سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا..  میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد … قسط نمبر 20         

ست رنگی دنیا..  میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد … قسط نمبر 20         

                ست رنگی دنیا

                ٭

                میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد

                ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا”

                ٭

                قسط نمبر 20

                ٭

                ٬٬ نہیں سراجو۔ ۔ ۔ تو نے میری پوری بات نہیں سنی ۔ ۔ ۔،، میرا جی بولے ٬٬ راجہ ٹھاکر نے ایک بات اور کہی تھی۔ ۔ ۔ وہ میں بتانا بھول گیا ۔ ۔ ۔ ذرا وہ سن لے تسلی سے ،،

                ٬٬ اب اور کیا بات رہ گئی ہے کہنے کو میرا جی۔ ۔ ۔ سب کچھ تو کہہ دیا تو نے۔ ،، دادا نے پھر ایک گہری سانس بھری

                ٬٬ نہیں ابھی بات ادھوری ہے ۔ ۔ ۔میں پوری بات بتاتا ہوں ۔ ،، میرا جی بولے ٬٬ راجہ ٹھا کر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت حالات میرے بس میں نہیں ہیں جو قابو کر سکوں ۔ ۔ ۔ سارا کیا دھرا یہ پنڈت اور دلی میں بیٹھا اس کے بھائی کا ہے جو الیکشن لڑنا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ سراجو سے کہو کہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر دلی چلا جائے ۔ ۔ ۔ حالات سدھر جائیں گے تو میں باول واپس بلوا لوں گا ۔ ۔ ۔ کوشش کروں گا کہ حویلی کو کوئی کچھ نہ کر سکے۔۔ ۔ ۔

                 ٬٬ حویلی چھوڑ کر چلا جاﺅں ۔ ۔ ۔ اپنے بال بچے لے جاﺅں یہاں سے ۔ ۔ ۔ نہیں میرا جی ایسا نہیں ہوگا۔ ۔ ۔ جب تک میں زندہ ہوں یہیں رہوں گا حویلی میں ۔ ۔ ۔ یہ میرے باپ دادا کی میراث ہے ،، دادا میرا جی کی بات کاٹتے ہوئے چیخ کر بولے اور پھر سب کی طرف باری باری دیکھنے لگے اور پھر دبے لہجے میں بولے ۔٬٬ جس کو جانا ہو چلا جائے ۔ ۔ ۔ ویسے بھی بدر الدین تو تھوڑی دیر میں دلی جا ہی رہا ہے۔،،

                ٬٬ نہیں ابا ۔ ۔ ۔ اب میں بھی نہیں جاﺅں گا ۔ ۔ ۔ میں سب کو چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں۔،، بدرالدین ابا بولے

                ٬٬ پہلے کیسے جا رہا تھا تُو۔؟ ،، دادا چیخے

                ٬٬پہلے کی بات اور تھی ۔ ۔ ۔ بڑے ابا نے کہا۔٬٬ اس وقت میرا جی نہیں آئے تھے یہاں ۔ ۔ ۔ ہمیں ساری بات معلوم نہیں تھی کہ پانی کتنا چڑھ چکا ہے ۔ اس وقت تو صرف پنڈت کی وجہ سے ہی میرا جانا ہو رہا تھا ، وہ بھی آپ نے کہا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ اس لئے جانے کی تیاری کی تھی ۔ ۔ ۔ مگراب تو بات ہی پلٹ گئی ہے ۔ ۔ راجہ ٹھاکر داس نے جو بات کہی ہے وہ معمولی نہیں ہے ۔ اب تو سب کو جانے کی دھمکی ملی ہے ۔ ۔ ۔ اگرہم سب یہاں سے نہیں نکلے اور باول نہیں چھوڑا تو کوئی ہماری مدد کو نہیںآئے گا۔،،

                ٬٬ یہ تجھے کیا ہوگیا بد رالدین؟ ۔ ۔ ۔ ۔ تو میرا بڑا بیٹا ہے ۔ ۔ ۔ ہاری ہاری باتیں کر رہا ہے تو۔،،دادا جی چیخ کر بولے

                                ٬٬نہیں ابا ۔ ۔ ۔ میں ہاری ہاری باتیں نہیں کر ہا ۔ ،، بدرالدین ابا بولے ۔٬٬ اب وہ پہلے جیسے باول نہیں رہا ۔ ۔ پہلے سب ایک تھے ۔ ۔ ہندو اورمسلمان کا فرق نہیں تھا ۔ ۔ ۔ سب ایک دوسرے کے دکھ درد میںآتے جاتے تھے ۔۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابے تو بھول گیا بدرالدین کہ ہمارا اللہ ہے ۔،، دادا نے بڑے ابا کی باٹ کاٹ دی ۔٬٬کیا۔ ۔ ۔اللہ میاں ہماری مدد نہیں کرے گا ۔ ۔ ۔ کیا وہ ہمیں ہندوﺅں کے ہاتھوں مرنے کے لئے چھوڑ دے گا ۔ ۔ بول؟۔،،

                ٬٬اللہ تو سب کا ہے ابا ۔ ۔ ۔اس کی نظر میں ہندو اورمسلمان کا فرق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ سب اس کے بندے ہیں ۔ ۔ ۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ظالم کی مدد نہیں کرتا اور ہمیشہ مظلوم کی مدد کے لئے آتا ہے ۔ ۔ ۔ دو دنوں میں ہمارے کتنے مسلمان مارے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ رحمان کا بے گناہ بھائی مارا گیا ہے۔ ۔ ۔ میں نعوذ و باللہ یہ نہیں کہوں گا کہ اللہ ان کی مدد کو کیوں نہیں آیا ۔ ،،بد الدین ابا نے کہا ۔ان کے بولنے پرایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی مسجد کا مولوی بول رہا ہو ۔ میں نے ایک بار اپنی مسجد کے مولوی صاحب کو سنا تھا تھا ۔ وہ ہماری حویلی میں آئے تھے۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ کیا بات تھی ۔بس بہت سارے لوگ جمع تھے ۔ ۔ ۔ بڑے دالان میں سفید دریاں بچھی ہوئی تھیں۔ ۔ ۔ اگر بتی جل رہی تھی۔۔ ۔ ۔ اس کی خوشبو سے سارادالان مہک رہا تھا ۔ ۔ ۔ مولوی صاحب دادا ابا کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ وہ بھی اسی طرح بول رہے تھے اور سب سر جھکائے سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد رحمان حلوائی کی دوکان سے آئی ہوئی مٹھائی بانٹی گئی تھی ۔ میرا ذہن الجھا ہوا تھا کہ اسی وقت دادا پھر چیخے ۔٬٬ بدرالدین تو کیسی باتیں کر رہا ہے ۔ ۔۔ کیا تیرا ایمان کمزور ہو گیا ہے۔،،

                ٬٬ نہیں ابا، میرا ایمان کمزور نہیں ہوا ہے ۔ ۔ ۔ اگرایمان پہ نہ ہوتا تو حویلی کے دروازے پر آئے ہوئے گردھاری لال سے نا الجھتا ۔ ۔ ۔ یہ میرا ایمان ہی تھا کہ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کیں ۔۔ ۔ اس کا مقابلہ کیا ،جبکہ اس کے ساتھ اس کے کتنے ہی چیلے چپاٹے تھے جن کے ہاتھوں میں ترشول تھے ۔ ۔ ۔ میرے پاس تو سوائے ایمان کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔،،

                دادا اور بڑے ابا کے درمیان جو ضد بحث ہو رہی تھی اس کا اثر اندر عورتوں پر بھی ہو رہا تھا ۔۔ ۔ ٬٬ تائی جی ۔ ۔ ۔ جیٹھ جی دادا سے کیسے الجھ رہے ہیں ۔ ۔۔ پہلے تو انہوں نے کبھی ان کے سامنے زبان بھی نہیںکھولی تھی ۔،، میری اماں نے تائی خیرن سے کہا۔ تائی فورا ہی تنک کر بولیں ۔٬٬ اری او ۔ ۔ ۔ تیرے جیٹھ جی ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں۔ ۔ ۔ جب ابا جی کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئے گی تو ان کے سامنے بولنا ہی پڑے گا ۔ ۔ ۔ سن نہیں رہی تو میرا جی کیا کہہ رہے تھے ۔ ۔ ۔ میری ہی تو جان ہی نکل رہی ہے ۔۔ ۔ یہ موئے ہندو تو ہمارے پیچھے ہی پڑ گئے ۔،،

                ٬٬اری خیرن تو مت گھبرا۔ ۔ ۔ میراکلو۔ ۔ ۔ ہی ۔ ۔ ۔ ان ۔ ۔ سب پر ۔ ۔ ۔ بھاری ۔ ۔ ۔ پڑے گا۔،، اندھی تائی ہکلاتے ہوئے رک رک کر بولیں ۔٬٬ دیکھا نہیں۔ ۔ ۔ کیسا ۔ ۔ ۔بندروں سے ۔ ۔ ۔ موئے پنڈت ۔ ۔ اور ۔ ۔ اس کے۔ ۔ ۔آ ٓدمیوں کو مار۔ ۔ پڑ ڑ ۔ ۔ وائی۔،،

                ٬٬اچھا بس اب چپ کر ۔ ۔ ۔ یہاں جان نکل رہی ہے اور تجھے پڑی ہے اپنے کلو کی ۔،، تائی خیرن نے اندھی تائی کو ڈانٹ دیا۔٬٬ اری تیرا کلو کسی قابل ہوتا تو ۔ ۔ ۔ یہاں سے بھاگتا کیوں ۔ ۔۔ یہیں رہتا وہ ۔ ۔ ۔ دادا اور سب کیسے پریشان ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ تو میں ہوں ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ۔ ۔۔ سنا نہیں دادا نے کیا کہا تھا کہ خیرن نے گھر سنبھال رکھا ہے۔،،

                دادا کے پھر چیخنے کی آواز سنا ئی دی ۔ سب عوتیں چپ ہو گئیں اور ان کی نظریں اورکان ایک بار پھر کمرے سے باہر دادا کی بیٹھک پر لگ گئے ۔ ٬٬ میں نے سوچا تھا میرا جی ۔ ۔ ۔ کہ تو اس گھڑی میں آ کر مجھے اچھی رائے دے گا ۔ ۔۔ مگر تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ راجہ ٹھاکر داس کا آدمی بن کر بول رہا ہے۔،،

                ٬٬ یار سراجو ۔ ۔۔ یہ تو کیسی بات کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ یار تو بڑا سمجھدار تھا ، پورے باول میں اور ادھر ادھر تیری سمجھداری کی بڑی بات ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ آج کہاں چلی گئی تیری ساری سمجھ؟ ۔ ۔ ۔ آج تجھے اپنے بچپن کے یار پر بھی بھروسہ نہیں رہا ۔ ۔ ۔ تو اس پر بھی شک کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ میں لعنت بھیجتا ہوں راجہ ٹھاکر داس پر ۔ ۔ ۔ وہ ہندو ہے اور میں ایک سچا مسلمان۔ ۔۔ بس بس۔ ۔ ۔ بہت ہو گیا ۔ ۔۔ میں چلتا ہوں ۔ ۔۔ ۔ ۔ بیکا ر تیرے پاس آیا تھا ۔۔ ۔ ۔ چل بھئی کشن لال ، چلتے ہیں۔ ،،

                ٬٬ ارے چاچا میرا جی ۔ ۔ ۔ آپ تو ناراض ہو گئے ۔ ۔ ۔ ابا تو باول میں جو آگ لگی ہے اس سے پریشان ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ پریشان ہونا ہی تھا ۔ ۔۔ ہم سب پریشان ہیں۔،، بڑے ابا بولے ۔٬٬ آپ بھی تو بہت سمجھدار ہیں ۔ ۔ ۔ ابا کے بچپن کے دوست اور دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ ۔ ۔ ابا کی اتنی سی بات پر آپ اٹھ کر جا رہے ہیں۔،،

                ٬٬ میرا۔ ۔ ۔ ،،دادا نے میرا جی کو دکھ بھرے لہجے میں پکارا۔ ۔ ۔ ٬٬ یار تو میری بات کا برا مان گیا ۔ ۔ ۔ میری بات اتنی بری لگ گئی کہ تو اٹھ کر جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ تیرے آنے سے تو میری ہمت بڑھی تھی ۔ ۔ ۔ چل بیٹھ جا ۔ ۔ ۔ میں تجھے جانے نہیں دوں گا۔ ۔ ۔ بیٹھ۔،، دادا اٹھ کر کھڑے ہوگئے اورمیرا جی کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر انہیں اپنی طرف کھینچ کر سینے سے لگا لیا۔٬٬ اب بول ٹھنڈے دل سے۔۔میںکیاکروں یار۔،،

                ٬٬ میرا جی دادا کے سینے سے الگ ہوئے اور قریب ہی پڑے ہوئے مونڈھے پر بیٹھ گئے ۔ پھر انہوں نے چاروں طرف سب کی طرف دیکھا۔ سب میرا جی کو دیکھ رہے تھے کہ اب وہ کیا کہیں گے ۔ رحمان حلوائی کی نظریں بھی میرا جی کی طرف تھیں۔ پرساد بھی زمین پر بیٹھا ہواچور نظروں سے کبھی میراجی اور کبھی داداکی طرف دیکھ رہا تھا ۔ میرے ابا اور بڑے ابا بھی میرا جی کی طرف ہی دیکھ رہے تھے ۔ کشن لال جو میرا جی کے ساتھ آیا تھا اس کے چہرے پر بھی پریشانی تھی وہ اپنی پلکوں کو جھپکاتا ہوا باری باری سب کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میرا جی نے اپنا گلہ کھنکار کر صاف کیا اوربولے ۔٬٬ میں کوئی سراجو کو چھوڑ کر تھوڑی جا رہا تھا ۔۔ ۔ بس اسے ذرا جوش دلا رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔یہ میرا بچپن کا یار ہے ۔۔ ۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے گوشت سے ناخن۔ ۔ ۔ ۔ ۔

                سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی ۔ ۔ ۔ دادا بھی کھل اٹھے اور بولے ۔٬٬ ابے میرامیں تجھے اچھی طرح جانتا ہوں بچپن سے تیرے ناٹک دیکھتا آیا ہوں۔ ۔ ۔ میں بھی تو تجھ سے ناٹک کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ دیکھنا چاہتا تھا کہ اب جو باول میں آگ لگی ہوئی ہے اس پر تیرا ذہن کیا کہتا ہے ۔ ۔ ۔ راجہ ٹھاکر داس کی بات میں کتنا وزن ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اب چھوڑ ساری بات ۔۔ ۔ یہ بول کہ کیا کرنا چاہئے ۔،،

                ٬٬ اب آیا نا تو سیدھے راستے پر۔،، میرا جی مسکراتے ہوئے بولے۔٬٬ دیکھ سراجو۔ ۔ ۔ مجھے بولنا کیا ہے ۔راجہ ٹھاکر داس کا سندیسہ پہنچانا تھا جو تجھے پہنچا دیا ۔ ۔ ۔ تو خود بڑا گیانی ہے بھائی ۔ ۔ سارا باول تجھ سے رائے لیتا ہے ۔ ۔ ۔ اپنی پریشانی، مصیبت تجھے بتاتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو تیری صلاح ہوتی ہے ۔،،

                 ٬٬ خیر گیانی تو یار تو بھی بہت ہے ۔ ۔ ۔ اگریہ بات نہ ہوتی میں تجھے بلاوانے کا کیوں سوچتا،، دادا نے کہا۔٬٬ یہ بتا کیا تیری عقل میں راجہ ٹھاکر کی یہ بات آرہی ہے کہ میں اپنے بال بچوں کے ساتھ دلی چلا جاﺅں ۔ ۔ ۔ اور جب باول کے حالات سدھر جائیں تو واپس آ جاﺅں ۔ ۔ ۔ کیا یہ ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ یار جب تیری کمان سے نکل جاتا ہے تو اسے واپس آتے کسی نے بھی نہیں دیکھا۔مجھے تو لگتا ہے کہ حالات جس تیزی سے بگڑے ہیں وہ اب ٹھیک نہیں ہوں گے۔،،

                ٬٬ تو ٹھیک کہتا ہے سراجو ۔ ۔ ۔ کمان سے نکلا تیر اور منہ سے نکلی بات کبھی واپس نہیں آتی۔،، میرا جی نے کہا۔٬٬مگر حالات کا اگر مقابلہ نہ کر سکیں تو پیچھے لوٹنا بھی پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ اس وقت دلی میں ہندو سرکار ہے ۔سارے گڑ گاﺅں میں ہندو بھرا ہواہے ۔ ۔ یہاں باول میں ہندوﺅں کے تیرہ سو گھر ہیں اور مسلمان کتنے ہیں گنتی کے ۔ ۔ زیادہ سے سو سوا سو گھر ہوں گے ۔ ۔ ۔ کوئی مقابلہ ہے ہندوﺅں کے ساتھ مسلمانوں کا ۔ ۔ ۔ دو دنوں میں کتنے مسلمان مار دیئے گئے ۔ ۔ ۔ کوئی آیا ہماری مدد کو ۔ ۔ ۔ بول ۔ ۔ ۔ کس نے مدد کی ۔ ۔ ۔ ہندو بلوائی دندناتے اور مسلمانوں کو مارتے پھر رہے ہیں اور ہم مسلمان کچھ بھی تو نہیں کر پائے ۔،، میرا جی کی آواز سے ایسا لگا جسے وہ ابھی روپڑیں گے۔کچھ دیر تک وہ خاموش رہے ۔ ۔ ۔ سب ہی ان کی بات سن کر چپ چاپ ہو گئے تھے اور میرا جی کو دیکھ رہے تھے۔میرا جی نے اپنی آستین سے آنکھیں صاف کیں اور بولے٬٬دیکھ بھائی سراجو ۔ ۔ راجہ جی نے یہ بھی کہا تھا مجھ سے کہ ۔ ۔ ۔

                 وہ کہتے کہتے رک گئے۔ سب نے ان کی طرف پھرپریشانی سے دیکھا۔ دادانے بھی انہیں گھور کر دیکھا اور چیخ پڑے ۔٬٬ایک تو یار تیری یہ بات بہت بری ہے۔ ۔ ۔ جب بھی تو بات کرتا ہے توبیچ میں رک جاتا ہے جیسے ٹیشن پر گاڑی رک جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ابے بھائی بول ۔۔ ۔ کھل کر بول ۔ ۔ ۔ کیا کہا تھا اور راجہ ٹھاکر داس جی نے۔،،

                ٬٬ راجہ ٹھاکر جی نے کہا تھا کہا اگر سراجو میری بات نہ مانے تو اس سے کہنا کہ پھر پاکستان چلا جائے جتنی جلدی ہو۔ ۔ ۔ ،، میرا جی نے کہا ٬٬راجہ جی نے یہ بھی کہا تھا کہ پنڈت گوکل مل سراجو کے پوتے کو لینا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ اس کا کہنا ہے کہ سراجو کا پوتا بڑے گیان دھیان والا بچہ ہے ۔ ۔ ۔ سراجو کا بڑا پوتا مر گیا مگر اس میں جو باتیں تھیں گیان دھیان کی وہ اس چھوٹے پوتے میں لوٹ کر آگئی ہیں ۔۔ ۔ ۔ میں اس کے پوتے سے بہت بڑے بڑے کام لینا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ مجھے اس کے لئے بڑی کٹھن تپسیا بھی کرنا پڑے گی مگر میں سب کچھ کروں گا ۔،،

                ٬٬ ہوں ۔۔ ۔ دادا نے ایک گہری آہ بھری اور ایک طرف زمین پر بیٹھے ہوئے پرساد کو دیکھتے ہوئے میرا جی سے بولے ۔٬٬اسے دیکھ رہے ہو نا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے بھیجا تھا گنگا رام تیلی نے ۔ ۔ ۔ میرے ضیاءالدین کو اٹھوانے کے لئے ۔ ۔ ۔ اس نے اٹھا بھی لیا تھا اور بھاگ نکلا تھا۔ ۔ ۔ وہ تو عین موقع پر اسلام اور فاروق پہنچ گئے اور اس کو پکڑ کر لے آئے ۔ ۔ ۔ میں تو اس کے گنڈاسے سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا تھا مگر اس نے رو رو کر اپنی رام کہانی سنائی تو مجھے ترس آگیا ۔ ۔ ۔ یہ بے قصور اور مجبور تھا اصل کا مجرم تو گنگارام تیلی ہے جس کے پاس یہ کام کرتا تھا ۔ ۔۔ اس مردود نے اس کی بیوی اور بچوں کو قید کر رکھا ہے ، اور انہیں چھوڑنے کی شرط یہ رکھی تھی کہ سراجو کے چھوٹے پوتے کو اٹھا کر لے کر آ تو تیرے بچے اور بیوی کو چھوڑ دوں گا ۔۔۔ ۔

                ٬٬ اچھا ۔ ۔ ۔ تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی ۔ ،، میرا جی حیرت سے بولے ۔٬٬ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ہمارے بچے کو کیوں اٹھوانا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ کیا پنڈت گوکل رام نے گنگا رام تیلی کو بھی اس کام پر لگا رکھا تھا ۔،،

                ٬٬ یہی بات ہے ۔ ۔ ۔ میرا جی ۔ ۔ ۔ اس نے میرے بچے کو اٹھوانے کے لئے پورا جال بچھا رکھا ہے۔ ۔ ۔ ہر حربہ استعمال کر رہا ہے ۔،، دادا چیخ کر بولے ۔٬٬ میں یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں میرا جی ۔ ۔ ۔ ضیاءالدین میرے جگر کا ٹکڑا ہے ، کوئی میرے ٹکڑے کو مجھ سے چھین کر لے جائے یہ ناممکن ہے ۔۔ ۔ میری لاش گرے گی تو ایسا ہو سکتا ہے ۔،، دادا کی آواز سے لگا جیسے وہ ابھی روپڑیں گے ۔

                ٬٬ میرا چا چا۔ ۔ ۔ یہ پرساد تو بھگوان کی گائے ہے ۔،، کشن لال بولا تو سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ دادا اور ہمارے گھر والوں نے بھی اسے شک بھری نظروں سے دیکھا۔

                ٬٬تو ۔ ۔ ۔ کیا تو اس مردود کو جانتا ہے کشن لال۔؟،، میرا جی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

                ٬٬ ہاں چاچا۔ ۔ ۔ میں اسے جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ اس کے پورے پریوار کو جانتا ہوں۔ ۔ ۔ یہ توبھگوان کی گائے ہے۔ ۔ ۔ مکھی بھی نہیں مار سکتا ۔،، کشن لال بولا۔٬٬ اس کا باپ اورمیرا باپ بہاری لال فرید آباد میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں ۔ ہم ایک دوسرے کے گھرانے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کے بیوی بچوں کو گنگا رام نے اٹھا لیا تومجبور ہو کر اسے یہ کام کرنا پڑا ہوگا ۔،،

                یہ سن کر پرساد پھر پھوٹ پھوٹ کر روپڑااور روتے روتے کہنے لگا٬٬ بھگوان کی سوگند ۔ ۔ ۔ میں نردوس ہوں۔ ۔ ۔ مجھے شما کر دو مہاراج ۔ ۔۔ شما کر دو۔ ۔ ۔ بڑ انیائے ہوا ہے مجھ سے ۔ ۔ ۔ بھگوان بھی مجھے شما نہیں کرے گا ۔،،

                ٬٬ ابے یار تو پھر رو پڑا ۔ ۔ ۔ میں تو تجھے کبھی کا معاف کر چکا ۔،، دادا نے مسکراتے ہوئے کہا۔٬٬ اب اس حویلی میں تو ہمارامہمان ہے ۔ ۔ ۔ ہم کمزور اورنہتے لوگوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ یہ کام جو تو نے کیا ہے اپنی مرضی سے نہیں کیا مجبوری تھی تیری ۔ ۔ ہماری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ توسچ مچ نردوش ہے ۔،، یہ کہتے ہوئے دادا نے میرا جی کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولے۔٬٬ کیوں میراجی ۔ ۔ ۔ یہی کہاوت ہے نا ہمارے باپ دادا کی ۔ ۔ ۔ چور کو مت مارو ۔۔ ۔ اس کی ماں کو مارو۔اگرباول کے حالات میں بگاڑ پیدا نہ ہوتا۔ ۔ ۔ اور چاروں طرف آگ نہ لگی ہوتی تو۔ ۔۔ اس گنگارام تیلی کا تو کام ضرور اتار دیتا ۔ ۔ ۔ ویسے بھی میرے ہاتھ میں بہت دنوں سے کھجلی چل رہی ہے ۔ ۔ ۔ اب یہ کھجلی کسی نہ کسی تو مٹانا ہی پڑے گی ۔ ۔ ۔ کیوں بے پرساد۔،،

                دادا کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ پرساد کی جیسے جان ہی نکل گئی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنا تھوک نگلا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر داداجی کی طر ف دیکھنے لگا۔ پرساد کی یہ حالت دیکھتے ہوئے کشن لال پہلی بار دادا سے مخاطب ہوا ۔٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ ۔ میں گنگا رام تیلی کو بھی جانتا ہوں۔ یہ پلول سے باول آیا تھا کوئی دس برس پہلے ۔ اس نے یہاں تیل کا کولہو لگایا تھااس نے۔ ۔ ۔ ایک بیل تھا اس کے پاس مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پاس دوسرا بیل بھی آگیا ۔ ۔ ۔ پھر پتہ چلا کہ پنڈت گوکل رام سے اس کی دور کی رشتے داری نکلتی ہے ۔۔ ۔ جب یہ بات لوگوں کو معلوم ہوئی تو پورے باول میں اس ڈر بیٹھ گیا اور اس کی دوکانداری خوب چل نکلی اور یہ اپنی من مانی کرنے لگا۔۔ ۔ ۔

                 لیکن کشن لال کی بات ادھوری رہ گئی۔سب چونک پڑے۔ ۔ ۔ حویلی کے باہر سے بہت دے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازوقں کا شور سنائی دیا ۔ ۔ ۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دادابولے ٬٬ یہ آدھی رات کو باہر کیسا شور ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ارے ذرا کوئی دیکھے ۔ ۔ ۔ ۔

                (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے