سر ورق / سفر نامہ / سفر کاغان : اعجازالحق عثمانی

سفر کاغان : اعجازالحق عثمانی

سفرنامہ: سفر کاغان

سفرنامہ نگار: اعجازالحق عثمانی

کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی کاغان اپنے حسین ودلکش مناظر،پرلطف آب وہوا،ہرے بھرےفلک بوس پہاڑوں اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔161کلومیٹر طویل وادی کاغان کا آغاز بالاکوٹ سے ھوتا ھے۔شہداء کی سرزمین بالاکوٹ مانسہرہ سے 30کلومیٹر اور سطح سمندر سے 3250 فٹ کی بلندی پر واقع ھے۔وادی کاغان کا دروازہ کہلایا جانے والا یہ شہر تعلیمی،ثقافتی اور ایک تجارتی مرکز بھی ھے۔اس شہر کی سیاحتی اہمیت کچھ زیادہ نہیں ۔سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کا مدفن ھونے کی وجہ سے اسے تاریخی حیثیت حاصل ھے۔اور وادی کا اختتام سطح سمندر سے 13690فٹ بلند درہ بابوسر پر ھوتا ہے۔اس حسین وادی کے بارے مین کوثر نیازی لکھتے ہیں

باٹا کنڈی کی بھلدران کی، شگران کی یاد

دل شاعر میں ہے خوابوں کے پرستان کی یاد

یہ پگھلتی ہوئی چاندی سا چمکتا پانی!

دل سے جائے گی نہ اب وادی کاغان کی یاد

مصحف روئے دل آرا کی تلاوت جیسے

کتنی رنگین ودل افراز ہے ناران کی یاد

اس خواہش میں چلا آیا ھوں بابوسر پر

اس کی چوٹی سے مجھے آئے گی فاران کی یاد

کاش اس مست خنک چھاوں میں تم بھی ھوتے

دل میں ابتک ھے اک حسرت وارمان کی یاد

عشق جس رنگ میں ھو زندہ وپائندہ ھے

دل ہر سنگ میں ھے سیف کے رومان کی یاد

جبر کرکے مجھے لے آئے یہاں کوثر

دل سی جائے گی نہ احباب کے احسان کی یاد

یہ کوئی ستمبر کی آخری رات ھوگی۔جب ہم 9بجے کے قریب وادی کاغان کےلیے روانہ ھوئے۔گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلاگلا شروع ھوگیا۔کبھی نعری بازی سننے کو ملتی تو کبھی گانے۔

مانسہرہ پہنچتے ہی سرد اور خنک ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ایک ھوٹل سے چائےپی اور پھر سفر شروع۔۔۔

کاغان کا پہاڑی راستہ جتنا ہم نے خوفناک سنا تھا ۔اسسے کہیں زیادہ نکلا۔اس وقت ہمیں وہ وقت یاد آیا جب ہم ماں کے شیر ھوتے تھے مگر دن کے وقت بھی گاوں کے پہاڑوں سے بکریوں کو واپس لانے کےلیے جانے سے ڈرتے تھے۔ان پہاڑوں پر ہمیں “ماں”یاد آتی تھی۔اور ان پہاڑوں پر “خدا”یاد آیا۔

******

تقریبا صبح سات بجے کے قریب ہم وادی کاغان میں داخل ہوچکے تھے۔ایک دوست ہمیں “silent”بھائی کہتا ھے۔مگر جتنی خاموش وادی کاغان ھے اتنے ہم بھی نہیں۔

بقول مستنصر حسین تارڑ:

“وادی کاغان کے لوگ کچی کوٹھروں سے بھیٹر بکریوں کو بےدخل کر کے اور ان میں سیاحوں کو داخل کر کے ایک شب میں ہزاروں روپے کماتے ہیں۔اس کے باوجود بہت سے لوگ رہائش نہ ملنے پر بالاکوٹ میں جاکر سر چھپاتے ہیں۔”مگر اب کاغان میں ھوٹلوں اور خچروں کی تعداد مساوی ھونے والی ھے۔دو گھنٹے آرام کے بعد ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ھوئے۔”جھیل سیف الملوک “کے بارے میں ھمارا خیال تھا کہ یہ جھیل بھی “کلرکہار جھیل” کی طرح مختلف چیزوں مثلا بسکٹ، ٹافیوں اور چپس کے خالی رپیروں سے سجی ھوگی۔مگر افسوس!جھیل پر پہنچ کر ہمارا یہ خیال غلط ثابت ھوا۔ہماری پہلی نظر جن چیزوں پر پڑی وہ بدوضع کھوکھے،خیمے نما عارضی کمرےاور اپنی قمیص سے ناک صاف کرتا بچہ تھا۔اور دوسری نظر میں ہم نے ایک دل کش اور حیرت انگیز چیز سفید لباس میں دیکھی۔آپ کے خیال میں کوئی پری ھوگی مگر پری نہیں تھی۔ایک پہاڑ تھا۔جس نے برف کا سفید لباس اوڑھ رکھا تھا۔ھاں!ہمیں جھیل سیف الملوک پر “پریاں “بھی دیکھائی دی مگر وہ نورانی پریاں نہ تھیں۔

چند گھنٹوں کے آرام کے بعد ہم ناران کا بازار دیکھنے دوڑ پڑے۔رات کے دس بجے بھی سڑک کی دونوں جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم تھا۔حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں تھالوں میں سجی ھوئی تھیں۔حلوائی کی دکان کے بالکل سامنے تیکھے نقوش والا لڑکا “کافی”بیچ رہا تھا۔ رات کو بھی دن کا سماں تھا۔نوجوان جوڑے”من تو شدی ،تو من شدی” کی مجسم صورت بنے آ اور جا رہے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھےجو کبھی نوجوان جوڑوں کو دیکھتے تو کبھی ادھر ادھر کی دکانوں کو۔ہم بھی انھی میں شمار تھے۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو 12بج چکے تھے۔مگر اس ماحول سے نکلنے کو جی ہی نہیں چارہا تھا۔سوچا جاکر سونے کا کیا فائدہ ناجانے پھر کب ملے گا یہ سماں۔حالی نے بھی شاید میرے لیے کہا تھا۔

“کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ھے گنگا”

تھوڑا آگے سیخوں پر کباب بنائے جا رہے تھے۔ایک ھوٹل میں رش اتنا تھا کہ جیسا مفت کھانا مل رہا ھو۔سو ہم بھی گھس گئے۔جب بل آئے تو مفت کھانے والوں کو یوں لگا کہ پڑوسیوں کا بل بھی ہم بھر رہے ہیں۔کچھ دیر بعد اچانک بازار کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی اور ہم بھی لوٹ آئے۔

*******

اگلے روز ناشتے کے بعد ہم”بابو سر ٹاپ”کی دید کو نکل پڑے۔ شاہراہ کو چوڑا کرنے کےلیے جگہ جگہ بل ڈوزر پہاڑوں سے ماتھا لگائے دیکھائی دیے۔ میں نے بچوں کی طرح کھڑکی سے گردن باہر نکالی تو تیکھے نقوش والی لڑکی گندگی کی ٹوکری اٹھائے تیز تیز قدموں سے چلتی دیکھائی دی۔تھوڑا آگے میری ہی عمر کا ایک جوان بھیڑ بکریاں چراتے دیکھائی دیا۔راستے میں جھیل”لولوسر”کی دید بھی نصیب ھوئی۔جسے وادی کی شہہ رگ یعنی “دریائے کنہار” کا ماخذ بھی کہا جاتا ھے۔وادی کا حرف آخر کہلایا جانے والا درہ بابو سر ناران سے 81کلومیٹر اور سطح سمندر سے 13690فٹ کی بلندی پر واقع ھے۔ایک دفعہ گاوں میں ابا جان نے بتایا”بیٹا اونچی جگہ پر سگنلز اچھے آتے ہیں”مگر بابو سر کی( 13680فٹ )کی اونچائی پر ایسا نہیں تھا۔”سورج کے قریب تھے،پھر بھی سردی زیادہ”۔چائے پینے کےلیے لکڑی کے پرانے تختوں سے بنے اک اعلی ھوٹل میں گئے۔چھوٹے سے کپ میں پانچ گھونٹ چائے۔اور قیمت پچاس روپے ادا کرنا پڑی۔یعنی فی گھونٹ 10روپے۔بابوسر کی ٹاپ پر پہنچتے ہی ہمیں “اعزارائیل”کا خیال آیا اور ہم نیچے کی طرف بھاگے۔ناران واپس پہنچ کر ہم نے آرام کی خاطر اپنے کمرے میں جانے کی کوشش کی مگر ناکامی ھوئی۔دوستوں کے اصرار پر ہمیں ناران کی گلیوں کی خاک چھاننے کےلیے جانا پڑا۔سوکھے پتوں کی مانند لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ زیادہ تر گھروں کے چاردیواریاں نہ ھونے کے برابر تھیں۔چند گھروں میں تو مغرب سے پہلے بھی روٹی کھاتے افراد دیکھائی دیے۔انھیں دیکھ کر مجھے اپنا آبائی گاوں یاد آیا۔ وہاں ہم بھی کبھی مغرب سے پہلے تو کبھی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے۔وہاں کے لوگ بھی ناران کی اس گلی کے لوگوں کی طرح سادہ ہیں۔ تھکاوٹ کے احساس کو قدرے زائل کرنے کےلیے ہم نے چائے پی۔ھوٹل واپس آکر کھانا کھایا۔اور پھر بازار چل دیے۔

*******

اگلے دن “لالہ زار”کی طرف روانگی ھوئی۔لالہ زار تو واقعی لالہ زار ھے جو مزہ پیدل جانے میں ھے۔وہ بھلا چیپ میں جانے والوں کو کہاں نصیب ہوتا ھے۔(خود )گرتے اور (پتھروں کو) گراتے ھوئے بڑی مشکل سے پہنچے۔ہمارا خیال تھا کہ لالہ زار پر پھول ہمارا استقبال کریں گے۔مگر ہمارا استقبال صنوبر کے درختوں اور آلو کے کھیتوں نے کیا۔لیکن تھوڑا آگے چل کے پھولوں نے بھی مسکراتے ھوئے ہمیں استقبالیہ نظروں سے دیکھا۔لوگ گھڑ سواری یا خچر سواری بڑے شوق سے کر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔صنوبر کے درخت۔۔۔لالہ وگل۔۔۔لالہ زار کی رونق ہیں۔

کنہار کی ٹراوٹ مچھلی اپنے خوش ذائقے کی وجہ سے بہت مشہور ھے۔لیکن اب یہ خوش ذائقہ مخلوق کم ھوتی جارہی ھے۔سنا ھے کہ دریائے کنہار کا پانی انکھوں کے امراض کےلیے انتہائی مفید ھے۔کہا جاتا ھے کہ سفر کے دوران ملکہ نور جہاں کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ملکہ نے اس پانی سے آنکھیں دھوئی تو آرام مل گیا۔ ملکہ نے دریا کو “نین سکھ”کا نام دیا۔ہمیں بھی دریائے کنہار کی دید تو نصیب ھوئی مگر افسوس وقت کی کمی کی وجہ سے ہم کنہار کی الجھی موجوں سے گفتگو نہ کرسکے۔

وادی میں تین دن رات مسلسل گھوڑے دوڑانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ “آلو”یہاں کی اہم پیداوار اور “ہندکو”یہاں کی مقامی زبان ھے۔جو حضرات “حج کعبہ”کر چکے ہیں اور “فطرت یا قدرت کا حج”کرناچاہتے ہیں تو وہ وادی کاغان جا کر یہ سعادت بھی حاصل کر سکتے ہیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفرنامہ بھارت۔۔۔ حسن عباسی۔۔۔آخری قسط

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             اُس آنکھ کا نشہ کافی ہے ممتاز محل کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے