سر ورق / کہانی / ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا

مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہندی کہانی

………………..

مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو ¿ں،ضلع جونپور ، اتر پردیش۔میدان:شاعری، کہانی، ناول، تنقید۔اہم کام:ناول: اگن بیج، سیمل کے پھول ،کہانیوں کے مجموعے:پان پھول، مہوے کا پیڑ، ہنسا جائے اکیلا، سہج اور شبھ، بھودان، ماہی، بیچ کے لوگ اور ہلی یوگ، شاعری کا مجموعہ:سپنے تمہارے تھے ، تنقید: کہانی کی بات ،وغیرہ۔ ان کی کہانیوں کا انگریزی، روسی، چینی، جاپانی، جرمنی وغیرہ میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ انتقال: ۷۱ مارچ ،۰۱۰۲ ئ۔

…………

وہاں تک تو سب ساتھ تھے، لیکن اب کوئی بھی دو ایک ساتھ نہیں رہے تھے۔ دَس کے دَس الگ الگ کھیتوں میں اپنی پنڈلیاں کھجلاتے، ہانپ رہے تھے۔

”سمجھاتے سمجھاتے عمر گزر گئی، پر یہ مٹی کا مادھو ہی رہ گیا۔ سسرا ملیں، تو کَس کر مرمت کر دی جائے آج۔“ بابااپنے پھوٹے ہوئے گھٹنے سے خون پونچھتے ہوئے ٹھٹھا لگاکر ہنستے تھے۔ پاس کے کھیت میں پھنسے مگنُو سنگھ ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے ان کے پاس پہنچے۔

”پکڑا تو نہیں گیا سسرا؟ باپ رے۔۔ بھیا، وہ سب کے سب آ تو نہیں رہے ہیں؟“ اور وہ لپک کر چار قدم بھاگے، پر بابا کے ہٹیلے پن نے انہیں روک لیا۔ دونوں آدمی خاموشی سے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ ساون بھادوں کی کالی رات، رِم جھم بوندیں پڑ رہی تھیں۔

”کا کیا جائے، راستہ بھی تو چھوٹ گیا۔ پتہ نہیں کہاں ہیں، ہم لوگ۔“

”کسی مینڈ پر چڑھ کر، ادھر ادھر دیکھا جائے۔ میرا تو گھٹنا پھوٹ گیا ہے۔“

”بُڑھوا حقہ کیسے پٹخ کے دوڑا تھا۔“

”ارے بھیا، کچھ نہ پوچھو۔“ مگنو ہو ہوکر کے ہنسنے لگے۔ اسی بیچ گانے کی آواز سنائی پڑی۔

ہنسا جائے اکیلا، ای دےِہیا نہ رہی۔

مل لے، دھو لے، نہا لے، کھا لے

کرنا ہو سو کر لے،

 ای دےِہیا۔۔۔۔۔۔

دس ایک بیگھے کے چاروں جانب، اندھیرے اور خوف میں دھنسی ہوئی پوری منڈلی سمٹ آئی۔ چہرے کسی کے نہیں دکھائی پڑے، پر ہنسی کے مارے سب کا پیٹ پھول رہا تھا۔ اسی بیچ تھُوک گھونٹنے کی سی آواز کرتا ہوا، وہ آیا اور زور سے ہنسنے لگا۔

”ہو گئی غلطی بھیا۔ میں کا جانوں کہ مہریاہے۔ سمجھا، تم میں سے کوئی رک گیا ہے۔“

مگنو نے کہا،”سراُو، سانڈ ہو رہے ہو، اب مرد ، میہریا میں بھی تمہیں بھید نہیں دکھائی پڑتا؟“

”ناہیں، بھایہ، جب ٹھوکر کھا کر گرنے کو ہوئے نہ، میں نے سہارے کے لئے اسے پکڑ لیا۔ پھر جو معلوم ہوا، توہکا بکا گیا۔ تبھی بُڑھوا نے ایک لاٹھی جما دی۔ خیر کہو نکل بھاگا۔“ اس نے جھک کر اپنی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرا۔نیچے سے اوپر تک جھڑبیری کے کانٹے چبھے ہوئے تھے۔

”سسرے کو بیچ میں کر لو۔“ بابا نے کہا۔

مگنو کہنے لگے،”چلو میہرا رُو کو تو چھو لیا، سسرے کی قسمت میں لکھی تو ہے نہیں۔“

اسے لوگ ہنسا کہتے ہیں، کالا چٹھا بہت تگڑا آدمی ہے۔ اسکے بھاری چہرے میں مٹر سی آنکھیں اور آلو سی ناک، اس کی شخصیت کے پھیلاﺅ کو بہت محدود کر دیتی ہیں۔ چھاتی پر اگے ہوئے بال، کسی بھِینٹ پر اگی ہوئی گھاس کا احساس کراتے ہیں۔ گھٹنے تک دھوتی اور مارکِین کا دُگجی گمچھا اس کا پہناوا ہے۔ ویسے اس کے پاس ایک دوہرا کرتا بھی ہے، پر وہ موقعے جھونکے یا ٹھاری کے دنوں میں ہی نکالتا ہے۔کرتا پہن کر نکلنے پر، گاوں کے لڑکے اسی طرح اس کا پیچھا کرنے لگتے ہیں، جیسے کسی بھالو کا ناچ دکھانے والے مداری کا۔

”ہنسا دادا دلہا بنے ہیں دلہا۔“ اور ننھے ننھے چوہے کی طرح اس کے جسم پر رینگنے لگتے ہیں۔ کوئی چٹکیاں کاٹتا ہے، کوئی کان میں پوری کی پوری انگلی ڈال دیتا ہیں۔ کوئی لکڑی کے ٹکڑے سے ناک کھجانے لگتا ہے، تو کوئی اس کی بڑی بڑی چھاتیوں کو منہ میں لے کر، ہنسا مائی، ہنسا مائی، کا نعرہ لگانے لگتا ہے۔ اسی بیچ ایک موٹا سوٹا آ جاتا ہے، وہ ہنسا کے کندھے سے سٹا کر رکھ دیا جاتا ہے اور ہنسا دو ایک بار اس پر انگلیاں دوڑا کر، الاپ بھرتے بھرتے رک کر کہتا ہے،”بس نہ۔“

لڑکے چلا پڑتے ہیں،”نہیں، دادا۔ اب ہو جائے۔“ کوئی ٹانگوں سے لٹک جاتا ہے، تو کوئی ہاتھ سے۔ پھر وہ مگن ہو کر گانے لگتا ہے،”ہنسا جائے اکیلا، ای دےِہیا نہ رہی۔“

اس دن بارہ بجے رات کو گاوں لوٹ کر، ہنسا سیدھا بابا کے دالان آیا۔ لالٹین جلائی گئی۔ ہنسا اپنی پنڈلیوں میں دھنسے جھڑبیری کے کانٹوں کو نکالنے لگا۔ جیسے جاڑے میں چِلّر پڑ جاتے ہیں، اسی طرح ہنسا کی ٹانگ میں کانٹے گڑے تھے۔

بابا نے کہا،”کہاں جائے گا ٹھوکنے پکانے اتنی رات کو، یہیں دو روٹی کھا لے۔“ اورپھرجب جھڑبےریوں کے کانٹے دیکھے، تو انہیں جیسے آج پہلی بار ہنسا کے اندر موجود زندگی کی جھلک دکھائی دی۔ ،اتنی کھیتی باڑی، ایسا گھر دوآر، پر ایک میہرا رو کے بغیر بلّے کی طرح گھومتا رہتا ہے۔ بابا اٹھ کر ہنسا کی پنڈلیوں سے کانٹے چننے لگے۔

اسے رتوندھی کا روگ ہے۔ اسی لیے رات کو وہ گاوں سے باہر نہیں جاتا۔ وہ تو مجگوا ںکا دنگل تھا ،جو اسے کھینچ لے گیا۔ بابا سرتاج ہیں پہلوانوں کے ، بھلا کیوں نہ جاتے۔ سورج ڈوب گیا وہیں، چلے تو اندھیرا گھِرآیا تھا۔ پانچ میل کا راستہ تھا۔ ہنسا، دس لوگوں کی ٹولی کے درمیان چل رہا تھا۔ کئی بار اس کے پاوں لوگوں سے لڑے، تو لوگوں نے گالیاں دیں اور اسے پیچھے کر دیا۔ ہنسا گالیوں کا برا نہیں مانتا۔ وہ بہت سارے کام گالی سننے کےلئے ہی کرتا ہے۔ گاوں کے بوڑھوںبزرگوں کی اس دعا سے اسے موہ ہے۔

وہ پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ راستے میں ایک گاوں آیا تو گلیوں کے گھماﺅ پھراﺅ میں وہ ذرا پیچھے رہ گیا۔ ایک جھونپڑی کے آگے ایک بوڑھا بیٹھا حُقّی گرمائے تھا۔ اُسکی جوان بہو کسی کام سے باہر آئی تھیں، دس آدمیوں کی لمبی قطار دیکھ کر برابر میں کھڑی ہو گئی۔ پھر ہنسا کے آگے سے وہ نکل جانے کو ہوئی، تو اتفاق سے ہنسا کے پاوں اس سے لڑ گئے اور اندھیرے میں گرتے گرتے وہ ہنسا کے بازوﺅں میں آ گئی۔ بہو چیخ اٹھی۔ بوڑھا حُقّی پھینک کر ڈنڈا لیے دوڑا۔ لیکن ہنسا نکل گیا۔ دوسرا ڈنڈا اُسکی بہو کی ہی پیٹھ پر پڑا۔ یہ گئی، وہ گئی اور ساری منڈلی رات کے اندھیرے میں کھو گئی۔ سب کی آنکھیں ساتھ دے رہی تھیں، پر ہنسا ،کھائیوں،خندقوں پر گرتاپڑتا، بھاگتا رہا۔

بابا کانٹے بِینتے جا رہے تھے۔ ہنسااپنی مٹروں سی آنکھوں سے بار بار دیکھتا۔مگر بھالو کے سے بالوں میں دھنسے کانٹے ہاتھ کو تومل جاتے، پر آنکھیں نہ تلاش پاتیں۔ رہ رہ کر راستے کا وہ واقعہ اس کے سامنے ناچ جاتا۔ کیا سوچتی ہوگی بیچاری؟ اور وہ بابا کی طرف دیکھنے لگا۔

”بڑی چوک ہو گئی، بھیا۔ سمجھو، نکل بھاگے کسی طرح، نہیں تو جانے کا کہتی دنیا؟ ہمیں تو یہی سوچ کر اور لاج لگ رہی تھی کہ تم بھی ساتھ تھے۔ “

”ارے، یہ کیا کہا ہے، ہنسا۔“

”یہی کہ آپ کے ساتھ ایسے لوگ رہتے ہیں۔ کتنا چھوٹاگاوں ہے۔ کتنی ہنسائی ہوگی ۔“

ہنسا کبھی کوئی بات سوچتا نہیں پر آج بار بار اس کا دماغ الجھ جاتا تھا۔ اگر بھیا چاہیں تو ۔۔۔

اسی درمیان آجی پوڑیاں تھال میں پروسے باہر آئیں۔ ہنساہڑبڑا کر اٹھ گیا۔ بہت دن بعد بھوُ جی کو دیکھا تھا۔ رات نہ ہوتی، تو وہ باہر کیوں آتی۔ اس نے سلام کیا۔ تھال تھامنے ہی جا رہا تھا کہ انہوں نے مذاق کر دیا،

”کہیں ڈڑوار ڈاکے رہے کا ببُوا، جو کانٹے وِنایہ رہا ہے۔“

”کچھ نہ کہو بھوُجی۔ ”ہنسا کہہ ہی رہا تھا کہ بابا بولا اٹھے،” پھنسی گیا تھا ہنسوا آج، وہ تو خیر مناو، بچ گیا، نہیں وہ پڑتی کہ یاد کرتا۔ ایک عورت کو اِس نے۔۔۔“

”اب ہنسی ٹھٹھولی چھوڑ کر، بیاہ کرو۔ جب تک بدن کڑا ہے دنیا جہان ہے، نہیں تو روٹی کے بھی لالے پڑ جائیں گے۔ کہتے کیوں نہیں اپنے بھیا سے؟ گونگے بہرے، کتے بلی سب کا تو بیاہ رچاتے رہتے ہیں، پر تمہارا دھیان نہیں کرتے۔ کھیت باری، جگہ، زمین سب تو ہے۔“

بابا کچھ نہیں بولے، لگا سیندھ پر دھرے گئے ہوں۔آجی جانے لگیں، تو بابا نے تیل بھیجنے کو کہا۔ تیل کی کٹوری لے کر ہنسا بابا کے پےتانے جا بیٹھا۔

”اپنے پیروں میں لگاﺅ نہ ہنسا۔ درد کم ہو جائے گا۔“

”غضب کہتے ہو، بھیا۔ ارے لگایا بھی ہے کبھی تیل۔“ اور بابا کی موٹی ران پر جھک گیا۔

”منوں تیل پی گئیں یہ رانیں۔ کتنے تو تیل ہی لگا کر پہلوان ہوگئے ۔“ ہنسا کہنے لگا۔

بابا خاموش پڑے رہے۔ اوربتی سے لڑتی ہوئی لالٹین میں گل پڑ گیا تھا، دھوئیں سے اس کا شیشہ سیاہ پڑ چکا تھا اور کالک اوپر اڑنے لگی تھی۔

ہنسا اٹھا اور بتی بجھا کر لیٹ گیا۔

بھوُجی کی بات ہنسا کے کانوں میں گونج رہی تھی، جب تک بدن کڑا ہے۔ ۔۔۔ ہنسا نے کروٹ لیتے لیتے بوڑھے کے ڈنڈے کی چوٹ کا ہاتھ سے اندازہ لیا اور بڑبڑانے لگا،”جان بجھ کر تو کچھ نہیں دیکھتے۔ یہ رَتوندھی نے ہی سالی جون کرائی۔“ اس نے ادھر ادھر آنکھیں چلائیں، پر کچھ نہیں،سب مٹمیلا،دھندلا۔

پالا پڑے چاہے پتھر، کام سے خالی ہوکر ہنسا، بابا کے پاس ضرور آئے گا۔ کبھی دیس بدیس کی بات، کبھی مہابھارت،رامائن کی بات۔ لیکن ”گنھی مہتما“کی بات میں اسے بڑا مزہ آتا تھا۔ کسی نے اسے سمجھا دیا ہے کہ گاندھی جی اوتاری شخصیت تھے۔

اس دن دالان میں کوئی نہیں تھا۔ شام کا وقت تھا۔ بابا کی چارپائی کے پاس بورسی میں گوبری سلگ رہی تھی۔ جانور من مارے اپنی ناندوں میں منہ گاڑے تھے۔ رم جھم پانی برس رہا تھا۔ کلُوا پیروں سے پولی زمین کھود کر،سکڑی مارے پڑا تھا۔ بیچ بیچ میں جب چونٹیاں کاٹتیں، تو وہ کوں،کوں کرکے، پیروں سے گردن کھجانے لگتا۔ اسی وقت ایک آدمی پانی سے لت پت، کیچڑ میں اپنی سائیکل کو کھینچتاآیا اور جیسے ہی سائیکل کھڑی کرکے دالان میں گھسنے لگا، ہنس نے کہا،”جے ہند، گنیش بابو۔“

”جے ہند ہنسا بھائی، جے ہند۔“

اس نے اپنے جھولے سے نوٹسو ںکا پلندا نکال کر، بابا کے آگے رکھ دیا۔ ہنسا بابا کی گوڑواری بیٹھ گیا۔ بابا نوٹس پڑھ کر بولے،”کیسے ہو گا، برکھابُونی کا دن ہے۔“

ہنسا کچھ سمجھ نہیں سکا۔ جب اس کا پیٹ پھولنے لگا، تو وہ بول بیٹھا،”کا ہے بھیا۔“

”کوئی سوشیلابہن آج یہاں گاندھی جی کا سندیسہ سنانا چاہتی ہیں۔ ضلع کمیٹی کا نوٹس ہے۔“

”کا لکھا ہے نوٹس میں۔“ ہنسا منہ با کر انہیں دیکھتے ہوئے بولا،” تنی بانچ دو، بھیا۔ گونئی بھی نہ ہو گی۔“

”ارے وہی، جاگا ہو بلموآ گاندھی ٹوپی والے ۔۔۔“

ہنسا نے کھونٹی پر ٹنگی ڈھولک اتار کر گلے میں لٹکا لی اور ایک طرف پڑے پھٹے جھنڈے کو لے کر ڈنڈے میں ٹانگ لیا۔ دو بار ڈھولک پیٹی۔ پھر، ”جاگا ہو بلموآ گاندھی ٹوپی والے آیہ گے لیں …. ٹوپی والے آیہ گے لیں ۔۔۔“گا کر، ڈھولک پر دھڑم۔دھڑم گھم گھم ،دھڑھم۔ دھڑام گھم گھم۔ منٹوں میں ہی پچاسوں لڑکے آ لگے۔ چل پڑا ہنسا کا جلوس۔

”سسّلا کی گونئی، جَونے میں بیر جواہری کی کہانی ہے ۔۔۔۔“

”دل کی دل لڑکا بچہ سب ۔۔۔بولو، بولو، گنھیں بابا کی جے۔“

اور پھر،جاگا ہو بلموآ ۔۔۔اور ہنسا کی ڈھولک گمکتی رہی۔ لمحے بھر میں ہی جیسے سارے گاوں کو ہنسا نے جگا دیا ہو۔ جدھر سے دیکھو، لوگ چلے آرہے ہیں۔ لڑکے گاندھی بابا کو کیا جانیں، ان کے لئے تو ہنسا ہی سب کچھ تھا۔ ایک ان کے آگے جھنڈا تان کر کہتا،”بولو، ہنسا دادا کی ۔۔۔“

کچھ کہتے۔”جے“، اور کچھ ”چھے“، پھر زور کی ہنسی چاروں جانب چھا جاتی۔

کچھ بوڑھے ناک پھلاتے ہوئے، سُرتی کی نسوار لے، اپنی ستلیوں کے ڈھےرے پرچکر دے کر کہتے،”مل گیا سسرا کو ایک کام۔ گنھی بابا کا گایک کاہے نہیں ہو جاتا۔کونو کانگریسی جات کجات میہرا رُو مل جاتی۔ گنھی کا کوئی وچار تھوڑے ہے، چمار سیار کو چھوا،چھرکا تو کھاتے ہیں۔“

ہنسا کو فرصت نہیں ہے۔ بابو صاحب کا تخت اور بابو رام کی چمکتی ہوئی چادر تو آنا ہی چاہئے۔ بابا خاموشی بیٹھے ہیں۔ دھیرے دھیرے گاوں سمٹتا آ رہا ہے۔ دالان برتا جا رہا ہے۔ اندھیرے کی گاڑھی چادر پھیلتی جا رہی ہے۔ رم جھم پانی برس رہا ہے۔ چار لالٹےنےں جل رہی ہیں۔

”بلا تو لیا پانی بُونی میں۔ ہلہ بھی پورا مچا دیا۔ پر ٹہریں گی کہاں سوشیلاجی؟ کچھ کھانا پینا ۔۔۔“

”آنے پر دیکھ لیں گے۔ اپنا گھر تو خالی ہی ہے۔ کھانے کی بھی فکر نہ کرو۔ گھی ہے ہی، پوڑی ووڑی بن جائے گی۔“ کہتا ہوا ہنسا باہر نکلا۔

ہنسا سنبھل سنبھل کر چل رہا تھا ،اندھیرے کی وہی دھندلاہٹ، وہی مٹمےلاپن۔ آخر وہ کیا کرے کہ اسے دکھائی پڑنے لگے۔ وہ ایک بچے کی مدد سے کسی طرح بابو صاحب کے دالان کے سامنے پہنچ گیا۔ پہاڑ سے تخت کو سر پر کپڑا رکھ کر، اٹھا لیا اور کسی طرح رےنگتارےنگتا بابا کے دالان آ پہنچا۔ بابا بہت بگڑے،”سسرا مرنے پر لگا ہے۔“

ہنسا کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ سوشیلاجی آ گئی ہیں۔ وہ بابا کے پاس بیٹھ کر، ان کی باتیں بڑے دھیان سے پینے لگا۔

 سوشیلاجی، ہنسا کے ٹھیک سامنے بیٹھی تھیں۔ لالٹین جل رہی تھی، پر وہ دیکھ نہیں پاتا تھا کہ وہ کیسی ہیں۔ آواز توکڑی ہے اور یہ گنے کے تازہ رس سی مہک کہاں سے آ رہی ہے؟ ہنسا کھو گیا۔ سوشیلاکا سال بھر پہلے کا گانا۔” جاگا ہو بلموآ گاندھی ٹوپی والے آیہ گے لیں۔۔۔۔“اس کے ہونٹوں پر تھرک اٹھا۔ سانولا سانولا سا رنگ تھا، لمبا چھریرابدن، روکھے روکھے سے بال اور تیز آنکھیں۔ کیسا اچھا گاتی تھی۔ ہنسا سوچتا رہا۔

اسی بیچ کیرتن پروچن ہو گیا۔ سوشیلاجی نے بھاشن بھی دیا اور ساری گرام کنڈلی، بن وِدھا کے بھارت دیش، دن دن ہے تیری خواری رے۔“ گنگناتی واپس جانے لگی۔ ہنسا کھویا سا بیٹھا رہا۔ کنھجڑی کی ڈَم ڈَم اور جھانجھ کی جھنکار اس کے کانوں میں گونجتی رہی۔ سوشیلاکی سریلی آواز اسکے دل کو چھیدتی رہی اور دنگل کا شام والا واقعہ بھی اسے بار بار دھیان میں آتا رہا۔ ،دیکھو تو ان آنکھوں کی جو نہ کرا دے کم۔ اس کی رگوں میں خون کی جھنجھناہٹ بھر جاتی۔ اچانک۔”گنھی مہاتما کی ۔۔“ سن کر، وہ چونک پڑا اور زور سے چیخ پڑا۔”جے ۔۔جے ۔۔۔“

بہت رات گزر چکی ہے۔ ہنسا کے گھر میں پوڑیاں چھاننے کی تیاری ہو رہی ہے۔ آٹا گوندھا جا رہا ہے۔ ترکاری کٹ رہی ہے۔ آگ جل رہی ہے۔ لیکن اندر کے کمرے کی بھنڈرِیا سے گھی کون نکالے؟ ہنسا وہیں، یہاں وہاں ڈولتا ہے۔ اس کی آنکھیں سوشیلا جی کی آواز کا پیچھا کر رہی ہیں۔ سوشیلاجی کبھی کبھی ہچکچاہٹ میں پڑتی ہیں، پر ہنسا کے چےڑے سینے پر اُگے ہوئے بالوں کے جنگل میں وہ کھو جاتی ہیں۔ کتنا مضبوط آدمی ہے۔ لیکن ہنسا کے آگے وہ چھایا ماتر ہیں، جس کا بس روپ نہیں ہے آگے، اور سب کچھ ہیں۔ ،میٹھی میٹھی، تھکن بھری آواز اور ڈال کے تازہ پھل جیسی مہک۔ وہ بڑا خوش ہے۔ ایک عورت کے رہنے سے گھر کیسا ہو جاتا ہے۔ کتنا اچھا لگتا ہے۔وہ سوچ ہی رہا ہے کہ گھی کی مانگ ہوتی ہے۔ ہنسا اٹھتا ہے۔ پر چارپائی سے ٹھوکر کھا کر گر پڑتا ہے۔ سوشیلاجی دوڑ کر اسے اٹھاتی ہیں۔ ہنسا مارے لاج کے ڈوب جاتا ہے۔

”دھت، تیری آنکھوں کی۔“ اور وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

 سوشیلاجی اس کا ہاتھ پکڑے تھیں،”چوٹ تو نہیں آئی۔“

حیلے کے ساتھ آنکھیں مل ملا کر ہنسا، ہنستا ہے۔ اسکے رونگٹے ابھر آئے ہےں، اس کا کلیجہ دھڑکنے لگتا ہے۔

کہار کہتا ہے،”ہنسا دادا کو رتونھی ہیں، رتونھی۔“

”رتوندھی۔ تو بتاﺅ، کہاں ہے گھی؟ میں چلتی ہوں، ساتھ۔“

مینکا کے کندھے پر ہے وشوا متر کے اُلمب باہو۔ ساون کی اندھیاری اور بادلوں کی رم جھم۔ بیچ بیچ میں ہوا کا سرد جھونکا۔ دونوں آنگن پار کرتے بوندوں میں بھیگتے ہیں۔ پیچھے سے آواز آتی ہے، ”لالٹین دوں؟“

”ایک ہی تو ہے رہنے دو، کام چل جائے گا۔“

گھر کی اندھیری بھنڈرِیا ۔ دونوں بھٹکتے ہیں۔ ہنسا کچھ بتاتا ہے۔ سوشیلاجی کچھ سناتی ہے۔ آنکھ کچھ دیکھتی ہے۔ ہاتھ کچھ ٹٹولتے ہیں۔

بہرحال، پتہ نہیں کہاں کیا ہے؟

اندھیرے میں جیسے آنکھ، تیسے بے آنکھ۔ دونوں کو سہارا چاہئے۔ کبھی وہ لڑھکتا ہے، کبھی وہ لڑھکتی ہیں اور دونوں روشن ہو جاتے ہیں،ایک دم روشن۔

صبح کتوں کی جھاﺅںجھاﺅں کے بیچ، کارواں آگے بڑھ گیا۔ بیلوں کی گھنٹیاں ٹنٹنائیں، بھُجنگے بولے اور بابا نے اٹھ کر اپنا چھپّن پتری والا بانس کا چھاتا چھُٹھایا اور تال کی طرف چل پڑے، نیرُوآہی ہو رہی تھی۔

راستے میں مگنو سنگھ مل گئے،”لگ گئی پارہنسوا کی ناﺅ۔“

”کیا ہوا؟“

”کچھ نہ پوچھو، بھیا۔ تمہیں خبر ہی نہیں، سارے گاوں میں رات ہی خبر پھیل گئی۔ یہ سسرا دُوآرے بٹھانے لائق نہیں ہے۔ کہتے تھے کہ کوئی رانڈ ریوا ،ڈال دو اس کے گلے۔ کل رات بابو صاحب کے یہاں پنچایت ہوئی۔ طے ہوا کہ اب سبھا سوسائٹی کی چَےکی، گاوں میں نہیں دھری جائے گی۔ عورت صورت کا بھاشن یہاں نہیں ہونے پائے گا۔ بہو بیٹیوں پر خراب اثر پڑتا ہے۔بات یہ ہے بھیا کہ راجا صاحب اوٹ لڑ رہے ہیں،کانگریس کے خلاف۔ بابو صاحب اُنکو اوٹ دلانا چاہتے ہیں۔ آپکے خوف سے کچھ کہہ تو سکتے نہ تھے۔ اب موقع ملا ہے۔“

”کیسا موقع؟“ بابا جھنجھلا کر بولے۔

آگے آکر انکے چھاتے کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ بولے،”الٹ دیا ہنسوا نے کل رات۔“

”کیا مطلب؟“

”سچ مانو، کھانا پینا نہیں ہوا۔ جب بہت دیر ہونے لگی، تو بنگا نے لالٹین لے کر دیکھا، اور باہر نکل کر، سارے گاوں میں ڈھنڈورا پیٹ دیا۔“

ابھی تو سرپر ،سامان لے کر، گھاٹ تک پہنچانے گیا ہے۔“ بابا چپ چاپ آگے بڑھ گئے۔ اس طرح کی بات سن کر برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہے، پر نہ جانے کیوں انہیں ہنسی آ رہی تھی۔ تبھی دور ہنسا کی بھاری آواز سنائی دی۔

،جگ بےلھمَولو جلوم کئلُو نندی۔۔۔جگ ۔۔برمہا کے موہلُو،وشنو کے موہلُو،شِو جی کے نچیا نچےلو موری نندی۔۔ جگ۔۔۔

بابا کھڑے تھے۔ ہنسا دھیرے دھیرے قریب آ گیا۔ اندھیرا چھٹ گیا تھا۔ ہنسا ڈر گیا۔ کےسے کھڑا ہوں بھیا کے سامنے، کیسے؟ کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔ بابا نے دیکھا، ہنسا کے ہاتھوں میں کھدر کے کچھ کپڑے تھے، پر اسکی نگاہ نیچے زمین میں دھنسی تھی۔

”ہنسا۔“ بابا بڑی کڑی آواز میں بولے،”جہاں پہنچ گئے ہو، وہاں سے واپس نہیں آنا ہوگا۔“

”بھیا، بوٹی بوٹی کٹ جاوں گا، پر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔“

ہنسا جانے لگا، تو بابا نے کہا،”گھر جا کر سیدھا سامان باندھے آنا۔آج مچھری پکڑواﺅںگا، وہیں کھاوا پر بنے گی۔“

”اچھا، بھیا۔“ کہہ کر ہنسا اپنی بٹن سی آنکھوں کو پونچھتا ہوا چلا گیا۔

گاوں میں چناﺅ کی دھوم مچی تھی۔ بابو صاحب کانگریس کی مخالفت کر رہے تھے۔ انکے درختوں پر اشتہار ٹانگ دیئے جاتے، تو ان کے آدمی اکھاڑ دیتے۔ کسان بلوائے جاتے، انہیں دھمکایا جاتا۔کھیت نکال لینے کی، جانوروں کو ہنکوا دینے کی باتیں کہی جاتیں اور ہنسا، سوشیلاکی کہانی کا پرچار کیا جاتا، بھرشٹ ہیں سب۔ ان کا کوئی دین دھرم نہیں ہے۔ گنھی تو تیلی ہے۔ اور ہنسا اب پورا رضاکار بن گیا ہے۔ کھدر کا کرتا دھوتی اور ہاتھ کی لمبی لاٹھی میں ترنگا۔ بغل میںبگل لٹکائے رہتا ہے اور وہ باپو کے سندیش کی پرچی بانٹتا پھرتا ہے۔

”بابو صاحب جو کہیں مان لو۔ پوڑی مٹھائی راجا کے تمّو میں کھاﺅں۔ خرچہ خوراک بابو صاحب سے لو اور موٹر میں بیٹھو۔ لیکن کانگریس کا بکسا یاد رکھو۔ وہاں جا کر، کھانا پینا بھول جاو؟کانگریس تمہارے راج کے لئے لڑتی ہے۔ بے دخلی بند ہوگی۔ چھوت چھات بندہوگا۔جنتا کا راج ہوگا۔ ایک بار بولو، بولو گنھیں مہاتما کی جے۔جے ۔“

گھر گھر میں، گلے گلے میں ، سوشیلاکے رسیلے گانوں کی دھنیں گونجنے لگیں۔ گاوں کے بچے، ہنسا دادا کے پیچھے، ہاتھوں میں اخبار پر رنگ کرکے بنائی جھنڈیاں لیے ادھر سے ادھر چکر لگایا کرتے تھے۔

انہی دنوں گاوں میں رام لیلا ہونے کو تھی۔ بابو صاحب کی پارٹی کے رام لکشمن بنے تھے۔ پر راون بننے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔ لوگ کہتے، راون بننے والا مر جاتا ہے۔ کوئی تیار نہ ہوتا تھا۔ بابا دشمی کے مالک تھے۔ ہنسا کیسے برداشت کرتا کہ لیلا خراب ہو۔

اوپر سے سوشیلاجی، لیلا ختم ہونے پر بھاشن کرنے والی تھیں۔ ہنسا سوچنے لگا، کیا ہو؟اچانک لڑکوں نے تالیاں بجائیں اور ہنسا دادا کو گھیرا لیا۔ جلدی جلدی کالا چوغہ راون کے گلے میں ڈال دیا گیا۔ سر پر پگڑی باندھ کر دس منہ والا چہرہ، ہنسا دادا نے پہن لیا۔ ہاتھ میں تلوار لی اور گرج کر بولے،”میں راون ہوں کہاں ہے ڈُشٹ رام؟“

ایک بچے نے اپنی چھڑی میں لگا ہوا ترنگا جھٹ دشانن کے سر پر کھونس دیا اور سب لوگ زور سے ہنسنے لگے۔ اسی ہجوم میں سے کسی نے چلا کر کہا،”گنھیں مہاتما کی جے ۔۔۔۔“

راون بھاشن دینے لگا،”بھائیوں، رام راجا تھا۔ دیکھو، چھوٹی ذات کا کوئی کبھی رام نہیں بننے پائے۔ راکشس سب بنتے ہیں۔ براہِم، کالو، بھلُئی، پھےّدر، سب کی پالٹی ہے، ہماری۔ یہ جنتا کی لڑائی ہے۔ بول دو دھاوا۔“ اور ہنسا ہاتھ پاوں ہلاتا آگے کو چل پڑا۔ پیچھے پیچھے ساری راکشسی سَینا۔ کسانوں کے بندر بنے لڑکے بھی اپنا چہرہ لگائے، جنتا کی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ رام بیچارے اکیلے بیٹھے رہ گئے۔ رامائن بند ہو گئی۔ تیواری چِلانے لگا، پر کون سنتا ہے۔

”گنھیں مہاتما کی جے۔“

بابا ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ ان سے کچھ کہتے ہی نہیں بنتا تھا۔ راکشسی سَینا کے سیاہی میں رنگے منہ اور ہاتھوں میں ترنگے جھنڈے دیکھ کر، لوگ رام کے لئے خریدی گئی مالائیں، ہنسا کے ہی اوپر پھینکنے لگے۔

اسی بیچ سوشیلا جی تیر کی طرح بھیڑ میں گھسیں،”کون بنا ہے راون؟ کیا ترنگا اسی لیے ہے؟“ انہوں نے ہاتھ سے چہرے کو پونچھ دیا۔ اچانک ہنسا کو دیکھ کر، وہ پسینے پسینے ہو گئیں۔

”یہ رضاکار ہو۔ بدنام کرتے ہو جھنڈا۔ بند کرو یہ سارا تماشا، ہونے دو رام لیلا ٹھیک طریقے سے۔“

سبھی لوگ اپنی جگہوں پر لوٹ گئے۔ بابا خاموش کھڑے تھے۔ سوشیلا جی اپنا جھولا سنبھالے ،انکے برابر آ کھڑی ہوئیں۔

جنگ چلتی رہی۔نقارے اور ڈھول بجتے رہے۔ سنٹھے کے رنگے ہوئے تیر چھوٹتے رہے۔ پر راون مرے، تو کیوں مرے۔کمانیں بار بار ٹوٹتیں۔ بار بار کہا جاتا،”سو جاو۔“ پر کون سنتا ہے۔ ہنسا کی فوج کیوں ہارے؟

اسی وقت لکشمن کو زمین سے ٹھوکر لگی۔ وہ لڑھک پڑے۔ ان کاتاج گر گیا۔ آگے پیچھے دوڑتے دوڑتے رام کو چکر آ گیا اور ان کو قے ہونے لگی۔ سارے میلے میں شور مچ گیا،”جیت گئی جنتا کی فوج۔ ہنسا دادا کی پالٹی ایسے ہی ووٹ جیت لے گی۔“

ادھر دن رات سشیل جی کھنجڑی بجاتی، گھومتی رہتیں اور رات ہنسا کے گھر واپس آتیں۔

دوسری جماعت کے لوگوں نے چٹھیا ںبھجوائیں۔ ،سوشیلاجی کو یہاں سے بلا لیا جائے۔ عوام پر برا اثر پڑ رہا ہے۔چناﺅ کے دو دن پہلے انہیں نوٹس ملا کہ وہ باپو کے آدرشوں کو توڑ رہی ہیں، اس لیے انہیں کام سے الگ کیا جاتا ہے۔

وہ ہنس پڑی تھیں،ایشورنے شوہر سے الگ کیا اور اب باپو کے نقلی چیلے انہیں جنتا سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔

انکی کھنجڑی اور زور سے بجنے لگی۔ ان کا سُر اور تیز ہو گیا۔چناﺅ کے دو دن رہ گئے۔ سوشیلاجی بیمار پڑ گئیں۔ ہنسا کے گھر میں ان کا ڈیرہ لگا تھا۔ وہ بخار کی جلن سہہ رہی تھیں، پر کسی کو اپنے پاس بیٹھنے نہیں دیتی تھیں۔ رات جب ہنسا لوٹتا، تو وہ اس سے کہتیں،”تم سناو اپنا بھجن۔“ ہنسا بغیر کچھ سوچے وچارے گانے لگتا۔

”ہنسا جائے اکیلا، ای دےہیا نہ رہی۔۔۔۔“ پھر پرچار کی خبریں لے کر، وہ اسکے بالوں بھرے سینے میں منہ چھپا لیتیں۔

چناﺅ کا دن آ گیا، لیکن سوشیلاجی بستر سے نہیں اٹھیں۔ کسانوں کی جے جے کار کرتی ہوئی ٹولیاں گزرتیں، تو وہ اپنے بستر میں تڑپ کر رہ جاتیں۔ ہنسا انہیں بہت روکتا، پر وہ اٹھ کر ان سے ملتیں۔ بابا بہت سمجھاتے، پر نہ مانتیں۔چناﺅ کے دن ڈولی میں اٹھا کر وہ پولنگ پر لے جائی گئیں۔ وہیں درخت کے نیچے بیٹھے بیٹھے انہیں کئی بار چکر آیا اور بیہوش ہوئیں۔

اوٹ پڑتا رہا۔ کسان راجا صاحب کے کیمپ میں کھانا کھاتے، انکی موٹر میں آتے، پر اوٹ ڈالتے کانگریس کے بکسے میں۔ انہیں سوراج ملے گا، انہیں آزادی ملے گی، یہی سب سوچتے تھے۔

تیسرے پہر زور کی بارش آئی۔ سوشیلاجی چھایا میں جاتے جاتے بھیگ گئیں۔ بابا نے انہیں ڈولی میں بیٹھا کر، گھر بھیج دیا۔چناﺅ چلتا رہا۔

ہنسا ماضی کی طرح کام میں جٹا تھا۔ بہت دیر پر کبھی اسے سوشیلاکی یاد آتی، تو دل کو دبا کر پھر پرچی بانٹنے لگتا۔ بہت کم اوٹ راجا کے بکسے میں گرے۔ شام ہو گئی۔ راجا کا تنبو ہارے ہوئے ملازمین سے بھر گیا۔

ہنسا انہیں دیکھ کر جانے کیوں غضب سے جل رہا تھا۔ اسے بار بار سوشیلاکی یاد آ رہی تھی۔

”بھیا، کچھ اور ہونا چاہئے۔“

”مجھے چلے جانے دو، ہنسا۔“

اور پچیس تیس لوگ درانتی لے کر راجا صاحب کے تنبوکی رسیوں کے پاس کھڑے ہو گئے۔ کون جانے کیوں کھڑے ہیں۔ ہنسا نے جیت کا بگل پھونکا اور ساراتنبو ایک منٹ میں زمین پر تھا۔ زور کا شور مچا۔ کسانوں نے جے جے کار کی اور لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔

سشیلاجی کو نمونیا ہو گیا۔ ان کی سانس پھنس گئی۔ بابا رات دن ان کے پاس بیٹھے رہے۔ ہنسا نے زمین آسمان ایک کر دیا، پر فائدہ نہ ہوا۔ وہ بار بار مہاتما جی کا نام لیتیں، ہنسا سے اپنا بھجن سنتیں اور آنکھیں بند کر لیتی۔

چناﺅ کا نتیجہ سنایا گیا، تو نیتا لوگ موٹر پر چڑھ کر سوشیلاجی سے معافی مانگنے آئے۔ پر سوشیلاجی نے منہ پھیر لیا، جیسے وہ کہتی ہوں، میں تمہارے کارنامے جانتی ہوں۔ اور ہنسا اٹھ کر باہر چلا گیا۔

آخرکار ایک دن سوشیلاجی کی سانس بند ہو گئی۔ ہائے مچ گئی۔ بچے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ہنسا نے بکری کےلئے پتے توڑنے والی لگُی میں ترنگا ٹانگ کر، ہاتھ اوپر اٹھا لیا اور اپنا بگل پھونکنے لگا۔ اسکی ہنسی لوگوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنے لگی پر وہ ہنستا رہا۔

آج تک، گنہیں مہاتما، جواہرلال اورجنتاکی فوج، ٹھیک تین لفظ وہ جانتا ہے۔ لڑکے اب بھی اسے اسی طرح گھیرے رہتے ہیں۔ پر پہاڑ سے تخت کواٹھا نہیں سکتا۔ ہاں ، اٹھا کر لے جانے والوں کو دیکھ کر وہ زور زور سے ہنستا ہے اور گھنٹوں ہنستا رہتا ہے۔

اسکے کھیت میں گھاس اگی ہے۔ مکان گر گیا ہے۔ پرلگّی میں پھٹا ترنگا اور سوشیل کا دیا ہوا بگل اب بھی ٹنگا رہتا ہے۔ کبھی کبھی وہ گندے کاغذ دیواروں پرچپکاتا پھرتا ہے اور کبھی سارے گاوں کی گلیاں صاف کر آتا ہے۔

آزادی ملی، تو اسے روپے ملے۔ سیاسی معذور تھا، وہ۔ پر وہ روپیوں کی گڈی لے کر ہنستا رہا، اور پھر انہیں گاوں کی دیواروں میں ایک ایک کر ٹانگ آیا۔

دو بار لوگ اسے آگرے لے گئے۔ پر کچھ ہی دنوں بعد پھر ”ہنسا جائے اکیلا“ کی آواز گاوں کی فضاﺅں میں گونجنے لگتی۔ اب بھی کبھی کبھی وہ آزادی لینے کی قسمیں کھاتا ہے۔ اسکے تمتماتے ہوئے چہرے کی نسیں تن جاتی ہیں اور وہ اپنا بگل پھونکتا ہوا، کبھی دھان کے کھیتوں، کبھی اِیکھ اور مکئی کے کھیتوں کی مےڑو ںپر گھومتا ہوا، گایا کرتا ہیں ۔۔۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

عالمی ادب سے انتخاب "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد "کیا تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے