سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر19

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر19

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد
”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا”
٭
قسط نمبر19
٭
٬٬ کلو خبیث کا نام مت لو ۔ ۔ ۔ یہ سارا اسی کا کیا دھرا ہے ۔ ۔ ۔ اسی نے آگ لگائی ہے جو آج باول جل رہا ہے ۔،، دادا ابا غصے سے چلائے ۔ ۔ ۔ وہ بھاگ گیا ہے ۔ ۔ ۔ اگر آگیا تو ٹکڑے کردوں گا اس کے ۔،،
٬٬ نہیں ابا ایسا مت کہو ۔ ۔ ۔ کلو کا قصور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ باول میں یہ آگ تولگنا ہی تھی ۔،، رحمان بولا ۔٬٬ کلو بڑا سمجھدار ہے اور ہندوﺅں کی رگ رگ سے واقف ہے ، اور ۔۔ ۔
٬٬ سراجو بھائی ۔ ۔ او رے سراجو ۔،، حویلی کے دروازے پر پھر کسی نے دادا ابا کو پکارا اور رحمان کی بات ادھوری رہ گئی۔
ہماری حویلی میں دادا کے کمرے کا باہر والے دالان میں ایک بڑی سی گھڑی لگی ہوئی تھی۔ جو کبھی دادا دلی سے لے کر آئے تھے ۔ سب گھر والے اسی سے وقت دیکھتے تھے۔ اس گھڑی میں سے ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹی کی ۔ ۔ ۔ ٹن۔ ۔ ۔ ٹن۔ ۔ ٹن کی گونج دار ٓواز نکلتی تھی جس سے سب کو اندازہ ہو جاتا تھا کہ اب وقت کیا ہو گیا ہے۔ حویلی کے دروازے پر جیسے ہی کسی نے دادا سراجو پکارا سب کی نظریں بے اختیار گھڑی کی طرف اٹھیں ۔ دادا بڑ بڑائے ۔٬٬ بارہ بج گئے ۔ ۔ ۔ آدھی رات ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ ابھی تک بیٹھک نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ اور اب یہ دروازے پر کوئی آگیا ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا دیکھو بھئی کون ہے ۔ ۔۔ آواز یہ بھی مجھے جانی پہچانی لگتی ہے۔،، دادا نے سب کی طرف باری باری دیکھا اور پھر عورتوں کے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ٬٬ ارے چھوریو ۔ ۔ ۔ تم کیوں جاگ رہی ہو ۔ ۔ ۔ تم تو سوجاﺅ ۔ ۔ اپنے اپنے کمروں میں جا کر۔ ۔ ۔ ویسے بھی سردی بہت بڑھ گئی ہے ۔ ۔ ۔ جو ہوگا وہ تو ہو کر ہی رہے ۔ ۔ ۔ پریشان ہونے کا فائدہ۔،،
دادا کی بات سن کر تائی خیرن بولی ۔٬٬ ابا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مرد جاگ رہے ہوں اور۔ ۔ ۔ عورتیں آرام سے سو جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ہم ایسی عورتیں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ دکھ درد کی ساتھی ہیں۔،،
٬٬ شاباش خیرن ۔ ۔ ۔ شاباش ۔،، دادا خوش ہو کے بولے٬٬یہ تیراہی دم ہے خیرن کہ تو نے گھر کو سنبھالا ہوا ہے۔ ۔ ۔ مردوں کو بھی تجھ جیسی عورتوں سے حوصلہ ملتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تیری ہی وجہ سے گھر کا شیرازہ بندھا ہوا ہے ۔ ۔۔ شاباش۔،،
٬٬ بھائی سراجو ۔ ۔ ۔ بھائی سراجو ۔،، حویلی کے دروازے سے پھر کسی کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ یہ کسی اور کی آواز تھی ۔ دادا کو یہ آواز سن کر جیسے کرنٹ سا لگا ۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور خوش ہو کر بولے ۔٬٬ ارے میرا جی آ گیا ۔ ۔ میرا یار آگیا ۔۔ ۔ ۔ بڑی عمر ہے ۔ ۔ میں اسے کچھ دیر پہلے بلا نے کا کہہ رہا تھا، میرا یار خود آگیا۔،، ارے تم لوگ منہ کیا دیکھ رہے ہو ۔ ۔ ۔ جاﺅ، میرا جی کو اندر لے کر آﺅ ۔ ۔ جاﺅ۔،،
دادا کے منہ سے یہ بات نکلنا تھی کہ میرے ابا دروازے کی طرف دوڑے۔ بڑے ابا اپنے کمرے میں تھے ، انہیں دو بجے والی ایکسپریس سے دلی جانا تھا اس لئے وہ اپنی تیاری کر رہے تھے ۔ دالان کا ماحول بڑا عجیب سا تھا ۔ ایک طرف پرساد ، اپنا منہ لٹکائے زمین پر بیٹھا ہوا تھا ۔ بس دادا کے پاس ابا ، فاروق ، بھائی اسلام اور رحمان حلوائی ہی رہ گئے تھے ۔ دادا چپ تھے مگر ان کا چہرہ خوشی سے کھلا جا رہا تھا ۔ ابا کو گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنے ساتھ دادا کے دوست میرا جی اور ایک نوجوان کو ساتھ لے کر آ گئے ۔ ٬٬ ارے میرا جی ۔ ۔ میرا بھائی آ گیا ۔،، دادا آگے بڑھے اور میرا جی کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔٬٬ یار میں ابھی تجھے ہی بلانے والا تھا ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر پہلے چھوروں سے کہہ رہا تھا کہ میرا جی کو بلا کر لاﺅ ۔آج میری زندگی کی بہت بڑی اور اہم بیٹھک ہے جس میں کئی فیصلے کرنا ہیں ۔ میرا جی چاہا کہ تو بھی اس میں ہو ۔ ۔ ۔ اللہ نے میری سن لی اور تو آ گیا ۔ ۔۔ مگر یہ بتا کہ اس وقت آدھی رات کو اچانک تو میری طرف کیسے آگیا۔۔ یار۔،،
٬٬ میرا آنا تیرے پاس بہت ضروری تھا سراجو ۔ ۔ ۔ بات ہی کچھ ایسی ہے ۔،، میرا جی نے منہ لٹکاتے ہوئے کہا ۔ان کے چہرے سے پریشانی جھلک رہی تھی ۔
٬٬ بول بول ۔ ۔ ۔ جلدی بول ۔ ۔ مجھے تو پریشان نظر آتا ہے ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے یار۔،، دادا نے میرا جی کو قریب پڑے ہوئے مونڈھے پر بٹھاتے ہوئے کہا ۔ میرا جی کے ساتھ آنے والا نوجوان ایک طرف کھڑا ہو گیا ۔
٬٬ باول کی حالت دیکھ لی سراجو تو نے ۔ ۔ ۔ جل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ہر طرف دہشت چھائی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ آگ لگ رہی ہے ۔ ۔ مسلمان مارا جارہا ہے ۔،، میرا جی نے کہا ۔٬٬ عشاءکی نماز پڑھنے کے بعد میں کھانا کھا کر سونے کےلئے بسترپر لیٹا ہوا تھا کہ کشن لال میرے پاس آیا ۔،، میرا جی نے اپنے ساتھ آنے والے نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔٬٬ یہ میرے بچپن کے دوست بہاری لال کا بیٹا ہے اور راجہ ٹھاکر داس کے پاس کام کرتا ہے اس کی رسوئی میں۔ اس کا باپ بھی تیری طرح میرا بھائی بنا ہوا ہے ، ہم بچپن سے اسی طرح جڑے ہوئے ہیں جس طرح تو اور میں ہیں۔،،
٬٬ ہاں ہاں ۔ ۔ تو ٹھیک کہہ رہا ہے میرا جی ۔ ۔ آگے بول ۔ ۔ ۔ میں سمجھ تو لوں کہ تو کیا کہہ رہا ہے۔،، دادا نے کہا
٬٬ یہ کشن لال، راجہ ٹھاکر کا سندیسہ لے کر میرے پاس آیا تھا ۔مجھے بہت اچنبھا ہوا کہ اتنی رات گئے یہ میرے پاس کیوں آ گیا ۔ ۔ ۔ باول کے حالات بھی خراب ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ میرے دل میں یہ بات بھی آئی کہ کہیں ہندو کوئی شرارت تو نہیں کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مگر یہ کشن لال میرے بچوں کی طرح ہے ۔ ۔ ۔ تجھے معلوم ہے کہ تیری بھابی کے مرنے کے بعد میرا بیٹا اپنے ماموں کے پاس فرید آباد چلا گیا تھا ۔ وہ اس وقت سے وہیں ہے ۔ دس سال ہوگئے وہ مجھ سے ملنے نہیں آیا ۔ بس میں ہی اس کے پاس فرید آباد چلا جاتا ہوں ۔ میں یہاں باول میں اکیلا ہوں بس بچپن کے جو دو چار دوست ہیں ان سے مل کر ہی جی بہل جاتا ہے۔ میرے دوستوں کے بچے ہی اب میرے بچے ہیں اور اپنے بچوں پر اعتبار کر نا ہی پڑتا ہے۔،، میراجی کی آواز سے لگا جیسے وہ ابھی رو پڑیں گے ۔ دادانے انہیں تسلی دی اور ایک بار پھر اپنے سینے سے لگایا ۔ میرا جی نے اپنی ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں صاف کیں ۔ وہ واقعی رو پڑے تھے۔ کچھ دیر رکے رہے، پھر کہنے لگے ۔٬٬ راجہ ٹھاکر کو یہ معلوم ہے کہ کشن لال کاباپ اور میں بچپن کے دوست ہیں ۔ اسی لئے اس نے بھروسہ کر کے کشن لال کو میرے پاس بھیجا اور مجھے اپنے پاس بلوا یا ۔ حالات ایسے نہیں تھے کہ میں جاتا مگر مجھے جانا پڑا اس لئے کہ کشن لال نے مجھے بھروسہ دلوایا کہ چاچا تو شانت ہو کر میرے ساتھ چل ۔ جب تک میرے جسم میں جان ہے کوئی تیراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔کیا کرتا کشن لال بھی میرے بچوں کی طرح ہے ۔ میں اس کے ساتھ راجہ ٹھاکر کے پاس چلا گیا۔ میں نے اسے منع بھی کیا کہ اس ٹیم رات کا وقت ہے ۔ حالات بھی خراب ہیں صبح چلا چلوں گا مگر کشن لال نے بتایا کہ راجہ ٹھاکر نے کہا ہے کہ میرا جی کو ابھی لے کر آﺅ ۔ بہت ضروری ہے اس کا آنا ورنہ تیر کمان سے نکل جائے گا۔ کشن لال کی یہ بات سن کر میں سناٹے میں آگیا پھر کچھ سوچ کر میں اس کے ساتھ چلا گیا ۔ ،، میرا جی یہ کہتے کہتے رک گئے اور زمین پر نظریں گاڑے کچھ دیکھتے رہے پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایااورسب کی طرف دیکھا۔دادا سمیت سب لوگ میرا جی کو نظریںجمائے دیکھ رہے تھے کہ پتہ نہیں اب میرا جی کیا بولیں گے۔ میرا جی نے کھنکار کر اپنا گلا صاف کیا اورکہنے لگے۔ ٬٬ راجہ ٹھا کر کے آدمی اس کی حویلی کے باہر کھڑے میرا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا اور بڑے ادب سے حویلی کے اندر لے گئے ۔ ان کا یہ سلوک دیکھ کر مجھے تسلی ہوئی کہ راجہ ٹھاکر ابھی نہیں بدلا ۔ اندر حویلی میں راجہ ٹھاکر نے مجھے اپنے آدمیوں کے ساتھ آتے دیکھا تو خود بڑھ کر میری طرف آیا اور اپنے ہاتھوں کو جوڑکر پرنام کرتے ہوئے قریب پڑے ہوئے تخت پر بٹھایا اور پھر خود بھی میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ راجہ ٹھاکر نے باول میں ہونے والے بلووں پر بات شروع کی لیکن وہ مسلمانوں کے خلاف نہیں بولا ۔ اس نے ہندو بلوائیوں ہی کو برا بھلا کہا ۔ راجہ ٹھاکر کو اس بات کا دکھ تھا کہ باول میں آج تک کوئی پرندہ بھی نہیں مارا گیا تھا ۔ ہندو مسلم بھائی بھائی تھے ۔ راجہ ٹھاکر نے دبے لفظوں میں پنڈت کو بھی برا بھلا کہا اور بولا کہ اس کا بھائی دلی سرکار کا چمچہ ہے الیکشن میں کھڑا ہونا چاہتا ہے اسی لئے باول کے ہندو ووٹ لینے کے لئے اس نے یہاں آگ لگوا دی ہے ۔ راجہ ٹھاکر نے یہ بھی بتایا کہ پنڈت بہت پہنچ والا آدمی ہے دلی سرکار میں اس کی اوپر تک پہنچ ہے اس لئے کوئی بھی اس کے خلاف اپنی زبان نہیں کھولتا۔ ،، میرا جی یہ کتے کہتے رک گئے اور بڑی دیر تک خاموش رہے ۔ سب کو یہ جاننے کی بے چینی تھی کہ راجہ ٹھاکر نے آخر کہا کیا۔ جب میراجی نے اپنی چپ نہ توڑی تودادا نے تیز لہجے میں ان سے کہا۔٬٬ چپ کیوں ہوگیا میرا ۔ ۔ ۔ بولتا کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ اور کیا کہا راجہ ٹھاکر نے۔،،
میرا جی جیسے سو گئے تھے دادا کی آواز پر ایک دم چونک پڑے اور کہنے لگے ۔٬٬ نہیں بھائی سراجو ۔ ۔ ۔ میرا دل کٹ رہا ہے ۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہیں ہونا تھا ۔ پر کیا کرے گا کوئی جب ہونی لکھی ہو تو کون ٹال سکتا ہے۔ ۔ ۔
٬٬ میرا جی ۔ ۔ ۔ ۔،، دادا چیخے۔ ۔ ۔٬٬ ہم ٹال سکتے ہیں ہونی کو ۔ ۔ میں تجھے اسی لئے بلوا رہا تھا کہ تجھ سے مشورے کے بعد ہم بھی ان ہندوﺅں کے خلاف پیر بڑھائیں مگر تو الٹی ہی بولی بول رہا ہے ۔،،
٬٬ نہیں بھائی سراجو ۔ ۔ یہ بات نہیں ہے ۔ میں الٹی بولی نہیں بول رہا ۔،، راجہ ٹھاکر جو کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔ وہ ہمارے برے میں نہیں ہے بس وقت کو ٹالنا چاہتا ہے۔ اس نے یہ سندیسہ دیا ہے کہ دادا سراجو سے کہو کہ وہ کل تک باول چھوڑ کر اپنے بال بچوں کے ساتھ کہیں چلا جائے، باول کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ بلوائیوں کو کنٹرول کرنا اب اس کے بس کی بات بھی نہیں رہی ۔ بلوائیوں کو پنڈت کی آشیرباد ملی ہوئی ہے ۔ پنڈت کا بڑا بھائی دلی میں سرکار کی پارٹی کا ممبر ہے اور وہ آنے والے الیکشن میں کھڑا ہوگا ۔ اسے ٹکٹ مل جائے گا کیونکہ سرکارکی پارٹی کو یہ معلوم ہے کہ باول کے سارے ہندو ووٹ اسے مل جائیں گے اسی لئے باول میں آگ لگائی جا رہی ہے۔ ہندو ووٹ پکا کیا جا رہا ہے ۔،،
٬٬ میرا جی باول ہندوﺅں کا ہی نہیں ہمارا بھی ہے۔ ہمارے باپ دادا کا ہے ۔ ہم یہیں پیدا ہوئے اور ہماری قبریں بھی یہیں ہیں پھر کیسے باول چھوڑ کر چلے جائیں۔،، دادا جی بولے ۔٬٬ راجہ ٹھاکر نے مجھے بلوایا تھا مگر چھوروں نے منع کر دیا ۔اگر میں چلا جاتا تو اس سے بیٹھ کر بات کر لیتا اور مسلمانوں کو باول چھوڑ نے کی دھمکی نہ ملتی ۔،،
٬٬ نہیں سراجو۔ ۔ ۔ یہ بات نہیں ہے ۔ ۔ یہ دھمکی تو پہلے بھی مل چکی تھی ۔ ۔ ۔ دسہرے پر ۔ ۔ ۔ یاد ہے نا تجھے ۔،، میراجی نے کہا
٬٬ ہاں یاد ہے ۔ ۔ ۔ اس وقت کی بات تو معمولی جھگڑے کی تھی ۔ ۔ ۔ مگر اب یہ پاکستان بننے کا ٹنٹا ہے سارا ۔ ۔ ۔ نہ یہ پاکستان بنتا اور نہ ہمیں باول چھوڑ نے کی دھمکی ملتی۔،، دادانے اپنی گردن جھٹکتے ہوئے کہا ۔٬٬ صدیوں سے ہم اور ہندو بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے تھے ۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں بٹوارہ کرتے تھے ، مگر یہ قائدِ اعظم کو کیا سوجھی کہ پاکستان بنا دیا ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔
٬٬ یہ بٹوارہ تو ہونا ہی تھا بھائی سراجو۔ ۔ ۔ قائدِ اعظم کو بیچ میں مت لاﺅ۔،، میرا جی نے دادا کی باٹ کاٹتے ہوئے کہا ۔٬٬ میں نے بھی بڑی سوچ بچار کی ہے ۔ ۔ یہ جو قائد اعظم ہے نا مسلمانوں کا سچا لیڈر ہے ۔ وہ اگر اٹھ کر کھڑا نہ ہوتا تو ہندوﺅں کی غلامی تو ہمارے گلے میں کب کی پڑچکی ہوتی ۔،، میرا جی نے کہا۔٬٬ بس دیکھنا یہ ہے کہ یہ جو پاکستان بنا ہے کیا ہمیں وہاں جانا چاہئے یا ہندوﺅں کے ہاتھوں مر جائیں ۔ اس لئے کہ سیر کو سوا سیر ہی مارتا ہے ۔ دلی سرکار ہندوﺅں کی ہے ۔ پورا ہندستان ان کا ہے ۔ ہم یہاں اگر صدیوں سے رہتے چلے آئے ہیں تو یہ اوپر والے کی مرضی تھی مگر یہ بنیا اب اپنی چلانے پر تلا ہے تو ہم کیسے سوا سیر کو مار سکتے ہیں ۔ ہمیں پاکستان جانا ہی ہوگا ۔ نہیں تو یہاں کٹ کٹ کے مر جائیں گے اور کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آئے گا ۔،،
٬٬ہاں دادا سراجو ۔ ۔ ۔ میرا جی ٹھیک کہتا ہے ۔ ،، رحمان حلوائی جو اب تک خاموش تھا بیچ میں بول پڑا ۔٬٬ میرے چھوٹے بھائی کو ہندوﺅں نے مار دیا ۔ کیا بگاڑ لیا میں نے ان کا ۔۔ ۔ ۔ اوران دو دنوں میں جو آٹھ دس مسلمان مارے گئے ہیں کیا قصور تھا ان کا ۔ کسی نے کیا بگاڑ لیا ان ہندو بلوائیوں کا ۔ ہم مسلمان تو ان ہندوﺅں کے رحم و کرم پر رہ گئے ہیں۔ اگر ہم مر گئے تو ہمارے بچوں کو بھی کوئی نہیں سنبھال سکے گا ۔ یہ ان کو شدھی کر لیں گے ۔ قدرت نے پاکستان بنوایا ہے تو مسلمانوں کو پاکستان چلے جانا چاہئے۔،،
٬٬ تو بھی رحمان پاکستان جانے کی بات کر رہا ہے ۔،، دادا نے حیرت سے رحمان حلوائی کی طرف دیکھا
٬٬ ہاں دادا سرجو ۔ ۔ ۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔ ۔۔ ہمارے نمک میں کس نہیں ہے ۔ ۔۔ ان ہندوﺅں نے ہمارا نمک کھایا ہے مگر اب یہ نمک حرامی پر اترے ہوئے ہیں۔،، رحمان حلوائی نے کہا
یہ ساری گڑ بڑ ہندوﺅں کے چھورے چھپارے کر رہے ہیں۔ مانتا ہوں کہ باول کے حالات خراب ہو گئے ہیں مگر دلی سے پولیس آجائے گی تو وہ کنٹرول کر لے گی اورسب ٹھیک ہوجائے گا ۔،،
٬٬ نہیں بھائی سراجو ۔ ۔ ۔ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ۔،، میرا جی بولے ۔٬٬مجھے راجہ ٹھاکر نے یہ بھی بتایا تھا کہ دلی سے ٬٬گورکھا پولیس ،، کا ایک بڑا دستہ باول پہنچ چکا ہے ۔ ڈیڑھ سو کی نفری ہے ۔ اسے باول میں ٹیشن پر، قلعہ چوک پر اور شانتی نگر کے علاقے کے علاوہ ادھر ادھر لگایا جائے گا تاکہ بلوائی گڑبڑ نہ کر سکیں ۔ لیکن اس کے باوجود راجہ ٹھاکر کا یہی کہنا تھا کہ یہ ٬٬گورکھا ،، پولیس بھی کچھ نہیں کر سکے گی ۔ وہی ہوگا جو دلی سرکار چاہے گی ۔،،
دادا نے بڑی گہری سانس بھری اور پھر انہیں کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا ۔ کبھی کبھی دادا کی ایسی حالت ہو جاتی تھی۔ جب وہ پریشان ہوتے تو ان پر کھانسی کا دورہ پڑتا تھا ۔ گھروالے ان کی اس حالت کے بارے میں جانتے تھے اس لئے جیسے ہی ان کی یہ حالت ہو تی تو دلی کے مشہور حکم جمن خاں کا بنایا ہوا نسخہ استعمال کرایا جاتا تھا ۔ اس نسخے کو گھر والے بہت سنبھال کر ر کھتے تھے لہٰذا جوں ہی دادا کی حالت بگڑی میرے ابا دوڑے وہ نسخہ لانے کے جوداداکے کمرے ہی میں رکھا رہتا تھا ۔ ابا الٹے قدموں وہ نسخہ لے آئے اور دادا کو ایک گلاس پانی کے ساتھ پینے کے لئے دے دیا ۔ دادا نے فوراً اسے پی لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی حالت سنبھل گئی۔ جب ذرا دادا کو سکون ملا تو انہوں نے پھر ایک گہری سانس بھری اور میرا جی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔٬٬ دیکھ بھائی میرا ۔ ۔ ۔ ۔ تو نے اچھا کیا جو راجہ ٹھاکر کا سندیسہ لے آیا ۔ ۔ ۔ اب میری بھی سن ۔ ۔۔ اور میرا سندیسہ بھی اسے پہنچا دے۔ ۔ ۔ راجہ ٹھاکر سے کہنا کہ سراج الدین مرتے مر جائے گا مگر اپنی مٹی سے دھوکہ نہیں کرے گا ۔ ۔ ۔ وہ باول چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے بچے جائیں گے ۔ ۔ ۔ اور اگر بچے جانا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے ۔ ۔ ۔ چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مجھے ان سے کوئی شکایت بھی نہیں ہوگی۔ ۔ بڑے ہوگئے ہیں بال بچے دار ہیں اپنا آگا پچھاڑی خود سوچ سکتے ہیں۔،،
دادا یہ کہہ کر چپ ہو گئے اور سب ان کو دیکھتے رہ گئے ۔ ۔ ۔
٬٬ نہیں سراجو۔ ۔ ۔ تو نے میری پوری بات نہیں سنی ۔ ۔ ۔،، میرا جی بولے ٬٬ راجہ ٹھاکر نے ایک بات اور کہی تھی وہ میں بتانا بھول گیا ۔ ۔ ۔ ذرا وہ سن لے تسلی سے ،،
٬٬ اب اور کیا بات رہ گئی ہے کہنے کو میرا جی۔ ۔ ۔ سب کچھ تو کہہ دیا تو نے۔ ،، دادا نے پھر ایک گہری سانس بھری
٬٬ نہیں ابھی بات ادھوری ہے ۔ ۔ ۔میں پوری بات بتاتا ہوں ۔ ،، میرا جی بولے ٬٬ راجہ ٹھا کر نے یہ بھی کہا تھا کہ ۔ ۔ ۔
( جاری )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 تحریر : اعجاز احمد نواب بیسویں صدی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے