تو جھوٹا ہے لگ رہا ہے الزام۔ ابھی آپ یہ بتائیں کہ بیٹی کی مدد کیسے کریں۔””

” ”مسئلہ تو سنجیدہ ہے مگر اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں نکالے جاسکتے۔ ایک دفعہ اسے دی دیئے تو اس کا بھی منہ کھل جائے گا اور باقی دامادوں کو بھی شہہ دینے والی بات ہوگی۔””

” ”مشتاق صاحب بیٹی کے گھر کا سوال ہے کہنے کو اس نے کہہ دیا کہ وہ خود آئی ہے مگر میں ماں ہوں اچھی طرح جانتی ہوں اسے وہ خود سے اتنا بڑا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ باقی دونوں کی طرح نہیں ہے یہ۔ وہ اگر ایسا کوئی تقاضہ کرتیں تو میں آپ کی ہی حمایت کرتی۔”

” ”یار تم سمجھا کرو۔ میری ریٹائرمنٹ قریب ہے تمہارے بڑے سپوت سے تو مجھے کوئی امید نہیں کہ وہ بڑھاپے میں ہم پہ کچھ خرچ کرے گا یہ جو میں نے جمع کیا ہے یہی سہارا ہوگا بس۔ یہ بھی اولاد پہ لٹادوں تو ہم تم بھیک مانگتے نظر آئیں گے بعد میں۔””

” ”توبہ ہے اتنی بری بھی نہیں ہماری اولاد۔ اور لاکھ روپے نا بھی سہی کچھ بندوبست تو کرنا پڑے گا نا بیٹی نے پہلی بار کچھ مانگا ہے خالی ہاتھ تو واپس نہیں بھیجیں گے اسے۔”

”اچھا میں دیکھتا ہوں شاید بیس پچیس ہزار کا بندوبست کرسکوں اس سے زیادہ کی امید نا رکھنا۔”

”مگر یہ توبہت کم ہیں”

بس یہی ہیں جو بھی ہیں آگے تمہاری مرضی” امی نے بسمہ کو بتایا تو اس کا دل ڈوب گیا۔ ”

رات میں دوبارہ باسط کا فون آیا۔ باسط سن کے شدید ناراض ہوگیا اس کا کہنا تھا کوشش کرو کہ تمہارے کنجوس ابا 20 سے کم از کم پچاس ہزار پہ تو آجائیں۔

اگلے دن دوبارہ یہی بحث ہوئی ابو آخر کار تیس ہزار تک مان گئے۔ امی نے اسے دس ہزار اپنے پاس سے دے کر چالیس ہزار پورے کر دیئے۔جب وہ اسد کے ساتھ سسرال کے لیے نکلی تو شام ڈھلنے لگی تھی موسم بھی ٹھیک نہیں تھا بادل کافی گہرے تھے اور بہت گھٹن تھی جیسے بس کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی ہو۔ ابو نے نکلتے نکلتے اسے جتا دیا کہ یہ پہلی اور آخری بار ہے اس کے بعد اس کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ اس کی زندگی ہے اسے اپنے مسائل خود دیکھنے ہوں گے۔ ان کی ذمہ داری شادی کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ بھیا ساتھ کھڑے ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ اس کا دل کسی انجانے خدشے کی بنا پہ بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ عجیب سی متلی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ سسرال جانے ک بجائے کہیں اور بھاگ جائے اسے پتا تھا کہ باسط کا ردعمل بہت شدید ہوگا۔ وہ جب تک سسرال والے گھر پہنچی اندھیرا تقریبا ہوچکا تھا اسد اسے دروازے پہ چھوڑ کر واپس مڑ گیا۔

دروازہ بجاتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی سی بوندا باندی شروع ہوگئی بوندیں کم تھیں مگر بہت موٹی موٹی تھیں۔ ساتھ ہی بادلوں میں گڑگڑاہٹ شروع ہوگئی اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹ دیا۔ دروازہ کھلا تو سنیہ سامنے تھی۔

”اف بھابھی آپ نے ڈرا دیا اتنی بری طرح دروازہ بجاتے ہیں کیا۔ جلدی اندر آجائیں بارش تیز ہونے والی ہے۔” وہ بھی فورا اندر آگئی بادلوں کی گڑگڑاہٹ نے اسے بہت ڈرا دیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کانپ رہی تھی۔ وہ ہال تک پہنچی تو باسط نیچے ہی آرہا تھا۔ باہر بارش تیز ہوگئی تھی۔ گڑگڑاہٹ کا شور اتنا تھا کہ عام بات بھی چیخ کے کرنی پڑ رہی تھی۔

”واہ بھئی میری بیگم میدان فتح کر کے آگئیں؟”

سنیہ انہیں باتیں کرتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں گھس گئی۔ واحد بھائی کہ کمرے پہ تالا لگا ہوا تھا یعنی وہ سب ہی کہیں گئے ہوئے تھے۔

”ہاں دو بھئی کتنی دولت لٹائی سسر صاحب نے اپنی چہیتی بیٹی پہ”

بسمہ نے کانپتے ہاتھوں سے چالیس ہزار کی گڈی پرس میں سے نکال کر باسط کے ہاتھ میں دی اور اوپر جانے لگی

”محترمہ گننے تو دیں کہ کتنے پیسے ہیں تاکہ آپ کو گھر میں رہنے کی پرمیشن دی جائے۔” باسط نے بازوپکڑ کے روکا۔

”کم ہوئے تو”

”تو آپ دوبارہ جائیں گی مہم سر کرنے”

” اتنی بارش میں۔ باسط کوئی سواری بھی نہیں ملے کی اب۔ اسد بھی چلا گیا۔”

باسط کی پیشانی پہ بل آگئے

”یعنی پیسے کم ہیں” اس نے بڑھ کے تھپڑ مارا بسمہ کے منہ پہ تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ وہ لڑکھڑا گئی۔

”بھیک لینے بھیجا تھا تیرے باپ سے جو چند ٹکے لے کے واپس آگئی؟”اسے بازو پکڑ کے کھڑا کیا۔

” نکل ابھی گھر سے، جا واپس پورے پیسے لائے گی تو ہی گھر میں گھسنے دوں گا۔” وہ اسے گھسیٹ کے باہر لے جانے لگا۔

باسط پلیز ایسا مت کریں باسط مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے۔ سنیہ۔۔۔۔۔ سنیہ۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ انہیں روکیں۔ باسط پلیز آپ جو کہیں گے میں ویسا کروں گی مجھے گھر سے مت نکالیں، میں کہاں جاوں گی۔” وہ حلق کے بل چیخ رہی تھی مگر بادلوں اور بارش کے شور میں اس کی آواز دب گئی وہ رستے میں آتی ہر چیز پکڑ کر خود کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ باسط نے اسے باہر دھکیل کے دروازہ بند کردیا۔وہ جھٹکے سے نیچے گری پھر اٹھ کر اندر آنے کی کوشش کی مگر تب تک باسط دروازہ بند کرچکا تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح دروازہ بجانے لگی چیخ چیخ کر کبھی باسط کو کبھی باقی گھر والوں کو آواز دے رہی تھی۔ اتنی میں لائٹ چلی گئی پوری گلی میں ایک دم گھپ اندھیرا ہوگیا۔ وہ سہم کر دروازے کے کونے میں دبک گئی۔ بہت دیر وہیں بیٹھی سسکتی رہی آہستہ آہستہ اس کے حواس ساتھ چھوڑتے جارہے تھے۔ وہ بھول گئی کہ وہ یہاں کیوں بیٹھی ہے بس ہر دفع بادلوں کی گڑگڑاہت اسے زیادہ دہشت زدہ کردیتی تھی۔ بادل ایک دم بہت زور سے گرجے اور وہ اندھیری گلی میں کچھ سوچے سمجھے بغیر بھاگنے لگی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں بھاگ رہی ہے ایک دم کسی نے پکڑ لیا۔

”او لڑکی کہاں بھاگ رہی ہے پاگل ہے کیا اتنی بارش اور اندھیرے میں باہر گھوم رہی ہے۔”

بسمہ نے خالی جالی نظروں سے اس شخص کو دیکھا۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آیا کہ وہ شخص کیا کہہ رہا ہے۔ پھر اسے نہیں پتا کب وہ اسے وومین پولیس اسٹیشن لے کر گیا وہاں کیا کاروائی ہوئی وہ گم سم سی تھی مستقل۔ اس رات اسے وہیں رکھا گیا اگلے دن دس گیارہ بجے ہی دو لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ اسے عدالت لے جایا گیا۔ جج اور وکیل اس سے پوچھتے رہے مگر وہ خالی خالی آنکھوں سے سب کو دیکھتی رہی۔آخر کار جج نے اپنا فیصلہ سنا کر معاملہ برخواست کردیا۔

اسے پولیس کی گاڑی میں بٹھایا گیا کچھ دیر گاڑی چلتی رہی اور ایک بڑی سے عمارت کے سامنے جاکر رکی۔ اس کا بڑا سا گیٹ تھا گیٹ کے پاس ایک پولیس والا مستعد کھڑا تھا گیٹ کے اوپر موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا

”دار الامان”

گیٹ کھلا اور گاڑی سیدھی اندر چلی گئی۔ اونچی خاردار دیواروں کے اندر کی دنیا بہت الگ تھی۔ باہر سے دیکھنے میں جو قید خانہ لگ رہا تھا اندر سے ماحول کافی مختلف تھا۔ کافی بڑے حصے پہ گھاس لگی ہوئی تھی۔ کچھ بینچیں لگی ہوئی تھیں ان میں سے کچھ بینچیں ٹوٹی ہوئی بھی تھیں۔ ایک طرف چھوٹی عمارت تھی جس پہ مینجمنٹ بلاک لکھا تھا۔ دوسری دو منزلہ عمارت ہوسٹل کی طرح تھی اور کافی بڑی تھی۔ وہاں گیٹ پہ ایک لیڈی کانسٹیبل بیٹھی تھی اور دو تین چھوٹے بچے کھیلتے نظر آرہے تھے۔مینجمنٹ بلاک کے پاس ایک بندہ پودوں کو پانی دے رہا تھا۔ ساتھی پولیس والے نے اتر کے اس سے دعا سلام کی۔ لگ رہا تھا کہ ان کا آپس میں ملنا ہوتا رہتا ہے۔

”میڈم بیٹھی ہیں؟”

”ہاں ہیں تو مگر جانے والی ہیں۔ ویسے بھی مسئلہ کیا ہے انٹری تو حمید بھائی نے کرنی ہے میڈم ہوں یا نا ہوں۔”

”نہیں یار کیس الگ ہے تھوڑا، لڑکی کچھ بتا ہی نہیں رہی۔ جج کے آرڈر ہیں کہ اس کا فورا فزیکل اور مینٹل چیک اپ کرا کے دو دن میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ میڈم بیٹھی ہونگی تو جلدی نمٹ جائے گا کام۔ حمید بھائی(کلرک) ٹال دیتے ہیں پھر ہمارے گلے میں پڑتی ہے فلم۔ پولیس والوں پہ ویسے ہی نظر ہوتی ہے سب کی، کب ہم کوئی غلطی کریں اور کہا جائے یہ تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔”

”ہاں تو جاو جلدی باتیں کرنے میں کیوں لگ گئے۔”

اتنی دیر میں دو لیڈی کانسٹیبل بسمہ کو اندر لے گئیں۔ یہ پولیس والا بھی جلدی جلدی قدم بڑھا کے ان کے پیچھے پیچھے مینجمنٹ بلاک کی طرف بڑھ گیا۔

ایک لیڈی کانسٹیبل ایک کمرے میں چلی گئی جو نسبتا بڑا کمرا تھا اورباہر اسسٹنٹ ڈائریکٹر دارالامان کی تختی لگی تھی۔ تھوڑی دیر بعد باہر آکر وہ بسمہ کو بھی اندر لے گئی۔ سامنے ہی ایک ادھیڑ عمر خاتون بیٹھی تھیں جن کے بادامی رنگ کے باب کٹ بال دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ رنگے گئے ہیں۔ اپ ٹو ڈیٹ قسم کی ڈریسنگ میں ملبوس خاتون کی امارت پہلی ہی نظر میں مرعوب کرنے والی تھی۔

”ٹھیک ہے بیٹا آپ لوگ باہر بیٹھو میں اس بچی سے بات کر کے آپ لوگوں کو بلاتی ہوں”

میڈم کا لہجہ نرم ضرور تھا مگر اپنی سیٹ کی اتھارٹی سے بھرپور تھا۔ لیڈی کانسٹیبل نے بسمہ کو میڈم کے قریب والی کرسی پہ بٹھا دیا اور خود باہر چلی گئی۔

”بیٹا آپ بالکل پریشان نا ہوں آپ محفوظ جگہ پہ ہیں۔ آپ کو اپنا نام یاد ہے؟”

بسمہ نے خالی خالی نظروں سے میڈم کو دیکھا۔

”آپ گھر سے کیوں نکلی ہو؟ اچھا ایسا کرو میں جو پوچھوں اس کا ہاں یا نا میں جواب دیتی جاو اور پریشان نا ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔”

بسمہ نے کھوئے کھوئے سے انداز میں ہاں میں سر ہلا دیا

اس کے بعد وہ جو پوچھتی رہیں بسمہ اسی طرح ہاں میں سر ہلاتی رہی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا پوچھ رہی ہیں۔

”بیٹا آپ کسی سے شادی کرنا چاہتی ہیں؟ اس نے دھوکا دیا آپ کو؟ گھر والے ماریں پیٹیں گے؟”

میڈم نے بیل بجا کر پولیس والی اور کلرک کو بلایا۔ بسمہ کو باہر بھیج کر کلرک سے کہا

”ہاں حمید وہی مسئلہ ہے روٹین والا گھر سے پسند کی شادی کے لیے نکلی ہے مگر وہ بندہ چھوڑ کے چلا گیا۔ ہوسکتا ہے کچھ کیا بھی ہو اس کے ساتھ۔ بس لڑکی نے زیادہ اثر لے لیا یاہوسکتا ہے ابھی ڈر کی وجہ سے ڈرامہ کر رہی ہو۔ آپ چھوٹی سی انیشل (ابتدائی) کیس ہسٹری بنا لو اور لیٹر بنا کے مجھ سےسائن لے لو اور ساتھ نوشین کو بھیج دو اسی گاڑی میں سول سے اس کا ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس، پریگنینسی اور مینٹل ٹیسٹ کروا کے آجائے ابھی۔”

”جی میڈم”

اسی وقت بسمہ کو دوبارہ اسی پولیس وین میں شہر کے سول اسپتال لے جایا گیا چند گھنٹے ٹیسٹ میں لگے کچھ باتیں لیڈی ڈاکٹر نے اسی وقت بتادیں اور لکھت میں بھی دے دیں فائنل رپورٹ ارجنٹ بھیجنے کا کہہ کر وہ لوگ واپس دارلامان آگئے۔

میڈم اس وقت تک جا چکی تھیں۔ نوشین جو بسمہ کے ساتھ گئی تھی آکر حمید کو ہی تفصیل بتانے لگی۔

”حمید بھائی لڑکی امید سے تو نہیں ہے مگر کنواری بھی نہیں ہے۔ عمر سے لگ رہا ہے شادی شدہ تو نہیں ہوگی۔ کچھ کر کے ہی آئی ہے۔ چلیں باقی رپورٹ کل آئے گی۔ سائیکاٹرسٹ نے کہا ہے کسی صدمے کہ وجہ سے یہ حال ہے سکون کی گولیاں دیں ہیں اور کہا ہے یہ کھلا کر سلا دیں اٹھے گی تو بہتر ہوگی۔ اگر بہتری نا آئے تو دوبارہ لا کر دکھانے کے لیے کہا ہے۔”

”آج کل لڑکیوں کو اچھا طریقہ ملا ہے کچھ بھی کر کے دارالامان آکر پڑ جاتی ہیں۔ نا ماں باپ کی عزت کی فکر نا اپنی عزت کی۔ قانون کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ چلو خیر ہمیں کیا ہم تو اپنا کام کرتے ہیں، اسے برابر کمرے میں بٹھاو میں کیس بنا کر اس کا انگوٹھا لگوالوں تم اسے لے جانا اس کے کمرے میں۔ روم نمبر 14 والی ایک لڑکی گئی ہے نا دو دن پہلے؟ اسی کا بیڈ دے دو اس کو۔” کلرک کام بھی کرتا جارہا تھا اور اپنے بنائے ہوئے اندازے کی بنیاد پہ بسمہ کے کردار کی دھجیاں بھی اڑا رہا تھا ان کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ ان کے لئے کسی لڑکی کے کردار کے بارے میں یہ باتیں کرنا روز کا معمول ہے۔ کچھ دیر بعد اس نے انٹری وغیرہ کر کے بسمہ کا انگوٹھا لگوا لیا۔ جتنی دیر بسمہ برابر والے کمرے میں بیٹھی کوئی تین سے چار خواتین آ آ کر جھانک کر گئیں۔ شاید اسٹاف کی خواتین تھیں۔ پھر انہی جھانک جھانک کے جانے والی عورتوں میں سے ایک نوشین کے ساتھ اسے بڑی عمارت لے جانے لگی رستے میں وہ دونوں باتیں بھی کرتی جارہی تھیں۔

”دیکھو ذرا کتنی پیاری ہے۔ بس قیامت کی نشانیاں ہیں آج کل کی لڑکیاں اپنی شکل کی زعم میں اپنا آپ برباد کردیتی ہیں۔” بسمہ کو ان کی کسی بات کا مطلب سمجھ نہیں آرہا تھا۔ آج پھر موسم خراب تھا گہرے بادل آگئے تھے۔ بسمہ سہمی سہمی نظروں سے سر اٹھا کر بار بار بادلوں کو دیکھ رہی تھی۔

ایک دم اس نے ساتھ چلتی دونوں خواتین میں سے ایک کا بازو پکڑ لیا۔

”جلدی اندر چلیں۔ ورنہ باسط مجھے نکال دیں گے۔ بارش ہونے والی ہے مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے۔ ہم اندر کمرے میں چل کر دروازہ بند کرلیں گے تاکہ باسط مجھے نکال نا دیں”

دونوں عورتیں ایک دوسرے کو دیکھ کے ہنس پڑیں نوشین نے دوسری عورت کو مخاطب کیا

”بس بھئی نرگس ایک پاگل کی کمی تھی وہ بھی پوری ہوگئی۔ ہمارے دارالامان میں عورت کی ہر ورائٹی آگئی اب۔” پھر ہنس کے بسمہ سے کہنے لگی

”ہاں ہاں چلو ہم تمہیں کمرے میں ہی لے جارہے ہیں تم آرام سے سونا کوئی تمہیں نہیں نکالے گا۔” انہیں لگ رہا تھا کہ انہوں نے اس سے مناسب حد تک ہمدردی جتا دی ہے بس اتنا کافی ہے۔

وہ تینوں بڑی عمارت میں داخل ہوئیں تو اندر بہت ساری عورتیں ادھر ادھر آتی جاتی نظر آئیں۔ کچھ کی گود میں چھوٹے بچے تھے۔ کچھ ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔ ایک دو لڑکیوں نے کان سے لگا موبائل اپنے پیچھے چھپانے کی کوشش کی۔

نرگس اور نوشین سب کو نظر انداز کرتی ہوئی کمرہ نمبر 14 میں آگئیں۔ پیچھے پیچھے ایک ایک کرکے سب عورتیں جمع ہوتی جارہی تھیں جو کمرے کے دروازے سے جھانک جھانک کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

”چلو لڑکیو رستہ چھوڑو اپنے کام میں لگو۔ کوئی تماشہ نہیں ہورہا۔ روز ہی نئی لڑکی آتی ہے اور تم لوگ روز اس کے سر پہ مجمع لگا کے کھڑی ہوجاتی ہو۔ اور شنو ادھر آو ہم اسے دوا کھلا کے جارہے ہیں تو یہ سو جائے گی تم اپنی بیٹی کو لے کر اسی کے ساتھ بیٹھ جاو کمرے کی کنڈی لگا کے، کسی اور کو اندر نا آنے دینا۔ کوئی آئے تو پھر بتانا پھر میڈم دیکھ لیں گی اسے۔”

نوشین نے پاس کھڑی ایک لڑکی سے کہا جو عمر میں تو بیس بائیس کی لگ رہی تھی۔ گود میں چند ماہ کی بیٹی بھی تھی مگر چہرے مہرے سے ذمہ دار لگ رہی تھی۔

”جی باجی آپ فکر نا کریں میں خیال رکھوں گی اس کا۔ نام کیا ہے اسکا ویسے؟”

”نام وام تو اس نے ابھی تک کسی کو بھی نہیں بتایا تھوڑی یوں ہی سی ہے۔ پولیس کو کل رات سڑک پہ گھومتی ملی۔ اب واللہ عالم گھر والوں نے نکال دیا یا خود بھاگی۔” نوشین نے پاگل ہونے کا اشارہ کیا۔ ”دماغ کے ڈاکٹر نے کہا ہے سو کے اٹھے گی تو شاید بہتر ہو۔ بس اللہ مدد کرے اس کی۔”

انہوں نے بسمہ کو دوائیں کھلائیں اور لٹا دیا۔ بسمہ بادلوں کی آواز پہ بار بار سہم رہی تھی۔ ان دونوں کے جانے کے بعد شنو بیٹی کو لے کر بسمہ کے پاس بیٹھ گئی۔

”کیا نام ہے تمہارا؟ پریشان کیوں ہو؟”

”بارش ہوجائے گی۔ مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے۔ تم فائزہ ہو نا۔ فائزہ تم مجھے اکیلا چھوڑ کے چلیں گئیں دیکھو مجھے باسط نکال دیں گے ابو نے پیسے نہیں دیئے نا۔ مجھے بچا لو۔” بسمہ نے شنو کے ہاتھ سختی سے پکڑ لیئے۔ شنو نے گھبرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔ بسمہ نے شنو کے کندھے پہ سر رکھ دیا وہ کچھ دیر سسکتی رہی پھر دواوں کے اثر سے سو گئی۔ شنو نے اسے سیدھا کر کے لٹایا اور برابر والے بیڈ پہ بیٹی کو لے کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بسمہ نیند میں سسکیاں لینے لگتی ہلکی آواز مین کچھ بڑبڑاتی بھی تھی شنو چونک کے اسے دیکھتی مگر وہ گہری نیند میں تھی۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ ایک گھنٹے تک تو شنو بیٹھی رہی پھر اکتا گئی دروازہ کھول کے باہر چلی گئی اور باہر سے کنڈی لگادی۔ کام وام نپٹا کر گھنٹہ ڈیڑھ بعد واپس آئی تو بھی بسمہ سو ہی رہی تھی۔ وہ پھر اس کے پاس بیٹھ گئی۔ بیٹی کو دودھ پلا کے سلا دیا اور خود ایک قمیض کاڑھنے لگی۔ تقریبا دو گھنٹے مزید ایسے گزر گئے باہر بارش تیز ہوگئی تھی۔ بادل گرجتے تو بسمہ نیند میں ہی ڈر جاتی۔ رات زیادہ ہونے لگی تو کمرے میں رہنے والی ایک اور لڑکی دروازہ بجانے لگی۔ شنو نے آہستہ سے دروازہ کھول کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کے خاموشی سے اندر آنے کا اشارہ کیا۔

”نشہ کر کے آئی ہے کیا سوئے جارہی ہے”

لڑکی نے دبی آواز میں پوچھا

”دوا کھلائی ہے نوشین باجی والوں نے۔ تم بھی چپ چاپ سو جا ¶۔ سو کر اٹھے گی تو ٹھیک ہوجائے گی۔”

لڑکی نے کندھے اچکائے اور اپنے بیڈ پہ لیٹ گئی۔

کچھ دیر بعد بسمہ کے آنسو بھی بند ہوگئے وہ کافی پرسکون سو رہی تھی اب۔ باہر بارش ہلکی ہوگئی تھی۔ تقریبا رات کے تین بجے اس کی آنکھ کھلی کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا باہر سے لائٹس کی ہلکی روشنی اندر آرہی تھی۔ بسمہ کو پہلے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے اس کے ذہن میں اپنے میکے سے نکلنے کا وقت آگیا ایک دم سارا واقعہ فلیش بیک کی طرح دماغ میں تازہ ہوگیا اسے یہاں تک تو یاد آیا کہ وہ گھر کے دروازے پہ بیٹھی تھی اس کے بعد کا کچھ یاد نہیں تھا وہ گھبرا کے اٹھی۔

”میں کہاں ہوں” وہ ایک دم گھبرا کے گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔ شنو اس کی آواز سن کے جاگ گئی شاید چھوٹی بیٹی کی ماں ہونے کی وجہ سے ہلکی سی آواز پہ جاگنے کی عادت ہوگئی تھی اسے۔ وہ ایک دم اٹھ کے بسمہ کے پاس آئی

”آپ کون ہیں؟ میں کہاں ہوں؟ مجھے گھر جانا ہے۔” وہ گھبرا کے رونے لگی۔

شنو نے اس کا ہاتھ پکڑ کے تسلی دی۔

”میں شنو ہوں۔ تم پریشان مت ہو یہاں کوئی تمہیں تنگ کرنے نہیں آئے گا۔”

”مگر میں ہوں کہاں یہ کونسی جگہ ہے”

شنو کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اسے بتائے یا نہیں کہ یہ دارالامان ہے۔ اسے بھی پتا تھا کہ کہنے کو یہ امان کی جگہ کہلاتی ہے مگر جو لڑکی یہاں آجاتی ہے ہمیشہ کے لیئے اس کا کردار مشتبہ ہوجاتا ہے۔ وہ بسمہ کی جو حالت دیکھ چکی تھی ایسے میں وہ نہیں چاہتی تھی کہ دوبارہ وہ اسی ذہنی حالت میں چلی جائے۔

”تمہیں اپنا نام یاد ہے”

بسمہ نے سر ہلایا

”بسمہ۔۔۔ بسمہ عبدالباسط رانا۔ باسط میرے ہسبینڈ ہیں۔ آپ پلیز بتائیں نا میں کہاں ہوں”

”بسمہ تم محفوظ جگہ ہو۔ پریشان مت ہو یہاں صرف عورتیں ہیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پینچائے گا۔”

”مگر میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔”

”دیکھو رات کافی ہورہی ہے۔ تمہیں پولیس یہاں چھوڑ کے گئی ہے صبح آکر وہ تمہیں لے جائیں گے تمہارے گھر۔”

شنو کافی دیر اسے جھوٹی سچی تسلیاں دے کر سمجھاتی رہی دوسری لڑکی بھی جاگ گئی۔ بسمہ کے شور پہ وہ کافی ناراض لگ رہی تھی۔ بسمہ خاموش تو ہوگئی مگر بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ شنو دوبارہ بیٹی کے پاس جاکر لیٹ گئی۔ شنو کے سونے تک بسمہ یونہی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ رک رک کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

بسمہ کی نظریں کھڑکی سے دکھتے بلب پہ تھیں۔ یہاں تک کہ صبح کے اجالے نے اس کی روشنی سمیٹ کر ایک پیلے نقطے تک محدود کردی۔ کمرے سے باہر ہلکی پھلکی چہل پہل محسوس ہونے لگی۔ کچھ دیر بعد شنو بھی جاگ گئی۔ دوسری لڑکی سو ہی رہی تھی۔ اس نے سب سے پہلے اٹھ کر بیٹی کو دودھ پلایا۔ پھر دوبارہ سلا دیا۔ وہ باہر جانے لگی تو کچھ خیال آیا مڑ کے بسمہ کو آواز دی

”سنو” اس نے ذہن پہ زور ڈالا ”بسمہ؟۔۔ چلو منہ دھو آئیں تو ناشتہ لینے چلیں گے۔”

”پولیس کب آئے گی مجھے لینے”

”ابھی تو آفس والے بھی نہیں آئے، 9 بجے سب آتے ہیں پھر ہی پولیس آتی ہے۔ اتنی دیر میں ہم ناشتہ کر لیں گے۔ پتا نہیں تمہارے لیئے ڈبل روٹی ہو یا نہیں؟ اصل میں شام والی باجی آتی ہیں تو روز لڑکیوں کی گنتی کر کے صبح ناشتے کی ڈبل روٹی منگاتی ہیں۔ میں بھول گئی کہ انہیں تمہارا بتا دوں۔” پھر اسے کچھ خیال آیا

”میرا نام شہنیلا ہے مگر سب شنو کہتے ہیں۔ پہلے تین سال رہ کے گئی ہوں دارالامان پھر ایک این جی او نے ایک جگہ شادی کروا دی آٹھ نو مہینے کے بعد شوہر نے گھر والوں کے دباو میں آکر چھوڑ دیا تو پھر یہیں آگئی۔ یہ بھی یہیں ہوئی” اس نے اپنی بیٹی کی طرف اشارہ کیا۔

” تمہارے گھر والے نہیں ہیں” بسمہ نے پوچھا

”سب ہیں مگر ان کے لیے میں مر گئی ہوں۔”

”کیوں”

” میں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی تھی اس لڑکے کے لیے گھر بھی چھوڑ کے نکلی بس اسٹینڈ پہ پتا نہیں کتنے گھنٹے بیٹھی رہی مگر وہ لڑکا نہیں آیا جب رات ہوگئی تو پولیس پکڑ کے یہاں چھوڑ گئی۔”

شنو کی بات سن کر بسمہ کو اس پہ افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی۔ شنو کو دیکھ کر بالکل نہیں لگتا تھا کہ وہ اس قسم کی لڑکی ہوگی۔

بسمہ کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا ناشتے کا مگر بیٹھے بیٹھے وقت نہیں گزر رہا تھا۔ وہ منہ ہاتھ بھی دھونا چاہتی تھی۔ وہ اور شنو باہر نکل آئیں۔ کل کا تو اسے کچھ یاد نہیں تھا اب باہر نکلی تو لگا پہلی دفعہ سب کچھ دیکھا ہے۔ انگلش کے حرف ایل سے مشابہہ عمارت میں ایک طرف کمرے بنے تھے اور سامنے راہداری جس پہ آدھی دیوار تھی اور باقی چھت تک گرل لگی ہوئی تھی۔ یہ گرل ہوا دار ہونے کے باوجود قید کا احساس دے رہی تھی۔ دیکھنے میں اندازہ ہورہا تھا کہ اوپر نیچے ملا کر تقریبا 40 سے زائد کمرے ہوں گے اور ہر کمرے میں تین سے چار بیڈ نظر آرہے تھے۔ کچھ عورتیں ابھی بھی سو رہی تھیں کچھ اپنے بچوں کو سنبھال رہی تھیں کچھ ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔ بسمہ نے کچھ عورتوں کو موبائل پہ بات کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ کمرے کے کونے میں بیٹھ کر، کسی دیوار سے ٹیک لگائے۔ گرل کی طرف منہ کر کے۔ دیکھنے میں ہی لگ رہا تھا کہ وہ کوئی پرائیویٹ بات کر رہی ہیں۔ کچھ عورتیں صاف ستھری تھیں اور پڑھی لکھی بھی لگ رہی تھیں۔ کچھ کے حلیے بہت میلے کچیلے تھے۔ کچھ نے بہت سلیقے سے دوپٹہ سر پہ اوڑھا ہوا تھا اور کچھ ایسے گھوم رہی تھیں جیسے اکیلی ہوں۔ شنو تھوڑا تھوڑا سب کے بارے میں بتاتی جارہی تھی۔

”یہ دو مہینے پہلے آئی ہے اس کو اس کے شوہر نے الزام لگا کے نکال دیا اب اس کے بدلے میں اسی کی بھتیجی سے اپنے بھائی کا نکاح کروایا ہے۔

یہ تین بچوں کے ساتھ آئی ہے شوہر مر گیا ہے سسرال والوں نے جائداد میں حصہ دینے کی بجائے گھر سے نکال دیا۔ میکے میں کوئی ہے نہیں۔

اس پہ سسر اور دیور کی غلط نظر تھی شوہر کو بتایا تو اس نے مار پیٹ کے گھر سے نکال دیا۔ گھر والوں نے بھی رکھنے سے انکار کردیا۔

اس کی گھر والوں نے پیسے لے کر تین بار شادی کروائی یہ اپنے دوسرے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہے۔ گھر والوں نے طلاق بھی نہیں کروائی تھی۔ اب مقدمہ چل رہا ہے۔”بسمہ چلتے چلتے رک گئی اسے لگا ایک کمرے میں گل بانو کو دیکھا اس نے

”یہ کون ہے؟” بسمہ کی کیفیت عجیب تھی۔

یہ صفیہ ہے، دونوں ماں بیٹیاں چھ مہینے سے ہیں یہاں۔ چچا نے کسی لڑکی سے بھاگ کے شادی کی تھی تو عوض میں اس کی شادی اسی (80)سال کے ایک بڈھے سے کر رہے تھے گھر والے، ماں اسے لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گئی ابھی 12 سال کی ہے یہ۔”

”یہ تو بہت چھوٹی ہے مگر” بسمہ دوبارہ آگے چلنے لگی

”یہاں شہر میں یہ عجیب بات ہے مگر گاوں وغیرہ میں تو لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے ہی اس کا نکاح کردیا جاتا ہے۔ اسے ملا کر چھ یا سات لڑکیاں تو ابھی بھی دارلامان میں ہیں جن کی عمر ابھی 15 بھی نہیں ہوئی اور یا تو نکاح ہوچکا ہے ایک یا دو بچے بھی ہیں۔ جیسے اسے دیکھو مہتاب کو۔ یہ ابھی 14 سال کی ہے تین سال پہلے اس کی شادی ہوگئی تھی۔ اب یہ کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہے تو گھر سے نکل آئی ابھی 7 مہینے کی امید سے ہے جب بچہ ہوگا تبھی مسئلہ حل ہوگا۔ اس کا مسئلہ اس لیے بھی الجھا ہوا ہے کیونکہ اس کے نکاح کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے۔ قانونی طور پہ اس عمر میں اس کا نکاح ہو ہی نہیں سکتا اب عدالت میں اس کا شوہر مکر گیا کہ اس سے تو میری شادی ہی نہیں ہوئی یہ کسی اور کا گناہ مجھ پہ لگا رہی ہے۔” بسمہ کو یاد آیا اس کے نکاح نامے پہ بھی اس کی عمر تین سال بڑھا کے لکھوائی گئی تھی۔

پھر اسے کچھ خیال آیا

”یہ دارلامان ہے؟”

شنو نےدل میں خود کو لعنت دی جوش میں آکر وہ بتا گئی جو وہ نہیں بتانا چاہتی تھی۔ اس نے صرف سر ہلا دیا۔ بسمہ کا چہرہ فق ہوگیا۔

وہ لوگ باتیں کرتے کرتے اب باتھرومز والی سائیڈ پہ آگئیں۔ یہاں بھی کافی رش تھا۔ یہ اوپر سے کھلا ایریا تھا دیواریں اونچی تھیں اور دو طرف باتھ رومز بنے ہوئے تھے کل ملا کے چھ ہر ایک کے ساتھ واش بیسن بھی تھا۔ ایک طرف بیٹھ کے کپڑے دھونے کی جگہ تھی۔ بسمہ ایک دم گم سم ہوگئی تھی۔ اس نے ایسے ہی منہ ہاتھ بھی دھویا۔ شنو کو اس کی ایک دم بدلی ہوئی کیفیت محسوس ہوئی تو ہاتھ پکڑ کے تسلی دی

”بسمہ تم یہاں محفوظ ہو۔ پریشان مت ہو انشائاللہ تمہارا مسئلہ جلدی حل ہوجائے گا۔”

شنو نے اسے تسلی تو دے دی مگر خود اسے بھی اپنی بات پہ یقین نہیں تھا۔ یہاں آنا آسان تھا مگر نکلنا صرف ان عورتوں کے لیئے آسان تھا جن کی مدد کے لیے کوئی باہر موجود ہو۔ اسے یہ بھی پتا تھا کہ ایک دفعہ اس چاردیواری میں داخل ہوجانے والی لڑکی ہمیشہ کے لیئے باہر والوں کے لیئے ناقابل قبول ہوجاتی ہے۔ حالانکہ یہاں کچھ نرالا نہیں تھا۔ بلکہ شنو کو تو یہ معاشرے کی ٹیسٹ رپورٹ لگتی تھی جیسے بندے کی شکل دیکھ کر سب ٹھیک لگ بھی رہا ہو تو ٹیسٹ رپورٹ اندر کا سب حال کھول کے دکھا دیتی ہے اسی طرح دارالامان میں آنے والا بندہ ذرا بھی شعور رکھتا ہو تو اس بیمار معاشرے کا صحیح حال سمجھ سکتا ہے۔ شنو نے سر جھٹکا۔ اسے بھی بسمہ کی طرح سوچتے رہنے کی عادت تھی۔ مگر وہ کر ہی کیاسکتی تھی سوائے سوچنے کے۔

وہ لوگ منہ دھو کر فارغ ہی ہوئی تھیں کہ پیچھے سے ان کے کمرے کی تیسری لڑکی آگئی اس کی گود میں شنو کی بیٹی تھی۔

”لو بھئی تمہارا باجا جاگ گیا۔ اور مجھے بھی جگا دیا۔”

”تو خالہ ہو دومنٹ سنبھال نہیں سکتیں اسے۔”

” خالہ سنبھال لیتی مگر پیٹ میں جنگ مچی ہوئی ہے، جلدی پکڑ اپنی بیٹی میں لیٹرین جاوں۔ وہ فورا شنو کو بچی پکڑا کر ایک کھلے باتھ روم میں گھس گئی۔

”چلو کچن اور کھانے کا کمرہ نیچے ہے” وہ لوگ سیڑھیاں اترنے لگیں تو شنو نے دوبارہ بتانا شروع کیا۔

”یہ ذکیہ ہے موڈی ہے بہت کبھی بہت خیال رکھنے والی کبھی منہ پہ بیستی کردینے والی۔ ویسے یہاں کا ماحول ہی ایسا ہے خوش ہوتی ہیں تو ذرا سی مٹھائی بھی نوالا نوالا سب میں بٹتی ہے اور ناراض ہوں یا جھگڑا ہوجائے تو ایک دوسرے کو بال پکڑ پکڑ کے مارتی ہیں۔ کبھی ایک دوسرے کے لیے جان قربان کرنے کو تیار کبھی ایسی بے مروت کے مرتے کو دوا کے لیے دو روپے بھی نا دیں۔”

”یہ کیوں آئی ہے یہاں”

”اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ گھر والے مان نہیں رہے۔ لڑکا دوسری ذات کا ہے۔ ان کی اپنی برادری میں اس کی عمر کا کوئی ہے ہی نہیں اس کا رشتہ اس سے 8 سال چھوٹے لڑکے سے طے ہے۔”

شنو اسے مزید چھوٹی موٹی باتیں بتاتی رہی کہ یہاں دن میں 4 فیمیل اسٹاف ہوتا ہے 1 کچن کے سامان کی انچارج ہیں اور باقی تین دوسرے کام دیکھتی ہیں دو ماسیاں اور ایک سوئیپر دو کلرک ایک مالی اور ایک پیون، ایک پولیس والی بڑی عمارت کے گیٹ پہ اور ایک پولیس والا باہر مین گیٹ پہ رات میں بس ایک خاتون اور ایک چوکیدار ہوتے ہیں وہ خاتون سامان وغیرہ دیتی ہیں اور صبح ناشتہ ان کی نگرانی میں ملتا ہے یعنی چائے اور ڈبل روٹی۔ کچھ عورتیں جن کے پاس اپنے پیسے ہوتے ہیں وہ اپنی مرضی کا ناشتہ بھی پکا لیتی ہیں۔

”رات والی باجی بہت اچھی ہیں فاطمہ نام ہے ان کا۔ ابھی وہی ہوں گی کچن میں۔”

اتنی دیر میں وہ لوگ ایک بڑے سے کمرے میں پہنچ گئیں جس کے بیچ میں دو لمبی لمبی ٹیبل لگی ہوئی تھیں۔ کوئی نو دس عورتیں مختلف چیزیں کھا رہی تھیں عموما کے پاس چائے ڈبل روٹی تھی۔ اس کے سائیڈ پہ ایک اور کمرہ نظر آرہا تھا شنو اسے لے کر اسی کمرے میں چلی گئی تو اسے پتا چلا کہ یہ کچن ہے۔ کچن بھی عام گھریلو کچنز سے تو کافی بڑا تھا۔ بیچ میں اسکول میں استعمال ہونے والی ٹیبلز جیسی ایک لکڑی کی ٹیبل رکھی تھی جس پہ تین بڑے بڑے فلاسک رکھے تھے ساتھ ہی ایک چئیر پہ ایک ادھیڑ عمر خاتون سادے سے کپڑوں میں نماز کی طرح سر سے دوپٹہ لپیٹے بیٹی تھیں۔

”بسمہ یہ فاطمہ باجی ہیں یہاں کی سب سے اچھی باجی”

وہ خاتون مسکرا دیں

”اچھا بس مکھن نا لگاو آج سب سے آخر میں آئی ہو ناشتہ لینے۔”

”باجی رات سونے میں دیر ہوگئی تھی۔ پھر صبح اس کو تھوڑا دارلامان کا ٹور لگوایا سب سے جلدی جلدی ملوایا۔ ابھی بھی کافی عورتیں رہ گئی ہیں ملنے سے۔ نخرے پیٹیوں سے تو ملوایا ہی نہیں۔ کچھ نظر نہیں آئیں۔ یہ بسمہ ہے کل جب آپ کی ڈیوٹی شروع ہوئی تو یہ سو رہی تھی میں بھی بھول گئی بتانا۔ اس کے لیئے ڈبل روٹی نکل آئے گی؟ نہیں تو میں اور یہ آدھی بانٹ لیں گے”

”اچھا یہ ہے وہ بچی کل مجھے نرگس نے بتایا تھا مگر اسے نام نہیں پتا تھا۔ اسی لیے میں نے اس کے حساب سے منگا لی تھی ڈبل روٹی۔”

پھر شفقت سے بسمہ کی ٹھوڑی ہلکے سے چھوئی

”بیٹا اب طبیعت کیسی ہے”

ان کے اتنے پیار سے پوچھنے پہ بسمہ کے گلے میں آنسووں کا گولا سا اٹکا۔ اس نے بس سر ہلا دیا۔

پھر خود پہ تھوڑا قابو پا کر پوچھا

”شنو کہہ رہی تھی 9 بجے تک پولیس آکر مجھے گھر پہنچا دے گی؟”

”بیٹا ابھی تو کسی کو آپ کا ایڈریس ہی نہیں معلوم۔ پہلے آپ کی اسٹیٹمنٹ لکھی جائے گی۔ کل آپ کی ٹیسٹ رپورٹس اور بیان کے ساتھ آپ کو عدالت لے کر جائیں گے۔ پھر جج جو فیصلہ کرے۔”

”مجھے اپنے گھر کا رستہ پتا ہے مجھے چھوڑ دیں تو میں خود چلی جاوں گی۔”

”دیکھو گڑیا یہ حکومت کا ادارہ ہے اور شیلٹر ہوم ہے عورتوں کی حفاظت کے لیے۔تو عورتوں کے آنے جانے کی اجازت عدالت سے ہی لینی پڑتی ہے۔ ہمیں تونہیں پتا نا کہ کس بچی کو جان کا خطرہ ہے تو بس ہم آرڈر پہ چلتے ہیں۔” بسمہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلا دیا۔ اتنی دیر میں شنو نے اپنی بیٹی فاطمہ باجی کو تھمائی اور چائے اور ڈبل روٹی نکال لی۔ بسمہ خاموشی سے چائے کے ساتھ ڈبل روٹی کھانے لگی شنو مسلسل فاطمہ باجی کو کل کے قصے سنا رہی تھی۔

”فاطمہ باجی کل تو طاہرہ اور چھوٹی میں زبردست جنگ ہوئی۔ طاہرہ نے چھوٹی کا چارجر لے لیا تھا اور اس کی پن ٹیڑھی ہوگئی۔”

” توبہ ہے شنو بری بات ہے تم نے ان کا جھگڑا ختم کروانا تھا نا آکر مجھ سے غیبت کر رہی ہو۔”

”اللہ نہیں باجی غیبت کرنے کے لیے تھوڑی بتایا اس لیے بتایا کہ آپ جھگڑا ختم کروا دیتی ہیں۔ باقی تو بس پرس بغل میں دبائے ادھر ادھر گھومتی رہتی ہیں۔”

”اچھا وہ تو غیبت نہیں تھی اور یہ جو اب کی وہ۔” فاطمہ باجی نے پیار سے گھورا اسے

”آپ سمجھائیں نا چھوٹی کو اتنی اتنی سی چیزوں کے لیے اتنا جھگڑا کرتی ہے۔”

”بیٹا وہ بچاری بھی کیا کرے ایک یہی موبائل تو یہاں کی بچیوں کے لیے ایک آسرا ہے اپنے گھر سے دور اجنبیوں کے درمیان تو بچیاں ویسے ہی ہول ہول کے آدھی ہوجائیں۔” پھر بسمہ کو بتانے لگیں

”اصل میں موبائل کی اجازت نہیں ہے یہاں۔ مگر میڈم زیادہ سختی نہیں کرتیں۔ بچیاں بہت گھبرا جاتی ہیں۔ گھر والوں سے تھوڑی بات چیت ہوتی رہتی ہے تو تسلی رہتی ہے انہیں۔”

بسمہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ وہ لوگ ناشتہ کر ہی چکی تھیں شنو نے دونوں کپ دھو کر الماری میں رکھے پھر بیٹی فاطمہ باجی سے واپس لے لی۔ فاطمہ باجی بھی اٹھ گئیں۔

”چلو بھئی میری بھی چھٹی کا وقت ہوگیا۔ بانو بھی آگئی ہوگی۔

آئے ہائے باجی بانو باجی تو اتنا رلا رلا کر چیزیں دیتی ہیں مجھے بالکل اچھی نہیں لگتیں۔ آپ اپنی ایک اور فوٹو اسٹیٹ کروا لیں دن میں بھی آپ رات میں بھی آپ کتنا مزا آئے گا۔”شنو کے مزاحیہ انداز پہ فاطمہ باجی اور بسمہ دونوں ہی ہلکے سے مسکرا دیں۔ شنو کی اس طرح کی باتوں پہ عموما دیکھنے والے یہ سمجھتے تھے کہ یہ دارلامان میں بہت خوش ہے مگر یہ صرف وہی جانتی تھی کہ اس کی عموما راتیں جاگ کے گزرتی تھیں پہلے تو صرف اپنا بوجھ تھا اب بچی کا بھی۔

فاطمہ باجی اپنا سامان اٹھا کر باہر نکلیں پیچھے پیچھے یہ دونوں بھی ہال سے باہر نکل آئیں۔

”شنو یہ لڑکیاں موبائل کے لیے اتنی جذباتی کیوں ہیں؟”

”بسمہ ایک سیدھا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لڑکوں سے دوستیوں کے لیے مگر یہ آدھا سچ ہوگا۔”

”کیا مطلب”

” مطلب یہ کہ دارلامان سے نکلنا صرف اس کے لیے ممکن ہے جس کے گھر والے یا شوہر سپورٹ کرنے والا ہو۔ جس کے آگے پیچھے کوئی نا ہو اس کی ساری زندگی یہیں گزر جاتی ہے۔ ایسے میں ان لڑکیوں کو مجبورا باہر سپورٹ تلاش کرنی پڑتی ہے۔ جب کوئی لڑکی نئی آتی ہے تو عموما پرانی والی عورتیں اسے یہی مشورہ دیتی ہیں کہ یہاں سے نکلنا ہے تو یار ڈھونڈ لو کوئی۔”

”انہیں شرم نہیں آتی اتنا گھٹیا مشورہ دیتے ہوئے۔”

بسمہ کو ایک دم غصہ آگیا اتنا نامناسب مشورہ سن کے۔

”بسمہ سننے میں جتنا یہ تلخ ہے کرنے میں اس سے زیادہ مشکل مگر یہ عورتیں جو کچھ سہہ کر آئی ہیں اور جو کچھ سہہ رہی ہیں انہیں پتا ہے کہ یہ مشورہ انہوں نے نیک نیتی سے ہی دیا ہے۔ بس اپنی زندگی کی سختی ان کے لہجوں سے جھلکتی ہے اب۔ اصل میں مسئلہ صرف نکلنے کا نہیں ہے وہ تو تم عدالت مین بیان دو کہ تم اکیلی رہ سکتی ہو تو تمہیں آزاد کردیا جائے گا۔ مگر جب ہاتھ میں پیسا نا ہو رہنے کو گھر نا ہو۔ ہر مرد آپ کو آسان شکار سمجھ رہا ہو تو عورت کیا کرے۔ بہت سی ایسی بھی آئیں جو شروع میں دعوے کرتی ہیں کہ ہم مر جائیں گے مگرباہر نکلنے کے لیے کسی لڑکےسے دوستی نہیں کریں گے۔ مگر چند ہی مہینے میں گھبرا جاتی ہیں۔ ورنہ خود سوچو کسی ایسے بندے پہ اعتبار کرنا کتنا مشکل ہے جسے کبھی دیکھا بھی نا ہو۔” بسمہ اگر یہاں صرف دیکھنے آئی ہوتی تو شاید پلٹ کے کہتی کہ کیا مسئلہ ہے رہنے میں حفاظت سے رہ رہی ہیں کھانے پینے کو سب میسر ہے۔ مگر وہ خود اتنی سے دیر میں اس ماحول سے گھبرا گئی تھی۔ اور سب سے بڑی گھبراہٹ ہے یہ تھی کہ وہ اپنی مرضی سے باہر نہیں جاسکتی تھی۔ شنو نے مزید بتایا

”عام جھگڑے تو روز کی بات ہیں مگر کبھی کبھی ایسے بھی حالات ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہمتیں جواب دے جاتی ہیں۔ ابھی دو مہینے پہلے ایک عورت نوراں آئی تھی یہاں۔ ٹی بی کی مریض تھی۔ بہت غریب گھرانے سے تعلق تھا اور تقریبا آخری اسٹیج پہ تھی۔ اولاد کوئی تھی نہیں شوہر کی دوسری بیوی نے مار پیٹ کے گھر سے نکال دیا تو رشتہ دار یہاں چھوڑ گئے۔ اپنے بستر پہ پڑی کھانستی رہتی تھی اور خون تھوکتی رہتی تھی۔ بالکل کونے والا کمرہ دیا تھا اسے اور کوئی اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں تھی۔ ماسیاں کھانا رکھ آتی تھیں اس کے پاس۔ ایک دن جب کافی دیر اس کے کھانسنے کی آواز نہیں آئی تو پتا چلا کہ پتا نہیں کب مر گئی تھی وہ۔ پورا ایک دن اس کی لاش کمرے میں ایسے ہی پڑی رہی کیونکہ کوئی وارث آکر لے جانے کو تیار نہیں تھا۔ پھر اگلے دن ایدھی والے لے گئے لاوارثوں کی طرح دفنانے۔ اس کے بعد کئی دن تک کوئی عورت اس کمرے میں رہنے کو تیار نہیں تھی۔ کچھ عورتوں کا کہنا تھا انہیں اس کمرے میں نوراں بیٹھی روتی دکھائی دیتی ہے۔”

”کیاواقعی یہاں پہ اس کی روح ہے”

بسمہ ایک دم خوفزدہ ہوگئی

”نہیں نہیں وہ بچاری زندگی میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکی مرنے کے بعد کیا بگاڑے گی۔ عورتوں کا اپنا خوف تھا۔ میڈم نے ان کی تسلی کے لیے اس کمرے میں قرآن خوانی اور میلاد شریف کروائی اس کے بعد سے سب ٹھیک ہے۔ مگر تم بتاو ایسی موت کون مرنا چاہتا ہے۔ اس واقعے کے بعد لڑکیاں بہت ڈر گئی تھیں۔”

بسمہ گنگ سی سب سن رہی تھی۔ صبح تک اسے لگ رہاتھا کہ اس کی زندگی میں سب سے زیادہ تکلیفیں ہیں۔ مگر اب اسے احساس ہوا کہ دنیا میں کہیں زیادہ مسائل موجود ہیں۔ اور لوگ اس سے اپنی اپنی ہمت کے مطابق لڑ رہے ہیں۔

ایک دم اسے خیال آیا۔ وہ تو کبھی اپنے حالات سے نہیں لڑی۔ اگر باسط اسے نا نکالتا تو وہ کبھی خود سے اس گھر سے نا نکلتی۔ اب تک اس کا خیال تھا کہ بد چلنی کا الزام اتنا خوفناک ہے ایک عورت کے لیے کہ وہ مرجائے گی مگر یہ الزام نہیں سہہ سکتی اور اب اسے اندازہ ہوا کہ اس الزام کے بعد بھی زندگی ہوتی ہے اور گزارنی پڑتی ہے۔

شنو اور بسمہ واپس اپنے کمرے میں آگئیں۔ بسمہ کو ابھی بھی بے چینی تھی کہ کب اسے بلایا جائے اور گھر چھوڑ کے آئیں۔ ابھی اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ کہاں جائے گی مگر وہ یہاں مزید نہیں رہنا چاہتی تھی۔

شنو سے بار بار پوچھنا بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ فاطمہ باجی نے تو کہا تھا کہ کل عدالت میں پیشی کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ اسے احساس بے بسی سے رونا بھی آرہا تھا اور غصہ بھی۔ کہنے کو وہ پہلے بھی کبھی بغیر اجازت گھر سے نہیں نکلی مگر جو قید کا احساس یہاں تھا وہ کبھی محسوس نہیں ہوا۔

شنو اس کو مزید عورتوں کے بارے میں بتارہی تھی۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی بات کو غور سے سن رہی تھی۔ شنو نے ٹھیک کہا تھا کہ سیدھا کہا جائے تو یہاں ہر دوسری عورت شادی کے لیے آئی تھی۔ مگر اس کے پیچھے وجوہات دیکھی جائیں تو سب بہت مضبوط۔ بسمہ کو حیرت ہوئی کہ لوگ کیسے جانے بوجھے بغیر ان عورتوں کو بدکردار کہہ دیتے ہیں۔ ان کے مسائل جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ پھر اسے اپنی سسرال اور میکے والوں کا رویہ یاد آیا سوچ تو ان کی بھی یہی تھی۔ انہوں نے زیبا ہو نازیہ یا بسمہ تینوں کو ایک جیسا ہی سمجھا تھا۔ اسے یاد آیا اس کے بھائی کس طرح اس پہ ہر وقت کڑی نظر رکھتے تھے جیسے وہ بہکنے کے لیے ہر وقت تیار ہو۔

تقریبا ساڑھے دس بجے اسے میڈم نے بلوا لیا۔ ان کے سامنے ہی اس کا بیان لکھوایا گیا۔ بیان سننے کے بعد نرگس بولی

”کل تو تم نے کچھ اور بتایا تھا؟”

”باجی مجھے نہیں یاد کہ میں نے کل کیا بتایا تھا مگر اب جو بتا رہی ہوں یہ بالکل سچ ہے۔ آپ چاہیں تو میرے دیئے ہوئے نمبروں پہ رابطہ کر کے پوچھ لیں۔”

”شوہر نے گھر سے کیوں نکالا؟ کوئی لڑکے کا چکر ہے تو بتا دو۔ دیکھو پتا تو ہمیں چل ہی جانا ہے تو شروع میں چھپانے سے کیا فائدہ۔”

”میرے شوہر نے پیسے منگوائے تھے وہ پورے نہیں تھے اس لیے نکالا کسی لڑکے کا کوئی چکر نہیں ہے۔”

”مرضی ہے تمہاری بھئی یہاں آکر شروع میں سب یہی کہتی ہیں مگر جاتی ہمیشہ کسی یار کے ساتھ ہی ہیں۔”

اگر شنو نے صبح اسے اس حوالے سے نا بتا دیا ہوتا تو شاید اسے یہ الزام بہت برا لگتا۔ تکلیف دہ تو اب بھی تھا اس کے لیے، مگر اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ ان کے لیے یہ عام سی بات کیوں ہے۔

”نرگس بیٹا بچی کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہے پریشرائز مت کریں۔ اس کے سائن اور تھمب امپیرشن لے لیں۔ تاکہ بچی فارغ ہو۔”

میڈم نے مخصوص نرم مگر تحکمانہ انداز میں کہا۔نرگس نے سر ہلایا اور کاغذات پہ اس سے انگوٹھا لگوا کر کچھ جگہ سائن بھی لے۔

وہ باہر نکلنے والی تھی جب میڈم نے اس کو مخاطب کیا۔

”بیٹا ہم آپ کے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ صبح کورٹ میں آجائیں۔ پھر آپ کی مرضی سے آپ کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت مل جائے گی۔” بسمہ نے سر ہلا دیا اور کمرے سے نکل آئی۔ کمرے میں آکر وہ خاموشی سے بیڈ پہ بیٹھ گئی۔ کافی عرصے بعد پھر سے سوچوں کی یلغار تھی۔ شادی سے لیکر اب تک کا عرصہ تقریبا ڈیڑھ سال ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی خواب میں گزرے۔ اگر وہ دارلامان میں نا ہوتی تو اسے لگتا کہ شاید واقعی اس نے کوئی بھیانک خواب دیکھا ہے۔ اسے دوبارہ زندگی ریوائینڈ ہوتی لگ رہی تھی۔ وہ شعور کے بعد سے اب تک کی زندگی کے ہر پہلو کو جانچ رہی تھی۔ لڑکپن میں جذبات کا بدلنا، گھر والوں کا رویہ،گل بانو کی شادی اسلم سے محبت نما کچھ، اسلم کا بالکل غیر متوقع وہ بے ہودہ آفر کرنا، پھر ایک دم ہی گل بانو کی ڈیتھ جس کا اسے ابھی تک یقین نہیں آیا۔ اور آج ان چند لڑکیوں کو دیکھ کر گل بانو شدت سے یاد آئی جن کی شادیاں ان کے گھر کے کسی مرد کے جرم کے عوض میں کی گئی تھیں۔ اس کی زندگی میں اور اس دارلامان میں کیا فرق تھا۔ کچھ بھی نہیں۔ کوئی ایک بھی قدم اس نے اپنی مرضی سے نہیں اٹھایا ایک بھی نہیں۔ وہ یہ سوچ کر کہ وہ اگر فرمان بردار رہے گی تو اس کو سراہا جائے گا۔ کوئی تو اس کی اس فرمانبرداری کو اچھی نظر سے دیکھے گا۔ کبھی تو اس کی خدمت اور نبھانے کی صلاحیت دوسروں کے دلوں کو نرم کرے گی۔ مگر اس کی تمام کوششیں اس بری طرح ناکام ہوئیں۔ اسے ایک کامیاب زندگی کے لیے جو سکھایا گیا تھا اس نے اس طریقے پہ مکمل طور پہ عمل کیا تھا۔ اسے ہمیشہ فائزہ اور نفیس آنٹی کا اعتماد متاثر کرتا تھا مگر وہ یہ یقین کرنے پہ مجبور کردی گئی تھی کہ ان کا چلن غلط ہے اور عورت کبھی بھی پر اعتماد رہ کر کامیاب زندگی نہیں گزار سکتی۔ اسے پتا نہیں کیوں وہ خبر یاد آگئی جو نازیہ بھابھی نے ازراہ مذاق سنائی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے