سر ورق / ناول / چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں

آسیہ مظہر چوہدری

قسط نمبر 4

آخری قسط

شاہ زر کو جب اس کا پتا چلا تو بہت دیر ہو چکی تھی کیونکہ وہ ظہیر خان کی کمپنی کا آرڈر دینے آوٹ آف سٹی گیا ہو اتھا اور جب واپس آیا تو سب کچھ بکھر چکا تھا۔ ثمرہ اور پشمینے نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا جبکہ گل بخت گم سم ایک طرف کھڑی تھی۔ ظہیر، مہروز بھی ساکت لب لیے ایک طرف بیٹھے تھے۔ جبکہ شاہ زر تو دھچکوں کی زد میں آ کھڑا ہوا تھا۔

”امو جان آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں؟“ وہ وہاں سے سیدھا امو جان کے کمرے میں آ دھمکا۔

”تمہیں میں نے تمیز سکھائی تھی کہ کسی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دستک دیتے ہیں، شاید تم بھول چکے ہو۔“ امو جان نے اس کے سوال کو نظر انداز کیے اپنا سوال داغا تھا۔

”امو جان آپ نے ایسا کیوں کیا۔“ وہ چیخا تو ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر نشان چھوڑ گیا تھا۔

”پوری زندگی زری گل کی اولاد نے اس کے سامنے سر اٹھا کر بات نہیںکی اور نہ میں نے انہیں اتنی اجازت دی تو آج کیسے تم نے مجھ سے سوال پوچھنے کی ہمت کر لی۔“ امو جان کی سخت نگاہیں منہ پر ہاتھ رکھے حیران کھڑے شاہ زر پر گڑی تھیں۔

”ایک بات تم کان کھول کر سن لو شاہ زر خان مجھے اپنی اولاد سے زیادہ اس خاندان کی ساکھ عزیز ہے اور مجھے خاندان کی ساکھ بچانے کے لیے اولاد کو قربان کرنا پڑا تو میں قطعاً دریغ نہیں کروں گی۔“

زری گل کے الفاظ چنگاریوں کی مانند بت بنے شاہ زر پر گرے تھے جس کی تپش نے منٹوں میں شاہ زر خان کو راکھ کر دیا تھا۔

٭….٭….٭

اگلے دن وہ دوبارہ وردہ خان کے آفس میںموجود تھا۔ کافی انتظار کے بعد اسے وردہ سلیم کے آفس میں بھیجا گیا۔ وردہ سلیم آج بلڈ ریڈ ساڑھی میں میچنگ یاقوت کے جھمکے پہنے ہمیشہ کی طرح غضب ڈھا رہی تھیں۔ اسرار آفندی چند لمحے تو اسے دیکھ رک سب بھول گیا اور پھر وردہ سلیم کی آواز میں اسے مراقبے سے باہر نکالا تھا۔

” اپنی تعلیمی اسناد میرے پاس جمع کروا دیجیے اگر آپ ہمارے معیار کے مطابق ہوئے تو انشاللہ ضرور جاب مل جائے گی۔ “ کل کی بہ نسبت وردہ سلیم کا لہجہ آج بہتر تھا، اسرار آفندی اس دھوپ چھاوں سے دکھنے والی عورت کوآج بھی نہیں سمجھ سکا تھا۔

”جی بہت بہت شکریہ۔“ وہ ممنون ہوا۔

” آپ کوفی لیں گے یا کولڈ ڈرنک؟“ وردہ سلیم نے پوچھا۔

”جی کرشکریہ مجھے کہیں اور جانا ہے۔“ اس نے سہولت سے منع کر دیا۔

”اوکے ایز یو وش“ وردہ سلیم سر ہلا کر رہ گئی۔

٭….٭….٭

یہ رات سب پر بھاری اتری تھی۔ ہر شخص اپنی اپنی جگہ بے چین بیقرار بیٹھا تھا۔ نیند ہر شخص کی آنکھوں سے کوسوں دور چلی گئی تھی اور شاہ زر بھی اپنے کمرے میں بیٹھا ساکت و جامد ایک ہی نقطے پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔ ذہن کہاں تھا کچھ خبر نہ تھی۔ وہ اس وقت کہاں تھا یہ بھی خبر نہ تھی۔ بس خیال تھا تو شہروز ؒخان کا کہ وہ کہاں ہو گا کس حال میں ہو گا اور دوسرا خیال عائلہ کا تھا کہ اب عائلہ کا کیا ہوگا کیونکہ خان ولا میں ایک زندگی خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ دو زندگیاں رواجوں کی بھینٹ چڑھی تھیں۔ عائلہ اور ا س کا ملن اب ادھورا تھا۔ یہ خیال اسے یکدم ہوش کی دنیا میں لے آیا تھا۔

”نہیں امو جان میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتیں۔“ اس نے اپنے آپ کو تسلی دی۔

”شاہ زر خان کیوں حقیقت سے نظریں چرا رہے ہو، سب کچھ ہونے کے باوجود تم انجان بن رہے ہو۔“ اندر کی آواز نے اسے منہ کے بل گرا دیا تھا۔

”امو جان شہروز لالہ کی سزا مجھے نہیں دے سکتیں۔“ وہ زور سے بولا تھا۔

”شہروز نے کوئی گناہ نہیں کیا تو سزا کیسی؟یہ تو محبت کرنے کی سزا ہے اس خاندان میں جو بھی محبت کرے گا اس کا حال شہروز جیسا ہو گا اس لیے بھول جاو ¿ عائلہ کو بھول جاو ¿ اپنی محبت کو یہی بہتر ہے یہی صحیح ہے۔“ اندر کی آواز اسے سمجھا رہی تھی پر شاہ زر کی جان نکل رہی تھی۔ وہ ادھ موا سا ایک جانب لڑکھڑا گیا تھا۔

محبت کی دیوی اس سے دور ہوتی جا رہی تھی۔ عشق کا راستہ سماج کی جانب مڑ گیا تھا۔

٭….٭….٭

آج صبح ہی سے بادل پورے آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ ان کی گڑگڑاہٹ عائلہ خان کا دل سوکھے پتے کی مانند دہلا رہی تھی۔آج شام شمشاد خان زئی اور فاروق خان زئی کو واپس آنا تھا اس لیے عائلہ صبح ہی سے مختلف تیاریوں میں مصروف تھی۔ دن کا وقت تھا لیکن سماں رات کے اندھیرے جیسا لگ رہا تھا۔ وہ گھر میں اکیلی تھی کیونکہ فاریہ اور مایا کل شام ہی گلگت چلی گئی تھیں۔اس نے گھر کا کام جلدی جلدی سمیٹا اور لاو ¿نج میں آ بیٹھی۔ مصروفیت کا بہانہ ڈھونڈنے کے لیے ٹی وی آن کیا تو یکدم ٹی وی پر دکھائی دیتا منظر اس کا دل شق کر گیا۔

” نہایت افسوس کے ساتھ آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ نائیجیریا سے آنے والی فلائٹ نمبر 122 ایک حادثے کا شکار ہو کر بحیرہ عرب میں لاپتہ ہو گئی ہے۔ ابھی تک جہاز یا اس کے کسی مسافر کو تلاش نہیں کیا جا سکا“

ٹی وی پر نیوز کاسٹر اپنی تیز رفتار اسپیڈ سے خبر دیتی ایک دم دھندلا گئی تھی۔ اس وقت ہر چیز دھندلا گئی تھی۔ عائلہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا جا رہا تھا اور آخری منظر ٹی وی پر دکھائی دیتے جہاز کادیکھتے ہی وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی۔

٭….٭….٭

اسرار آفندی کے ساتھ اس بارقسمت نے یاوری کی تھی۔ اسے سلیم مل میں بطور مینیجر جاب مل گئی تھی۔ یہ لمحہ اس کے بیتے سب لمحوں سے زیادہ خوش آئند اور مسرور کر دینے والا تھا۔ وہ خوشی کے مارے ہواو ¿ں میں اڑتا پھر رہا تھا۔ دیوان خاص ریسٹورنٹ میں بہترین ڈنر کرنے کے بعد وہ مختلف سڑکوں پر بنجاروں کی طرح پھرتا رہا تھا۔ ایک لمحہ ۔۔۔ صرف ایک لمحے میں اسے گل بخت اور گل ناز یاد آئیں تھیں۔ پھر سہانے سپنوں اور ترقی کی رنگینیوں نے اسے پچھلی ہر شے بھلا دی تھیوہ اپنا کل بھول چکا تھا صرف آج اسے یاد تھا اور اس آج میں صرف اور صرف اس کے خواب تھے بس۔

اسے یہاں آئے پانچ برس بیت گئے تھے اور ان پانچ برسوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔ وہ آج سلیم ملز کا مالک تھا۔ اس کی دو فیکٹریاں مانچسٹر اور برمنگھم میں تھیں، وہ سب کچھ حاصل کر چکا تھا۔ وردہ سلیم نے اس کی لگن اور محنت دیکھ کر اس کے ساتھ شادی کر لی تھی کیونکہ اسے اس سب کو سنبھالنے کے لیے کسی مرد کی ضرورت تھی اور مرد اسرار آفندی تھا۔ آج سے تین سال پہلے وردہ سلیم نے اس کے سامنے اپنا پروپوزل رکھا تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھتا تھا۔ خیر وردہ ایک اچھی بیوی ثابت ہوئی تھی اور دو سال پہلے اس کی گود میں نیہا ڈال کر ابدی نیند جا سوئی تھی۔

وقت کبھی نہیں رکتا۔ اچھا برا سب گزر جاتا ہے بس رہ جاتی ہیں تو انسان کی یادیں، باتیں، تلخ یا شیریں، بری یا اچھی۔ انسان کے دئے زخم ، مرہم اورکچھ انمول خزانے جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔

٭….٭….٭

 شہرِمحبت کے باسیوں پر بڑی آزمائش کا وقت اتر آیا تھا۔

عائلہ کو ابھی ماں باپ کے جانے کا غم نہیں بھولا تھا کہ ایک اور غم نے اس کی جان کو دار پر چڑھا دیا تھا۔ وہ پچھلے دو دن سے بغیر کچھ کھائے پیے شاہ زر کی جانب سے بھیجے جانے والے خط کو ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی۔اس کا یقین ، اعتماد بھروسہ سب اٹھ گیا تھا۔ محبت نے اسے پوری دنیا میں اور اپنی نظروں میں رسو کر دیا تھا۔

”عائلہ! میں یہ سب لکھتے ہوئے کیا سوچ رہا ہوں؟ کچھ بھی نہیں ہے میرے اندر،ہر جذبہ اپنی موت مر گیا ہے۔ میں کہاں سے شروع کروں؟ وہاں سے جب ہم پہلی بار سیڑھیوں میں ٹکرائے تھے یا وہاں سے جب پھولوں کے سائے میں بیٹھے ا پنی محبت کو امر کرنے کے خواب سوچے تھے ۔ وہ ایک ایک لمحہ جو ہم نے ساتھ گزارا کسی فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے مگر میں بے بس ہوں۔ تم سے کیے وعدے میں نے توڑ ڈالے عائلہ میں مجبور ہو گیا ہوں۔ ایک ماں کے ہاتھوں میرے ساتھ وہ معاملہ ہو گیا ہے کہ ایک طرف تم ہو اور ایک طرف مجھے جنم دینے والی ماں۔ اب تم بتاو ¿ میں کیا کروں؟میں نے وہی کیا جو اکثر فرماں بردار اولاد کرتی ہے۔ میں نے تمہیں قربان کر دیا عائلہ۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اور بھول جانا۔ سوچنا کہ شاہ زر نام کا انسان تمہاری زندگی میں کبھی آیا ہی نہیں۔ میری محبت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ تمہارے حق کے لیے لڑ سکتی۔ پر ایک بات کہ تم میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہو گی عائلہ کیا ہوا اگر ہم ایک نہ ہو سکے۔ دل تو ہمیشہ ایک رہیں گے۔ مجھ سے اب اور کچھ نہیں لکھا جا رہا۔ ایک بار پھر تمہارا گناہ گار تم سے معافی مانگتا ہے۔

                                                                                                معافی کا طلب گار۔۔۔

                                                                                                شاہ زر خان

٭….٭….٭

جدائیوں میںرسموں و رواجوں کی چاہے کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں محبت کبھی کمزور نہیں پڑتی۔ بس اچھے وقت کا انتظار کرتی ہے اور اچھا وقت آ چکا تھا۔

٭….٭….٭

بے ر بط لفظوں میں لکھا گیا یہ خط عائلہ کے آنسوو ¿ں سے کئی بار دھل چکا تھا۔ عائلہ اس بھری دنیا میں اکیلی ہو گئی تھی۔ محبتیں اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روٹھ گئی تھیں۔

٭….٭….٭

شہروز خان وہاں سے سیدھا شہنیلا کے گھر آیا تھا۔ رات کے اس پہر شہروز کو دیکھ کر شہنیلا کو کچھ انہونا احساس ہوا تھا۔

”خالہ میں کل ہی شہنیلا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔“ دوسری طرف وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا بول رہا تھا۔

”بیٹا تم ایک دفعہ گھر والوں کو مناتے شاید وہ مان جائیں۔“ خالہ بی نے اسے ایک اور کوشش کرنے کو کہا۔ وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔

”خالہ اتنا کچھ بتانے کے بعد آپ ایسا کہہ رہی ہیں۔“

”دیکھو بیٹا میں یہ نہیں کہتی کہ تمہاری ماں نے جو کیا ٹھیک کیا پر اگر ان کے نظریے سے دیکھا جائے تو وہ بھی اپنی جگہ سچ ہے۔“ خالہ نے کہا۔

”خالہ اولاد ہمیشہ ہی غلط ہوتی ہے چاہے وہ کتنے ہی اچھے کام کیوں کر لے۔“ وہ بولا تو خالہ نے سر ہلا دیا۔

 ”میں نکاح کے بعد شہنیلا کو لندن میں لے جاو ¿ں گا۔“

”ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی“۔ خالہ بی نے اثبات میں سر ہلا کر ہاں کا عندیہ دے دیا تھا۔

”اور یوں شہروز خان شہنیلا فاروق کو لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لندن چلا گیا۔ ماضی ایک راز کی طرح ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا تھا۔

عائلہ شاہ زر، گل بخت، اسرار آفندی، شہروز ، شہنیلا ان سب کی زندگی ایک مدار سے ہٹ کر دوسرے مدار میں داخل ہو گئی تھی جہاں سب کچھ تھا، بس محبت نہیں تھی۔

٭….٭….٭

عائلہ کی نظر کسی کو دیکھ کر جھپکنا بھول گئی تھی۔

” وہ اور کوئی نہیں گل بخت تھی۔ ماضی کی کتاب بند ہو جانے پر بھی ماضی سے تعلق رکھنے والے انسان پر برسوں گزر جانے کے بعد بھی ایک دوسرے کو نہ بھولے تھے ۔ گل بخت نے بھی عائلہ کو دیکھ لیا تھا۔

”عائلہ تم یہاں؟“ گل بخت بے یقینی سے بولی تو عائلہ نرمی سے ہنس دی۔

”گل بخت یہ دنیا بہت چھوٹی ہے۔ یہاں انسان اتنی جلدی گم نہیں ہوتا، بے درد وقت اسے کسی نہ کسی پچھلے موڑ پر لاکر پٹخ ہی دیتا ہے۔“بات گہری تھی۔ گل بخت سمجھ چکی تھی۔ زہرہ اور گلناز ان دونوں کی ملاقات کو اپنے اپنے معنوں میں لے رہی تھیں۔

”کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔“ گل بخت نے کہا تو عائلہ نے انکار کر دیا۔

”سوری مجھے تھوڑی جلدی ہے۔“

”اپنا نمبر دے دو یا ایڈریس میں تمہارے گھر آ جاو ¿ں گی۔“ گل بخت نے جواباً کہا۔

”وہی پرانا گھر ہے پر عائلہ اب بدل چکی ہے۔“ وہ معنی خیزی سے کہتی دوسری جانب مڑ گئی تھی جب کہ گل بخت اس کی پشت کو کئی لمحوں تک دیکھتی رہی۔

”امی کون تھیں یہ؟“ گلناز نے ماں کا کندھا ہلاتے ہوئے پوچھا تو وہ چونکی۔

”گھر جا کر بتاتی ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔ جبکہ گلناز کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی۔

٭….٭….٭

حیدر کو سب نے معاف کر دیا تھا پر ابھی تک اس گھر کے مکینوں کی اس کے ساتھ بے تکلفی قائم نہ ہو سکی تھی۔ پریشے پھر بھی کبھی کبھی حیدر کو مخاطب کر لیتی تھی پر گلناز نے تو قسم اٹھا رکھی تھی کہ وہ کبھی بھی حیدر سے بات تو کجا نظر اٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھے گی۔ حیدر بھی اپنے لیے اس کی یہ بے اعتنائی سمجھ چکا تھا پر خاموش تھا۔ امو جان کا ہاسپٹل سے گھر لے کر آنے کے بعد بھی ہر روز ڈاکٹر انہیں چیک کرنے آتا تھا کیونکہ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ہارٹ اٹیک شدید نوعیت کا تھا اس لیے ان کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت تھی۔حیدر روز امو جان کے کمرے میں انہیں دیکھنے جاتا تھا پر اس وقت جاتا جب امو جان سو رہی ہوتی وہ بوڑھی بیمار عورت کو اب اور دکھ دینا نہیں چاہتا تھا اس لیے اس نے ایک فیصلہ لیا تھا اور اب اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وقت آ چکا تھا۔

٭….٭….٭

دل سے اٹھتا ہے جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک

شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم

جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق ایک میر بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

ساتھی کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد اس کے برسوں سے کھرنڈ بنے زخم دوبارہ رسنے لگے تھے جن یادوں پر وہ وقت کی دھول ڈال چکی تھی وہ دوبارہ سے صاف ہو کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھیں۔ ایک تکلیف دہ منظر پھر اس کی آنکھوں کے پردے پر چلنے لگا تھا۔

” تمہاری ہر یاد میں بھلا چکی ہوں شاہ زر خان پھر کیوں دوبارہ کسی اور روپ میں چلے آئے ، جینے دو مجھے کیوںاتنے عرصے بعد میری جان سلگانے چلے آئے ہو ۔ جاو ¿۔۔۔ چلے جاو ¿۔۔۔ مجھے ان تلخ گزری یادوں کو اب پھر سے نہیں دہرانا پلیز چلے جاو ¿۔“

 بے بسی لاچاری کے احساس سے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

٭….٭….٭

 امو جان کی طبیعت اب کافی زیادہ بہتر تھی۔ وہ تھوڑا بہت چلنے پھرنے لگی تھیں حالانکہ ڈاکٹر نے انہیں احتیاط برتنے کو کہا تھا پر امو جان اب مزید کمرے میں قید رہنا نہیں چاہتی تھیں۔صبح صبح ہی وہ ٹہلنے کے غرض سے ٹیرس میں آ نکلی تھیں ۔ ٹھنڈی مدہوش چلنے والی ہوائیں سرسراتی ان کے بدن کو چھو کر گزر رہی تھیں۔ وہ نیچے لان کو دیکھنے کے غرض سے ٹیرس پر آئیں تو ایک لمحہ کو تھم سی گئیں۔ لان میں یوگا کے اسٹائل میں لیٹا حیدر انہیں اپنی جانب متوجہ کر گیا تھا یکدم ان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔

”یہ تو اس سب کا مستحق نہیں ہے پھر اسے سزا کیوں ملی۔“ امو جان کا ضمیر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔

”یہ شہروز اور شہنیلا کا بیٹا ہے، اس شہروز کا جس نے میری نافرمانی کی ۔ ایک ماں کی نافرمانی کی ۔ “امو جان نے اپنی صفا ئی پیش کی تو ضمیر قہقہہ لگا کر ہنس دیا تھا۔

” زری نواز خان اس نے تمہاری نافرمانی نہیں کی تھی اس نے تمہارے قائم کیے ہوئے رسم و رواج کی نافرمانی کی تھی۔ اس نے اس جرم کی پاداش میں سزا بھگتی تھی۔ “ ضمیر جواباً ایک ایک لفظ پرزور دیتے ہوئے گویا ہوا تھا،

”ہمارے خاندان کا یہی دستور ہے۔“

” ہا ہا ہا۔۔۔یہی تو۔۔۔ تمہارے خاندان میں جیتے جاگتے انسانوں سے زیادہ تمہارے اپنے قائم کیے رواجوں ، حسب نسب کی زیادہ اہمیت ہے اس لیے تو تم نے اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔ ضمیر نے انہیں پھر آئینہ دکھایا تو اب کے وہ سر جھکا کر رہ گئیں۔

”دیکھو اسے، کیا وہ اس سب کا مستحق تھا ۔اس کا پورا بچپن تمہاری یہ سو کالڈ انا کھا گئی کیا ملا اسے، فقط نفرت، اپنے ہی خاندان کی نفرت، تمہیں اس کی ماں سے نفرت تھی تو وہ اس کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہی مر گئی تھی۔ اس کے مرنے کے بعد تو تم انہیں معاف کر سکتی تھیں ، تم ایک ماں تھیں اور ماں کا تو اولاد کے لیے بہت بڑا ظرف ہوتا ہے۔ بہت کشادہ دل ہوتا ہے۔ پھر تم کیسی ماں نکلی ۔۔۔ بتاو ¿۔۔۔ زری گل جواب دو۔۔۔آج تو تمہیں جواب دینا پڑے گا۔ تمہاری ایک انا نے کتنے سارے رشتوں کو نگل لیا ان کی خوشیوں کو برباد کر دیا۔ کیا ہوتا اگر تم شہروز کی خواہش کا احترام کر لیتی۔ تم تو اپنی اولاد پر بڑا بھروسہ کرتی تھی۔ تو تب بھروسا کیوں نہیں کیا۔ بتاو ¿ زری گل“ضمیر کی آواز کسی صدا کی طرح ان کے کانوں میں گونج رہی تھی۔انہوں نے گھبرا کر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔

اگر تم آ ج ظرف بڑا کر لیتیں تو آج خود بھی اتنے پیا رے رشتوں سے دور نہ ہوتیں تمہاری اس انا نے تمہیں بھی صرف خسارہ ہی دیا ہے۔ ضمیر حقیقت دکھا کر غائب ہو گیا تھا اور امو جان کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔

٭….٭….٭

 ”حیدر بھائی آپ کے وہاں دوست تو ہوں گے نا۔“ پری نے اچانک اس سے پوچھا۔

”ہاں میرے وہاں تو کافی ساری دوست تھے نیہا ڈیوڈ جولی یہ تینوں میرے بیسٹ فرینڈز تھے ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگا تھا۔

” حیدر بیٹا، تمہاری ماں کو کیا ہوا تھا۔“ گل بخت نے اس کی ماں کی بابت پوچھا تو یکدم پورے لاو ¿نج میں خاموشی چھا گئی۔

”جی ان کو برین ٹیومر تھا۔“ وہ افسردہ سا بولا۔

”اوہ سو سیڈ“ پشمینے نے دکھ سے کہا تھا۔

”آپ وہاں کوئی جاب وغیرہ کرتے ہیں کیا؟“ اب کے ثمرہ نے پوچھا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا جب اس گھر کی خواتین اس سے کھل کر بات کر رہی تھیں۔

”جی میرا وہاںاپنا بزنس ہے ثمرہ چچی۔“ اس نے جواب دیا تھا۔

”گڈ یعنی ایک کامیاب انسان ہو۔“ گل بخت نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ ہلکا سا ہنس دیا۔

”یہ گل کہاں ہے پھو پھو؟“ پری نے اب کے گل بخت سے گلناز کی بابت پوچھا تھا۔

”اپنے کمرے میں ہوگی۔“

”اوکے میں اسے دیکھ کرآتی ہوں۔“ پری یہ کہہ کر اٹھ گئی تھی۔

”شہروز بھائی کا فون آیا تھا کیا؟“ پشمینے نے اس سے پوچھا تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔

”جی تائی میں نے کہا تھا۔ آپ سب کو سلام کہہ رہے تھے۔“

”وعلیکم السلام طبیعت کیسی ہے اب ان کی؟“

”جی اب بہتر ہیں۔“ حیدر نے جواب دیا۔

”اللہ صحت دے بس اب سو کالڈ ناراضگیاں ختم ہو جائیں تو پھر ہم سب ایک ہو جائیں۔“ پشمینے نے اپنی رائے کا اظہار کیا تو سب نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔

”بس آپ سب دعا کیجیے کہ امو جان میرے بابا کو معاف کر دیں۔“

”انشا اللہ شہروز بھائی ہمارے ساتھ رہیں گے۔“ ثمرہ نے کہا تو سب نے دل سے آمین بولا۔

٭….٭….٭

”امی یہ اس دن بازار میں جو عورت ملی تھی وہ کون تھیں؟“ گلناز نے اس دن سے دماغ میں کلبلاتے سوال کو پوچھا تو گل بخت ایک آہ بھر کر رہ گئی۔

”وہ عائلہ خان زئی تھی۔“ گل بخت نے کہا تو گلناز ساکت رہ گئی۔

”وہ لالہ خان“ وہ ہکلائی تھی،

” ہاں وہ تمہارے لالہ خان کی محبت تھی۔“

”امی یہ کیسا انکشاف کیا ہے آپ نے۔“ وہ ابھی تک حیرت زدہ تھی۔

”یہاں ہر شخص کا اپنا اپنا راز ہے گلناز جس پر وقت پردہ ڈالے ہوئے ہے۔“

گل بخت کے لہجے میں کہتے ہوئے عجیب سی بے چینی تھی۔

”امی آپ مجھے یہ سب کھل کر بتائیں۔“

”تو سنو“ ماضی کی پرتیں ایک بار پھر کھلنے لگیں۔

٭….٭….٭

نومبر کا مہینہ تھا اس لیے سردی زوروں پر تھی گلگت اس وقت پورا سفید چادر تانے کھڑا تھا۔ہر سو برف کی تہیں نظر آ رہی تھیں۔سیبوں اور چیری کے درخت اس وقت برف سے ڈھکے ایک عجیب اور انوکھا منظر پیش کررہے تھے۔ امو جان اپنے کمرے میں موجود کوئی اخبار پڑھ رہی تھیں۔ جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

”آ جاو ¿“ انہوں نے دیکھے بغیر کہا اور دستک دینے والے اندر آ گیا۔

”گل تم چائے“ امو جان نے اپنی دھن میں بولتی ہوئی نظریں اٹھائی تھیں کہ آگے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی تھیں۔

٭….٭….٭

”ڈیڈی! آپ اگر ہو سکے تو فوراً یہاں آ جائیں۔“ فون کی دوسری جانب شہروز خان تھے۔

”کیا امو جان نے مجھے معاف کر دیا؟“بے صبری سے پوچھا اور پتا نہیں کیوں شہروز کی آنکھیں اس کی یہ بے صبری دیکھ کرچمک اٹھی تھیں۔

”ڈیڈی میں چاہتا ہوں کہ آپ خود یہاںآ کر امو جان سے معافی مانگیں۔“ اس نے کہا تو وہ چند لمحے خاموش ہو گئے۔

”اور اگر میرے معافی مانگنے کے بعد بھی انہوں نے مجھے معاف نہ کیا تو؟“ خدشہ ابل کر باہر نکلا تھا۔

 ”ڈیڈی ہمیشہ اچھا سوچنا چاہیے اور مجھے امید ہے کہ اموجان آپ کو ضرور معاف کر دیں گی پر شرط یہ ہے کہ آپ کو خود پاکستان آنا ہو گا کیونکہ امو جان کو دیکھ کر جتنا اندازہ میں لگا پایا ہوں تو مجھے یہی لگتا ہے کہ امو جان اپنی انا کے خول میں بند ہیں۔ وہ شاید آپ کو معاف کرنا چاہتی ہیں پر ان کی انا انہیں ایسا کرنے سے روک دیتی ہے۔

شاید آپ معافی مانگنے میں پہل کریں تو ان کا دل موم ہو جائے۔ “ اس نے پوری بات ان کے گوش گزار کی تھی۔

”میں کل ہی وہاں آ رہا ہوں۔ میں جلد آ رہا ہوں حیدر“ جوش سے کہتے ہوئے شہروز خان اس وقت حیدر کو ایک ننھے سے بچے لگے تھے۔

”مجھے انتظار رہے گا۔“ وہ مسکرایا تھا۔

٭….٭….٭

”میں مانتی ہوں کہ تمہارے ساتھ برا ہوا پر دیکھو اس میں شاہ زر کی کوئی غلطی نہیں تھی۔“ گل بخت اس وقت عائلہ خان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھی۔

”غلطی تو میری بھی نہیں تھی پھر مجھے کیوں سزا ملی؟“ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر گئی تھی۔

”دیکھو یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ غلطی نہ تمہاری تھی اور نہ ہی شاہ زر کی۔ بس کچھ امتحان تھے جو تم لوگوں کے بیچ آ گئے تھے پر اب بھی وقت ہے عائلہ سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے۔“ گل بخت رسانیت سے بولی تو عائلہ ایک دم بھڑک اٹھی۔

”گل بخت آپ ایسا کہہ سکتی ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔“

”دیکھو عائلہ میں چاہتی ہوں تم اور شاہ زر ایک ہو جاو ¿۔“ گل بخت نے اب کے سیدھی بات کہی تھی۔

”میں اب اس سے محبت نہیں کرتی، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔“ وہ اپنے لہجے کو سپاٹ بناتے ہوئے بولی تو گل بخت ہنس دی۔

”عائلہ یہ محبت اتنی آسانی سے تو نہیں بھولتی۔ یہ تو رگ رگ میں سما جاتی ہے اس کے مایا جال کو کاٹنا ناممکن ہوتا ہے۔“ گل بخت نے اس کا یہ عذر بھی رد کر دیا تھا۔

”آپ کو شاہ زر نے بھیجا ہے؟“

”نہیں میں خود آئی ہوں۔“ وہ دو بدو بولی تھی۔

”دیکھو عائلہ میںچاہتی ہوں کہ ماضی میں جو نقصانات ہوئے ان کا ازالہ ہو جائے شاید تب ہی ہم سب خوش رہ سکتے ہیں۔“ گل بخت کا لہجہ عجیب یاسیت بھرا تھا۔

”جان بوجھ کر کی جانے والی غلطیوں کے کفارے ادا نہیں ہوتے گل بخت“ عائلہ طنزاً ہنستے ہوئے بولی توگل بخت یکدم خاموش ہو گئی۔

’ ’میں تمہیں مجبور تو نہیں کر سکتی پر ایک بات اگر ہجر کی طویل راتیں تمہارا مقدر بنی ہیں تو شاہ زر نے بھی کانٹوں بھری زندگی گزاری ہے۔ میں نے گزرے ماہ و سال میں جب بھی اس کی آنکھیں دیکھیں مجھے تمہارا چہرہ ہی نظر آیاہے۔ کیایہ سچی محبت کی علامت نہیں؟“ وہ سوالیہ لہجے میں پوچھنے لگی۔

”بتاو ¿ عائلہ اب خاموش کیوں ہو گئی ہو؟“ پر عائلہ خاموش ہی تھی کیونکہ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

٭….٭….٭

”یہ اس کمبخت پری کو بھی آج ہی چھٹی کرنی تھی۔“

صبح جب وہ گھر سے نکلی تو بادل چھائے تھے۔ پر اب تو وہی بادل چھاجوں مینہ برسا رہے تھے۔ صبح وہ ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی مگر اب دوہری مصیبت یہ پڑی کہ گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی اورڈرائیور اسے ٹھیک کروانے ورکشاپ میں بیٹھا تھا۔ اس نے جب تمام صورتحال سے آگاہی تو وہ بھڑک اٹھی۔

”تو پھر مجھے تمہارے فرشتے لینے آئیں گے؟“ اس نے غصے سے دانت کچکچاتے ڈرائیور کو لتاڑا تھا۔

”وہ گل بی بی ہم نے گھر فون کر دیا ہے۔ ابھی کوئی آپ کو لینے آ رہا ہو گا۔“ ڈرائیور نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔

”بھاڑ میں جاو ¿ تم“ اس نے کال کاٹ کر فون ہینڈ بیگ میں ڈالا تھا۔ چند لمحوں بعد شاہ زر کی گاڑی اس کے قریب آ رکی تھی۔

”لالہ شکر ہے آپ آ گئے ورنہ یہ بارش تو مجھے بیمار کر دیتی۔“ وہ بغیر ڈرائیور سیٹ کی جانب دیکھے بڑبڑاتے ہوئے بولی تھی۔

 ”اسی لیے ہم جلدی آ گئے کہ آپ کو بیمار نہ ہونا پڑے۔“ حیدر کی آواز اس کے کانوںمیں پڑی تو وہ اس کی طرف دیکھ کر بدک کر پیچھے ہٹی۔

”تم؟“ وہ غصے سے بولی۔

”ہاں میں“ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

”لالہ خان کہاں ہیں اور تم کیوں آئے ہو؟“

”مادام لالہ خان آفس میں مصروف تھے اور رہا سوال میرے آنے کا تو مجھے گل پھوپھو نے بھیجا ہے ۔ میں کوئی شوق سے نہیں آیا۔“ وہ بھی اب کے سخت لہجے میں بولا تو گلناز نے منہ پھیر کر رہ گئی تھی۔

”ویسے بائی دا وے مجھے ایک بات تو بتاو ¿میں نے تمہاری کون سی جائیداد ضبط کی ہے جو تم مجھ سے خار کھائے بیٹھی ہو۔“ حیدر نے اب کے نارمل انداز میں پوچھا تو وہ تیوریاں چڑھا کر اسے گھورنے لگی۔

” میں اجنبی لوگوں سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی۔“دو ٹوک جواب آیا۔

”پرمیں اجنبی تو نہیں ہوں میں تو حیدر شہروز ہوں۔“

”میرے لیے حیدر شہروز اجنبی ہی ہے۔“پھر پوری گاڑی میں خاموشی چھا گئی۔

٭….٭….٭

”میں عائلہ سے ملی تھی شاہ زر۔“ گل بخت کے اس جملے پر وہ چونک کر سیدھا ہوا تھا۔

”کیا کہا تم نے؟“ وہ شاک کی کیفیت میں دوبارہ بولا۔

”میں عائلہ خان زئی سے ملی تھی شاہ زر یہی کہہ رہی ہوں۔“ اب کے گل بخت نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا۔

”وہ اسی شہر میں ہے۔“ شاہ زر کے لہجے میں برسوں بعد کسی کے لیے بیتابی چمکی تھی۔

”ہاں وہ ایبٹ آباد چلی گئی تھی۔ پر اب واپس یہیں آ گئی ہے۔“ اس نے آگاہ کیا۔

”کیسی ہے وہ؟“

”تمہارے جیسی جیسے تم ہو ویسی ہی وہ ہے۔“

”میں نے اس کے ساتھ بہت برا کیا گل بخت شاید تم ٹھیک کہتی تھیں کہ اگر میں اسٹینڈ لیتا تو شاید اسے اپنی زندگی میں شامل کر لیتا پر میں بزدل نکلا اور محبت کو قربان کر دیا فقط رشتوں کی خاطر کیونکہ مجھے محبت سے زیادہ خونی رشتے عزیز تھے۔“ شاہ زر کے لہجے میں عجیب سا ملال امڈ آیا تھا۔

”شاہ زر جو ہونا تھا ہو گیا اب گزری باتوں کو نہ چھیڑا جائے تو بہتر ہے جو بیت گیا سو بیت گیا۔بجھی چنگاریوں کو اب چھیڑنا سب انشاللہ ٹھیک ہو جائے گا۔“ گل بخت کی آخری بات پر وہ چونکا تھا۔

”کیا مطلب؟“ وہ سوالیہ بولا۔

”اس دفعہ یہ بچھڑی محبت میں ملاو ¿ں گی شاہ زر۔“ گل بخت کے پر یقین لہجے نے یکدم شاہ زر کا دل دھڑکایا تھا۔

اور گل بخت کی بات سچ ثابت ہوئی تھی کیونکہ اس بار محبت کی قسمت میں ملن لکھا تھا ۔ ادھوری محبتوں کا ملن۔

٭….٭….٭

”میں اجنبی نہیں میں تو حیدر شہروز ہوں۔“ پوری شب ان لفظوں نے گلناز کو سونے نہیں دیا تھا۔ یہ الفاظ کسی ہتھوڑے کی مانند گلناز کے دماغ پر ضربیں لگا رہے تھے۔

”یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟“ وہ یکدم جھنجھلا کر کھڑکی پاس آ کھڑی ہوئی تھی۔ کھڑکی کے اس پار چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔

” میں جتنا بھی اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہوں اتنا اسے اپنے قریب پاتی ہوں، ایسا میرے ساتھ کیوں ہورہا ہے۔ ان دیکھے خول کی دیوار دن رات توٹتی جا رہی ہے۔ میں بے بس ہوتی جا رہی ہوں۔ کیا کروں میں؟“

٭….٭….٭

نیہا اس تصویر کو دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ بلاشبہ ایک مکمل فیملی کی تصویر تھی جس میں اس کا باپ ایک عورت اور ایک نو مولود بچی کے ساتھ کھڑا تھا۔

”یہ کس کی تصویر ہے؟“ وہ تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑ ائی تھی۔

یکدم اس کے دماغ میں ایک کوندا سا لپکا تھا۔ وہ تیز رفتاری سے شمس بوا کے پاس کچن میںجا پہنچی تھی۔

”بوا یہ کون ہے؟ دیکھیں مجھے سب کچھ سچ سچ بتائیے گا۔“

بوا اس کے ہا تھ میں وہ تصویر دیکھ کر گڑبڑا سی گئی تھیں۔

”یہ فوٹو تمہیں کہاں سے ملی؟“ بوا نے گھبرا کر پوچھا وہ تیزی سے انہیں ٹوک گئی۔

”بو ا یہ تصویر مجھے کہاں سے ملی یہ اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ میرا باپ کن کے ساتھ کھڑا ہے ان کاکیا رشتہ ہے کیونکہ اتنا تو میں جانتی ہوں نہ تو یہ میری ماں ہے اور نہ میں تو پھر کون ہے یہ؟“

”یہ میری پہلی بیوی اور بیٹی کی تصویر ہے۔“ جواب کچن کے دروازے پر کھڑے اسرار آفندی کی جانب سے آیا تھا۔ نیہا حیرا ن سی یہ سن کر پلٹی تھی اور پھر پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھتی رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

ضمیر کی عدالت نے امو جان کو بے چین کر دیا تھا۔ ان کے اندر اب ہر لمحہ سلگنے لگا تھا اور وقت گزرنے کے بعد اب ان چیزوں کا احساس ہونے لگا تھا۔ اولاد ماں باپ کے دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی شے ہوتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور ایک ماں وہ تو اپنی اولاد کو اپنی جان سے بھی زیادہ چاہتی ہے ااور امو جان کو اب اپنے ماں ہونے پر بھی شرم محسوس ہونے لگی تھی کیونکہ انہوں نے صرف ایک زندگی کو خوشیوں سے بے دخل نہیں کیا تھا بلکہ اپنی اولاد کی تمام خوشیاں چھین لی تھیں۔ اس قیامت کے بعد پھر کسی کے ہونٹوں پر سچی مسکراہٹ نہ کھل سکی تھی کیونکہ ان کا دل غمزدہ ہو چکا تھا اور جب دل غم سے بھرا ہو تو پھر پورے کا پورا انسان ہی غم کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔

”میں نے بہت برا کیا۔ سب کے ساتھ ظلم کیا۔ آج برسوں بعد امو جان نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا تھا۔” میں نے رسموں رواجوں کے لیے اپنی اولاد کو قربا ن کردیا۔ میں سفاک ماں نکلی میرا شہروز کتنے سال صرف میری وجہ سے در بدر بھٹکتا رہا ، میں نے اس کی شناخت چھین لی اور میں سب کی خوشیوں کو نگل گئی۔ “

آنسو آنکھوں سے بہے جا رہے تھے۔ اور ان کا دل ان کے اعتراف کو قبول کرتا جا رہا تھا۔ آ گاہی کے کواڑ مکمل وا ہو گئے تھے۔

اور آج بالآخر رسم و رواج کی پابند زری نواز خان نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کھلے دل سے کر لیا تھا۔

٭….٭….٭

 ”امو جان“ گل بخت دستک دیتی ہوئی اندر داخل ہو ئی تو امو جان جھولتی کرسی پر اسی پوزیشن میں خالی نگاہیں جمائے ہوئے تھیں۔

”امو جان آپ ٹھیک ہے؟“ گل بخت نے ان کے قریب جا کر انہیں دوبارہ پکارا رتو وہ چونک کر سیدھی ہوئیں۔

”گل بخت !تم آو ¿ بیٹھو۔“ وہ آنکھوں کی نمی کو چادر سے پونچھتے ہوئے بولیں تو گل بخت ان کے قریب رکھے کشن پر نیچے بیٹھ گئی تھی۔

”امو جان آپ رو رہی تھیں؟“ گل بخت نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئیں۔

”نہیں تو“ حالانکہ یہ کہتے ہوئے آنسو اور زور سے بہنے لگے تھے۔

”امو جان پلیز مت روئیں۔“ گل بخت نے ان کا ہاتھ تھام کر تسلی دی تو وہ بولیں۔

”میں اپنے گنا ہوں پر نادم ہونے کی وجہ سے رو رہی ہوں۔ گل میں تم سب کی قصور وار ہوں۔“

”امو جان جو ہوا بھول جائیں۔“

”اپنے گناہوں کو کیسے بھول جاو ¿ں۔ اپنی زیادتیوں کو کیسے بھولا دوں۔“ کپکپاتی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔

”آ پ نے جو کیا اپنی جگہ ٹھیک سوچ کر کیا پر ام وجان یہ رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں ہمارے دین میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہوا تو جس بات کاذکر دین میں نہ ہو وہ ہم کیسے اپنا سکتے ہیں۔ ان رسموں کی وجہ سے کیا کیا ہو جاتا ہے۔ خون بہایا جاتا ہے، عورتیں برادری کا بر نہ ملنے پر پوری زندگی گھر میں بیٹھی رہ جاتیں ہیں۔ ان رسموں کی وجہ سے کیا کیا نقصان ہوتے ہیں۔ رواج ہمیں فائدہ نہیں الٹا نقصان دیتے ہیں اور پھر بھی نقصان کو ہنسی خوشی گلے سے لگائے رکھتے ہیں۔“ وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تو امو جان سر جھکا کر رہ گئیں۔

 ”میں آپ سے آج ایک درخواست کرنے آئی ہوں امو جان آپ شہروز خان کو معاف کر دیں۔ اس نے اپنے حصے کی بہت سزا پالی ہے اب اسے گلے سے لگا لیں۔“ گل بخت کا لہجہ منت بھرا تھا۔ پر امو جان نے سر نہیں اٹھا یا تھا۔

”آپ یہ بھی جانتی تھی کہ شاہ زر عائلہ سے پیار کرتا ہے پر دیکھیں شاہ زر خامو شی سے اپنے پیار سے دستبردار ہو گیا۔ وہ آپ کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔ پر کیا آپ جانتی ہیں وہ اندر سے کھوکھلا ہو گیا ہے، مسکراہٹ خوشی اس نے اپنے اوپر حرام کر لی ہے۔ امو جان آپاگر کھلے دل سے سب قبول کر لیں گی تو یقین مانیں آپ کی اولاد ایک مرتبہ پھر جی اٹھے گی۔“ امو جان کا سر اب بھی نہ اٹھا تھا۔ آنکھوں سے بہتے آنسوان کی جھولی میں ٹپ ٹپ گرتے جا رہے تھے۔

٭….٭….٭

”آپ نے اتنا بڑا سچ مجھ سے چھپایا پاپا ۔“ نیہا پوری کتھا سن کر غمزدہ ہو گئی تھی۔

”میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا بیٹا۔“ اسرار آفندی شرمندگی سے بولے۔

”جو تکلیف آپ نے گل بخت آنٹی اور گلناز آپی کو دی وہ کہاں شمار ہوتی ہے؟“ وہ یکدم غصے سے بولی تھی۔ اسرار آفندی ندامت سے سر جھکا کر رہ گئے تھے۔

”آپ کتنے پتھر دل تھے پاپا صرف پیسے کی خاطر ، اپنے لائف اسٹائل کے لیے آپ نے اپنی فیملی کو چھوڑ دیا کیوں پاپا کیوں؟ اپنی بیٹی کی پیدائش پر بھی آپ واپس نہیں لوٹے آپ اتنے ظالم ہو سکتے ہیں کبھی سوچا نہ تھا۔“ نیہا کی آواز بھرا گئی تھی۔

”میں اپنا قصور مانتا ہوں بیٹا میں نے گل بخت کے ساتھ اور گلناز کے ساتھ بہت برا کیا، پر میں کیا کرتا میں دولت حاصل کرنے کی دھن میں اتنا آگے نکل چکا تھا کہ اپنا سب کچھ بھلا بیٹھا تھا۔“

”تب بھی آپ کو ان کا خیال نہیں آیا جب انہوں نے آپ کویہ تصویر بھیجی تھی۔“ نیہا نے تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔

” گل بخت نے یہ فریم مجھے پاکستان سے بھیجا تھا جس میں اس نے اپنی اور گلناز کی تصویر کے ساتھ میری تصویر کو جوڑا تھا۔“ انہوں نے اعتراف کیا۔

”پاپا آپ نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے۔“ وہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے تیزی سے ان کے پاس سے اٹھ کر سیڑھیاں چڑھ گئی تھی۔ اسرار آفندی اپنی نم آنکھوں کے ساتھ اسے جاتے دیکھتے رہے۔

٭….٭….٭

گلناز نے حیدر کا جو امیج بنایا تھا وہ کافی برا تھا کیونکہ شہروز خان کو ان سب کا قصور وار سمجھتی رہی تھی۔ اس لیے جب پہلے دن حیدر یہاں آیا تو گلناز کو اس سے چڑ ہو گئی تھی پر بعد میں جب حقیقت کھلی تو سب اس کے برعکس نکلا اور گلناز آفندی کو وہی حیدر اچھا لگنے لگا۔ وہ اپنے دل کی کایا پلٹ پر خود بھی حیران پریشان تھی۔ پر وہ یہ نہیں جانتی تھی محبت تو ایسے ہی ہوتی ہے۔ یہی اس کا اصول ہے جب دل کا رنگ بدلتا ہے تو یکدم ہی برا انسان اچھا لگنے لگتا ہے۔ گلنازکے ساتھ یہی دن ہوا تھا۔ پر اب مصیبت یہ آ پڑی تھی کہ محبت کی ازلی دشمن انا بیچ میں آ ٹپکی تھی۔ گلناز اپنے دل کی حالت چھپانے کے لیے حیدر کے سامنے نفرت بے حسی کا خول چڑھائے پھرنے لگی تھی ۔ وہ ا پنے آپ کواس سب سے لاتعلق ظاہر کرنے لگی تھی۔ حیدر کے سامنے نہ آنے کی بھی یہی وجہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر کبھی حیدر ااور اس کا سامنا ہو گیا تو پھر اس کا یہ بے ساختہ خول ٹوٹ جائے گا اور وہ اس خول کو توڑنا نہیں چاہتی تھی۔

٭….٭….٭

”پاپا ہمیں پاکستان جانا ہوگا۔“ اگلی صبح وہ سپاٹ لہجے میں ان کے پاس آ کر بولی تھی۔

”تم یونیورسٹی نہیں گئی کیا؟“ اسرار آفندی نے اس کی بات جو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سوال داغا تھا۔

”پاپا ہمیں پاکستان جانا ہے۔“وہ اب زور سے چلائی تھی۔

”یہ اب ممکن نہیں ہے۔“ وہ آہستہ سے بولے تھے۔

”سب ممکن ہے۔ اب میں آپ کو مزید ان کا حق مارنے نہیں دوں گی۔آپ کو سب سے معافی مانگنا ہو گی۔“ نیہا کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔

”نہیں میں اب ان لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتا ، مجھے مجبور نہ کرو۔“

”آپ معافی مانگیں پاپا اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاو ¿ں گی۔“ آخر میں وہ دھمکی دیتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھی پر اسرار آفندی کی ذات کو انگاروں پر جلتا چھوڑ گئی تھی۔

٭….٭….٭

 قسمت نے ایک مرتبہ پھر اسے بھنور میں لاچھوڑا تھا۔ جس کہانی پر برسوں پہلے وقت کی دھول پڑ گئی تھی وہ آج پھر زندہ ہو گئی تھی، وہ جو بڑی مشکل سے اپنا ماضی بھلا بیٹھی تھی آج پھر وہ ماضی اور ماضی کا کردار اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ گل بخت جب سے گئی تھی وہ تب سے بے چین پرندے کی مانند ایک جگہ سے دوسری جگہ پھر رہی تھی۔

”جیسی تم ہو ویسا ہی وہ ہے۔“ یہ الفاظ کسی باز گشت کی مانندبار بار اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔

”کیا شاہ زر بھی ابھی تک مجھے نہیں بھولا؟“ وہ ہولے سے بڑبڑائی تھی جیسے دل سے پوچھا ہو۔

”پگلی پہلی محبت بھی کبھی بھولی ہے۔ یہ تو آکاس بیل کی مانند پورے وجود سے لپٹ جاتی ہے۔“ دل اس کی عقل پر ماتم کرتے جواب دیتا۔

”عائلہ خان زئی اتنا مت سوچو ، جاو ¿ تھام لو اس کا ہاتھ۔“ ضمیر اسے مسکراتے ہوئے مشورہ دیتا تھا۔

”وہ بھی میرا ہاتھ تھام لے گا؟“

”یہ تو وقت بتائے گا۔“ محبت دور کھڑی مسکرا رہی تھی کیو نکہ اس کی فتح کا وقت قریب آ چکا تھا۔

٭….٭….٭

”شش۔۔۔ شہروز۔۔۔“ شہروز کو دیکھ کر امو جان کی آواز کپکپائی تھی۔

”امو جان“ شہروز دوڑکر ان کے سینے سے آ لگا تھا اور امو جان نے انہیں بانہوں میں بھر لیا تھا۔

”میرے بچے مجھے معاف کر دے اپنی ماں کو معاف کر دے۔“ وہ روتے ہوئے انہیں بوسے دیتی جا رہی تھیں۔

”امو جان میں گناہ گار ہوں آپ کا معافی مجھے مانگنی چاہیے آپ سے ، آپ مت معافی مانگیں۔“شہروز خان بار بار ان کا لرزتا ہاتھ چوم رہے تھے۔

 ”تجھے در بدر کر کے سکون سے میں بھی نہ رہ سکی۔“ آنسوو ¿ں کی لڑی تھی جو زری گل کے گالوں پر بہتی جا رہی تھی۔

”امو جان سکون سے تو میں بھی نہ ررہ پایا۔“

” پلیز اب آپ باقی کا رونا دھونا ، گلے ، معافیاں بعد میں کر لیجیے گا پہلے جشن کی تیاری ہو جائے۔“

حیدر بولا تو سب مسکرا دیے۔ آج خان ولا کے مکینوں کے چہرے سچی خوشی سے دمک رہے تھے، محبت کی دیوی آج کھل کر مہربان ہوئی تھی۔

٭….٭….٭

”ہیلو جی کون۔۔۔؟“ گل بخت نے رنگ ہونے پر موبائل اٹھایا تو دوسر ی طرف مکمل خاموشی چھا گئی۔

”اب فون کر کے خاموش ہو گئے بتائیے کون ہے؟“ گل بخت اب کے سخت لہجے میں پوچھنے لگی تھی۔

”تمہارا گناہ گار اسرار آفندی“ گل بخت پر ایک دم ڈھیر سارا ملبہ گرا تھا۔ اس کی سانس یہ آواز سن کر تھم سی گئی۔

”اسرار“ وہ بمشکل بول پائی تھی۔

”ہاں میں اسرار تمہارا مجرم“

”کون ہو تم؟“ گل بخت اب کے ہوش میں آتے ہوئے بولی تھی،

”میں کسی بھی اسرار نامی شخص کو نہیں جانتی آئندہ فون مت کیجیے گا۔“ اس نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا تھا۔ ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو وہ وہیں پھوٹ پھوٹ کر ر ودی تھی۔

٭….٭….٭

”کاش میں گزرتے وقت کو واپس لے آو ¿ں شہروز تو سب ویسا ہی ہو جائے۔“ اموجان کا ملال کسی طور پر بھی کم ہونے کو نہ آرہا تھا۔

”امو جان پلیز اتنا مت سوچیں جو ہوا اسے بری یاد سمجھ کر بھول جائیں۔“ شہروز خان ان کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا۔

”اپنی زیادتیاں، گناہ بھولنا اتنا آسان نہیں ہوتا، یہ میرے لیے بھی آسان نہ ہو گا۔“ امو جان کا لہجہ بھر آیا تو شہروز نے آگے بڑھ کر ان کا سر اپنے کشادہ سینے سے لگا لیا تھا۔

”اموجان میں چاہتا ہوں کہ آج سے ہم اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں پرانی سب باتوں کو بھول کر آگے بڑھیں۔“ اس نے رسانیت سے کہا تو امو جان نے محض سر ہلا دیا۔

”امو جان شہروز بھائی آپ یہاں ہیں میں آپ کو پورے گھر میں تلاش کرتی پھر رہی ہوں۔“ گل بخت انہیں تلاش کرتے اسٹڈی روم میں آئی تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

”ہااں امو جان یہاں تھی تو میں بھی یہاں ہی آ گیا۔“ شہروز جواباً بولے۔

”گل کوئی بات تھی کیا؟“ اموجان نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

”امو جان بات تو بہت ضروری ہے جو مجھے آپ سے اور شہروز بھائی سے کرنی ہے۔“ وہ بولی تو ان دونوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”بولو“ شہروز نے کہا۔

” امو جان میں چاہتی ہوں کہ ہم شاہ زر کا رشتہ باقاعدہ طور پر عائلہ کے گھر لے کر جائیں“

”ٹھیک ہے جمعہ کا دن رکھ لیتے ہیںم ساتھ ہی رسم کر آئیں گے۔“ اموجان کا لہجہ نارمل تھا۔

”شہروز بھائی آپ بھی رائے دیں۔“ گل بخت نے مسکراتے ہوئے ان کی جانب دیکھا تو وہ جواباً مسکرا اٹھے۔

”جو امو جان کی رائے ہے وہی میری رائے ہے۔“

”ارے واہ ماں کی اتنی فرماں برداری یہ تو سیدھا سادہ جنت کا ٹکٹ ہے۔“ گل بخت شریر س لہجے میں بولی تو شہروز ہنس دیے۔

”گل بخت میں چاہتا ہوں ایک اور نیک کام ہو جائے اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو“ شہروز کا انداز اب کے سنجیدہ تھا۔ امو جان اور گل بخت دونوں نے بیک وقت اس کی جانب دیکھا تھا۔

”جی بولیں شہروز بھائی۔“ گل بخت بولی۔

”اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو میں گلناز کو حیدر کی دلہن بنانا چاہتا ہوں۔“

٭….٭….٭

 خان ولا میں اس وقت رنگ و بو کا ایک سیلاب اترا ہوا تھا۔ ہر طرف روشنی لشکارے مار رہی تھی۔ ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ کیونکہ آج شاہ زر اور عائلہ کا نکاح تھا اور دوسری جانب حیدر اور گلناز کی منگنی تھی۔ امو جان آج برسوں بعد خوش دکھائی دے رہی تھیں ۔شہروز ایک جانب بیٹھے مسکراتے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ایک لمبی مسافت کے بعد انہیں آج خاندان کی یہ خوشی دیکھنا نصیب ہوئی تھی عائلہ توابھی تک شاک کی کیفیت میں تھی۔ اسے ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ شاہ زر کے نام ہو چکی تھی اوریقین تو شاہ زر کو بھی نہ آیا تھا پر محبت ایسے اپنا آپ منواتی ہے۔ دوسری جانب بیٹھی گلناز کی بھی حالت کچھ عجیب سی ہو رہی تھی جبکہ حیدر اس کی یہ حالت دیکھ کر بار بار مسکرائے جا رہا تھا۔

”اب تو ہم اجنبی نہیں رہے نا؟“ اس نے ہلکے سے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ جھکا سر اور جھکا گئی ۔ گل نخت سب کو دیکھتی بظاہر مسکرا رہی تھی۔ پر اس کے اندر ایک ویرانی تھی۔ دوسروں کے لیے کی گئی جدو جہد تو رنگ لائی پر فون کال نے اسے بہت زیادہ بے چین اور مضطرب کر دیا تھا اور یہ بے چینی اس کے رگ رگ میں سما گئی تھی۔ آج ہر کوئی مکمل تھا ہر کسی کو اس کی محبت مل گئی تھی پر وہ آج بھی تہی داماں تھی۔

”میرا دامن ہمیشہ خالی رہے گا کیا؟“ ایک ہوک سی تھی جو دل سے صدا بن کر نکلی تھی۔ اچانک کسی نے اس نے کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر خیالوں کی دنیا سے باہر نکل آئی ۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ساکت رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

اسرار آفندی سب کے سامنے اس کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا اور وہ خاموش سی آنکھوں کے ساتھ سر جھکائے کھڑی تھی۔

مجھے معاف کر دو گل ! میں مانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا تم جو چاہے مجھے سزا دو مگر یہ بے رخی کا تالہ توڑ دو ۔“ آگے وہ گڑگڑاتے ہوئے معافی مانگ رہا تھا۔

”امی آپ انہیں معاف کردیں۔یہ اپنے حصے کی سزاپاچکے ہیں ۔“

پیچھے کھڑی گل ناز سرخ چہرہ لئے ماں کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔گل نے نظر اٹھا کر دیکھا۔

”میں تمہیں معاف کرتی ہوں اسرار ! صرف اپنی بیٹی کی خاطر۔“

یہ کہتے ہوئے وہ رکی نہیں تھی آگے بڑھ گئی تھی پر اب ہر رستہ صاف ہو گیا تھا۔

٭….٭….٭

اتنا عر صہ ٹر پنے کے بعد بھی تمہیں چین نہیںپڑا تم اب بھی کتراتی پھر رہی ہو۔“وہ کمرے میں آئی تو شاہ ذر نے اسے دبوچ لیا تھا۔

”یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔کسی نے دیکھ لیا تو؟ وہ اس کی بانہوں سے اپنا آپ چھڑوانے لگی تو شاہ زر نے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں ”کس لیا “ تھا۔وہ مزاحمت کرتی رہ گئی تھی۔

”مجھے اب کوئی ڈر نہیں کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے تمہاری جدائی نے مجھے فولاد بنا دیا ہے۔“وہ ہلکی سی اس کے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا تو عائلہ ہڑبڑا کر رہ گئی تھی۔شاہ زر کی گرم سانسیں اس کے چہرے کو گلنار کر رہی تھیں ۔

”شہزاد بھائی! وہ یکدم بولی تو شاہ زر کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا وہ بھاگ کر دروازہ پار کر گئی تھی۔

”کہاں گیا مسٹر فولاد مسٹر شاہ زر؟اس نے شرارت سے انگوٹھا دکھایا تو وہ دانت پیس کر رہ گیا ۔

”دیکھ لونگا تمہیں ۔“وہ مصنوعی غصے سے بولا تو وہ ہنستی مسکراتی اسے الوداع کہتی چلی گئی۔

”تم جہاں بھی جاو گی لوٹ کر تو میرے پاس ہی آو گی عائلہ شاہ زر خان۔“

وہ زیر لب بڑبڑا یا تو محبت اپنے معتبر ہونے پر ا س کی ڈھیر ساری بلائیں لے ڈالی تھیں ۔

٭….٭….٭

وہ ٹیرس پر رکھے گملوں کو پانی دینے آئی تو پہلے سے وہاں چھپے حیدر نے اسے جا لیا۔وہ حیدر کو وہاں دیکھ کر گڑبڑا گئی تھی ۔

”اب بھاگ کر دکھاو ۔“ حیدر نے اس کی کلائی پکڑی تو ا سکی حالت غیر ہو نے لگی تھی۔

”چچچھوڑئیں ۔“و ہ منمنائی تھی۔

”یہ ہاتھ چھوڑنے کے لئے نہیں تھاما گلناز حیدر شہروز!“

وہ ا سکی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا تو وہ سر جھکا کر رہ گئی

”مجھے پری نے سب کچھ بتا دیا ہے کیونکہ اس نے تمہاری ڈائری پڑھ لی تھی۔“وہ ہولے سے اس کے پیچھے چھپے راز سے پردہ ہٹاتے ہوئے بولا تو ا سکی آنکھیں ایک دم جل تھل ہو گئیں تھیں ۔

”ان آنسووں کو مت بہاو گلناز! یہ میرے لئے بہت قیمتی ہیں ۔“وہ اپنی پورو¿ں سے اس کے آنسووں کو سمیٹے ہوئے گویا ہوا تھا۔

”تمہیں پتا ہے میں تم سے آج سے نہیں تب سے محبت کرنے لگا تھا جب تمہاری تصویر کو دیکھا تھا ۔گل بخت پھپھو نے سب کی تصویریںہمیں بھیجی تھیں جن میں تمہاری تصویریں بھی تھیں اور تب سے مجھے اس تصویر والی کامنی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی ۔“وہ اپنی محبت کا اقرار کرتا اسے معتبر کر رہا تھا یہ تو وہ چاہتی تھی ۔

”اب بتاو کیا اب بھی میں اجنبی ہوں اس نے پوچھا تو گلناز کا جھکا سر اٹھا ۔

”نہیں تم ہی میری سلطنت دل کے مالک ہو حیدر!“یہ جملہ وہ دل میں کہہ پائی تھی ۔

ظاہر ہے بھئی ۔لڑکیاں اپنے منہ سے اظہار محبت کرتی اچھی تو نہیں لگتیں پر حیدر اس کی آنکھوں کی گرتی اٹھتی چلمن کی زبان سمجھ گیا تھااور آج محبت کا جام مکمل بھر گیا تھا وہ مسکرائی تھی محبت مسکرائی تھی محبت نے ان دو پر یمیوں کو دور سے سلامی دی تھی کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔

٭….٭….٭

اب سب تصویریں مکمل تھیں ۔شاہ زر عائلہ گل بخت ،اسرار ،حیدر،گل ناز یہ سب اپنی اپنی محبتوں کے مدار میں داخل ہو گئے تھے۔جدائیوںمیں ،رسم و رواجوں کی چاہے کتنی بھی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں محبت کبھی کمزور نہیں پڑتی اچھے وقت کا انتظار کرتی ہے اور اچھا وقت آچکا تھا کیونکہ ان کی اگلی منزل عشق کی جانب رواں دواں تھی۔

ض….ض….ض

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے