سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر  قسط نمبر 6 اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر  قسط نمبر 6 اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر

 قسط نمبر 6

                              اعجاز احمد نواب

   اردو کہانی کا سفر… کم از کم پندرہ مختلف گروپس میں شائع ہونےکےعلاوہ اردو لکھاری ڈاٹ کام.. کتابی دنیا ڈاٹ کام( فیس بک پیج پچاس ہزار لائکس) اور میری اپنی وال( اعجاز احمد نواب)  پر تو ہوتی ہی ہے، میری توقع سے زیادہ دوستوں نے اس سلسلے میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے، ہر قسط شائع ہونے کے  فوری بعد لائکس شیئر اور کمنٹس کے نوٹیفکیشن نان سٹاپ ملنا شروع ہو جاتے ہیں، جن کو پڑھنے میں.. اتنا مگن ہو جاتا ہوں، کہ آئندہ قسط لکھنے کی دو دن تک یاد ہی نہیں رہتی، ان تاثرات( کمنٹس) میں بعض انتہائی دلچسپی کے حامل ہیں، سوچا آپ کے ساتھ بھی اشتراک کیا جائے، اب آنے والے کمنٹس(تاثرات) سے ہی پتہ چلے گا کہ یہ بات کس حد تک آپ کو پسند آئی  یا طبع نازک پر گراں گزری…. چند ایک چنیدہ کمنٹس ملاحظہ فرما سکتے ہیں…!!!

      ڈاکٹر نسیم جاوید  اسلام آباد سے…..

ہمیں یہ جان کر افسوس ہو رہا ہے کہ راحت مرحوم 2011/12 میں جب وہ حیات تھے، آپ کی دعوت پر اسلام آباد اور پھر مری کے لئے آئے۔ہمارا غریب خانہ  اسلام آباد میں ہی ہے۔وہ قریب سے گذر بھی گئے اور ہم ملنے سے محروم رہے۔

یہ وہ ہستی تھی جس کےساتھ یوسف پلازہ کراچی میں ہم نے بیشمار راتیں ایک ہی فلیٹ میں بسر کیں۔معراج رسول مرحوم کے اس فلیٹ میں ہماری رہائش تھی اور ایم اے راحت، کہانیاں لکھنے کے لئے بطور گوشہء تسکین وہاں اٹے تھے۔اتنا تیز رفتار رائیٹر ہم نے زندگی میں نہ دیکھا، نہ سُنا۔

آپ کی قسط بہت اچھی جا رپی ہے۔کبھی کبھی ایک آدھ لقمہ ہماری طرف سے بھی۔ہماری معلومات محدود اور صرف جاسوسی، سسپنس اور پاکیزہ کے رایٹرز کے حوالے سے جبکہ آپ کی بے حد وسیع ہیں ۔

اس زمانے میں ادارے کے راولپنڈی کے سول ایجنٹ امانت صاحب ہوا کرتے تھے۔کراچی بھی آتے تھے۔ہمارے بعد کوئی تبدیلی آئی ہو تو علم نہیں ۔

 ڈاکٹر صاحب آپ سے ملاقات انشاءاللہ ضرور ہو گی  امانت ندیم صاحب جو اس وقت سول ڈسٹری بیوٹرز تھے جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے وہ عرصہ ہوا  1994میں وفات پاگئے اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین

علیم اقبال صاحب لاہور سے لکھتے ہیں

          بہت اعلیٰ، اس قسط میں داستان گوئی اور فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر ہے، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ، آمین چلتے چلتے اتنا ذکر کردوں کہ ١٩٨٠ میں ہی جب آپ کی ملاقاتیں اشتیاق احمد صاحب سے ہو رہی تھیں میں میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا اور لاہور ہی میں تھا اور اشتیاق صاحب کا قاری اور فین تھا لیکن مجھے علم تک نہ تھا کہ وہ اسی راجپوت مارکیٹ میں مل سکتے ہیں جہاں میں اگلے بارہ سال بعد کتابوں کی تالیف و ترجمہ کے حوالے سے پہنچا تھا

 علیم صاحب حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ.. کتاب کے حوالے سے آپ کا کام بھی قابل ذکر ہے ، کبھی ذکر کروں گا انشاء اللہ

         نوید انجم     اعجاز احمد نواب

   جناب اردو کہانی کا سفر اور ڈائجسٹوں کی الف لیلیٰ

       یہ دو تحاریر ہیں جن کا بے چینی سے انتظار رہتا ھے.دونوں ہی تحریرں ایک ملتے جلتے موضوع کے باوجود  منفرد اسلوب کی مالک ییں.

        اردو کہانی کا سفر اپنے نام کے حوالے سے زیادہ وسعت کا احاطہ کرتی ھے. مصنفین کے ساتھ پیشہ ورانہ اور ذاتی دونوں حیثیتوں سے ملاقاتیں اس تحریر کی انفرادیت ہیں. پھر یہ تحرہر آپ کی آپ بیتی اور جدوجہد کی داستان بھی ھے. آپ کے ڈائجسٹ مسٹر میگزین کے حوالے سے تفصیلی تذکرہ ابتدا سے انتہا تک درکار ھے. آپ کی اپنی تحریر کردہ کہانیوں کا مرکزی خیال کیسے آپ کے ذہن میں آیا!!!

اور دیگر لکھاریوں سے ملاقات میں یقینناً ان کی تحاریر کے حوالے سے بھی آپ کی ان سے اس بارے میں ہوتی ہوگی.

اور آپ یقینناً اس کا احاطہ بھی کریں گے ہی مگر پھر فرمائشی پروگرام چلانے کا بھی اپنا الگ ہی مزہ ھے.

 کیونکہ اس کے بغیر یہ سفر ادھورا سا لگے گا کہ کوئی بھی مقبول تحریر کیسے تخلیق ہوئی.

خیر ابھی تو اس سفر کی ابتدا ھے اور اس طلسم میں ہوش کو رُبا کرنے والی کیا کیا باتیں پوشیدہ ہوں گی.

ایک اور بے حد "ضروری” درخواست کہ اقساط میں وقفہ طویل نہ ھو. جس دفتار سے اقساط آرہی ہیں بہترین ہے.

اور ایک بات کہ

   کیا یہ سفر مکمل ھونے کے بعد وہ شکل اختیار کرے گا جسے کتابی کہتے ہیں..؟؟

نوید صاحب.. آپ نے تو اچھا خاصا انٹرویو کر ڈالا، آپ کی تمام تجاویز نوٹ کر لی گئ ہیں، عمل درآمد کی کوشش ہو گی، ہو سکتا ہے اردو کہانی کا سفر کتابی شکل میں شائع ہو جائے، تاہم یہ بات ابھی قبل از وقت ہو گی

    تزئین دانش کراچی سے…

 بڑی نفاست اور روانی سے واقعات پیش کئے گئے ھیں تمام پیچ و خم ایک لڑی میں پرو کر فنکاری کے ساتھ کہانی کی شکل دی گئی ھے۔۔۔ادبی ذوق رکھنے والوں پر مصنف کا یہ ایک شاہکار احسان ھے

 ذرہ نوازی ہے آپ کی لیکن زیادہ توقعات نہ رکھیے گا کہ میں کوئی ثقہ بند لکھنے والا نہیں ہوں،

   عاصم حسین  رقم طراز ہیں

            اعجاز احمد نواب صاحب

اللہ آپ کو خوش رکھے

آپ کی اس تحریر نے سارا بچپن آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا، اشتیاق صاحب سے مکتبہ اشتیاق اور بعد ازاں اشتیاق پبلی کیشنز میں کئ ملاقاتیں ہوئیں

نقش محمد اعوان صاحب نے اشتیاق صاحب سے الگ ہونے کے بعد اپنا ذاتی ادارہ نقش پبلی کیشنز قائم کیا اور بچوں کا ایک رسالہ ننھے شاہین جاری کیا تھا جس کے مدیر شاید منصور علی بٹ تھے اس رسالے میں راقم کی بھی کچھ تحریریں اشاعت پزیر ہوئیں

اشتیاق صاحب سے ملاقات کے لیے راجپوت مارکیٹ کی شکستہ اور تاریک سیڑھیاں بھی طے کی ھیں خاص طور پہ جب انہوں نے اشتیاق پبلیکیشنز قائم کیا اور مکتبہ اشتیاق سے بھی ایک منزل اوپر شفٹ ھوئے اور بازار حکیماں کی طویل سڑک پہ مارچ پاسٹ بھی کیا ھے جب انہون نے ساندہ میں ایک چھوٹا سا ذاتی مکان خرید کے اپنا ادارہ وہاں شفٹ کر لیا تھا

آخر میں ایک گزارش تھی جہاں تک مجھے یاد ہے عنبر ناگ ماریہ مکتبہ اقراء نے اشتیاق صاحب سے قطع تعلق کے بعد شائع کی تھی پہلے یہ سیریز شیخ غلام علی اینڈ سنز سے شائع ہوئ تھی کیونکہ مکتبہ اقراء کے جلال انور صاحب سے میں اشتیاق صاحب کے پرانے ناول خریدنے گیا تو انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اب ہم عنبر ناگ ماریا سیریز چھاپ رہے ھیں چھوڑیں انسپکٹر جمشید کو اور یہ پڑھا کریں

لیجئے جاتے جاتے مکتبہ اقراء کا پتہ بھی یاد آ گیا 14 بی شاہ عالم مارکیٹ لاہور

اللہ آپ کو خوش رکھےاور ھمیں آپ کی یہ یاداشتیں کتابی صورت میں ملیں دعاگو

عاصم

واہ جی واہ. عاصم صاحب آپ بھی اشتیاق احمد کی چلتی پھرتی تاریخ ہیں.. . نقش محمد اعوان صاحب کا تفصیلی تزکرہ ابھی باقی ہے ان کے بچوں کے رسالے ننھے شاہیںن کے مدیر کا نام آپ نے منصور علی بٹ لکھا تھوڑی سی تصیح کر لیجئے  ان کا نام منصور احمد بٹ ہے، ان کا ذکر خیر بھی کبھی ہو گا البتہ یہ اپنی یادداشت کی غلطی میں مانتا ہوں کہ جلال انور  نے مکتبہ اقرا سے اے حمید کی عنبر ناگ ماریا  سیریز اشتیاق احمد کے ناولوں کے بعد شروع کی تھی

………………………………………………………………….

   اشتیاق صاحب کی راولپنڈی آمد کا اعلان تو ناولوں میں کر دیا گیا، لیکن ہمارے لئے پریشانی کھڑی ہو گئی.. کہ ہمارے پاس تو جگہ ہی نہیں تھی جہاں قارئین بچوں کو بٹھاتے، بلکہ اشتیاق صاحب کو کہاں بٹھاتے  ہماری چھوٹی سی دوکان تھی، پندرہ بارہ سائز کی جس کے اندر  نیا مال بھی تھا اور کرایہ پر دینے والی ہزارہا کتابیں بھی، اور ہم خود بھی تین چار لوگ… انتہائی شش و پنج میں تھے

کہ اگلے دن ابا جی کہنے لگے کہ تم لوگوں کا مسئلہ حل کر دیا ہے، اس سے پہلے کہ ہم حیران ہوتے ابا جی نے سسپنس ختم کردیا اور بتایا کہ عرب ٹینٹ سروس والے کاکے (شفیق) سے بات ہو گئی ہے

یہ 1980 کا کمیٹی چوک تھا ، چند چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہوا کرتی تھیں، لکڑی کی کڑیاں اور مٹی سے چھتیں بنی تھیں جن کے آگے لکڑی کے فولڈنگ دروازے تھے  ایک ہی مشترکہ تھڑا اور دروازے کے اوپر ٹین کی چادروں کے چھجے تھے

    ٹانگہ سواری سب سے مقبول تھی، اتنی رش نہ ہوتی تھی سڑک کے دونوں اطراف دوکاندار آواز دے کر سامنے والوں سے علیک سلیک کرلیا کرتے تھے، کمیٹی چوک کے اِس طرف دوکانیں اور اُس پار سڑک کے دائیں بائیں شبستان اور گلستان سینما تھے، گلستان سینما تو ختم ہوگیا ہے اور شبستان کافی عرصہ سے کومے میں ہے، کمیٹی چوک میں رش صرف ان اوقات میں تھوڑی دیر کے لئے ہوتی تھی جب ان دونوں سینماؤں کے شو ختم ہوتے تھے، ورنہ پورا کمیٹی چوک مری روڈ اقبال روڈ بھائیں بھائیں کرتے تھے، ہمارے بالکل ساتھ پراپرٹی ڈیلر کی دوکان تھی دارالجائیداد  جبکہ تیسری دوکان عرب ٹینٹ سروس تھی جس کا اباجی نے ذکر کیا تھا، چونکہ وہ دوکان چند دریاں قناتوں کے علاوہ خالی تھی چالیس پچاس لکڑی کی بَنی اور نوار کی بُنی کرسیاں اوپر تلے باہر لگی ہوتی تھیں، باقی سارا سامان ان کے گودام میں ہوتا تھا اس لئے اس دوکان کے مالک سے اجازت لے لی گئی، حالاں کہ یہ کوئی آسان بات نہیں تھی، لیکن ہمارے ابا جی اس جگہ سب سے پرانے تھے . پورے علاقے میں ان کی نیک نامی اور شرافت کے چرچے تھے، اشرف لائبریری سن پچاس سے کسمپرسی کے عالم میں قائم تھی، ابا جی اپنی لائبریری کے ناولوں کی جلد نہ صرف خود بناتے تھے بلکہ دیگر کئی لائبریریوں والے بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے تھے، ہم تمام بہن بھائیوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اذان ہوئی ہو اور ابا جی نماز کے لئے اٹھ کھڑے نہ ہوئے ہوں،  کبھی کسی کے ساتھ ابا جی کی لڑائی یا جھگڑا حتی’ کہ توتومیں میں بھی نہ ہوتی تھی، اسی نیک نامی کی وجہ سے ابا جی اگر کسی کے پاس کسی کام سے چلے جاتے تو شاید کبھی انکار نہیں ہوا تھا،

  مقررہ تاریخ کو عین وقت پر صبح دس بجے اشتیاق احمد  ایک پرائیویٹ کار پرپہنچ گئے، بچوں کو گیارہ بجے کا وقت بتایا گیا تھا، ہم نے اشتیاق صاحب کو اپنی دوکان پر بٹھایا جہاں کسی کرسی وغیرہ کا بندوبست نہیں تھا بلکہ فرشی نشست تھی  چونکہ دوکان پچیس تیس سال پرانی تھی لہذا سامان بھی اسی حساب سے دگرگوں حالت میں تھا، اشتیاق صاحب آلتی پالتی مار کر  لکڑی کے پھٹے پر بیٹھ گئے، ابا جی ان کے ساتھ بیٹھے سنجیدگی لیکن آہستگی سے ان سے کوئی بات کر رہے تھے  ہمارے ابا جی کی عمر اس وقت 65 برس تھی، اور اشتیاق احمد صاحب شاید اڑتیس انتالیس کے ہوں گے یہ منظر اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، اشتیاق صاحب ہمارے ابا جی کا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر سرمہ بھری چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے ابا جی کے ساتھ باتیں کررہے تھے،  اس زمانے میں اشتیاق صاحب باریش نہ تھے صرف چھوٹی چھوٹی مونچھیں تھیں، اور کوٹ پتلون میں ملبوس تھے، آج نہ ابا جی ہیں اور نہ ہی اشتیاق احمد… زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے!

             جیسے ہی اشتیاق احمد بچوں کے درمیان پہنچے، بچوں کے چہرے تمتمانے لگے، اک ہڑبونگ مچ گئی،  ہر بچہ سب سے پہلے میں کے مصداق تھا ، اشتیاق صاحب کی کرسی کے گرد اتنے بچے اکٹھے ہو گئے کہ اشتیاق صاحب غائب ہو گئے کیوں کہ وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور بچے سارے کھڑے تھے، ٹینٹ سروس کی ساری دوکان بچوں سے بھر چکی تھی شیشہ لگی الماریوں میں بند ڈشیں چمچیں اور گلاس اس دھکم پیل میں تھرتھرانے لگے  جس سے جلترنگ سی بجنے لگی، ہر بچہ اشتیاق صاحب  کے قریب ترین ہونے کے چکر میں تھا، اس ہاہا کار سے اشتیاق صاحب بوکھلا کر چلا اٹھے، ارے بھائی فیاض… اعجاز کہاں ہو بھئ.. یہ کیا ہو رہا ہے..

       اسی اثنا میں کسی الماری کا پٹ کھل گیا اور سٹین لیس سٹیل کی پلیٹیں.. ایک کے بعد ایک پوری رفتار سے اینٹوں کے فرش پر گرنے لگیں

اوپر تلے دھری سو پلیٹیں جب یکے بعد دیگرے پھسلتی ہوئی فرش پر گرنا  شروع ہوئیں تو عجب موسیقی تخلیق ہونے لگی جس کا دورانیہ نصف منٹ  تک پھیل گیا، سب کا تراہ نکل گیا، لیکن فائدہ یہ ہوا کہ شور کرتے بچوں کو چپ لگ گئی، یہاں تک کہ چند لمحات پن ڈراپ سائلینٹ  جیسی حالت ہو گئی

         بحرحال پھر تمام بچوں کو دوکان سے باہر نکال کر صرف بچیوں کو دوکان کے اندر ایک ساتھ کھڑا کر دیا گیا اور ان کے ساتھ آئیں خواتین کو دوکان کے اندر کرسیوں پر بٹھا دیا گیا ان کی اس وقت تعداد پندرہ بیس تھی، البتہ لڑکوں کی دوکان سے باہر قطار بنوا دی گئی، اور پھر باری باری سب بچوں کو اشتیاق احمد سے ملوایا جانے لگا، اس کے ساتھ ساتھ مزید نئے آنے والے ملاقاتی بچوں کا بھی تانتا بندھا ہوا تھا!

       بعض بچوں بچیوں کی والدہ یا والد یا دونوں ساتھ آئے تھے بچے شوخی اور معصومیت سے اشتیاق صاحب کو چھو چھو کر دیکھ رہے تھے کچھ پیچھے کھڑے ہو کر آہستگی سے اشتیاق صاحب کے بالوں میں انگلی پھیر نے میں مصروف تھے  اشتیاق صاحب باری باری فرداً فرداً ہر بچے کو اپنے پاس بٹھاتے اس سے ہاتھ ملاتے بچیوں کے سر پر ہاتھ شفقت سے پھیرتے  اور نام پوچھتے،  پھر اس سے پسندیدہ ناول کا نام دریافت کرتے،  ایک دو بچوں کے ساتھ آئے بڑوں کے پاس کیمرہ بھی تھا، وہ تصاویر بنانے لگے!، کئی بچے اشتیاق احمد کا کوئی نہ کوئی ناول ہمراہ لائے تھے  جس پر انہوں نے آٹو گراف لینا شروع کیے، ان کی دیکھا دیکھی  ان بچوں نے جو کسی بڑے کے ساتھ آئے تھے، ان سے اشتیاق احمد کا کوئی ناول خرید کر دینے کی ضد شروع کر دی کچھ بچے جو نہ  ناول ساتھ لائے تھے اور نہ کوئی بڑا  ان میں سے بھی بعض  اپنے گھروں کی سمت بگٹٹ بھاگے، شاید پیسے لینے نکلے تھے، یوں ہماری کتابوں کی فروخت شروع ہو گئی فی ناول قیمت ساڑھے چار روپے تھی، لیکن بچوں کے شوق کو دیکھتے ہوئے  رعائیتی قیمت ساڑھے تین روپے میں فی ناول بچوں کو  فروخت کیا گیا،، یہ پہلا دن تھا جب اشرف لائبریری پر اشتیاق احمد کے ناول رعائیتی قیمت پر فروخت کیے گئے، وہ دن اور آج کا دن انتالیس سال گزر گئے ہیں اشتیاق احمد کے ناول اشرف بک ایجنسی راولپنڈی پر پچیس فیصد رعائیتی قیمت پر  آج بھی فروخت کیے جاتے ہیں دوسری بات.. جو بچے/ قارئین آٹو گراف بک یا کسی ناول پر اشتیاق احمد صاحب سے آٹو گراف لے رہے تھے، اشتیاق صاحب اپنے دستخط کے ساتھ لکھ رہے تھے کہ  ناول پڑھنے سے قبل دیکھ لیں کہ نماز کا وقت تو نہیں؟؟ ورنہ پہلے نماز پڑھیں..  اور اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ بات اشتیاق احمد کے ناولوں کا ٹریڈ مارک  بن گئی اور ان کے ہر ناول پر یہ بات طبع ہونے لگی،

       اشتیاق صاحب کی بچوں سے یہ ملاقات وقفہ نماز اور ظہرانہ کے بعد پھر شروع ہوئی اور تقریباً ساڑھے چار بجے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اور اس وقت ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی، جب ایک پتلا لمبا بچہ عمر تقریباً چودہ سال، اشتیاق صاحب سے ملنے لگا اور نام کے استفسار پر بولا محمود.. تو اشتیاق صاحب چونک کر بولے…  ارررے

ساتھ ہی ایک دوسرا بچہ بول پڑا میرا نام فاروق ہے انکل ..  اوہ….  اشتیاق صاحب کا مہنہ کھلے کا کھلا رہ گیا.. پھر کچھ سوچ کر گویا ہوئے… تم دونوں ساتھ ہو؟؟ بھائی ہو یا دوست؟؟

نہیں سر ہمارا تعارف تو یہیں ہوا ہے، فاروق نے جواب دیا،  فاروق کا جواب سن کر اشتیاق صاحب.. جو اس وقت بچوں کے ساتھ بچہ بنے انتہائی خوش نظر آرہے تھے  مسکراتے ہوئے بچیوں پر طائرانہ  نگاہیں ڈالتے ہوئے کہنے لگے اگر کوئی  فرزانہ بھی آجاتی تو ٹیم مکمل ہو جاتی!  کسی کا نام فرزانہ ہے بھئی ، کہیں سے کوئی جواب نہ آیا،  …

میری پھپھو ساتھ آئی ہیں، اِن کا نام فرزانہ ہے اچانک کونے میں  کھڑی دس گیارہ سالہ بچی کی آواز سن کر سب کی گردنیں میکانکی انداز میں ایک ساتھ آواز کی سمت  مڑ کر مرکوز ہو گئیں، تو کرسی پر  پینتالیس سالہ  سانولی فربہ  خاتون براجمان تھیں،  اس بے جوڑ ٹیم کو دیکھ کر اشتیاق صاحب  ہونٹ بھینچ کر مسکراہٹ چھپانے کی کام یاب کوشش کرنے لگے، لیکن بچے تو بچے تھے…. کھلکھلا کر ہنسنے لگے،

وہ تو شکر ہوا کہ وہ خاتون بھی کوئی خوش مزاج پھپھو تھیں،……………..ہنسنے لگیں!

کچھ سال بعد  اشتیاق صاحب نے پھر قارئین بچوں سے ملاقات کا اعلان کیا، جس کے لئے باقاعدہ مشاورت کی گئ  کیونکہ اب حالات تبدیل ہو چکے تھے غالباً 84   کا سن تھا، اشتیاق احمد اس وقت پاکستان بھر میں بچوں کے سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہونے والے مصنف بن چکے تھے، اور قارئین کا بہہہہہہت ہی بڑا حلقہ رکھتے تھے، مکتبہ اشتیاق اس وقت غالباً انسپکٹر جمشید سیریز کا ہر ناول پچیس سے تیس ہزار شائع کررہا تھا

البتہ انسپکٹر کامران مرزا سیریز قدرے کم اشاعت کی حامل تھی،

 مری روڈ پر ایک معروف ہوٹل کا حال بک کروایا گیا باقاعدہ دعوت نامے جاری کیے گئے ، اور اعلان ہوا کہ بغیر کارڈ کے داخلہ ممکن نہ ہو گا، مہمان خصوصی کا اعلان بھی ہوا، سٹیج سیکرٹری بھی مقرر ہوئے اور پہلے کی نسبت یہ تقریب منظم اور سنجیدہ انداز میں منعقد کی گئی

اس تقریب کا کرتا دھرتا بھی میں ہی تھا،

اردو کہانی کا سفر ساتویں قسط میں اس کی تفصیلات

پیش کی جائیں گی انشاءاللہ..

 دعوی’ اکیڈمی اسلام آباد کے زیر اہتمام 1983 میں بچوں کے رسائل کے مدیران کو مدعو کیا گیا، ان دنوں اشتیاق صاحب بھی  بچوں کے لئے……………  نکالتے تھے، مجھے بھی کسی نہ کسی طرح دعوت نامہ مل گیا، تعلیم و تربیت  نونہال، پھول بچوں کی دنیا بچوں کا باغ ، چندا ماموں  بچوں کا رسالہ  آنکھ مچولی، جگنو، کھلونا، اور بے شمار مقبول اور غیر مقبول بچوں کے جرائد کے مدیران کی قارئین بچوں سے ملاقات کروائی گئی، اشتیاق صاحب بھی مدعو تھے، تمام مدیران سٹیج پر تشریف فرما تھے، حاضرین میں مجھے دوسری قطار میں نشست مل گئی، باری باری ہر رسالے کا ایڈیٹر یا پبلشر مائیک پر آتا اور اپنے رسالے کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا شروع کردیتا، کوئی دو درجن کے قریب رسالوں کے کرتا دھرتا شریک محفل تھے

        لیکن میری دلچسپی کا محور آنکھ مچولی کے مدیر تھے، اس کی ایک خاص وجہ تھی، آنکھ مچولی اپنے وقت کا نہایت مشہور اور بہت ہی زیادہ سرکولیشن رکھنے والا بچوں کا رسالہ تھا اور انتہائی خوبصورت اور معیاری.. یہ اکتوبر 83 کا مہینہ تھا اور اکتوبر ہی کے شمارے میں میرا ایک آرٹیکل اس میں چھپا تھا جو میں نے کوئی چھ سات ماہ پیشتر حوالہ ڈاک کیا تھا، یہ فیصل مسجد اسلام آباد کے متعلق معلوماتی مضمون تھا، رنگین تصاویر کے ساتھ، آخر کار میری مراد بر آئی تقریب کے اختتام پر باہر نکلتے وقت میں نے سرعت سے آنکھ مچولی کے مدیر( اب نام یاد نہیں غالباً کوئی سلیم صاحب تھے )  کا راستہ روک لیا جیسے ہی وہ چلتے چلتے میری جانب متوجہ ہو کر ٹھٹھکے؛ میں نے  لمحے بھر میں اپنا تعارف کروادیا  میری توقع کے برعکس وہ مسکرائے گرم جوشی سے مصافحہ کیا،  میرا ہاتھ پکڑے پکڑےبھیڑ سے الگ ہو کر ایک طرف لے گئے، اورکچھ دیر رسمی گفتگو کی اور میرے آرٹیکل اور خاص طور پر رنگین تصاویر کی کھل کر تعریف کی…  یہ بات میں نے اس زمانے میں بڑے اعزاز کی سمجھی، اور کافی لوگوں اور دوستوں کو فخریہ انداز میں بتائی،

فیصل مسجد کی رنگین تصاویر کا ذکر بار بار اس لئے کر رہا ہوں کہ آج سے ٣٦ برس پیشتر اتنی بڑی مسجد کی صاف اور فل کوریج کے ساتھ تصاویر صرف پیشہ ور فوٹو گرافر ہی لے سکتا تھا، اس مقصد کے لئے میں نے اپنے پرانے کلاس فیلو روشن دین سے رابطہ کیا جو فوٹو گرافر بن چکا تھا        اس کے ساتھ تیس روپے میں سودا طے کیا، اور ایک دن علی الصبح بعد نماز فجر میں اپنا موٹر سائیکل سوزوکی ففٹی اور اپنے ایک جگری یار کو ساتھ لے کر اس کے گھر پہنچا اس نے کیمرہ وغیرہ شانے پر لٹکایا اور ہم تینوں فیصل مسجد کی جانب رواں دواں!

 اس وقت فیصل مسجد اسلام آباد زیر تعمیر تھی، اس کے میناروں اور گنبد پر ابھی  ،گو،   بندھی ہوئی تھی  تاہم اندرونی ایوان کی سجاوٹ ہورہی تھی، اور عام آدمی کو اندر ہال میں جانے کے اجازت نہ تھی، طلوع آفتاب کے گھنٹہ بھر بعد ہم وہاں پہنچے،  روشن دین نے پہلے باہر سے

تصاویر بنائیں، لیکن ہال میں جانے لگے تو چوکیدار آڑے آگیا، بڑی منت سماجت کی، مگر وہ نہ مانا تاہم تھوڑے مزید، ترلوں، کے بعد اپنے افسر  چوکیدار سے ملوانے پر رضا مند ہو گیا،  افسر چوکیدار تو بالکل ہی نہ مانا، میں نے اسے بہتیرا کہا کہ بھئ میں نے اخبار کے لئے تصویریں بنانی ہیں  مگر ڈھاک کے وہی تین پات اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی..  آخر ایک سبز باغ دکھایا تو بخوشی اجازت مل گئی !!

یادداشتوں کا یہ سفر ابھی جاری ہے، مصنفین،  قارئین، مدیران، ناشران،  سے ملاقاتوں ان کی تخلیقات اور مطبوعات کے حوالے سے ابھی بہت باتیں ہوں گی،

اگر آپ کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجئے،

تاہم.. اپنے تاثرات(کمنٹ) سے لازمی آگاہ کریں، لائک اور شئیر کرنا نہ بھولئے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین اور کتاب دوستوں تک یہ کہانی پہنچ سکے، آئندہ جمعرات رات دس بجے تک اجازت دیجئے…… اللہ حافظ

                                          بہ احترامات فراواں

                                                    اعجاز احمد نواب

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

2 تبصرے

  1. Avatar

    بھائی اعجاز نواب ، اسلام علیکم

    بھائی اعجاز نواب ،
    اسلام علیکم

    آپنے اپنی اس مقبول داستان کی چھٹی قسط میں بچوں کے رسالے آنکھ مچولی کے جس مدیر سلیم کا ذکر کیا ہے انکا پورا نام سلیم مغل ہے جو کہ نہایت حیران کردینے والی متنؤع صلاحیتوں سے لبریز ہیں – اب سلیم بھائی میرے دوست ہیں جبکہ اس قبل ایم اے صحافت میں میرے استاد بھی رہ چکے ہیں اور تدریس کے شعبے سے وابستگی سے قبل پی ٹی وی میں پروڈیوسر تھے اور اب اردو کالج سے ریٹائر منٹ کے بعد حکیم سعید کے مشہوراور بہت بڑے ادارے ہمدرد فاؤنڈیشن سے بحیثیت ڈائریکٹر پبلی کیشنز منسلک ہیں – میں نے آپکے اس مضمون کی بابت انہیں بتادیا ہے بلکہ متعلقہ حصہ انہیں بھیج کے پڑھا بھی دیا ہے جس پہ وہ بہت خوش بھی ہوئے اور جلد ہی آپ سے رابطہ کرنے کا عندیہ بھی دیا – میں چونکہ یہاں برسرعام انکا فون نمبر نہیں دے سکتا اور ویسے بھی پہلے انکی اجازت لینی ہوگی اس لیئے میں یہاں مغل صاحب کا ای میل ایڈریس درج کر رہا ہوں جس پہ آپ ان سے رابطہ کرکے ان سے انکا نمبر لے سکتے ہیں ( mughalsaleem@gmail.com )

    آپکا انداز نگارش اور تحریر کی جاذبیت بہت قابل داد ہے ۔۔۔

    واسلام
    سید عارف مصطفی!- karachi
    ariffm30@gmail.com

  2. Avatar

    بھائی اعجاز نواب ،
    اسلام علیکم

    آپنے اپنی اس مقبول داستان کی چھٹی قسط میں بچوں کے رسالے آنکھ مچولی کے جس مدیر سلیم کا ذکر کیا ہے انکا پورا نام سلیم مغل ہے جو کہ نہایت حیران کردینے والی متنؤع صلاحیتوں سے لبریز ہیں – اب سلیم بھائی میرے دوست ہیں جبکہ اس قبل ایم اے صحافت میں میرے استاد بھی رہ چکے ہیں اور تدریس کے شعبے سے وابستگی سے قبل پی ٹی وی میں پروڈیوسر تھے اور اب اردو کالج سے ریٹائر منٹ کے بعد حکیم سعید کے مشہوراور بہت بڑے ادارے ہمدرد فاؤنڈیشن سے بحیثیت ڈائریکٹر پبلی کیشنز منسلک ہیں – میں نے آپکے اس مضمون کی بابت انہیں بتادیا ہے بلکہ متعلقہ حصہ انہیں بھیج کے پڑھا بھی دیا ہے جس پہ وہ بہت خوش بھی ہوئے اور جلد ہی آپ سے رابطہ کرنے کا عندیہ بھی دیا – میں چونکہ یہاں برسرعام انکا فون نمبر نہیں دے سکتا اور ویسے بھی پہلے انکی اجازت لینی ہوگی اس لیئے میں یہاں مغل صاحب کا ای میل ایڈریس درج کر رہا ہوں جس پہ آپ ان سے رابطہ کرکے ان سے انکا نمبر لے سکتے ہیں ( mughalsaleem@gmail.com )

    آپکا انداز نگارش اور تحریر کی جاذبیت بہت قابل داد ہے ۔۔۔

    واسلام
    سید عارف مصطفی!- karachi
    arifm30@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے