سر ورق / افسانہ /   ریشماں…ابن نیاز

  ریشماں…ابن نیاز

ریشماں

(ابن نیاز)

ریشماں کا باپ کیا مر گیا تھا یوں لگتا تھا اس کے پر پُرزے نکل آئے ہیں۔ گاﺅں بھر کے لڑکوں سے گپ شپ لگانے کا شوق اسے پہلے بھی تھا لیکن باپ کے ڈر کی وجہ سے وہ گریز کرتی تھی۔ پھر بھی جب کبھی اس کا باپ گھر پر نہ ہوتا تو وہ گھر کی دیوار کے ساتھ چارپائی کھڑی کرکے اسکا سہارا لیکر گلی میں تاک جھانک کیا کرتی تھی۔ جو بھی لڑکا گلی سے گزرتا دکھائی دیتا ، کسی پر آوازکستی اور کسی پر اسکے حلیہ کو دیکھتے ہوئے طنز کرتی۔آج جب باپ دنیا سے گزر گیا تھا ، اس کے وارے نیارے ہو گئے تھے۔ ماں کی پہلے ہی نہیں سنتی تھی ۔ جب کہ ماں سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی کہ اس طرح کی حرکتیں نہ کیا کرے، ہر کسی سے باتیں نہ کیا کرے۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی کہتی تھی کہ اس کا رشتہ کوئی نہیں آئے گا۔ سب اسے آوارہ ، بدچلن کہیں گے۔اور وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیتی تھی۔ کبھی کبھی تو ماں کو جواب دیتی کہ اگر دنیا اسے آوارہ ، بد چلن کہے گی تو کیا ان کے اپنے کرتوت اس طرح نہ ہو ں گے۔ کیونکہ شریف لوگ کبھی بھی بازاری زبان استعمال نہیں کرتے۔

ریشماں بے شک باہر لڑکوں سے گپ شپ لگاتی تھی، لیکن کبھی بھی اس نے کسی کے ساتھ بالکل تنہائی میں بات نہیں کی تھی۔ بلکہ وہ جب بھی کسی سے بات کرتی توگلی محلے میں کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا تھا۔ پہلے باپ کے ڈر سے وہ بڑوں کی عزت کسی نہ کسی حد تک کر لیتی تھی لیکن پھر بھی ہر دوسرے تیسرے دن ریشماں کو باپ سے ڈانٹ ضرور پڑ جاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی بزرگ برداشت نہ کرتے ہوئے اس کے باپ کریموکو شکایت لگا دیتا تھا۔لیکن اب وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگی تھی۔اگر وہ گھر سے باہر گلی میں کھڑی باتیں نہ کرتی تو پھر اسی طرح چارپائی کا سہارا لیتے ہوئے دیوار کے پار سے گھنٹہ گھنٹہ کھڑی رہتی اور ہر آنے جانے والے پر آوازیں کستی۔ اس کی نسبت اس کی ماں اچھی تھی۔ گاﺅں بھر کے دکھ سکھ میں شریک رہتی۔اگر چہ مالی یا جانی طور پر کسی کی مدد نہیں کر سکتی تھی، لیکن پھر بھی کسی کو اسکی مشکل میں تسلی کے دو بول کہہ دیتی ۔ جتنی شکایات گاﺅں والوں کو ریشماں سے تھیں اتنے ہی وہ اس کی ماں سے خوش تھے۔

کریمو کی گاﺅں میں صرف دس کنال زمین تھی۔ جس میں وہ پانچ کنال موسمی فصل اگاتا تھا اور باقی کے پانچ کنال میں وہ مختلف سبزیاں اگاتا تھا اور اپنے اور ارد گرد کے گاﺅں میں فروخت کر کے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔پڑھا لکھا بالکل نہیں تھا ۔البتہ قرآن مجید پڑھ سکتا تھا۔ اتنا ہی اس کی بیوی اور بیٹی بھی پڑھی ہوئی تھیں۔باقی دین کی تعلیمات کیا تھیں ان کو کسی نے نہیں سکھایا تھا۔ اسی وجہ سے ریشماں بھی ہر ایرے غیرے سے آزادی سے گپ شپ لگاتی تھی۔لباس کے معاملے میں بھی وہ بالکل کوری تھی۔ کبھی تو اس طرح کا لباس پہنا ہوتا کہ سب نشیب و فراز واضح ہوتے۔ لیکن ریشماں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔البتہ اس کی ماں کو یہ فکر ضرور ہو گئی تھی کہ اس کا شوہر فوت ہو گیا ہے تو گھر کا گزارہ کیسے ہو گا۔ لیکن پھر اس نے گاﺅں کے چند سیانوں سے مشورہ کر کے گاﺅں کے ایک غریب کسان کو اپنی زمینوں پر رکھ دیا۔ جس نے اسی طرح فصلیں اگانی تھیں جیسے کریمو کرتا تھا۔اسی طرح دونوں ماں بیٹی کی زندگی گزر رہی تھی۔ چار سال گزر گئے تھے۔

گزشتہ ایک ماہ سے ریشماں کی آزادانہ حرکتیں بھی کم ہو گئیں تھیں ۔ماں کے سامنے بھی منہ نہیں چلاتی تھی۔ کبھی کبھار اگر ماں نے کچھ پوچھ لیا تو جواب دے دیتی تھی ورنہ خاموش ہی رہتی تھی۔اب وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتی تھی۔ ماں نے اسکی وجہ بہت مرتبہ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ماں ہی تھک ہار کر چپ ہو گئی تھی۔ ہمیشہ ریشماں ماں سے پہلے اٹھ جاتی تھی ۔ لیکن اس دن جب ماں اٹھی تو ریشماں اسے نظر نہیں آئی نہ ہی اسکی آواز سنائی دی جو وہ گھر میں موجود مرغیوں کو دانہ پانی کراتے ہوئے نکالتی تھی۔ اس نے گھر بھر چھان لیا۔لیکن ریشماں گھر میں ہوتی تو ملتی۔ وہ تو اس وقت گھر سے چند میل دور غفرانے کے ساتھ جنگل میں موجود تھی۔ غفرانہ تھا تو اسی گاﺅں کا لیکن ایک دوسرے شہر میں کسی کارخانے میں کام کرتا تھا۔حد درجے کا لوفر تھا۔ کارخانے میں بھی بقول اس کے پیٹ پوجا کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔ ورنہ اگر بنا کام کیے کھانے پینے کے لیے اور رہنے کے لیے جگہ مل جاتی تو وہ کبھی بھی کسی قسم کا کام نہ کرتا۔ اسکے ماں باپ اس کے بچپن میں گھر کی چھت گرنے کی وجہ سے نیچے آکر فوت ہو چکے تھے۔ شہر میں رہ کر اور کام کر کے بہت ہوشیار ہو گیا تھا۔ریشماں کی آزادانہ حرکتوں کی وجہ سے کافی عرصے سے غفرانے کی اس پر نظر تھی۔ شہر میں تو اس کو اپنی جسم کی گرمی نکالنے کے لیے بہت سے مواقع میسر ہوتے تھے، جن سے وہ بھرپور فائدہ بھی اٹھاتا تھا۔ چونکہ کمانے والا بھی اکیلا تھا اور کھانے والا بھی تو اس کی تنخواہ میں سے کافی بچت ہو جاتی تھی۔ جس کو وہ کبھی بھی بچا کر نہیں رکھتا تھا۔ ادھر مہینے کا آخر ہوا، ادھر اس کے جیب سے آخری روپیہ بھی خرچ ہوا۔

ریشماں کے جنگل میں موجود ہونے کی وجہ غفرانا ہی تھا۔چھ ماہ پہلے جب وہ گاﺅں آیا تھا تو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اس نے ریشماں کو گھیر لیا تھا۔ ریشماں سے پیار محبت کی باتیں کی تھیں اور فلمی کہانیوں کی طرح اس کو ہر طرح رجھایا تھا۔ کبھی اس کے لیے کھانے کو کچھ لے آتا تھا تو کبھی کچھ اور۔ یہ اور بات ہے کہ ان چیزوں کی ریشماں نے کبھی اپنی اماں کو ہوا بھی نہ لگنے دی تھی۔ لیکن وہی چیزیں ریشماں کی عزت کا مول بن گئی تھیں۔ گھر چھوڑنے سے ایک دن پہلے ریشماں نے غفرانے کو چھ ماہ بعد دیکھا تھا۔ وہ ان چھ ماہ میں کبھی گاﺅں نہیں آیا تھا کہ اسکا وہاں کون تھا۔ سوائے مٹی اور پتھروں سے بنے گھر کے جس کو برباد ہونے سے بچانے کے لیے وہ کبھی کبھار مہینوں میں بعد گاﺅں کا چکر لگا لیتا تھا۔ریشماں نے غفرانے کو دیکھا اور گلی کے نکڑ میں پکڑ لیا۔

“غفرانے۔ چل میرے نال ویاہ کر لے۔” ریشماں نے اس کے بازو کو پکڑ کر کہا۔

“کیوں؟ کس خوشی میں۔ ابھی تو ہم نے تمھیں جی بھر کر پیار بھی نہیں کیا پگلی۔” غفرانا ریشماں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔

“تمھاری بات ٹھیک ہے، لیکن اب وقت نہیں رہا مزید پیار کا۔”

“کیوں کیا ہوا؟ ” غفرانے نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔

“غفرانے، تو نے میری عزت گنوا دی۔ مجھے کہیں کا نہ رہنے دیا۔ میں پیٹ سے ہوں۔” ریشماں سرکو جھکاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔

“چل چل۔ بکواس نہ کر۔ کسی اور کے کالے کرتوت میرے نام نہ لگا۔” غفرانہ پہلے تو بدکا، پھر بات کو سمجھ کر غصے سے بولا۔

“نہ غفرانے نہ۔ ایسا نہ کہہ۔”

“کیوں نہ کہوں۔ تم نے گاﺅں بھر کے لڑکوں سے یاری لگا رکھی۔ پتہ نہیں کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے۔ اور اب مجھے پھنسا رہی ہے۔ جا اپنا کام کر۔”غفرانے نے اس کے بازو کو پکڑ کر کہا۔ اور پھر جھٹک کر چل دیا۔

ریشماں نے جھٹ سے اس کا دامن پکڑ کر اپنی طرف جھٹکا دیا۔ غفرانا اس جھٹکے سے سنبھل نہ سکا اور سیدھا اسکے ساتھ آلگا۔ریشماں نے ادھر ہی اسکو مظبوطی سے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس وقت اس کے دل سے یہ بھی نکل گیا تھا کہ کوئی دیکھ لے گا۔

“دیکھ غفرانے، مجھ پر الزام نہ لگا۔ میں بے شک آوارہ قسم کی لڑکی ہوں۔ ہر کسی سے گپ شپ لگاتی ہوں۔ لیکن آج تک کبھی کسی کو تنہائی میں بھی نہیں ملی اور کہاں اتنا بڑا کام۔” ریشماں اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی۔

غفرانے نے اس کو جھٹک کر اپنے سے ہٹایا۔ لیکن ریشماں نے اس کا ہاتھ پکڑے رکھا۔ جب غفرانے نے دیکھا کہ بات بگڑ رہی ہے تو وہ بولا۔

“ارے پگلی۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ لیکن میں تجھ سے گاﺅں میں شادی نہیں کر سکتا۔ تو میرے ساتھ شہر چل۔”

“کیوں یہاں کیا ہے۔ ” ریشماں آخر ان پڑھ ہی تو تھی۔

“دیکھ ریشمو۔یہاں ویاہ ہو گا، اور تین چار ماہ بعد تو بچے کو پیدا کرے گی۔ تو لوگ کیا کہیں گے۔ اس طرح نہ تیری عزت رہ جائے گی اور میری تو ہے ہی نہیں۔” غفرانے نے اس کو سمجھایا۔

” تو پھر بتا میں کیا کروں۔” ریشماں کسی حد تک سمجھ کر بولی۔

“تو ایسا کر، آج رات کو سونا مت۔اور جو کپڑے وغیرہ رکھ سکتی ہے ایک پوٹلی بنا لینا۔ میں رات کو آﺅں گا۔ پھر شہر چلے چلیں گے۔” غفرانے نے مختصر طور پر اسے اپنا منصوبہ سمجھایا۔

“اچھا ٹھیک ہے۔ پھر تو میرے سے ویاہ کرے گا نا۔ مجھے چھوڑ تو نہیں دے گا۔” ریشماں نے حامی بھرتے ہوئے ایک انجانے خوف سے پوچھا۔

” رہی نہ جھلی کی جھلی۔میں بھلا کیوں چھوڑوں گا۔ شہر میں ہم اکٹھے رہیں گے۔ البتہ شادی ہمیں کسی دوسرے شہر میں کرنی پڑے گی تاکہ تین چار ماہ بعد بھی کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم نے کب شادی کی ہے۔ورنہ پھر مجھے وہ کارخانہ بھی چھوڑنا پڑے گا اور کوارٹر بھی۔” غفرانے نے اسے سمجھایا۔

“اب ایسا کر تو جا۔ اور رات کو تیار رہنا۔ میں تجھے آواز دوں گا۔تو فوراً آجانا۔ ©” غفرانے نے اس کے گال پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔

اور یوں ریشماں اس کے ساتھ اب اس جنگل میں بیٹھی تھی۔ جنگل میں انھوں نے اس لیے ڈھیرا ڈالا تھا کہ جنگل کے قریب سے ہی ایک چھوٹی سڑک شہر کو جاتی تھی جو ایک دوسرے گاﺅں سے سبزیاں وغیرہ لے کر شہر جاتی تھی۔ تو غفرانے کا پروگرام اس میں بیٹھ کر شہر جانے کا تھا۔

ادھر صبح کی اذانیں شروع ہوئیں، ادھر وہ لوڈر گاڑی بھی پہنچ گئی۔ غفرانے نے ریشماں کو ایک طرف کھڑا کیا اور خود گاڑی کو روک کر ڈرائیور سے کچھ بات کی۔اور ساتھ میں ریشماں کی طرف اشارہ بھی کیا۔ پھر ڈرائیور کے سر ہلانے پر اس نے ریشماں کو بلایا۔ ڈرائیور کی مخالف سمت کی سیٹ پر وہ بیٹھے۔اور گاڑی چل پڑی۔ غفرانے نے اسے اپنی بیوی ہی بتایا تھا۔اتفاق ہی تھا کہ جس شہر کا غفرانے نے پروگرام بنایا تھاگاڑی والا بھی آج سبزیاں لے کر ادھر ہی جا رہا تھا۔ اسلیے غفرانے کے لیے بہت آسانی ہو گئی۔

اس شہر میں غفرانے کا ایک دوست رہتا تھا۔ غفرانے نے اسے ساری صورتحال بتائی۔وہ دوست بھی اسی کی طرح آوارہ مزاج تھا۔ اس نے غفرانے کو مشورہ دیا کہ وہ ہر گز شادی نہ کرے، بلکہ بچہ پیدا ہونے تک وہ ٹال مٹول کرتا رہے۔جب بچہ ہو جائے تو پھر کچھ سوچا جائے گا۔ غفرانے نے کچھ دیر سوچا، پھر بات کی تہہ تک پہنچ گیاکہ دوست کا مقصد کیا ہے۔ دوست کا مقصد یہی تھا کہ کل کلاں یہ راز کسی بھی وقت کھل سکتا ہے کہ یہ بچہ شادی کے تیسرے مہینے ہی پیدا ہو گیا۔ پھر غفرانا لاکھ کہے کہ اسی کا ہے کوئی نہیں مانے گا، بلکہ اس کی بیوی کو بدچلن ہی کہے گا۔ غفرانے نے یہ بات مان لی۔

یوں غفرانے نے وقت گزارنا شروع کر دیا۔ ریشماں کے بار بارکہنے پر بھی اس نے باقاعدہ حامی نہ بھری اور ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔ ا س طرح تین ماہ گزر گئے۔تیسرے ماہ میں ریشماں اپنے طور پر ایک بار ڈاکٹر سے چیک کرواچکی تھی۔ اور ڈاکٹر نے اس کو اندازے سے ایک تاریخ بتا چکی تھی کہ اس تاریخ کے آگے پیچھے زچگی متوقع ہے۔ پھر جب تاریخ آئی تو غفرانا غائب تھا۔ غفرانے نے اسی دوست کے محلے میں ہی اک گھر کرائے پر لے لیا تھا۔ کارخانے میں ایک ہفتے کام ہوتا تھا اور ایک ہفتہ چھٹی ہوتی تھی۔ کیونکہ ڈبل شفٹ کے ملازمین تھے۔ اس طرح ہر دوسرے ملازم کو ہر دوسرے ہفتے چھٹی ہوتی تھی۔ اب جب ریشمان پر وقت آیا تھا تو غفرانے کا کارخانے میں کام کرنے کے دن تھے۔ جب کہ ریشماں نے اسے کہا بھی تھا کہ وہ اگلے ہفتے لازمی چھٹی کرے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن غفرانے کے ارادے ہی کچھ اور تھے۔ اسلیے اس نے کام کا بہت زیاد لوڈ ہونے کا بہانہ کیا اور اپنی ڈیوٹی شروع ہونے سے ایک دن پہلے ہی گھر سے چلا گیا تھا۔ ریشماں نے غفرانے کے دوست کو پیغام بھجوایا کہ کسی طریقے سے غفرانے تک پیغام پہنچا دے۔اس نے حامی تو بھری اور بظاہر پیغام دینے کے لیے اپنی موٹر سائیکل بھی نکال لی۔ لیکن بجائے کارخانے جانے کے وہ کہیں اور نکل گیا۔

اِدھر ریشماں پر بہت بری گزر رہی تھی۔اس کو ہلکا ہلکا درد شروع ہو چکا تھا۔صبح سے پیغام دیے اب دوپہر ہونے کو آئی تھی۔لیکن نہ غفرانا آیا تھا اور نہ ہی اس کا دوست واپس لوٹا تھا۔محلے والوں میں سے شاید ہی کسی نے ریشماں کو دیکھا ہو گا کہ غفرانے نے اسے گھر سے باہر نہ نکلنے کا کہا تھا، بہانہ یہ بنایا تھا کہ محلے میں کچھ لوگ اچھے نہیں ہیں۔ کہیں اکیلا پا کر کچھ نہ کر بیٹھیںاور سادہ مزاج ریشماں اسکی بات کو سچ سمجھ کر گھر میں ہی بیٹھی رہ گئی تھی۔ دوپہر سے سہہ پہر ہو گئی اور پھر سورج ریشماں کو ان کے نہ آنے کی مایوسی کی خبر دے کر خود بھی افسوس کے اظہار میں زردی مائل ہو کر ڈوب گیا۔ریشماں کو آج سورج کچھ زیادہ ہی زرد نظر آیا تھا کہ اس کو بھی ریشماں کے نصیب پر افسوس ہو رہا تھا۔

رات گزری۔صبح کا سورج طلوع ہوا۔ کھٹ کھٹ دروازے کھلنے لگے۔ہر کوئی اپنے اپنے کام کے لیے باہر نکلا۔ ایسے میں کسی کی نظر ایک کتے پر پڑی، جس کے منہ میں کچھ اٹھایا ہوا تھا۔اس نے جب غور کیا تو اس چیز کی شکل انسانی سی نظر آئی۔ ابھی و ہ غور کر ہی رہا تھا کہ کتے نے اس چیز کو ایک گھر کے دروازے کے سامنے رکھا اور دروزے پر اپنے اگلے پنجوں کو گویا دستک دینے کی صورت میں مارنے لگا۔ اس وقت تک وہ پنجے مارتا رہا جب تک دروازہ کھل نہ گیا۔ دروازہ کھولنے والی ایک لڑکی تھی۔ اس نے جو دروازے پر ایک کتے کو دیکھا جس نے دروزہ کھلتے دیکھ کر اس انسانی صورت چیز کو پھر اپنے منہ میں اٹھا لیا تھا، زور کی چیخ ماری۔ اس لڑکی کی چیخ سن کر فوراً دو تین مرد گھر کے اندرسے دروازے کی طرف دوڑے۔باہر نکل کر انھوں نے دیکھا کہ کتے کی نگاہیں ان پر ٹکی ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنسو سے نظر آرہے ہیں۔ کتا چونکہ انکے محلے کا ہی تھا، یعنی بظاہر آوارہ تھا جو راتیں ڈھیروں پر گزارتا تھا، لیکن آج تک کسی پر بھونکا نہیں تھا، اس لیے ان مردوں نے اسے پہچان لیا۔ ایک ادھیڑ عمر نے نیچے بیٹھ کر اس کتے کے منہ سے اس انسانی صورت کو نکالا۔ جب اس کو سیدھا کیا تو دھک سے رہ گیا۔ وہ چیز کچھ اور نہیں بلکہ انسان کا بچہ تھا، بلکہ نومولود۔ جس کی ناف کی ناڑ بھی ابھی نہیں کٹی تھی۔اس نے فوراً اس لڑکی کو کچھ کپڑا وغیرہ لانے کو کہا۔ جونہی کپڑا آیا ، اس مرد نے اس بچے کو کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف رخ کیا۔ اندر لے جانے سے پہلے اس نے کتے کو پچکارا۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور تسلی دی۔ کتے سر کو جھکایا اور واپس چلا گیا۔

مرد اس بچے کو گھر کے اندر لے گیا اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے حوالے کیا۔ تب تک وہ یہ محسوس کر چکا تھا کہ بچہ ابھی زندہ ہے۔ چونکہ جاتی گرمی کا موسم تھا، اس لیے ابھی سورج پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا کہ بچے کو گرمی لگتی۔ بچے کے جسم پر لگے گند سے اندازہ ہوتا تھا کہ اسے کتے نے کسی ڈھیر سے اٹھا یا ہے۔ اس مرد کی بیوی نے بچے کو صاف کیا۔ لیکن ایک عورت کی حیثیت سے ساتھ ساتھ اس عورت کو بھی کوسنے لگی کہ منہ کالا کر کے اب بچے کو ڈھیر پر چھوڑ دیا ہے۔ خود پتہ نہیں کہاں مر مرا گئی ہے۔ اسکے شوہر نے پاس سے گزرتے ہوئے یہ باتیں سن لیں۔ اس نے سوچا کہ پتہ تو کرنا چاہیے کہ یہ بچہ ڈھیر تک کیسے پہنچا۔ وہ گھر سے باہر نکلا۔اس نے دیکھا کہ محلے کا ہی ایک نوجوان ان کے گھر سے تھوڑی دور کھڑا ان کے گھر کو ہی تک رہا تھا۔ وہ شخص اس نوجوان کی طرف گیا۔ اسکے پوچھنے پر اس نوجوان اس کو بتایا کہ اس نے کتے کو فلاں راستے سے آتے دیکھاتھا۔وہ مرد اس راہ کی طرف چلا۔ راستے میں اسے وہ ڈھیر بھی دکھائی دیا، جس پر وہی کتابیٹھا ہوا کچھ گوشت یا کوئی ہڈی بھنبھوڑ رہا تھا۔ کتے نے اس کے قدموں کی آواز سن کر اسکی طرف دیکھا۔ چند لمحے دیکھنے کے بعد پھر اپنی خوراک میں مصروف ہو گیا۔

ڈھیر سے کوئی دو سو قدم کے فاصلے پر کچھ جھاڑیاں سی تھیں۔ وہ جھاڑیوں کے قریب سے سر سری سی نگاہ ڈالتا ہوا گزرا۔ ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اسے محسوس ہوا کہ اس نے کوئی کپڑا دیکھا تھا۔ وہ فوراً پلٹا۔ جھاڑیوں کو ہاتھوں سے ہٹا کر آگے بڑھا اور جہاں کھڑا تھا وہی اس کے قدم جم کر رہ گئے۔وہاں ایک نوجوان لڑکی کی لاش اس حالت میں پڑی تھی کہ اس کی ٹانگیں خون سے لت پت تھیں، چہرے پر شدید تکلیف کے آثار تھے ۔ ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکے پاﺅں پر رکھا ہوا تھا جو کہ ٹانگ مڑنے کی وجہ سے ہاتھ کی پہنچ میں تھا۔ لڑکی کی لاش سے اور ٹانگوں پر لگے خون سے کوئی اناڑی بھی جان سکتا تھا کہ وہ بچہ اسی لڑکی کا ہے۔ وہ مرد افسوس کا اظہار کرتا ہوا ٓگے بڑھا۔ اس لڑکی کا چادر نما دوپٹہ جو کہ ایک طرف بکھرا ہوا تھا، اس لڑکی پر ڈال کر اس کو ڈھانپا۔ پھر واپس جھاڑیوں سے نکل کر محلے کی طرف بڑھا کہ محلے والوں کو اس لڑکی کے بارے میں بتا کر اسکے ورثاءکو تلاش کرکے ان کو بتا سکے۔ لیکن یہ ایک انتہائی مشکل کام تھا کہ غفرانا اور اسکا دوست وہ شہر ہی چھوڑ چکے تھے۔

******************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خلا ..نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 33 خلا نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے