سر ورق / ناول / خون ریز۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر7

خون ریز۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر7

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر7

وہ لڑکی کچھ دیر تک میرے پاس بیٹھی خاموش رہی ، پھر ہولے ہولے باتیں کر نے لگی ۔ایسے ہی ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے ۔ تقریباً آ دھے گھنٹے بعد کئی جوڑے محو رقص تھے ۔ میں خاص طور پر ماہ نور کو دیکھ رہا تھا ۔ سبھی اس کے ساتھ رقص کرنے کی خواہش کر رہے تھے ۔اس دوران انور نے مجھے کئی بار دیکھا لیکن وہ مصروف تھا ۔ تھوڑا مزید وقت گزرا تو ماہ نور کو میںنے اپنی جانب آ تے ہوئے دیکھا ۔ وہ ہمارے قریب آ کر بڑے نرم سے معصومیت بھرے لہجے میں بولی

”سارا جہاں جھوم رہا ہے ، آپ بھی آ ئیں نا؟“

” مجھے ناچنا نہیں آ تا اور یہ ناچ نہیں سکتیں ۔“میںنے بھی نرم انداز میں کہا تو وہ ہنس دی

” آپ آ ئیں ، ہمیں نچا دیں یا ہمارا ساتھ دے دیں ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھا دیا ۔میں اسے انکار نہیں کر سکا ۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ وہ مجھے لیتے ہوئے لوگوں کے درمیان میں آ گئی ۔ اس نے میرا ہاتھ اپنی کمر میں ڈالا دوسرا ہاتھ پکڑا اور میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر ہو لے ہو لے جھومنے لگی ۔

” میں ماہ نور ہوں اور آ پ ؟“

” علی احسن ۔“ میںنے کہا

”آپ کے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی شایدحسن پر ست نہیں ورنہ ….“

” ورنہ کیا ؟“ میںنے پوچھا

” ورنہ اب تک وہ آپ کو لے کر ناچ رہی ہوتی ۔میری طرح ۔“ اس نے بڑی خوبصورتی سے میری تعریف کر دی تھی ۔یہی وہ لمحہ تھا جب میں سمجھ گیا کہاس نے اپنی تنظیم کی کوارڈی نیشن کا کام ابھی سے شروع کر دیا ہے ۔ ہم جھومتے رہے ۔ اس نے مزید بات نہیں کی لیکن اس کا انگ انگ بولنے لگا تھا ۔اس کا بدن باتیں کرنے لگا ۔جس کا اثر میرے بدن پر ہو نے لگا ۔وہ میرے ساتھ یوں جڑ گئی تھی کے اس کے بدن پر لگی مہک مجھے یوں لگنے لگی جیسے وہ میرے ہی جسم پر ہو ۔اس کے بدن کی ملائمیت ، نرماہٹ ایسے نہیں تھی جیسی لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ اس کا بدن یوں جیسے بہت زیادہ محنت سے نہ صرف تراشا ہوا ہو بلکہ بنایا بھی گیا ہو۔میری سانسیں تیز ہو نے لگی تھیں ۔اس وقت میری بس ہو نے لگی ، جب اس کی تیز تیز گرم سانسیں میرے گردن کو مسلسل چھونے لگی تھیں ۔میںنے اسے ایک دم سے چھوڑ دیا ۔اس نے چونک کر میری جانب دیکھا ، پھر مسکرا کر مجھے جانے دیا ۔ میں واپس اسی صوفے پر آ بیٹھا ۔ مجھے اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے کچھ منٹ لگ گئے ۔میںنے دیکھا وہ لڑکی مجھے دیکھ رہی تھی ۔ میںنے کھسیانا سا ہو کر کہا

” بہت مشکل ہے یہ ناچنا بھی ۔“

”نہیں میں دیکھ رہی تھی ، اس نے آ پ کا ناچنا بہت مشکل بنا دیا ہوا تھا ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ قہقہ لگا کر ہنس دی ۔ جس پر میں بھی ہنس دیا ۔

” آ ئیں باہر چلتے ہیں ۔“ میںنے کہا

” ہاں ، اب جانا ہی بنتا ہے ؟“ وہ اٹھ گئی ۔

ہال سے باہر لان میں کھانا لگا ہوا تھا ۔ہم ایک میز پر آ منے سامنے بیٹھ گئے ۔تب میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایسی لڑکیوں میں سے تھی جو خود پر توجہ نہیں دیتی ۔وہ مست ملنگ سی تھی ۔ کھلے اور ڈھیلے لباس میں وہ فربہ مائل لگ رہی تھی ۔ اس کا چہرہ کافیملاحت بھرا تھا ۔ ہنستی تھی تو گالوں میں گڑھے پڑتے تھے۔ اس نے اپنے گیسو کس کر باندھے ہوئے تھے ۔اپنا تعارف کراتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ ایک امپورٹ ایکسپورٹ کمپنی میں آفیسر ٹائپ کا کوئی عہدہ رکھتی تھی ۔وہ مرے سامنے بیٹھی کافی خوشگوار لگ رہی تھی

” کیا خیال ہے آپ کا ، یہ غریبوں کے لئے کچھ کیا جا رہا ہے یا نرا ڈرامہ ہی ہے ؟“ اس نے پوچھا

” میرے خیال میں اس کے پیچھے کچھ دوسرے مقاصد ہوں گے ۔جو مرضی کرتے پھریں ۔“ میں نے لاپرواہی میں کہا

” پھر بھی کیا مقاصد ہو سکتے ہیں ؟“ اس نے اصرار کیا تو میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا

 ”جہاں دوسرے بہت کچھ کرتے پھر رہے ہیں یہ بھی کر لیں ، ہم سب کو روک نہیں سکتے ،“

 ” میرا مقصد آ پ سے صرف گپ شپ کرنا تھا ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔ تب میں اپنا تعارف کراتے ہوئے ساتھ میں یہ دعوت نھی دے دی

 ” کبھی تشریف لائیں ہمارے ہاں ۔“

” جی ضرور ،رابطہ رہے گا ۔“ اس نے کہا توہم یونہی باتیں کرتے رہے ۔ اس دوران لوگ ہال سے نکل کر لان میں آ تے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ کھانا سرو کیا جانے لگا ۔

واپس پر کار میں چلا رہا تھا ۔ انور میرے ساتھ پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔وہ کافی حد تک نشے میں تھا ۔ اس لئے میںنے اس سے بات کرنا مناسب خیال نہیں کیا ۔ وہ خود ہی بڑبڑانے والے انداز میں باتیں کرتا چلا گیا ۔ جسے میں ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال باہر کرتا رہا ۔

٭….٭….٭

 اگلی صبح میں سول سیکریٹر یٹ چلا گیا ۔ وہاں کافی دیر وقت گزارنے کے بعد جو کام تھا ، وہ کروا لیا ۔ دو پہر ہو تے ہی میں واپس ہاسٹل آ گیا ۔ انور فریش تھا۔ مجھے دیکھتے ہی خوش ہو کر بولا

”رات تم نے پارٹی میں ….“

” یار آ نٹی کی صورت میں تجھے ایک تجوری مل گئی ہے ۔ سکون سے بیٹھ کر کھا ، تجھے کس نے روکا ہے ۔“ میںنے پر سکون سے انداز میں اس کی بات کاٹ کر کہا

”وہ تو ٹھیک ہے ، میں آ نٹی کے قریب بھی اسی لئے ہوا ہوں ، لیکن ایک بات بتاﺅں ، وہ لڑکی تھی نا، ماہ نور ؟“ اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” ہاں کیا ہوا ُسے ؟“ میںنے پوچھا

” وہ تم سے ملنا چاہ رہی ہے ۔“اس نے کہا

” اچھا مل لیں گے ۔“ میںنے لاپرواہی سے کہا تو انور جیسے ہتھے ہی سے اکھڑ گیا۔ جوش سے بولا

” ایک تم مردوں میں سب سے بڑی برائی ہی ہے کہ جب کوئی لڑکی خود ملنے کی خواہش کرے تو نخرے دکھانا شروع کر دیتے ہو ورنہ ، یہی مرد ، کسی جھاڑی پر سرخ کپڑا ڈال دو تو سارا دن وہیں گزار دیں گے ۔“

”اچھا زیادہ بھاشن نہ دے ۔میں سول سیکریٹر یٹ والا کام ہو گیا ہے اور میں واپس جا رہا ہوں ۔“ میں نے کہا تو وہ افسوس زدہ لہجے میں بولا

” اوہ یار ایک رات رہ جاﺅ ، آ ج ان کے ساتھ ڈنر کرتے ہیں ۔رات گپ شپ ماریں گے ، کل دن کے وقت چلے جانا ۔“ اس نے مجھے روکا

”نہیں یار ، اکبر بھائی کو الیکشن کے لئے تیار کرنا ہے ، وہاں ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔“میںنے کہا تو اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا

” اوکے جیسے تمہاری مرضی ۔ پھر آ ئے تو ملاقات ہو جائے گی ۔“

میں کچھ دیر مزید اس کے پاس بیٹھا اور واپسی کے لئے چل دیا ۔

رات کا پہلاپہر ابھی ختم نہیں ہوا تھا جب میں اپنے شہر کے مضافات میں پہنچ گیا ۔میں نے ارادہ کیا تھا کہ رات شہر والے بنگلے میں رہوں گا ۔اگرمن چاہا تو رُک جاﺅں گا ورنہ گاﺅں چلاجاﺅں گا ۔ میں شہر سے دو تین کلو میٹر دور تھا کہ اچانک میری ایک سائیڈسے فور وہیل نے مجھے پاس کیا اور اس کی رفتار دھیمی ہونا شروع ہو گئی ۔ مجھے مجبوراً اپنی رفتار کم کرنا پڑی۔وہ سڑک پر اس طرح جا رہا تھا کہ مجھے آ گے نکلنے کا راستہ نہیں دے رہا تھا ۔رفتار اس قدر کم ہو نے لگی کہ مجھے اپنی گاڑی روکنا پڑی ۔ کیونکہ ہو بھی رک گیا تھا ۔ جیسے ہی میری کار رکی ۔ فور وہیل سے تین چار لوگ باہر آ گئے ۔ان کے ہاتھوں میں گنیں پکڑی ہوئی تھیں ۔ میں نے ساتھ پڑا ہوا اپنا پسٹل تیزی سے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنے نیفے میں چھپا لیا ۔ایک بندہ میرے طرف والے شیشے کے پاس آ یا ۔ اس نے اندر مجھے دیکھا اور شیشہ بجایا ۔ میں نے شیشہ نیچے کر لیا تو وہ تحکمانہ لہجے میں بولا

” اُوئے باہر آ ۔“

” خیریت ؟“ میںنے سکون سے پوچھا

”اوئے باہر آ ، سنتا نہیں ۔“ اس نے گن کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے انتہائی بد تمیزی سے کہا ۔ میں نے گیٹ کھولا اور باہر آ گیا ۔

” ہاں بول ۔“ میںنے اس کی طرف دیکھ کر کہا

” ادھر چل ۔“ اس نے فور وہیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میںنے مزید کوئی بات نہیں کی اور اس طرف چل دیا ۔ فور وہیل کی پشت پر جو دروازہ تھا ، اس کے اندر ایک آ دمی بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے گن کی نال باہر نکالی ہوئی تھی ۔ کسی بھی ناگہانی صورت میں وہ فائر کر سکتا تھا ۔

پسنجر سیٹ پر ایک چھریرے بدن کا سیاہ رنگ والا بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے سفید کرتا پہنا ہوا تھا ، گندمی رنگ کا چہرہ ، جس پر خباثت برس رہی تھی ، اس میری طرف دیکھا ۔ یونہی چند لمحے دیکھتے رہنے کے بعد حقارت بھرے لہجے میں یوں بولا جیسے گالی دے رہا ہو

” تم علی احسن ہو نا ، چوہدری بشیر کا پتر ؟“

” ہاں ، میں ہی ہوں ۔ بولو کیا کام ہے ۔“ میںنے کہا ہی تھا کہ اس نے اندر بیٹھے ہی ہاتھ بڑھایا اور میرا گریبان پکڑ لیا ۔پھر مجھے ہلاتے ہوئے بولا

” بہت کر لی تم نے بدمعاشی ،اب بس ۔“

یہ اچانک ہوا تھا ۔ میںنے اپنا گریبان چھڑوانے کے لئے جیسے ہی اس کا ہاتھ پکڑا تو میرے ارد گرد کھڑے تینوں آ دمیوں نے گنیں تان کر ان کی نال میری پشت سے لگا دیں ۔میں ان کے حوصلے کی داد دئیے بنا نہ رکھ سکا۔چلتی سڑک پر وہ مجھ پر گنیں تان کر دھمکیاں دے رہے تھے ۔

” گریبان چھوڑ کر بات کر ۔“ میںنے بڑے سکون سے کہا تو وہ مزید حقارت سے بولا

”شکر کر تم آ رام سے میرے سامنے آ گئے ہو ، ورنہ ابھی سڑک پر لمبا لٹا کر تیرے چھتر مارنے تھے ۔زیادہ اڑل ٹٹو بنتا تو ننگا کر کے لٹا دیتا ۔“ یہ کہہ کر اس نے میرا گریبان چھوڑا اور مجھے پیچھے کی طرف دھکا دے دیا ۔اس کے دھکے سے میںنے کیا گرنا تھا لیکن میری جس طرح اس نے ہتک کی تھی ، میرا لہو گرم ہو گیا تھا ۔ میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا

”کون ہو تم ؟“

” اُوئے اَش کے بھئی اَش کے ، تم نے میرے بارے میں پوچھنے کی ہمت توکی ، اب مجھے یقین آ گیا کہ تم نے بدمعاشی کی ہوگی ۔ لیکن اب نہیں ۔“اس نے اسی حقارت بھرے لہجے میں کہا

”چاہتے کیا ہو ؟“ میںنے پوچھا

” ہاں یہ تم نے کام کی بات پوچھی ہے ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا پھر بولا ،”اس الیکشن میں تم نے اور تیرے باپ نے کوئی بھی دلچسپی لی تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ سب کچھ ختم کر دیں گے ۔“

”دیکھ تم بہت بڑی بات کہہ رہے ہو ۔“میںنے کہا تو وہ پھر سے میرا گریبان پکڑ کر بولا

”اوئے یہ تو میں نے تیری عزت کی ہے ورنہ میں تو پہلے سر میں جوتے مارتا ہوں پھر بات کر تا ہوں ۔شکرکر ابھی تجھے پیار سے سمجھایا ہے ، دوسری بار میں جس طرح بات کرتا ہوں ، وہ کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آ تی ۔چل بھاگ اب ، شکر کر تجھے کہا کچھ نہیں ۔“

یہ کہہ کر اس نے مجھے پھر سے دھکا دے دیا ۔ میں غصے میں بے قابو ہو رہا تھا ، اس لئے ذرا سا لڑھک گیا ۔اس پر اس کے گن مینوں نے مجھے کاندھوں سے پکڑا اور دھکے مارنے لگے ۔ یہاں تک کہ مجھے کار کے بونٹ پر لا پھینکا ۔میں گرا تو واپس مڑ گئے ۔ وہ میری آ نکھوں کے سامنے جا رہے تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں گنیں پکڑی ہوئی تھیں ۔میں دیکھ رہا تھا کہ گاڑی میں ایک بندہ بیٹھا ہوا ہے اور اس نے میری طرف گن تانی ہوئی تھی ۔ وہ مجھے نگاہوں میں رکھے ہوئے تھا ۔ اگر میں پسٹل نکال بھی لیتا تو وہ مجھے فائر کرنے کا بھی موقع نہ دیتا، پہلے ہی مجھ پر فائر کر دیتا ۔ یہ وہ وقت تھا جب مجھے خود پر قابو رکھنا تھا ۔ میرے لئے یہی لمحہ بڑا مشکل تھا ۔ان کا مقصد ہی یہی تھا ۔ میں غصے میں بے قابو ہو جاتا اور انہیں مجھ پر فائر کرنے کا بہانہ مل جاتا۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ محض مجھے ذلیل کرنا چاہتے ہیں ۔ میری انا کو کچلنا چاہتے تھے ۔ وہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے فور وہیل میں بیٹھے تو چند لمحوں میں نگاہوں سے اوجھل بھی ہو گئے ۔

میں کچھ دیر تک خود پر قابو پاتا رہا ۔میں کار کے سامنے کھڑا تھا ۔میرے دائیں جانب سے ٹریفک رواں تھی ۔ تبھی میری کار کے پیچھے ہارن بجنے لگا ۔ کوئی گاڑی آ کر رکی تھی ۔ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور سلگتے ہوئے دماغ کے ساتھ وہاں سے چل دیا ۔

میں شہر والے بنگلے پر جا پہنچا ۔میں نے جاتے ہیں ساری فا ئلیں ایک الماری میں رکھیں اور بیڈ پر آ بیٹھا ۔چند دن پہلے آ فیسر نے مجھے سیل نمبر دیا تھا ۔ اس کے ساتھ مجھے یہ آ فر دی گئی تھی کہ اگر مجھے کوئی بھی گھمبیر مشکل پڑے یا مدد کی ضرورت ہو تو یہاں کال کر لوں ۔میں وہ نمبر سامنے لا کر چند لمحے سوچتا رہا ۔ پتہ نہیں مجھے یہ بات انہیں کہنی چاہئے یا نہیں؟ اگر کہہ بھی دوں تو کیا وہ یہ وہی کچھ کریں پائیں گے جو میں انہیں کہنا چاہتا تھا ؟تتبھی میرے دماگ میں خیال آ یا ، مجھے یہاں کال کر نی چاہئے ۔ دیکھ لوں اگر وہ مدد کر سکتے ہیں تو پتہ چل جائے گا ۔ اگر کچھ نہ ہوا تو پھر مجھے معلوم ہو جائے گا ۔ میں نے وہ نمبر ملائے اور کال کر دی ۔ چند ہی لمحوں بعد دوسری جانب سے ایک نرم سی آ واز ابھری ۔ اس نے میرا نام لے کر کہا

” علی بھائی کیسے ہیں آ پ ؟کیا یاد کیا ؟“

” سوری میں آ پ کا نام نہیں جانتا لیکن ….“میں نے کہا تو وہ خوشگوار انداز میں میری بات کاٹتے ہوئے بولا

” اوکے اوکے ، نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپ بتائیں خیریت ہے نا؟“

” نہیں خیریت نہیں ہے ؟“ میںنے بہ مشکل کہا

” اوہ ، تو جلدی سے بتائیں ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو میں نے انہیں کچھ دیر پہلے ہو نے والی ساری بات بتا دی ۔ وہ خاموشی سے میری بات سنتا رہا ۔میں کہہ چکا تو وہ بولا،” کوئی بات نہیں ، آ پ میری کال کا انتظار کریں ۔“ یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا ۔

 میں چاہ رہا تھا کہ چاچا فیضو سے کہوں کہ وہ چند بندے لے کر پہنچے ۔میں انہیں شہر میں تلاش کر کے ان سے بدلہ لینے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔اس وقت مجھے شدت سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ مجھے کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی فورس بنا کر رکھنی چاہئے تھی ۔ کوئی بھی اگر بد معاشی دکھائے تو اسے اس کا جواب ضرور دیا جائے ۔ میں اُن فور وہیل والوں کے گلے پڑ سکتا تھا لیکن فائدہ کوئی نہیں تھا ۔ اسلحے کے سامنے طاقتور کی بھی نہیں چلتی ۔

” بھول گئے ہو سارے سبق ، ایک فائٹر جب ایسا سوچنے لگے تو سمجھو وہ بزدل ہو گیا ہے ۔ فائٹر کی طاقت اس کا حوصلہ ہے ۔ “ میرے اندر سے آ واز ابھری تو نجانے کیوں مجھے شرمندگی ہو نے لگی ۔ میں نے جو بھی اپنے انسٹرکٹر سے سیکھا تھا ، مجھے لگا جیسے وہ میں بھول گیا ہوں ۔ یہی سوچتے ہوئے میرے ایک ولولہ پیدا ہوا ۔

” چاہے جتنا بھی اسلحہ تھا ، مجھے ان کے بھڑ جانا چاہئے تھا ۔ اگر انہوںنے مجھے گولی ہی مارنی ہوتی تو ایک آ دھ فائر کر کے مجھے زخمی ضرور کیا ہوتا ۔ اگر ایسا نہیں بھی تھا تو ان کی اتنی باتیں کیسے سن لیں ۔“ میری اندر کا مرد بولا

” نہیں جوش سے نہیں ہوش سے ۔ جس طرح لمبی چھلانگ کے لئے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ایسے ہی بعض اوقات فائٹ بھی ضرور ی نہیں ہوتی ۔“ دماغ مجھے سمجھانے لگا تھا ۔ میں اسی کشمکش میں تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا ۔ میں نے کال رسیو کی تو وہی نرم آواز ابھری

” وہ فور وہیل اس وقت شہر کے ایک ایور سپیڈپیٹرول پمپ پر کھڑی ہے۔ فیول ڈلوانے کے بعد وہ وہاں سے نکلے گی ۔آپ اگر آ نا چاہتے ہیں تو آ جائیں ۔“

” اوکے ۔“میںنے اسی وقت کال بند کی اور تیزی سے باہر نکلا ۔میرے ملازم نے پوچھا

” خیریت تو ہے نا ۔“

” ہاں خیریت ہی ہے ۔“ میںنے کہا اور پورچ سے کار لے کے نکل پڑا۔جس حد تک بھی تیز رفتاری سے میں جا سکتا تھا ، میں نے رفتار بڑھائی اور پندرہ منٹ کے اندر ایور سپیڈ پر پہنچ گیا ۔وہ فور وہیل ایک جانب لگی ہوئی تھی ۔ اس کے ارد گرد چار گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ بندے اترے ہوئے تھے اور وہ جو پسنجر سیٹ پر چھریرے بدن کا سیاہ رنگ والا بندہ بیٹھا تھا وہ ایک طرف سکریٹ سلگائے یوں کھڑا تھا جیسے سب سے بے نیاز ہو ۔میںنے ایک ہی نگاہ میں دیکھ لیا تھا کہ ان میں سے کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا ۔ میں جیسے ہی کار سے نکلا ، ایک نوجوان میری جانب بڑھا ۔ اس نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے پوچھا

” یہی وہ لوگ تھے علی بھائی ؟“

” بالکل یہی ہیں ۔“ میںنے سرد لہجے میں کہا

”کیا کرنا ہے ان کے ساتھ ؟“ اس نے پوچھا

” پہلے تو میں خود ہی کروں گا ۔“ میںنے کہا اور سیدھا چھریرے بدن سیاہ رنگ والے بندے کے پاس چلا گیا ۔ بالکل اس کے سامنے جا کر پوچھا

” کیا نام ہے تمہارا، کون ہو تم ؟“

اس نے گہری نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا ۔میں نے اپنا سوال دہرایا تو اس نے یوں رویہ رکھا جیسے وہ میری بات ہی نہیں سن رہا۔ تبھی میں نے آ گے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا اور جھنجھوڑ کر پوچھا ۔ اس نے جواب دینے کی بجائے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا تو میںنے اسے گھمایا اور سڑک پر دے مارا۔ اس کے ارد گرد کھڑے اس کے ساتھیوں میں سے کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ آ گے بڑھ کرمجھے روکتا ۔ میں نے اس کی پسلی میں ٹھوکر ماری، وہ دہرا ہو گیا ۔میںنے اسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور دوبارہ گھما کر سڑک پر پھینک دیا ۔میں اسے ٹھو کر مارنا ہی چاہتا تھا کہ اس نے ہاتھ اٹھاکر کہا

” بتاتا ہوں ۔“

” لیکن اب مجھے نہیں پوچھنا ۔“ یہ کہہ کر میں نے اس کے پسلی میں پھر سے ٹھو کر ماری دی ۔ وہ تڑپ کر دہرا ہو گیا ۔ ایک بار تو مجھے لگا جیسے وہ بے ہوش ہو گیا ہے ۔ میں نے پھر اس کے کالر پر ہاتھ ڈالا تو جلدی سے بولا

” میں غلطی پر تھا، غلط جگہ ہاتھ ڈال دیا ۔“

مگر میں نے اس کی نہیں سنی پھر سے گریبان پکڑا اور سڑک پر پھینک دیا ۔ اس بار میںنے اس کے سر پر ٹھوکر ماری تو مچھلی کی طرح تڑپنے لگا ۔میں اسے یونہی تڑپنے دیا اور باقی سب کی طرف دیکھ کر سرد لہجے میں کہا

” سبھی لوگ یہاں ایک قطار میں آجاﺅ ۔“

 وہ سب جھجکتے کھڑے رہے ، تبھی اس نوجوان نے اشارہ کیا تو اس کے ساتھ کھڑے نوجوان آ گے بڑھے ۔ ان کے ہاتھوں میں بید تھے ۔ وہ ایک دم ہی ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ سب خود کو بچانے میں ادھراُدھر بھاگنے لگے ۔ جو بھی ان کے حصار سے باہرجانے کی کوشش کرتا اسے زیادہ بید پڑتے ۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ قطار بنانی کہاں ہے ؟ میںنے ایک نوجوان کے ہاتھ سے بیدلیا اور اس بندے کو اپنی طرف بلایا ، جس نے مجھے دھکے مار کر کار کے بونٹ پر گرایا تھا ۔ وہ میرے سامنے آ گیا تو میں نے بید سے زمین پر لیٹنے کا اشارہ کیا ۔ وہ رحم طلب نگاہوں سے میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ان جرائم پیشہ لوگوں کی ذہنیت بھی عجیب ہوتی ہے ۔ جب کسی کو کمزور پاتے ہیں تو شیر بن کر دھاڑتے ہیں ۔ ہر طرح کا ظلم روا رکھیں گے ۔ لیکن جونہی ان کے سامنے کو طاقت ور آ جاتا ہے تو پھر چھپ جاتے ہیں، بلانے پر بھی سامنے نہیں آ تے اور اگر انہیں تلاش کر کے ان تک پہنچ بھی جائیں تو پھر منتوں پر اتر آ تے ہیں۔دراصل یہ بے غیرت ہوتے ہیں ۔ ان کی غیرت ختم ہو جاتی ہے تو یہ جرائم پیشہ بنتے ہیں ۔ میںنے غصے میں کی طرف دیکھا تو وہ سکون سے سڑک پر لیٹ گیا ۔میں نے اسے پڑا رہنے دیا ۔باقی سب کی حالت بھی ایسے ہی ہو گئی تھی ۔

 وہ چھریرے بدن والا سیاہ بندہ ہوش میں تھا ۔ میںاس کے پاس چلا گیا ۔ وہ میری جانب رحم طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔ میں نے اس کے قریب جا کر کہا

” کپڑے اُتار۔“

” مجھے معاف کر دے ، آ ئندہ تیرے سامنے نہیں آ ﺅں گا ۔“

اس نے کہا تو میںایک نوجوان کو اشارہ کیا ۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کی قمیص پھاڑ دی ۔ اس نے قمیص ایک طرف پھینکی اور پھر اس کی شلوار اتار دی ۔ وہ الف ننگا ہو گیا تھا ۔ تبھی میںنے اسی نوجوان سے کہا

” وہاں پرے بیچ سڑک پر لے جاﺅ اور اس کے سر پر جوتے مارو ۔“

وہ نوجوان اسے وہاں تک لے گیا اور دھکا دے کر سڑک پر لٹا دیا۔ پھر اس کے سر پر جوتے مارنے لگا ۔وہ درد ناک انداز میں کراہنے لگا ۔

وہ جو سڑک پر لیٹا ہوا تھا ۔ وہ میری جانب دیکھ رہا تھا ۔ میںاُ س کے پاس گیا تو وہ تیزی سے بولا

” ہمیں جانے دے ہم پھر کبھی تمہارے سامنے نہیں آ ئیں گے ، ہمیں تو افضل سردار نے بھیجاتھا ۔“

” وہ کون ہے ؟“ میںنے پوچھا

”چوہدری سردار کا بیٹا۔“ اس نے تیزی سے کہا تو میں نے اس نوجوان کو روک دیا جو جوتے مار رہا تھا ۔وہ اسے اٹھا کر لے آ یا ۔وہ سارے سڑک پر پڑے تھے ۔چھریرے بدن والے بندے کو میںنے کہا

” چل اُوئے کر اُسے فون جس نے تمہیں بھیجا ہے ۔“

” ہم نے اب اس کی طرف جانا ہی نہیں، ہمارے ساتھ بہت ہو گئی ہے ۔“

” ایسے نہیں ، کہاں جانا ہے تم نے اب رہو ادھر ۔“ میںنے کہا اور ایک نوجوان کی جانب اشارہ کیا تاکہ وہ پھٹی ہوئی قمیص اٹھائے ۔ وہ پھٹی ہوئی قمیص لایا تو اس میں فون تھا ۔اس نے فون چھریرے بدن والے کو دے دیا ۔اس نے فون پکڑ کر کال ملائی ۔

” اس کا اسپیکر آن کر ۔“

میرے کہتے ہی دوسری جانب سے ہیلو کہا گیا

”اوئے تم لوگ ابھی تک پہنچے نہیں ہو ؟“

” ہم پکڑے گئے ہیں ۔“ اس نے ہولے سے کہا

” پکڑے گئے ،اوئے کس نے پکڑ لیا تمہیں، کون ہے جو تم جیسے اشتہاری کا سامنا کرے ۔“ دوسری طرف سے قہقہ لگانے والے انداز میں کہا گیا جیسے انہیں پکڑنے والا ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ۔

” علی احسن نے ….“

” کیا بکواس کر رہے ہو ، تم نے تو کہاتھا کہ …. “ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا ۔تبھی فون میںنے پکڑ لیا اور طنزیہ لہجے میں بولا

”لگتا ہے کہ تم انسان کے بچے نہیں بنو گے ؟“

” کون ہو تم ؟“ اس نے پوچھا

” میں علی احسن بات کر رہا ہوں ، میں یہاں ایور اسپیڈ پر کھڑا ہوں ، اگر تم میں ہمت ہے تو اپنے بندے لے جا ۔“ میںنے کہا تو اس نے فون ہی بند کر دیا ۔

” یہ ہے اوقات اس کی جس نے تمہیں بھیجا ۔“ میں نے اس کے منہ پر فون مارتے ہوئے کہا۔ اس نے نگاہیں جھکا لیں ۔ وہ ننگا میرے سامنے کھڑا تھا ۔

” بھائی اب کیا کرنا ہے ان کا ؟“ اسی نوجوان نے پوچھا جو سب سے پہلے مجھے ملا تھا ۔

” انہیں پولیس کے حوالے کر دو ، سنا نہیں یہ اشتہاری ہے ۔ اب دیکھتا ہوں یہ کتنا بڑا اشتہاری ہے ۔“ میںنے کہا ہی تھا کہ اس کے ساتھ آ ئے جوانوں نے تقریباً دو منٹ میں انہیں اپنی گاڑیوں میں پھینکا اور وہاں سے لے کر چل دئیے ۔ دو منٹ بعد وہاں یوں ہو گیا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیںتھا ۔

 اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ہجوم تھا اور سڑک کچھ دیر کے لئے بند ہو گئی تھی ۔ میں اپنی کار کی جانب بڑھا اور بنگلے کی طرف چل پڑا۔ میرے اندر وہ سرور تھا جو بدلے لینے کے بعد ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بے چینی شروع ہو گئی جو مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی ۔اس بارمیں نے سوچ لیا تھا ۔ اگر راﺅ ظفر یا اس کے جیسے کسی بندے نے میرا سامنا کرنے کی کوشش کی تو اسے بھی پھڑکا دوں گا ۔اگر اس نے افضل سردار کے یہ بندے چھوڑے تو میں ان کا پیچھا کروں گا ۔ اب میں تھانے ہی میں افضل سردار سے ملنا چاہتا تھا ۔

٭….٭….٭

دوپہر کے بعد میں حویلی کے لان میں بیٹھا ہوا تھا ۔ بابا کچھ دیر پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے تھے ۔ان کے ساتھ ہی ان کے دوستوں کی محفل بھی ختم ہو گئی تھی ۔میں جن لوگوں کا لاہور سے کام کروا کر آ یا تھا ۔ وہ اپنی فائل لے کر چلے گئے تھے ۔ میرے پاس ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اچھا خاصا لڑکا تھا ۔ اپنے حلئے سے مجھے وہ پڑھا لکھا بھی لگتا تھا ۔ میرا گمان کہہ رہا تھا کہ اسے کوئی مسئلہ ہے ۔میں چاہ رہا تھا کہ اگر ا سکا کوئی مسئلہ ہے تو وہ خود ہی بتائے ۔ممکن ہے کوئی بات نہ ہو۔ میں یونہی اس سے حال احوال پوچھنے لگا ۔وہ بے چین تھا ۔ وہ شہر سے آیا تھا اور وہیں کسی محلے کا رہنے والا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” سرجی آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔“

” بولو ، کیا بات ہے ؟“ میںنے اسے کہا

” وہ جی ، پتہ نہیں آپ میرے بارے میں کیا سوچیں گے ، لیکن میں ایک طرح سے مجبور بھی ہوں اور ….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا ۔میںنے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا

” یار جو بات بھی ہے نا،وہ کہہ دے ۔ اتنی زیادہ تمہید نہ باندھ۔“

میرے کہنے پر وہ چند لمحے رکا پھر کہتا چلا گیا

” سر جی ، ایک لڑکی ہے ۔غریب گھر کی ہے ۔اس کا والد نہیںہے ۔ماں ہے اور ایک چھوٹا بھائی ۔ان کا گزارہ اپنے والد کی پینشن پر ہوتا ہے یا پھر اس کی امی کپڑے سلائی کرتی ہے ۔ ایک دوکان سے کرایہ آ جاتا ہے ۔“

” اچھا، اصل بات کیا ہے ؟“ میںنے اسے احساس دلا یا تو وہ جلدی سے بولا

” سر جی یہی غربت ان کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ اس علاقے کا ایک بدمعاش انہیں تنگ کرتا ہے ۔ وہ بدمعاش چاہتا ہے کہ اس لڑکی سے شادی کر لے ۔“

” اور لڑکی کیا چاہتی ہے ؟“ میںنے پوچھا

” وہ تو نہیں چاہتی ،اور نہ میں چاہتا ہوں ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو میں نے پوچھا

” تم کیوں نہیںچاہتے ؟“

” میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔“ اس نے بڑے تحمل سے کہا تو میںنے مسکراتے ہوئے پوچھا

”پھر تم میں اوربدمعاش میں کیا فرق رہ گیا ؟“

” یہی کہ وہ لڑکی مجھے چاہتی ہے ۔ میں اسے چاہتا ہوں ۔ اس کی امی بھی یہی چاہتی ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ سانس لینے کو رُکا پھر بولا ،” اب آپ کہیں گے کہ کیوں نہیں کرتا شادی تو اس میں میری بے روزگاری رکاوٹ ہے ۔آج میری کہیں نوکری لگ جائے ، میں نہ صرف اس لڑکی سے شادی کرلوں بلکہ ان کا آ سرا بھی بن جاﺅں ۔“

” مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟“ میں نے پوچھا

” مجھے کہیں نوکری مل جائے یا پھر اس بدمعاش کو روک دیا جائے ، ان لوگوں جینے دے ۔“ اس نے حتمی لہجے میں کہا تو میں چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔مجھے ارم کی کہانی یاد آ گئی تھی ۔تبھی میرے دماغ میں خیال آیا تو میںنے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا

”اگر دونوں کام نہیں ہوتے ، پھر تم کیا کروگے ؟“

” میں نہیں چاہتا کہ میں کوئی جرم کروں ، پھر مجھے یا تو اس بد معاش سے لڑنا پڑے گا یا پھر کوئی نہ کوئی غلط کام تو کرنا پڑے گا۔“

” مثلاًکون سے غلط کام ؟“ میںنے پوچھا

”منشیات بیچنے سے لیکر چٹی دلالی تک ۔ قحبہ خانہ چلانے والوں سے لیکر درخواست بازی تک ، پھر سب چلتا ہے ۔ کسی کے ساتھ بھی لگ جاﺅں گا ۔“مایوسی بھرے لہجے میں کہا

” یہ جو تم نے سارے کام بتائے ہیں، یہ سب اپنے علاقے میں چلتے ہیں ؟“میںنے پوچھا

” یہ رُکے کب ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی روک سکتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خود عوام یہ چاہتی ہے۔ بھتہ چلتا ہے ۔کرپشن ہر بندہ کرنا چاہتا ہے ۔“ اس نے دکھی انداز میں کہا

”ویسے ایک بات بتاﺅں ، زندہ وہی ہوتے ہیں، جو خود اپنی دنیا بناتے ہیں ۔خیر وہ بدمعاش تو رُک جائے گا ، تم کیا کرو گے ؟“ میںنے پوچھا

” میںنے بی اے کیا ہوا لیکن جب تک کوئی روزگار نہیںملتا ، میں کوئی ریڑھی لگا لیتا ہوں ۔ ایک طرف سے سکون ہو جائے تو ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔

” اچھا تم ایسے کرو ، دو دن بعد مجھے ملنا ۔تم اپنا نمبر اور نام پتہ وغیرہ لکھ کر دے جانا ۔“

” جی ٹھیک ہے ۔“ اس نے کہا اور اٹھ کر مجھ سے ہاتھ ملا کر میرے پاس سے جانے لگا تو میںنے کہا

” بیٹھو ، میں نے بھی ابھی شہر جانا ہے ۔ میرے ساتھ ہی چلے جانا ۔“

یہ سن کر وہ اسی کرسی پر دوبارہ بیٹھ گیا ۔

کچھ دیر بعد میں شہر کی طرف چل پڑا۔ وہ میرے ساتھ پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میں اس سے شہر کے بارے میں ، اس کے علاقے کے بارے میں پوچھتا چلا گیا ۔اس نے مجھے بہت معلومات دیں ۔ شہر کے ایک چوراہے پر اسے اتار کر میں سیدھا تھا نے چلا گیا ۔ میری توقع کے مطابق راﺅ ظفر اپنے کمرے ہی میں تھا ۔میں اس کے سامنے گیا تو تو وہ کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا ۔مجھ سے ہاتھ ملاکر مجھے بیٹھنے کو کہا ۔ میں بیٹھ گیا تو وہ بھی اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

” میں تو بڑی ٹینشن میں آ گیا ہوں جی ۔ انہوں نے اوپر سے اتنا دباﺅ ڈالا ہوا کہ میں بتا نہیں سکتا ۔“

” وجہ ، دباﺅ کیوں ؟“ میںنے پوچھا

” اصل میں جس بندے کو پکڑا ہے نا جی ، وہ بڑا اشتہاری ہے ۔ چھانا اس کا نام ہے ۔ وہ ایک بہت بڑے گینگ کا حصہ ہے ۔وہ تو کسی کے ہاتھ نہیں آ تا ، آ پ نے پتہ نہیںکیسے قابو کر لیا اسے ۔ اسے چھڑوانا چاہتے ہیں ۔“ اس نے یوں کہا جیسے وہ بڑی مصیبت میں آ گیا ہو ۔

” دیکھ راﺅ ، ساری زندگی تم نے رشوت کھائی ہے ، کرپشن کی ہے ، سب سے بڑی بات اتنی منافقت کی ہے کہ پتہ نہیں تم نے بخشے بھی جاناہے کہ نہیں ۔اب اگر فرض کی بات آ گئی ہے ۔ ایک اشتہاری پکڑ کر تم انعام بھی لے سکتے ہو تمہاری جائز ترقی بھی ہو جائے گی تو گھبراتے کیوں ہو ؟“ میںنے طنزیہ لہجے میں کہا

” میں کیا پھر نوکری کر سکوں گا ، کہیں نہ کہیں مجھے گولی مار دیں گے ۔“ اس نے دبے ہوئے لہجے میں کہا

” اپنا فرض نبھاﺅ یا پھر نوکری چھوڑ دو ، یہ بھی نہیں تو اپنا تبا دلہ کروا لو ۔ اسے تم یونہی نہیں چھوڑ سکتے ۔چھوڑو گے تو اپنا انجام دیکھ لینا ۔“ میںنے سخت انداز میں کہا تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ۔ میرا بد لا ہو لہجہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔

”بہت سارے کام بس میں نہیں ہوتے ۔“ اس نے کہا تو میں نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا

” صرف مظلوموں پر ظلم کرنا ہی تم لوگوں کا کام ہے ۔اگر ذرا سی بھی غیرت ہے تو اپنا فرض نبھاﺅ یا پھر نوکری چھوڑ جاﺅ ۔تم جانتے ہو کہ میں یہ تم سے کیوں کہہ رہا ہوں ۔“

” جانتا ہوں ، لیکن گمان نہیں تھا کہ یہ وقت بھی آ سکتا ہے ۔“ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ۔ وہ پتہ نہیں اعتراف کر رہا تھا یا مجھے میرا ماضی یاد دلا رہا تھا ۔ جب میں اسی تھانے میں ایک اے ایس آ ئی کے تشدد کا شکار ہوا تھا ۔ میرے اندر غصہ اُبل پڑا تھا ۔میںنے خود پر قابو رکھااور کچھ دیر پہلے اس نوجوان نے جس بد معاش کے بارے میں مجھے بتایا تھا اس کا نام لے کر میںنے کہا

” اسے ابھی بلواﺅ ،فوراً۔“

” جی میں بندہ بھیجتا ہوں ۔“ اس نے کہا

” تیرے فون میں اس کا نمبر ہے ۔ اسے کال کرو ۔“ میں نے یونہی ہوا میں تیر مارا تھا ۔میرے گماں میں ایک بات تھی ۔ اگلے لمحے اس کی تصدیق ہو گئی اس نے اپنا فون نکالا اور اس کا نام لے کر اسے فوراً تھانے آ نے کا کہا ۔ ظاہر ہے اس بد معاش کے آ نے میں تھوڑا وقت لگنا تھا ۔ اس لئے میں اٹھا اور حوالات کے پاس چلا گیا ۔ وہاں جاتے ہی مجھے وہ تلخ ترین راتیں یاد آ نے لگیں جو میںنے یہاں گزاری تھیں ۔مجھے وہ ادھیڑ عمر بھی یاد آ گیا جس نے بہت پتّے کی باتیں کی تھیں ۔چھانا بدمعاش دیوار کے ساتھ لگا ہوا بیٹھا تھا ۔اس کے ساتھی بھی ارد گرد موجود تھے ۔ میں چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اونچی آواز میں کہا

”اُﺅ ئے چھانے ، کوئی چائے وائے بھی پی ہے یا بھوکا ہی بیٹھا ہے ؟“

وہ تو نہیں بولا لیکن اس کا ایک ساتھی بول پڑا

”کھانا آ یا تھا ۔“

” چائے پی ؟“ میںنے پوچھا

” نہیں وہ تو نہیں آئی جی ۔“

”تجھے افضل سردار بھول گیااب تم اس کے کام کے نہیں رہے ہو۔“

” ہمیں نہیں پتہ تھا کہ وہ بالکل ہی نیا بندہ ہے ورنہ کبھی اس کی بات نہ مانتے ۔“ اسی ساتھی نے پھر کہا بالکل اسی لمحے چھانا نے دیوار چھوڑی اور میری طرف دیکھ کر بولا

” زندگی میں پہلی بار ایسے حالات کا سامنا کیا ہے ۔اتنی جلدی بدلہ لے لیا ۔ ٹھیک ہے تم میرے دشمن ہو لیکن داد دیتا ہوں ۔مجھے خوشی ہے کہ میں ایک نَر بندے کی وجہ سے پکڑا گیا ہوں ۔ میں نے اپنے لوگوں سے کہہ دیا ہے ۔“

” کیا کہہ دیا ہے ؟ تمہیں جلد از جلد یہاں سے نکالیں یا پھر مجھے مار ڈالیں ؟“ میںنے اس کی طرف دیکھ کر تحمل سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا

”ایسا نہیں ، بلکہ یہ کہا ہے کہ تم سے کوئی بدلہ نہیں لے گا ۔اب تیری طرف کوئی منہ نہیں کرے گا ۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنے اوپر پڑی چادر کو درست کیا اور پھر سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی ۔میں نے جیب سے ایک بڑا نوٹ نکالا اور قریب کھڑے ایک سنتری کو دیتے ہوئے کہا

” یار انہیں چائے پلانے کا بندو بست کردے ۔“

” جی ابھی آ جاتی ہے ۔“ اس نے جیب سے فون نکالا اور کسی چھوٹے کو چائے کا کہنے لگا ۔میں وہاں سے ہٹ کر واپس راﺅ ظفر کے کمرے میں چلا گیا ۔ وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔موضوع یہی تھا کہ چھانا کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ میرے خیال میں یہ اس کے لئے ان دنوں ہاٹ ٹاپک بن گیا تھا جس پر مجھے کوئی فکر نہیں تھی ۔وہ فون پر کال ختم کرکے میرے ساتھ باتیں کر نے لگا ۔ اسی دوران ایک فربہ مائل جوان راﺅ ظفر کے کمرے میں داخل ہو ا۔ اس نے آتے ہی بڑے ادب سے جھک کر راﺅ ظفر کو سلام کیا اور مسکراتے ہوئے بڑے نرم سے لہجے میں پوچھا

” سرکار حکم ؟“

اس سے پہلے کہ وہ کوئی مزید بات کرتا میںنے اس سے پوچھا

” اوئے ، پیجالوہار تمہارا ہی نام ہے ؟“

” جی، جی ۔“ اس نے میرے طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے جواب دیا

” تم کسی پروین دلاور نام کی لڑکی کو جانتے ہو ؟“

” جی …. نن …. بلکہ جانتا ہوں جی ۔“ اس نے اٹکتے ہوئے انکار کرنا چاہاتھا لیکن پھر ایک دم سے سچ بول دیا ۔ اس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ پختہ مجرمانہ ذہنیت رکھتا تھا

”کیا جانتے ہو ؟شادی کرنا چاہتے ہو اس سے ؟“

”نہیںسر جی، وہ غریب ہے ، میں تو اس کی امی کو اپنی آ نٹی سمجھتا ہوں ۔میں چاہتا ہوں اس کی مدد ہو جائے ۔ “

” پروین سے شادی کر کے ہی تم مدد کر سکتے ہو ؟سچی بات کہو ،جو ہے ؟“ میںنے پوچھا

”نہیں جی ، سچی بات تو یہ ہے کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے ۔شادی کر لے تو …. “ اس نے جھجکتے ہوئے اعتراف کر لیا ۔تو میںنے پوچھا

” وہ ایک لڑکا آ صف بھی یہی چاہتا ہے ؟“

” جی بالکل جی ، وہ پر وین بھی اسی سے شادی چاہتی ہے ۔ پر وہ ایک فقرا بندہ ہے جی ، اب آ نٹی ا س سے تو شادی نہیں کرے گی نا جی ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو جو میں چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا ۔ میںنے یہی تصدیق کرنا تھی کہ وہ نوجوان سچا تھایا محض الزام تراشی کر رہا تھا ۔

” اچھا بات سن ، جو ہو گیا سو ہو گیا ۔اب ، اسی وقت سے تم اس گھر کو بھول جاﺅ ۔ان کے گھر کی طرف آ نکھ اٹھا کر دیکھنا تو کجا ان کی گلی سے بھی نہیں گزرنا ۔ورنہ بہت پچھتاﺅ گے ۔“ میںنے کہا تو وہ حیرت اور الجھن سے میری طرف دیکھنے لگا تھا ۔پھر اسی طرح اس نے راﺅ ظفر کی طرف دیکھا تو اس نے کہا

” میری طرف کیا دیکھ رہا ہے ، جو صاحب نے کہا ہے وہی کرنا ہوگا ورنہ لمبا ہی اندر چلا جائے گا ۔“

” ٹھیک ہو گیا جی ۔“ ا س نے ماتھے پر ہاتھ لے جاتے ہوئے کہا ۔

” ابھی تم نے آصف کے پاس جانا ہے اسے تلاش کر کے اس سے معافی مانگنی ہے ۔اگر یہ کر لو گے تو ٹھیک رہے گا تمہارے لئے ۔“ میںنے کہا تو اس نے پھر سے ماتھے پر ہاتھ لے جا کر کہا

” جی ابھی حکم کی تعمیل ہو گی جی ۔“ اس نے کہا تو میںنے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔ اس نے راﺅ کی طرف دیکھا اور پھر تیزی سے نکل گیا ۔

” اچھا میں بھی چلتا ہوں ۔“ میں نے کہا اور اٹھ گیا ۔ میںنے تھانے سے باہر آ کر وقت دیکھا ۔ میری اسی نوجوان سے ملاقات کا وقت متعین تھا ۔ ابھی کچھ وقت رہتا تھا ۔ میں شہر والے بنگلے کی طرف چل دیا ۔

٭….٭….٭

شام ڈھل چکی تھی ۔ میں شہر والے بنگلے کے لاﺅنج میں بیٹھا ہوا تھا ۔میرے سامنے وہی نوجوان بیٹھا ہوا تھا جس نے رات میرا فون سنا اور پھر اس پر میری مدد کو بھی آ گیا ۔وہ گورا چٹا ، وجہہ نوجوان تھا ۔ مضبوط کسرتی بدن والے اس نوجوان کا نام عارف منیر تھا ۔وہ اندر سے جس قدر سفاک تھا ، اس کی مسکان اتنی ہی معصومانہ تھی۔شرمگیں سی آ نکھوں والاعارف لگتا ہی نہیں تھا کہ ایک بہترین فائٹر ہوگا ۔ میرے نزدیک فائٹر کی تعریف یہ نہیں ہے کہ وہ لڑنا بہت اچھا جانتا ہو ، میں اسے فائٹر مانتا تھا جو حق کے لئے لڑے اور مظلوم کی مدد کے لئے وہ فوراً مدد کو پہنچے ۔ورنہ بہت سارے بے غیرت اپنی بے غیرتی کے لئے لڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔ضروری نہیں کہ فائٹر ہاتھوں مکوں سے لڑے ۔ فائٹر وہ بھی ہوتا ہے ، جو ذہنی طاقت سے بھی اپنے حریف کو شکست دے دے۔ بعض اوقات دشمن سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ؟فائٹر اپنا کام دکھا جاتا ہے ۔

” مجھے تم سے مل کر خوشی ہوئی ،میرا خیال ہے ہمیں تکلفات دور کر لینے چاہئیں ۔“ میںنے مسکراتے ہوئے کہا تو ایک دم سے قہقہ لگا کر ہنس دیا پھر بولا

”تم نے یار مجھے پہچانا نہیں، میں روہی میں سے اس سائیں کو اٹھا کر لایا تھا ۔ “

” اُوہ اچھا تو وہ تم ہو ؟“میںنے خوشگوار حیرت سے کہا

 ” میرا خیال ہے اس وقت اندھیرا تھا اور صورت حال بڑی گھمبیر تھی ۔ اس وجہ سے میرا چہرہ ذہن میں نہیں رہا ہوگا ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے بولا،” خیر ، ہم پہلے وہ بات کر لیں جس کے لئے ہم یہاں پر اکھٹے ہوئے ہیں ، بعد میں گپیں تو لگاتے ہی رہیں گے ۔“

” ہاں بالکل ۔“ میں نے کہا تو اس نے ادھر اُدھر دیکھا ، میں سمجھ گیا اس لئے اس کی تسلی کے لئے کہا ،” ہم یہاں تنہا ہی ہیں ۔اگر مزید ….“

” نہیں نہیں بس ٹھیک ہے ۔“ اس نے تیزی سے کہا

”آپ بے فکر ہو کر بات کریں ۔“ میں نے کہا

” بات یہ ہے ، یہاں روہی میں وہ کچھ نہیں ہو رہا جس کے بارے میں تمہیں علم ہے یا اب تک جو سامنے آ یا ہے ، بلکہ کچھ ایسا چل رہا ہے ، جس کے بارے میںہم کافی حد تک سمجھ گئے ہیں ۔“

” مثلا ً کیا؟“ میںنے تجسس سے پوچھا

”دیکھیں ہمارا دشمن ملک بھارت ہے ، ہماری بھی اور ان کی بھی ایک دوسرے کے خلاف کار وائیاں چلتی رہتی ہیں ۔ یہ ایک معمول ہے ۔ لیکن یہاں جو کچھ دیکھنے کو ملا ہے وہ بڑا پر اسرار ہے ۔ اس کی ہمیں سمجھ بالکل نہیں آ رہی ۔“ اس نے پھر تجسس بھرے لہجے میں کہا

”پراسرار،میں سمجھا نہیں ۔“میںنے پھر تجسس ہی سے پوچھا تو وہ چند لمحے رُک کر بولا

”حتمی طور پر ہمیں بھی نہیں معلوم کہ یہاں ہے کیا لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اس خطے میں کوئی دوسرے ہی لوگ اپنی سرگر میاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔“

” کون ہیں وہ لوگ ؟“ میںنے تیزی سے پوچھا تو وہ کہتا چلا گیا ۔

”یہی تو پتہ نہیں ،انہیں کبھی دیکھا نہیں گیا لیکن شواہد بہت ملتے ہیں ۔ وہ جو کوئی بھی ہیں، آج تک انہوں نے کسی بندے کو نقصان نہیں پہنچایا ۔شواہد یہ ہیں کہ بہت ساری جگہوں پر جلی ہو ئی ریت ملی ہے ۔ پہلے یہ سوچا گیا تھا کہ ریوڑ چرانے والے گڈرئیے لکڑیاں وغیرہ جلاتے ہوں گے ۔ یا روہی کے خانہ بدوش کچھ وقت کے لئے جہاں ڈیرہ ڈالتے ہیں ، وہ لکڑیا ں جلاتے ہوں گے لیکن وہ لکڑیوں کی راکھ نہیں ہے ۔ بلکہ جب لیبارٹری میں اس کا تجزئیہ کیا گیا تو یہ انکشاف ہوا یہ کوئی کیمیکل ہے ،جس کے جلنے کے بعد اس کی راکھ ایسی ہو جاتی ہے جو ریت کو بھی جلا دیتی ہے ۔“

” بہت دلچسپ ….“ میںنے حیرت سے کہا تو وہ میری بات پر کوئی تبصرہ کئے بنا کہنے لگا ۔

”جب یہ کیمیکل والی بات سامنے آئی تو اس پر مزید تحقیق کی گئی ۔ لیکن کچھ بھی پتہ نہیں چلا ۔اس سے زیادہ ہمیں کوئی معلومات نہیںملیں ۔تحقیق جاری ہے کہ یہ اصل میں ہے کیا ؟“

”یہ معلوم کرنے کے لئے کچھ لائحہ عمل سوچا ہے ؟ کیونکہ جب تک یہ پتہ نہیں چلے گا یہ کیمیکل یہاں کیوں ہے تب تک اس کے بارے میں ….“میںنے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولا

” یہی بات کہنے میں آ پ کے پاس آ یا ہوں ۔ لائحہ عمل یہی ہے کہ کچھ عرصہ روہی میں رہا جائے ۔ایک خاص خطے کو طے کر کے وہاں پر پوری توجہ دی جائے ۔اسی لئے وہاں جو نیٹ ورک تھا اسے ختم کیا گیا ہے ۔اس کی جگہ اب ہم رہیں گے ۔بالکل یوں جیسے پہلے یہ سب رہتے تھے ۔“

” میں سمجھ گیا ، لوگوں کے یا کسی کی بھی نگاہوں میں آ ئے بنا وہاں مرکز بنایا جائے ۔اب یہ کوئی مشکل نہیں ہے ۔“میںنے تیزی سے کہا

” بالکل ، یہ بہت اچھا ہوا ہے کہ سائیں محبت خان کو زندہ رکھا گیا ۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ اسے سامنے رکھ کر اپنا نیٹ بناﺅ ، اس میں ہم داخل ہو جائیں گے ۔“ اس نے اپنی بات سمجھا دی کہ ہو کیا چاہتا ہے ۔

” چلیں جی یہ تو ہو گیا ، اس کے لئے آج ہی سے کام شروع ہو گیا سمجھیں ۔“ میں نے اسے یقین دہانی کروا دی

”لیکن یہ کام ایک ہی دن میں نہیں ہوگا ، بالکل غیر محسوس انداز میں ، یوں جیسے سب معمول کے مطابق ہو ۔“ اس نے مجھے احتیاط بتاتے ہوئے کہا

”اب یہ میرا کام ہے میں کردوں گا ۔“میں نے اسے یقین دلایاتو وہ بولا

” ظاہر ہے اب الیکشن ہیں۔ ایک گہما گہمی ہو گی ۔ تم لوگوں سے ملو گے ۔ ہم پوری طرح ساتھ دیں گے ۔اسی میں شامل ہو جائیں گے ۔لوگوں کو یہی احساس ہو کہ ہم تمہارے اردگرد ہیں ، محافظ ہیں گارڈ ہیں اور سب کچھ تمہارے کہنے پر کر رہے ہیں ۔“

” میں سمجھ گیا ۔ آﺅ اب کھانا کھاتے ہیں ۔“ میںنے کہا تو مسکراتے ہوئے اٹھ گیا ۔

 کھانا کھانے کے بعد ہم باہر لان میں آ کر بیٹھ گئے ۔ وہیں ہمیں کافی سرو کر دی گئی تو میںنے فون نکالا اور سائیں محبت خان کو فون کر دیا ۔ کچھ ہی دیر بعد اس سے رابطہ ہو گیا ۔ اس نے تیزی سے سلام دعا کی اور کہا

” حکم جناب ۔“

” سائیں جی میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔اگر وقت ہو آ پ کے پاس ۔“ میںنے پرسکون لہجے میں کہا

” جس وقت مرضی ، اب آپ یوں وقت والی بات تو نہ کریں نا جی ۔ جب چاہے جہاں چاہیں مجھے بلا لیں میں آ جاتا ہوں ۔“اس نے نرم لہجے میں کہا

”نہیںمیں آ تا ہوں ، کہاں دربار پر ہیں ؟“ میں نے پوچھا تو وہ بولا

” جی میں دربار پر ہی ہوں ۔“

” اچھا ، انتظار کریں میں آ رہا ہوں ۔“ میںنے کہا اور فون کال ختم کر دی ۔

” چلو گے میرے ساتھ ؟“ میںنے عارف سے پوچھا

” ہاںبالکل ۔“ اس نے فوراً کہا تو میں نے اپنے ملازم کو فور وہیل نکالنے کو کہا ۔

رات کا پہلا پہر ختم ہو چکا تھا جب ہم ہم دربار پر جا پہنچے ۔ہر طرف رات کا سکوت طاری تھا ۔دربار کے احاطے میں چند بلب روشن تھے جن کی روشنی چھن کر باہر تک آ رہی تھی ۔سیڑھیاں ویران تھیں ۔کوئی ایک بھی دو کا ن نہیں کھلی ہوئی تھی ۔چند کتے کھانے پینے والی دوکانوں کے اردگرد پھر رہے تھے ۔ میں نے وہاں ایک طرف فور وہیل پارک کی۔ عارف نیچے اتر گیا ہم سیڑھیاںچڑھتے ہوئے دربار کے احاطے میں چلے گئے ۔سامنے ہی ایک مجاور کھڑا تھا ۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی وہ تیر کی مانند میری طرف بڑھا ۔ اس نے آ تے ہی جھک کر سلام کیا اور بڑے ادب سے بولا

” سرکار ، آپ کے منتظر بیٹھے ہیں ۔“

”چلو پھر وہیں چلتے ہیں ۔“ میںنے مجاور کے ساتھ ان کمروں کی جانب بڑھ گیا جنہیں وہ حجرے کہتے تھے ۔ ایک بڑے سارے حجرے میں داخل ہو ئے تو سائیں محبت خاں ایک گدے پر بیٹھاہوا تھا ۔ ہمیں دیکھتا ہی اٹھ گیا ۔ ہم سے اچھی طرح ملنے کے بعد وہ بیٹھ گیا ۔ ہم بھی ایک گدے پر اس کے سامنے بیٹھ گئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات شروع کرتا ، ہمارے سامنے خشک میوے ، مٹھائیاں اور دیگر لوازمات کے ساتھ مٹی کے پیالوں میں چائے آ گئی ۔کچھ دیر یونہی گپ شپ کے بعد میںنے پوچھا

”سائیں جی ، روہی میں آپ جو بھی کرتے رہے ، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ، آپ کا جو بھی کالا دھندہ تھا یہاں پر اس کی ساری تفصیل معلوم ہے ۔اس وقت میں آ پ کے پاس صرف یہی پوچھنے آ یا ہوں کہ اب آپ کا کیا پروگروام ہے ؟“

”آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا سارا نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہے ۔ اور اچھا ہوا یہ ٹوٹ گیا ورنہ یہاں جو میری ساکھ تھی نہ صرف وہ تباہ ہو جاتی بلکہ میری اولاد کو بھی کچھ نہ ملتا ۔ “ اس نے آرزدہ لہجے میں کہا

”کیا ہوا تھا ؟“ میں نے پوچھا

” وہی تنّی جیسے لوگ جو اس نیٹ میں شامل ہو کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے ۔ میرے نام کو بہت غلط کیش کیا انہوں نے ۔ میں نہیں کہتا کہ میں بے گنا ہ ہوں لیکن اتنا نہیں جتنا وہ کرتے رہے ہیں ۔“اس نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا تو میںمسکراتے ہوئے بولا

”میں آپ کی صفائی لینے نہیں آ یا ، میں تو یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب کیا پروگرام ہے ؟“

” نہیں ، میں اب کہاں کچھ کر پاﺅں گا۔“ اس نے تیزی سے کہا

” لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ وہی کچھ کریں جو پہلے کر رہے تھے ۔ یہاں پر میں سر پرستی کروں گا ۔اس کی شروعات الیکشن میں ہمارا بھر پور ساتھ دے کر کریں ۔“

” الیکشن میں تو میں آ پ ہی کا ساتھ دوںگا ۔ جہاں چاہئیں مجھ سے اعلان کروا لیں ۔باقی اب میں کیسے کام کروں گا ؟“ اس نے مجھے سے پوچھا

”دیکھیں سائیں جی ، سیدھی اور کھری بات ہے ۔ سارا نیٹ ورک میں بناﺅں گا ۔بندے میں دوں گا ۔وہ روہی میں رہیں گے یا جیسے بھی رہیں ۔ آپ انہیں چلائیں ۔وہ سب وفا دار ثابت ہوں گے ۔اب اس سے جو کمائیں گے وہ ہوگا آ دھا آ دھا ۔“ میں نے اس کے سامنے اپنی آ فر رکھی ۔

” آپ سچ کہہ رہے ہیں یا مجھے آ زما رہے ہیں؟“ اس نے بے اعتباری سے پوچھا

” میں کوئی چھوٹی بات کرنے نہیں آ یا ۔“ میں نے سختی سے کہا تو وہ سوچنے لگا پھر دھیرے سے بولا

” جیسے آ پ کہیں گے وہ تو مجھے ماننا ہی پڑے گا ۔“

” ماننا نہیں پڑے گا ، یہ مجبوری ہوگی ۔ اگر آپ کا من چاہے ۔ کر سکیں تو اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ ہم سب کچھ پہلے ہی طرح چلا لیں گے ۔“ میںنے اس کی ہمت بندھائی ۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ وہ کرنا چاہتا ہے لیکن صرف جھجک رہا ہے ۔ اسے یہ ڈر تھا کہ کہیں اسے آ زمایا تو نہیں جا رہا ہے ۔میرے حوصلہ دینے پر اس کے چہرے پر سرخی نمودار ہوئی ۔ پھر آ ہستہ سے بولا

” ٹھیک ہے ، ہم کر لیتے ہیں ۔“

” یہ ہو ئی نا بات ۔چلیں پھر ایک دو دن میںملتے ہیں ۔ میں بندے آ پ کو دوںگا۔جو کہیں بھی دھوکا نہیں دیں گے ۔“ میںنے کہا تو وہ خوش ہو گیا ۔ پھر کافی دیر تک اسی موضوع پر باتیں چلتی رہی ۔ وہ اپنے تجربات بتا تا رہا ۔ رو ہی کے حوالے سے اس نے کئی باتیں بھی بتائیں لیکن اس طرح کے کسی کیمیکل والی ریت سے وہ بے خبر تھا ۔شاید اس کے بندوں نے بھی گڈریوں یا خانہ بدوشوں ہی کی راکھ بارے سمجھا ہو گا ۔

رات کا فی بیت گئی تھی جب ہم وہاں سے اٹھے ۔سائیں حجرے کے باہر تک ہمیں چھوڑنے آ یا ۔ ہم دربار کے احاطے سے گزر کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہے تھے ۔ میں جانتا تھا کہ عار ف کوئی نہ کوئی تبصرہ ضرور کرے گا ۔ شایدوہ خاموش تھا کہ وہی مجاور ہمارے ساتھ آ رہا تھا ۔ احاطہ پار کرنے کے بعد ہم نے اپنے جوتے پہنے اور سیڑھیوں کی جانب بڑھے ۔

 اس وقت ہم نے سیڑھیوں پر قدم نہیں رکھا تھا ۔ اچانک ہماری فور وہیل کے عقب سے ایک کار برآمد ہوئی ۔وہ لمحہ سے بھی کم وقت میں رکی تو اس کے ٹائروں کی رگڑ نے فضا کی خاموشی کو چیر کر رکھ دیا ۔ اس کے ساتھ اس کی کھڑکیوں میں سے نکلتی ہوئی گن کی نال نے فائر اگل دیا ۔ میںنے ملجگے اندھیرے میں شعلے دیکھے ، اس کے ساتھ ہی فائرنگ کی آ واز سے فضا لرز اتھی ۔ فائر کی آواز ابھی معدوم نہیں ہوئی تھی ۔ میرے قریب ایک چیخ بلند ہوئی جس نے مجھے بد حواس کر دیا ۔

 میرے ساتھ کھڑا ہوا مجاور فرش پر گر چکا تھا۔ اس کا سر سیڑھیوں کے اوپر تھا اور اس کا دھڑ نیچے سرکتاچلا جا رہا تھا۔ میرے ساتھ کھڑا ہوا عارف شاید ساری صورت حال سمجھ چکا تھا ۔ اس نے مجاور کے اوپر سے چھلانگ لگائی ۔ وہ سیڑھیاں پار کرتا ہوں نیچے کی طرف چلا گیا ۔ میں نے مجاور کو سنبھالا۔ اس کے سینے میں گولی لگی تھی ۔خون سے اس کے کپڑے تر ہو چکے تھے۔ میں نے اسے پکڑا اور اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ وہاںا بھی زندہ تھا۔ اس کے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ دربار کے صحن میں چند ملنگ اور درویشوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔وہ بھی چونک کر ہماری طرف دیکھ رہے تھے ۔ میں نے اُسے سیدھا کی اور اس کا زخم دیکھنے لگا۔ فائرنگ کی آواز سے مختلف حجروں سے لوگ نکل چکے تھے۔ میں نے سامنے دیکھا، سائیں محبت خان باہر آ چکا تھا۔ اس نے جب باہر کی صورتحال دیکھی تو ہماری طرف بھاگا۔میں سمجھ چکا تھا کہ اب وہ مجاور کو سنبھال لے گا۔ میں نے لمحہ بھر میں فیصلہ کیا اور اپنی فور وہیل کی جانب بھاگا۔

 میں دیکھ رہا تھا کہ حملہ آ وروں کی کار تھوڑے فاصلے پر جا چکی تھی ۔ جب تک میں اپنی فوروہیل کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔حملہ آ وروں کی کار ہم سے تقریبا دو فرلانگ دور جا چکی تھی۔ گاڑی سٹارٹ کرکے جب میں ان کے پیچھے لگا تو وہ ہم سے کافی دور جا چکے تھے۔ صرف اس کی بیک لائیٹس نظر آ رہی تھی۔ میرے لئے اتنا ہی کافی تھا ۔

میرے اور حملہ آوروں کے درمیان کافی فاصلہ تھا ۔میں نے حد رفتار کو قابو میں رکھتے ہوئے گاڑی ان کے پیچھے لگا دی۔ ایک لمحے کو تو مجھے یوں لگا جیسے انہیں پکڑ نہیں پاو ¿ں گا مگر میں انہیں چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں ۔ کار کا ڈرائیور خاصا ماہر نظر آتا تھالیکن میں بھی اس کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں تھا۔ میرا اور اس کا فاصلہ لمحہ بہ لمحہ کم ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ہم صحرا کے درمیان بنی ہوئی تارکول والی سڑک پر تھے۔ مجھے خوف بھی یہی تھا کہ وہ کہیں صحرا میں اپنی گاڑی نہ لے جائیں ورنہ ہمارے لئے مشکل ہو جاتی۔عارف اپنا پسٹل نکال چکا تھا۔ جوں جوں ہمارا فاصلہ کم ہوتا جارہا تھا میرے اندر سنسنی پھیلتی جا رہی تھی۔ میں یہی سوچ رہا تھا۔ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں؟ ممکن ہے یہ افضل سردار کے بھیجے ہوں؟ یا پھر وہ لوگ ہیں جنہیں ابھی کچھ دیر پہلے میں اندر کروا کر آیا تھا یا پھر سائیں محبت خاں کے بھی ہو سکتے تھے ۔وہ لوگ کون تھے اور کسے مارنے آ ئے تھے ؟اس کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ پر وہ جو کوئی بھی تھے دشمن تھے ۔وہ قتل کرنے آئے ہی آئے تھے ۔وہ کسے قتل کرنے آ ئے تھے یہ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا تھا۔وہ میرے سامنے تھے اور انہیں قابو کرنا تھا؟

”علی، تم پورے دھیان سے گاڑی اس کے قریب لے جاو ¿۔ باقی میں دیکھتا ہوں ۔“عارف سرد لہجے میں بولا۔میں سمجھ گیا وہ کیا چاہ رہا تھا ۔

 میری اور ان کی گاڑی کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان کی طرف سے ابھی تک کوئی مزاحمت نہیں ہوئی لیکن جوں ہی ہمارا فاصلہ انتہائی قریب ہوا۔ کار کی دائیں طرف والی کھڑکی سے ایک گن کی نال برآمد ہوئی ۔ اس سے پہلے کوئی فائر ہوتا، عارف نے فائر کردیا۔ اس نے یہ فائر ٹائر پر کیا تھا ۔ایک دھماکہ ہوا اور آگے جانے والے کار لڑکھڑانے لگی۔ جس طرح میں سوچ رہا تھا کہ اس کا ڈرائیور بہت ماہر ہے۔ اس نے کار سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ سنبھل نہ سکی اور سڑک سے اتر کر ریت میں دھنس گئی۔ یہ لمحہ ہمارے لئے بہت ہی سنسنی خیز تھا۔

 کار میں پتا نہیں کتنے لوگ تھے۔ میں نے پوری قوت سے فوروہیل کے بریک لگائے تو ٹائر چر چر ا اٹھے ، یہاں تک کہ فور وہیل رکتے رکتے ان کے اوپر جا پہنچی ۔ حیرت انگیز طور پر سامنے سے کوئی فائر نہیں ہو ا تھا ۔ یہ لمحہ بہت خوفناک تھا۔ عارف نے سمجھداری کی اور گاڑی سے باہر نہیں نکلا۔ اس نے چند لمحے انتظار کیا۔ ہمارے سامنے کار ریت میں دھنس چکی تھی۔ ابھی تک اس میں سے کوئی آدمی ہمارے سامنے نہیں آیا تھا۔ عارف نے میری طرف دیکھا اور سرسراتے ہوئے لہجے میں بولا

” علی ہمیں انتظار کرنا چاہئے ۔“

” ہاں ، دیکھتے ہیں ۔“ میں نے اسے جواب دیا

 دو منٹ سے بھی کم وقت میں ایک آدمی باہر نکلا۔ اس نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دیئے تھے۔ عارف نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا ۔وہ اسے دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد ایک اور آدمی باہر نکلا۔ وہ شدید زخمی تھا ۔اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے کپڑے خون میں تر ہو رہے تھے ۔ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کار میں کتنے لوگ ہیں۔

 فور وہیل کی جلتی ہوئی ہیڈ لائٹس میں وہ نظر آ رہے تھے۔ پہلے آدمی نے زخمی آدمی کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ کار میں تیسرا آدمی بھی سامنے آگیا ۔ممکن ہے کار میں کوئی مزید آدمی بھی ہو۔ تبھی عارف نے سن روف کھولا اور اونچی آواز میں کہا

” خبردار، کوئی ہلنے کی کوشش نہ کرے۔ “

وہ لوگ اپنی جگہ ساکت ہو گئے ۔ہم صرف دو تھے اور ان کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ تین تھے یا چار ۔ان کے پاس بھی بھاری اسلحہ ہوسکتا تھا۔میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ ہمارے پیچھے ایک اور گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی۔ رات کے اندھیرے میں ہیڈلائٹس سے کچھ پتہ نہیں لگ سکتا تھا کہ وہ کون ہوسکتے ہیں؟

ہمارے پیچھے آنے والی گاڑی لمحہ لمحہ ہمارے قریب ہوتی چلی جا رہی تھی۔ ہمارے سامنے ریت میں دھنسی ہوئی دشمن کی کار اور پیچھے سے آتی ہوئی تیزرفتار گاڑی کے درمیان ہم صرف دو ۔ یقینا عارف بھی یہی سوچ رہا ہوگا جو میں سوچ رہا تھا۔ وہ سن روف سے نیچے ہوا ۔

” یہاں خطرہ ہے ۔“ اس نے سرسراتے ہوئے کہا

” ہے تو ….“ میں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا

ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا تو اس نے بھی اپنی طرف کھول دروازہ کھول لیا ۔پھر ایک ساتھ ہی پورادروازہ کھول کر فور وہیل سے نکلے اور ریت کی طرف چھلانگ لگادی۔ اس طرح ہم آ نے والے لوگوں سے تو محفوظ ہو سکتے تھے۔

میں تیزی سے بھاگتا ہوا تھوڑا دور نکل گیا ۔میں ایک جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھ گیا۔ تقریباً دو منٹ بعد ہی ایک جیپ ہماری فوروہیل کے پاس آ رُکی۔

میں دیکھ رہا تھا۔ جیپ رکتے ہی اس میں سے چار لوگ تیزی سے نکلے۔ ان کے ہاتھوں میں گنیں پکڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے آتے ہیں ہماری گاڑی میں جھانک کر دیکھا۔

” علی بھی گاڑی میں نہیں ہے۔“ ایک شخص نے اونچی آواز میں کہا

” دیکھو، کہاں ہے ؟یہی کہیں ہوں گے دیکھو۔“ دوسرے شخص نے تشویش لہجے میں کہا

وہ کون تھے جنہیں میری تلاش تھی ؟سامنے فور وہیل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی بجائے وہ مجھے ڈھونڈنا چاہتے تھے۔مجھے یوں لگا جیسے میں گھیرے میں آ چکا ہوں ۔

میں جھاڑی کی اوٹ سے آنے والوں کو دیکھ رہا تھا ۔وہ چار تھے ۔ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کون ہوسکتے ہیں؟ جب تک ان کی تصدیق نہ ہو جاتی ، اس وقت تک میں کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔وہ دوست تھے یا دشمن ، میں اس کا انداز ہ نہیں کر پا رہا تھا ۔میرے ہاتھ میں پسٹل تھا ۔وہ میرے سامنے تھے ۔ میں انہیں نشانہ بنا سکتا تھا ۔ میں انتظار کر نے لگا ۔اس وقت میں نے سکون کا سانس لیا جب عارف سڑک پر نمودار ہوا ۔میں جھاڑی کی اوٹ سے نکلا کر سڑک کی جانب بڑھنے لگا ۔ بلا شبہ وہ عارف ہی کے لوگ تھے ۔

” علی یہیں ہے ، تم ان لوگوں کو دیکھو ۔“ عارف نے اونچی آ واز میں کہاتو آ نے والے لوگ کار کی جانب بڑھے ۔

میں سڑک پر پہنچا تو کار میں سے تین لوگوں کو نکال لیا گیا تھا ۔ ان میں سے ایک آ دمی شدید زخمی تھا ۔

” اسے کیا ہوا ؟“ عارف نے پوچھا

”کار کو ایک دم سے جھٹکا لگا تو یہ پیچھے دیکھ رہا تھا ۔ یہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پایا اور اس کا سر بری طرح ڈیش بورڈ سے ٹکرایا ہے ۔“ ایک نوجوان نے کہا

” کار تم چلا رہے تھے ؟“

”جی ۔“اس نے کہاتو میںنے ناگواری سے کہا

” عارف اس سے پوچھو یہ ہیں کون؟“

” یہاں نہیں ، تمہارے ڈیرے پر چل کر پوری تفصیل پوچھتے ہیں ۔“ اس نے درشت لہجے میں کہا اور اپنے آ دمیوں کو اشارہ کیا ۔انہوں نے ان تینوں کو پکڑااور انہیں باندھنے لگے ۔

وہ تینوں ڈیرے کے پکے فرش پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہروں پر عجیب اعتماد تھا جیسے وہ ہمارے مجرم نہ ہو بلکہ وہ یہاں پر مہمان آئے ہوئے ہوں۔ ان کے چہرے پر ذرا سی بھی شرمندگی نہیں تھی۔ نہ ہی کوئی ایسا احساس تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے انہوں نے ہم پر حملہ کیا تھا اور اب ہم ان کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔ یہ کسی بھی تاثر سے عاری چہرہ لیے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں اور عارف دونوں ہی حیران تھے۔ یہ آخر کون ہے؟ میں بیٹھ گیا۔ کمرے میں بالکل خاموشی تھی۔ عارف میرے دائیں طرف کھڑا تھا۔ میں نے ان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا

 ” کون ہو تم لوگ؟“

 میرے سوال کے جواب میں انہوں نے میری طرف دیکھا تو سہی لیکن یوں جیسے انہوں نے میری بات سنی ہی نہ ہو۔ میں نے اپنی بات پھر دہرائی تو ان میں سے ایک نے کہا

” یہ چھوڑیں کہ ہم کون ہیں آپ ہمارے ساتھ جو کرنا چاہتے ہیں، کرلیں۔“

اس کا جواب سن کر پہلے تو مجھے حیرت ہوئی ۔میں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے پھر پوچھا

 ”میں یہ پوچھتا ہوں ،تم کون ہو؟کہاں سے آئے ہو ؟“

” ہمیں خود نہیں معلوم، یہ بھی ہمیں نہیں پتہ کہ ہم کون ہیں ؟“ان میں سے ایک نے جواب دیا۔ مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ آنے لگا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں اس کی پٹائی شروع کر تا عارف نے میرا کاندھا دبا دیا۔ پھر خود آ گے بڑھ اس شخص کو اٹھایا جو زخمی ہوچکا تھا۔ اسے کھڑا کرکے پوچھا

 بتاﺅ تم کون لوگ ہو؟“

 وہ چند لمحے عارف کے چہرے پر دیکھتا رہا پھر بولا

” ہم ایک ایسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں جن کا کام پیسے لے کر قتل کرنا ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم پروفیشنل کلرہیں۔“

یہ بات اس نے یوںکہی جیسے وہ کوئی پلمبر یا کوئی الیکٹریشن ہو ۔

” یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟“ عارف نے پرسکون لہجے میں پوچھاتو اس نے بھی اعتماد سے جواب دیا

” میں سچ کہہ رہا ہوں۔“

” یہ سب کس کے کہنے پر کیا ؟“عارف نے پوچھا

” ہمیں صرف حکم ملتا ہے اور ہم اپنے ٹارگٹ پر پہنچ کر وہی کرتے ہیں جو ہمیں کہا گیا ہوتا ہے۔“ اس نے سکون سے جواب دیا

” چلو ٹھیک ہے ،تمہاری بات مان لیتے ہیں مگر تم کسے قتل کرنے آئے تھے؟“ عارف نے پوچھا

 ”ہم عارف کو قتل کرنے آئے تھے۔“اس نے جواب دیا

” کیا تم جانتے ہو کہ عارف کون ہے؟“

” نہیں، ہم نہیں جانتے کہ عارف کون ہے۔شاید آپ ہی ہیں ۔“ اس نے کہا

 ”پھر تم نے اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کر نا چاہا تھا۔ جبکہ میں سامنے تھا ۔“ اس نے پوچھا

” اندھیر تھا ۔ دوسرا آپ کی تصویر کچھ دیر پہلے دیکھی تھی ۔پھر ہمیں یہ پورا یقین تھا کہ آپ اس وقت کہاں پر ہو۔ ہمیں لمحہ بہ لمحہ اس بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ تینوں میں سے کوئی ایک تو ہوگا سو ….“

 میں جانتا تھا کہ یہ بات سن کر عارف حیرت زدہ ہی نہیں ششدر رہ گیا ہوگا ۔اس کے بارے میں کون اتنی جانکاری رکھتا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ میں خاموش رہا تو اس نے پوچھا

” کیا اب تمہارا رابطہ ہے؟“

”نہیں ہمارا رابطہ نہیں ہے۔انہیں پتہ چل گیا ہوگا کہ ہم پکڑے گئے ہیں۔ “

” کون لوگ ہو یار تم….؟“ میں بھنّا کر کہتے ہوئے اٹھا

” کہہ رہے ہیں نا کہ پروفیشنل کلرہیں۔“اس نے بڑے سکون سے جواب دیا ۔اس کی بات سن کر عارف نے میری طرف دیکھ کر بولا

” علی تم فکر نہ کرو۔ یہ کوئی اور لوگ ہیں۔ ان کے بارے میں خود پتہ کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے پھر ان تینوں کی طرف دیکھا اور چند لمحوں بعد ان تینوں سے کہا

” دیکھو اگر تم اپنے بارے میں سچ نہیں بتاو ¿ گے نا ، تب تمہارے لیے بہت مشکل ہو جائے گی ۔اگر سچ بتا دو گے تو شاید تمہارے ساتھ نرمی ہو جائے۔“

 تبھی دیوار کے ساتھ لگے ہوئے ناٹے قد کے لڑکے نے کہا

 ”اب تک ہم نے جو کچھ کہا وہ بالکل درست ہے ۔ہمیں حکم ملا اور اس کے ساتھ ہمیں مسلسل رابطے کے ساتھ بتایا گیا کہ عارف کہاں پر ہے۔ آپ تینوں ہمیں نظر آئے ہمیں نہیں پتہ ان میں سے عارف کون تھا۔ ہم نے گولی چلا دی۔“

” کسی سے رابطہ تو ہوگا تم لوگوں کا؟“ عارف نے پوچھا

” ہمارا رابطہ فون پر ہے۔ ہم تمہیں فون نمبر دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہمارے پاس۔“اس نے اپنی جیب سے فون نکالا اور عارف کی جانب بڑھا دیا۔عارف نے وہ فون پکڑ لیا۔ وہ فون سیٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھ ہی رہا تھا کہ سیل فون بج اٹھا۔وہ اسکرین پر دیکھنے لگا ۔

” سنو ، یہ آپ کے لئے ہی فون ہوگا ۔“

عارف نے ایک بارمیری طرف دیکھا اور کال رسیو کر کے اس کا اسپیکر آن کر دیا ۔تبھی ایک بھاری آ واز گونجی

” عارف میں تم سے مخاطب ہوں ۔ان لوگوں کو اپنے پاس رکھو یا چھوڑ دو ، انہیں ٹارچر کرو ، جتنی مرضی محنت کر لو ، یہ تمہیں کچھ نہیں بتا پائیں گے ۔تم ان کے ذریعے کبھی بھی مجھ تک نہیں پہنچ سکتے ہو ۔“

” کون ہو تم ؟“ عارف نے پوچھا

” اتنی جلدی کیا ہے ۔ اگر تم ہمارے راستے میں نہیں آ ﺅ گے ، ہماری تم سے کوئی دشمنی نہیں ۔ ابھی صرف تمہیں وارننگ دی گئی ہے ۔“ اس نے کہا

” میں تمہارے راستے میں آ رہا ہوں ، کون سا راستہ ، تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

”وہی کرو ، جو تمہاری ڈیوٹی ہے ۔ زیادہ ادھر اُدھر پھیلنے کی ضرورت نہیں ۔ سائیں محبت خان کو اکیلا چھوڑ دو ۔ اب ہماری اس صحرا پر حکومت ہے ۔یہ بات اپنے بڑوں کو بھی بتا دینا ۔“ اس نے کہا تو میںنے حیرت سے دیکھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا ، ہمارے انتہائی قریب تھا ۔

 ” صحرا پر حکومت …. میں سمجھ رہا ہوں تم کس لئے مجھے وارننگ دے رہے ہو ۔اب میری سنو ، میں وہی کروں گا ، جو میں چاہ رہا ہوں ۔ تیرے ان لوگوں کو لے کر جا رہا ہوں ۔ اگر تم اتنی ہی طاقت رکھتے ہو تومجھ سے اپنے لوگوں کو لے جا کر دکھاﺅ ۔“

” یہ میرے لئے اب ٹشو پیپر ہیں ۔جو تمہیں کہا ہے وہی کر و،ورنہ بہت نقصان ہو گا ۔“

اس کے ساتھ ہی کال ختم ہو گئی ۔

عارف چند لمحوں تک سیل فون کو دیکھتا رہا پھر بولا

” میں انہیں ہیڈکواٹر لے جا رہاہوں ۔ ان کے بارے صبح تک ساری انفارمیشن مل جائے گی۔“

”چلو ٹھیک ہے۔“ میںنے کہا تو اس نے اپنے آدمیوں کو بلایا اور تینوں کو لے جانے کے لئے کہا۔وہ ان تینوں کو لے گئے تو وہ مجھ سے بولا

” علی ،پریشان نہیں ہونا۔ یہ معاملہ جو بھی ہوا، صبح تک پتہ چل جائے گا۔ میں چلتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ مزید بات کیے بغیر کمرے سے نکل گیا۔ وہ تینوں جیپ میں بیٹھ چکے تھے ۔ وہ بھی اُن کے ساتھ جا بیٹھا ۔کچھ دیر بعد وہ ڈیرے سے نکلتے چلے گئے ۔میں اپنی فوروہیل میں بیٹھا اور حویلی آ گیا۔

 ان تینوں نے اپنے بارے جوکہا تھا وہ میرے دماغ میں اُتر نہیں رہا تھا۔ ایسا پہلی بار میرے سامنے ہوا تھا ۔وہ لوگ ہمیں قتل کرنے کا اقرار بھی کر رہے تھے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا انہیں کس نے بھیجا ہے۔ میں بہت دیر تک سوچتا رہا لیکن مجھے اس واقعہ کا کوئی سر پیر نظر نہیں آیا ۔لیکن اتنا یقین ضرور تھا کہ کچھ نہ کچھ ہے۔ جو میرے سامنے نہیں آ رہا مگر اس کے پیچھے بڑا راز دکھائی دے رہا تھا۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے