سر ورق / ناول / خانقاہ…کاوش صدیقی..قسط نمبر۱

خانقاہ…کاوش صدیقی..قسط نمبر۱

(قسط نمبر۱)
خانقاہ
کاوش صدیقی
خط اس کے ہاتھوں میں لرز رہا تھا اس کا سارا بدن ہچکیوں کے جھولے جھول رہا تھا۔ان آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ جن آنکھوں میں میرے عکس کے دیپ جلتے تھے۔ وہ پھول سے رخسار، جو میرے قرب کے احساس کے ساتھ گلِ انار ہوجاتے تھے۔ سپید پڑ گئے تھے۔ چہرے کی شگفتگی نچڑے ہوئے لٹھے کی طرح ہو گئی تھی۔ پپڑیاںجمے ہوئے ہونٹ جن کی گلابیت سیاہ ہو رہی تھی۔ وہ سرو قد سراپاجو آپ اپنی بہار پر کھڑا جھومتا تھا۔ خوف ، اندیشے ، اور رسوائی کے احساس سے خمیدہ ہوا جا رہا تھا۔
میری محبت، میرا عشق، میرا جنون، میرے حواس جب بھی کسی روپ میں مجسم ہوئے تو اس کی عبارت روحی کے وجود میں ڈھل گئی ۔
میرا ماضی ، میرا انتظار ، میری کامیابی اور میری مایوسی میرے سامنے تھی۔
”اب۔۔۔اب میں کیا کرو ں؟ “ اس نے بڑی مشکل سے جملہ ادا کیا اور میری طرف دیکھا۔
کمرے میں کوئی نہیں تھا صرف ہم تھے۔ مگر کیا ہم ہوتے ہیں ؟ ہمارا ہونا تو کسی احساس کا باعث ہوتا ہے۔ جب احساس ہی مفقود ہو جائے تو پھر اجسام کا تعارف ،حوالہ کیسے بن سکتا ہے؟ مگر اس باوجود ہم تھے گریہ ءمسلسل کی صورت!
”میں نے تو کہا تھا کہ انہیں جلا دو۔ “ میں نے خط کی طرف دیکھا۔
”کیسے جلا دوں۔؟ “ اس کے بدن میں خاکستر چنگاری بھڑک اٹھی۔ پہلی بار کی طرح بارہ برس پہلے والے دن کی مانند۔
”کہاں رکھ سکو گی؟ “ میں نے بہت آہستگی ، بہت شکستگی سے کہا۔ جیسے فلیش بیک آج کے منظر پر حاوی ہونے لگاہو۔
زعفران کی خوشبو، چڑیا کی چہک ،مردہ احساسات کی بوکبھی چھپ سکی ہے۔؟
”یہ تو میری زندگانی ہیں ۔تمہیں کیا معلوم جب عورت کے اندر کے جذبات جاگتے ہیں ۔ اس کے اندر کی کھڑکیاں کھلنے لگتی ہیں۔ جذبوں کی دھوپ اندر جگہ بنانے لگتی ہے۔ تو وہ لمحات ،وہ معاملات ، وہ واردات ہی توآئندہ زندگی کا دیباچہ بن جاتی ہے۔ جس پر ساری حیاتی کی بُنت ہوتی ہے۔
” تو پھر اب پچھتاﺅ۔!“ بارہ برس جیسے حال میں بدل گئے۔
”تم اتنے بے مروت تو نہ تھے۔“ اس نے اپنی سپید انگلیاں چٹخائیںاور بے رحمی سے انہیں ایک دوسرے میں پھنسا کر موڑنے لگی۔
یہ اس کے ڈپریشن کی انتہا تھی۔
”نا محبت ، نا پیسہ ،نا تعلق ، نا محبت کی حدت رہی پھر کاہے کی مروت؟۔“
”زندگی نے تمہیں بے رحم بنا دیا ہے۔ “وہ بولی۔ ”تمہارے متعلق سب یہی کہتے ہیں۔“
” جب کوئی تعلق کوئی واسطہ دل کو چھوتا ہی نہ ہو تو پھر راہ و رسم بڑھانے کا فائدہ۔؟ جب سارا وجود پتھر کاڈھیر بن جائے ہر کوئی اپنی غرض کی چھینی سے اپنے مطلب کے خدو خال تراشنا چاہے تو پھر کیا کرے ،بے مروتی،بے رخی، بے اعتنائی ہی سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتی ہے۔
” لیکن میں تو تمہاری ہوں۔ “ وہ سسک کر بولی۔
”جھوٹ مت بولو۔ “ میں بھڑک اٹھا۔ ”اس وقت ہماری محبت افلا طونی تھی۔ زندگی کے جمالیاتی پہلو آٹے کے کنستر سے زندگی کا جواز طلب کرتے تھے۔ زندگی کے پہئے چلانے کے لئے محبت اور جذبات نہیں۔ کرولا اور پراڈو کے ٹائر ضروری تھے۔ اور احساسات تو سورج مکھی کے پھول تھے۔ صبح ہوتی ،سورج کے عشق میں جلتے جلتے اس کو تکتے تکتے شام کو اپنی چمک روپہلی پتیوں کومایو سی کی پیلاہٹ میں چھپا کر مرجھا جاتے۔ اور پھر ان کا سارا حسن، طاقت ، تابانی ،بے رحم آئل فلٹر کشید کر لیتے ۔ یہ تھا تمہارا محبت اور تلخ حقائق کا تجزیہ ۔۔۔ اور اب۔۔۔۔!
”جو کہنا چاہو کہو۔! “وہ سر جھکا کے بولی۔
”تمہیں اختیار ہے۔ لیکن کیا یہ بھی سچ نہیں کہ تم آج بھی پہلے سے زیادہ پریشان ہو۔ !“
مجھے ہنسی آگئی۔ اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر میری طرف بڑی حیرت سے دیکھا۔
”لفظوں کو بے وجہ مروت کا زہر کیوں پلا رہی ہو۔ “میں نے کہا۔”صاف صاف کہو نا کہ تم اب بھی پھٹیچر، تباہ حال اور معاشرے کی روتی ،بلکتی ،بے بس مخلوق میں شامل ہو،جن کا مایوسی اور نامرادی کا بر زخ کبھی ختم نہیں ہوتا۔المعروف نا کام ،احمق، آدرشی لوگ۔!“
وہ چپ رہی۔
پھر بولی” لیکن اب کیا ہو گا۔؟“
”مخملیں قالین والے بڑے گھروں میں خوشحالی اور سکون کے درمیان اس کا حل ڈھونڈ لو۔“
”کاش ایسا ہو سکتا۔ “ وہ یاسیت زدہ لہجے میں بولی۔” اور تم میرے فیصلے کی توجیہات کو سمجھ سکتے۔ میں نے محبت تو تم سے کی۔ لیکن قربانی اپنی بزدلی ، کم ہمتی کی وجہ سے نہ دے پائی اور شائد اب بتانے کا فائدہ بھی نہ ہو۔“
”میں ماضی کی ڈگڈگی نہیں بجانا چاہتا۔“ میرا لہجہ بڑابے مروت تھا۔
”شائد میں غلط تھی۔ میں نے سوچاتھا کہ میں اپنی پہلی محبت سے کوئی بھیک لے سکوں گی۔!“
”ماضی کے مزارِ محبت پر چراغ جلانے سے اب کیا حاصل۔؟“ میں نے اس کو غور سے دیکھ کر پوچھا۔ ”تم تو بڑے طمطراق سے چلی گئی تھیں۔ مگر میں نے تو اس محبت کو مزار نہیں بنایا۔ مزار بناتا تو دربار سجاتا، پھر میلہ لگتا،عشق کا ڈنکا بجتا۔ پھر تو میرے پردے میں بولتا، تیرے پردے میںمیں بولتا، کیا ملتا؟ لنگر ، روٹی، میٹھے چاول ، بتاشے، بھنے ہوئے چنے، تازہ پھول جو گا ہک کے انتظار میں باسی ہوتے یا مزار کی رونق بنتے اور مرجھا کر نابود ہو جاتے ۔ ہر صورت میں عشق کا،پھریرا میری کامیابی کا سہرا تیرے ہی سر سجتا۔“
دفعتاً میں بے قابو ہو گیا۔ میں نے گلاس اٹھا کر سامنے دیوار پر دے مارا۔
”دفعان ہو جا ڈرامے باز ، سود خور ، مردار گدھ دفعان ہو جا۔۔۔ !“
گلاس بڑی زور سے دیوار پر پڑا اور کرچیوں کی صورت ہمارے درمیان پھیل گیا۔
اس نے میری طرف دیکھا۔ پھر اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے خط کو دیکھا اور اس خط کو بڑی زور سے مٹھی میں بھینچ لیا اور بھاری بھاری قدموں سے باہر نکل گئی۔ چلتے ہوئے اسے احساس بھی نہ ہوا کہ وہ ننگے پاﺅں کانچ کے ٹکڑوں سے گزرتی ہوئی گئی ہے، اور اپنے پیچھے اپنے پیروں سے رستے ہوئے ننھے ننھے لہو کے قطرے چھوڑ گئی ہے۔
باہر کسی نے پردہ اٹھایاکمرے میں روشنی داخل ہونے لگی۔ کانچ کے ٹکڑے روشنی کو منعکس کرنے لگے اور درمیان میں پھیلے ہوئے لہو کی بوندوں کو جلا بخشنے لگے۔
٭٭٭
حسب معمول عشاق کی محفل جمی تھی۔ طوطئی شکر مقال کی چہک سب سے دل آویز تھی ،اور عشاق کا ہجوم انہیں گھیرے ہوئے تھا۔میں جا کر خاموشی سے پچھلی صف میں بیٹھ گیا۔ میں یہاں عقیدتاً نہیں عادتاً آتا تھا۔ مجھے ان خرافات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ کسی کا بچہ نہیں ہو رہا ہو تو وہ دعا کے لئے بھاگاچلا آرہاہے ۔ کسی کو پولیس تنگ کر رہی ہے تو وہ تحفظ کی درخواست لئے چلا آرہا ہے۔ کسی کو کینسر ہے تو وہ شفاءکے لئے لوٹیں لگا رہا ہے۔ عجیب گورکھ دھندا بنایا ہوا تھا لوگوں نے ۔بہت ماننے والے تھے ان کے۔،کوئی کہتا تھا کہ ملک کا ہر بڑا آدمی ان کا مرید ہے ۔کوئی کہتا تھا کہ بڑے بڑے سیٹھ ان کی مرضی کے بغیر دَم نہیں مارتے۔ اسٹاک ایکسچینج کے بروکر ان کی جنبش ابرُوکے منتظر رہتے ہیں۔ گویا قادری سرکار اپنی ایک متبادل اسٹیٹ چلا رہے ہیں ۔
مجھے سوچتے ہوئے ہنسی آگئی۔
میرے برابر بیٹھے ہوئے عقیدت مند نے غصے سے مجھے دیکھا اور زیر لب مجھے بولا۔” کیا پاگل ہو؟ جو آپ ہی آپ ہنس رہے ہو؟ “
میں نے زبان نکال کر اسے چڑائی ، وہ بڑی طرح بھناگیا ۔آہستہ سے بولا۔ ” باہر نکل پھر بتاتا ہوں“
”ابے یہاں پہلوانی کرنے آیا ہے کیا۔؟ “تیسرا جو گردن گھسیڑے ہم دونوں کو چونچیں لڑاتا دیکھ رہا تھاغصے سے بولا۔
”تو دیکھ نہیں رہا یہ کیا کر رہا ہے؟ “ وہ بولا
”تو چپ کر اگلا پاگل ہے۔ تو بھی پاگل بنے گا کیا۔؟“ اس نے فیصلہ صادر کیا۔
اس کی بات سن کر بے ساختہ مجھے ہنسی آگئی۔چند لمحوں میں ۔۔صرف چند لمحوں میں ، ذرا سے روئےے کو دیکھ کر ہم کتنی جلد ی فیصلے صاور کر دیتے ہیں۔
وہ دونوں پھر اُن کی طرف متوجہ ہو گئے۔
وہ بڑے دھیمے ،دلنشیں انداز میں کہ رہے تھے۔
” جب طلب عادت بن جائے تو شوق ختم ہو جاتا ہے۔ جب شوق ختم ہو جائے تو جستجو مرجاتی ہے۔اور اگر جستجو مرجائے تو طلب بھیک کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ اور بھیک اپنے ظرف کے مطابق حاصل ہوتی ہے۔ نہ مقامات ملتے ہیں ۔نہ سفر طے ہو تا ہے ، فقط وقت کا زیاں ہوتا ہے۔“
”سبحان اللہ ۔۔۔ “مریدوں کا ایک شور اٹھا۔
”طلب کے لئے ،مقامات کے لئے اور سب سے بڑھ کر مرشد کی توجہ کے لئے مسلسل شوق ،مسلسل جستجوچاہئے۔“ایک مرید نے بے ساختہ کہا۔
” کسی طرف سے احترام آمیز لہجے میں کہا گیا۔ ” سرکار اجازت ہو تو اپنی تشنگی مٹالوں۔!“
قادری سرکار نے سر کے اشارے سے اجازت دی۔
”سرکار شوق کی انتہاکیا ہے۔؟“
”عشق۔۔۔!“
”اور سرکار عشق کی انتہا کیا ہے۔؟“
فرمایا” حیرت۔۔۔!“
پھر حیرت کی تشریح فرماتے ہوئے ارشادکیا”حیرت وہ مقام ہے۔ جہاں ایساتحیّر ہے کہ سوائے باری تعالیٰ کے وجود کے کسی اور وجود کوثبات نہیں ہے۔حیرت ہر شے کو فنا کر دیتی ہے اور فقط ذات باری کا ادراک رہ جاتا ہے، اور ذات باری تعالیٰ ہی حیرت کی انتہا ہے!“
”سبحان اللہ ۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔! “ چاروں طرف سے نعرہ ہائے تحسین بلند ہونے لگے ۔قادری سرکار اٹھے، ایک مرید نے جھٹ جوتیاں آگے کیں اور بہت سہج سہج کر انہیں پہنانے لگا۔
میں مریدوں میں بیٹھا ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
ان کی نظر مجھ پر پڑی اور وہ مسکرائے اورزیر لب بولے۔
وہ بہت دور تھے کم از کم ہمارے درمیان پچاس افراد کا فاصلہ ہو گا۔مریدوں کا شور تھا۔ مختلف آوازیں تھیں۔ مگر مجھے یوں لگا جیسے انہوں نے زیر لب میرے کان میں کہا ہو۔ ”محبت گزیدہ میرے پاس آﺅ۔۔۔!“
پتا نہیں مجھے کیا ہوا۔میں بجلی کی سی تیزی سے اٹھا۔اور دروازے سے باہر کی طرف دوڑنے لگا۔
٭٭٭
دوڑتے دوڑتے میں افسر درزی کے تھڑے پر آکر بیٹھ گیا۔ میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔میں منہ کھولے سانس لے رہا تھا۔ زبان ،حلق سب بری طرح خشک ہو رہے تھے ۔کسی نے مجھے پانی کا پیالہ پکڑایا۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر غٹا غٹ پینا شروع کر دیا۔ چند ہی لمحوں میں پیالہ خالی ہو گیا۔ پانی پی کر ذرا سانس ٹھکانے آئی تو میں نے ارد گرد دیکھا اور پھر بری طرح چونک گیا۔
یہ افسر درزی کا تھڑا نہیں تھا۔کسی جگہ کی اوپر جاتی ہوئی سیڑھیاں تھیں۔ میں نے ارد گرد کا جائزہ لیا، میں کسی پہاڑی کے دامن میں اوپر جاتی ہوئی سیڑھیوں کے نچلے حصے پہ بیٹھا تھا۔ میرے سامنے ایک ملنگ تھا جو مجھے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
”کیا ہو رہا ہے ۔؟“میں نے اپنے سر کو زور سے جھٹکادیا۔
”کیا بات ہے۔؟ “اس ملنگ نے ،جو مجھے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔بڑی نرمی سے پوچھا۔
”پتا نہیں۔ ! “دفعتاً بے بسی نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔کم مائیگی،بے چارگی، نامرادی جیسے بے شمار سیاہی مائل کالے، بھورے رنگ میرے اوپرچھا گئے اور میں بلک بلک کر رونے لگا۔
(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 4 آخری قسط شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے