سر ورق / مکالمہ / امجد رئیس سے ملاقات … :کبیر عباسی. 

امجد رئیس سے ملاقات … :کبیر عباسی. 

جناب امجد رئیس سے ملاقات

کبیر عباسی

امجد رئیس صاحب بلاشبہ اس وقت جاسوسی ڈائجسٹ کے اولین صفحات کی زینت ہیں ان کی پیش کی گئیں تلخیص وتراجم  تقریبا ہر قاری ذوق و شوق سے پڑھتا ہے۔ اس لئے یہ انٹرویو ان کے فینز اور قارئین کے لئے کسی توشے سے کم نہیں ہے اس صورت میں بھی کہ یہ ان کا کسی بھی فورم پہ پہلا انٹرویو ہے جو یقیناً ہمارے لئے ایک اعزاز ہے اور اس کا سہرا کبیر عباسی کے سر جاتا ہے جنہوں نے امجد صاحب سے رابطے کے ذریعےہم قارئین کو امجد صاحب سے ڈائریکٹ انٹریکشن کا موقع فراہم کیا ۔۔۔امجد صاحب نے آپ سب گروپ ممبرز کے سوالات کے بھرپور اور تفصیلی جوابات دئیے ہیں اور کئی معاملات میں اپنی دوٹوک رائے کا اظہار کیا ۔۔ان کے جوابات چونکہ لکھی ہوئی صورت میں تھے  اس لئے ٹائپنگ میں اسی انداز میں آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے جہاں انہوں نے جن تاثرات کا اظہار لکھ کر کیا وہ بھی اسی طرح ہیں۔ کیونکہ ہم تو ایموجیز سے کام چلا لیتے ہیں لیکن لکھنے میں یہ ممکن نہیں۔ ۔۔

خیر آئیے انٹرویو کئ طرف چلتے ہیں۔ ۔۔۔۔

جے ڈی پی کلب کے قابل قدر قارئین اور لکھنے والوں کے نام :۔۔

ابتدا تمہید کے ساتھ عرض کر رہا ہوں   ڈیڑھ دو برس قبل بردار کبیر عباسی نے راقم کے گر حصار ڈالنا شروع کیا اور انٹرویو کی خواہش ظاہر کی۔ عاجز نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ جس کی کئی وجوہات تھیں۔ اول،  یہ کہ انٹرویو کے ساتھ دوسرا لفظ جو ذہن میں آتا ہے وہ ہے “سیلبریٹی”۔ اور یہاں صورتحال ایسی ہے کہ “سیلیبریٹی” کجا راقم خود کو چھوٹا موٹا اسٹار بھی تصور نہیں کرتا۔ دوم، میرے مشاغل لائیو انٹرویو کے متحمل نہیں ہو سکتے (ممکن ہے مستقبل میں ایسی کوئی صورت بن جائے)۔ سوم، سوشل میڈیا سے میرا تعلق صفر کے قریب ہے( موجودہ انٹرویو بھی برادر کبیر عباسی نے چینلائز کیا ہے)۔ بہر کیف عباسی صاحب کا محبت آمیز اصرار قائم رہا اور سوال و جواب کی موجودہ صورت تشکیل پا گئی۔۔کوشش ہے کہ ایک ہی نشست میں جواب دوں ، عباسی صاحب سے آغاز کروں گا۔ یہ کہنا جائز ہے کہ کبیر عباسی جاسوسی ذہن کے مالک ہیں۔آئیں شروع کرتے ہیں۔

※کبیر عباسی۔ مری

کیا آپ کے ناولز کی ایڈیٹرز ایڈیٹنگ بھی کرتے ہیں یا ہو بہو چھاپ دیتے ہیں، اگر ایڈیٹنگ کرتے ہیں تو آپ اس سے کس حد تک مطمئن ہیں؟

؞امجد رئیس:

دوست جس ناول کو “ترجمہ وتلخیص” کی شکل میں پیش کرتا ہوں۔ ان کی ایڈیٹنگ نہیں ہوتی۔ ادارہ اور مدیرہ صاحبہ مجھ پر یا میری عرق ریزی پر اعتماد کرتے ہیں۔ کاپی میرے پاس ہوتی ہے۔ ضرورت کے مطابق خود ہی بعض اوقات ترمیم و اضافہ کر کے مطلع کر دیتا ہوں۔ ایڈیٹنگ وہی کر سکتا جس نے ناول پڑھا ہو۔

کبیر عباسی۔ مری

سر علیم الحق حقی اور کاشف زبیر عموماً مغربی ناولز کو پاکستانی یا انڈین ماحول میں ڈھال کے لکھتے رہے، اس وجہ سے بہت سے قارئین جو مغربی ناولز میں مشکل ناموں سے نالاں نظر آتے ہیں وہ بھی ان کے ناولز شوق سے پڑھتے تھے، علاوہ ازیں مقامی ماحول کی وجہ سے دلچسپی بھی کئی گنا بڑھ جاتی تھی. کرداروں سے انسیت بڑھ جاتی تھی جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ ہیش آنے والے واقعات احساسات ہر زیادہ اثرانداز ہوتے تھے. اپ سے سوال ہے کہ آپ نے کیا کبھی کسی ناول کو مقامی پس منظر میں ڈھالنے کا نہیں سوچا، اگر نہیں تو کیوں نہیں؟    میری خواہش ہے کہ آپ یہ تجربہ بھی ممکن ہو سکے تو ضرور کیجئے گا.

؞امجد رئیس:

بلاشبہ حقی صاحب اور کاشف صاحب نے عمدہ کام کیا۔ میں نے  adapted version نہیں دیا۔ میری افتادِ طبع کے خلاف ہے۔ آپ کی خواہش سر آنکھوں پر۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ادارہ لکھ دے کہ یہ اڈاپٹیڈ ورژن ہے۔ ساتھ اصل مصنف کا نام بھی لکھ دے۔ ایسی صورت میں شاید آپ کی خواہش پوری ہو جائے۔

※ طلعت مسعود۔ دبئی

سر اپنے لکھنے کے سفر سے متعلق بتائیں۔ کیسے شروع ہوا اور لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا ؟

؞ امجد رئیس:

میرے عزیز 80 کی دہائی میں ولبر اسمتھ پسند تھا۔ آج بھی ہے۔ 1986 میں ولبر اسمتھ کا “آئی آف دی ٹائیگر” تلخیص کی شکل میں لکھا( کسی اور ادارے کے لئے )۔ اس کے بعد ایک ناول “ ہینوور اسٹریٹ” اشارہ ڈائجسٹ کے لئے (تیس سال سے زیادہ ہوئے اشارہ بند ہو گیا)  چند طبع زاد کہانیاں ۔۔چند مضامین اخبار ورسائل میں ( نان فکشن) اور فل اسٹاپ۔

طویل عرصے بعد کسی کی فرمائش پر دو ناول جے ڈی پی کے لئے لکھے۔ بعد کی ذمہ داری  اقلیم علیم صاحب پر ہے پھر قارئین کی چاہت زنجیر بن گئی۔

※عظمی ناز۔ سرگودھا

مجھے آپ کے متراجم بہت پسند ہیں۔۔جس ماہ آپ کی کہانی ہو اس ماہ بڑی تسلی سے پڑھتی ہوں خوب انجوائے کر کے ۔۔۔پوچھنا یہ ہے سر جی کہ کہانی کا انتخاب کیسے کرتے ہیں ترجمہ کرنے کے لئے؟۔۔بعض اوقات کہانی کے اندر تھوڑی سی شاعری ٹائپ تعریف ہوتی ہے وہ کیا آپ اپنے طرف سے ایڈ کرتے ہیں یا رائٹر نے لکھی ہوتی ہے؟

؞ امجد رئیس :

شکریہ۔ بیٹی نادانستگی میں آپ نے میری مشکل پکڑ لی۔ کہانی کا انتخاب condense تو کرلیتا ہوں۔ دشواری ناول کے انتخاب میں ہے۔ مشکلات میں نے خود ہی کھڑی کی تھیں  معیار سخت ہے۔ سوچ بچار کے بعد ناول منتخب کرتا ہوں۔ ایکشن سے زیادہ ڈرامہ، سسپنس اور تھرل جیسے عناصر کو فوقیت دیتا ہوں۔ متعدد مثالیں ہیں۔ جیسے مسافت گزیدہ، آتش رُبا، فتنہ ساز، الوداعی صدمہ ، عروسی عذاب وغیرہ۔ شاعرانہ انداز و مکالمے طبع زاد ہوتے ہیں  ۔۔۔۔ادراک وجنوں سمونا پڑے یا سرگشتہ شوق ہوا جائے۔ کہانی ایسی ہو۔۔سمٹے تو کلی، پھیلے تو چمن زار بن جائے۔۔۔مسافت گزیدہ کرنے سے پہلے کشمکش رہی کہ مرکزی کردار بچہ ہے کروں نہ کروں؟ ۔عروسی عذاب میں جذبات نگاری کی مشکل درپیش تھی۔۔سام ڈیوٹی نبھائے یا دلدادی اور نینا پتھر سے سر پھوڑے یا برف میں آگ لگائے۔ بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ “سرخ لکیر” کراس نہ کروں۔ آپ کے سوال کا جواب “الوداعی صدمہ” کی مختصر مثال پہ ختم کرتا ہوں۔

راجر نے تھریسا کا ذکر ٹیری سے مغربی انداز میں کیا۔ میں نے اپنے طریقے سے لکھا۔ تھریسا جب ٹیری آرچر کو ٹوکتی ہے تو وہ انداز والفاظ کچھ ہوتے ہیں۔ آرچر کا ایک ڈائیلاگ یوں ہے۔ My mom’s hair is red, “I said , cutting her off”.” Not as red as yours , sort of a blondie-red, you know ? But yours is really beautiful “

راقم نے تلخیص لکھتے ہوئے رومانوی تحریر میں اضافہ اس لئے نہیں کیا کہ توازن بگڑ جاتا۔ ناول کی نوعیت بھی مختلف تھی۔ نیز مصنف نے رومانس کو بہت کم جگہ دی تھی۔

ایک اور مشکل یہ ہے کہ میں مصنفین کو دہرانے سے پرہیز کرتا ہوں۔ اب تک لگ بھگ بیس مختلف مصنف کئے ہیں  قارئین کی تحسین نے دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔

؞ ساگر تلوکر۔ چشمہ بیراج :

اب تک کتنی کہانیوں کے تراجم کر چکے ہیں۔ ان میں آپکی پسندیدہ ترین کونسی ہے؟

؞امجد رئیس :

پسندیدہ ترین “ترجمہ و تلخیص” ؟ مشکل سوال ہے۔ ہر مرتبہ بہتر سے بہتر کی کوشش ہوتی ہے۔ ناولوں کی نوعیت ، مصنفین مختلف ہوتے ہیں   جیسے “ایبولا” اور “زیرِ نشتر” میڈیکل تھرلر تھے۔ “ آئینِ وفا” اور “وبائئ دہشت” کی نوعیت اور تھی   میرا خیال ہے کہ پسندیدہ ترین ابھی آنا باقی ہے۔ اغلباً وہ دو قسطوں میں “لی چائلڈ” کا ہو گا۔ لی چائلڈ سے ایک قسط میں انصاف نہیں ہو سکتا۔

؞ جعفر حسین۔  چینیوٹ

آپ اردو ادب کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں اور جو ادب تخلیق کیا جا رہا ہے آیا اُس کی سمت،جہت اور معیار سے مطمئن ہیں؟؟

؞امجد رئیس

بندہ نواز ! آپ مجھے کسئ بلند مقام پہ رکھ کے اردو ادب “literature “ کے مستقبل ، سمت اور جہت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔   من آنم کہ من دانم۔ میں خود ادیب ہوں نہ بہت زیادہ ادب پڑھا۔ لہذا اس سوال کے جواب سے خود کو معذور پاتا ہوں۔

※ جعفر حسین۔ چینیوٹ

آج کل اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے تراجم مصنف کے نام کے بغیر شائع ہورہے ہیں۔ ڈائجسٹوں کے مالکان کی اس پالیسی سے ایک طرف مصنف کے ساتھ نہ انصافی اور بدیانتی ہے  بلکہ اسے ادبی سرقے کے زمرے میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی آنے والے عرصے میں اگر ڈائجسٹوں کی یہ تحریریں مترجم کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوگئیں تو چوری کا لیبل بھی لگ جائے گا۔اس صورت حال کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

؞امجد رئیس :

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ سرقہ ہے۔ تھوڑی تصحیح کر لیں ، ڈائجسٹ والے ادب نہیں چھاپتے۔ کسی استثنائئ صورت میں کہیں ہوگا بھی تو محض ادب کا چھینٹا ہو گا۔ جیسے “اردو ڈائجسٹ” میں کوئی افسانچہ(mini story) مِنی، شارٹ ، ناولٹ اور ناول کی الگ الگ تعریف ہے۔ بنیاد ورڈ کاونٹ ہے   جاسوسی ، سسپنس یا دیگر ایسے ماہنامے “پاپولر فکشن” شائع کرتے ہیں۔ مثلاً “پاؤلو کوہلو” کا “الکیمسٹ” یا “میکسم گورکی” کا “ماں”

میں مصنف کے بارے خاصا لکھ دیتا ہوں(نام کے ساتھ) اور ناول کا نام بھی ، آگے ادارہ جانے اور ان کا کام۔

ایمانے سید۔ اسلام آباد

Have you read anything that made you think differently about fiction?

؞ امجد رئیس:

No such thing.

※سیف خان۔ کوئٹہ

اکثر ناقدین خاص طور پر سری ادب میں تخلیص و ترجمے کو مناسب نہیں سمجھتے… بقول ان کے مسلسل ایسی تحریریں قارئین و لکھارئین میں نئی سوچ , نئے آئیڈیاز کے فقدان کا باعث بنتی ہیں.

آپ اس تاثر کی کس حد تک ہاں یا نفی کرتے ہیں ؟؟

؞ امجد رئیس:

ناقد درست کہتے ہیں۔ “ادب” میں تلخیص نہیں کرنی چائیے  نیز ادب میں کوئئ تلخیص نہیں کرتا۔ آپ نے آگے لکھا ہے کہ ایسی تحریریں قاری ولکھاری میں نئی سوچ اور نئے آئیڈیاز کے فقدان کا سبب بنتی ہیں  سیف بھائی حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نئی سوچ اپنانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ آئیڈیاز کے لئے تخلیقی سوچ بھی معدوم ہے۔

※ غزالہ یاسمین۔ لاہور

اپ ترجمے کے لیے کسی کہانی کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟۔۔ اور اس بات کو کیسے یقینی بناتے ہیں کہ وہ پہلے سے ترجمہ نہ ہو چکی ہو؟۔۔

کس رائٹر کے کام نے اپ کو سب سے ذیادہ متاثر کیا؟۔۔کس ناول کا ترجمہ سب سے مشکل یا چیلنجنگ رہا؟۔۔اور کس ناول کے ترجمے پر اپ سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن رہے؟

؞ امجد رئیس:

انتخاب کا معیار احقر نے سخت رکھنے کی کوشش کی ہے  مختلف مصنفین ،مختلف اسٹائل ،کہانیاں کافی کچھ پڑھ لیا ہے۔ اندازہ ہے کیا کیا چھپ چکا ہے۔ مشکل پسند ہوں ضخیم ناولز کی طرف جھکتا ہوں۔۔بعض کو بہت نچوڑتا پڑتا ہے۔ مجبوری ہے کینیڈا ، اٹلی ،ناروے وغیرہ کے آتھرز کے بارے سوچنا ہی نہیں پڑتا   اندازہ ہوتا ہے کہ ناول کسی نے نہیں کیا ہو گا۔ لیکن بعض ناولوں میں مشکل دہری ہو جاتی ہے۔ مثلاً اٹلی کا انگریزی میں، پھر انگریزی سے اردو میں۔۔پاپولر فکشن میں “لی چائلڈ” نشے کی مانند ہے۔ اس کا کوئئ نہ کوئی ناول پر سیکنڈ دنیا میں کہیں نہ کہیں فروخت ہوتا ہے۔ دو ناولوں پر فلم بنی ٹام کروز نے لیڈ رول کیا۔ تیسرے ناول پر فلم متوقع ہے۔ لی چائلڈ پسندیدہ ترین ہے۔ انوکھا اسٹائل ہے۔ رابرٹ لڈہم کرنے میں مشکل لگا۔۔اب تک جو ناول کئے ہیں ایک دو کو چھوڑ کر سب پسند ہیں۔ تاہم پسندیدہ ترین آنا ابھی باقی ہے۔

※ایمانے سید۔ اسلام آباد

ایک لکھاری رزاق شاہد کوہلر آج بھی سوشل میڈیا پہ کہتے پھرتے ہیں کہ امجد رئیس محض ایک قلمی نام ہے اور اسے پہلے کاشف زبیر اور آج کل ڈاکٹر بھٹی استعمال کرتے ہیں… ایسے لوگوں کے لیئے آپ کا کوئی پیغام۔۔۔؟

؞ امجد رئیس:

میرا اندازہ ہے کہ یہ آپکا پورا یا اصل نام نہیں ہے۔ اگر غلطی پر ہوں تو پیشگی معذرت۔ رزاق شاہد سوشل میڈیا پر کیا کر رہے ہیں۔ آپ نے معلومات میں اضافہ کیا ایسے لوگوں کے لئے میرا کوئی پیغام نہیں ہے۔ میں تو مشکور ہوں جو بھولے افراد مجھے بالواسطہ پروموٹ کر رہے ہیں۔ ویسے رزاق شاہد بے قصور ہیں۔ پردے کے پیچھے ذات شریف کوئی اور ہے۔ موصوف کے لئے نیک ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے (مسکراہٹ)

※ایمانے سید۔ اسلام آباد

خواتین فینز آپ کو فون کرکے تنگ کریں تو آپ انہیں کیا کہتے ہیں؟

؞ امجد رئیس :

خواتین سے مراد (Mrs. miss or Ms)؟ ۔ایسا اب تک تو نہیں ہوا۔ شاید آپ نے میری تصاویر نہیں دیکھیں۔ آگے کوئئ غلطی کرے گا تو فون آپ کی آنٹی کے ہاتھ میں ہو گا

محمل علی۔ رحیم یار خان

آمجد  رُیئس سر میں آپکی بہت بڑی پنکھی ہوں۔۔جاسوسی میں آپکا نام دیکھ کر ہی یقین ہوتا کہ یقینا ایک شاہکار لے کر آےُ ہونگے۔۔۔ میرا سوال ہے کہ آپ اب تک جن عالمی مصنفین کی تحاریر کے تراجم پیش  کر چکے جاسوسی کے اولین صفحات کے لیے ان میں سے آپکا پسندہ مصنف کونسا اور آپکی  پسندیدہ تحریر کونسی ان تراجم میں سے؟؟

میرا دوسرا سوال آپ سے کہ آپکو ان  مصنفین کی تحاریر میں کس مصنف کی تحریر کا ترجمہ کرنا مشکل لگا؟؟

؞ امجد رئیس :

شکریہ ۔۔آگے جو لکھا کے اس پر مزید شکریہ ۔۔پسندیدہ مصنف کے بارے میں آپ نے دیگرز سوالات کے جوابات میں پڑھ لیا ہو گا۔

※قدرت اللہ نیازی۔ خانیوال :

سر! آپ نے درجنوں کہانیوں کے ترجمے کیے اگر آپ کو قارئین یا ادارے کے اصرار پر طبع زاد تحریر لکھنی پڑے تو  یہ مترجم تحریریں آپ کے لیے کتنی مدد گار ثابت ہوں گی اور کیا ان جیسا شاہکار تخلیق ہو سکے گا ؟

؞ امجد رئیس:

قارئین یا ادارے کے اصرار پہ طبع زاد ممکن ہے (اولین صفحات کے لئے۔ لیکن وعدہ نہیں)۔ یقیناً انگریزی ناولوں کے مطالعہ سے مدد ملتی ہے۔ لیکن ان جیسے شاہکار کی توقع طبع زاد کی صورت میں عبث ہے۔ اور طبع زاد کے روپ میں اڈاپٹ نہیں کر سکتا۔

※ طلعت مسعود۔ دبئی

جاسوسی ڈائجسٹ میں تلخیص وترجمہ کے حوالے سے امجد رئیس صاحب  کا نام اب بہترین کہانیوں کی ضمانت بن چکا ہے۔ جس مہینے جاسوسی میں ان کی کہانی ہو اس مہینے ایک بہترین شاہکار کی امید پہلے سے ہی ہوتی ہے ۔۔۔

میرا سوال یہ ہے  موجودہ دور میں جب کہا جاتا کہ ڈیجٹیل دور کی وجہ سے یا سوشل سائٹس کی وجہ سے لوگ پڑھنے سے دور ہو رہے۔ اس میں آپ ڈائجسٹ کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں۔؟

؞ امجد رئیس:

ڈائجسٹ کا مستقبل تاریک ہے  درجنوں میرے سامنے نکلے ، بند ہو گئے۔ جو باقی ہیں سسک رہے ہیں۔ چند ایک کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ سنبھالنے والے نہیں ہیں۔ ذہن رسا اور عشق درکار ہے ۔۔ریڈر شپ ، کتابیں، اشاعت  وغیرہ کافی کچھ تاریک ہے۔   زمانے کے ساتھ نہیں بدلو گے تو مٹ جاؤ گے۔ مختصر لکھ رہا ہوں۔۔سی ڈی ، ڈی وی ڈی کی موجودگی میں وڈیو کیسٹ کی دکان تو بند کرنی پڑے گی۔

※ غلام مرتضی لانگاہ۔ جدہ

رائٹرز کی اپنی ایک تخلیق ہوتی ہے ۔۔وہ لوگوں تک پہنچاتا ہے ۔۔ اس کے اچھے برے ریمارکس دیکھتا ہے ۔۔

کبھی ایسا ہوا کہ آپ کے کسی ناول پہ کوئی برا ریمارکس آیا ہو اور آپ بےحد رنج ہوئے ہوں۔ بعد میں ۔اس کی وجہ سے  آپ میں کونسی تبدیلی آئی ؟ ۔۔۔اور اس کے علاوہ ۔۔ جی ڈی پی کے کون سے رائٹر سے متاثر ہیں آپ ؟ نئے اور پرانوں میں سے ایک ایک بتائیں ؟ شکریہ سر۔۔

؞ امجد رئیس:

ایسا ہوتا ہے۔ کئی ایک معاملات ہیں خصوصاً اسلامو فوبیا۔۔اور دیگر باتیں ہیں۔ میں ایسے ناول مکمل پڑھنے کی زحمت نہیں کرتا۔ برادر ایک ایک نام کی شرط مشکل میں ڈال دیا۔ کئی کئی نام ہیں۔

※انصر۔ چینیوٹ

السلام علیکم سر..سوالات تو کر چکے سب ۔۔ میری صرف ایک گزارش ہے.. خواہش بھی کہہ سکتے ہیں..

کہ.. ۔۔یہ جو بیچ میں ابتدائی صفحات پر آپکی تحریروں کا وقفہ آتا ہے.. یہ بھی نہ ہو…۔۔بہت سی دعائیں۔۔

؞امجد رئیس :

وعلیکم السلام  اور بہت شکریہ ۔۔ میرا خیال ہے کہ ناولوں کی تلخیص پہلے ہی خاصی رفتار سے شائع ہو رہی ہے۔ ہر ماہ ترجمہ ناول اغلباً جے ڈی پی کی پالیسی میں شامل نہیں ہے۔

※ ایمانے سید۔

ڈاکٹر عبدالرب بھٹی کے حلقہ یاراں سے اکثر یہ دعویٰ سامنے آتا رہتا ہے کہ خدانخواستہ امجد رئیس فوت ہوچکے ہیں اور ان کے نام سے ڈاکٹر بھٹی لکھتے… اس  پہ آپ کیا کہیں گے؟

؞ امجد رئیس :

توبہ ۔۔یہ ۔آپ کون ہیں ؟ ڈاکٹر بھٹی کا حلقہ یاراں ؟؟ اگر عاجز نے چاند پر جا کر اشارہ کر دیا تو (خفیف سا اشارا) آپ جانے جاؤ گے کہ پردے کے پیچھے کون ہے۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑنا۔ آپ کیوں کسی اور کی روٹی کے پیچھے پڑے ہو ”حلقہ یاراں” سے “برفیلا جہنم “ اور “پگھلتے لمحے “ کے مصنف اور ناولوں کے نام دریافت کر لیں ۔چھوٹی سی بات ہے۔ یا پھر یہ کہ میں نے “فتنہ ساز” کی کونسی سیچوئشنز نکال دیں ؟ (مسکراہٹ پلس مسکراہٹ )

رہی بات فوتیدگی کی ۔منتقل تو یہاں سے وہاں سب نے ہونا ہے۔ فی االحال سانس چل رہی ہے اور قلم بھی ، آپ دعا کیجئیے.

※محمل علی۔ رحیم یار خان۔

کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں اس درجے کی  کہانیاں نہیں پائ جاتیں جیسی  کہ عالمی ادب میں۔۔؟کاشف زبیر سر کے علاوہ۔۔۔مزید یہ کہ آپکو کس پاکستانی رائٹر کے بارے لگتا کہ وہ عالمی پیراےُ کی کہانیاں تحریر کر سکتا٠؟؟

؞ امجد رئیس :

عالمی ادب سے مراد لٹریچر ہے تو پائی جاتی ہیں۔ لیکن موازنہ کریں تو بہت کم ۔۔بانو قدسیہ ، مستنصر حسین تارڑ کو پڑھیں۔ (اور بھی نام ہیں )۔

فقدان کا سبب تین “م “ ہیں۔ مواقع، ماحول اور محرک

※غزالہ یاسمین۔ لاہور

سر میرا سوال یہ ہے کہ ڈائجسٹ میں بہت سے رائٹرز مختلف ناموں سے لکھتے رہے ہیں جیسے کاشف زبیر مودی صاحب وغیرہ۔۔۔۔ کیا اپ نے بھی اپنے نام کے علاوہ کسی اور قلمی نام سے کبھی لکھا؟۔۔اگر ہاں تو کس نام سے؟

امجد رئیس :

میرا یہئ نام ہے۔ اسی نام سے لکھا ہے

※سنعیہ راحیل۔ اٹک(لکی خان)

 مجھے آپ کی کہانیاں بہت پسند ہیں. خاص کر سائنسی کہانیاں. سر آپ نے زیادہ تر ترجمے کئے ہیں جو کہ کمال کے ہیں. تو کیا آپ کو ترجمہ کہانیاں زیادہ آسان لگتی ہے بہ نسبت طبع زاد کہانیوں کے. اور کیا آپ اپنی طرف سے بھی کہانی میں جذبات ایڈ کرتے ہیں .؟

؞ امجد رئیس :

دونوں آسان ہیں  طبع زاد کی طرف اس لئے نہیں آتا کہ قارئین نام دیکھ کر شہکار کی توقع کریں گے۔ جو ناول کر دئیے ہیں اسطرح طبع زاد نہیں لکھ سکتا۔ وہ لوگ سال سال بھر پلاٹ پر ہی کام کرتے رہتے ہیں۔ ریسرچ کرتے ہیں۔ میں یا کوئی اور کیوں کرے گا۔ کس لئے کرے گا۔ ؟  طبع زاد کسی اور نام سی شاید لکھ دوں۔

※ سبا ارشد۔ کراچی

سب سے پہلے تو کبیر عباسی صاحب کا شکریہ کہ وہ رایٹرز کو گھیر گھار کر ہمارے لیے لے ہی آتے ہیں۔

اب سوال کی طرف آتے ہیں

غیر ملکی تراجم جو اب تک ہم نے پڑھے ہیں وہ سنسنی پیچیدگی اور تجسس کو دو چند کرنے میں بے مثال رہے ہیں ۔۔جاننا یہ تھا کہ کیا اردو ادب میں ایسا جاسوسی فکشن کسی رائٹر کا دیکھنے میں آیا ہے ؟

کیا اردو ادب میں کوئی ایسی پائے کی تحریر نظر سے گزری ہے جسے اپ غیر ملکی  ادب کے برابر رکھ سکیں ؟

اور ہلکا پھلکا سا ایک سوال  آپ نے میرا اپنی کہانی پر تبصرہ پڑھا ؟

؞ امجد رئیس:

ابنِ صفی کا نام لئے بغیر گزارا نہیں۔ جی ہاں ایسی کئی تحریریں ہیں جو عالمی ادب کی برابری کرتی ہیں۔

جی۔آپ کا تبصرہ( خراج تحسین) کبیر عباسی کی مہربانی سے پڑھا تھا (دو مرتبہ)۔ دوسری بار اس لئے کہ درماندۂ حیرت تھا ۔۔کیسے کیسے قاری اور لکھاری موجودہ ہیں۔ لطف اندوز ہوا ، خوشی ہوئی۔ انکساری سے کام نہیں لوں گا۔ جانتا ہوں کہ انکساری میں بھی جذبۂ تفاخر چھپا ہوتا ہے۔ آپ کے تبصرے پر شاعرانہ تبصرہ کرنے کا خیال آیا تھا۔ اتنا کہوں گا کہ قارئین کے تبصرے، چاہتیں اور خطوط خوش فہمی میں مبتلا کئے رکھتے ہیں۔

※اعتزاز سلیم وصلی۔ فیصل آباد

سر میں آپ کے رائٹنگ اسٹائل کا فین هوں اور خاص طور پر کئی جگه پر تو آپ کا انداز شاعرانه اور لفاظی اس قدر خوبصورت ہوتی ہے که بے ساخته منه سے واه نکل جاتی هے۔۔۔تو سر آپ اس انداز کے ساتھ هم امید کر سکتے هیں که مستقبل میں آپ کوئی قسط وار لکھیں گے ؟

؞ امجد رئیس :

بندۂ نواز۔ شکریہ۔ آپ خود اچھا لکھتے ہیں۔ اور بھی نام ہیں۔ قسطوار مشکل ہے ناولوں کا تسلسل خطرے میں رہتا ہے۔

※پرویز لانگاہ ۔جدّہ

سر انگریزی ادب سے ایسا کون سا ناول تھا جس کا ترجمہ کرتے ہوئے آپ کو بہت مزہ آیا یا پھر ایسا کون سا ناول ہے جس کا ترجمہ تو کرنا چاہتے ہوں مگر کر نہ پائے ہوں؟

؞امجد رئیس:

دیکھئے آپ لوگ اکثر “پاپولر فکشن” اور “لٹریچر” کو غلط ملط کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ترجمہ اور تلخیص کو مکس کر دیتے ہیں۔ جیسے سیلف ہیلپ یا سائنس پر کتابیں ہیں۔ ان کو as it is ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً نپولین ہل ، ٹونی رابنسن یا اسٹیفن ہاکنگ۔ لٹریچر کو بھی as it is کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم پاپولر فکشن کے ناول کو as it is کر دیں تو پورا ڈائجسٹ بھر جائے۔ ترجمہ بھی فن ہے۔ نان فکشن کا قدرے سہل ہے۔ لیکن ادب کا ترجمہ ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ اب ڈائجسٹ میں ناول کی تلخیص کی طرف آئیے۔ یہ ٹیڑھی کھیر ہے کافی مغز ماری کرنی پڑتی ہے ۔۔جے ڈی پی کے لئے جو ناول کئے ہیں۔ ایک کا نام لینا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہترین سے بہترین ابھی آنا باقی ہے۔ عاجز  “ڈان براؤن ، لی چائلڈ کے چند ناول اور لنڈا لا پلانٹے (lynda la plante)کو کرنا چاہتا ہے۔

※محمد اکرم مپال۔ جتوئی

لکھنے کے علاوہ کیا پیشہ ہے؟ ۔۔۔۔آپ کی عمر کتنا ہے؟۔۔۔گھر والوں کے بارے میں بتاٸیں؟

ڈیجیٹل میڈیا کی طرف رحجان ہے؟۔۔۔پاکستانی فلم انڈسٹری میں قسمت آزماٸی کا کبھی سوچا؟

روزانہ کتنا وقت لکھنے اور مطالعہ کے لیے خرچ کرتے ہیں؟۔۔۔۔روزانہ کتنے الفاظ لکھ لیتے ہیں؟

اگر میں کہوں کہ آپ تراجم کم جب کہ  طبع زاد کہانی کو بدیسی ماحول دے کر زیادہ لکھتے ہیں تو کیا ردعمل،جواب ہوگا؟

  سیاحت کا شوق ہے، کچھ گھومنے پھرنے کے حوالے سے یادگار واقعہ بتاٸیں؟

  تعلیمی سسٹم کے بارے میں کوٸی ناول لکھا ہو یا لکھنے کا ارادہ ہو؟

آپ کو کیسے لوگ پسند ہیں؟۔۔۔ایک ادیب کیوں چاہتا ہے کہ اسے تحریک کے لیے دکھ ملے؟

اپنے اندر ایک آگ جلی رکھنے، جذبہ زندہ رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟۔۔۔نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

بچوں کو مطالعہ کا عادی، شوق کیسے لگوانا چاہیے؟۔۔۔ ایک استاد کو کیسا ہونا چاہیے؟

 انسان کو کیسا ہونا چاہیے؟۔۔۔  ماحول زیادہ اہم ہے یا تربیت؟

منفی سوچ کے حامل افراد کو سدھارنا چاہیے، اگر ہاں تو کیسے؟۔۔۔  کس عمر میں بچوں،لڑکوں پر ذمہ داری سونپنی چاہیے ؟

؞امجد رئیس:

فلم انڈسٹری ؟۔۔توبہ کیجئیے ۔۔

گھر والے ؟ حضرت گھر والوں کے بارے کیوں بتاؤں۔ بیگمات کی بات بھی آ جائے گی۔

خوب بہت خوب۔ کیا نکتہ آفرینی ہے۔ یعنی میں ایسے شاہکار لکھ کر ان کو بدیسی ماحول دیتا ہوں اور کریڈٹ بھی غیر ملکی مصنف کو ؟؟ کوئئ بتلائے یا ہم بتلائیں۔ ۔۔بندۂ پرور میں ایسے شاہکار نہیں لکھ سکتا۔

روزانہ نہیں لکھتا۔ موڈ اور فراغت کی بات ہے۔

سیاحت ؟  آپ تحصیل جتوئی بلائیں گے تو آوں گا۔ بردار کبیر عباسی نے مری کی دعوت دے رکھی ہے۔ ملک سے باہر ناولوں کے ذریعے گھوم لیتا ہوں۔

کسی سسٹم پر کوئئ ناول نہیں لکھا۔۔

انسان کو کیسا؟۔۔ انسان کو دوسرے انسان کے احساسات و جذبات کو خیال رکھنا چائیے   بچوں کا مطالعے کا شوق۔۔۔نہیں معلوم (میں اس معاملے میں ناکام رہا)۔

※ایمانے سید۔ اسلام آباد

میرے خیال میں ترجمہ کرنے اور خصوصاً آپ جیسا بہترین ترجمہ کرنے کے لیئے ایک بہترین مصنف کا دماغ ہونا لازم ہے۔ کچھ لوگ مترجم کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو طبع زاد کے نام پہ فضول کہانیاں لکھنے والوں کو دیتے ہیں۔ بعض لوگ تو مترجم کو لکھاری ہی نہیں سمجھتے۔ آپ کے کیا نظریات ہیں اس حوالے سے؟

؞امجد رئیس :

ناول کے معاملے میں “ترجمہ وتلخیص” کہیے۔ آپ نے بہترین مصنف کے دماغ کی بات کئ ہے۔ نفی کی جسارت کیوں کروں۔ طبع زاد لکھنے والے مترجم اور مترجم ، طبع زاد لکھنے والوں کے لئے کیا خیالات رکھتے ہیں۔ اس پر پھر سہی ۔۔بات طویل ہے ۔۔(ویسے پسندیدگی کی شرح کا پیمانہ کیسا رہے گا؟)۔۔بعض لوگ مترجم کو لکھاری نہیں مانتے ۔آپ کا اشارہ کس طرف ہے۔ کھل کر سوال کریں۔ بعض کا مطلب ہوا “ چند” ۔۔چند لوگوں کی پروا کون کرتا ہے۔

※محمد طلحہ۔

سر آپ گزشتہ چند برسوں سے کمال لکھ رہے ہیں۔ کیا آپ ماضی میں نہیں لکھتے تھے یا کسی اور نام سے لکھتے تھے ؟

؞امجد رئیس:

آپ کے سوال کا جواب دیگر سوالات میں موجود ہے۔

※جعفر حسین۔ چینیوٹ

 سر غیر ملکی ادیبوں میں گبریل گارشیا مارکیز،ٹالسٹائی،ڈوسٹوفیسکی اور ہرمن ہیسے میں آپ کے نزدیک کس کے ادب نے اپکو متاثر کیا؟؟

؞امجد رئیس :

جعفر صاحب کے بوجھل سوالات ہراساں کرتے ہیں (مسکراہٹ )۔ بھائی کئی نام ہیں۔ دی برادرز کرامازوو، the idiot by Dostoyevsky..

※طلعت مسعود۔ دبئی

سر عالمی ادب اور بالخصوص انگریزی ادب میں ہم دیکھتے کہ وہ ملکی سیکیورٹی، پالیسز، عالمی اور ملکی سیاست، ایجنسیز جیسے موضوعات پہ بھی فکشن لکھتے حتی کہ کئی  واقعات جنہوں نے ان کی تاریخ پہ اثر ڈالا ہو ان کو بھی بنیاد بناتے ۔۔۔

ہمارے ہاں ایسے موضوعات پہ کیوں نہیں لکھا جاتا ۔۔۔کیا ابھی اتنی ذہنی بلوغت نہیں ہوئی ہمارے معاشرے میں یا ارباب اختیار میں کہ ایسی چیزون پہ کچھ فکشن ہی لکھا ہضم کر سکیں۔ تاریخ تو ہماری بھی کافی امیرانہ قسم کی ہے۔

؞ امجد رئیس:

جی ارباب اختیار کی بات بھی ہے۔ کئی ایک بشمول شعرأ حضرات زیر عتاب آ چکے ہیں۔

جعفر حسین۔ چینیوٹ

سر  کچھ اپنے فنی سفر اور درپیش مشکلات کے بارے میں بتایئے۔۔

؞ امجد رئیس :

بردار یہ سفر تھا ہی نہیں تو مشکلات کیسی۔۔لکھنا کبھی میری ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ مطالعہ بہت کیا۔ پڑھے بغیر لکھنا ممکن نہیں۔ دوسری طرف ہر پڑھنے والا ضروری نہیں لکھاری بن جائے۔ اندر کوئی لکھنے والا چھپا ہونا چائیے۔ محض نان فکشن کا سیدھا ترجمہ کرنے کے لئے بھی مطالعہ ضروری ہے۔ ترجمہ یا ترجمہ وتلخیص کی ٹیکنیک پرتفصیل کیونکر لکھوں۔ ایک چھوٹی سی بات عرض کر رہا ہوں۔ ہر انگریزی لفظ کا ترجمہ نہیں کرنا چائیے۔ ۔۔راقم نے گزشتہ چند برسوں میں زیادہ کام کیا۔ اقلیم علیم صاحب کی خواہش، مدیرانِ معزز کا اعتماد اور آپ لوگوں کی دلداریاں۔۔قدر افزائی ۔۔کرم نوازیاں۔

ایمانے سید۔ اسلام آباد۔

If you had to do something differently as a child or teenager to become a better writer as an adult, what would you do?

؞ امجد رئیس :

لکھاری بننے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ کیا بہتر اور کیا بدتر۔

※ جعفر حسین۔ چینیوٹ

کیا ادیب سیاست،اپنی ذات کو الگ تھلگ کر کے،مقامی اور عالمی منظر نامے کو نظر انداز کر کے،مذہب،ثقافت،روایت اور دیگر اثر انداز ہونے والے عوامل کو بائی پاس کر کے جداگانہ اور ماسٹر پیس آف آرٹ تخلیق کر سکتا ہے؟؟

؞ امجد رئیس :

ادب کے لئے سیاست ، ذات ،مقامئ و عالمئ منظر نامہ ، مذہب ، ثقافت وغیرہ کو نظر انداز کر کے ماسٹر پیس تخلیق کرنا ۔۔ناممکن، ناممکن، ناممکن۔

※ جعفر حسین۔ چینیوٹ

 اردو ادب میں جینوئن ادیب اور جینوئن ادب کی اصطلاح نے فکشن اور نان فکشن کے درمیان ایک لکیر کھینچ رکھی ہے اور یہ خلیج وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے۔سر آپ نے غیر ملکی تراجم کے دوران متعلقہ ادب اور ادیب کو گہرائی میں پرکھا ہوگا۔کیا اُدھر بھی یہ خلیج موجود ہے؟؟

؞ امجد رئیس :

آپ کے سوالات سے ظاہر ہے کہ آپ کا مطالعہ مجھ سے زیادہ ہے   خوشی کی بات ہے کہ آپ لٹریچر بھی پڑھتے ہیں۔ قارئین کے لئے پیغام ہے کہ روز کچھ نہ کچھ پڑھا کریں۔

آتے ہیں آپ کے سوال کی طرف۔۔۔جینیوئن ادیب اور جینوئن ادب ۔۔؟۔اس سوال میں آپ کچھ الجھے نظر آئے۔ غور کریں۔ جینیوئن ادیب اور جینوئن ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مطلب all the same، جینوئن ادیب ہی جینوئن ادب لکھے گا۔ ادب نے فکشن اور نان فکشن کے درمیان لکیر کھینچ دی ہے۔ یہ خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے ؟  بات سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔  ادب خود فکشن ہے۔ پاپولر فکشن ، فکشن ہے ان دونوں میں تفریق کئ جا سکتی ہے ۔۔کہ پاپولر فکشن بنیادی طور پر تفریح کے لئے لکھا جاتا ہے نان فکشن کا معاملہ الگ ہے  مثلا اسٹیفن ہاکنگ، Chalres Duhigg، ڈیل کارنیگی۔۔قطعی الگ معاملہ ہے  پاکستان میں لٹریچر اور پاپولر فکشن کے درمیان ہمیشہ سے خلیج رہی ہے۔ باہر پاپولر فکشن کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اگرچہ دونوں کی الگ کیٹیگری ہے۔

※ہارون بیبرس۔ مردان

سر آپ سینئر رائیٹر ہیں۔لیکن آپ سے ملاقات جے ڈی پی کے توسط سے ہوئی۔اس سے پہلے آپکا نام نہیں سنا تھا۔۔کیا آپ نے اس سے پہلے بھی ڈائجسٹ میں لکھا؟  ڈائجسٹ اور رسالوں سے ہٹ کر لکھا ہے؟۔۔

 جاسوسی  ڈائجسٹ میں آپکا ایک جداگانہ مخصوص انداز ہے لکھنے کا۔۔۔سر مترجم  جاسوسی کہانیوں کے علاوہ کسی موضوع پہُ لکھا اور آپ نے طبع زاد کہانیاں یا ناول لکھے ہیں؟

سر شاعری کرتے ہیں آپ۔۔۔؟؟؟ آپ کے لکھنے کے انداز سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔

؞ امجد رئیس :

کسی اور نام سے نہیں لکھا۔ ممکن ہے کسی اور نے میرے انداز پر طبع آزمائئ کی ہو۔ معلوم نہیں ۔۔ناول نہیں لکھا۔ شاعری کرتا نہیں ، پڑھی ہے۔

بالا ہے ہزار اوج سے پستی میری

ہے رشک کے قابل تہی دستی میری

فردوسی بڑا مان ہے میری بزم خیال

منت کشی ساقی نہیں مستی میری

بعض ناولوں میں نازک خیالی، ،شاعرانہ انداز وغیرہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مثلاً رابرٹ لڈلم کا “وبائئ دہشت”۔

※ جعفر حسین۔ چینیوٹ۔

سر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی ادب کو اردو ادب میں ترجمہ کرتے وقت وہ اُسکی زبان و بیان کی خوبصورتی،متعلقہ ثقافتی پس منظر،تھیم،پلاٹ،ماحول،کردار نگاری،بنیادی خیال اور رائٹر کا وہ کینوس جس میں کہانی کو ڈھالتا  ہے ،سے انصاف کر پاتے ہیں؟؟

؞ امجد رئیس :

ایک بار پھر جعفر صاحب( مسکراہٹ ) بندہ نواز! زبان و بیان، ثقافتی پس منظر ، پلاٹ، ماحول وغیرہ وغیرہ کو اردو میں منتقل کرتے ہوئے تلخیص میں انصاف ممکن نہیں ہے۔ ترجمے میں ممکن ہے۔ لیکن لٹریچر میں یہ آسان کام نہیں ہے۔ ؎ جس بزم میں جا نکلے فسوں جاگ اٹھے

    جس بزم سے آئے داستاں چھوڑ آئے

جے ڈی پی فین کلب کے معزز اراکین کو رب کریم دونوں جہاں کا خیر عطا فرمائے۔ آمین۔ جوابات میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو کم علمی سمجھ کر معاف کر دیجئے گا۔

آپ کا ممنون ۔۔۔ امجد رئیس

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ۔۔۔سیف خان

محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ سیف خان جے ڈی پی میں اپنی تیکھی, کرائم کہانیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے