سر ورق / ناول / بلاوا …خورشید پیر زادہ…قسط نمبر8

بلاوا …خورشید پیر زادہ…قسط نمبر8

۔

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر8

رات کے تقریباً گیارہ بج چکے تھے- سبھی کو اپنے اپنے کمروں میں گئے آدھے گھنٹے سے اوپر ہوچکا تھا- بستر پرلیٹی ہوئی شروتی کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہیںتھا- وہ روہن کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی- دوپہر میں بیڈ روم کی طرف جاتے ہوئے روہن کا اس کو روکنا اور پھر مسکراتے ہوئے کہنا کہ ایک بار او رتمہارا چہرہ دیکھنے کو دل کر رہا تھا- یہ سب باتیں اس کے دل کو چھو رہی تھیں- یقینا ایک بات تو طے ہوہی چکی تھی- روہن ایک سچا پیار کرنے والا تھا- نتن کی طرح اس میںچھل کپٹ یا کسی طرح کا لالچ نہیں تھا- اس کو محسوس ہوا کہ روہن اس کے دل میں اتر چکا ہے- نہ اترنے کی کوئی وجہ بھی تو نہیں تھی- روہن جیسا شوہر تو قسمت والیوں کو ہی ملتا ہے- کروٹ لیتے ہوئے شروتی تڑپ اٹھی- جب اس کو خیال آیا کہ روہن کے لئے اس کا پیار صرف ایک فریب ہے ‘ دھوکہ ہے- وہ تو نتن کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکی ہے اور شاید زندگی بھر اس سے نجات نہیں پا سکے گی- روہن کے ساتھ شادی تو اس کی خوش قسمتی ہی ہوگی- لیکن آگے کیا ہوگا؟—

شروتی نے گہری سانس لی – اچانک ہی اس کا فون بج اٹھا جو آج ہی نتن نے اس کو خرید کر دیا تھا- ا س کے علاوہ کسی اور کی کال ہو ہی نہیں سکتی تھی- اس نے پرس میں سے فون نکال کر کان سے لگایا- ”ہیلو-“

”سو تو نہیں گئی ہو نا جان من-“ فون پر نتن کی آواز ابھری-

”ہاں – سوہی رہی تھی- فون کی بیل پر اٹھی ہوں- “ شروتی نے جان بوجھ کر نیند میں ہونے کا ناٹک کیا-

” یہ سونے کے دن نہیں ہیں ایڈئیٹ- کچھ کرنے کے دن ہیں- پھر تو ساری عمر ہی چین سے سونا ہے- جلدی میرے کمرے میں آﺅ-“ نتن نے حکم دیتے ہوئے کہا-

”مگر ا س وقت- یہاں-“ شروتی بوکھلا گئی-

”تم اگر مگر بہت کرتی ہو- چپ چاپ باہر نکل کر بیچ والے کمرے میں آجاﺅ- سب سو چکے ہیں-“ کہتے ہی نتن نے فون کاٹ دیا-

اپنے غصے کو فون پٹک کر اتارنے کی کوشش کرتی ہوئی شروتی اٹھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے کپڑوں اور بالوں کو درست کرنے کے بعد باہر نکل آئی-

٭٭٭٭٭٭٭

”آﺅ میری جان- دروازہ بند کرلو-“ نتن بستر پر نیم دراز تھا-

”مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟-“

”یہ بتاﺅ تم نے سب باتیں ٹھیک سے لپیٹ دیں نا روہن کو-“ نتن نے پوچھا-

”نہیں- مجھے لگتا ہے کہ اسے میری کسی بات پر یقین نہیں آیا-تم یہ کوشش چھوڑ ہی دو تو بہتر ہے-“ شروتی نے جھوٹے کے سامنے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا-

”مگر میرے سامنے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی اس نے- اس بار ے میں کوئی ذکر تک نہیں کیا- نا ہی کوئی اور سوال پوچھا- تم یہ کیسے کہہ رہی ہو کہ اس کو یقین نہیں ہوا-“ نتن نے حیرت سے کہا-

”ہو سکتا ہے اسے تم پر بھی شک ہو گیا ہو- اس لئے تم سے نہ کہا ہو- لیکن اس نے بہت سے ایسے سوال کئے تھے جن کا جواب میں دے نہیں پائی اور تم بھی نہیں دے سکو گے- آخر میں دیکھ لینا- نہ تم کہیں کے رہو گے اور نہ ہی میں—- پلیز— یہ ناٹک بند کردو- ابھی تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تم مذاق کر رہے تھے- اپنے ساتھ مجھے بھی جھوٹ کے دلدل میں مت گھسیٹو- جو ہونا تھا ہوچکا- میری عزت سے تم کھیل ہی چکے ہو- کیوں مجھے جان دینے پر مجبور کر رہے ہو–“ شروتی ایک سانس میں بولتی ہی چلی گئی-

”تمہیں غلط فہمی ہو رہی ہے- وہ باتوں کو پرکھ کر دیکھنے کے نظریئے سے نہیں سنتا— وہ سب کو اپنے جیسا ہی شریف سمجھتا ہے- ویسے ایسا کون سا سوال کیا تھا اس نے جس کا جواب تم نہیں دے پائیں–“ نتن اسے گھورتا ہوا بولا-

”مجھے یاد نہیں ہے- پلیز مجھے واپس جانے دو- اپنے گھر- میں تمہارے ہاتھ جوڑتی ہوں-“ شروتی گڑگڑاتی ہوئی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور سسکنے لگی-

”تم ایسے ہار مان گئیں تو میرا کیا ہوگا؟— بولو-“ نتن نے اٹھ کر شروتی کو شانوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیا- شروتی پوری طرح ٹوٹ چکی تھی-

”میں اپنی جان دے دوں گی-“

”تمہارے اکیلے کے جان دینے سے میرا کام چل جاتا تو میں تمہیں پہلے ہی مرنے کا مشورہ دے دیتا— لیکن اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری مووی سب سے پہلے میں تمہارے ہی علاقے میں بیچوں گا- سوچو تمہارے بابا پر کیا گزرے گی- وہ نہ جی پائیں گے نہ مر پائیں گے- ان کے بارے میں بھی تو کچھ سوچو-“ نتن کے چہرے پر گھناﺅنی مسکراہٹ ابھر آئی-

شروتی بلبلا اٹھی- ”بابا کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہے ہو- میں کر تو رہی ہوں سب کچھ-“

”شاباش- اسی حوصلے سے کام کرو گی- تبھی بات بنے گی-“ نتن الماری کے پاس گیا اور واپس مڑتے ہوئے بولا- ”لو- یہ پہن لو-“ کہتے ہوئے اس نے گہرے نیلے رنگ کی ایک جھلنگا سی نائٹی شروتی کی طرف اچھال دی- نائٹی کا کپڑا بہت ہی ہلکا او رباریک تھا- اس کو دیکھتے ہی شروتی بلکتی ہوئی بولی-

”تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم دوبارہ میرے ساتھ یہ سب نہیں کرو گے- کیوں مجھے زندہ لاش بنانے پر تلے ہوئے ہو-“

”جب تک تم میرا کہا مانتی رہو گی میں اپنا وعدہ نہیں توڑوں گا- ہاں- تمہارے سوال اور شکایتیں اگر یونہی بڑھتی رہیں تو ایک بات بتا دیتا ہوں کہ وعدے میرے لئے کوئی خاص معنی نہیں رکھتے- میں کسی بھی وعدے کو توڑنے سے نہیں ہچکچاﺅں گا- اگر تم نے میری ایک بات سے بھی ماننے سے انکار کیا تو— جاﺅ باتھ روم میں جاکر اس کو پہن لو— “ نتن نے کہا –

آنکھوں میں آنسوﺅں کا سمندر سمیٹے شروتی باتھ روم میں چلی گئی- جب وہ باہر آئی تو اس کے حسن کا جلوہ بھرپور انداز سے باریک نائٹی سے جھلک رہا تھا-

شرمندگی اور ذلت سے تار تار ہو چکی شروتی سر جھکائے بار بار نائٹی کو نیچے کھینچنے کی کوشش کررہی تھی-

”ہائے اس جوانی پر کون نہ مر مٹے گا- میں تو پھانسی پر بھی چڑھنے کو تیار ہوں-“ نتن نے وارفتگی سے کہا-

”مجھے ہاتھ مت لگانا پلیز- میں پہلے ہی ٹوٹ چکی ہوں – مجھے مرنے پر مجبور مت کرو-“ شروتی نے سسکتے ہوئے کہا-

”میں تو مذاق میں کہہ رہاتھا- اب یہ رونا دھونا چھوڑو اور روہن کے کمرے میں جاﺅ-“ نتن نے اچانک سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا-

”کیا— ایسے؟-“ شروتی چونک پڑی- اور حیرت سے نتن کی آنکھوں میں دیکھنے لگی-

”ہاں— ایسے ہی— آﺅ بیٹھو میرے پاس— میں سمجھاتا ہوں کہ تمہیں کیا کرنا ہے- آج میں نے تمہیں روہن کے لئے ہی تیار کیا ہے- — اب یہ مت کہنا کے تم اس کے ساتھ بھی کچھ نہیں کروگی- میںپہلے ہی بہت صبر کر چکا ہوں- اب زیادہ برداشت نہیں ہوگا مجھ سے- اور دھیان رکھنا یہ ہمارے پلان کا سب سے ضروری حصہ ہے-“ نتن اس کو ساری بات سمجھانے لگا- شروتی خاموشی سے اس کی ساری باتیں سنتی رہی اور کانپتے ہوئے قدموں سے باہر نکل کر روہن کے کمرے کی طرف بڑھی- کچھ دور جاکر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا نتن دروازے پر کھڑا اس کی طرف ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا- نظریں گھما کر وہ سیدھی چلتی ہوئی روہن کے بیڈ روم کے دروازے پر پہنچی اور ہلکے سے دستک دی-

”کون؟-“ اندر سے روہن کی آواز سنائی دی-

”میں ہوں شروتی- پلیز دروازہ کھولو- “ شروتی کے بولتے ہی نتن نے جھٹ سے اپنا دروازہ بند کر لیا- روہن دروازہ کھولتے ہی شروتی کو دیکھ کر چونک پڑا- رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں اور وہ کسی نادیدہ خوف سے کانپ رہی تھی-

”کیا ہوا شروتی— کیا ہوا ہے تمہیں؟-“

بنا اجازت لئے ہی شروتی اندر گھسنے لگی تو روہن نے ایک طر ف ہوکر اس کو راستہ دے دیا- مگر جیسے ہی روہن نے لائٹ جلائی تو وہ دوسری بار چونکا-

”یہ—؟-“ روہن نے بات ادھوری چھوڑ دی- شروتی کا پہناوا دیکھ کر اور اس پہناوے میں اس کو اپنے پاس دیکھ کر روہن کا حیرت زدہ ہونا لازمی تھا- شروتی کا لباس پہننا اور نہ پہننا ایک برابر تھا-

روہن نے کبھی شروتی کو اس طر ح کی لڑکی نہیں سمجھا تھا- جبکہ شروتی اس کے سامنے پہلے ہی سر جھکائے کھڑی تھی- شرمندہ سا ہوکر روہن بھی زیادہ دیر تک اس کو نہیں دیکھ پایا-

”کیا ہوا شروتی؟-“ روہن اپنا چہرہ دوسری طرف پھیرتا ہوا بولا— تم اس وقت یہاں؟-“

”مجھے برے برے سپنے آرہے ہیں- مجھے ڈر لگ رہا ہے-“ شروتی نے جواب دیا-

”اوہ- سپنوں سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے- تھوڑا پانی پی لو اور سو جاﺅ-“ میز پر رکھے جگ سے روہن نے گلاس میں پانی نکالا اور شروتی کی طرف بڑھا دیا-

”مجھے سچ میں بہت ڈر لگ رہا ہے روہن- میں— میں یہیں سو جاﺅں کا؟-“ شروتی نے تھرتھراتے لبوں سے بات پوری کی-

”یہاں؟—- کیا تمہیں ٹھیک لگتا ہے-“ روہن الماری میں کچھ ڈھونڈتا ہوا بولا-

”مم- مجھے واقعی ڈر لگا رہا ہے میں اکیلی نہیں سو سکتی-“ شروتی نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا-کیونکہ نتن نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ روہن کے کمرے میں نہ سوئی تو پھر اس کے ساتھ سونا پڑے گا-

روہن نے الماری سے چادر نکالی اور شروتی کے پاس آکر شروتی کے بدن کو چاروں طرف سے لپیٹ دیا-

”آﺅ- بیٹھو-“ روہن کی چادر لپیٹنے کی وجہ سوچ کر شروتی شرم سے پانی پانی ہوگئی- صاف ظاہر تھا کہ روہن کو اس کا یہ پہناوا ہرگز پسند نہیں آیا تھا- ٹیس بھری ایک سانس شروتی کے اندر سے باہر نکلی- کہاں روہن اور کہاں نتن- روہن کی اس ایک ادا نے شروتی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی دیوانہ بنا دیا- ہزاروں دعائیں دیتا ہوا شروتی کا دل اس پر نچھاور ہوا جا رہا تھا-

پیر نیچے لٹکائے ہوئے ہی وہ بستر پر بیٹھ گئی- کافی دیر تک کمرے میں چپ چھائی رہی- شروتی نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی اور اس کو فینسی لائٹ کے ساتھ جڑا کیمرہ ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی- کیمرہ بیڈ پر ہی فوکس کیا ہوا لگ رہا تھا- نتن نے اس کے بارے میں پہلے ہی بتاتے ہوئے روہن کے ساتھ سیکس نہ کرنے پر جو ہوتا اسے بھگتنے کی دھمکی دی تھی- شروتی کو اب روہن سے پیار کرنے میں کسی طرح کی کوئی دقت نہیں تھی-

بلکہ اب تو وہ اس کا سپنا سا بن گیا تھا- اب روہن ہی اس کا پہلا اور آخری پیار تھا- مگر روہن کا رویہ ایسا تھا کہ شروتی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شروعات کیسے کرے-

”سوجاﺅ-“ روہن نے کہا اور دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گیا-

”ایک منٹ-“ شروتی نے دیوار کے ساتھ لگتے ہوئے اپنی ٹانگیں سیدھی پھیلا لیں-

”ہاں بولو-“ روہن دوسری طرف منہ کئے ہوئے ہی بولا-

”میری طرف گھوم کر سوجاﺅ نا پلیز-“ شروتی کے لہجے میں کھلی دعوت تھی-

روہن نے جیسے ہی کروٹ بدلی شروتی کو عجیب سے انداز میں پایا-

”شروتی – مجھے تمہاری یہ حرکت قطعی پسند نہیں ہے- میں نے تمہیں اچھی لڑکی سمجھا تھا- یہ سب بکواس بند کرو اب-“ روہن نے بھڑکتے ہوئے کہا-

”مجھ سے پیار کر لو نا پلیز – میں تمہارے لئے تڑپ رہی ہوں- جانے کتنے دنوں سے-“ اپنے دل کو پتھر سا بناتے ہوئے شروتی نے یہ سب کہا اور روہن سے لپٹ جانے کے لئے اس کی طرف لپکی-روہن اس کی اس حرکت پر ہڑبڑا اٹھا-ہلکا دھکا دیتے ہوئے اس نے شروتی کو واپس پٹخ دیا-

”پیار— تم جیسی لڑکیاں سمجھتی بھی ہیں کہ پیار آخر ہوتا کیا ہے- ہوس کے چند لمحوں کو تم پیار سمجھتی ہو- اور دعویٰ کرتی ہو کہ ہم جنم جنم کے ساتھی ہیں- شرم آنی چاہئے تمہیں—- نتن بھائی نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ یہ تم باپ بیٹی کی سازش تھی- اپنے بدن کو مجھے سونپ کر تم یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تم مجھے پیار کرتی ہو- ابھی کے ابھی نکل جاﺅ یہاں سے-“ روہن کا چہرہ غصے سے تپ رہا تھا اور آنکھیں جیسے انگارے اگل رہی تھیں-

شروتی کے پاس بولنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں- جو تھا وہ بول نہیں سکتی تھی- شرم سے گردن جھک جانے پر بھی وہ ہاتھ جوڑ کر آنسو بہاتی ہوئی یہی بولے جا رہی تھی-

”پلیز روہن- مجھ سے پیار کرلو- یہاں سے مت نکالو— مجھ سے پیار کر لو-“

روہن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا- وہ غصے سے اٹھا اور شروتی کا ہاتھ پکڑ کر لگ بھگ کھینچتے ہوئے وہ باہر لے گیا اور دھکا سا دیتے ہوئے اپنا دروازہ بند کر لیا- ایک دو بار شروتی نے ہلکی سی دستک دی او رکراہتے ہوئے وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی-

وہاں روہن کا دماغ چکرا رہا تھا- اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے- وہ اچانک اٹھا اور باہر نکل کر زبردستی شروتی کو اٹھا کر اس کے کمرے میں چھوڑ آیا اور باہر سے کنڈی لگا دی- شروتی بیچاری بلکتی رہ گئی-

کافی دیر تک شروتی یونہی آنسو بہاتی دیواروں کو گھورتی رہی- اس کے پاس اب اس کا کچھ نہیں بچا تھا- پیار ملا بھی تو آدھا ادھورا- اچانک وہ اپنے پرس میں سے کورا کاغذ اور ایک پین نکالنے لگی اور آنسوﺅں سے کاغذ کو گیلا کرتے ہوئے اس پر کچھ لکھنے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭

اگلی صبح صبح ایک چیخ سن کر بستر سے اٹھنے کی تیاری کر رہا روہن چونک کر باہر نکلا- نوکر شروتی کے کمرے کے باہر کھڑا تھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے ہوئے تھا-

”صاحب– میم صاحب-“ روہن بھاگتا ہوا اس طرف گیا-

”کیا ہوا؟-“ اور اندر جھانکنے کے بعد اس کو دوبارہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑی- شروتی کی لاش اندر پنکھے سے جھول رہی تھی- اگلے ہی پل روہن کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا- اسی ایک پل میں پچھلی رات اس کے اور شروتی کے بیچ میں جو کچھ بھی ہوا‘ سب اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا-

شاید اس کے لئے روہن خود کو ذمہ دار سمجھ رہا تھا- جیسے تیسے اس نے دیوار پکڑی اور اپنے سر کو ہاتھوں میں دبوچ کر نیچے بیٹھتا چلا گیا-

پاس کھڑا نوکر حیرت سے کبھی شروتی کے بدن کی طرف اور کبھی روہن کی طرف دیکھ رہا تھا- اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے- رویندر‘ امان اور شیکھر نیچے سوئے ہوئے تھے- نوکر نے نیچے جاکر امان کو بتانے کے بارے میں سوچا ہی تھا کہ نتن اپنے کمرے سے باہر نکلا- روہن کو اس حالت میں بیٹھے دیکھ کر وہ تیزی سے اس کی طرف آیا اور شروتی کے بیڈ روم میں جھانکتے ہی اس کے منہ سے نکلا-

”اوہ مائی گاڈ-“ نتن تقریباً بھاگتا ہوا بیڈ پر چڑھا اور شروتی کے بدن کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا- ”ادھر آﺅ- میری مدد کرو- جلدی-“ اس نے نوکر کو آواز دی-دونوں نے مل کر شروتی کو نیچے اتارا-

 ”شٹ- شی از نو مور-“ نتن نے شروتی کی سانسیں محسوس نہ ہونے پر کہا اور گھٹناٹیک کر لاش کے برابر میں بیٹھتے ہوئے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگا-

تب تک روہن بھی کمرے میں آچکا تھا- اس نے نتن کے کندھے پر ہاتھ رکھا- جیسے ہی نتن اس کی طرف گھوما روہن اس سے لپٹ گیا-

”بھائی- یہ میں نے کیا کر دیا-“ روہن کی بات سنتے ہی نوکر چونکا اور بنا دیر کئے وہ نیچے کی طرف کھسک لیا-

” کیا مطلب؟— مطلب تم نے یہ سب—- مگر کیوں یار؟-“ نتن نے روہن کی آنکھوں میں جھانکا-”یہ کیا کیا تم نے؟-“

”ہاں بھائی- میں نے ہی اس کو مرنے کے لئے مجبور کر دیا-“ روہن آنسو بہاتے ہوئے بولے چلا جا رہا تھا-

”رات کو یہ میر ے کمرے میں آئی تھی- میں اس کی ملن کی بیقراری کو ہوس کی بھوک سمجھ بیٹھا- یہ بچاری تو اپنے برسوں پرانے ادھورے پیار کو پور اکرنے آئی تھی- اور میں نے اس کو جانے کیا کیا کہہ دیا- — اس کو بے عزت کرکے اپنے کمرے سے نکال دیا-“ کہتے ہوئے وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکی شروتی سے لپٹ گیا- اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا-

”اپنے آپ کو سنبھالو یار- تم خود کو اس کے لئے الزام کیوں دے رہے ہو؟— تم نے اس کو صرف کمرے سے ہی نکالا تھا- مرنے کے لئے تو نہیں بولا تھا نا-“ نتن نے روہن کو شروتی کے مردہ جسم سے الگ کرتے ہوئے کہا-

”مگر بھائی- یہ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہوگی- یہ کیا کر لیا اس نے- دیکھو تو آہ ہ ہ ہ -“ روہن کے بین کرنے کی آواز پوری کوٹھی میں گونجنے لگی- تبھی کمرے میں امان‘ شیکھر اور رویندر داخل ہوئے- سب کو اس حادثے کی خبر ہو چکی تھی- بھنائے ہوئے سبھی آکر بستر کے پاس کھڑے ہوگئے-

”یہ کیا ہوگیا یار- کیسے ہوا یہ سب؟-“ امان نے جھلاتے ہوئے پوچھا-

”یہ مجھ سے پیار کرتی تھی بھائی- “ روہن نے بولنا شروع کیا ہی تھا کہ نتن اس کی آواز کو دبا کر خود سب کچھ بتانے لگا- رویندر غور سے نتن کے چہرے کی طرف دیکھتا جا رہا تھا-

”اوہ مائی گاڈ-“ پوری بات سن کر امان اور شیکھر کے منہ سے ایک ساتھ نکلا-

”یہ تو بہت برا ہوا‘ اب کیا کریں- “ امان شروتی کے بارے میں بات کر رہا تھا-

”اب کیا کر سکتے ہیں-“

”اب تو اس کو گھر پہنچانے کی تیاری کرو-“

رویندر کے منہ سے نکلا-

”نہیں- اس کو گھر نہیں بھیج سکتے- یہ اپنے باپ سے جھوٹ بول کر آئی تھی کہ کالج کے ٹور پر جا رہی ہے- اس کا کچھ اور ہی کرنا پڑے گا-“ نتن نے اپنی رائے دی-

”نہیں – میں اس کو اس کے گھر ضرور لے کر جاﺅں گا- اسے خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتاروں گا- اب بھی کیا میں اس کے پیار کو نظرانداز کردوں-“ روہن نے روتے ہوئے کہا-

”اب فلمی باتیں چھوڑو یار- جو ہونا تھا وہ ہو چکا- نتن صحیح کہہ رہا ہے- ہمیں اس کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں سوچنا چاہئے- ورنہ ہم سب پر مصیبت آسکتی ہے-“ رویندر نے روہن کو سمجھاتے ہوئے کہا-

روہن بلکتا ہوا دوبارہ شروتی سے لپٹ گیا-

”نہیں- جو کچھ ہوگا میں بھگت لوں گا- لیکن اس کو اس کے گھر تک میں لے کر ہی جاﺅں گا- میں اس کی روح کو دوبارہ سے نہیں بھٹکنے دوں گا-“

”بہت خوب-“ دروازے پر سخت اور کھردری آواز سن کر سب ہی چونک کر پلٹے- پولیس انسپیکٹر ایک سپاہی کے ساتھ دروازے پر کھڑا تھا- سب کے متوجہ ہونے پر وہ ٹہلتا ہوا اندر آیا اور کچھ دیر غور سے شروتی کی لاش کو دیکھتا رہا-

”تو لڑکیوں کی روحوں سے کھیلتے ہیں آپ لوگ-“ انسپیکٹر نے باری باری چاروں کو سرخ نظروں سے گھورا-

”ایک منٹ سر- آپ میری بات سنیں-“ نتن نے کہا تو انسپیکٹر نے اس کو اپنی انگلی سیدھی کرکے رکنے کا اشارہ کیا-

”کافی دیر سے تم سب کی ہی سن رہا ہوں- نوکر کہاں ہے-“

”ابھی بلاتا ہوں سر-“ امان یہ کہہ کر باہر نکل گیا اور بالکنی میں کھڑے ہوکر آواز لگائی- اگلے ہی پل نوکر انسپیکٹر کے سامنے تھا-

”جی صاحب-“ نوکر کی آواز کانپ رہی تھی-

”ڈرو مت راجو- سب کھل کر بتاﺅ کہ یہاں پر کیا ہوا ہے-“ انسپیکٹر نے پوچھا-

”مجھے کچھ نہیں پتہ صاحب- میں رات سے نیچے تھا- سچ میں-“ نوکر نے بیچ بیچ میں گلا صاف کرکے بات پوری کی-

”تو فون کیوں کیا تھا الو کی دم- میں کہہ رہا ہوں نا کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے- میرے ہاتھ سے اندر ہونے والے اپنی سزا پوری ہونے سے پہلے جیل سے باہر نہیں آتے- اور ااس وقت تک تو یہ چہرہ بھی بھول چکے ہوں گے تمہارا- رہی نوکری کی بات- تو تمہاری چوری کی عادت کے باوجود میں تمہیں پھر سے اپنے گھررکھنے کے لئے تیار ہوں- اب سیدھے سیدھے ساری بات سمجھاﺅ مجھے- ورنہ سب سے پہلے تمہاری ٹھکائی ہوگی-“ انسپیکٹر نے دو ٹوک بات کہی اور نوکر راجو کی گردن جھک گئی- اس نے تو انسپیکٹر سے درخواست بھی کی تھی کہ میرا نام سامنے نہیں آنا چاہئے- لیکن انسپیکٹر نے پولیس اور مخبر کے رشتے کو نہیں نبھایا-

”آپ ہماری بات بھی سن لیں ایک بار- اس کو پوری بات کا پتہ نہیں ہے-“ نتن نے پھر سے انسپیکٹر کو ٹوکا- باقی چپ چاپ کھڑے نوکر اور انسپیکٹر کو دیکھ رہے تھے-

”سب کی سنی جائے گی- بولو راجو-“ انسپیکٹر نے نتن کی بات پر توجہ نہ دیتے ہوئے کہا-

”مجھے زیادہ نہیں پتہ صاحب- صبح میں میم صاحب کو چائے دینے آیا تھا- دروازہ کھٹکھٹایا تو پتہ لگا کہ وہ تو کھلا ہوا ہے- پھر بھی میں نے دو تین بار آواز دی- لیکن میم صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا-“ یہ کہہ کر راجو رک گیا-

”پھر؟-“ انسپیکٹر نے راجو کی چھاتی پر رکھتے ہوئے کہا-

”پھر صاحب- میں نے دروازے کو دھکا دیا تو-“ راجو نے یہ کہتے ہی اپنی انگلی شروتی کی لاش کی طرف اٹھا دی-

”مطلب یہ کہ دروازہ اندر سے بند نہیں تھا- صحیح کہہ رہا ہوں نا میں؟-“ انسپیکٹر نے راجو کو ریلیکس کرنے کے لئے اس کا کندھا تھپتھپایا-

”جی صاحب -“ راجو نے نظریں اٹھا کر کہا-

”اس کا مطلب ہے کہ یہ قتل بھی ہوسکتا ہے- ہوں-“ انسپیکٹر نے شروتی کی لاش کے پاس بیٹھے روہن کو دیکھا ہی تھا کہ وہ بول پڑا-

”ایک منٹ سر- — راجو تم نے دروازے کی کنڈی باہر سے کھولی تھی یا نہیں-“

”نہیں صاحب—- دروازہ تو پہلے ہی اندر اور باہر دونوں طرف سے کھلا ہوا تھا—- میرے کھٹکھٹاتے ہی کھل گیا تھا اپنے آپ-“ راجو نے بات انسپیکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہی-

”یہ باہر سے کنڈی لگانے کا کیا معاملہ ہے- اس کو زبردستی روک رکھا تھا کیا؟-“ انسپیکٹر نے روہن کو ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا-

”میری پوری بات تو سن لیں انسپیکٹر صاحب- میں رات کو تقریباً ایک بجے کے قریب شروتی کو ا کے کمرے میں چھوڑ کر باہر سے کنڈی لگا کر آیا تھا- پھر کنڈی کس نے کھولی؟-“ روہن نے حیرت سے وہاں موجود سبھی لوگوں کو دیکھا-

”ہوں- اگر تمہاری بات سچی ہے تو یہ ایک بہت بڑا پوائنٹ ہے- اس کا مطلب ہے کہ تمہارے اس کو قید کرنے اور نوکر کے آنے کے بیچ کوئی اور لاش کو پہلے ہی دیکھ چکا تھا- یا ہو سکتا ہے کہ اسی نے اس کا خون بھی کیا ہو- تم سب کے علاوہ اگر گھر میں کوئی اور بھی ہے تو اس کو بھی بلا لو-“ انسپیکٹر نے امان کو اشارہ کیا-

”نہیں – بس ہم سات ہی تھے گھر میں- راجو سمیت-“ امان نے جواب دیا-

”یعنی خونی تمہی ہو؟-“

”کیا؟-“ امان اچھل پڑا-

”میرے کہنے کا مطلب ہے کہ تم میں سے ہی کوئی ہے- ایک منٹ-“ انسپیکٹر نے موبائل نکالا اور تھانے میں فون کیا- انسپیکٹر آنندبول رہا ہوں-215سیکٹر 5 میں لڑکی کی لاش موجود ہے- جلدی سے اس کو ہسپتال لے جاکرپوسٹ مارٹم کرواﺅ اور ابتدائی کارروائی کرو-“ انسپیکٹر نے فون کاٹا اور روہن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا- ”آجا ﺅ میرے ساتھ- باقی سب یہیں رکیں-“ انسپیکٹر کو روہن ہی شروتی کے سب سے نزدیک محسوس ہوا تھا- پھر اپنے ماتحت کو ہدایت دیتے ہوئے بولا-”باہر سے دو سپاہیوں کو بلا کر یہاں کھڑا کرو اور باقی کو پورے مکان کی تلاشی لینے کا بولو-“

٭٭٭٭٭٭٭

”ہوں- اب بتاﺅ- کون سی پوری بات بتا رہے تھے؟-“ انسپیکٹر آنندنے روہن کے بیڈ روم میں جاکر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا-

روہن نے بے خود سا ہوکر اپنے خوابوں سے لے کر ٹیلے پر جانے کی‘ شروتی کے گھر پہنچنے کی‘ عمر کوٹ آنے تک کی اور بعد میں نتن کا شروتی کو ساتھ لے کر وہیں پہنچنے کی ‘ اور شروتی کی جانب سے سنائی گئی ساری داستان بتا دی- مگر اس موقع پر اس نے عمر کوٹ میں نیرو کے ملنے کی بات کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا- کیونکہ شروتی کے عامل بابا والی بات پر اس کو پورا یقین ہوگیا تھا- اور ماننے لگا تھا کہ اس کے خوابوں کی وجہ شروتی ہی تھی-

”تمہیں نہیں لگتا کہ کوئی تمہاری من گھڑت کہانی پر فلم بنا کر اچھا پیسہ کما سکتا ہے— ہر کسی کو یہ اسکرپٹ مت سنایا کرو- سمجھے- اب مجھے بے وقوف سمجھنا چھوڑو اور کام کی بات بتاﺅ-“ انسپیکٹر کی بات پوری ہوتے ہی شروع ہوگیا-

”مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ آپ یقین نہیں کریں گے- مگر یہی سچ ہے- کل رات اس کی حرکت سے میرے اس کے بارے میں خیالات ہی بدل گئے تھے- اور میں اس کو زبردستی اس کے کمرے میں چھوڑ کر باہر سے کنڈی لگا کر آگیا-“ روہن اپنی بات پر اڑا رہا-

”تمہارا کہنا ہے کہ کل رات وہ خود چل کر تمہارے کمرے میں آئی تھی- تم سے جسمانی ملاپ کے لئے بے قرار ہوکر-“ انسپیکٹر نے اس کی بات کا نچوڑ نکالتے ہوئے کہا-

”جی- “

”اس سے اس کو کیا ملتا- اگر وہ سیکس کی بھوکی ہی ہوتی تو وہ تو کہیں بھی مل سکتا تھا- کافی خوبصورت تھی وہ-“انسپیکٹر نے ٹوکتے ہوئے کہا-

”جی- مگر جانے کیوں اس وقت میں یہ سوچ نہیں پایا-“ روہن نے کہا-

”وہ عامل ملنگ بابا کون ہے- کبھی ملے ہو؟-“

”جی نہیں- مگر نتن ملا ہے- اس نے رویندر کو بھی بتایا تھا کل-“ روہن نے فوراً جواب دیا-

”ہوں- دیکھتے ہیں- ویسے تمہیں کیا لگتا ہے- اگر تم نے اس کو نہیں مارا تو پھر کس نے مارا ہوگا-“ انسپیکٹر نے روہن کے دل کو کریدنے کی کوشش کی-

”میں ہی اس کی موت کی وجہ ہوں سر-“ روہن نے پھر سے جذبات میں بہتے ہوئے کہا- ”میں نے اس کے پیار اور جذبات کو سمجھنے میں بھول کی-“

”مگر وہ کنڈی کس نے کھولی- کسی نے کچھ بتایا ہے؟-“

”جی نہیں—- نوکر کے چلانے کے بعد میں ہی سب سے پہلے وہاں پہنچا تھا- بعد میں نتن بھائی آئے اور پھر نیچے سوئے باقی تینوں-“

”نتن پر کتنا بھروسہ ہے تمہیں؟-“

”جب بھائی ہی کہہ رہا ہوں سر تو بھروسہ نہ کرنے والی بات تو بے ایمانی ہی ہوگی نا- وہ سچ میں ہی میرے لئے بھائی جیسا ہے-اور یقین مانیں- شروتی نے خودکشی ہی کی ہے— کسی کے بارے میں ایسی بات سوچی بھی نہیں جاسکتی-“

”ہوں- پوسٹ مارٹم کے بعد سب صاف ہو ہی جائے گا-چلو تھانے چل کر آرام سے بات کرتے ہیں- باقی لوگوں کو بھی ساتھ لے لو-“ انسپیکٹر‘ روہن کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک سپاہی کچھ کپڑے اٹھائے ان کی جانب آتا دکھائی دیا- انسپیکٹر وہیں کھڑا ہوگیا-

”سر- صرف یہ لیڈیز کپڑے ملے ہیں ایک کمرے سے- باقی کچھ خاص نہیں تھا-“ سپاہی نے آتے ہی کپڑے انسپیکٹر کو دکھائے-

کپڑے دیکھتے ہی روہن فوراً بولا- ”یہ شروتی کے ہی کپڑے ہیں- کل اس نے دن میں یہی کپڑے پہن رکھے تھے-“

”ہوں- کہاں سے ملے یہ-“ انسپیکٹر نے پوچھا-

”سر – یہ وہ آخری والے کمرے کے باتھ روم سے-“

”کیا—-مگر؟-“ روہن حیرت سے بولا- سپاہی نتن کے کمرے کی طرف اشارہ کر رہا تھا-

”مگر- کیا؟-“ انسپیکٹر نے جلدی سے روہن کی طرف دیکھا-

”نہیں- کچھ خاص نہیں سر-“ روہن اپنے دل کی بات کھا گیا-

”دیکھو- بات خاص ہے یا عام- یہ میں سوچوں گا- دل میں کوئی بات مت رکھو- جو کچھ بھی ہے دل میں- سب بول دو-“

”سر- رئیلی کوئی خاص بات نہیں ہے- میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ شروتی کے کپڑے نتن کے باتھ روم میں کیسے آئے-“ روہن نے جواب دیا-

”یہی تو وہ سوالات ہیں بیٹا- جن کا جواب مجھے ڈھونڈنا ہے- نتن نے تمہاری پریم کہانی میں اتنی دلچسپی کیوں لی؟— وہ وہیں رہ کر تمہیں بلانے کی بجائے شروتی کو یہاں کیوں لے کر آیا؟— نتن عامل سے کیوں ملا؟— کنڈی کس نے کھولی — اور اب یہ اس کے کپڑے نتن کے باتھ روم میں کیسے پہنچے- خیر- رات کو جب شروتی تمہارے پاس آئی تو کیا یہی کپڑ ے پہنچ رکھے تھے اس نے؟-“ انسپیکٹر نے سوچ سمجھ کے سوالات دوہراتے ہوئے کہا-

”جی نہیں- وہ دوسرا لباس تھا-“ روہن نے کہا-

”مطلب؟— کیا وہ لباس بھی نہیں تھا جو اس کے مردہ بدن پر موجود ہے-“ انسپیکٹراپنا سر کھجاتا ہوا بولا-

”جی نہیں- دراصل ا لباس کی وجہ سے ہی مجھے غصہ آگیا تھا- ایسی ہی اوٹ پٹانگ نائٹی پہن رکھی تھی اس نے-“

”آﺅ میرے ساتھ- “ کہہ کر انسپیکٹر نے سپاہی کو لباس ساتھ رکھنے کا کہا اور روہن کو پھر سے ساتھ لے کر شروتی والے کمرے میں آیا-

شروتی کی لاش ہسپتال بھجوائی جا چکی تھی- وہاں کھڑے سبھی لوگوں کے چہرے اترے ہوئے تھے- سب کے چہروں پر پیلا پن ابھر آیا تھا-

”ذرا ڈھونڈو- وہ کپڑے کون سے ہیں؟-“ انسپیکٹر نے روہن کو اشارہ کیا- روہن کو الماری میں زیادہ تانک جھانک نہیں کرنا پڑی- وہ باریک نائٹی یونہی الماری کے بیچ والے خانے میں پھینکی گئی تھی- روہن اس کو اٹھانے کو جھکا تو انسپیکٹر نے منع کر دیا-

” ہاتھ مت لگاﺅ تم اس کو-“ اور ایک سپاہی کو احتیاط سے وہ نائٹی اٹھانے کو کہا–”اب اس کا بیگ کھول کر اس کے سارے کپڑے نکالو-“ انسپیکٹر نے سپاہی سے کہا-

سپاہی نے بیگ پلٹ کے سارے کپڑے بستر پر الٹ دیئے- اس ایک نائٹی کے علاوہ شروتی کے پاس اس طرح کا کوئی اور سیکسی لباس نہیں تھا- بلکہ سارے کپڑے پورے بدن کو ڈھکنے والے تھے- انسپیکٹر نے اس بات پر غور کیا اورسپاہیوں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا اشارہ کیا-

٭٭٭٭٭٭٭

آدھے گھنٹے بعد پانچوں انسپیکٹر آنندکے سامنے بیٹھے تھے- انسپیکٹر نے نتن کو کرسی بدل کر بیچ میں اس کے سامنے آنے کو کہا- نتن نے ویسا ہی کیا اور روہن قطار میں رکھی سب سے آخری والی کرسی پر چلا گیا-

”تم اتنے تھکے ہوئے کیوں لگ رہے ہو— رات بھر جاگے ہو کیا؟-“ انسپیکٹر نے نتن سے پوچھا-

”جی – نہیں تو- میںبالکل ٹھیک ہوں-ا ور جو تھوڑا بہت تناﺅ آپ میرے چہرے پر دیکھ رہے ہیں وہ بیچاری شروتی کی لاش دیکھنے کی وجہ سے ہے- اس کے ساتھ سچ میں بہت برا ہوا ہے-“ نتن نے صفائی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے خود کو سنبھالا-

”تمہی شروتی کے قاتل ہو-“ انسپیکٹر نے سخت لہجے میں کہا-

”کک کیا کہہ رہے ہیں آپ- ا س نے خودکشی کی ہے- سبھی جانتے ہیں- روہن نے اس کے ساتھ تعلق بنانے سے انکار کر دیا اس وجہ سے وہ جینے کی تمنا چھوڑ چکی تھی- “ نتن ایک لمحے کے لئے تو سٹپٹا سا گیا تھا-

لگ بھگ یہی تاثرات روہن کے چہرے پر بھی آئے تھے- ”سر آپ بلاوجہ نتن پر شک کر رہے ہیں-“

”مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں بلاوجہ اس پر شک کر رہا ہوں— میں نے تم پر شک نہیں کیا- حالانکہ تم اس کے ساتھ سب سے زیادہ دیر تک ساتھ ہے تھے- میں یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ تم نے ہی زبردستی کرنے کی کوشش کی اور جب وہ نہیں مانی تو تم نے اس کو مار کر پھانسی پر ٹانگ دیا- — لیکن میں نے نہیں کہا- ہمارا تو یہ روز کا کام ہے بچو- ہم قاتل کو نظروں سے پہچان لیتے ہیں-“

انسپیکٹر بولتے بولتے سخت طیش میں آگیا- میز پر رکھا پانی کا گلاس خالی کرتے ہوئے وہ پھر بولنا شروع ہوگیا-”دیکھو نتن – میرے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ اگر تم اس کو یہاں لے کر نہیں آتے تو اس کے ساتھ یہ سب نہیں ہوتا- ہیں نا؟-“

”جی یہ تو ہے-“ نتن نے نظریں جھکا لیں-

”تو کیوں لے کر آئے اس کو؟— تمہارا کیا فائدہ تھا اس میں؟-“ انسپیکٹر نے زور دے کر پوچھا-

” میرا کیا فائدہ ہوتا بھلا میں نے تو جو کیا ‘ روہن کے لئے کیا-“ نتن نے صفائی دی-

”ایسا کیا کر دیا تم نے روہن کے لئے-“ انسپیکٹر نے پھر پوچھا-

”جی وہ روہن یہاں کسی لڑکی کے چکر میں ہی آیا تھا- شروتی نے جب مجھے یہ بتایا کہ — دراصل روہن کو پچھلے کئی مہینوں سے سپنے آرہے تھے- تو اس نے مجھے ساتھ لے کر اس لڑکی کے پاس جانے کا فیصلہ کیا- لڑکی نے ہمیں ٹیلے-“ نتن ابھی بتا ہی رہا تھا کہ انسپیکٹر نے بیچ میں ٹوک دیا-

”یہ سب بکواس میں سن چکا ہوں- یہ بتاﺅ کہ شروتی نے تمہیں کیا بتایا-“

”جی یہی کہ سب اس نے ہی کیا تھا- ایک عامل کے ساتھ مل کر- اس نے مجھے بتایا کہ-“ نتن نے وہی باتیں دوہرا دیں جو پہلے دن شروتی نے روہن کو اور آج روہن نے انسپیکٹر کو بتائی تھیں-

”تمہیں یہ سب شروتی نے کیسے بتا دیا- بتانا ہوتا تو اسی دن بتا دیتی جس دن تم نے اس کو کالج چھوڑا تھا- یا تم نے بعد میں اس کے ساتھ کوئی زبردستی کی تھی؟-“ انسپیکٹر نے پوچھا-

اس سوال پر ایک بار تو نتن بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگیا- پھر سنبھلتے ہوئے جواب دیا -”اب یہ تو وہی بتا سکتی تھی کہ اس نے مجھے کیوں بتا یا- میں نے صرف اس کو یہ بتایا تھا کہ روہن کسی نیرو کے چکر میں عمر کوٹ گیا ہے-“

”کک کیا— کیا نام بتایا تم نے؟-“ انسپیکٹر اچانک چونک پڑا-

”جی- نیرو-نتن نے جواب دیا-

”اوہ اچھا-“ انسپیکٹر نے گھور کر روہن کی طرف دیکھا اور پھر سامنے دیکھتے ہوئے بولا-”پھر-“

”یہ سن کر وہ بے چین سی ہوگئی اور اس نے روہن سے بات کروانے کو کہا- مگر جب روہن کا فون نہیں ملا تو اس نے مجھے ہی سب کچھ بتا دیا-“ نتن نے اتنی دیر میں بات بنا لی تھی-

”مگر تم اس کے پاس دوبارہ کیا کرنے گئے تھے-“ انسپیکٹر نے پھر پوچھا-

”جی– وہ میں سچائی کا پتہ لگانا چاہتا تھا- اور جو کچھ بھی ہو رہا تھا مجھے کسی سازش کی بو آرہی تھی-“ نتن نے لمبی سانس لے کر اپنے آپ کو اگلے سوال کے لئے تیار کیا-

”اس عامل سے ملے ہو تم-“ انسپیکٹر کا اگلا سوال-

”جی نہیں-نتن کے ایسا کہتے ہی اس کے ساتھ بیٹھے رویندر نے اس کو حیرت سے دیکھا- نتن نے ا س کا ہاتھ دبا کر چپ رہنے کا اشارہ کیا تو وہ بپھر گیا-

”میرا ہاتھ کیوں دبا رہے ہو بھائی- جو سچ ہے- وہ بتاﺅ نا- کل تم نے خود مجھے بتایا تھا کہ -“

نتن نے بوکھلا کر اس کی طرف دیکھا- ”وہ میں نے یونہی کہہ دیا تھا یار- تاکہ تمہیں اس کی بات پر یقین ہوجائے-“

”کمال ہے نا- تم سچائی کا پتہ لگانا چاہتے تھے – مگر عامل سے ملے بنا ہی تمہیں اس پر یقین آگیا- تم ہر حالت میں یہ چاہتے تھے کہ روہن کو شروتی کی بات پر- یا میں اس کو صحیح کرکے کہوں تو تمہاری بنائی ہوئی بات پر یقین ہوجائے- اس لئے تم نے اس کو جھوٹ بول دیا کہ میں عامل سے مل چکا ہوں- جب تم کسی عامل سے ملے ہی نہیں تو چھان بین کیا کی تم نے-“ انسپیکٹر کرسی سے کھڑا ہوگیا-

نتن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا- وہ چپ بیٹھا سامنے دیکھتا رہا-

”بولتے کیوں نہیں؟-“ انسپیکٹر واپس کرسی پر بیٹھ گیا- شیکھر اور امان جو ‘ اب تک پریشان سے بیٹھے تھے وہ بھی معاملے میں دلچسپی لینے لگے تھے-

”اب میں کیا کہوں سر- آپ خواہ مخواہ بات کو گھما پھرا کر دیکھ رہے ہیں-“ نتن بے چین سا ہو رہا تھا-

”ایک بات بولوں- تم پڑھے لکھے دکھائی دیے ہو اس لئے اپنا سر کھپا رہا ہوں- ورنہ یہاں باتوں کو گھمانے کی ضرورت نہیں پڑتی- ہاتھ گھمانے سے کام جلدی بن جاتا ہے- وہ چیخیں سن رہے ہو نا تم-“ انسپیکٹر نے طیش میں آکر کہا-

”جی-“ نتن اور کچھ نہیں بولا-

”اب دھیان سے سنو- جتنی کہانی میری سمجھ میں آئی ہے- وہ مجھ سے سنتے جاﺅ- اور بیچ بیچ میں میرے سوالوں کو نوٹ کرتے جانا اور آخر میں سب کا جواب ایک ساتھ دینا- ورنہ میں بھول جاﺅں گا کہ تم بھی میری طرح انسان ہو- “ انسپیکٹر نہایت تلخ لہجے میں بات کر رہا تھا-وہ دوبارہ گویا ہوا-”مجھے نہیں پتہ کہ سپنے والا کیا ڈرامہ تھا اور نہ ہی میں اس کا ذکر کروں گا- مگر جب روہن عمر کوٹ آگیا تو جانے تمہیں کیا کھجلی مچی کہ تم شروتی سے ملے- پتہ نہیں کیسے اور کیوں- مگر تم نے روہن کے سپنے والی بات کا فائدہ اٹھانے کے لئے شروتی کو زبردستی اپنے ساتھ ملایا اور کہیں روہن تمہارے ہاتھ سے نہ نکل جائے اس لئے تم شروتی کو یہاں لے آئے- تم نے اس کو وہ باریک سی نائٹی پہنائی اور روہن کے کمرے میں بھیج دیا- اس کے پاس طرح کا کوئی اور لباس کیوں نہیں ملا- ثبوت ہیں اس کے وہ کپڑے جو اس نے کل دن میں پہن رکھے تھے اور رات کو تمہارے باتھ روم میں ملے- کچھ کہنا چاہتے ہو اس بارے میں؟-“

”مجھے نہیں پتہ کہ اس کے کپڑے میرے باتھ روم میں کیسے آئے- ہوسکتا ہے جب میں باہر تھا تو وہ باتھ روم میں لباس بدلنے گئی ہو- سر آپ-“ نتن کے ماتھے پر پسینہ چھلک آیا- اس کو احساس ہوچکا تھا کہ وہ گھرتا جا رہا ہے- اسے امید نہیں تھی کہ ایک چھوٹے سے شہر کا عام سا دکھائی دینے والا یہ پولیس آفیسراپنی ذہانت سے شہری پولیس کو بھی مات کر دے گا-

”میں بھلا اس کو کوئی بھی نائٹی پہننے کے لئے کیوں دوں گا — میرا کیا فائدہ ہوتا اس میں-“

” یہی تو مجھے پتہ کرنا ہے کہ تمہارا کیا فائدہ ہوتا- خیر- شروتی کوئی بچی نہیں تھی- اگر وہ یونہی تمہارے کمرے میں کپڑے بدلنے گئی ہوتی تو اپنے کپڑے کبھی وہاں نہ چھوڑتی- خاص طور پر وہ اپنے زیر جامے تو ہرگز وہاں سے نہ ملتے- شروتی ایک غیرت مند لڑکی تھی جس کو تم نے طوائف کے طور پر روہن کے سامنے پیش کر دیا-“ انسپیکٹر کی اس بات پر سامنے بیٹھے سبھی لوگوں کے منہ حیرت سے کھل گئے-

”مم- میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا سر کہ آپ کہہ کیا رہے ہیں-“

”ابھی سمجھ میں آجائے گا-“ انسپیکٹر کسی کو آواز دیتا ہے-”وہ شروتی کا خط لے کر آنا-“

نتن کا چہرہ حیرت اور خوف سے سفید پڑنے لگا-

”جی صاحب لایا-“

او ر ایک سپاہی آکر انسپیکٹر کے ہاتھ میں خط دے گیا-

”سنو- شروتی نے کہا لکھا ہے مرنے سے پہلے—- روہن- مجھے معاف کردینا- میں نے جو کچھ بھی کیا تھا وہ تمہارے ہی دوست کے دباﺅ میں آکر کیا تھا-“

انسپیکٹر خط پڑھ ہی رہا تھا کہ نتن نے جھپٹا مارا اور اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا وہ خط کو نگل چکا تھا- یہ خط ہی اسے پھانسی کے پھندے تک پہنچا سکتا تھا-

”ہاں میں نے ہی کیا اس کا خون-“ نتن کرسی سے اٹھ کر اپنا سر پکڑ زمین پر بیٹھ گیا اور رونے لگا-

انسپیکٹر زور کا قہقہہ لگا کر ہنسا-

روہن کرسی سے اٹھا اور ایک زور کی لات نتن کی پیٹھ پر رسید کی- ”کمینے-“ اور روہن بھی اپنا سر پکڑ کر دیوار کے سہارے کھڑا ہوگیا-

”ذرا آرام سے- ابھی تو اس کو بہت کچھ بتانا باقی ہے-“ انسپیکٹر نے نتن کو گریبان سے پکڑا اور کرسی پر بٹھا دیا- ”اب تم آرام سے سب بتا رہے ہو یا-“

کرسی پر بیٹھا ہوا نتن ایک گہری سانس لے کر کسی مشین کی طرح شروع ہوگیا-

”مجھے آج احساس ہو رہا ہے کہ دوست کی دولت ہڑپنے کے چکر میں ‘ میں کس حد تک گر گیا ہوں- اس کے خواب پر مجھے تب بھی یقین نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے- مگر میرے دماغ کو اس بات سے فائدہ اٹھانے کی ہوس نے اس قدر جکڑا کہ میں گرتا چلا گیا- میں شروتی کو زبردستی اپنی بند ہوچکی فیکٹری میں لے گیا- وہاں اس کو ڈرایا اور اپنے ساتھ تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا- میں نے اس کی سی ڈی بنالی تھی- اس کو بلیک میل کرکے میں نے اس کو اپنے ساتھ سازش میں شامل کر لیا- میں چاہتا تھا کہ وہ روہن کے ساتھ شادی کرکے طلاق لے لے اور قانوناً اس کی آدھی جائیداد کی حقدار بن جائے- پھر اس سی ڈی کے دم پر سب کچھ میرا ہی ہونا تھا- پلان یہ تھا کہ میں شروتی سے کہلوا کر روہن کو یقین دلواﺅں کہ شروتی ہی وہ نیرو ہے جو اس کے خوابوں میں آتی ہے- اس کے بعد یہ اس سے آرام سے شادی کر لیتا- مگر جب اس نے مجھے بتایا کہ اس کو یہاں بھی کوئی نیرو مل گئی ہے تو مجھے سب کچھ مٹی میں ملتا نظر آنے لگا- اس لئے میں نے اس کو زبردستی یہاں آنے کے لئے تیار کیا- سب ٹھیک چل رہاتھا لیکن جب اس نے مجھے بتایا کہ روہن کو ا س کی کہانی پر یقین نہیں ہوا تو میں دوسرا طریقہ اپنانے پر مجبور ہوگیا جو پہلے ہی میرے دماغ میںتھا- میں نے شام کو ہی روہن کے کمرے میں کیمرہ فٹ کر دیاتھا- شروتی کو میں نے بول دیا تا کہ میں نے روہن کے کمرے میں کیمرہ فٹ کر دیا ہے اور میں اس کی ہر حرکت پر نظر رکھوں گا- اور یہ بھی کہ اگر اس کو اپنے ساتھ تعلق قائم کرنے پر مجبور نہیں کر پائی تو اس کو میرے پاس سونا پڑے گا- میں نے اس کو وہ نائٹی پہنائی اور روہن کے پاس بھیج دیا- یہاں پر میرا داﺅ الٹا ہوگیا- روہن شاید ان کپڑوں کی وجہ سے ہی چڑ گیا اور اس کو کمرے سے باہر نکال کر اس کے کمرے میں چھوڑ آیا- بعد میں میں نے اس کو کئی فون کئے مگر اس نے فون نہیں اٹھایا- میں اس کے کمرے میں گیا تو وہ پنکھے سے جھول رہی تھی- نیچے خط رکھا ہوا تھا- میرے پاس اب کچھ بچا نہیں تھا- میں نے چپ چاپ خط اور اس کا فون اپنی جیب میں رکھا اور باہر نکل آیا- پھر بھی میں مانتا ہوں کہ اس کا قاتل میں ہی ہوں-“ نتن پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا-اور ساتھ ہی روہن بھی بری طرح سے رو رہا تھا-

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے