سر ورق / افسانہ / اینٹ 1947ء کی…لال شیخ

اینٹ 1947ء کی…لال شیخ

     

اینٹ 1947ء کی

بلال شیخ

ابو بے روزگاری سے تنگ آ کر ہمیں لاہور لے آئے اِدھر اُن کے دوست نے اُن کو ایک دکان پر منشی کی نوکری لگوا دی گاؤں میں روزگار نہ مل سکا اور اگر ملتا تو حالات ساتھ نہ دیتے پورے لاہور میں مکان کرائے کے لئے ڈھونڈا مگر ہمیں رہائش اندرون لاہور میں ملی۔ اندرون لاہور سب سے قدیم علاقہ ہے جس کو آج کل والڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے. اندرون شہر میں گھر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور اکثر دو گھروں کی دیوار بھی ایک ہوتی ہے اور اگر آپ کو گلی کی ایک نکر سے دوسری نکر پر جانا ہے اور آپ چھت پر کھڑے ہیں تو آپ کو نیچے جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی آپ چھتوں کو پھلانگ کر بھی جا سکتے ہیں جو کہ کسی دور میں دوست احباب ایک دوسروں کی چھتوں پر آیا جایا کرتے تھے۔

ہمیں اِس گھر میں آئے ہوئے مہینہ گزر چکا تھا جب ہم اِس جگہ پر رہائش پزیر ہوئے تو اُس وقت میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمیں مکان کی سب سے اوپر والے حصے میں جگہ ملی اِس لئے ہمیں چھت پر جانے کا موقع بھی مل جاتا تھا میں اکثر اندرون لاہور کا نظارہ کرنے چھت پر چلا جاتا اور ایسا خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملتا کہ کیا بتائیں۔ پیچھلے کئی سالوں کی محنت صاف نظر آتی اگر چھت پر کھڑے ہوکر آپ دیکھیں تو دور دور تک کی  عمارتیں  بادشاہی مسجد کے مینار ، مینارِ پاکستان،  پرانی خوبصورت مسجدیں اتنی بلندی سے بہت خوبصورت نظر آتی ہے۔ چھت پر ہلکی ہلکی ہوا بہت لطف دیتی تھی۔ ایک دن میں اپنی مطالعہ پاکستان کی کتاب پکڑئے چھت پر چلا گیا چھتوں پر سیمنٹ کی بیٹھک بنی ہوتی تھی جو کہ پرانے لوگوں نے اپنے آرام و سکون کے لئے بیٹھک بنائی ہوئی تھی ۔ میں اکثر چھت پر آتا تھا اور سیمنٹ کی بیٹھک پر بیٹھ جاتا اور کافی وقت اُدھر بیٹھ کر گزارتا ۔ میں نے کتاب کھولی اور قائد اعظمؒ کے چودہ نکات پڑھنا شروع کر دیے اور اُن کو اونچی آواز میں پڑھتا گیا۔اچانک ایک تیز آندھی چلی اور کچھ ہی لمحوں میں اُس نے بہت دھول اُڑا دی میں بھاگتا ہوا اندر چلا گیا جب طوفان رکا تو میں واپس آ کر بیٹھ گیا اب آندھی تو رک گئی تھی مگر ہوا چل رہی تھی سارے گھروں میں لوگ چھتوں پر آ گئے ۔ مجھے اچانک کھانسنے کی آواز آئی میں نے چاروں طرف دیکھا مگر مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں نے نظر انداز کر دیا اور تحریکِ علی گڑھ پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر مجھے کھانسنے کی آواز آئی اور میں ڈر گیا اِس دفعہ آواز میرے کانوں کے بہت قریب سے آئی تھی۔ میں اُٹھ کر کھڑا ہو گیا میں جدھر بیٹھا ہوا تھا میرے سر کے قریب ایک اینٹ پڑی ہوئی تھی جو کہ آج کے دور کے مقابلے میں بہت بھاری تھی اور اُس اینٹ کے اوپر ہلکا سا سیمنٹ لگا ہوا تھا مجھے ایسا لگا اُس اینٹ میں سے آواز آئی ہے ۔ میں اُس اینٹ کو بہت غورسے دیکھ رہا تھا۔

” کیا دیکھتے ہو میری طرف ” اینٹ میں سے ایک با رعب اور بوڑھی آواز نکلی ۔ میں گھبرا گیا مجھے خوف آنے لگ گیا جیسے کسی کو بھوت دیکھ کر خوف آ رہا ہو پہلے تو سوچا وہاں سے بھاگ جاوں مگر اُدھر ہی کھڑا رہا ۔

” ارے بچے کیا دیکھ رہے ہو میری طرف میری حالت کو دیکھ رہے ہو یا مجھے بولتا دیکھ رہے ہو اُس پر حیرانگی آ رہی ہے” اینٹ میں سے پھر آواز نکلی۔

” تم بول سکتے ہو ؟ کیسے؟” میں گھبراتا ہوا اینٹ کے قریب پہنچا۔ ” ہاں بول سکتا ہوں میرے اندر کئی الفاظ کئی باتیں جذب ہو چکی ہیں” اینٹ میں سے آواز آ ئی۔

” یہ کھانسی بھی تم نے کی تھی اینٹ بھی کھانسی کرتی ہے” میں بے چینی کی کیفیت میں تھا۔” ہاں میں نے کی تھی بوڑھا ہو چکا ہوں نہ چاہتے ہوئےکھانسی آ جاتی ہے "

 ” واہ میں نے آج تک کسی بے جان چیز کو کھانستا ، بولتا نہیں دیکھا ” میرے اندر اب تھوڑا سا حوصلہ آ رہا تھا اور دلچسپی بڑھنے لگی تھی۔

” ہاہاہا۔۔۔ ویسے تو سب بے جان چیزیں سنتی تو ہے اور بولتی بھی ہیں مگر سنائی انہی کو دیتا ہے جو اِن کو سننے کی صلاحیت رکھتے ہو میں تو روز ادھر کھانستا ہوں، بولتا ہوں، گاتا ہوں مگر آج تک میری آواز نہیں سنی گئی مگر تمہارے کانوں تک پہنچ گئی اِس کا مطلب تمہارے پاس وہ کان ہے جو سن سکتے ہیں” یہ بات سن کر میرے اندر کا سارا خوف ختم ہو گیا اور میں جا کر اپنی جگہ واپس بیٹھ گیا۔

” تم ادھر کب سے ہو اور ادھر بیٹھے بور نہیں ہو جاتے” مجھے کچھ سمجھ نہ آئی تو ایسے ہی پوچھ لیا اب دیکھنے میں تو صرف وہ ایک اینٹ تھی مگر اُس میں سے ایک انسانی آواز مجھے سنائی دے رہی تھی دلچسپ بات یہ تھی۔

” میں عمر کے سو سال کے قریب ہوں یا اُس سے کچھ سال زیادہ ہوگا یا کم ہو گا”

” واہ بڑی لمبی عمر ہے تو تم نے پاکستان سے پہلے کے حالات بھی دیکھے ہونگے اور پاکستان بننے کے بعد کے بھی ہے نا” میں نے بڑے تجسس سے پوچھا میں اپنے اندر بڑا فخر محسوس کر رہا تھا جیسے میرے اندر کوئی سپر پاور آگئی ہو اور میں بہت کچھ جان سکتا ہوں۔

” ہاں ۔۔ مگر صرف اِنہی علاقوں میں رہا ہوں اور کافی کچھ دیکھنے کو ملا”

” تو مجھے بتاؤ نہ سب کچھ  میں جاننا چاہتا ہوں میرا ملک کیسے بنا تھا اور اندرون شہر میں  پہلے کیسا ہوتا تھا” میں نے پوچھا۔

” تم کیا کرو گے جان کر آج کل کے نوجوان اِن باتوں پر توجہ نہیں دیتے آج کل کے بچے نہیں جان سکتے کہ اُن کے باپ دادوں نے یہ ملک کیسے حاصل کیا تھا” اینٹ میں سے قہقے کی آواز آئی اور اینٹ بتانے کے لئے آمادہ نہیں ہورہا تھا۔

” نہیں مجھے جاننا ہے میں آج کل کے نوجوانوں سے مختلف ہوں اور اِس ملک کے لئے محبت کے جذبات رکھتا ہوں اور اِس ملک کی خاطر کچھ کرنا چاہتا ہوں مجھے بتاو ” میں نے کہا کیونکہ اینٹ کی بات سن کر مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔

” اچھا تم سننا چاہتے ہو تو سنو مگر خاموشی کے ساتھ درمیان میں بولنا مت کیونکہ کہانی بہت لمبی ہے اور ہو سکتا ہے تم تھک جاؤ”  میں اپنی دونوں ٹانگوں کو سمیٹ لیا ” نہیں تھکوں گا وعدہ رہا "

"دہلی گیٹ ایک ٹرک میں میں کئی سو اینٹوں کے ساتھ لایا گیا تھا ادھر ایک سکھ نے اپنا گھر تعمیر کروایا تھا میں گھر کے داخلی دروازے کے  اوپر لگایا گیا تھا گلی کے سارے حالات میرے سامنے ہوتے تھے سکھ کیا ہندو کیا مسلمان سب اکھٹے کھیلتے کودتے تھے سب لوگ رات کو اکھٹے ہو کر باتیں کرتے پورا محلہ ایک دوسرے کے لئے جان بھی قربان کر دیتا تھا سب لوگ یہی چاہتے تھے کہ انگریز ہماری جان چھوڑ دے اور اِس بات پر سارے متفق تھے اُس گلی کے ایک نکر پر مندر تھا جہاں سارے ہندو پوجا پاٹ کرتے تھے اور دوسری نکر پر مسجد تھی جہاں مسلمان نماز پڑھنے جاتے تھے۔ مگر کبھی کبھی لڑائی بھی ہو جاتی تھی جیسے عید کے دن قریب آتے تو قربانی پر مسائل بنتے کھانے پینے کے معاملے میں مسلمان احتیاط کرتے ۔ کافی عرصہ میں نے سب کو ایک ہی بات کرتے دیکھا انگریزوں سے کیسے جان چھڑائی جائے ۔ ایک دفعہ ایک انگریز گلی میں آ گیا اور ایک ہندو مزدور کو بات نہ ماننے پر ڈانٹنے لگاْ

” تم ذلیل لوگ کسی قابل نہیں ہو اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو اچھا نہیں ہوگا ” انگریز نے ایک زور کی ٹانگ ماری اور ہندو آدمی دور جا گرا ایک مسلمان لڑکا کچھ لڑکوں کے ساتھ آیا اور کہنے لگا،

” او انگریز کی اُولاد تم ہمارے ملک میں کھڑے ہو کہ ہمارے ملک کی آب و ہوا میں سانس لے کر ہم لوگوں پر ہی رعب ڈالتے ہو چلا جا نہیں تو مار مار کر تیرا تھوپڑا بگاڑ دیں گے” اُس لڑکے کی بات سن کر انگریز نہیں ڈرا تھا مگر لڑکوں کی تعداد دیکھ کر گھبرا گیا تھا اور وہاں سے چلا گیا ۔ کافی عرصہ سب ایک نعرہ لگاتے نظر آئے پھر اچانک ایک نیا نام گونجنے لگا پاکستان جو کہ ہندوستان کے لفظ کی طرح ملتا تھا پہلے صرف ہندوستان تھا اب ساتھ پاکستان بھی گونجنے لگا جو صرف مسلمان لگاتے تھے۔ ایک دن گلی میں ایک ہندو ایک سکھ سے بول رہا تھا ” جناح نے نیا بکھیڑا ڈال دیا ہے  انگریزوں سے جان چھڑانے کی بجائے انگریزوں  سے کہ رہا ہے کہ ہمیں الگ الگ کر کے جاو مسلمان اور ہندو ایک تھالی میں نہیں کھا سکتے پتہ نہیں اِن مسلمانوں میں ساتھ رہنے کا حوصلہ کیوں نہیں ہے ” سکھ نے جواب دیا ” اگر اِنہوں نے ہندوستان الگ کرنے کی بات کی تو ہم اِن کا گلہ کاٹ دیں گے جو ہندوستان کو الگ کرے گا ہم اُس کو دو حصوں میں کر دیں گے اب ہندوستان پر حکومت ہو گی تو صرف ہماری اِن مصلیوں سے تو ہم گند اُٹھوائیں گے گند” پہلے سب بیٹھ کر شغل لگاتے گپے مارتے تھے پھر اِن میں دوری پیدا ہونا شروع ہو گئی ۔ ہندوں کا رویہ بہت کڑوا ہو گیا تھا مسلمانوں کے ساتھ  کوئی گلی میں بیٹھ کر ملک نہ بننے کی بات کرتا تو کوئی دو قومی نظریے کی بات کرتا  اب سکھ ہندو مسلمان اپنے اپنے بچوں کو ایک دوسرے سے ملنے کے لئے روکنے لگے تھے ایک دفعہ ایک ہندو بچہ ایک مسلمان بچے کے ساتھ باہر کھیل رہا تھا کہ اچانک ہندو بچے کی ماں آئی اور اُس کو ڈانٹنے لگی ” چلو ادھر سے کیا کر رہے ہو اب اِن کے ساتھ نہ کھیلا کرو یہ لوگ ہمارے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ” وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی۔ گھر کے مالک کو کیا سوجی دس سالوں بعد باہر کا حصہ دوبارہ تعمیر کروانا چاہا اور وہاں سے کچھ اینٹیں اُکھاڑی گئی اور میں سہی سلامت بچ گیا اُس نے مجھے خراب اینٹوں کے ساتھ باہر بیچ دیا اور مجھے کسی مسلمان نے خرید لیا اور میں لاہوری گیٹ آ گیا مجھے اب نام یاد ہونا شروع ہو گے تھے۔ اُس مسلمان کا نام مسعود تھا مسعود نے اپنی چھت کا باہر والا حصہ ٹھیک کروانا تھا اور مجھے بھی وہاں دوسری اینٹوں کے ساتھ لگا دیا ۔ اب میں وہاں سے ساری گلی اور محلوں کو دور دور تک دیکھ سکتا تھا ۔ اُدھر بھی حالات کچھ مختلف  نہیں تھے۔ اُدھر بھی لڑایاں چل رہی تھی پھر ایک دن اچانک شور مچا محمد علی جناحؒ لاہور میں بہت بڑا جلسہ کر رہے ہیں مسلمانوں میں عجیب سا جوش بھر آیا مسلمان اکھٹے ہونا شروع ہو گئے گلیوں میں مسلمانوں کے منصوبے بننا شروع ہو گئے۔اور پھر وہ دن آ گیا جس دن جلسہ تھا وہ دن آج بھی مجھے یاد ہے سارے مسلمان گھروں سے نکل آئے تھے مرد، بوڑھے عورتیں، بچے سارے گروپوں کی شکل میں نعرے لگاتے ہوئے جا رہے تھے انسانوں کا سمندر یک زبان آوازیں نکالتا ہوا جا رہا تھا پاکستان زندہ باد۔ اُس دن کے بعد حالات بدل گئے مسلمانوں کے لئے سختیاں بڑھ گئی تھی خواتین اور بچے گھروں سے کم نکلنے لگے تھےمیں نے دیکھا مسعود راتوں کو اپنی کھڑکی سے نکل نکل کر دیکھتا تھا اور گلی کے حالات کا جائزہ لیتا تھا اور اکثر مسعود اور کچھ لوگ راتون کو پہرہ دیتے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوتی تھی۔ ایک رات کو بہت افسوسناک صورتحال دیکھنے کو ملی تھی کچھ ہندوں رات کے درمیانی وقت ایک گھر میں گھس گئے اُس رات کسی نے پہرہ بھی نہیں دیا تھا اور سب گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے  اور وہ گھر مسعود کے گھر سے کچھ فاصلے پر تھامگر میں بہت اچھے طریقے سے دیکھ سکتا تھا۔ ہندوں گھر میں گھسے تو گھر میں چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگی عورتوں کی چیخنے کی آوازیں، بچوں کے رونے کی آوازیں کچھ دیر میں سارا محلہ جاگ گیا جب لوگ لاٹھی لے کر نکلے تو اُس سے پہلے ہی وہ اپنی چھریاں ڈنڈے لے کر بھاگ گے تھے اُس دن اُس گھر کی دیواریں بہت رو رہی تھیں۔ سب مار دیے گئے تھے اُس دن کے بعد گلی میں خوف بڑھنے لگا ایک دن سامنے والی چھت پر دو لڑکے پتنگ بازی کر رہے تھے

” تجھے پتہ ہے اسلم انگریز یہ ملک کر چھوڑ کر جانے والے ہیں”  اُس کی بات سن کر اسلم نے کہا” ہاں پتہ ہے لیکن یہ پتہ نہیں کہ ہندو چھوڑ کر جائیں گے کہ نہیں لاہور مسلمانوں کے حصے میں آ رہا ہے ” آزادی کی ہوا بہت تیز ہو گئی تھی پاکستان ہندوستان کے نعرے مقابلوں پر لگتے تھےانگریزوں کو سب کو بھول چکے تھے صرف مسلمان اور ہندو یاد رہ گئے تھے ۔ دیواریں اِس بدلتے رنگ و بو کو دیکھ رہی تھیں  ہر کوئی اپنے گھروں کی حفاظت کرتا نظر آ رہا تھا مگر کسی مسلمان کو میں نے حملہ کرتے نہیں دیکھا تھا اِس عرصے میں گلیاں صرف جلسوں کے لئے رہ گئی تھی خواتین کھڑکیوں سے باہر چھانک کر دیکھتی اور دعا کرتی کہ کوئی ہنگامہ بھرپا نہ ہو کیونکہ قتل و غارت عام ہو گیا تھا۔ مسلمان الگ ملک چاہتے تھے ہندو سکھ اِس چیز کا غصہ اُتارنے اور مسلمانوں میں خوف ڈالنے کے لئے روز کسی مسلمان کو نشانہ بناتے تھے جب جب کسی مسلمان کی لاش گرتی تھی تو پاکستان کا نعرہ اور بلند ہو جاتا تھا۔مسعود کے گھر پر بھی خطرہ منڈلانے لگا تھا ہندو علاقے میں انتشار پھیلا رہے تھے اور پھر ایک دن مسعود کے گھر پر حملہ ہو گیا مگر جیسے کہ مسعود اپنے گھر کی حفاظت کے لئے پہلے سے ہی تیار بیٹھا ہوا تھا اِس لئے وقت پر اُس نے شور مچا کر محلے والوں کو اکھٹا کر لیا محلے والوں نے وقت پر پہنچ کر ہندؤں کو مار ڈالا اب جنگ دو طرفہ ہوتی چلی گئی تھی مسلمانوں نے بھی برابر کے ہتھیار اُٹھا لئےتھے اب لاشیں دونوں طرف گرتی تھی پھر ایک دن اعلان ہوا ہندوستان آزاد ہو جائے گا اور پاکستان بھی بن جائے گا یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ نعرے جلسے خون خرابا حب الوطنی دکھانے  جتانے کے لئے لوگ باہر نکل آئے ۔دیواروں پر ہر روز کسی کاخون لگا ہوتا تھا ۔ مسلمان غلامی کرنے کو تیار نہیں تھے پہلے انگریزوں کی اور پھر بعد میں ہندوں کی۔ اور پھر ایک رات ایسی آئی جس کو اُس دور میں لوگ آزادی کی رات کہ رہے تھے وہ رات بہت لمبی تھی کچھ لوگ اپنا گھر چھوڑنے پر بہت روئے اُس رات بہت خون خرابا ہوا وہ رات بہت عجیب سی تھی ہندو گروپوں کی شکل میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہندوستان منتقل ہو رہے تھے۔ کچھ ہندوں  نے تو بہت خون خرابا کیا اُن کا نعرہ تھا کہ اگر اِس ملک میں ہم نہیں رہیں گے تو کسی کو رہنے بھی نہیں دیں گے ۔ساری رات شہر جاگتا رہا کچھ بے گناہ ہندو بھی مارے گئے اور کچھ سمجھداری کے ساتھ اپنے خاندان کو لے کر نکل گے صبح کا سورج نکلا تو گلیاں خاموش تھیں۔ سب بدل چکا تھا یہ شہر مسلمانوں کے حصے میں آیا تھا۔ مسلمان ہجرت کر کے اِس علاقے میں آنا شروع ہو گئے اور آباد ہوتے چلے گئے۔ مسعود بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی اور جگہ منتقل ہو گیا اور اُس گھر میں کوئی اور گھرانا آ کر رہنا شروع ہو گیا پورے شہر میں صرف آذان کی آواز گونجتی تھی پوجا کرتے ہوئے کوئی نظر نہیں آتا تھا جب بڑی عید ہوئی تو میں چھت سے دیکھ رہا تھا پہلی دفعہ قربانی پر کوئی نہیں لڑا تھا اور سب مسلمانوں نے آزادی سے قربانی کی تھی ۔ پھر یہاں مرمت شروع ہو گئی اور کئی جگہ سے نئے طریقے سے گھر بنایا گیا مجھے اُس دیوار سے الگ کر دیا گیا اور میں خوش قسمت تھا کہ اِس دفعہ پھر سہی سلامت بچ گیا اور مجھے کرشنا گلی یعنی جدھر اِس وقت میں اور تم ہیں ایک شخص نے پرانی اینٹوں میں مجھے خرید لیا اور میرے دائیں جانب دیوار اونچی کرنے کے لئے اینٹیں لگائی گئ تھی۔

میں بھی وہاں لگا ہوا تھا پھر رونق لگنا شروع ہو گئی سب ایک جیسے لوگ رہنے لگے چھتوں پر لوگ وقت گزارنا شروع ہو گے جن کے عزیز و اقارب قربان ہوئے تھے اُن کے دلوں کے بھی زخم بھی مدھم پڑ  گئے تھے پھر ایک چمکتا دور شروع ہوا نئے نئے گانے سننے کو آنے لگے ملی نغمے اونچی آواز میں لگتے جس میں پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہار کیا جاتا ۔ اِس گھر میں کچھ بوڑھے بھی رہتے تھے وہ ریڈیو لے کر اوپر آ جاتے تھے اور کافی دیر بیٹھے میچ سنتے رہتے سب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے تھے کچھ سال گزرے تو ملک میں کھلبلی سی مچ گئی شائد کوئی مارشل لاء کا لفظ سننے کو آیا تھا لوگ گھروں میں ڈر کے بیٹھ گئے تھے مگر پھر سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا دور بدلتا رہا مگر ابھی لوگوں کی سادگی نہیں بدلی تھی حالات تبدیل ہوتے رہے اور میں دیوار سے کچھ اُکھڑ سا گیا میرے اوپر سیمنٹ اپنی جگہ چھوڑ رہا تھا ۔ پھر ایک عورت نے اُکھاڑ کر میرے اوپر رسی لپیٹ دی اور اُس رسی پر کپڑے سکھاتی رہی تھی۔ عورتیں ایک چھت سے دوسری چھت پر ایک دوسرے سے باتیں کرتیں لڑکیاں رسالے لے کر آتی اور ایک دوسرے سے کہانیوں پر تبصرے کرتیں کچھ لڑکیاں میگزین پکڑ لاتی ۔ گھر کے چھوٹے بچے اوپر کرکٹ کھیلنے آجاتے اور مجھے وکٹ بنا لیتے اور میرے ساتھ کھیلتے مجھے بہت اچھا لگتا تھا میرے اچھے دن گزر رہے تھے کافی لمبے عرصے تک لوگوں میں سادگی رہی آنے والی نسل اِس آزادی کے مزے لوٹتے رہے اور پھر عجیب عجیب سی چیزیں ہاتھوں میں آنا شروع ہو گئی ہاں ہیڈ فون اکثر چھتوں پر کچھ مرد حضرات صبح کے وقت اخبار ہاتھ میں پکڑے تازہ ہوا لینے آ جاتے اور اونچی اونچی آواز میں ملک کے حالات پڑھتے کبھی جمہوریت کے چرچے سننے کو ملتے تو کبھی آمریت کا ماتم ہوتا۔میں نے دیکھا آنے والی نسلوں کو اِس چیز کا اندازہ نہیں رہا تھا کہ اُن کے بڑوں نے یہ ملک کیسے حاصل کیا تھا ۔ پھر نئی ایجادات آنے لگی اور بچے سب بدل سا جا رہا تھا موبائل بھی دیکھنے کو ملا پہلے بڑھے اِس کو پکڑے اوپر آ جاتے اور سگنل کی تلاش کرتے اور ب بڑی دور دور باتیں کرتے کبھی کبھی تو سارا خاندان چھت پر آ جاتا اور باری باری سارے ایک ہی موبائل سے بات کرتے اور اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے پھر سب کے پاس اپنا اپنا آنا شروع ہو گیا اور اپنی من مرضیوں کے مطابق استعمال کیا جانے لگا پھر چھتوں پر جوان آتے اور عجیب سا چہرہ بنا کر اپنی خود کی تصویریں کھینچتے میں تو دیکھ کر ہی حیران ہو گیا پہلے تو بڑے کیمرے ہوتے تھے اور جب کسی نے تصویر لینی تو سارے تیار ہوکر لیتے تھے مگر اب تو نہ وقت کا پتہ نہ حلیے کا جیسے ہوتے ویسے ہی کھینچ لیتے اِن عجیب چیزوں نے دوری سی پیدا کر دی تھی سب میں اوپر بچے آنا بھی بند ہو گئے تھے لڑکیاں بھی کہانی نہیں سناتی تھیں اور بوڑھے تو اب شائد پہلے جیسے بوڑھے نہیں رہے تھےمیرا کافی وقت اب ایک جگہ پر ہی گزرنے لگا تھا۔ایک دن سامنے والی چھت پر دو لڑکے سگریٹ پی رہے تھے ایک لڑکا کہنے لگا ” یار کیا رکھا ہے اِس ملک میں گند بھرا ہوا ہے میں دوسرے ملک کے چکرو میں ہوں” دوسرا لڑکا بولا ” سہی کہ رہا ہے یار میں بھی تنگ آ گیا ہوں نوکری مل نہیں رہی مہنگائی برھتی جا رہی ہے تو سہی کہ رہا ہے کچھ نہیں دیا اِس ملک نے ” دونوں لڑکوں کی بات سن کر میں بہت رویا مجھے وہ ساراعرصہ یاد آیا جب یہ ملک بن رہا تھا اور مسلمانوں کی اس ملک کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر رہے تھے،دیکھو بچے یہ ملک تمہارا ہے تم اِس ملک کی خاطر کچھ نہ بھی کرو تب بھی یہ تمہارا ہے اور تم اگر اِس ملک سے کچھ چاہتے ہو تو پہلے اِس ملک کو کچھ دو یہ تمہیں دگنا واپس دے گی تم اِس ملک میں آزاد سانسیں لے رہے یہی بہت بڑا قرض ہے اِس ملک کا تمہارے سر پر تم جیسے نوجوان ہی اِس ملک کا مستقبل ہو اور اِس قوم کو آگے لے کر چلنا ہے اگر تم جیسے نوجوانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ڈر ہے کہ کہی اُس پستی میں نہ چلے جاو جہاں سے آنے کے لئے تمہارے بڑوں نے محنت کی تھی تم شکر کرو کہ آزاد ملک میں آزاد سانسیں اور آزادی سے زندگی گزار رہے ہو ” ایک دم اینٹ خاموش ہو گئی اور میں ایک ایسی کیفیت میں چلا گیا کہ شائد بتانا مشکل ہے ایسا لگا کوئی مجھے وقت کی سیر پر لے گیا ہو اور سفر ختم ہونے کے بعد جو دل و دماغ پر خوشی محسوس ہوتی ہے وہی مجھے ہو رہی تھی میں نے اینٹ سے اور سوال کرنا چاہے مگر اُس اینٹ میں سے دوبارہ کوئی آواز نہ نکلی اور اچانک اُس اینٹ پر ایک دراڑ آ گئی شائد وہ اپنے اندر بہت باتیں سنبھالے ہوئے تھا جو آج ایسے نکلی تھی جیسے غبارے کے پھٹنے سے اُس میں سے ہوا نکلتی ہے میرا دل شکر کررہا تھا اور فخر محسوس کر ررہا تھاکہ میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری ہوں میں نے اپنے اندر ایک نیا انسان بنتا دیکھ رہا تھا جو اِس ملک کے لئے کچھ کرنے اور بننے کے لئے پر جوش تھا  میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اِس ملک کی دل و جان سے خدمت کروں گا ۔ میں نے اُس اینٹ کو اُٹھا کر ایسی جگہ رکھ دیا جہاں اُس کو کوئی چھیڑ نہ سکے کیونکہ میرا دل کہ رہا تھا کہ اب وہ شائد کسی کے سامنے نہیں بول سکے گا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اختری…نادیہ عنبر لودھی 

اختری نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد —— اختری نے گھر کا کام ختم کیا اور سفید تکیہ پوش پر رنگ برنگے  چھوٹے چھوٹے  پھول کاڑ ھنے لگی – اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔ اسے یہ کام جلدی مکمل کرنا تھا اس کے بعد بستر کی چادر مکمل کر ناتھی – اختری یتیم تھی اس کا بچپن بہت کسمپرسی کے عالم میں گزرا تھا -باپ اس کی پیدائش کے چند ماہ بعد چل بسا ۔ ایک بڑ ی بہن تھی اور ایک ماں -ماں محنت مزدوری کر کے ان دونوں کو پال رہی تھی -اکثر گھر میںکھانے کے لیے صرف روٹی ہوتی جب وہ ماں سے پوچھتی اماں !روٹی کس کے ساتھ کھائیں ؟ ماں جواب دیتی :منہ کے ساتھ ۔ جیسے تیسے کرکے اس کا بچپن گزر گیا -وہ بھی ماں کا ہاتھ بٹانے کو سلائی کڑھائی کرنے لگی -لیکن یہ چادر اور تکیے اس کے جہیز کے تھے ان پر لگے ہر ٹانکے میں اس کے ارمان پروۓ ہوۓ تھے ۔ ان کے رنگوںمیں اس کے خواب سجے تھے ۔کنواری آنکھوں میں  سجے ایک شہزادے کے خواب – جس کا ساتھ اس کی زندگی کو دل کش بنادے گا۔ اس کا تعلق مشترکہ ہندوستان کے گاؤں گورداسپور سے تھا -یہ جنوری ۱۹۴۷کا زمانہ تھا – جنگ آزادی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا -اکثر گلی میں سے گزرتے جلوسوں کے نعرے سنتی اختری مستقبل کے اندیشوںسے لاعلم تھی -اس کی عمر چودہ سال تھی -اس نے ہوش سنبھالنے کے بعد صرف گھر کی چار دیواری دیکھی تھی -سیاست کی موجودہ صورت حال سے وہ بے خبر تھی -کبھی اماں سے پوچھتی کہ جلوس کیوں نکلتےہیں تو وہ جواب دیتی :یہ انگریز سرکار سے آزادی مانگتے ہیں – آزادی کیا ہوتی ہے یہ سوال اس کے لیے عجیب تھا کیونکہ وہ ان پڑھ تھی -قرآن اور نماز کی تعلیم ماں نے دی تھی اس کے نذدیک دین کا علم ہی کل علم تھا -دنیاوی علم سے وہ بے بہرہ تھی – دو ماہ بعد اس کی شادی طےتھی – شادی کا دن آپہنچا -ماں نے اپنی حیثیت کے مطابق اسے رخصت کردیا – سسرال میں ساس ،شوہر اور دیور تھے -نئی نئی شادی میں دہکتے جاگتے ارمانوں کا ایک جہان آباد تھا -یہ دنیا اتنی خوبصورت تھی کہ وہ ماضیکی سب محرومیاں بھول گئی -اس کا شریک ِحیات اس کے مقابلے میں بہت بہتر تھا پڑ ھا لکھا اور وجیہہ-اس کا شوہر سرکاری ملازم تھا -وہ ایف۔اے پاس تھا او ر محکمہ ڈاک میں کلرک تھا -خوابوں کے ہنڈولے میںجھولتے چند ماہ لمحوں کی طرح سے گزر گئے – ملک میں فسادات پھوٹ پڑے -حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے تھے -ان کے سارے خاندان نے ہجرت کی ٹھانی -ضرورت کے چند کپڑے گھٹریوں میں باندھے -وہ جہیزجو اس نے بہت چاؤ سے بنایا تھا حسرت بھری نظر اس پر ڈالی اور رات کی تاریکی میں سسرال والوں کے ساتھ گلی کی طرف قدم بڑ ھا دیے -وہ لوگ چھپتے چھپاتے شہر سے باہر جانے والی سڑک کی طرف قدم بڑھنے لگے – دبے پاؤں چلتے چلتے وہ شہر سے باہر نکلے -آبادی ختم ہوگئی تو قدموں کی رفتار بھی تیز ہو گئی -درختوں کے اوٹ میں ایک قافلہ ان کا منتظر تھا – جس میں زیادہ تر خاندان ان کی برادری کے تھے -قافلےچلنے میں ابھی وقت تھا کیونکہ  کچھ اور خاندانوں کا انتظار باقی تھا – اس کی ماں اور بہن پہلے ہی پہنچ چکی تھی – اگست کا مہینہ تھا ساون کا موسم تھا گزشتہ رات ہونے والی بارش کی وجہ سے میدانی علاقہ کیچڑ زدہ تھا -اسی گرمی ، حبس اور کیچٹر میں سب لوگ ڈرے سہمے کھڑ ےتھے -گھٹریاں انہوں نے سروں پہ رکھی ہوئی تھیں اتنے میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی -اللہ خیر کرے -قافلے والوں کی زبان سے پھسلا -چشم زدن میں گھڑ سوار قافلے والوں کے سروں پر تھے – انکے ہاتھوں میں کرپانیں اور سروں پر پگھڑیاں تھیں یہ سکھ حملہ آور تھے -کاٹ دو مُسلوں کو کوئی نہ بچے -صدا بلند ہوئی -لہو کا بازار گرم ہوگیا مسلمان کٹ کے گرنے لگے ان کے پاس نہ تو ہتھیار تھے نہ ہی گھوڑے- جان بچا کے جس طرف بھاگتے کوئی گھڑ سوار گھوڑے کو ایڑ لگاتا اور سر پہ جا پہنچتا – اختری کا شوہر اور دیور بھی مارے گئے ۔چند عورتیں رہ گئی باقی سب مار ے گئے – ان عورتوں کو گھڑ سواروں نے اپنے اپنے گھوڑوں پہ لادا اور رات کی تاریکی میں گم ہوگئے -شوہر کو گرتا  دیکھ کے اختری ہوشوحواس گم کر بیٹھی اور بے ہوش ہوگئی -رات گزر گئی دن کا اجالا نکلا گرمی کی شدت سے اختری کو ہوش آیا تو چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور وہ اکیلی زندہ تھی -اختری نے واپسی کے راستے کی طرفجانے کا سوچا اور شہر کی طرف چل پڑی -وہ ہندوؤں اور سکھوں سے چھپتی چھپاتی اپنے گھر کی طرف جانے لگی – گلی سے اندر داخل ہوئی تو گھر سے دھواں  نکلتے دیکھا – دشمنوں ے گھر کو لوٹ کے بقیہ سامانجلایا تھا نہ مکین رہے نہ گھر – وہ اندر داخل ہوئی اور ایک کونے میں لیٹ گئی – گزرا وقت آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے وقت نے کھل کے رونے بھی نہ دیا -زندگی کیا سے کیاہوگئی -انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ قدموں کی چاپ سنائی دی -آج یہاں جشن مناتے ہیں – تین ہندو ہاتھ میں شراب کی بوتل لیے گھر میں داخل ہوۓ – اختری نے ارد گرد نظر دوڑائی اپنی حفاظت کے لیے کوئی چیزنظر نہ آئی -وہ برآمدے میں بیٹھ گئے اور شراب پینے لگے اختری اندر کمرے کے دروازے کی درز سے انہیں دیکھنے لگی -ان میں سے ایک اٹھا اور بولا :تھک گیا ہوں آرام کرلوں ۔وہ اختری والے کمرے کی طرف بڑھا اختری پیچھے ہٹی اور کسی برتن سے جا ٹکرائ۔ اندر جانے والے نے چاقو نکال لیا – شور کی آواز سے باقی دونوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے :کوئی ہے -یہاں کوئی ہے – لڑکی ہے :پہلے والا بولا باقی دو کے منہ سے نکلا – لڑ کی پہلے والا ہاتھ میں چاقو لے کر اختری کی سمت بڑ ھا اختری پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی باقی دو بھی پہنچ گئے ایک نے چھپٹا مار کے اختری کو پکڑ نے کی کوشش کی ۔اختری نے چاقو والے سے چاقو چھینااور چشم زدہ میں اپنے پیٹ میں مار لیا ۔خون  کا فوارہ ابل پڑا -اختری نیچے بیٹھتی گئی فرش پہ خون پھیلنے لگا اور اس کی گردن ڈھلک گئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے