سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 51 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 51 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 51

سید انور فراز

ماضی میں جھانکنا خاصا پرلطف کام ہے لیکن یہ کام ایک خاص وقت میں شروع ہوتا ہے، جب عمر کی نقدی ختم ہورہی ہوتی ہے، ہمیں یاد ہے کہ جب جوانی میں کبھی ہم پرانی باتیں کر رہے ہوتے تو کوئی نہ کوئی یار دوست ٹوک کردیا کرتا تھا ”ابے کیا بڈھا ہوگیا ہے؟“

ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کبھی پلٹ کر اپنے ماضی کی طرف نہیں دیکھتے، ہمیشہ ان کی نظر مستقبل پر ہوتی ہے، خواہ وہ کتنے ہی عمر رسیدہ کیوں نہ ہوچکے ہوں لیکن ایسے بھی لوگ نظر سے گزرے جو جوانی میں بھی اپنے پرانے قصے یا باتیں دہراتے نظر آئے، اب ایک طویل عرصے سے شاید ایک سال تو ہوگیا ہے، ہم پرانے قصے اور پرانی باتیں یاد کر رہے ہیں، اگرچہ اس کا زیادہ حصہ ہمارے ڈائجسٹ کیرئر سے متعلق ہے اور ابھی تک ذاتی زندگی کی بہت سی باتیں یا کتھائیں باقی ہیں، بہر حال بھائی امجد جاوید کی محبت ہے کہ یہ سلسلہ کسی نہ کسی طور جاری ہے، اگرچہ اب لکھنے کی پہلے جیسی رفتار نہیں رہی ہے اور کبھی کبھی یہ بھی خیال آتا ہے کہ بس بہت ہوگیا ، فی الحال اتنا کافی ہے لیکن پھر امجد جاوید یاد دہانی کراتے ہیں کہ اب تک نئی قسط نہیں آئی تو ہم دوبارہ پرانی یادوں کو تازہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔

جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں جیسا کہ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں ، معراج صاحب کی مستقل بیماری کے بعد خاصی افراتفری رہی، علی عمران آفاقی بھی شاید سال بھی پورا نہیں گزار سکے اور ادارہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے، وہ اکثر ہمارے پاس آتے تھے اور بعض افراد کے نامناسب رویے کی شکایت کرتے تھے، ان کے بعد شکیل عدنان کو لایا گیا لیکن وہ بھی زیادہ دن نہ گزار سکے اور سب رنگ ڈائجسٹ میں چلے گئے۔

اسی زمانے میں سب رنگ ڈائجسٹ کے حوالے سے ایک نئی صورت حال پیدا ہوئی، شکیل عادل زادہ نے سب رنگ ڈائجسٹ کا ڈکلیریشن ملک راشد صاحب کے ہاتھ فروخت کردیا، ملک راشد کے والد شکیل صاحب کے اور معراج صاحب کے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ کراچی کے تمام ہی ڈائجسٹوں کے مالکان کے پرانے دوستوں میں شامل تھے ، وہ دبئی میں کاروبار کرتے تھے، پاکستان کے تقریباً تمام ہی رسائل ان کے پاس تھے ، بڑے ملک صاحب کا انتقال ہوا تو ان کے صاحب زادے ملک ارشد یا راشد (درست نام ہمارے ذہن میں نہیں ہے) نے کاروبار سنبھال لیا اور خدا معلوم کیوں انھیں سب رنگ کو دوبارہ زندہ کرنے کا خیال آیا، شکیل صاحب سے معاملات کس طرح طے ہوئے اس کی تفصیل بھی ہمیں نہیں معلوم، نہ کبھی ہم نے شکیل صاحب سے پوچھی ، البتہ یہ ضرور معلوم ہوا کہ انھوں نے پرچا ملک ارشد صاحب کو دے دیا ہے، وہ اس پرچے میں ایڈیٹر اور رائٹر کی حیثیت سے کام کریں گے۔

ابتدا میں شاید دو تین شمارے اس طرح شائع ہوئے ، شکیل صاحب نے تقریباً تمام ادارتی عملہ اپنی پسند ہی کا رکھا تھا لیکن پھر ایک روز معلوم ہوا کہ شکیل صاحب مکمل طور پر سب رنگ سے علیحدہ ہوگئے ہیں اور اب پرچے کو کسی نئے ایڈیٹر کی ضرورت ہے۔

انور سن رائے ان دنوں بی بی سی لندن میں جاب کر رہے تھے ، وہ سال دو سال میں جب کراچی آتے تو لازم تھا کہ ہم ان سے ملنے ضرور جاتے، انہی دنوں انور کراچی آئے ہوئے تھے اور ہم ان کے گھر میں بیٹھے تھے، وہاں موجود دیگر افراد میں پروین راو اور ستار میمن بھی تھے جو ان دنوں سب رنگ ڈائجسٹ کے شاید سرکولیشن منیجر وغیرہ تھے،ہماری ان سے شناسائی اُس زمانے سے تھی جب وہ اقبال پاریکھ کے انداز ڈائجسٹ سے وابستہ تھے، اچانک انھوں نے ہم سے کہا ”سب رنگ کے لیے کام کروگے؟“

ہم چونکے ، اس وقت تک ہمیں معلوم نہیں تھا کہ شکیل صاحب سب رنگ سے علیحدہ ہوگئے تھے، ہم نے انور کی طرف دیکھا، انور نے مثبت اشارہ دیا، اس کے بعد ہم نے ستار میمن سے تفصیل پوچھی تو ساری صورت حال سامنے آگئی، ہمیں کسی جاب کی یا بڑے مالی فائدے کی ہر گز ضرورت نہیں تھی لیکن سب رنگ کی ادارت کا شوق ضرور تھا، ہم نے سوچا کہ یہ ہمارے لیے ایک اعزاز کی بات ہوگی اور اگر ہم سب رنگ کو دوبارہ اس کے مقام پر لاسکے تو یہ بھی ایک یادگار کارنامہ ہوگا، چناں چہ ہم نے اپنی آمادگی ظاہر کردی اور یہ طے ہوا کہ پہلے ایک ملاقات ملک راشد صاحب سے کرلی جائے ۔

ملک راشد صاحب بڑی مضبوط پوزیشن کے آدمی تھے، پیسے کی انھیں کوئی کمی نہیں تھی، رسائل و اخبارات کی ڈسٹری بیوشن کا کام انھیں ورثے میں ملا تھا، اب نہ معلوم کیوں وہ پبلشنگ کے میدان میں قدم رکھنا چاہتے تھے، سب رنگ کے علاوہ ایک نیوز پیپر بھی نکالنے کا پروگرام تھا جو پاکستان کے علاوہ مڈل ایسٹ سے بھی شائع ہوتا، ہمیں معلوم ہوا کہ ان کا موجودہ دفتر کراچی میں ہمارے ڈیفنس کے موجودہ کلینک کے قریب ہی ہے یعنی ہمارے کلینک سے جتنا فاصلہ جاسوسی ڈائجسٹ کے دفتر کا ہے ، اتنا ہی فاصلہ ان کے آفس کا تھا اور سب رنگ کے علاوہ ”الشرق“ کے نام سے ڈیلی نیوز پیپر بھی شائع ہورہا تھا۔

چند روز بعد ہی ہم ان سے ملاقات کے لیے دفتر پہنچ گئے تو بڑے حیران ہوئے، دفتر میں تقریباً تمام ہی افراد ہمارے پرانے دوست احباب یا واقف کار تھے، الشرق کے ایڈیٹر ہمارے پرانے کرم فرما ، بڑے بھائیوں جیسے سید صفدر علی صفدر تھے ، دفتر کے کونے میں حضرت حنیف عابد سے بھی ملاقات ہوئی جو ہمارے روزنامہ جرات کے ساتھیوں میں ہیں، بہر حال ملک صاحب سے بڑی خوش گوار ملاقات رہی اور بہت سے امور زیر بحث آئے، صفدر بھائی نے بھی ہماری حوصلہ افزائی کی اور ملک صاحب کی بھی بہت تعریف کی ، اسی دفتر میں ایک اور صاحب سے ملاقات ہوئی جو صفدر بھائی کے کمرے میں ملے اور یہ جان کر کہ ہم ہومیوپیتھک ڈاکٹر بھی ہیں، وہ ہم سے خاصے بے تکلف ہوگئے،انھوں نے اپنا ایک پیچیدہ مسئلہ بھی بیان کیا اور ہمارے کلینک آنے کا وعدہ کیا، دوسرے روز وہ کلینک آگئے، ہم نے انھیں دوا دی، صفدر بھائی سے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ وہ ملک صاحب کے بے حد قریب ہیں اور غالباً شعبہ ءاشتہارات کو وہی دیکھتے ہیں۔

جب وہ ہمارے کلینک آئے تو انھوں نے بہت سی باتیں ملک صاحب کے حوالے سے ہمارے گوش و گزار کیں جو مثبت بھی تھیں اور منفی بھی، خاصے چرب زبان تھے، ہم نے اپنے طور پر سب رنگ میں اس وقت موجود دیگر ادارتی عملے کے بارے میں معلومات کیں تو ان میں بھی ہمارے ایک شاعر دوست موجود تھے جن سے ہمیں کبھی بہت پہلے منظر امام نے ملوایا تھا، ہماری ملک صاحب سے ملاقات کی خبر حسب توقع سب طرف پھیل گئی تھی اور اب ادارہ جاسوسی سے بھی بعض لوگ ہم سے رابطہ کر رہے تھے، ہمارے کلینک آکر اپنے دکھڑے رو رہے تھے، حیرت انگیز طور پر آرٹسٹ شاہد حسین بھی ایک روز اچانک کلینک آگئے، حالاں کہ ہمارے ادارہ چھوڑنے کے بعد وہ کبھی ہم سے ملنے نہیں آئے تھے، شاہد نے بھی بڑے اصرار کے ساتھ ہم سے کہا کہ اگر سب رنگ میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو میں ادارہ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں، ہم نے اسے بتایا کہ فی الحال کوئی بات ابھی تک فائنل نہیں ہوئی ہے، اگر معاملات طے ہوگئے تو میری نظر میں تم سے بہتر اور کوئی نہیں ہوگا۔

پہلی ملاقات کے بعد ملک صاحب سے مزید کئی ملاقاتیں ہوئیں اور ہم نے اندازہ لگایا کہ ان کے مثبت اور منفی پہلووں میں بعض منفی پہلو ایسے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ کام نہیں کرسکتے، سب سے خراب بات یہ تھی کہ وہ خود ایک خالص کاروباری ذہن رکھنے والے انسان تھے، علم و ادب سے انھیں کوئی علاقہ نہیں تھا، مزید یہ کہ ان کے ارد گرد موجود افراد میں بھی کوئی بندہ ہمیں ایسا نظر نہیں آیا جو ڈائجسٹ یا فکشن کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو، چناں چہ ہم نے قدم روک لیے، کسی ایسے بندے کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہی تھا کہ ہم اسے اپنی بات اور ضرورت سمجھا نہیں سکتے تھے، ہمیں اندازہ تھا کہ اگر ہم کسی بڑے رائٹر سے کچھ لکھوائیں گے اور اس کا معاوضہ تحریر کے شایان شان دلوانے کی کوشش کریں گے تو ملک صاحب کے حاشیہ بردار شاید یہ برداشت نہ کرسکیں اور ہمارے خلاف ان کے کان بھرنا شروع کردیں۔

ہمارے خیال سے سب رنگ کو دوبارہ اس مقام پر لانے کے لیے جو اس کے شایان شان تھا، لازم تھا کہ اول صفحے سے آخر صفحے تک اعلیٰ ترین معیار کو اہمیت دی جائے اور یہ جب ہی ممکن تھا کہ مالک و پبلشر مالی معاملات میں کھلے دل و دماغ کا حامل ہو، گویا مغل اعظم کی تکمیل میں کسی شاپور جی پالن جی (فنانسر مغل اعظم) کی ضرورت تھی اور ملک ارشد اس معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، ہمارے نزدیک تو یہ بھی ضروری تھا کہ شکیل عادل زادہ صاحب کی ادھوری سلسلہ وار کہانی بازی گر بھی جاری رہے، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو، شکیل صاحب کو منانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے، سب رنگ سے شکیل صاحب کے عشق کا ہمیں اندازہ تھا اور ہمیں یقین تھا کہ ہم کسی نہ کسی طرح انھیں منالیں گے، اس زمانے میں بعض دیگر بہت اعلیٰ معیارکے مصنفین موجود تھے اور جاسوسی ڈائجسٹ کی انتظامیہ سے بد دل تھے، ان سے رابطہ کیا جاسکتا تھا اور انھیں سب رنگ کے لیے لکھنے پر راضی کیا جاسکتا تھا،اس سلسلے میں ہم اپنے ذاتی تعلقات اور اثرورسوخ بھی استعمال کرسکتے تھے، ہمارے ذہن میں اور بھی ایسے نام تھے جنہوں نے پہلے کبھی ڈائجسٹ کے لیے نہیں لکھا تھا لیکن ہم سمجھتے تھے کہ وہ بہت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں مگر اعلیٰ کارکردگی کے جواب میں حساس اور نازک مزاج تخلیق کاروں کا دل جیتنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی جائز ضروریات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے، مثال کے طور پر ہمارے ذہن میں ایک نام خلیل الرحمن قمر کا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں وہ ڈائجسٹ کے لیے پنجاب کے پس منظر میں گمراہ جیسا کوئی غیر معمولی سلسلہ لکھ سکتے تھے بہر حال یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی اور شکیل عدنان جو جے ڈی پی میں عدم اطمینان کا شکار تھے، سب رنگ میں چلے گئے، انھوں نے کافی شمارے سب رنگ کے نکالے لیکن وہی پرانا روایتی انداز اختیار کیا جو عام تھا جب کہ ضرورت اس کے برعکس تھی، نتیجے کے طور پر سب رنگ دوبارہ بند ہوگیا۔

کچھ عرصہ پہلے شاید دو سال قبل عزیزم عقیل عباس جعفری کی صاحب زادی کی شادی تھی، وہاں شکیل بھائی سے ملاقات ہوگئی، اس سے پہلے برادرم اخلاق احمد کے صاحب زادے کا شاید ولیمہ تھا وہاں بھی ملاقات ہوئی تھی اور انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سب رنگ کا ڈکلیریشن دوبارہ لے لیا ہے اور بہت جلد اشاعت کی امید ہے، عقیل والے پروگرام میں ہم نے پوچھا کہ جناب سب رنگ کب آرہا ہے؟

شکیل صاحب خاموش رہے اور بڑی حسرت بھری نظریں ہمارے چہرے پر جمادیں، ان کے ہمراہ اس وقت اخلاق احمد ، انیق احمد بھی تھے، انھیں مشکل میں دیکھ کر شاید انیق نے یا اخلاق نے کہا ”مسئلہ سرمائے کا ہے، اس کا انتظام ہو تو کوئی بات بنے“

سب رنگ کے چاہنے والوں کی دنیا بھر میں کوئی کمی نہیں ہے، اس حوالے سے اسلام آباد میں بھی بڑے خصوصی انتظامات کیے گئے اور سب رنگ کا ایک خصوصی گوشہ بھی قائم کیا گیا، ایک بار ہم نے سنا کہ روف کلاسرہ جو خود سب رنگ کے اور شکیل صاحب کے زبردست فین ہیں ، سب رنگ کے اجرا میں دلچسپی لے رہے ہیں مگر کوئی بات آگے نہ بڑھ سکی، اس قدر چاہنے والوں کے درمیان میں بھی سب رنگ اور شکیل صاحب بڑے تنہا ہیں، ایک ایسا میگزین جو اپنی شاندار روایات اور تاریخ رکھتا ہے، اسے مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے تھا، بے شک شکیل صاحب اب عمر کی اس منزل میں ہیں جہاں وہ کچھ زیادہ نہیں کرسکتے لیکن کسی کو تو اس بھاری پتھر کو چوم کر اٹھانے اور کسی مناسب مقام پر رکھنے کا خیال ہونا چاہیے، پاکستان میں ایسے دولت مندوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اس کام کو ایک ادبی کار خیر سمجھتے ہوئے جاری رکھنے میں معاون و مددگار ہوسکیں،کوئی ملک ریاض ، کوئی جہانگیر صدیقی، کوئی عقیل کریم ڈھیڈی، شعیب شیخ، سلطان لاکھانی اور خلیل نینی تال والا وغیرہ وغیرہ، سینکڑوں نام ہیں جو اپنی بے پناہ دولت میں سے چند کروڑ سب رنگ کے لیے وقف کرسکتے ہیں، صدقہ ءجاریہ کے طور پر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جس دور میں ہوش سنبھالا تھا، وہ دور ختم ہوگیا ہم رہ گئے ہمارے زمانے گزر گئے۔ حالاں کہ ہمارے زمانے میں علم و ادب ہی انسان اور انسانیت کی پہچان تھے، اب انسان اور انسانیت کی پہچان دولت ہے،خواہ وہ کسی بھی ذریعے سے حاصل کی گئی ہو، ایک بار ہم نے خلد آشیانی علی سفیان آفاقی صاحب سے پوچھا ”آپ نے فلمی دنیا کو خیر باد کیوں کہا اور آپ جیسا علم دوست ، ادب شناس امریکا جاکر ایک ریستوران کھول کر بیٹھ گیا! “

آفاقی صاحب کے چہرے پر ہمارا سوال سن کر تھوڑی سی سنجیدگی طاری ہوگئی تھی پھر انھوں نے بتایا کہ 70 ءکی دہائی میں فلمی دنیا سے شرافت ،عزت اور معیار رخصت ہوگیا تھا، بڑے بڑے اسمگلر ، ناجائز ذرائع سے دولت مند بننے والے فلم اسٹوڈیوز میں نظر آنے لگے تھے، انھوں نے اپنی ناجائز دولت سے فلمی سازی شروع کردی تھی، ان کی فرمائش صرف ایک ہوتی تھی کہ ہیروئن ”فلاں“ ہونی چاہیے ، باقی فلم میں کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا، یہ ڈائریکٹر جانے، چناں چہ ڈائریکٹر صاحب مطلوبہ ہیروئن سے فلم ساز کی مرضی کے مطابق شرائط طے کرکے ہیروئن کو سائن کرلیتے اور پھر فلم میکنگ شروع ہوجاتی، اس صورت حال میں اچھے فلم سازوں ، ہدایت کاروں اور دوسرے فنکاروں کے لیے انڈسٹری میں خود کو زندہ رکھنا خاصا مشکل ہوگیا تھا، مزید یہ بھی ہوا کہ اس قسم کے فلمی فنانسر غنڈہ گردی میں بھی کسی سے کم نہیں تھے، اسٹوڈیوز کا ماحول شرفا کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا تھا، چناں چہ ہم نے یہی مناسب سمجھا کہ اس ملک ہی کو خدا حافظ کہہ کر امریکا چلے جائیں اور جو کام بھی ہم کرسکتے ہیں،کریں۔

یہ الگ بات ہے کہ ایک قلم کار ریستوران چلانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا تھا، چناں چہ امریکا میں رہتے ہوئے بھی وہ روزنامہ جنگ میں سفر نامہ وغیرہ لکھتے رہے اور بالآخر امریکا سے ناکام ہوکر جب پاکستان آئے تو فلمی دنیا کی اوور ہالنگ کا کام شروع ہوچکا تھا یعنی جرنل ضیا کے اوپننگ بیٹسمین راجہ ظفر الحق کا ڈنڈا فلم انڈسٹری پر بھی برس رہا تھا، آفاقی صاحب نے دوبارہ فلمی دنیا کا رُخ تو نہیں کیا لیکن صحافت سے وابستہ ہوگئے، اپنا ایک ڈائجسٹ بھی نکالا جس کا نام اس وقت ذہن میں نہیں ہے، اس کے کچھ شمارے گزشتہ دنوں ابراہیم جمالی صاحب کے ہاتھ لگے تو ہم نے عزیزم عمران احمد قریشی کو دلوادیے تھے ، ڈائجسٹ کا نام بھی جمالی صاحب کو یاد ہوگا۔

یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اندازہ کیا جاسکتا ہے ، علم و ادب اور فنون لطیفہ پر برے وقت کا آغاز کب سے ہوا؟آج جب یہ سطور لکھنے بیٹھے تو سب سے پہلے جناب عامر ہاشم خاکوانی کا تازہ کالم نظر سے گزرا جس میں انھوں نے صدارتی ایوارڈز برائے حسن کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ، ان کا اظہار حقیقت اپنی جگہ درست ہے مگر اس سوال پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ نوبت یہاں تک کیسے پہنچی، وہ کون سے عوامل ہیں جنھوں نے حکومتوں کو اس روش پر ڈال دیا ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں، اپنوں اپنوں کو۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے