سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر
قسط نمبر 4
تحریر : اعجاز احمد نواب
بیسویں صدی کے آٹھویں عشرے میں اشتیاق احمد کا نام قارئین بچوں کے لئے کسی دیومالائی کردار سے کم نہیں تھا، بچے اشتیاق احمد کو کسی اور ہی جہان کی مخلوق سمجھتے تھے محمود فاروق فرزانہ کانام دیکھتے ہی عجب سی چمک ان کی آنکھوں میں بسیرا کر لیتی، انسپکٹر جمشید کی نئی کتاب ہاتھوں میں آتے ہی بچوں پر ہیجانی کیفیت طاری ہو جاتی، اور وہ پھر فٹا فٹ اپنی سائیکل کے پیڈل پر پاؤں رکھتے ہی ہوا ہو جاتے، یا بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے،
آج بہت سے لوگ اشتیاق احمد کی قربت دیکھنے کا دعوٰی رکھتے ہیں، اور یوں پوز کراتے ہیں جیسے انہوں نے اشتیاق احمد پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہو، حالانکہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اشتیاق احمد سے سنہ دو ہزار کے بعد سے واقف ہوئے ہیں جب اشتیاق احمد روبہ زوال ہونے کے بعد دوبارہ سے بچوں کا اسلام کے ذریعے فعال ہوئے جب کہ میں اللہ کے فضل و کرم سے اشتیاق احمد کو انتالیس سال سے بالمشافہ جانتا ہوں، اور اشتیاق صاحب میرے چہرے میرے نام اور میرے کام سے آگاہ بھی تھے اور انتہائی مطمئن بھی،
یہ 1980 کے فروری مارچ کا قصہ ہے جب ہمارے ابا جی آنہ کرایہ والی لائبریری چلاتے تھے اس وقت بھی اس لائبریری کو چلتے ہوئے پچیس تیس سال گزر چکے تھے، عمران سیریز رضیہ بٹ دیبا خانم حمیدہ جبیں اکرم الہ آبادی اور ڈائجسٹوں کا دور تھا
شکیل عادل زادہ کا سب رنگ، معراج رسول کاسسپنس جاسوسی پاکیزہ محور، علی سفیان آفاقی کا ہوشربا الطاف حسن قریشی اعجاز حسن قریشی کا اردو سیارہ عنائیت اللہ کا حکایت مجیب الرحمن شامی کا قومی زاہدہ حنا جون ایلیا کا عالمی ڈائجسٹ، ایچ اقبال کا الف لیلہ نئی نسلیں، اظہر کلیم کا اشارہ، اقبال پاریکھ کا انداز ڈائجسٹ شمیم نوید کا جرم وسزا شہزادہ عالمگیر کا جواب عرض عورت ڈائجسٹ خالد بن حامد کا آداب عرض فلمی رسالے مصور ممتاز رومان شمع کراچی شمع لاہور چترالی دھنک، پلک،
محمود ریاض صاحب کے خواتین شعاع کرن اور عمران ڈائجسٹ سہام مرزا کا دوشیزہ سچی کہانیاں غلام غوری صاحب کا ایڈونچر مسٹری میگزین، مشتاق احمد قریشی صاحب کے نیا رخ اقدام ارم آنچل نئے افق غلام محمد غوری صاحب کا ست رنگ ڈائجسٹ مشتاق احمد قریشی صاحب کا ابن صفی میگزین، محسن برنی کا سورج ڈائجسٹ، فاطمہ ثریا بجیا کی زیر نگرانی ماہ نامہ دلہن، لیل و نہار
خالد شریف کا بھی خواتین کے لئے انتہائی پہلا لمینیٹڈ ٹائٹل پر مشتمل ڈائجسٹ تھا اب نام یاد نہیں آرہا،غلام غوری صاحب کا شبستان ڈائجسٹ خواتین کا ایک اور ماہنامہ مسرت ڈائجسٹ، محمود احمد مودی کی زیر ادارت نظارہ ڈائجسٹ، خواتین کا رسالہ حور، زیب النساء، جیسے رسائل کا دور تھا،
ہم نے لائبریری کے ساتھ ساتھ بچوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں بڑے بڑے ہول سیلرز سے خرید کر گلی محلے کے بک سٹالوں پر سپلائی کا کام ڈرے سہمے انداز میں شروع کر رکھا تھا، ڈرے سہمے ہوئے، اس لئے تھے کہ والدہ کی منت ترلے کئے کہ تھوڑے سے پیسے مل جائیں تو کہانیاں خرید کر بیچی جا سکتی ھیں، اماں نے کچھ اپنی جمع پونجی اور کچھ محلے کی عورتوں سے مانگ تانگ کر چند سو روپے اکٹھے کر کے ہمیں ( میں اور مجھ سے دو سال بڑا بھائی فیاض) لا کر دئیے، ان سے ہم نے بچوں کی چار آنے والی کہانیاں جو( آجکل چھ روپے قیمت کی ہیں) شہر کے تھوک فروش تاجران کتب سے خرید کر کام شروع کیا تھا، اب یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ نقصان ہو گیا تو لٹیا ہی ڈوب جائے گی، اسی شش و پنج میں تین مہینے گزر گئے پچاس سو روپے سے زیادہ کی کتابیں نہ بکتی تھیں، کرایہ پر سائیکل لے کر کتابیں بیچنے جاتے گلی گلی قریہ قریہ کھجل خوار ہوتے، سائیکل کا کرایہ اور چائے پانی کا خرچہ بھی پورا نہ ہوتا، کیسے پورا ہوتا؟ کل سرمایہ ہی پانچ سو روپے تھا گنجی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا،
میں روزانہ تھوک فروش تاجران کتب کے پاس صبح صبح چکر لگاتا کہ شاید کوئی سستی اور اچھی کتابیں مل جائیں جو کچھ نفع پر چھوٹے بک سٹالوں کو فروخت کی جا سکیں، ایسی ہی مہم پر تھا کہ ایک دن ایک نیوز ایجنسی پر دیکھا کہ اس کا ایک ملازم ڈاک سے موصولہ کتابوں کا ایک بھاری بھرکم پیکٹ کھول رہا ہے، استفسار پر اس نے بتایا کہ اشتیاق احمد کے نئے ناول آئے ہیں
پارسل کھلا تو تین ناول برآمد ہوئے یہ بچے خطرناک ہیں جاسوس کہیں کا اور ہزار سال پہلے کی بات ہے، اشتیاق احمد کا نام اس وقت بھی میرے لیے نیا نہیں تھا کیونکہ ہم لائبریری پر ناول کرایہ پر دیتے تھے
میں نے نیوز ایجنسی والوں سے کہا کہ مجھے کچھ اضافی کمیشن دو تاکہ میں آپ سے یہ ناول لے جاکر دوکان داروں کو دوں تو مجھے بھی چند پیسے بچ

 

سکیں، نئیں نئیں وہ اپنا سر مخصوص سٹائل میں مٹکاتے ہوئے بولا ان کتابوں میں اتنا نہیں بچتا کہ ایکسٹرا کمیشن دی جا سکے، بس 33%ہی ملے گا، اچھا پھر یوں کر لیں کہ مجھے دو دن کا ادھار دے دیں تاکہ میں آگے چھوٹے بک سٹال والوں کو 30%ڈسکاؤنٹ پر اشتیاق احمد کیے ناول دے کر اور پھر ان سے پیسے اکٹھے کر کے آپ کا حساب چکتا کر سکوں، میں نے امیدوپیہم کے پینڈولم سے ہچکولے لیتے ہوئے تجویز دی…. نئیں بھئ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ کتابیں وی پی VPP (ود پیمنٹ پارسل) سے منگوائی ہیں پیسے نقد دے کر ڈاکخانے سے مال چھڑوایا ہے، تمھیں ادھار کیسے دے سکتے ہیں، اس نے روکھائی سے مجھے جھڑک دیا، تو میں مایوس ہو کر اداس قدموں چلتا اس دوکان سے اتر آیا اور پیر سائیکل کے پیڈل پر رکھ دئیے مایوسی اور کم مائیگی کے احساس نے دل پر بھاری پتھر رکھ دیا، اور اپنی دوکان پر پہنچ کر بڑے بھائی کو یہ بات افسردگی کے انداز میں سنائی اس نے تجویز دی کہ کیوں نہ لاہور خط لکھ کر مکتبہ اشتیاق سے کتابیں بھیجنے کا کہیں، مشکل ہے میں نے کہا عام طور پر ادارے والے شہر بھر میں کسی ایک کو ہی کتابیں یا رسالے بھیجتے ہیں یعنی ایجنسی دیتے ہیں میں اپنے چند ماہ کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے دور کی کوڑی لایا، لیکن اس بات کے ایک گھنٹے بعد کسی کتاب کی تلاش میں میرا ایک دوسری نیوز ایجنسی پر جانا ہوا تو یکدم چونک گیا، کیوں کہ.. وہاں بھی ڈاک کا اسی طرح کا پارسل کھولا جارہا تھا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہی کتابیں اس دوکان والے نے بھی منگوائیں تھیں، یہ دیکھتے ہی میں الٹے قدموں بھاگا اور بھائی کو آنکھوں دیکھا احوال کہہ سنایا،
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اشتیاق احمد کے ناول کوئی بھی منگوا سکتا ہے؟؟ بھائی فیاض نے فیصلہ کن انداز میں کہا، اور پھر فوراً ہی کاغذ قلم نکالا اور مکتبہ اشتیاق کو خط لکھ کر نئی کتابوں کے 25سیٹ کی فرمائش لکھ ڈالی،
خط لکھنے کے چوتھے دن ہی چٹھی رساں ایک پارسل اٹھائے ہماری دکان پر آیا اور پارسل پھٹے پر پھینکتے ہوئے دو سو چالیس روپے…. کی صدا لگائی، تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، کہ.. ہمارے پاس تو اتنی رقم ہی نہیں تھی، ہم دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے سے کھسر پھسر کی اور حساب لگایا کہ کل جمع پونجی ساٹھ روپے ہے اور پارسل وصول کرنا ہے، دو سو چالیس کا…
خیر ابا جی کی مدد حاصل کی اور پارسل وصول کیا اور کتابیں مختلف بک سٹالوں کو دکھانی شروع کیں مگر یہ بھول گئے کہ ہم سے پہلے منگوانے والے کتابیں تو ہر بک سٹال پر پہنچا چکے ہیں، نتیجۃ” کتابیں بہت کم سیل ہوئیں لیکن ایک راستہ مل گیا، اگلے ماہ پہلے سے زیادہ جوش خروش سے اشتیاق احمد کی کتابوں کا آرڈر بک کروایا والدین کے منت ترلے کر کے پھر پیسے حاصل کئے! اس زمانے میں مکتبہ اشتیاق نے ہر ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو کتابیں شائع کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور چونکہ کام انہوں نے بھی نیا نیا شروع کیا تھا لہذا وقت کی انتہائی پابندی کی جاتی تھی، اسی بنا پر ٹھیک انیس تاریخ کی صبح جب میں نے اپنے ڈاکخانے سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کے آپ کا وی پی پارسل آیا ہے، میں نے پیسے پہلے سے لے کر جیب میں رکھے ہوئے تھے، فوری طور پر پارسل وصول کیا اور سائیکل پر رکھ کر دوکان پر پہنچ گیا
پارسل کھول کر نئی کتابیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئے اور بڑا بھائی فیاض کتابیں ایک تھیلے ڈال کر تھیلا سائیکل کے کیرئیر پر باندھ صدر اور لالکڑتی کی جو دوکانیں تھیں ان کی طرف چلا گیا میں نے قاضی سائیکل سٹور سے ایک سائیکل کرایہ پر لی اور گتے کے چھوٹے سے ڈبے میں کتابیں ڈالیں اور سیٹلائٹ ٹاؤن مسلم ٹاؤن صادق آباد کی جانب سرپٹ بھاگا، شام تک ہم اشتیاق احمد کے ناولوں کے 25 سیٹ فروخت کر چکے تھے کہ ہم نے دوسروں کی نسبت بہت تیز رفتاری دکھائی تھی، یہ ہماری پہلی کام یابی تھی ہم پھولے نہیں سما رہے تھے، آج ہم نے تین سوروپے کی سیل کی تھی دوسرے دن ہم نے مزید دس سیٹ کا آرڈر ارسال کر دیا، جوکہ چند ہی دنوں میں موصول ہو گیا اس میں سے بھی ہم نے سات آٹھ سیٹ بیچ دئیے لہذا اگلے ماہ کے لیے ہم نے اپنا آرڈر 30سیٹ کردیا….. ہماری خوش قسمتی کہ ہماری سریع الحرکت پالیسی کے باعث ہم سے بہت پرانے اور سینئر نیوز ایجنٹس نے کتابیں کم فروخت ہونے کے باعث اشتیاق احمد کی کتابوں کے اگلے ماہ کے اپنے اپنے آرڈرز میں کمی کر دی، مزید ایک مہینہ گزرا تو اشتیاق احمد کی پھر تین نئی کتابیں شائع ہوئیں اب کی بار ہم نے پہلے سے بھی زیادہ جدوجہد کی اور انتہائی برق رفتاری دکھائی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے مدمقابل پھر ناکام ہوگئے اور ہم ان سے کہیں پہلے کہیں زیادہ ناول بک سٹالوں تک پہچانے میں سرخرو ٹھہرے، یوں ہمارا آرڈر بڑھ کر فی ناول پچاس اور ان کے آرڈر 15سیٹ تک محدود ہو کر رہ گئے، اور عین یہی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا وہ اس طرح کہ چند ہی دنوں میں ہمیں مکتبہ اشتیاق لاہور سے ایک خط ملا، نقش محمد اعوان صاحب کی تحریر تھی کہ آپ کی بہترین کارکردگی کے پیش نظر آپ کو مطبوعات مکتبہ اشتیاق کا راولپنڈی اسلام آباد کے لئے ڈسٹری بیوٹرز مقرر کیا جاتا ہے باقی تمام نیوز ایجنٹس کو اطلاع دے دی گئی ہے کہ آپ اشتیاق احمد کے ناول حاصل کرنے کے لیے اشرف لائبریری سے رابطہ کریں
اگلے ماہ یعنی اپریل 1980 میں اشتیاق احمد کے جو ناول بازار میں آئے تو اس میں پورے ایک صفحہ کا اشتہار لگا تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں تاجران کتب لائبریری والے اور قارئین اشتیاق احمد کے ناولوں کے حصول کے لئے اشرف لائبریری سے رجوع کریں،
قسمت کا ہما اشتیاق احمد کے سر پر بیٹھ چکا تھا، گو اشتیاق احمد کوئی نئے لکھنے والے اس وقت بھی نہیں تھے
مکتبہ عالیہ، فیروز سنز پبلشرز، شیخ غلام علی اینڈ سنز، مکتبہ باغ و بہار، کے غلام رسول صاحب نے بھی اٹھارہ بیس ناول انتہائی رف کاغذ پر شائع کئے تھے، لیکن مکتبہ اقراء سے اشتیاق احمد اور اےحمید کی عنبر ناگ ماریا سیریز ایک ساتھ انتہائی اعلی’ معیار کی شائع ہوتی تھیں، یوں اشتیاق احمد کا نام بچوں میں جانا پہچانا تو تھا اور ایک محدود سا حلقہ قارئین کا وہ رکھتے تھے، لیکن یاد رکھیں جب کسی لکھاری کی کتابیں یا ناول مختلف اداروں یا مختلف شہروں سے چھپیں گی تو پھر لکھنے والے کے قلم میں کتنی ہی طاقت کیوں نہ ہو وہ کھل کر کبھی مشہور یا مقبول نہیں ہو گا،
یہ تکنیکی بات ہے جو کئی اچھا لکھنے والوں کو ساری زندگی سمجھ نہیں آتی، اس موضوع پر پھر کبھی سیر حاصل بحث کی جائے گی، اس کی ایک اور مثال مظہر کلیم ایم اے بھی ہیں، جو شروع میں متفرق اشاعتی اداروں سے چھپتے رہے جمال پبلشرز ملتان کے بی اے جمال صاحب نے1977 1978میں مظہر کلیم کی عمران سیریز ماکا زونگا اور ٹرنٹولہ چھاپیں خان برادرز سے بھی ان کے ناول چھپے، درمیان میں یوسف برادرز سے بھی کچھ کتابیں شائع ہوئیں لاہورسے شاہجہاں صاحب نے روبی پبلی کیشنز کے تحت سابو لیٹ آگر اور شوگی پاما بھی شائع کیں، لیکن مظہر کلیم کو اصل شہرت تب ملی جب وہ صرف یوسف برادرز تک محدود ہوئے، جن دنوں مکتبہ اشتیاق نے راولپنڈی اسلام آباد کے لئے صرف اشرف لائبریری کو چنا عین اسی دورانیے میں مظہر کلیم کی عمران سیریز صرف یوسف برادرز ملتان سے شائع ہونا شروع ہوگئیں، اور اس ادارے سے بھی اتفاقی طور پر ہمارا رابطہ ہوگیا کیوں؟ کہ… قدرت کو یہی منظور تھا، ان دونوں فعال اداروں کے ناول ہر ماہ باقائدگی سے چھپنے لگے، اور دن بدن ان دونوں مصنفین کے قارئین اور شہرت میں اضافہ ہونے لگا، اور ان کے ناولوں کی اشاعت بتدریج بڑھنے لگی، یوں ہم لوگ جو غربت کی لکیر سے نیچے سفر کرتے تھے آہستگی اور خامشی سے سفید پوشوں کی بستی میں داخل ہوگئے، بس یہی وہ وقت تھا جب اشرف لائبریری کو اشرف بک ایجنسی، کا نام دے دیا گیا
اشتیاق احمد صاحب سے میری پہلی ملاقات اکتوبر 1980میں ہوئی جس مہینے ان کا پہلا خاص نمبر جیرال کا منصوبہ شائع ہوا، ہم دونوں بھائی لاہور پہنچے یہ ہمارا لاہور یا کسی بھی شہر کا پہلا کاروباری سفر تھا فیاض صاحب کی عمر 20سال اور میری سترہ برس تھی، راولپنڈی میں مری روڈ پر موتی محل سینما کے عقب میں ویگنوں کا اڈہ تھا لاہور کا کرایہ 25 روپے تھا موتی محل سینما پر کسی فلم کا آخری شو دیکھا اور رات ڈیڑھ بجے گاڑی پر سوار ہو گئے، صبح آٹھ بجے لاہور پہنچے
ڈھونڈتے ڈھانڈتے پوچھتے پچھاتے گیارہ بجے کے قریب اردو بازار راجپوت مارکیٹ پہنچے گھپ اندھیری سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر قدم دھرا تو سامنے ہی مکتبہ اشتیاق کا دفتر نظر آگیا، اندر دو میزیں لگی تھیں السلام علیکم کہا تو جواب میں.. وعلیکم السلام کی دو مختلف ترین آوازیں ابھریں
ایک بھاری بھرکم اور ایک باریک سی، بھاری آواز والے نقش محمد اعوان تھے جو اشتیاق صاحب کے ساتھ ففٹی ففٹی کے کاروباری پارٹنر تھے، سرمایہ ان کا تھا اور ناول اشتیاق صاحب کے تھے
اشتیاق صاحب کی آواز باریک تھی اور قد بھی چھوٹا تھا
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی لکھائی بھی بہت باریک تھی، لیکن بہت ہی خوبصورت لکھائی جن کی ہینڈ رائٹنگ زندگی میں مجھے بہت پسندیدہ رہی ہیں ان میں ایک اشتیاق صاحب ہیں
انتہائی گرمجوشی سے ملے ہم نے اپنا تعارف کروایا تو اشتیاق صاحب چہک کر بولے ارے تم تو منڈے کھنڈے ہو
میں تو سمجھا تھا کہ توندوں والے ہوں گے،
دراز قامت نقش محمد صاحب نے سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا اور زور سے دبا کر ہلایا، کیسے ہو جوان ان بھاری آواز ان کے فوجی ہونے کا پتہ دیتی تھی بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ ریٹائرڈ میجر تھے، ہم نے کافی وقت وہاں گزارا دوپہر کا کھانا ہم سب نے اکٹھے کھایا، اس پہلی ملاقات کا تزکرہ اشتیاق صاحب نے اپنی خود نوشت َمیری کہانی َ کے سب سے پہلے ایڈیشن کے صفحہ 51یا 53 پر یوں کیا تھا کہ.. پھر ایک دن راولپنڈی سے دو نوجوان ملنے کو آئے اعجاز اور فیاض…. تاہم بعد میں میری کہانی کا بڑے سائز کا مجلد ایڈیشن قطع وبرید کے بعد چھپا تو اس میں سے ہمارے تزکرہ والا یہ پیراگراف حزف تھا ( اگر یہ سطور پڑھنے والے کسی دوست کے پاس میری کہانی کا پہلا چھوٹے سائز والا ایڈیشن ہو تو براہ مہربانی مجھے بجھوا کر اس کے بدلے میں اشتیاق احمد کا 500 روپے قیمت والا کوئی بھی ناول لے سکتا ہے)
اس پہلی ملاقات کے بعد… اشتیاق احمد صاحب سے میری پچاس سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں، درجن سے زیادہ بار میں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا، ان کی گاڑی میں ان کے ساتھ سفر بھی کیا ان کے اعزاز میں کم سے کم دو تقریبات منعقد کرکے ان کے ساتھ شامیں منائیں، انہوں نے لگ بھگ 13 کتابوں کے حقوق اشاعت بغیر کسی معاوضے کے تحریری طور پر مجھے دئیے، انہوں نے اپنے پورے کنبہ کے ساتھ میرے گھر رات بھر قیام کیا؛ اگلے دن مری اور اسلام آباد کی سیر کی، میرے آفس میں آکر میرے ساتھ خوش گپیاں بھی لگائیں، میں نے ان کی مطلوبہ پسندیدہ کم از کم ایک سو پچیس کتابیں تلاش کر کے انہیں بھجوائیں، یہ بچے خطرناک ہیں جاسوس کہیں کا اور ہزار سال پہلے کی بات ہے، جنوری 1980 کو شائع ہوئیں تب سے لے کر تادم تحریر، نان سٹاپ، ان کے شائع ہونے والے تمام ناول چاہے وہ مکتبہ اشتیاق سے چھپے یا اشتیاق پبلی کیشنز سے اٹلانٹس پبلی کیشنز یا بچوں کا کتاب گھر سے بحرحال، میرے ہاتھوں سے گزر کر بک سٹالوں اور قارئین تک پہنچ رہے ہیں

بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر کی قسط نمبر 4… آپ نے مطالعہ فرمائی
قسط نمبر 3کا جہاں اختتام ہوا تھا وہاں جناب محترم انوار صدیقی صاحب کا تزکرہ چل رہا تھا، اس سے قبل ایم اے راحت صاحب کی باتیں ہورہی تھیں، ابھی ان کے بہت سے واقعات آئیں گے ارادہ تو تھا کہ اسی قسط میں ان کے ساتھ بیتے لمحوں کا آپ سے اشتراک کروں مگر گنجائش نہیں رہی
براہ مہربانی اپنے تاثرات سے ضرور آگاہ کر دیاکیجئے، مصنفین ناشران، مدیران،سے پیوست… باتوں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، انتظار فرمائیے اردو کہانی کا سفر پانچویں قسط کا انشاءاللہ جمعرات 15 اگست کی شب 10بجے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

  اردو کہانی کا سفر بیسویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب 

    بیسویں قسط اردو کہانی کا سفر تحریر اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️معراج رسول اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے