سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر ۔۔۔ اعجاز احمد نواب ۔۔۔ 5ویں قسط

اردو کہانی کا سفر ۔۔۔ اعجاز احمد نواب ۔۔۔ 5ویں قسط

اردو کہانی کا سفر تحریر اعجاز احمد نواب
5ویں قسط
🖋️کچھ مہینے گزرے ایک روز رات کے وقت ہم اپنے گھر کے اکلوتے کمرے میں سلور کی بڑی سی پرات کے گرد دائرے میں بیٹھے ابلے ہوئےچاولوں کے اوپر پتلی پیلی مسور کی دال ڈال کر عشائیہ میں مصروف تھے کہ باتوں ہی باتوں میں لاہور جانے کا پروگرام بنا اب کے یہ ذمہ داری صرف میرے ناتواں کاندھے پر ڈالی گئی تھی، بڑے بھائی اشرف صاحب نے آرڈر لگایا کہ بجٹ کم ہے دو بندوں کا خرچہ زیادہ ہو جاتا ہے، تم اکیلے ہی لاہور جاؤ گے، میں خوش ہوگیا ، لیکن اماں کی ممتا تڑپ اٹھی، بولیں…… اے معصوم کلہا کینج جاسی، ابا جی بھی پاس ہی بیٹھے K2 سادہ کے مرغولے بنا رہے تھے، فرمانے لگے، او بھلیے لوکے.. تینوں پتا اے جدوں.. عالم آرا.. بمبئی چہ لگی سی، میری کتنی عمر سی تے میں کتھے ساں… ابا جی کے اس دخل در معقولات پر اماں بنھا اٹھی ، میری جانیں جتی.. عالم آرا کونڑ سی …….
لیکن اباجی ٹھہرے اپنی دھن کے پکے، وہ اپنی بات مکمل کر کے ہی چھوڑتے تھے، کہنے لگے عالم آرا پہلی بولدی فلم سی تے 1931 چہ بمبئی میجسٹک سینمے چہ لگی سی ادوں میری عمر ستاراں سال تے میں پنڈی وچہ ساں
فیر ابا جی ؟ کسی نے سوال کیا، بس فیر پہنچے بمبئی تے ویکھی فلم… (یعنی جب میں عالم آرا فلم دیکھنے راولپنڈی سے ممبئی گیا تھا تو میری عمر بھی اس وقت سترہ برس تھی یہ تو صرف لاہور جا رہا ہے)
توانو سُجھ دے نیں مخول پر میں پتر نوں کلیاں نئیں جانڑ دیڑاں،
او کج نئیں ہوندا… اینہاں نوں مشینی چوچے نا بنڑا، ٹرن پھرن دے، کج مغز کھلے اینہاں دا، ابا جی نے فیصلہ کن سٹیٹ منٹ جاری کی، اور پھر سگریٹ کی باقیات منجی کے پاوے پر مسل کر سگریٹ گل کیا اور چارپائی پر لیٹ کر سرہانے پڑی نسیم حجازی کی آخری چٹان اٹھا کر نشان زدہ ورقہ تلاش کرنے لگے،
🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️

🖋️ اشتیاق احمد صاحب کی رہائش بازار لوہاراں جھنگ میں تھی وہیں وہ ناول لکھتے تھے تاہم ہر پیر کو لاہور آتے اور منگل کو واپس چلے جاتے تھے اب کی بار میں مکتبہ اشتیاق پہنچا تو جھجک قدرے کم تھی اس بار وہاں تین شخصیات بیٹھی تھیں، تیسری شخصیت حاتم بھٹی صاحب تھے، رسمی علیک سلیک کے بعد عقدہ کھلا کے بھٹی صاحب فیصل آباد کے ڈیلر ہیں شمع بک سٹال کے نام سے کام کرتے ہیں، بھوانہ بازار کے کارنر پر ان کا بہت بڑا کتب رسائل اور اخبارات کا سٹال تھا، انتہائی ہنس مکھ لیکن زمانہ شناسی ان کے چہرے پہ سایہ فگن تھی، پنجابی کے شاعر بھی تھے ، حاتم بھٹی صاحب نے بھی کسی زمانے میں ایک رسالہ، چناب رنگ کے نام سے جاری کیا تھا، جو کہ چند ہی شماروں کے بعد عدم اشتہارات کی بناء پر ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا
محترم حاتم بھٹی دھیمے لہجے کی باغ و بہار شخصیت ہیں اس پہلی ملاقات کے بعد ان سے بہترین مراسم رہے ان کے بڑے صاحبزادے افضل کی جب شادی ہوئی تھی تو وہ ہنی مون کے سلسلے میں مری آئے تھے تو واپسی پر دودن تک ہمارے گھر قیام کیا، میں نے ان کی میزبانی کی اور راولپنڈی ایوب نیشنل پارک ، فیصل مسجد وغیرہ کی سیر کروائی تھی، کی اب تو کافی عرصہ ہو گیا ہے بھٹی صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی، سنا ہے کچھ عرصہ پہلے بیٹی سے ملنے کینیڈا گئے ہوئے تھے
🖋️🖋️🖋️
2011 یا 2012 کا ذکر ہے 12 اگست کو راحت صاحب نے فون پر بتایا کہ ہم لوگ کل پنڈی آرہے ہیں، اور رات بھر قیام کرنے کے بعد صبح مری جائیں گے، میں نے گھر آ کر بتایا بچے اور اہلیہ خوش ہو گئے ہماری گھریلو سطح پر ان سے بے شمار ملاقاتیں تھیں اور یہ کوئی نئی بات نہ تھی، اکثر میں معہ اہل وعیال لاہور جاتا تو میرا قیام راحت صاحب کے گھر ہی ہوتا لیکن اس ملاقات کاتزکرہ آج ضروری اس لئے سمجھتا ہوں کہ آج (جس وقت یہ تحریر لکھی جارہی ہے) 14 اگست ہے اور اس وقت بھی جب راحت صاحب اپنے کنبے کے ساتھ تشریف لائے تو اس دن تیرہ اگست تھی اور 14والے دن ان کا مری جانے کا پروگرام تھا

🖋️تقریباً بارہ بجے دوپہر راشد( ان کے سب سے بڑے بیٹے) کا فون آیا کہ وہ لوگ پنڈی پہنچ گئے ہیں اور کچہری کے پاس ہیں، اب آگے ان کو راستہ سمجھایا جائے، لگ بھگ تیس منٹ، بعد وہ لوگ پہنچ گئے سفید سوزوکی ڈبہ تھا، راحت صاحب فرنٹ سیٹ پر اور راشد گاڑی چلا رہے تھے، راشد صاحب کے ساتھ اہلیہ اور بچے بھی تھے، راحت صاحب کی اکلوتی بیٹی… اور ایک لے پالک بیٹی… اب تو عرصہ ہوا ان دونوں کی شادی ہو گئی ہے، راحت صاحب کی بیٹی کی شادی پر میں لاہور گیا تھا لیکن مہندی والے دن ہی کسی ناگزیر وجوہ کی بنا پر مجھے واپس پنڈی آنا پڑ گیا تاہم میں فوری طور پر سہ پہر میں ہی ایم اے راحت صاحب کی رہائش گاہ چلا گیا تھا، انہیں اپنی مجبوری بتائی کہ میں شرکت نہ کر پاؤں گا، بچی کو بلا کر سرخ نوٹ کی سلامی پیش کی اور کیک پیسٹری کے ساتھ لب دوز، لب ریز اور لب سوز چائے پی کر صرف تیس منٹ کے رکنے کے بعد رخصت لی اور واپس شہر اقتدار میں لوٹ آیا..
🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️
بات ہو رہی تھی راحت صاحب کی فیملی کے پنڈی یاترا کی، اس وقت میری رہائش پہلی منزل پر تھی راحت صاحب ٹھہرے بھاری وجود کے، اوپر سے مہینہ اگست کا شدید ترین حبس( جیساکہ آج کل ہے ) اور پھر عارضہ قلب بھی انہیں تھا، جب وہ اوپر پہنچے، تو گرمی اور حبس سے پریشان دکھائی دے رہے تھے، کمرے میں داخل ہوتے ہی پہلا سوال کیا اعجاز بھائی لائٹ کس وقت جائے گی ان دنوں بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ چل رہی تھی اور برقی رو ہر ایک گھنٹے بعد منقطع ہوتی تھی، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی شاید انہوں نے سوال کیا تھا، کیونکہ وہ اس وقت پسینہ سے اس حد تک شرابور تھے کہ سفید کارٹن کے نیچے سے بنیان تک نظر آرہی تھی، میں نے دست بستہ عرض کی سر آپ اطمینان سے تشریف رکھیں انشاءاللہ بجلی نہیں جائے گی،( میں نے انہی خدشات کے پیش نظر اسی صبح یو پی ایس کے لئے بیٹری نئی منگوائی تھی) تاہم چند لمحوں بعد اے سی کی موجودگی سے وہ بتدریج پرسکون ہوتے چلے گئے،
خواتین اور بچوں کو محکمہ مستورات کے ہینڈ اوور کر دیا گیا ، چائے پانی اور دعوت شیراز کے بعد میرے بھائیوں بھتیجوں بھانجوں کا راحت صاحب سے رسمی گفتگو کا سلسلہ گھنٹہ بھر جاری رہا،
یہ بات اشاعت مقرر کے طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ ایم اے راحت اپنے قلم سے کاغذ پر لکھتے نہیں تھے بلکہ بولتے تھے داستان گو طرح کہانی سناتے تھے، اور ان کی یہ عادت عام زندگی میں بھی تھی ، ادھر آپ نے سوال کیا ادھر راحت صاحب کے کمپیوٹر کی ونڈو کھل گئی اور الفاظ یوں ان کے دھانے سے امڈنے لگے جیسے شہد اور دودھ کی آبشار پر گلاب کے پھول بہہ رہے ہوں!
ایم اے راحت معلومات کے قارون تھے موضوع کوئی بھی ہو ہندوستان کی تاریخ یا کولمبس کاسفر ہلاکو خان اور بغداد کی بات ہو یا ماؤزے تنگ سے پہلے کا چین سمندر کی عمیق گہرائیوں کا علم ہو یا ناسا کے اپالو کے چاند پر پہنچنے کا قصہ، عثمانیہ ہسپانیہ اور مغلیہ سلطنتوں کے عروج زوال کی کہانیاں ہوں یا رومیو جیولٹ کا فسانہء عشق…. وہ گھنٹوں بے تکان بولتے تھے
یہ رات ہمارے گھر میں چاند رات کی طرح گزاری گئی 13اگست ہونے کی وجہ رات بارہ بجے شیخ رشید کی لال حویلی میں آتشبازی کا مظاہرہ تھا اس وقت لال حویلی ہمارے گھر سے زیادہ سے زیادہ ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھی جبکہ کرو فلائی(Crow FLY) پانچ سو میٹر بھی نہ تھی لہذا لال حویلی کی آتشبازی کا نظارہ تھرڈ فلور کے چھت سے کیا گیا، آسمان بقہ نور بن گیا تھا، شدید روشنیاں تڑتڑاھٹ دھویں باجوں کے پاں پاں اور ، بن سائلنسر بائیکس، نے عجب طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا تھا
🖋️اگلی صبح گیارہ بجے ہم مری کے لئے نکلے، لیکن ہم بھول چکے تھے کہ آج یوم آزادی ہے 14 اگست ہے، مری روڈ پر ٹریفک معمول سے زیادہ تھی راحت صاحب، میری گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر تھے میری اہلیہ راحت صاحب کی بڑی بہو اور بیٹی پچھلی نشست پر اور بچہ پارٹی راشد صاحب کے کیری ڈبہ میں سوار تھے فیض آباد پار کر کے جب ہم اسلام آباد میں داخل ہوئے تو محسوس کیا کہ رش بڑھ رہا ہے
راول ڈیم چوک سے آگے جوں جوں بڑھتے گئے رش میں تیزی آتی گئی، اسلام آباد کلب سے تھوڑا آگے جاکر کشمیر چوک سے دائیں ہاتھ مڑے تو بائیں ہاتھ پر خوبصورت عمارت کنونشن سینٹر نظر آئی، جہاں سارک ممالک اور او آئی سی جیسے اجلاس منعقد ہوتے ہیں اسی کنونشن سینٹر کی چھت پر مشہور فلم وار کے آخری فائٹ کے مناظر بھی شوٹ کئے گئے تھے، بھارہ کہو سے آگے نکلیں تو دو راستے مری کو جاتے ہیں ایک مری ایکسپریس وے( نیم موٹر وے) اور دوسرا پرانا اور مشکل چڑھائیوں اور خطرناک موڑوں والا مری روڈ، میں نے یہ سوچ کر کہ دوسرا راستہ چونکہ تنگ اور مشکل ہے لہذا اس طرف سے مری پہنچا جائے کہ ادھر ٹریفک کم ہو گی، لیکن ٹول پلازہ سے آگے بڑھتے ہی اندازہ ہوا کہ ڈھاک کے وہی تین پات.. خطروں کے کھلاڑی، شیطانی سواری… روڈ کے بیچوں بیچ کرتب دکھائے جارہے تھے بڑی مشکل سے ملکہ کوہسار مری کے پہلے پڑاؤ چھتر (سترہ میل) سے ذرا آگے نکلے تو مری تک جانے کا عزم مصمم ڈانواں ڈول ہونے لگا، کیونکہ رش شدید ہو چکا تھا درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، جڑواں شہروں کے مکیں جانتے ہیں کہ اگر ایک بار آپ مری جانے کی ٹریفک کے اژدہام میں پھنس گئے تو ممکن ہے آٹھ گھنٹے گزر جائیں، بہرکیف فوری طور پر فیصلہ تبدیل کر کے سالگراں ویلی ہی رکنے کا فیصلہ کیا گیا،
سالگراں ایک خوبصورت وادی میں بنی سیر افزا جگہ ہے صاف پانی کے نالہ کورنگ کے کنارے پارک ریسٹورنٹ اور نہانے کا مقام ہے
بچوں اور خواتین نے جھولے لئے تصاویر بنائیں، میں راشد اور راحت صاحب ریسٹورنٹ کے ایک ایسی میز پر جا کر بیٹھ گئے جہاں پانی میں نہاتے بچے اور چھینٹوں سے لطف اندوز ہوتی عوام کا جم غفیر نظروں کے سامنے تھا اتنے میں بادل چھاگئے اور رم جھم پھوار برسنے لگی کھانا چائے گپیں قہقہے تصاویر، کولڈ ڈرنکس..
پانچ بجے کے قریب، محفل برخواست ہوئی تو راحت صاحب نے روانگی کا بگل بجایا وہ لوگ اپنی اور ہم اپنی گاڑی میں سوار ہو گئے، اور گاڑیاں مری روڈ کے سیل رواں کے دھارے میں شامل کردیں ابھی تھوڑا ہی چلے تھے کہ ہماری گاڑیاں سائلینسرز سے پاک دس بارہ موٹر سائیکلوں کے پچیس تیس باجہ بردار سواروں کے بھنور میں گھر گئیں، انہوں نے وہ ہڑبونگ مچائی، کہ الاماں بڑی مشکل سے چھٹکارا حاصل کیا، تھوڑا آگے آئے تو سڑک کنارے ہینڈ میڈ شاپ کے کنارے راحت صاحب کی گاڑی رک گئی میں نے بھی پیروی کی اور گاڑی مناسب جگہ پارک کر دی، بچیاں اپنے لئے چیزیں پسند کرنے لگیں، ساتھ ہی کولڈ ڈرنک کارنر نظر آگیا، پھر پیپسی کوک کا دور چلنے لگا، راحت صاحب بھی گاڑی سے باہر نکل آئے باتوں باتوں میں، بغیر سائلنسر چیختے چلاتے موٹر بائیک والوں کا ذکر ہونے لگا، تو راحت صاحب فرمانے لگے کہ کاش ان پھٹے سائلینسر موٹر بائک والوں کو کوئی بتائے کہ تم تو زناٹے سے فوراً گزر جاتے ہو، مگر لوگ تمھاری ماؤں اور بہنوں کو پندرہ منٹ تک یاد کرتے رہتے ہیں🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️

🖋️اسی ملاقات میں اشتیاق احمد صاحب نے راولپنڈی آنے اور قارئین بچوں سے ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو میں نے فوراً حامی بھر لی ، طے پایا کہ نومبر( 1980) کی 24 تاریخ کو پنڈی اشرف لائبریری پر آئیں گے اور بچوں کو شرف ملاقات کے ساتھ آٹو گراف بھی دیں گے، پھر نومبر کی تمام چاروں ناولوں میں یہ اشتہار پورے پورے صفحہ پر چھپ گیا، یہ ناول ہمیں دیگر شہروں کی نسبت ایک دو روز پہلے موصول ہو گئے اس ماہ راولپنڈی میں اشتیاق احمد کا فی ناول 500 کی تعداد میں آیا تھا جو اس وقت تک کی ریکارڈ تعداد تھی، ایک اندازے کے مطابق راولپنڈی میں اشتیاق صاحب کے ناول کل اشاعت کا دس فیصد آتے تھے یعنی اس ماہ نومبر 1980 میں اشتیاق احمد کا فی ناول 5000کی تعداد میں چھپا تھا جیسے ہی ناول بک سٹالوں لائبریریوں اخبار فروشوں کی وساطت سے گھروں تک قارئین بچوں کے پاس پہنچے… ایک بھونچال آگیا جوق در جوق بچے اشرف لائبریری تلاش کرتے کرتے ہماری دوکان پر ایسے پہنچنے لگے جیسے امتحانی سینٹر کی تلاش ہو…
🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️

….
….
….
….
….
اردو کہانی کا سفر 5ویں قسط اپنے اختتام کو پہنچی
یہ سفر ابھی جاری ہے بلکہ یوں سمجھیں کہ ابھی تو سفر شروع ہو رہا ہے، چالیس سالوں کی روئیداد بیان کرنا چاہتا ہوں اس میں باتیں ہیں صرف ناشران مدیران مصنفین کی
کتابوں ڈائجسٹوں رسالوں کی لائبریروں بک سٹالوں، کی
اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال اٹھتا ہے یا آپ کتابوں سے متعلق کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجئے، ممکن ہوا تو ضرور جواب دیا جائے گا، براہ مہربانی اس پوسٹ کو لائک کر کے اس کا اشتراک (شیئر ) ضرور کریں، اور اپنے تاثرات (کمنٹس) سے لازمی آگاہ رکھئے گا، قسط نمبر 6 جمعرات 22اگست انشاءاللہ……… (اعجاز احمد نواب)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے