سر ورق / ثقافت /  بلوچی لوک داستان ۔۔ حانی شہ مرید ۔۔۔ ببرک کارمل جمالی 

 بلوچی لوک داستان ۔۔ حانی شہ مرید ۔۔۔ ببرک کارمل جمالی 

          بلوچی لوک داستان  حانی شہ مرید

تحریر ببرک کارمل جمالی

بلوچی لوک داستان
ﺑﻠﻮﭺ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﺭﯼ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
:

ﻧﺎﺯﯾﻨﺎﮞ ﺳﮧ ﺭﻧﺪﺍ ﺗﺮﺍ
ﺍﻭﻟﯽ ﻣﺎﮞ ﺷﺎﮔﯿﮟ ﮔﻮﺍﻧﺰﮔﺎ
ﺩﻭﻣﯽ ﺗﺌﯽ ﺳﯿﺮ ﺀ ﮐﻠﮧ ﺀ
ﺳﯿﻤﯽ ﺷﮩﯿﺪﯼ ﮐُﺸﺘﻦ ﺀ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﻮﺭﯼ
ﺩﻭﻧﮕﯽ ﺍﻭﻝ ﮔﮩﻮﺍﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺋﻢ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺳﻮﺋﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ

اے شہہ مرید اے مالک مرے خبر ہے تمھیں گداگروں کے وہ کشکول اب بھی خالی ہیں مرے وجود کے سکے نے جن کو بھرنا تھا تجھے ملال ہے بخشش میں دی گئ شے پر یہ میرا عشق بھی کیا تیری ملکیت ہے مرید؟الگ ہے میری اذیت تری اذیت سے تمھارے گیت مداوا نہ کر سکیں گے کبھی گداگروں کے نہ کشکول بھر سکیں گے کبھی روایت ہے کہ ایک قول کی پاسداری میں شہ مرید نے اپنی منگیتر اور محبوبہ حانی کو گداگروں کو سردار چاکر کے لیے بخش دیا تھا شہ مرید کی شاعری بلوچی ادب کا اثاثہ ہے

انسانی سماج کی بنیادی صفات میں سے ایک ہے۔ ممکن ہے کہ دنیا کی ہر چیز محبت کرتی ہو لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ محبت آخر کیوں اور کیسے ہوتی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کبھی بھی بغیر محبت نہیں رہ سکتا اور ہر شخص کے پاس اُس کی اندرونی سوچوں کی گہرائی میں چھپی ہوئی ایک محبت ضرور ہوتی ہے انسان اگر محبت کے بغیر ہوتو وہ انسان نہیں بلکہ ایک کھردرا پتھر ہے۔

پندرہویں صدی کے آخر اور سولھویں صدی کے آغاز میں بلوچ قبائل کے جنگجو جوان میرچاکر خان رند کی راہنمائی میںسیستان اور مکران سے ہوتے ہوئے سارا وان اور پھر کچھی میں آپہنچے۔ یہاں سے بڑھ کر چاکر خان رند اور جنگجو شہسواروں نے سہوی(سبی) اور ڈھاڈر میں پڑائو ڈالا۔

بلوچ قبائل کے سردار چاکر بلوچ کے دور میں حانی اور مرید کا پیار محبت کی داستان میں تبدیل ہوگیا۔ اُس وقت مبارک نامی ایک سردار اپنے پاکیزہ اخلاق اور صوفیانہ خیالات کی وجہ سے بلوچوں کے رند قبیلے میں ہر دلعزیز تھا۔

بچے بڑے سب اُسے شیخ کہہ کر پکارتے تھے۔ مبارک کا ایک لڑکا تھا جس کا نام مرید تھا۔ مرید بہت نڈر اور ہر دل عزیز تھا۔ وہ ایک شاعر تھا۔ دن بھر تیر اندازی اور شکار کھیلنے میں مصروف رہتا۔ مرید بہت خوبصورت جوان تھا۔

اُس کی طاقت کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ وہ جس تیر کو ٹیڑھا کرتا اُس کو کوئی سیدھا نہیں کرسکتا تھا۔ بچپن میں مرید کے چچا میرمندو کی حسین و جمیل لڑکی حانی کو اُس سے منسوب کیا گیا۔ حانی مرید کی زندگی تھی۔

اُس وقت رندوں کے عظیم سردار میر چاکر کو دونوں کی محبت کا علم ہوا ،تو وہ بھی حانی کا دیوانہ ہوگیا۔ ایک دن میر چاکر نے قبیلہ کے تمام معزز لوگوں کو دعوت دی۔ رقص و سرود کی محفل کے بعد یکایک میر چاکر خان کو ایک بات سوجھی اس نے تمام حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس دعوت کی خوشی میں آج ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی قول (وعدہ) دینا پڑے گا اور اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہ کرنا ہو گا۔

سب نے مل کر چاکر کے وعدے سے وعدہ ملایا۔ ایک شخص جاڑو نامی شخص نے وعدہ کیا کہ جو میری ڈاڑھی کو ہاتھ لگائے گا میں اُس کو موت کے گھاٹ اُتاروں گا، جو بعد میں حقیقت بن گیا۔ اُس نے اپنے ہی بیٹے کو مار دیا۔

ایک شخص شہیک نے وعدہ کیا کہ میں زندگی بھر جھوٹ نہیں بولوں گا اگر بولا تو خود کو آگ لگا کر جلا دوں گا۔ اسی طرح ایک روز اُس نے جھوٹی جنگ کی خبر پھیلائی کسی اور کے کہنے پر۔ جب جنگ نہ ہوئی تو اُس نے خود کو آگ لگا کر جلا دیا۔

مہیبت خان نے محفل میں سات بار اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کے اونٹ میرے گلے میں گئے ہیں۔ انھیں درہ مولہ کے اس پار کروا دوں گا۔ اِسی طرح دیگر معززین نے بھی کچھ قول دیے اور مرتے دم تک انھیں نبھانے کی قسم کھائی۔

آخر میں مرید کی باری آئی اُس نے قول دیا کہ دست سوال دراز کرنے والے کو کبھی مایوس نہ لوٹنے دوں گا۔ چند روز گزرنے کے بعد میر چاکر نے مرید کو بتایا کہ وہ حانی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں مرید اس کی مدد کرے۔یہ سنتے ہی مرید سخت پریشان ہوا۔

اس نے خود پر قابو پا کر میر چاکر سے کہا کہ ایک بلوچ کے لیے اُس کا وعدہ ہی سب کچھ ہے۔ حانی اگرچہ اس کی منگیتر ہے لیکن ابھی اپنے والدین کے گھر ہے۔اس لیے وہی اپنی بیٹی کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

چناں چہ چاکراُسی وقت حانی کے والد کے پاس گئے اور سارا ماجرا سنا دیا۔ حانی کے والد نے کہا: سخی شیر دل مرید نے حانی تمھیںبخش دی ہے ہم اُس کی سر خروئی کے لیے تمھیںبخش دیتے ہیں۔

وہ خاموش کمرے میں چلے گئے اور حانی کو سارا ماجرا سنادیا۔ حانی بہت مایوس ہوئی اور کہنے لگی میری جان مرید کے پاس ہوگی۔ باقی میں خالی پُتلاہوں جہاں بھی جائوں گی مردہ جسم ہی ساتھ ہو گا۔ پھر میر چاکر نے حانی سے شادی کرلی مگر اُس کی محبت حاصل نہ کر سکا۔

دوسری جانب حانی کے عشق میں مرید بھی نیم پاگل ہوچکا تھا۔ وہ آدھی رات کو اٹھتا اور حانی کے گھر کی طرف دیکھتا اور کہتا کاش اِس دنیا میں محبت کرنے والے نہ ہوتے۔

وہ حانی کو یاد کرکے خوب آنسو بہاتا اُس کی خواہش تھی کہ اگرحانی آخری بار چہرہ دکھلادے تو وہ بیس سال تک اس گوٹھ میں واپس نہیں آئے گا۔ مرید ہمیشہ حانی کے عشق میں تیر کو ٹیڑھا کرتا رہتا تھا۔

پھر مرید نے ایک روز اپنے محبوب کے قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو میر چاکر نے اُسے مارنے کی دھمکی دی اور کہا حانی کو بھول جا…

مگر پھر بھی وہ قلعے کے گرد گھومتا اور چکر لگاتا رہا۔ اس کی یہ حرکت دیکھ کر میر چاکر نے مرید کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔ جب حانی کو علم ہوا تو اُس نے مرید کو پیغام بھجوایا کہ چاکر تمھیں جان سے مارنے کا منصوبہ بنا چکا ہے وہ تمھارا سر قلم کر کے دیوار پہ لگانا چاہتا ہے۔

مرید نے جواب دیا مجھے میری بہادر ماں نے دودھ پلایا ہے اور مجھے بہادر دایہ نے لوریاں دے کر سلایا ہے۔ میری ماں کا دودھ اور دایہ کی لوریاں ایسی نہیں کہ چاکر کے لوگ مجھے مار سکیں۔ مرید کی دیوانگی روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔

مبارک نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور کہا کہ پاگل نہ بنو…! تم کسی صورت میں بھی چاکر کے مدِمقابل نہیں بن سکتے ہو۔ ذرا سوچو اُس کی ایک آواز پر ہزاروں شہسوار اور پیادے سپاہی لبیک کہتے ہوئے آتے ہیں۔ مگر مرید پر باپ کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔

اس نے باپ سے کہا ’’ حانی حسین و جمیل دو شیزائوں کی ملکہ ہے۔ وہ اندھیری رات میں بجلی کی مانند چمکتی ہے، وہ خوابیدہ دلوں کو بیدار کرتی ہے، میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘

مبارک نے بیٹے کو چاکر کی عظمت اور رُعب و دبدبہ سے مرعوب کرنے کی بہت کوشش کی مگر مرید کے ہونٹوں پر ایک ہلکی طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور کہا چاکر مجھ جیساانسان ہے۔

اس میں اور مجھ میں فرق صرف اتنا ہے کہ بلوچوں نے اُسے اپنا سردار بنایا ہے لیکن بہادری دلیری اور جواں مردی میں…میں اُس سے زیادہ ہوں۔ مجھے بھی لوگ خونخوار اور عاشق مرید کہتے ہیں۔

یہ پہاڑ اور میر چاکر کے سنگین قلعے میرے عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ باپ بیٹے کی زبان سے یہ جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ طیش میں آکر اُس نے مرید سے کہا کہ بلوچوں کے عظیم سردار چاکر اور اُس کی بیوی حانی کے متعلق تمھیں ایسی باتیں کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

مرید سے اب پھر خاموش نہ رہا گیا اُس نے فوراً جواب دیا۔ والد محترم جانی!…حانی کا حسن آگ کی مانند ہے اور تم کبھی حسن کی آگ میں نہیں جلے، حانی دنیا کی حسین ترین عورت ہے، اگر تم میری محبوبہ حانی کے عشق میں مبتلا ہوجائو،تو تم خوشی سے پاگل ہوجائو گے…

مبارک یہ گستاخانہ باتیں سن کر آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے مرید کو خوب مارا یہاں تک کہ مرید کی ناک اور منہ سے خون نکلنے لگا۔ لیکن مرید اپنے فیصلے پر اڑا رہا۔ مرید نے دل میں فیصلہ کرلیاکہ اب اِس گھر اور گائوں میں رہنا مناسب نہیں۔

چناں چہ مرید نے سفید کپڑے اتارے اور فقیرانہ لباس پہن کر چند درویشوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ چلا گیا۔ کئی سال تک وہ مکہ میں مقیم رہا۔ ادھر مبارک بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہتا۔ وہ بہت پشیمان تھا لیکن بے سود۔ مرید کے اس طرح چلے جانے کے بعد حانی بھی ایک پتھر کی طرح بن گئی۔

اسے کھانے پینے تک کا ہوش نہ رہا۔ اُس کی سہیلیاں اُس کا دل بہلانے کی خاطر اُسے سیرو تفریح کے لیے لے جاتیں مگر اُس کے دل کی کلی نہ کھل سکی۔ ایک طویل عرصے کے بعد چند درویشوں کے ساتھ مرید سہوی لوٹا۔

جب چاکر کے قلعے کے قریب پہنچا،تو وہاں نوجوان تیر انداز مشق کر رہے تھے۔ اُس کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ وہ بھی اپنی طاقت آزمائے۔ چنانچہ ایک نوجوان نے اپنی کمان اُسے دے دی۔ مرید نے اُسے کھینچا تو کمان دو ٹکڑے ہوگئی۔

پے در پے اُس نے تیس کمانیں توڑ دیں۔ تماشائیوں کو اُس اجنبی درویش کی قوت پر بڑی حیرت ہوئی۔ کسی نے تجویز پیش کی کہ مرید کی کمان اِس کو دی جائے۔ وہ کمان اِس قدر بھاری ہے کہ سوائے مرید کے کوئی نہیں اُٹھا سکتا۔

چنانچہ مرید کی کمان منگوائی گئی…مرید اپنی کمان دیکھ کر خوشی سے رو پڑا۔ اُس نے کمان کو بوسا دے کر تیر چلایا کسی نے اُسے سر سے پائوں تک بغور دیکھتے ہوئے کہا۔ اِس سنگین کمان کو کھینچنے والا مرید کے سوا کون ہوسکتا ہے؟

لوگوں نے اسے پہچان لیا۔ چاروں طرف مرید کے آنے کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ مرید کی آمد سے حانی کی زندگی میں ایک بار پھر بہار آگئی ۔ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی دیوی دوبارہ ناچنے لگی اور اُس کے زرد رخساروں پر شفق کی سرخی ہویدا ہوگئی۔

تمام بلوچ سرداروں نے میر چاکر سے درخواست کی عشق اور محبت کے ان متوالوں کو اب ایک ساتھ زندگی کے آخری دن گزارنے کی اجازت دی جائے۔میر چاکر کا دل پسیج گیا۔

چناں چہ اُس نے حانی کو طلاق دے دی۔پھر مرید اور حانی کو ایک ایک برق رفتار اونٹ پر بٹھادیا گیا ۔ آج تک کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عشق و محبت کے متوالوں کی باقی ماندہ زندگی کہاں اور کیسے گزری ؟

ہاں البتہ یہ ضرور روایات میں آتا ہے کہ حانی اور مرید نے اسی وقت روتے ہوئے شہر کو خیرباد کہہ دیا۔ شاہ بھٹائی کہتے ہیں۔ ’’محبت کا اکھاڑہ کوئی آسان کھیل نہیں جسے بچے کھیل سکیں۔

اس کی ہر ادا پہ جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے اور جان جاتی ہے، مہلک نیزہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جب پکارے اپنے یار کو پھینک دے اپنی گردن، یہاں اور گردن دونیم ہو کر دھڑام سے گر جاتی ہے۔‘‘

بلوچوں کی مہرو محبت یکتا و ممتاز ہے کہ اِس میں شدت بہت زیادہ ہے ۔ سخت و کرخت چٹانوں میں درندوں سانپوں، سرداروں ، نوابوں زلزلوں اور سیلابوں جیسے سنگدل ساتھیوں کی رفاقت میں محبت ایک نایاب نعمت ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ینگ ویمن رائٹرز فوراسلام آباد ، اولین ادبی بزمِ نسواں ابصار فاطمہ, عروج احمد

ینگ ویمن رائٹرز فوراسلام آباد کے زیرِ اہتمام اولین ادبی بزمِ نسواں ابصار فاطمہ, عروج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے