سر ورق / مضامین / جیسے کو تیسا یعنی پبلیشر کو پی ڈی ایف…خرم شہزاد

جیسے کو تیسا یعنی پبلیشر کو پی ڈی ایف…خرم شہزاد

جیسے کو تیسا یعنی پبلیشر کو پی ڈی ایف

خرم شہزاد

                کیا کبھی آپ نے اس خاتون کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھی ہے جس نے چاہا ہو کہ اس کی بیٹی کی شادی فلاں گھر میں ہو جائے لیکن دوسروں نے گھاس ہی نہ ڈالی اور اب اس گھر سے روز صبح شام لڑنے اور توڑ پھوڑ کی آوازیں آتی ہوں۔۔۔؟

                کیا آپ نے کبھی اس شخص کی خوشی محسوس کی ہے جس نے بھائی سے ایک مرلہ زمین زیادہ مانگی ہو لیکن بھائی نے انکار کر دیا ہو اور اب اس زمین پر کسی اور شخص نے قبضہ کر لیا ہے اور بھائی صاحب عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہوں۔۔۔؟؟

                کیا کبھی آپ کو ایسی کسی اداکارہ، جس کی عید وغیرہ پر ریلیز ہونے والی فلم فلاپ ہو گئی ہو، کا اطمینان دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جسے اس کے دوستوں نے بتایا ہو کہ مبارک ہو تمہاری مخالف ہیروئن کی فلم تو دوسرے شو کے بعد ہی اتار لی گئی تھی۔۔۔؟؟

                ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایسی ہزاروں نہیں تو سینکڑوں مثالیں ہماری روز مزہ کی زندگی کا حصہ ہیں جس میں ہم کسی کے نقصان پر نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ ہمارا یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ دوسرا ایسے ہی کسی سلوک کا مستحق تھا۔ بہت معذرت کہ ایسی کسی سوچ کے حامل شخص کو آپ ذہنی بیمار کہیں یا کچھ اور۔۔۔ اسے کتابی باتیں اور سنہرے فلسفے سنانا چاہتے ہوں کہ اقوال زریں۔۔۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایسے لوگ ہم میں نہ صرف موجود ہوتے ہیں بلکہ اپنے اندر کسی گہرائی میں ہم بھی کسی نہ کسی حد تک ایسے ہی ہوتے ہیں، بس ماننا یا نہ ماننا اپنے اختیار میں ہے۔ مجھے یہ ساری باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کیونکہ آج کل میں بھی اپنی ذات میں ایسی ہی ایک کمینی سی خوشی محسوس کرتا ہوں جب مختلف جگہوں پر مجھے کتاب کے وابسطہ لوگوں کا رونا پیٹنا سنائی دیتا ہے ، خاص کر بلند دہائیاں دینے والے پبلیشرز کو دیکھتے ہی ایک خاص خوشی ہوتی ہے جب وہ پی ڈی ایف مافیا کے خلاف بول رہا ہوتا ہے۔

                کہانی بہت پرانی نہیں ہے لیکن اپنے آغاز میں یہ بتاتی ہے کہ کبھی لکھنا لکھانا پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہوا کرتا تھا۔ اس وقت بھی بات چیت اور بحث مباحثے سے پرے جب کسی تحریر یا کتاب کی بات آتی تو بہت سے ہاتھ اٹھا دیتے کہ ہم میں اتنی اہلیت نہیں کہ کتاب لکھ سکیں۔ کتاب لکھنے والے بھی برسوں میں کوئی ایک آدھ کتاب لکھتے اور پھر اس کا برسوں ہی ذکر رہتا۔ یہاں ہم مذہبی یا تحقیقی کتب کے بجائے عمومی کتب جیسے شاعری ، افسانہ اور ناول وغیرہ کی بات کر رہے ہیں۔ شعر تو بہت لوگ موزوں کر لیتے تھے لیکن صاحب کتاب اور صاحب دیوان خال خال ہی تھے، اسی طرح کہانیاں سننا اور سنانا کسے پسند نہیں یا کسے نہیں آتا لیکن کتاب کا بھاری پتھر بہت سے لوگ چوم کر چھوڑ دیتے۔ کتاب چھاپنے اور بیچنے والے تب پیسے ہاتھ میں لیے کھڑے ہوئے اور ہاتھ کے ہاتھ مصنف معاوضہ وصولتے۔ ایسا نہیں ہے کہ کتاب چھاپنا اور بیچنا اس وقت کاروبار نہیں تھا اور اس میں کالی بھیڑیں نہیں تھیں، ہاں لیکن یوں ہر کسی کے ہاتھ میں نہ تھا۔ مخصوص لوگ تھے جو اپنے نام اور عزت کا بھی خیال رکھا کرتے تھے۔ یہ ہم اس زمانے کی بات کر رہے ہیں جب لوگوں کی واقعی عزت ہوا کرتی تھی اور ہر کسی کے بس میںنہیں ہوتا تھا کہ کسی کی عزت بھی سر بازار اتار دے۔ پھر زمانہ پلٹا اور ترقی کی تیز رفتار آندھی نے سب کی آنکھوں میں خواہشوں کی ریت بھر دی۔ سوشل میڈیا آیا تو لائکس اور کمنٹس نے ہر ایک کو مشہور ہونے کی بیماری میں مبتلا کر دیا۔ ہر کوئی شاعر بھی بن گیا اور ادیب بھی، اس کے چاہنے والے بھی پہلے درجنوں اور پھر سینکڑوں میں ہوتے چلے گئے۔ ٹیکنالوجی نے کاغذ کی جتنی مرضی بے توقیری کی ہو لیکن کاغذ پر چھپے ہوئے لفظ کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے جب بارش کے بعد کھمبیوں کی طرح لکھاری پیدا ہونے لگے تو اردو بازار میں درختوں سے زیادہ پبلیشرز نظر آنے لگے۔ ہر دوسرا تیسرا شخص کتاب چھاپنے کے لیے موجود ہے بس آپ مسودہ لائیں اور کتاب لے جائیں۔ کچھ دن یہ سب تو بہت خوبصورت لگتا رہا لیکن آخر بہت سے شوقیہ اور امیرلکھاریوں کی فینٹیسی ختم ہوئی اور وہ زندگی کے کاموں میں مصروف ہوتے چلے گئے۔ مفت کتابیں چھاپ کر کمانے والوں کو ایسی عادت پڑ گئی کہ اب ان کو معاوضہ دینا عذاب لگنے لگا۔ جب ایک امیر صرف اپنی شہرت کے لیے دوسرا اپنے تعلقات وسیع کرنے کے لیے تیسرا مشہور ہونے کے لیے چوتھا ’کچھ اور نہیں کرنے کو جب تک تو لکھنا ہی سہی ‘ سوچ کر اپنی کتاب پبلیشر کو دے گا تو پانچواں جو حقیقی مصنف ہے اسے بھلا معاوضہ کیونکر ملے گا۔ پبلیشرکے منہ کو خون لگا ہوا تھا اور اس نے حقیقی لکھاری کا بھی خون پینا شروع کر دیا۔ کاروباری ہو اور باتوں کا ماہر نہ ہوایسا کبھی ہوا ہے کیا۔ بات اور گاہک کو گھمانے کے فن سے ناآشنا ہو تا تو گھر بیٹھا ہوتا بازار میں کیوں آ بیٹھا بھلا۔۔۔ بس اسی لیے اب آپ کسی بھی پبلیشر کے پاس اپنی کتاب لے کر جائیں تو وہ ملکی حالات کے رونے سے بات شروع کرتا ہے، ڈالر کی بڑھتی قدر، کاغذ کی قیمت اور قاری کی عدم دستیابی تک پہنچتے پہنچتے وہ آپ کو قائل کر ہی لیتا ہے کہ معاوضہ تو آج کل مستنصر حسین تارڈ صاحب کو بھی وہ نہیں مل رہا جو کبھی ملا کرتا تھا، دوسرے لفظوں میں بھیاءآپ اپنی اوقات سے تو بخوبی واقف ہیں کہ مزید کچھ اور کہوں۔۔۔ لکھاری نے حوصلہ ، ہمت اور مسودہ میز پر چھوڑا اور باہر نکل گیا۔ پبلیشر نے پھر ہونٹوں پر زبان پھیری کہ بھلے تارڈ صاحب کو وہ معاوضہ نہیں مل رہا جو کبھی ملا کرتا تھا لیکن تارڈ صاحب کے پبلیشرز نے بھی کبھی اتنا نہیں کمایا جتنا اب وہ کمائے گا۔ یوں ملک کے سینکڑوں لکھاریوں کی ہزاروں کتب پبلیشرز نے بے دھڑک چھاپیں بلکہ کئی کئی ایڈیشن چھاپے لیکن رائلٹی چھوڑ معاوضے کے نام پر بھی ایک روپیہ نہ دیا، جن کو دیا بس اس قدر کے اگلی کتاب لکھنے تک زندہ رہے۔ مرنے والے مصنفین تو گویا خدا کی انمول دین ہوئے کہ اب کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ یوں کتابوں کی دکانیں کتابوں سے بھری پڑی ہیں لیکن لکھاری کسی تھڑے پر کھڑا ملک کے اچھے حالات اور قاری کی کتاب سے محبت کا منتظر ہے کہ تبھی اسے بھی معاوضہ ملے گا۔

                کہانی میںتیزی چونکہ ترقی کے بعد آئی تھی تو اب ترقی کاایک ٹوئیسٹ آتا ہے اور کوئی شخص ایک سکینر خریدکر کتاب کی پی ڈی ایف بنا لیتا ہے اور اپنی سائٹ پر فری میں پڑھنے والوں کو بانٹ دیتاہے۔ ہر کوئی کاپی کر رہا ہے اور پڑھ رہا ہے۔۔۔ اب بھلا کون بازار جائے ، پیسے خرچ کرئے اور پھر پڑھے۔ ہر کتاب ایک کلک پر اور وہ بھی مفت دستیاب ہو تو کسے بری لگتی ہے، یوں پڑھنے والوں نے ویب سایٹس پر ٹریفک بڑھائی تو ویب سائٹ والوں نے بھی کتابیں بڑھانی شروع کر دیں اور اب تو وہ وقت آ گیا ہے کہ ابھی پبلیشر نے کتاب کی دو سو کاپیاں پورے شہر میںپہنچائی نہیں ہوتی کہ اس کی پی ڈی ایف ہزاروں لوگوں کے موبائلز اور لیپ ٹاپس میں پہلے پہنچ چکی ہوتی ہے۔

                ایسے میں جب ایک پبلیشر روتا پیٹتا ہے کہ پی ڈی ایف والے اس کے کاروبار کو کھا گئے، تو یقین مانیں ایک کمینی سی خوشی رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔ لکھاریوں کی بد دعا کسی صورت تو رنگ لائی آخر۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بچوں کے چندنمائندہ غزل گو شعرا (اکیسویں صدی میں)  غلام نبی کمار

بچوں کے چندنمائندہ غزل گو شعرا (اکیسویں صدی میں)  غلام نبی کمار                 بچوں کے …

2 تبصرے

  1. Avatar

    یہ تبدیلیاں تو تاریخ کا حصّہ ہیں۔ پہلے کاتب کماتے تھے۔ جب پریس آیا تو کاتبوں نے ماتم کیا۔ پھر پریس کے کاتبوں کو ٹائپ سیٹنگ اور ان پیج نے بیروزگار کیا۔ اور اب ہر شخص ناشر ہر شخص قاری۔

    میں بنیادی طور پر مصنّف/شاعر کو معاوضہ دینے کے خلاف ہوں۔ علم کو ذاتی ملکیت نہیں عوامی ملکیت ہونا چاہیے۔
    کیا امام بخاری اپنی کتاب کے جملہ حقوق محفوظ رکھتے تو یہ علم کی خدمت ہوتی؟

    منٹو کی مثال لیجیے۔ منٹو افسانے کے نام پر جو بھی لکھ دیتے تھے کوئی نہ کوئی رسالہ اسے خرید لیتا تھا۔ اب ان کا ذریعہ معاش ہی افسانہ نویسی ہو گیا۔ اس تجارتی افسانہ نگاری نے ان سے بہت سے ایسے افسانے بھی لکھوائے جو سراسر بھرتی کے ہیں۔

  2. Avatar

    آپ اگر کہتے ہیں کہ لوگ کتابوں کی پی ڈی ایف کاپی پڑھ لیتے ہیں تو یہ بہت خوش آیند بات ہے – حال ہی میں میرے افسانوں کی ایک کتاب "کھویا ہوا جزیرہ ” بھارت میں چھپی ہے – میں نے اسکی ڈھیر ساری پی ڈی ایف کاپیاں پاکستان اور دوسرے ممالک کو ارسال کی تھیں کیونکہ وہاں تک ہارڈ کاپی کی رسائی ممکن نہ تھی – امید ہیکہ لوگوں نے ان کاپیوں کو پڑھا ہوگا – پاکستان کے احباب کی یہ بات اچھی لگی کہ وہ کتاب کی رسید دیتے ہیں اورمبارکباد بھی – بھارت والوں کا یہ حال ہیکہ کتاب کے وصول ہونے کی رسید بھی دینا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں چاہے وہ پی ڈی ایف کاپی ہو یا ہارڈ کاپی –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے