سر ورق / افسانہ / سیلانی پاکستانی…شکیل احمد چو ہان

سیلانی پاکستانی…شکیل احمد چو ہان

سیلانی پاکستانی

شکیل احمد چو ہان
”ارے وہ دیکھو ”سیلانی پاکستانی“ آج پھر آگیا۔“ پا پڑ بیچنے والے پرویز نے چپس، بسکٹ والے حمیدسے کہا۔
سالاراحمد عرف سیلانی پاکستانی اپنی ہی دُھن میں خود کلامی کرتا ہوا اُن کے پاس سے گزا تھا۔ سیلانی پاکستانی سوشل میڈیا کا اسٹار ہے جس کے لاکھوں Followers ہیں۔ اُس کی دھواں دھار تقریر کسی نے موبائل پر ریکاڈ کر کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی تھی۔ وہ ویڈیو Viral ہو گئی تب سے سیلانی پاکستانی مشہور ہو گیا ،یہ الگ بات ہے کہ وہ مشہور ہونا ہی نہیں چا ہتا تھا۔یہ مشہوری بھی اُسے انصاف نہیں دلا سکی وہ آج بھی انصاف کے لیے اِدھر سے اُدھر خوار ہو رہا ہے ۔ سیلانی پاکستانی کو آج کی جنریشن بہت پسند کرتی ہے ۔ اُس پسندیدگی کی وجہ سیلانی پاکستانی نفیس اور مدھر آوازکے ساتھ ساتھ عمدہ طرزتکلم کا بھی مالک تھا۔ وہ موٹے شیشوں والا چشمہ لگاتا اُوپر سے درویشانہ حلیہ۔ یہی حلیہ اُسکا اسٹائل بن گیا ہے ۔ جس کی اُسے خبر ہی نہیں۔
جیسے ہی حمید کی اُس پر نظر پڑی اُس نے فورًا پرویز سے بول دیا:
”چل اُٹھا اپنے پاپڑ….. آج بہت ممی ڈیڈی بچے آنے والے ہیں ۔ خوب کمائی ہو گی“
”تماشہ تو شروع ہونے دو۔“ پرویز کے جملے میں خوشی کے ساتھ ساتھ طنز بھی تھا۔ حمید نے چپس، بسکٹ، چیونگم والا تھال اپنے سر پر رکھا اور سیلانی پاکستانی کی طرف لپکا۔ پرویز نے بھی اپنا پاپڑوں والا سفید بڑا سا شاپر بیگ اُٹھا یا اور سیلانی پاکستانی کی طرف چل پڑا۔ اُن دونوں کی دیکھا دیکھی دو اور چھابڑی فروشوں نے بھی اُن کی تقلید کی۔ بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی طرف جانے والے رستے پر گوردوارہ ڈیہرا صاحب کے سامنے بہت ساری چھا بڑی فروش ہوتے ہیں ۔ یہ سب بھی وہیں کھڑئے تھے ۔
سیلانی پاکستانی ایک چبوترے پر کھڑا ہو گیا اُس کے سامنے سیکڑوں کا مجمہ تھا۔ کوئی سال پہلے سیلانی پاکستانی صرف سالا ر احمد تھا۔ اُس کے آباو¿اجداد تقسیم کے وقت لکھنو سے ہجرت کر کے لاہور پہنچے تھے۔اندرون لاہور میں ایک گھر الاٹ ہو گیا ۔ سا لار کے والد طیب احمد نے لکھنوی رکھ رکھاو¿ لاہور میں بھی قائم رکھا۔ طیب نے اپنے بچوں کی رزق حلال سے اعلیٰ تربیت کی۔ سالار پڑھنے میں لائق تھا۔ وہ CSS کرنے کے بعد ترقی کرتا ہوا Additional Secretary Implementation کے عہدے تک جا پہنچا۔ سالار احمد کو اُس کے دادا نے ایمانداری کے گھٹی چٹائی تھی نا وہ اُس کے وجود سے نکلتی نا ہی اُس کے اختلافات کم ہو تے ، کبھی سیاست دانوں سے اختلاف اور کبھی اپنے ہی Secretary سے ۔ سیکٹریری صاحب نے ایک سیاست دان کی ایما پر سالار احمد پر کرپشن کا الزام لگا کر انکو ائری کمیٹی کی مدد سے اُسے Suspend کر دیا۔
انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہو ہو کر سالار احمد شدید ذہنی دباو¿ کا شکار ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر و بیشتر دیوانہ وار بولے چلا جاتا۔ وہ چلتے چلتے صرف پاکستان کی باتیں کرتا۔اسلام آباد کے کسی دانشور نے ایک CSS آفیسر کو اس حال میں دیکھا تو اُسے مذاق میں سیلانی پاکستانی کہہ کر مخاطب کیا ۔ تب سے سالار احمد سیلانی پاکستانی کے نام سے مشہور ہوگیا۔ سالار احمد کا بچپن Minto پارک میں کھیلتے گزرا وہ جب بھی ذہنی تناو¿ محسوس کرتا تو ، اسلام آباد سے لاہور آ جاتا پہلے اپنے آبائی گھر جاتا پھر Minto پارک کا رخ کرتا۔اُسے دیکھتے ہی نوجوانوں کا ہجوم اکھٹا ہو جاتا۔وہ ہجوم کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتا جسے لوگ تقریر سمجھتے۔
”ہمارے ملک میں قیادت کا فقدان ہے…. ہم اچھی تقریر کرنے والے کو ہی لیڈر سمجھ لیتے ہیں…. جو زندگی میں کچھ نہیں کر سکتا وہ Motivational Speaker بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر بندہ رائٹر اور فوٹو گرافربنا ہوا ہے…. ہماری قوم کو اپنے مقصد ہی کی خبر نہیں“
سیلانی پاکستانی نے سانس لی اور مینار پاکستان کی طرف شہادت والی انگلی کرتے ہوئے کہا:
”منٹو پارک میں اِس جگہ یہ عمارت بنانے کا بھی ایک مقصد تھا۔ “
”منٹو نہیں اقبال پارک سر!۔“ ہجوم میں سے ایک نو جوان نے بات کاٹتے ہوئے بتا یا ۔
”تم بھی غلط بتا رہے ہو جنٹلمین !وہ سامنے تختی تو Greater Iqbal Park کی لگی ہوئی ہے۔منٹو پارک کو اقبال کے نام سے منسوب نابھی کیا جاتا پھر بھی اقبال گریٹ تھا، گریٹ ہے اور گریٹ ہی رہے گا۔ اقبال سے بہت بلند اقبال کا اقبال ہے….. ہم پتہ نہیں کیوں ایک کے کام پر کسی دوسرے کا اقبال بلند کرنے لگتے ہیں۔“
”وہ کیسے سر….. ؟“ ہجوم میں سے ایک لڑکی نے ہاتھ اُٹھا تے ہوئے پوچھا۔
”James Broadwood Lyall نے لائل پور بنایا اور ہم نے شاہ فیصل کے نام کے ساتھ اُسے منسوب کر دیا ، وہ لائل پور سے فیصل آباد بن گیا، اِسی طرح لارنس گارڈن …. باِغ جناح ہو گیا۔ جن سے محبت ہو اُن کے نام پر نئی چیزیں بنائی جاتی ہیں ….پرانی چیزوں پر اُن کے نام کی نئی تختی نہیں لگا ئی جاتی …. اگر محبت ہو تو…. محبت …. ؟“ لفظ محبت بولنے کے بعد سیلانی پاکستانی سوچ میں پڑگیا اور اپنی بڑھی ہوئی شیو کو کُھجاتے ہوئے ہجوم سے پوچھنے لگا:
”کیا ہمیں پاکستان سے محبت ہے …. ؟“
ہجوم سے کوئی جواب نہیں ملا تو سیلانی پاکستانی خود ہی گو یا ہوا:
”انقلاب خون مانگتا ہے اور محبت قربانی…. قربانیاں دے کر ہی تو ہمارے بزرگوں نے یہ پاکستان بنایا تھا ۔ پاکستان سے محبت اُن کو تھی جو اِس کے لیے قربان ہوئے …. ہم تو اِس کے لیے پریشان تک نہیں ہوتے…. میرے خیال میں پاکستان ابھی بنا نہیں یہ تو زیر تعمیر ہے …. جو انجینیر اِس کی تعمیر میں اچھا مٹیریل لگا تا ہے۔ ہمارا نظام اُسے ہی با ہر نکال پھیکتا ہے …. جیسے مجھے نکال دیا…. ؟“
”جناب آپ پر کرپشن کا الزام ہے۔“ ایک آدمی نے تیز دھاری لہجے میں بتا یا۔ سیلانی پاکستانی کی آنکھوں میں اشکوں کی نمی اُمڈ آئی وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا:
”کرپشن…. ؟میرے اوپر کرپشن کے جو الزامات ہیں وہ ایک سال سے صرف الزامات ہی ہیں۔ حکومتیں بد لتی ہیں تو ساتھ ہی چہرے بھی بدل جاتے ہیں ، پر نظام وہی رہتا ہے…. جو نظام بدلنا چاہے …. ہم اُسے ہی بد ل دیتے ہیں۔“
”سر ! آپ نے مینار پاکستان بنانے کا مقصد تو بتا یا ہی نہیں۔“ ایک طالب علم نے اشتیاق سے پوچھا۔
”ہم تو پاکستان بنانے کا ہی مقصد بھول گئے ہیں۔“ ایک لڑکے نے جلدی سے سیلانی پاکستانی کے ہونٹوں سے اُدھوری بات اُچک لی:
”کیا تھا پاکستان بنانے کا مقصد…. ؟“
”ہندوستان میں دو قومیں تھیں ۔ ہندو اور مسلمان …. اسی جگہ 23 مارچ 1940 میںہمارے بزر گوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا۔ ہندو¿ں اور انگریزوں سے تو ہم نے آزادی حاصل کر لی…. اِس کے باوجود ہم جا گیر داروں ، وڈیروں، صنعت کاروں اور افسر شاہی کے غلام ہیں ۔ اِن سے آزادی پتہ نہیں کب نصیب ہو گی…. ؟ جس اسلام کے نام پر ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا ہم اُسی کے اصولوں کو نہیں مانتے…. ہر بندہ اپنے مطلب کی بات قرآن سے نکال لیتا ہے ۔ جس بات سے اُس کا نقصان ہو تا ہو وہ اُسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ پتہ نہیں ہم کیسے مسلمان ہیں…. ؟ یہاں پیش کیا تھا ہم نے دو قومی نظریہ…. ہم مسلمان دو سے الگ ہو کر بھی ایک نا بن سکے …. !“
”وہ کیسے سر!…. ؟“ ایک لڑکی نے عجلت میں پوچھا۔
”ہم مسلمان تو ہیں …. متحد نہیں …. ہم پاکستانی تو ہیں مگر صوبائی تعصب کے ساتھ…. صوبوں تک بات نہیں رُکی اِس کے بعد ہم برادریوں اور گرو ہوں میں بٹتے چلے جا رہے ہیں ۔ میں تو اکثر سوچتا ہوں نا جانے کہاں جا کر ہماری یہ تقسیم ختم ہو گی…. ہم صرف ایک ہجوم ہیں قوم نہیں …. جب تک ہم ایک قوم نہیں بنیں گیں ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔“
”قوم کیسے بنتی ہے…. ؟“ ایک لڑکے نے بڑے ولولے سے پوچھا۔
”قوم لینے سے نہیں ، مال دینے سے بنتی ہے….قوم حق ماگنے سے نہیں حق دینے سے بنتی ہے…. قوم سے ہجوم ہے…. ہجوم سے قوم نہیں …. اپنے حق کے لیے تو سب کھڑے ہوتے ہیں کسی کے ساتھ کھڑا ہونا یہ قوم کی علامت ہے۔“
”کھڑا ہونے سے سر! کیا ہوتا ہے…. ؟ “ ایک لڑکا مایوسی سے بولا۔
”حالات کے سامنے ڈٹے رہنا اُمید کی نشانی ہے…. میدان سے بھرپور مقابلے کے بعدہار کر لوٹنا یہ ہار نہیں ہے…. میدان میں مقابلے کے لیے اُتر نا ہی نہیں یہ ہار ہے…. ہم جب تک زیادتی کے خلاف آواز نہیں اُٹھا ئیں گے ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔ جا گو میرے پاکستا نیوں جاگو“ سیلانی پاکستانی نے ایک نعرہ لگایا ۔ سارے ہجوم میں ایک جوش بھر گیا۔
”سیلانی پاکستانی زندہ باد …. سیلانی پاکستانی زندہ باد۔“ بلند شگاف نعروں سے فضا گونج اُٹھی۔ سب جوش میں ہوش کھو بیٹھے چند ایک کے علاوہ پولیس کی گاڑی دوسروں کو دکھائی ہی نہ دی۔
”وڈا انقلابی ! چل اگے لگ…. “ ایک پولیس والے نے سیلانی پاکستانی کو گردن سے دبوچتے ہوئے کہا ۔ پولیس کو PHA کے ایک اعلی عہد یدار نے بلا یا تھا۔ سیلانی پاکستانی کے سامنے کھڑا ہوا ہجوم لمحوں میںہی تتر بتر ہو گیا۔ پولیس والوں نے دھکا مارتے ہوئے سیلانی پاکستانی
کو پولیس کی گاڑی میں پھینکا۔سیلانی پاکستانی پولیس کی گاڑی میں بیٹھا ہواپھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ اپنے ہجوم کو بکھرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
The End

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خلا ..نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 33 خلا نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے