سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 50

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 50

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

 قسط نمبر 50

معراج رسول صاحب کی ذہنی مفلوجیت کے بعد ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کی دنیا ہی بدل گئی تھی، ادارے کی سربراہی عملی طور پر ان کی بیگم عذرا رسول نے سنبھال لی تھی، وہ اگرچہ پبلشنگ اور ادارتی امور سے نابلد تھیں لیکن تمام پرچوں کی قانونی طور پر پبلشر تھیں، یہ تبدیلی اس وقت لائی گئی تھی جب معراج صاحب اپنی ہارٹ سرجری کے لیے لندن جارہے تھے اور انھیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ آپریشن کی ناکامی ان کی زندگی کا چراغ گل بھی کرسکتی ہے، حفظ ماتقدم کے طور پر انھوں نے اپنے تمام اثاثہ جات جن میں چاروں پرچوں کے ڈکلیریشن بھی شامل تھے ، بیگم کے نام منتقل کردیے تھے، ہمیں یاد ہے کہ علی سفیان آفاقی صاحب نے ہم سے کہا تھا کہ معراج صاحب نے یہ بہت بڑی غلطی کی ہے، انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، بعد میں ہمیں بھی اس کا احساس ہوا ۔

عذرا صاحبہ نے مکمل چارج سنبھالنے کے بعد اپنے بھائیوں کو ادارے میں اہم ذمے داریاں سونپ دیں جو درحقیقت اس شعبے کے حوالے سے کوئی معلومات اور تجربہ ہی نہیں رکھتے تھے، اقلیم علیم ان کی رہنمائی کے لیے بدستور جنرل منیجر کے فرائض انجام دے رہے تھے، نئے انتظامات میں ان لوگوں کی چھانٹی بھی ضروری سمجھی گئی جو کسی نہ کسی طرح ہم سے وابستہ تھے یا جنہیں ہم ادارے میں لائے تھے، ایسے لوگوں میں سرفہرست حسام بٹ، کاشف زبیر ، نوشاد عادل، یمنیٰ احمد، لبنیٰ خیال وغیرہ نمایاں تھے، حسام بٹ اب ادارے کے ملازم نہیں رہے تھے، وہ رائٹر کی حیثیت سے آزادانہ لکھ رہے تھے، اقبال کاظمی کا چھوڑا ہوا سلسلہ آتش فشاں انھوں نے ہی مکمل کیا ، انھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے مزید احتیاط یہ کی کہ ہم سے ہر طرح کا رابطہ و تعلق منقطع کرلیا، ہم بھی ان کی مجبوری سمجھتے تھے لہٰذا کبھی کوئی شکوہ بھی نہیں کیا، کاشف زبیر سے ہم نے ایک قسط وار سلسلہ شروع کرایا تھا جس کی شاید کئی قسطیں وہ لکھ چکے تھے اور ابھی معراج صاحب پوری طرح مفلوجیت کا شکار نہیں ہوئے تھے کہ وہ قسطیں انھیں واپس کردی گئیں، مزید یہ کہ ان کی کہانیاں بھی روک دی گئیں، انہی دنوں شاید مارچ میں کاشف کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ، وہ پریشان ہوگئے اور ہمیں فون کیا، خاص طور پر قسط کے سلسلے میں وہ بہت پریشان تھے، ان کا کہنا تھا کہ میرا تو روٹی روزگار ہی لکھنے لکھانے سے وابستہ ہے، اگر یہ سلسلہ بند ہوگیا تو میں کیا کروں گا؟

ہم نے انھیں مشورہ دیا کہ فوری طور پر معراج صاحب کو اس صورت حال سے باخبر کریں اور قسط کے سلسلے میں نئے اُفق کے ایڈیٹر عمران قریشی سے رابطہ کرنے کے لیے کہا، ساتھ ہی عمران کو فون بھی کیا کہ وہ بہت اچھی کہانی ہے، آپ اسے نئے افق کے لیے منتخب کرلیں، اس طرح یہ قسط وار سلسلہ نئے افق میں شروع ہوا، دوسری طرف معراج صاحب نے صورت حال سے باخبر ہوتے ہی کاشف کے سلسلے میں خصوصی احکامات دیے اور اس طرح ایک غیر معمولی مصنف کی قلمی موت ٹل گئی، یہ واقعہ تفصیل سے ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں۔

ہمارے ادارہ چھوڑنے سے کچھ عرصہ پہلے ایک روز ابن آس ہمارے پاس آئے ، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وہ تحریر کے میدان میں اپنی آل راونڈ کارکردگی کے لیے مشہور ہیں،ایک بار بہت پہلے بھی ہم نے کوشش کی تھی کہ وہ سرگزشت کے لیے لکھیں لیکن پھر شاید وہ روزنامہ امت سے ایسے وابستہ ہوئے کہ ڈائجسٹوں سے دور ہوگئے، دوسری بار پھر انھوں نے رابطہ کیا تو ہم نے ہالی ووڈ سے متعلق کچھ کام سرگزشت کے لیے انھیں دیا جو انھوں نے شروع بھی کردیا تھا اور اس طرح سرگزشت کے لیے لکھنا شروع کردیا تھا، ہمارے ادارہ چھوڑنے کے بعد ان کا کام بھی واپس کردیا گیا، اس کا ہمیں بہت افسوس ہوا ، بلاشبہ اگر وہ ادارے سے وابستہ رہتے تو یقیناً اس میں ادارے ہی کا فائدہ ہوتا اور قارئین کو بہت اچھی کہانیاں پڑھنے کو ملتیں۔

ابن آس جب سرگزشت کے لیے لکھ رہے تھے تو ان کا آنا جانا دفتر میں ہوتا تھا، ایک روز جب وہ دفتر آئے تو ان کے ہمراہ ایک نوعمر لڑکا بھی تھا ، ابن آس نے اس کی صلاحیتوں کی بڑی تعریف کی اور بتایا کہ ان کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور یہ بطور مصنف اپنا کرئر بنانا چاہتے ہیں، تھوڑی سی گفتگو کے بعد ہمیں بھی اندازہ ہوا کہ یہ لڑکا یقیناً مستقبل میں کوئی اہم مقام حاصل کرلے گا، اس لڑکے کا نام نوشاد عادل تھا۔

ہم نے نوشاد عادل کو ادارے میں کام کرنے کی پیشکش کی جو انھوں نے خوش دلی سے قبول کرلی، دراصل وہ کراچی آئے ہی اس لیے تھے کہ غم روزگار کے ستائے ہوئے تھے چناں چہ اس طرح انھیں ہمارے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، اس دوران میں ہم نے ان سے سرگزشت کے لیے کہانیاں بھی لکھوائیں اور سرگزشت میں وہ ہمارے معاون کے طور پر کام کرنے لگے، ادارے کی نئی انتظامیہ نے بعد میں انھیں بھی فارغ کردیا اور وہ بہت پریشان ہوکر ہمارے پاس آئے، ہم ان دنوں ”مسیحا“ نکالنے کی تیاری کر رہے تھے چناں چہ ہم نے نوشاد سے کہا کہ ہمارے دفتر میں بیٹھو اور مسیحا کے لیے جو مواد ہم نے جمع کیا ہے ، اسے دیکھو، اس طرح تمھاری کچھ اشک شوئی ہوسکے گی، افسوس کہ ہمارے مسیحا نکالنے کا پروگرام آگے نہیں بڑھ سکا اور ہمیں بالآخر نوشاد سے معذرت کرنا پڑی، بعد میں وہ زیادہ بہتر ادارے سے وابستہ ہوگئے تھے۔

یمنیٰ احمد بھی ہمارا انتخاب تھیں، بعد میں انھیں بھی فارغ کرنے کا ارادہ ہوچکا تھا لیکن انھوں نے کسی نہ کسی طرح اپنی جاب بچائی اور اب وہ سسپنس کی ایڈیٹر ہیں۔

ایک طویل عرصے تک اور شاید اب بھی ادارے سے وابستہ افراد پر ایک غیر اعلانیہ پابندی موجود ہے کہ وہ ہم سے مراسم نہ رکھیں ورنہ جاب سے ہاتھ دھونا پڑیں گے، چناں چہ اکثر پرانے لوگ کنی کترانے لگے، ہمیں ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، ہم ان کی مجبوریاں سمجھتے تھے لہٰذا کبھی کسی سے کوئی شکوہ بھی نہیں کیا، پھر یہ بھی ہوا کہ ہمیں جو اعزازی پرچے ملا کرتے تھے، وہ بھی بند کردیے گئے، ایک بار کچھ ایسی صورت حال پیدا ہوئی جب سرگزشت اور سسپنس کی اشاعت بہت تیزی سے گرنے لگی تو عذرا رسول صاحبہ نے ہمیں بلایا اور بڑی محبت اور خلوص سے پیش آئیں، انھوں نے ہم سے کہا کہ آپ پرانے آدمی ہیں اور تمام معاملات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں ، اس صورت حال میں آپ کیا مشورہ دیں گے؟

ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے ہی کام میں مصروف ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ پرچوں میں اب کیا شائع ہورہا ہے؟ کیوں کہ اب ہمارے پرچے بھی بند کردیے گئے ہیں ، یہ سن کر وہ بہت حیران ہوئیں اور اسی وقت انھوں نے متعلقہ افراد سے پوچھا کہ فراز صاحب کے پرچے کیوں اور کس نے بند کیے ہیں ؟

بہر حال اس کے بعد ہمارے پرچے دوبارہ جاری ہوگئے اور تاحال جاری ہیں، اس ملاقات میں ہم نے اپنی اعزازی معاونت کے لیے پیشکش کی جو انھوں نے خوشی سے قبول بھی کی اور شکیل عدنان، ثمر عباس وغیرہ کو بلاکر کہا کہ آپ لوگ فراز صاحب سے مشورہ لیا کریں مگر بعد میں ایسا ہوا نہیں، پھر کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔

عرصہ بعد معراج صاحب کی حالت بہت خراب ہوئی اور وہ ضیاءالدین اسپتال میں ایڈمٹ ہوئے تو ہم اور محمود احمد مودی صاحب انھیں دیکھنے گئے ، وہیں عذرا رسول ، منظر عباس، ثمر عباس وغیرہ بھی موجود تھے، محمد رمضان بھی ہمارے ساتھ تھے اس موقع پر رمضان صاحب نے ہمارے سامنے عذرا رسول کو مخاطب کرکے کہا ”لیجیے فراز صاحب آگئے ہیں اور سرگزشت کے سلسلے میں ان سے بات کرلیجیے“

اس وقت انھوں نے بہت خوش مزاجی سے اس موضوع کو ٹال دیا لیکن بعد میں رمضان نے ہمیں بتایا کہ دفتر پہنچ کر ان کی ٹھیک ٹھاک کلاس لی گئی کہ تم نے ایسی بات کیوں کی تھی؟ اس پر ہمیں بڑی حیرت ہوئی، حالاں کہ ہمارا کوئی ارادہ ہر گز نہیں تھا کہ دوبارہ ادارہ جوائن کریں یا باقاعدہ طور پر سرگزشت کے لیے کام کریں کیوں کہ ہمیں اب اس کی ضرورت ہی نہیں تھی، ہماری مصروفیات اپنے شعبے کے حوالے سے پہلے ہی بہت زیادہ ہوچکی تھیں اور اس پر مزید زیادتی برادرم اخلاق احمد کی نظرکرم سے ہوچکی تھی۔

ایک روز اخلاق کا فون آیا اور انھوں نے کہا کہ فوراً دفتر آجائیں، اخلاق احمد اس وقت ہفت روزہ اخبار جہاں کے ایڈیٹر تھے، ہم ان سے ملاقات کے لیے اخبار جہاں کے آفس پہنچ گئے، اخلاق نے کہا ”اب آپ جاسوسی ڈائجسٹ سے علیحدہ ہوگئے ہیں اور آپ پر کوئی پابندی نہیں رہی ہے لہٰذا اخبار جہاں کے لیے وہ کام کریں جس کے لیے پہلے بھی ایک بار آپ سے کہا تھا “

شاید چند سال پہلے ایک بار اخلاق نے ہم سے کہا تھا کہ اخبار جہاں کے ایسٹرولوجی سے متعلق صفحات آپ سنبھال لیں اور اس سلسلے میں انھوں نے جناب میر جاوید الرحمن سے ہماری ایک ملاقات بھی کرائی تھی، یہ ملاقات خاصی دلچسپ رہی تھی جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ میر جاوید صاحب کس ٹائپ کی شخصیت ہیں، انھیں علم نجوم سے خصوصی دلچسپی ہے، اس ملاقات میں انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ان کی لائبریری میں دنیا بھر کی علم نجوم سے متعلق کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے لیکن وہ جس ایسٹرولوجر کو دنیا کا سب سے بڑا ماہر نجوم سمجھتے ہیں وہ سڈنی اومر ہے، میر صاحب کا دعویٰ تھا کہ وہ علم نجوم کے حوالے سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں لیکن درحقیقت ان کا یہ دعویٰ خام تھا،وہ درحقیقت ایسٹرولوجی کی ایک نام نہاد شاخ شمسی علم نجوم (Sun sign Astrology) کی حد تک بھرپور نالج رکھتے تھے یعنی اس موضوع پر شائع ہونے والی ہر کتاب ان کے پاس تھی اور اخبار جہاں میں بھی اسی حوالے سے مواد شائع ہوتا تھا۔

اس وقت چوں کہ ہم ادارہ جاسوسی سے وابستہ تھے اور یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ معراج صاحب اور میر جاوید صاحب کے درمیان ایک غیر اعلانیہ چپقلش موجود ہے چناں چہ ہم نے اخبار جہاں کے لیے کام کرنے سے گریز کیا۔

اب ہم فارغ تھے اور ہومیو پیتھی کے علاوہ ایسٹرولوجی بھی ہمارا ذریعہ ءروزگار بن چکی تھی لہٰذا ہم نے آمادگی ظاہر کردی مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ دی کہ ہم اخبار جہاں میں جو کچھ بھی لکھیں گے وہ ہمارے نام سے شائع ہوگا کیوں کہ اس سے پہلے یہ روایت نہیں تھی، اخلاق نے ہماری بات مان لی اور میر جاوید صاحب سے ہماری ایک میٹنگ کرادی، بعد ازاں معاوضے کا مرحلہ آیا جو ہم نے اخلاق پر چھوڑ دیا، اس طرح اخبار جہاں میں یہ سلسلہ شروع ہوگیا جو تقریباً 6 سال جاری رہا حالاں کہ اسی دوران میں اخلاق نے اخبار جہاں چھوڑ دیا اور کسی دوسرے کاروبار سے منسلک ہوگئے جس کے بارے میں ہمیں آج تک نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہے ہیں نہ ہی کبھی ہم نے ان سے پوچھنا مناسب سمجھا۔

میر جاوید صاحب بڑے ہی موڈی اور من موجی انسان ہیں، ان کے ساتھ کام کرنے کے دوران میں خاصے دلچسپ تجربات ہوئے، واضح رہے کہ ہم باقاعدہ طور پر ادارے کے ملازم نہیں تھے، صرف اخبار جہاں کے دو صفحات جو علم نجوم سے متعلق تھے ، ہماری ذمہ داری تھی یعنی ”یہ ہفتہ کیسا رہے گا“ اور ”آپ کے ستارے“ ہمارے نزدیک یہ عنوان درست نہیں تھا کیوں کہ اس صفحے پر برجوں سے متعلق معلومات دی جاتی تھیں لیکن شاید میر جاوید صاحب کو یہی عنوان پسند تھا۔

ہم اخبار جہاں کا کام گھر پر بیٹھ کر ہی کرتے تھے اور نیٹ کے ذریعے بھیج دیا کرتے تھے، ابتدا میں صرف سیلری کا چیک لینے ہر ماہ دفتر چلے جایا کرتے ، بعد میں یہ سلسلہ بھی بنک کے ذریعے ہوگیا تھا، چناں چہ دفتر جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی تھی، البتہ جب کبھی کسی خاص مقصد کے تحت میر صاحب بلاتے تو جانا پڑتا تھا لیکن ایسا بھی کم کم ہی ہوتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کوئی مالی پریشانی یا تنگی نہیں تھی لہٰذا اس کام سے بھی کوئی مالی مفاد وابستہ نہیں تھا بلکہ ہم نے محض شوق میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا، بنیادی مقصد یہ تھا کہ 12 برجوں پر ہمارا مطالعہ اور مشاہدہ مزید مستحکم ہوگا اور اس طرح ایک کتاب بھی مرتب ہوجائے گی، دنیا بھر میں اس موضوع پر شائع ہونے والی ہر کتاب سب سے پہلے میر جاوید صاحب کے پاس پہنچتی تھی اور وہ ہمیں دے دیا کرتے تھے، یہ ہمارے علم میں اضافے کے لیے ایک شاندار بات تھی، ہمیں اعتراف ہے کہ بارہ برجوں کی فلاسفی کاحقیقی شعور ہمیں اسی دوران میں حاصل ہوا، اس دوران میں بارہ برجوں سے متعلق لکھے گئے ہمارے مضامین اب کتابی شکل میں ”آپ شناسی“ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔

ہم سے مشورہ کرکے اخلاق نے جو سیلری مقرر کردی تھی وہ ہم نے قبول کرلی تھی اور نہایت پابندی سے ہمیں مل جاتی تھی، پھر اخلاق ادارہ چھوڑ گئے اور ان کی جگہ نعیم ابرار صاحب اخبار جہاں کے ایڈیٹر مقرر ہوئے، وہ بھی علم نجوم سے دلچسپی رکھتے تھے لیکن ان کا میدان دوسرا تھا یعنی انڈین یا ویدک ایسٹرولوجی۔

2008 ءمیں جب ہم ایک ٹی وی چینل پر بھی ایسٹرولوجی کا پروگرام شروع کرچکے تھے کہ ایک روز اخبار جہاں سے فون آیا کہ آپ آئندہ ہفتے سے یہ سلسلہ نہیں لکھیں گے، ہم نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ اب یہ سلسلہ انگلینڈ کے کوئی شاہی منجم لکھا کریں گے، ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی، چار سال میں ہمارا شوق کافی حد تک پورا ہوچکا تھا لہٰذا ہم نے خاموشی اختیارکرلی لیکن شاید میر صاحب چند مہینے ہی میں انگلینڈ کے شاہی منجم سے بے زار ہوگئے اور دوبارہ ہم سے رابطہ کیا، اب اخلاق درمیان میں نہیں تھے لہٰذا ہم نے اپنی شرائط پیش کردیں جن میں سرفہرست معاوضے میں اضافہ، ایک باقاعدہ تحریری ایگریمنٹ، نام کے ساتھ تصویر کا اضافہ وغیرہ۔

ہماری شرائط منظور کرلی گئیں، باقاعدہ ایک ایگریمنٹ ہوا کیوں کہ ہمیں یہ بات بہت ناگوار محسوس ہوئی تھی کہ اچانک ایک فون کرکے ہمیں اطلاع دے دی گئی کہ جناب آئندہ ہفتے سے یہ سلسلہ آپ نہیں لکھیں گے، کوئی اور لکھے گا بہر حال ایک بار پھر یہ سلسلہ شروع ہوگیا جو 2011 ءمیں ختم ہوا۔

ہوا یہ کہ ایک بار ہم نے دیکھا کہ نام کے ساتھ ہماری جو تصویر اخبار جہاں میں شائع ہوتی تھی وہ غائب ہے، جب کہ ایگریمنٹ کے مطابق وہ تصویر لگانے کے پابند تھے ، ہم نے دفتر فون کیا تو جواب ملا کہ میر صاحب کے حکم پر تصویر ہٹائی گئی ہے، ہم نے عرض کیا کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، آپ یہ بات میر صاحب کو بتادیں۔

شاید میر صاحب اپنی بادشاہت میں ایسے گستاخوں کو برداشت نہیں کرتے جو ان سے سوال و جواب کریں یا انھیں ان کا کوئی وعدہ یاد دلائیں، اسی رات تقریباً دس بجے براہ راست میر جاوید صاحب کا فون آیا اور انھوں نے اصل موضوع سے ہٹ کر بات شروع کی ، فرمایا کہ آپ جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ درست نہیں ہے اور اس میں فلاں فلاں خرابیاں موجود ہیں، ہم ذہنی طور پر کسی ایسی صورت حال کے لیے تیار تھے لہٰذا دو ٹوک جواب دیا ”تو آپ کسی اور سے لکھوالیں“

شاید ہمارا جواب بھی ان کی توقع کے خلاف تھا،انھوں نے اوکے کہہ کر فون بند کردیا، اس طرح اس کام سے ہماری جان چھوٹ گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اب ہم اس کام سے بے زار ہوچکے تھے اور اپنی ذاتی کتابیں شائع کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے ، اس کام کی وجہ سے ہمیں وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ اپنی کتابوں کی تصنیف و ترتیب کے لیے کچھ کریں، واضح رہے کہ کراچی کے روزنامہ جرات میں ایک کالم مسیحا کے نام سے ہر ہفتے پابندی سے لکھتے تھے اور ہمارے بہت قریبی دوست بلکہ چھوٹے بھائی آفاق فاروقی کے ویکلی پرچے پاکستان پوسٹ کے لیے بھی ہر ہفتے ایک کالم لکھنا ہماری ذمہ داری تھا ، آفاق برسوں سے پہلے امریکا چلے گئے تھے اور وہاں سے انھوں نے اردو کا ہفت روزہ اخبار جاری کیا جو امریکا کے علاوہ کنیڈا سے بھی شائع ہوتا تھا، اس کے علاوہ ہماری ہومیوپیتھک اور ایسٹرولوجیکل پریکٹس بھی جاری تھی ، روزانہ شام چار بجے رات 9 بجے تک ، چناں چہ کتابوں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہورہا تھا، ہفتے کے چار دن اخبار جہاں کا کام سر پر مسلط رہتا، بہر حال اس سے جان چھوٹی تو ہم نے سکون کا سانس لیا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    آج پہلی دفعہ اردو لکھاری پر سید انور فراز کی ڈائجسٹوں کی الف لیلہ کی تازہ قسط پڑھ کر اندازہ ہوا کہ میں کیسی شاندار ویب سائٹ سے اتنا عرصہ محروم رہا بہرحال یار زندہ صحبت باقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے