سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر  ️قسط نمبر 7 ️ انوار صدیقی .. اعجاز احمد نواب           

اردو کہانی کا سفر  ️قسط نمبر 7 ️ انوار صدیقی .. اعجاز احمد نواب           

اردو کہانی کا سفر

️قسط نمبر 7 ️ انوار صدیقی * ذاکر حسن آرٹسٹ ️

   تحریر اعجاز احمد نواب

       اس بات میں کوئی دو رائے نہیں، کہ دور جدید میں پراسرار کہانیوں کی داغ بیل محترم انوار صدیقی  نے ڈالی، خاص طور پر سب رنگ ڈائجسٹ میں چھپنے والی کہانی… انکا…. وہ کردار ہے، جس نے ڈائجسٹوں کے مردانہ لکھاریوں کے سامنے موضوعات کے نئے رخ متعین کیے، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پچاس سال سے ماورائی ادب کے اکثر قلم کار انوار صدیقی سکول آف تھاٹ سے باہر نہیں نکل پائے،

1970سے پہلے کراچی اور لاہور سے شائع ہونے والے تقریباً تمام ڈائجسٹ سماجی سیاسی اور ادب کے امتزاج میں رنگے ہوتے تھے رئیس امروہی کی بھابھی جون ایلیا کی اہلیہ زاہدہ حنا کی ادارت میں انشاء ڈائجسٹ قدرے ادبی رنگ لئے کراچی سے شائع ہوتا تھا  تاہم اس کی اشاعت مثالی نہ تھی، پھر  شکیل عادل زادہ اس میں ملازم ہو گئے، اور سب ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دینے لگے،اور انہی کی کوششوں سے انشا کا نا م عالمی ڈائجسٹ رکھا گیا اور اگیا بیتال اور کالی مائی کی درگاہ ٹائپ کہانیاں شامل اشاعت ہوئیں،  مالکان چونکہ ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے وہ اپنے ڈائجسٹ کو  شاید ایک خاص حد سے زیادہ بے ادب نہ ہونے دینا چاہتے تھے، لیکن شکیل صاحب کے فن کی تسکین نہ ہو رہی تھی  لہذا شکیل عادل زادہ نے کھل کھیلنے کے لئے سب رنگ کی بازی کھیلنے کا فیصلہ کر لیا، اور پراسرار  سلسلہ وار کہانی کے لئے ان کی جوہر شناس نگاہوں نے انوار صدیقی جیسا ہیرا تلاش کر لیا،  دونوں لیجنڈ ماشاءاللہ حیات ہیں (انوار صدیقی صاحب سے تو آج29 اگست 2019 دن ساڑھے گیارہ بجے میری سترہ منٹ بات ہوئی ہے) گو اِس وقت دونوں شخصیات میں تعلقات  اتنے اچھے شاید نہ ہوں، لیکن سب رنگ میں ان دونوں کے اشتراک سے جو پر اسرار ادب تخلیق ہوا ہے، اس نے اردو، ادب، ڈائجسٹ، اور کہانیوں کے مہنہ موڑ دئیے، اور ڈائجسٹ نے انتہائی طاقت ور ہو کر داستان گوئی کی کمان سنبھال لی،

         ✍️سب رنگ کے پہلے شمارے جنوری 1970 میں ننکا کے نام سے کہانی چھپی  مصنفہ تھیں بلقیس انوار  یہ انوار صدیقی ہی تھے پھرانوار صدیقی نے  پہلی سلسلہ وار کہانی شروع کی، سونا گھاٹ کا پجاری، یہاں یہ بات قارئین کی معلومات میں اضافہ کرے گی ، کہ سب رنگ میں لکھنے سے پہلے بھی انوار صدیقی لکھتے تھے مگر ادبی رسالوں میں، اب افسانے تخلیق کرنے والے کے لئے ماورائی فکشن لکھنا کتنا مشکل ہے ، اس کو جاننے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ کسی ایسے افسانہ نگار کو ماورائی سلسلہ وار کہانی لکھنے پر آمادہ کریں جس کی پہچان ہی افسانہ اور ادبی ناول ہوں، بہرکیف…سونا گھاٹ کا پجاری  بہت طویل کہانی نہیں تھی! لیکن اسے پڑھ کر اس زمانے کے قاری کو ایک خوشگواریت اور نیا پن سا محسوس ہوا اور دوسری  تیسری ہی قسط سے مداحوں کی تعداد میں ڈھیروں اضافہ ہو گیا، یہ کہانی اس وقت کے رسالوں ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والی کہانیوں سے بالکل الٹ پلٹ تھی، جس نے سب رنگ قارئین کے دماغوں کو بھی الٹ دیا،شکیل صاحب نے ساتویں  آٹھویں قسط میں اس کہانی کا وائینڈ اپ کروا نے سے عین ایک ماہ پہلے  انہی انوار صدیقی صاحب سے انکا  شروع کروا دی، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ شروع میں سب رنگ کی اشاعت قلیل تھی اور یقیناً سونا گھاٹ کا پجاری شروع سے پڑھنے والے قارئین کی تعداد بھی اسی لحاظ کم تھی، جب کہ ساتویں آٹھویں شمارے تک پہنچتے پہنچتے سب رنگ کے قارئین بےشمار ہزاروں میں ہو چکے تھے  لہذا نئی سلسلے وار ماورائی داستان انکا کے نام سے انوار صدیقی صاحب سے شروع کروائی گئی، تاکہ ہزارہا قارئین ایک ساتھ اس ، عجب الموضوع، طلسماتی قصے کے ساتھ جکڑے جائیں، اور اپنی اس کوشش میں مدیر اور مصنف دونوں  ہی کام یاب رہے ، اور سب رنگ  یکدم  ڈائجسٹوں اور رسائل و جرائد کی بھیڑ میں سے نکھر کر اوپر اٹھ آیا، انکا کے بعد اقابلہ تاریک براعظم کا فسوں کمال کی اردو تھی، امبر بیل نے سالہا سال سب رنگ قارئین کا ذہن آکٹوپس کی مانند جکڑے رکھا  میر جمشید عالم کی آپ بیتی، جاسوسی ڈائجسٹ میں  چھپنے والا سلسلہ درخشاں جسے انوار صدیقی اپنی سب سے بہترین تحریر قرار دیتے ہیں اور پھر چل سو چل…. آج میں بات کر رہا ہوں انہی انوار صدیقی صاحب کی… یادش بخیر  انوار صدیقی صاحب نے 30کے قریب جاسوسی ناول بھی لکھے جن کا مرکزی کردار صمدانی ہوا کرتا تھا  اور تقریباً 30 کے لگ بھگ ان کے ہارر ناول ہیں جن میں سے اکثر سب رنگ میں چھپنے والے قسط وار سلسلے ہیں کچھ دوسرے ڈائجسٹوں میں بھی شائع ہوئے

انوار صدیقی صاحب کا اصل نام انوار مجتبٰی ہے آپ 1934 میں بھارت کے شہر الہ آباد میں پیدا ہوئے، گریجویشن تک تعلیم حاصل کی، سرکاری افسر

 

 

ریٹائرڈ ہیں، بلقیس انوار راؤ اور رجنی پٹیل کے نام سے بھی جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ میں لکھتے رہے ہیں، بلقیس کنول کے نام سےان گنت کہانیاں پاکیزہ اور آنچل وغیرہ کی زینت بنتی رہی ہیں!!

  ✍️ اردو کہانی کا سفر کی قسط نمبر 3 میں انوار صدیقی کا تزکرہ شروع ہوا تھا،

.. گمان تھا کہ چوتھی قسط میں وائینڈ اپ ہو جائے گا  لیکن اپنے ہی خیالوں اور  باتوں کی بارش میں بھیگتے بھیگتے قلم اشتیاق احمد کی طرف بہک گیا، اور پھر تین اقساط کیسے گزریں پتہ ہی نہ چلا،  تیسری قسط میں بیان کیا تھا کہ میں جب 2001 میں کراچی یاترا پر گیا،

     ✍️ انوار صدیقی صاحب سے ملاقات کرنے ان گھر پہنچے شہزاد احمد جن کا سلسلہ وار ناول قبر کا بیٹا ان دنوں مسٹر میگزین میں شائع ہو رہا تھا، میرے ہمراہ تھے، گلشن اقبال کراچی.. پوش ایریا میں ان کی رہائش گاہ ہے،  مین گیٹ پر گھر کا نمبر اور انگریزی میں انوار صدیقی لکھا ہوا تھا، کال بیل بجانے پر کسی نے باہر آکر ہمیں دیکھا، ہم نے آنے مدعا بیان کیا، اور دروازہ پھر بند ہو گیا، پانچ منٹ کے طویل انتظار کے بعد دوبارہ گیٹ کھلا، دراز قد باریش سرخ وسپید  رنگت،  میں نے اندازہ لگا لیا کہ ہونہ ہو یہی انوار صدیقی ہیں، کوئی جان نہ پہچان ہونے کے باوجود انتہائی گرم جوشی اور شفقت سے پیش آئے، پورچ سے گزارنے کے بعد.. وہ ہمیں اپنے کمرہ خاص میں لے گئے جہاں ہر طرف کاغذوں کے پرزے اور کتابیں رسالے بکھرے پڑے تھے، جس پرکم از کم  مجھے حیرت نہ ہوئی کیوں کہ کتابیں نہ میرے لئے اجنبی ہیں اور نہ میں کتابوں سے ناآشنا ہوں،ساری کتابیں مجھے جانتی ہیں اور سب سے میں واقف ہوں، کیوں کہ ساری زندگی کام ہی کتاب کا کیا ہے،

           ✍️  شروع کے چند منٹ میں نے محسوس کیا کہ وہ ڈسٹرب ہیں، ظاہر ہے وہ گہری محویت سے لکھنے میں مستغرق تھے. ہم نے انہیں عالمِ استغراق میں پریشان کیا تھا، کچھ منٹ منتشر الذہن رہنا ان کا قلم کاری حق تھا، تاہم سو سیکنڈ کے اندر اندر صدیقی صاحب ، بالکل ہشاش بشاش ہوگئے ، پہلے پانی منگوایا پھر چائے ، پھر پوچھا کیسے آنا ہوا، میں نے بتایا کہ میں ایک پبلشر ہوں، کتابیں چھاپنا میرا کام ہے، اور جھٹ پٹ مسٹر میگزین کا تازہ شمارہ نکال کر پیش خدمت کردیا، اور آخر میں اپنا ناول ناگن کی اعزازی دستخط شدہ کاپی ان کی  چھوٹی سی میز پر رکھی، تو، انہوں نے ایک نظر ناول اور دوسری نگاہ اپنے ہاتھ میں تھامے مسٹر میگزین پر ڈالی اور تیسری بار آنکھیں مجھ پر مرتکز کردیں، اور آہستگی سے مسٹر میگزین.. ناگن کے اوپر پٹخ کر اپنی جگہ کھڑے ہو کر دونوں باہیں وا کرکے بولے اعجاز… بیٹا آجا.. اور میرے سینے سے لگ جا.. میرامہنہ کچھ بھی نہ سمجھنے کے انداز سے کھل گیا، میں حیران.. ہکا بکا.. ہوّنق بنا چپ چاپ کھڑا ہو کر ان کے قریب آیا، اور اپنے آپ کو انوار صدیقی صاحب کی باہوں کے حصار میں دے دیا،  انہوں نے مجھے سینے سے لگایا اور پھر بیٹھنے کو کہا.. اور خود اپنی چھوٹی سی میز کے پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھے اور کہنے لگے..  یا تو بندہ مصنف ہوتا ہے اور یا پھر پبلشر… اور یا پھر ایڈیٹر… تم نے تو ایک ساتھ اپنے تینوں تعارف کروا دئیے، ایک میان میں تینوں تلواریں کیسے رکھی ہوئی ہیں تم نے… انہوں نے شوخی سے دریافت کیا…

 سر میرا اصل تعارف تو ان سب سے ہٹ کر ہے……….. وہ کیا.. لمحے بھر کو ان کی آنکھوں میں حیرت کی پرچھائیاں ابھریں.. جناب عالی ہم بنیادی طور پر  کتابوں کا تاجراور نیوز ایجنٹ ہیں،… اوہ صدیقی صاحب کے ہونٹ سکڑ گئے،

 یقیناً مسٹر میگزین کے لئے کہانی مانگنے آئے ہو،   کرسی کی پشت سے سرٹکا کر کہنی کرسی کی ہتھی پر رکھی اور بائیں ہاتھ کا مکہ بنا کر چہرے کی ابھری ہڈی پر ٹکا کر انہوں نے خشمگیں انداز سے گھورتے ہؤئے استفسار کیا،

ان کے اس سراسر جارحانہ رویّے سے میں سہم سا گیا، جانے اب کیا جواب دیتے ہیں… وہ تھوڑی دیر سوچتے رہے اور پھر اٹھ کر کتابوں بھری الماری سے کچھ تلاش کرنے لگے،

اور ہاتھ میں ایک بوسیدہ کتاب لے کر پلٹے.. اور وہ کتاب میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے گویا ہوئے… یہ بہت پہلے چھپی تھی، آٹھ نو کہانیوں کا مجموعہ ہے  اب نایاب ہے، یہ کہانیاں مسٹر میگزین میں  چھاپنے کی اجازت ہے

میں کہانیاں. ملنے پر مسرور وشاداں ہوگیا، اور اضطراری کیفیت میں کہا  کیا سلوک کریں گے…؟ میری بات سن کر مسکرائے فرمایا.. جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں،

لیکن… معاوضہ ضرور لوں گا..

جی حکم کیجئے….  میرا دل دھاڑ  دھاڑ کرنے لگا ، پتہ نہیں کیا معاوضہ مانگ بیٹھیں.. پہلی بار میں کسی مصنف کے سامنے نروس ہو رہا تھا،

لیکن وہ یکدم انتہائی سنجیدہ ہو چکے تھے..ان کے ہونٹ بھنچ گئے..گالوں کا ماس غیر محسوس انداز میں پھڑپھڑانے

لگا  سنجیدگی ان کے بشرے سے ہویدا ہو گئی

آنکھوں کے کٹوروں میں نچلے درجے کا سیلاب آگہی دے رہا تھا کہ ضبط کے بند ٹوٹنے کو ہیں،

اعجاز… میرے بچے… بیٹے.. ان کی آواز بھرا گئی..

عمر کی نقدی تیزی سے خرچ ہو رہی ہے، اڑسٹھ بہاریں دیکھ چکا ہوں.. اب دل کا مریض ہوں.. میرے تین وال بند ہیں

جب کبھی خبر ملے کے انوار صدیقی چلے گئے، تو.. تو..  تین سیپارے پڑھ کر بخش دینا… بخش دینا  ، یہی میرا معاوضہ ہے،  اور پھر سناٹا چھا گیا….

بس لکڑی کی اس آرام کرسی کی ہلکی ہلکی  چوں… چوں… چوں کی آواز آرہی تھی جس پر بیٹھا میں ہلکورے لے رہا تھا، ✍️

اللہ پاک عمر خضر صحت ایمان خوشحالی سلامتی  کے ساتھ عطا فرمائے ابھی میری ان سے بات ہوئی ہے ماشاءاللہ  85برس ان کی عمر ہے،

✍️✍️✍️✍️✍️ ذاکر حسن.. نے 45 برس ڈائجسٹوں اور ناولوں کے چہروں پر بلا شرکتِ غیرے راج کیا، سسپنس جاسوسی  سرگزشت، نئے افق نیا رخ، ایڈونچر مسٹری میگزین  سب رنگ، آداب عرض جواب عرض خوفناک  ڈر ڈائجسٹ  مظہر کلیم، صفدر شاہین کی عمران سیریز  کالا جادو دیوتا گمراہ انکا، ناگن، مفرور، موت کے سوداگر، اور لاتعداد ان گنت بےشمار لگ بھگ ہزارہا رسالوں کتابوں کے سرورق، اور اسکیچیز، ذاکر صاحب کی انگلیوں کی مہارت   کے مرہونِ منت تھے، فکشن لکھنے والے ہزاروں مصنفین چھاپنےوالے سیکڑوں پبلشرز اور پڑھنے والے لاکھوں قارئین  ان کے نام اور کام کے معترف ہیں، اس ماڈرن صدی میں جہاں ہاتھ سے کام کرنے والے کتاب کے تمام شعبوں کو کمپیوٹر نے یکلخت دیوار سے لگا دیا تھا، ذاکر حسن واحد مصوّر تھے، جنہوں نے کمپیوٹر کو واضع شکست دے دی تھی اور جب تک وہ حیات رہے، مصنفین مدیران اور ناشران کی پہلی ترجیح رہے، میری ان سے جان پہچان تیس سالوں پر محیط تھی، 1987 میں میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی،

جب میں نے دو کتابوں کے سرورق بنوانے کی خواہش میں ان سے رجوع کیا، آئندہ قسط میں اس ملاقات کا احوال پیش کیا جائے گا، ذاکر حسن جولائی 1942 میں متحدہ ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے،

…..

…..

ذاکر حسن صاحب کا یہ ابتدائی تعارف تھا، میری ان سے درجنوں ملاقاتیں اور سینکڑوں بار ٹیلیفونک رابطہ ہوا، سو سے زیادہ سرورق ان سے بنوائے،  ان سے میری حسین یادیں جڑی ہیں، اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 8 میں  ذاکر حسن سے کچھ  ملاقاتوں کا احوال پیش کیا جائے گا،  اور ان کے کام کی کچھ یادگاریں بھی… اگلی جمعرات رات  دس بجے انشاءاللہ.. پھر حاضری ہو گی اس وقت تک کے لئےاجازت دیجئے!!!

…..

   آخر میں چند خوبصورت تاثرات (کمنٹس) کا انتخاب

️محمد اقبال شیخ لکھتے ہیں…

یہ سلسلہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے دل سے قریب تر ہوتا جارہا ہے ،آپ نے سوال کی اجازت دی ہے تو ایک بات پوچھنی تھی وہ یہ کہ کیا رضیہ بٹ سلمہ کنول یا نئ خواتین ناول نگار عمیرہ احمد وغیرہ کے متعلق بھی کچھ پڑھنے کو مل جاے گا ؟؟؟؟

جس طرح راحت صاحب یا اشتیاق احمد صاحب کے بارے میں بڑی دلچسپ باتیں معلوم ہوئیں اسی طرح  اپنے وقت کی بہترین خاتون رائیٹرز کے بارے میں بھی کچھ پتا چل جاتا تو اچھا تھا

✍️جی بالکل شیخ صاحب.. اکتوبر میں رضیہ بٹ صاحبہ کی برسی ہے، اس موقع پر تفصیلی گفتگو ہو گی، اور کچھ ایسی معلومات جو اس سے قبل شاید ہی کہیں چھپی ہوں، اسی طرح مزید خواتین رائٹرز کے بارے میں بھی وقتاً فوّقتاً

ضرور بات ہو گی انشاءاللہ

️ فیاض راجہ اسلام آباد سے…

بہت خوب اعجاز بھائی۔۔ اشتیاق احمد صاحب کی 84 والی تقریب کا اشتہار ناول کے آخر میں پڑھ کر ہم نے بھی پہنچنے کی کوشش کی مگر اے بسائے آرزو کے خاک شدہ۔۔۔ 85 میں غالبا آپ کی 22 ویں سالگرہ اور میری نویں سالگرہ کا مہینہ فروری تھا جب اشرف بک ایجنسی، اقبال روڈ کمیٹی چوک کا دیدار ہوا۔ گھر واپسی پر بڑے بھائی نے مری روڈ پر لیاقت باغ اور کمیٹی چوک کے درمیان موجود جاوید کبانہ سے ریفرشمنٹ بھی کروائی تھی۔۔ آپ کو جاوید کبانہ تو یاد ہوگا نا؟؟؟

✍️اتنی اہم ہستی کا میری تحریر اتنی دلچسپی سے پڑھنے پر میں شکر گزار ہوں آپ کا مجھے تو سب یاد ہے ذرا ذرا..

️ فہمی فردوس….

ہمیشہ کی طرح یہ قسط بھی بھر پور دلچسپی لئے ہوئے تھی۔ بہت لطف آیا پڑھ کے۔۔۔ مگر ایک بات نے حیران بھی بہت کیا کہ اشتیاق احمد ایک ماہ میں چار ناول لکھا کرتے تھے۔۔۔ جو کہ زود نویسی کی ایک انوکھی اور ناقابل یقین مثال ہے۔

✍️جی یہ مکمل سچ ہے، بلکہ جو خاص نمبر ہوتے تھے وہ بھی وہ ساتھ ساتھ ان چار پانچ ناولوں کے علاوہ لکھتے رہتے تھے ابھی تو اشتیاق احمد صاحب کی بہت سی باتیں باقی ہیں،

️ اساور شاہ

ہمیشہ کی طرح لاجواب قسط اور کھو جاتی ہو پڑھتے ہوئے

ایسا لگتا خود وہاں موجود ہوں _

✍️کوشش تو ہے کہ ایسا لکھ سکوں، جو پڑھنے والوں کو خشک معلوم نہ ہو..

️ خالد شریف لاہور

بہت اچھا سلسلہ ہے

✍️زہے نصیب اتنے بڑے شاعر ادیب سینئرترین پبلشر کی طرف سے میری تحریر کے لئے یہ ایک جملہ بھی انتہائی قیمتی ہے  بہہہہہہت شکریہ سر،

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک  شخص  سارے  شہر  کو  ویران کر  گیا

(یہ خالد شریف صاحب کی غزل کا ایک شعر ہے)

️سیّد عارف مصطفٰی کراچی

بھائی اعجاز نواب السلام علیکم.. آپ نے اپنی اس مقبول داستان کی چھٹی قسط میں بچوں کے رسالے آنکھ مچولی

کے جس مدیر سلیم کا ذکر کیا ہے، ان کا پورا نام سلیم مغل ہے سلیم بھائی میرے دوست ہیں، جبکہ ایم اے صحافت میں میرے استاد بھی رہ چکے ہیں، تدریس کے شعبے سے قبل پی ٹی وی میں پروڈیوسر تھے، اور اب ہمدرد فاؤنڈیشن سے بحیثیت ڈائریکٹر پبلی کیشنز منسلک ہیں، میں نے آپ کے اس مضمون کی بابت انہیں بتایا ہے، بلکہ انہیں مضمون پڑھا بھی دیا ہے، جس پر وہ بہت خوش بھی ہوئے، اور جلد ہی آپ سے رابطہ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے

آپ کا انداز نگارش اور تحریر کی جازبیت بہت قابل داد ہے

والسلام سید عارف مصطفٰی،

✍️آپ کے اردو لکھاری ڈاٹ کام کے توسط سے ملنے والے

یہ تاثرات میرے لئے خزانے سے کم نہیں، میں شدت سے محترم سلیم مغل صاحب کے رابطے کا منتظر ہوں،

  ناولوں، ڈائجسٹوں مصنفین ، ناشرین، قارئین، تاجران کتب، نیوز ایجنٹس، مدیران، ان کی تخلیقات، مطبوعات، باتوں اور ملاقاتوں سے سجی یہ ہزار داستان یہ طلسم ہوش ربا، ابھی جاری ہے، آپ سے التماس ہے کہ اردو کہانی کا سفر کے بارے  اپنے تاثرات کمنٹس اور لائک کے ذریعے ضرور دیجئے، اس سے نہ صرف مزید لکھنےکاحوصلہ پیدا ہوتا ہے بلکہ…  جو لکھا ہے اس کی پسندیدگی کی شرح جانچنے کا موقع ملتاہے،

براہ مہربانی اس مضمون کو اپنی وال پر شئیر کرنے کے ساتھ ساتھ… کتابوں ڈائجسٹوں ادب کے ایک دو گروپس میں بھی اشتراک کرکے کتاب دوستی کا ثبوت دیں شُکریہ

                                          بہ احترامات فراواں

                                                      اعجاز احمد نواب

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے