سر ورق / افسانہ / خواب تعبیر۔ ..کبیر عباسی۔

خواب تعبیر۔ ..کبیر عباسی۔

ایک مختصر مزاحیہ تحریر۔

عنوان:خواب تعبیر۔

تحریر: کبیر عباسی۔

٭٭٭

اگر تعیشات کو ضروریات بنا کے گھر کے تمام افراد انہیں حاصل کرنے کی کوشش میں جت جائیں تو کچھ ایسی ہی صورت حال بن جاتی ہے۔

٭٭٭

نبیل سویا ہوا تھا کہ اچانک دروازہ بند ہونے کی آواز سن کے اس کی آنکھ کھل گئی۔وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا۔آج اس کا آف ڈے تھا،اس لئے اس نے الارم بھی نہیں لگایا ہوا تھا۔چند لحظے وہ خالی خالی نظروں سے دروازے کو گھورتا رہا۔دفعتاً وہ چونکتے ہوئے ننگے پاؤں ہی باہر کی طرف بھاگا۔کمرے کا دروازہ لاؤنج میں کھل رہا تھا۔لاؤنج کا دروازہ کھول کے وہ پورچ سے ہوتا ہوا گیٹ پہ پہنچا۔گیٹ کھول کے اس نے باہر جھانکا ۔اس کے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔وہ ہیل پر ٹک ٹک کرتے بے نیازی سے گلی کے دوسرے کونے پہ مڑ رہی تھی۔اسے جاتے دیکھ کے اس کا منہ ایسے لٹک گیا جیسے ایک بار اس نے ایوبیہ میں درخت کے ساتھ بندر لٹکا دیکھا تھا۔

وہ لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ اندر کی طرف پلٹا۔کچن کی ابتر حالت دیکھ کے اس کے لٹکے ہوئے منہ کی لمبائی میں مزید اضافہ ہو گیا۔سنک میں رات کے گندے برتن پڑے ہوئے تھے۔کاؤنٹر پہ بے ترتیب حالت میں چیزیں پھیلی ہوئی تھیں۔اس کی نظر ڈبل روٹی کے آدھے پیک پہ ٹک گئی ۔اس کی آنکھیں چمکیں اور لٹکا ہوا منہ اصل حالت میں واپس آ گیا۔

اس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے،انہیں روکنے کی سبیل اسے نظر آ گئی تھی لیکن ان تک ڈبل روٹی پہنچانے کے لئے اسے مددگا ر شے کی ضرورت تھی۔یہ شے اسے فرج سے ملنے کی توقع تھی۔اس نے فرج کھولا ۔دودھ،جوس،جیم،شہد ،مکھن فرج میں کچھ بھی موجود نہیں تھا، صرف تین انڈے رکھے ہوئے تھے ۔انڈوں کو مددگار بنانے سے آسان اس کے لئے ڈبل روٹی کو اکیلے ہی ”سفرِپیٹ“ پہ روانہ کرنا تھا۔اس نے کوشش کی لیکن ٹوسٹ نے اس کے حلق سے آگے اکیلے جانے سے انکار کر دیا۔وہ کھانسنے لگا۔اس کوشش میں ناکامی کے بعد اب اس مسئلے کا اسے ایک ہی حل نظر آ رہا تھا،یہ الگ بات کہ یہ حل بھی اس کے لئے مسئلہ ہی تھا۔

انڈہ بنانا تو اتنا آسان ہے جیسے اے بی سی۔“اس کے زہن میں اپنے ایک دوست کا مقولہ گونجا تو اس کے دل کو ڈھارس سی ہوئی۔ اس نے پورے جذبے کے ساتھ فرج کھولا،مگر انڈوں کی” معصوم صورتیں“ دیکھ کے اس کا سارا جذبہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔وہ ایک انڈہ ہاتھ میں لے کے اسے ایسے گھورنے لگا جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو۔

’’ہمت کر نبیل۔۔۔“اس نے خود کو شرم دلائی۔اسے شرم تو نہ آئی تاہم پیٹ میں دوڑتے چوہوں کی بدولت اس میں تھوڑی ہمت پیدا ہو ہی گئی۔

انڈہ کاؤنٹر پر رکھ کے وہ متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔”یہ ماچس کدھر چلی گئی؟“وہ بیزاری سے بولا۔

کچن کا کونا کونا چھان مار لینے کے بعد بھی اسے ماچس نہ ملی ۔وہ انڈے کو بے بسی سے گھورتے ہوئے لاؤنج میں نکل آیا۔دفعتاً ایش ٹرے کے پاس رکھے لائٹر کو دیکھ کے اس کی آنکھوں میں چمک نمودار ہو گئی۔وہ لائٹر لے کے چولہے کے پاس آگیا۔ایک ہاتھ سے اس نے لائٹر تھاما اور دوسرے ہاتھ سے چولہے کا بٹن مروڑنے کی کوشش کرنے لگا۔پہلی کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے بٹن کو دبا کے موڑا تو آٹومیٹک چولہا یکدم ہی جل اٹھا۔وہ ڈر کے پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھ میں دبے لائٹر کو گھورنے لگا۔”کمال ہے۔۔۔بند لائٹر سے بھی آگ لگ جاتی ہے۔“وہ حیرانی سے بولا۔

اس نے فرائنگ پان چولہے پہ رکھ کے اس میں ڈھیر ساراکوکنگ آئل انڈیلا۔انڈہ اٹھا کے اس نے بے بسی سے اسے دیکھا اور نزاکت سے انڈے کا نوکیلا سرا کاؤنٹر کے ساتھ بجایا۔انڈہ نہیں ٹوٹا۔دوسری بار اس نے تھوڑا زیادہ زور سے انڈہ کاؤنٹر پر مارا،لیکن اس بار بھی انڈہ نہیں ٹوٹا۔”کمال ہے ،یہ اتنا سخت ہوتا ہے۔“وہ حیرانی سے انڈے کو گھورتے ہوئے بولا۔

انڈے پہ غصہ تھا یا اپنی بے بسی پہ طیش اس نے اب کی بار،انڈہ زور سے کاؤنٹر پر دے مارا ۔نازک سا انڈہ اتنا طیش جھیل نہ سکا اور ٹوٹ کے ادھر ہی پھیل گیا۔”اوئی اللہ۔۔۔“بے اختیار ہی اس کے منہ سے نکلا۔

اب اس کے پاس دو انڈے بچے تھے۔”لگتا ہے انڈہ توڑنے کا طریقہ سیکھنے کے لئے بھی گوگل چاچا سے مدد لینا پڑے گی۔“وہ خود سے کہتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔سیل پہ اس نے گوگل میں لکھا۔”how to break an egg?“

یوٹیوب پر ویڈیو دیکھتے ہوئے اس نے دوسرا انڈا نکال کے کاؤنٹر کے کنارے پر مارا۔اس بار اس نے انڈہ سائیڈ سے مارا تھا۔انڈے پہ لگی ٹھیس کا ویڈیو سے موازنہ کر کے وہ مسکرانے لگا۔اس نے سیل سائیڈ پر رکھ کے انڈے کو دونوں اطراف سے پکڑ کے دبایا ۔ناتجربہ کاری کے باعث انڈہ اس کے ہاتھوں میں ہی ٹوٹ گیا۔انڈے کی ساری زردی اس کے کپڑوں پہ گر گئی۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔

اس نے کپڑوں سے ہی اپنے ہاتھ صاف کئے اور پھر ویڈیو بغور دیکھنے لگا۔تیسرا انڈہ فرج سے نکال کے وہ خود سے بولا۔”چل بے نبیل،اب آخری چانس ہے۔آر یا پار۔‘‘“

اس نے اس بار احتیاط سے انڈہ دبا کے کوکنگ آئل سے بھرے فرائنگ پین میں ڈالا،لیکن اتنی دیر میں کوکنگ آئل ابل چکا تھا۔تیل کے چھینٹے اس کے ہاتھ پہ پڑے تو وہ تڑپ کے پیچھے ہٹا۔پیچھے ہٹتے ہوئے اس کا ہاتھ فرائنگ پین کے ہینڈل سے ٹکرایا۔فرائنگ پین الٹ کے نیچے گرا۔نبیل اتنی تیزی سے کچن سے باہر نکلا جیسے اس کے پیچھے بلائیں لگی ہوئی ہوں۔باہر آ کے وہ مسمی سی صورت بنا کے اپنی خالی پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔”یہ نہ تھی تمھاری قسمت کے وصال انڈہ ہوتا۔“

پیٹ اشعار کی زبان کہاں سمجھتا تھا،وہ بھوک کی وجہ سے دہائیاں دینے لگا۔ان دہائیوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔وہ ڈائننگ ٹیبل پہ اپنے منہ ہاتھوں کے پیالے میں رکھ کے بیٹھ گیا۔اس کے چہرے پہ زمانے بھر کی مسکینیت درج تھی۔

٭٭٭

”بھائی میں نے شادی کر نی ہے۔“رات کو ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھے وہ اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے یکدم بولا۔یہ فیصلہ اس نے صبح پانی سے ٹوسٹ نگلتے ہوئے ہی کر لیا تھا۔دن کے وقت خالی پیٹ اٹھنے والی اینٹھن نے اس فیصلے کو تقویت بخشی تھی۔اس کے ماں باپ کاتین ماہ پہلے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔اس کے بعد سے وہ بھابھی کا محتاج ہو کے رہ گیا تھا۔وہ اگر صبح جلدی اٹھتا تو بھائی کے ساتھ کھانا اسے بھی مل جاتا تھا لیکن اسے دیر ہو جاتی تو بھابھی اس کے لئے ناشتہ بنا کے نہیں جاتی تھیں۔اس کی اسی ماہ جاب ہوئی تھی،ابھی پہلی سیلری ملی ہی نہیں تھی۔ماہانہ بھائی سے ملنے والا جیب خرچ جوئے کی نذر ہو گیا تھا۔اب وہ اپنے دوستوں سے ادھار لے لے کے گزارا چلا رہا تھا۔سو اس مسئلے کا دیرپا حل اس کے نزدیک شادی ہی تھا۔اس کے ابو اس کی شادی کے لئے رقم چھوڑ گئے تھے،یہ الگ بات کہ وہ رقم اس کے بھائی کے قبضے میں تھی۔اس لئے وہ شادی کے لئے جمیل بھائی سے کہہ رہا تھا۔

”شادی !وہ کیوں؟“جمیل بھائی حیرانی سے بولے۔

”شادی کیوں کرتے ہیں بھلا؟“وہ خفگی سے بولا۔

”انڈہ بنوانے کے لئے۔“نوشین بھابھی نے طنز کیا۔

نبیل اپنی پلیٹ پہ جھک گیا۔جمیل بھائی کو تو جیسے کرنٹ لگ گیا۔”کیا مطلب،انڈہ بنوانے کے لئے بھی کوئی شادی کرتا ہے بھلا۔“

”ہاں تو اور کیا،آج میں لیٹ ہو رہی تھی تو ناشتہ بنائے بغیر چلی گئی۔آپ کے لاڈلے نے انڈہ بنانے کی کوشش میں آدھ درجن انڈے توڑ کے کچن میں پھیلا دئیے۔پورا ڈبا کوکنگ آئل کا الگ ضائع کیا،فرائینگ پین الگ جلایا،لیکن انڈہ پھر بھی نہ بنا ان سے۔“وہ تین کے ساتھ چھ لگاتے ہوئے طنزیہ انداز میں بولیں۔

”اوہو،یہ مسئلہ تو واقعی گھمبیر لگ رہا ہے،لیکن تمھاری تو ابھی نئی نئی جاب ہوئی ہے۔کیسے مینیج کرو گے سب۔“

”جیسے آپ کرتے ہیں۔“وہ بڑبڑایا۔

”کیا مطلب۔“جمیل بھائی نے تیوری چڑھائی۔

”وہ عائزہ کی جاب بہت اچھی ہے، جیسے بھابھی کی ،تو ہم دونوں مل کے بھی مینیج کر لیں گے ناں۔“وہ انہیں معنی خیز انداز میں یکھتا ہوا بولا۔

جمیل نے طنز پہ اسے خفگی سے گھورا اوربزرگانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے بولے۔”نہیں بھئی،ابھی تمھاری شادی نہیں ہو سکتی،پہلے اپنے پاؤں پہ تو کھڑے ہو جاؤ۔“

”ہاں ،تا کہ تب تک یہ روز انڈوں سے ہی کھیلتا رہے۔“نوشین بھابھی نے طنزیہ انداز میں کہا۔

جمیل بھائی اپنی بیوی کو اپنے خلاف جاتے دیکھ کے دھیمے سے بولے۔”سیکھ جائے گا،وقت سب سکھا دیتا ہے۔“

”جتنا بیوی سکھا سکتی ہے ،اتنا وقت نہیں سکھا سکتا۔“وہ معنی خیز نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا کے بولیں۔

جمیل بھائی نے گڑ بڑا کے نبیل کو دیکھا۔وہ مسکراتے چھپانے کے لئے پلیٹ پر جھک گیا۔

”تمھارا مطلب ہے اس کی شادی کرا دینی چاہیے؟“

”تو اور کیا ہے ؟یہ کہہ رہا تو ہے کر دیں اس کی شادی،میں اکیلی جان،جاب بھی اور ساتھ تم دونوں کی خدمتیں بھی۔مجھ سے نہیں ہوتا اب یہ سب۔“وہ غصے سے کہتے ہوئیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔جمیل بھائی انہیں غصہ ہوتے دیکھ کے گھبرا گئے۔

وہ اپنے ہاتھ سے بنے کھانے کو غمزدہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولے۔”اچھا،تم کہتی ہو تو کرتے ہیں کچھ۔“ نبیل کا دل یہ مژدہ جاں فزا سن کے بلیوں اچھلنے لگا۔

٭٭٭

”نبیل،اٹھیں ناں۔میں نے ناشتہ بنا لیا ہے۔آئیں مل کے ناشتہ کرتے ہیں۔“عائزہ پیار سے اس کا گال سہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

”پلیز ،تھوڑی دیر اور سونے دو ناں۔“وہ اس کا ہاتھ تھام کے بند آنکھوں کے ساتھ بولا۔

”اچھا،آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔میں آفس تھوڑی دیر سے چلی جاؤنگی۔“وہ فرمانبرداری سے کہتے ہوئے اس کے بال سہلانے لگی۔بنیل کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ ایسے ہی سب لوگ بیویوں کو بدنام کرتے رہتے ہیں۔اسے کتنا خیال رکھنے والی بیوی ملی ہے۔

”جانو،تم آج چھٹی نہیں کر سکتی۔“وہ اپنے ہاتھ اس کے طرف بڑھاتے ہوئے رومانوی لہجے میں بولا۔

وہ کسمسا کے اٹھ کھڑی ہوئی۔”چھٹی کر لونگی،مگر آپ پہلے اٹھ کے ناشتہ تو کر لیں۔“

”اچھا اٹھتا ہوں۔چائے تو لا دو۔چائے پئے بغیر تو اب آنکھ ہی نہیں کھلتی۔“وہ اس کے لاڈ اٹھا رہی تھی تو وہ کیوں نہ اٹھواتا۔

”اوکے،میں ابھی آپ کے لئے چائے لاتی ہوں۔“اس کی آواز تھیں یا مدھر گھنٹیاں۔اس کی نیند گہری ہونے ہی لگی تھی کہ اس نے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی ۔اس کی آنکھ کھل گئی۔وہ مسکراتے ہوئے بند دروازے کو دیکھنے لگا۔دفعتاً اسے گیٹ کی آواز آئی وہ چونک گیا۔یکدم اسے احساس ہوا کہ وہ خواب دیکھ رہا تھا۔وہ اٹھ کے ننگے پاؤں باہر کی طرف بھاگا۔گیٹ سے باہر جھانکتے ہوئے اسے  اپنی بیوی عائزہ کی جھلک نظر آ ئی۔اس نے رات نبیل کو بتایا تو تھا کہ صبح اس نے آفس جانا ہے لیکن وہ اسے اٹھائے بغیر یوں صبح آفس چلی جائے گی اس کا اس نے سوچا بھی نہ تھا۔

وہ لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ پلٹا۔کچن کی حالت ابتر تھی۔کاؤنٹر پرکھلا ہوا ڈبل روٹی کا پیک پڑا تھا۔اس نے فرج کھولا۔فرج میں صرف ایک انڈہ رکھا تھا۔اس کی نظروں کے سامنے تین ماہ قبل والا واقعہ گھومنے لگا جب تین انڈوں نے مل کے اس کی حالت خراب کر دی تھی۔انہوں نے جان دے دی تھی لیکن اس کے کسی کام نہیں آئے تھے۔اس انڈے کے کے عزائم بھی ویسے ہی لگ رہے تھے۔وہ بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔

ختم شد۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء بارہ بجے تک تو عوامی وقت ہی ختم ہوتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے