سر ورق / افسانہ / کماد سے قبر تک ۔ باباجیونا

کماد سے قبر تک ۔ باباجیونا

کماد سے قبر تک ۔

باباجیونا
اس کا نام پروین تھا لیکن سب لوگ اسے پِدی کہتے تھے ۔ پتہ نہیں وہ کن خیالوں میں رہتی تھی ۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں وہ اتنی بڑی بڑی خواہشیں کہاں سے لے آئی تھی۔ وہ اس کم عمری میں ہی عشق و محبت کی دنیا میں حکمرانی کرنا چاہتی تھی ۔ اسے کس نے بتا دیا تھا کہ عشق بھی کوئی چیز ہے ؟۔ وہ اپنے نوخیز پھولوں جیسے کھلتے چھوٹے چھوٹے معصوم جذبات کی تعریف سننا چاہتی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کوئی ایسا ہو جو اسے دیکھ کر گانے گائے ۔ غزلیں اور اشعار خون سے نہیں تو کم ازکم سرخ سیاحی سے لکھ کر اسے چور ی چوری خطو ں کی شکل میں دے ۔ کاغذ پہ دل کے نقش و نگار بنا ئے ان میں تیر گزار کر پدی سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرے ۔وہ چاہتی تھی کوئی چھپ چھپ کے اس کا دیدار کرے ۔ وہ ہمیشہ اساتذہ اور مالیوں کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود گاﺅں کے مڈل سکول کے باغیچے سے پھول توڑتی۔ وہ چاہتی تھی کہ کوئی ایسا ہو جس کے لیے وہ دنیا کی ہر چیز سے اہم ہو ۔ کوئی اپنے بازو پر اس کا نام لکھے اور پھر اپنے دوستوں کو دکھائے ۔ ہر ماہ نمبرداروں کی بلقیس کے لیے آنے والے جواب عرض کے تما م عشقیہ شعر اسے زبانی یاد ہوتے ۔جواب عرض کی تما م کہانیاں اسے لفظ بہ لفظ یاد ہوتیں ،بلکہ ہمیشہ سکول میں اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو وہ تمام کہانیاں اور اشعار سناتی ۔ وہ اکثر جواب عرض رسالہ عاریتاََ بلقیس سے مانگ کر پڑھتی ۔اس کی کتابوں کے صفحات پہ ہر جگہ اشعار لکھے ہوتے ۔رسالوں میگزین پر چھپی ماڈل لڑکیوں کی تصاویر دیکھ کر ناجانے کون سے خیالوں میں کھو جاتی ۔ صرف یہی نہیں جب وہ تختی لکھتی تو تختی کے دونوں اطراف عشقیہ شاعری لکھتی ۔ گاﺅں کے نمبرداروں کے گھر بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن پر ڈرامے دیکھنے کے لیے وہ شام ڈھلے ہی پہنچ جاتی ۔ نمبردارنی کے ساتھ گھر کے سارے کام کرواتی تاکہ وہ اسے ٹیلی ویژن دیکھنے سے منع نہ کرے ۔ وہ ہمیشہ اپنی ہم عمر لڑکیوں سے مختلف سوچتی ۔اب اس نے گاﺅں کے مڈل سکول سے آٹھویں کا امتحان پاس کر لیا تھا ۔ان کے گاﺅں کی جو بچیاں آٹھویں جماعت سے آگے نکل جاتیں انھیں بیاہ دیا جاتا یا پھر گاﺅں کے کچھ صاحب حیثیت لوگوں کی بچیاں بیس کلو میٹر دور ہائی سکول میں حصول علم کی غرض سے جایا کرتی تھیں۔غریب والدین کی بچیاں آٹھویں جماعت سے آگے پڑھنے کا تصور بھی نہیں کرتی تھیں ۔ مگر پدی غریب ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین خوش شکل اور اپنے فیصلے خود کرنے والی لڑکی تھی ۔وہ اپنی غربت کو کمزور ی بالکل نہیں سمجھتی تھی ۔بلکہ وہ تو اپنے ابھرتے ہوئے نسوانی حسن کی عاشق تھی اور اسی حسن کے بل پہ وہ ہر میدان میں آگے نکل جانا چاہتی تھی ۔اس کی شرارتیں اس کی شوخیاں ہر کسی کو اس کی بات ماننے پہ مجبور کر دیتی تھیں۔ اس کا باپ گاﺅں کا ماشکی تھی ۔سارا دن بنا جوتے پہنے گاﺅں کے زمینداروں کے گھر پانی کی مشقیں بھر بھر کر انڈیلتا رہتا ۔اسے تو خبر ہی نہیں تھی کہ اس کے گھر آنکھ کھولنے والی اس کی پیاری سی بیٹی آنے والے وقت میں ایک کہانی بن کر رہ جائے گی ۔اس کے دونوں بیٹے چھینا اور ٹیڈی سارا دن نمبرداروں کی بھینسوں کو چارا ڈالتے کھیتوں میں کام کرتے ہل چلاتے فصلوں کو پانی لگاتے اناج اور فصل کی شکل میں سال بعد تنخواہ لیتے ۔ اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو نمبرداروں کے کھیتوں میں زرخرید غلاموں کی طرح کام کرتے دیکھ کر اکثر وہ منہ بناتی ۔ پدی اپنی اماں کے ساتھ جب اپنی اکلوتی گائے کے لیے زمینداروں کے کماد اور کپاس کے کھیتوں سے گھاس کاٹنے جاتی تو کہتی اماں دیکھنا ایک دن اس طرح میرے بھی کماد کے کھیت اور فصلیں ہوں گی ۔ اماں میں تیری طرح ساری زندگی کماد سے گھاس نکالتے نہیں گزاروں گی ۔ نہ ہی زمینداروں کی شادیوں پر برتن مانجھوں گی ۔ میں خود شہزادی بنوں گی اور کسی شہزادے جیسے شہری بابو سے ہی بیاہ کروں گی ۔ اس کی اماں ہنستی رہتی اور کہتی تو تو پگلی ہے ۔ چل اٹھا گھاس اور گھر جاکر گائے کو ڈال ۔ اپنے بھائیوں سے کہا کرتی کہ تم لوگ شہر کیوں نہیں چلے جاتے ۔ میں لڑکا ہوتی تو فلموں میں ہوتی ۔ نمبر داروں کے ٹیلی ویژن میں آتی یا شہر کے کسی بڑے دفتر میں افسر ہوتی ۔ تم لوگوں کی طرح کوہلو کا بیل نہ ہوتی ۔ اس کے بھائی اپنی بہن کے بھولپن پر ہنستے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتے اچھا ، تو اب چلی جا شہر کے کسی بڑے دفتر ۔ ہم بھی تمھارے پیچھے پیچھے آجائیں گے ۔ نمبرداروں کے ٹیلی ویژن میں تو لازمی آنا اور ہنسنے لگتے ۔ پدی سینہ ٹھونک کر کہتی اچھا اگر ایسی بات ہے تو میں نمبرداروں کے ٹیلی ویژن میں ضرور آﺅں گی دیکھنا تم لوگ ۔
پدی کی تائی نے اپنے بیٹے گڑوی (غفور) کے لیے پدی کا ہاتھ مانگ لیا ۔ پدی کو پتہ تھا کہ گڑوی لاہور شہر میں کسی فیکٹری میں کام کرتا ہے ۔ پدی نے تو لاہور دیکھنا تھا ۔ وہ تو گاﺅں سے نکل کر شہر کی چکا چوند رنگینیوں میں جانا چاہتی تھی ۔ فوراََ ہی شادی کے لیے رضا مند ہوگئی ۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی پدی نے لاہور جانے کی ضد لگا دی ۔اور صاف صاف کہہ دیا کہ یا تو میں لاہور جا کر رہوں گی یا پھر مجھے گڑوی کے ساتھ بالکل نہیں رہنا ۔ مجبوراََ ایک دن پدی کی تائی نے پدی کے ماں باپ اور پدی کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور گڑوی سے کہا غفور بیٹا تم اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لاہور لے جاﺅ ، اسے بڑے بڑے شہروں کی رنگینیاں دیکھنے کا شوق ہے ۔ جب یہ راضی ہوجائے تو اسے واپس لے آنا ۔
پدی کا دیسی حسن ، تیکھے نقوش ، بھرا ہوا چھریرا بدن ،بدن سے چپٹا ہوا پیٹ، اٹھا ہوا ولائتی آڑوﺅں جیسا گندا ہوا سینہ ہر دیکھنے والے کو دوبارہ پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کردیتا ۔ فیکٹری کے کوارٹروں میں ٹہلتی پدی پر ایک دن سیٹھ صاحب کی بھی نظر آکر ٹھہر گئی ۔ اگلے ہی دن سیٹھ صاحب نے گڑوی کو اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ ہمیں دفتر کی صفائی کے لیے ایک خاتون کی ضرورت ہے ۔ تم کیوں کہ فیکٹری کے کوارٹر میں ہی رہتے ہو اور بہت پرانے مزدور ہو ۔ میں نے چیک کیا ہے تمھارا سابقہ ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے ۔ اس لیے پہلا حق تمھارا ہے ۔ اس بارے تمھارا کیا خیال ہے ؟ ہم تمھاری بیوی کو اچھی تنخواہ دیں گے ۔ تمھیں بھی مزدوروں سے نکال کر فورمین لگا نے کا ارادہ رکھتے ہیں ہم ۔گڑوی نے جب پدی سے بات کی تو پدی تو جھٹ سے مان گئی ۔ وہ تو گھر سے ہی اس طرح کی امیدیں لگا کر آئی تھی ۔ دفتروں میں کام کرنا تو اس کی ازلی خواہش تھی ۔
پدی اب تیار شیار ہوکر دفتر جانے لگی ۔ سیٹھ صاحب کو پدی سے بے تکلف ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا کیوں کہ پدی کو اپنے کپڑوں پر پرفیوم چھڑکنے والے روز نہانے والے امیر لوگ پسند تھے ۔ پدی سیٹھ صاحب کے دفتر میں لگے رنگین اور بڑے ٹی وی کے ساتھ رکھے وی سی آر کو بڑے انہماک سے دیکھتی بلکہ اب تو اگر کبھی ٹی وی بند ہوتا تو خود سیٹھ صاحب سے کہہ کر ٹی وی وی سی آر چلوا لیتی ۔ سیٹھ بھی موقعہ کی تلاش میں رہتا اور پدی کے کہنے پر ٹی وی چلاتے وقت طرح طرح کی انڈین انگریزی نیم عریاں اور ناچ گانے کی فلمیں لگاتا ۔پدی کی خواہش پر سیٹھ نے پدی کو بھی ٹی وی اور وی سی آر چلانا سکھا دیا۔
آج بھی پدی دفتر کی صفائی کر رہی تھی جب سیٹھ نے وی سی آر پر گانا چلایا ” پنکھ ہوتے تو اڑآتی رے“ ۔ پدی جب صفائی چھوڑ کر گانے کی طرف متوجہ ہوئی تو سیٹھ نے محسوس کیا کہ پدی گانے کے بولوں کے ساتھ جیسے تخیلات کی کسی خوبصورت وادی میں اڑ رہی ہے ۔ سیٹھ نے پدی سے پوچھا ۔ تمھیں گانے بہت پسند ہیں ؟ ۔ پدی نے جھٹ سے جواب دیا ، ہاں بہت پسند ہیں ۔قلمدان سے سارے قلم نکال کر ایک ایک کر کے صاف کرتے ہوئے کہا بلکہ سیٹھ صاحب میں تو خود فلمو ں ڈراموں میں کام کرنا چاہتی تھی ۔ میں تو اپنے گاﺅں کے نمبرداروں کے ٹی وی میں آنا چاہتی تھی ۔ بس میرے والدین نے میری شادی کردی ۔ سچ پوچھیں تو میں نے گڑوی سے شادی بھی شہر آنے کے لیے کی تھی ۔ سیٹھ نے پوچھا گڑوی کون؟ تو پدی نے ہنس کر کہا غفورا ، آپ کی فیکٹری کا مزدور ، میرا گھر والا ۔ گاﺅں میں اس کا نام گڑوی ہے ۔ سیٹھ صاحب اور پدی دونوں ہنسنے لگے ۔ اس بے تکلفی سے ہنستی ہوئی پدی کو دیکھ کر سیٹھ نے لوہا گرم جان کر ضرب لگائی اور کہا ، اچھا ۔ اگر میں تمھیں فلموں میں کام دلوادوں تو ۔ پدی نے صفائی والا کپڑا ہاتھ سے ایک طرف پھینک کر اور سیٹھ کے بہت قریب ہوکر کہا ۔ ہیں سیٹھ جی سچی ؟ سیٹھ نے جواب دیا ہاں ۔ تم اتنی خوبصورت ہو ۔تمھیں تو فلموں ڈراموں والے بھاگ کر اپنی فلموں اور ڈراموں میں کام دیں گے ۔ پدی نے سیٹھ کا ہاتھ پکڑ کر منت کے سے انداز میں کہا۔ سیٹھ جی مجھے لے چلیں ناں وہاں ، جہاں فلمیں ڈرامیں بنتے ہیں ۔ سیٹھ کے اندر کے شیطان کو موقع مل گیا ۔ اس نے گھومنے والی کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی پدی کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور کھینچ کر اپنے بہت قریب کرتے ہوئے کہا ۔ بس سمجھو تم وہاں پہنچ گئی اور پدی کو مزید قریب کر لیا ۔ پدی گدھ نما سیٹھ کے لیے ایک آسان شکار ثابت ہوئی ۔ بڑی بڑی خواہشوں کی اسیر اور امیر زادوں کے خوابوں کی رسیاء پدی ذرا سے لالچ کے خوش نماء جھونکے کی سرسراہٹ سے ٹپکے ہوئے آم کی طرح ٹوٹ کر سیٹھ کی جھولی میں جاگری۔
سیٹھ اور پدی اتنے بے تکلف ہوگئے کہ سیٹھ اب پدی کے جسم پر کہیں بھی ہاتھ لگاتا تو پدی اسے منع نہ کرتی ۔ پدی تو فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے کے سہانے خواب دیکھ رہی تھی ۔ اسے کیا خبر کہ کوئی اسے کیوں اور کس نظریے سے چھو رہا ہے ۔ یا شاید وہ جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی تھی تاکہ کسی طرح اس دنیا میں پہنچ جائے جس کا وہ بچپن سے خواب دیکھتے آئی ہے ۔ جب بھی سیٹھ پدی کو چھوتا تو پدی ایک ہی سوال کرتی ۔ ہم کب جائیں گے وہاں جہاں فلمیں بنتی ہیں ۔ سیٹھ کہتا جائیں گے میں بات کر رہا ہوں ۔
۔ سیٹھ نے پدی کے ہاتھ سے صفائی والا کپڑا پکڑ کر ایک طرف رکھتے ہوئے کہا ۔ تم جب بڑی ایکٹر بن جاﺅ گی تو ہمیں تو پھر بھول ہی جاﺅ گی ۔ سیٹھ نے کسی چھوٹے سے بچے کی طرح پدی کو بغلوں میں دونوں ہاتھ سے اٹھا کر دفتر کی میز پر بٹھا دیا ۔ پدی نے کہا میں آپ کو کیسے بھول جاﺅں گی ۔ آپ ہی تو مجھے کامیاب کریں گے ۔ لیکن ہم وہاں جائیں گے کب ؟میز پر بیٹھی پدی کی ٹانگوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر سیٹھ نے کہا اچھا تیار ہو جا ، کل چلتے ہیں ۔آج سے تم دفتر کی صفائی نہیں کیا کرو گی ۔ اور ہاں اپنے شوہر کو یہ سب مت بتانا ۔ پدی نے کہا کیسی باتیں کرتے ہیں سیٹھ صاحب ۔ میں نے اسے کبھی کچھ نہیں بتایا ۔ وہ بھلا جانے دے گا مجھے ۔ ویسے بھی اس کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہوتا ہے کہ میرے ساتھ ایسی باتیں کرے ۔ سیٹھ نے کہا چل ٹھیک ہے کل تم ذرا جلدی آجانا ۔ کچھ پیسے دے کر کہا یہ لے پکڑ پیسے ۔ کل کے لیے سوٹ خرید لے ۔ میک اپ تیر ا میں خود کرواﺅں گا بیوٹی پارلر سے ۔ پدی نے جذباتی ہوکر کہا بیوٹی پالر سے ؟ اور سیٹھ کے گلے سے چمٹ گئی ۔ دونوں میں خوب بوس و کنار ہوئی ۔ سیٹھ کے اندر کا شیطان اپنی غلاظت پدی کے جسم میں انڈیل دینا چاہتا تھا ۔ مگر دفتر کے دروازے کو کنڈی لگا نا کسی طور بھی مناسب نہ تھا ۔ لہذا سیٹھ نے اپنے دماغ میں کل کے لیے منصوبہ بنالیا۔ سیٹھ نے اگلے دن پدی کے خاوند گڑوی کو اپنے کسی ذاتی کام کے سلسلے میں اسلام آباد بھیج دیا اور خود پدی کو لے کر لاہور کے سب سے بڑے ہوٹل پہنچ گیا ۔بہترین کھانا صاف ستھرا ماحول ، مہنگا کمرہ ، وردیوں میں ملبوس بیرے ، پاﺅں کے نیچے سے پھسلتا اور چمکتا فرش ۔ خوشبو سے معطر فضاء بیوٹی پارلر سے تیار ہوکر آئی پدی کے لیے یہ سب کسی خوبصو رت خواب کی طرح تھا ۔ بوس وکنار تو پہلے ہی کرچکی تھی لہذا اب پدی کے پاس سیٹھ کی خواہش پوری نہ کرنے کا کوئی بہانہ یا معقول وجہ نہ تھی ۔ اب آئے روز فلم والوں سے ملاقات کا جھانسہ دیکر سیٹھ پدی کو بڑے بڑے عالیشان ہوٹلوں میں لے جانے لگا ۔ دونوں رنگ رلیاں منانے لگے ۔ ادھر فیکٹری میں روز بروز گڑوی کی تنخواہ اور مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا ۔ آہستہ آہستہ گڑوی کو سیٹھ کے پرسنل سٹاف کا درجہ مل گیا ۔ سیٹھ نے جس دن پدی کو لے کر کسی ہوٹل جانا ہوتا گڑوی کو کسی نہ کسی ذاتی کام کے سلسلے شہر سے باہر بھیج دیتا ۔ اب سیٹھ کے کام کاج کے لیے جاتے وقت گڑوی کو گاڑی اور ڈرائیور بھی ملنے لگا ۔ آئے روز پدی نئے نئے مہنگے سوٹ پہننے لگی ۔ بیوٹی پارلر سے تیار ہونے لگی ۔ فیکٹری میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں ۔ کوارٹروں کی دوسری عورتوں نے پدی اور سیٹھ کے بارے عجیب عجیب کہانیاں گھڑنا شروع کردیا ۔ فیکٹری کے باقی مزدور گڑوی کی شان وشوکت کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے ۔ گڑوی کے تو وہم وگماں میں بھی وہ سب نہیں تھا جو لوگ کہنے لگے ۔ پہنچتے پہنچتے ساری باتیں گڑوی تک پہنچ گئیں ۔ گڑوی اب پدی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا ۔ ایک دو بار گڑوی نے پدی کے مہنگے کپڑوں اور جوتوں کے بارے پدی سے بازپرس بھی کی جس کی وجہ سے دونوں میں خوب جھگڑا بھی ہوا ۔ مگر آج تو پدی نے جذبات میں آکر یہاں تک کہہ دیا کہ جو کچھ تم آج ہو میری وجہ سے ہو ۔ سیٹھ اگر ہم پر مہربان ہے تو میری وجہ سے ہے ۔ تم کیا تھے ؟ چارہزار تنخواہ پر مزدوری کرنے والے ایک بدبوکے مارے ہوئے وہ مزدور جس کی ابھی ایک شفٹ کی ڈیوٹی کی نیند ہی پوری نہیں ہوتی تھی کہ دوسری شفٹ کا وقت ہوجاتا تھا ۔ جس سیٹھ کی وجہ سے تم آج اے سی والی بڑی گاڑیوں میں سفر کرتے ہو اسی پر بھونک رہے ہو ۔ اس سیٹھ کی ان مہربانیوں کے بدلے تم اسے دے بھی کیا سکتے ہو ۔ میں ہر حال میں سیٹھ صاحب کو رازی رکھوں گی تاکہ وہ مجھے فلموں اور ڈراموں میں کام دلوادیں ۔ تم نے کبھی سوچا بھی تھا کہ تمھیں کبھی کوئی کسی مہنگی اے سی والی کار کی سیٹیں بھی صاف کرنے دے گا ؟ ۔ آج مالکوں کی طرح مہنگی گاڑیوں میں گھومتے ہو اور نا شکری کرتے ہو ۔ ویسے بھی تمھارا کیا جاتا ہے ۔ میں جو مرضی کروں ۔ ابھی تو تمھارے عیاشی کے دن آنے والے ہیں بس مجھے ایک بار کامیاب ہونے دو ۔ گڑوی نے کہا مجھے میری غربت اور مزدور والی زندگی منظور ہے مگر میں لوگوں کے طعنے نہیں سن سکتا ۔ میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی عیاشی اور ایسی دولت پر جو اپنی بیوی دوسروں کے حوالے کر کے ملے ۔ میں کسی غیر مرد کو ہرگز ہرگز اپنی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کی اجازت نہیں دوں گا ۔ بس آج کے بعد تم سیٹھ کے دفتر کام کرنے نہیں جاﺅ گی بلکہ ہم آج ہی یہ فیکٹری چھوڑ کر گاﺅں چلے جائیں گے ۔ پدی نے کہا ، اچھا بہت ہمت ہے تم میں ۔ میں اپنے فیصلے خود کرتی ہوں ۔ تم ہو کون مجھ پر پابندیاں لگانے والے ۔ تم نے اس گندے سڑے کوارٹر کے علاوہ مجھے دیا ہی کیا ہے ۔ میں ان بدبودار کوارٹروں میں گلنے سڑنے او رمرنے کے لیے اس شہر نہیں آئی ۔ تمھیں کیا لگتا ہے میں نے تم سے شادی اس لیے کی تھی کہ میں اس کوارٹر میں قید ہوکر زندگی گزاردوں گی ۔ میں نے صرف لاہور آنے کے لیے تم سے شادی کی تھی ۔ میرے کچھ خواب ہیں ۔ اب میری منزل قریب ہے تو تم چاہتے ہو میں منزل سے منہ موڑ لوں ؟ تم اپنی پرآسائش زندگی کو چھوڑ نا چاہو تو چھوڑ دو ۔ میں سیٹھ سے ملنا نہیں چھوڑوں گی ۔ تم بے شک مجھے طلاق دے دو اور اب اس فیکٹری سے نکل کر میں اس گاﺅں میں نہیں بلکہ فلمی دنیا میں جاﺅں گی تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو تمھاری مرضی ۔ میری منزل اب بالکل میرے سامنے ہے ۔ پدی کے منہ سے طلاق کا لفظ سن کر گڑوی کو چپ لگ گئی اور گڑوی فیکٹری چھوڑ کر گاﺅں چلا گیا ۔ گاﺅں جاکر ساری بات پدی کے ابا اور بھائیوں ، ٹیڈی اور چھینے کو بتائی ۔
کیبل کا دور تھا ۔ نمبرداروںکے گھر اب بلیک اینڈ وائٹ نہیں بلکہ بڑی سکرین والا رنگین ٹی وی چل رہا تھا ۔
مغرب سے کچھ دیر پہلے کا وقت تھا پدی کا باپ کندھے پر مشک لٹکائے نمبرداروں کے صحن میں چھڑکاﺅ کر رہا تھا جب بلقیس نے اپنی اماں کو آواز دی اور کہا ۔ دیکھو اماں پدی کی فوٹو آرہی ہے ٹی وی میں ساتھ ایک مولوی صاحب ، چھینا اور ٹیڈی کی بھی فوٹو ہے ۔ پدی کے ابا نے بلقیس کی آواز سنی مگر نظر اٹھا کر بھی ٹی وی کی طرف نہ دیکھا ۔ ایک معروف نیوز چینل پر بریکنگ نیوز چلی ۔ ٹی وی میں پدی کے ساتھ ایک بڑی بڑی داڑھی والے مولوی نماء سیٹھ کی فوٹو آرہی تھی اور خبر چل رہی تھی کہ ۔
لاہور میں ایک فیکٹری کے مالک کو ایک جواں سالہ لڑکی کے ساتھ فیکٹری کے دفتر میں رنگ رلیاں مناتے پکڑکر لڑکی کے بھائیوں نے لڑکی کو چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا اور فیکٹری
مالک فرار ہونے میں کامیاب ۔ لڑکی کے دونوں بھائیوں کو پولیس نے آلہ ء قتل سمیت گرفتار کرلیا۔ فرار ہونے والے فیکٹری مالک کی تلاش جاری تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جاسکے ۔ لڑکی کون تھی اس کے بھائیوں نے اسے بے دردی سے کیوں قتل کیا؟ فیکٹری مالک سے لڑکی کے کیا مراسم تھے؟ ان تمام رازوں سے ہم پردہ اٹھائیں گے لیکن فیکٹری مالک کے گرفتار ہوجانے کے بعد ۔فی الحال معاملہ غیرت کا معلوم ہوتا ہے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے