سر ورق / ناول / دام عشق  پہلی قسط  ابن آس محمد

دام عشق  پہلی قسط  ابن آس محمد

دام عشق

 پہلی قسط

 ابن آس محمد

 بے سبب عشق کی کہانی۔

ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی

اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی ۔

دامِ عشق میں لا رہی تھی ۔

ایک وقت تھا ،عشق کرنا تو دور کی بات ،عشق شروع کرنے کا سوچنے میں بھی میں وقت لگتا تھا ۔

اُن دنوں مُشک توچھپ نہیں پاتا تھا ،مگر عشق ،چھپ جاتا تھا چھپ چھپ کے ہو تا تھا ،عاشق اور معشوق جیسے تیسے خود کو چھپانے اور دنیا کی نظروں میں آنے سے بچ ہی جاتے تھے۔

عورت کے لیے مرد منتخب کرنا ،اور مرد کا عورت تک پہنچنا آسان نہیں تھا ،مگرجیسے بہتاپانی پہاڑ کی چٹانیں چیر کر یا ان کے درمیان رساو کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچنے کا راستا بنا لیتا ہے ،اسی طرح پیار کرنے والے ایک دوسرے تک پہنچنے کی سبیل پیدا کر ہی لیتے تھے ۔

وقت بدلتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں ،طریقے بدل جاتے ہیں ،جینے اور مرنے کے قرینے بھی بدل جاتے ہیں ۔

پہلے عشق میں مرنے کی باتیں ہوتی تھیں ،اب پیار میں مرنے سے زیادہ”مارنے “پہ دھیان رہتا ہے ۔

کبھی خط لکھ کر کسی کے حنائی ہاتھوں تک اپنے پیار کا غذ پہنچایا جاتا تھا ،اور ا س کے دل تک پہنچنے کے لیے آنکھوں کے ذریعے محبت بھرے لفظ پہنچاکر ملنے کی جستجوکی جاتی تھی ،ملنے پر شرم وحیا،جھجک اور ایک دوسرے کو چھونے کی سرحدیں پھلانگتے پھلانگتے اتنا وقت گزر جاتا کہ یا تو لڑکی ا س کی اپنی بیوی بن چکی ہو تی ،یاکسی اور کی ہوکراس کی سیج پرسج چکی ہوتی تھی ۔

اپنے محبوب کی یادیں سینے میں بسا کر شوہر کی سیج گرم کرنے والی پاک عورتوں کی ایک پوری دنیا تھی ،جو اب ناپید ہو چکی ہے ۔

اب عورتیں محبوب اور شوہر کی ہم بستری کا موازنہ یوں دھڑلے سے کر بیٹھتی ہیں جیسے باتوں باتوں میں میکڈونلڈ اور کے ایف سی کے برگر کا تقابل کیا جارہاہو ۔

پچھلے دور کی اکثر لڑکیاں دوچار عشق کرنے کے بعد بھی شب زفاف میں پھولوں کی سیج تک پہنچ کر بھی اپنے رفیق حیات کے ہاتھ میں کنواری ہی پہنچنے میں کام یاب ہوجاتی تھیں ،مگر جدید دور کی سہولتوں نے لڑکوں سے آسانی سے ان کی پاکیزگی چھینی تو اکثر لڑکیوں سے ان کی دوشیزگی چھین لی۔

سارا معاملہ ہی پاکیزگی اور دوشیزگی کا ہے ۔

اب پاکیزہ مرد اور دوشیزہ نصیب سے ملتے ہیں اور نصیب والوں کے حصے میں آتے ہیں ۔

 خط کا زمانہ نہیں رہا محلے کے کسی بچے یا بچی کے ہاتھ رقعہ بھیجنے کا دور لد گیامیسیج بھیجنے اور میسیج وصولنے کا آلہ پیغام رساں ہر لڑکی اور ہر لڑکا ہاتھ میں لیے گھومتا ہے ۔

رات کی تنہائی میں یاکھلے بندوں سب کی سامنے بیٹھی عام گھریلو لڑکی بھی موبائل یا لیپ ٹاپ پہ کسی اجنبی سے چیٹنگ کرتے ہوئے وہ باتیں کر رہی ہوتی ہیں ،جنہیں سن کر ہی پہلے لڑکیاں شرم سے لال ہو جاتی تھیں ، سہاگنیں دوپٹے میں منھ چھپا لیا کرتیں،نظریں جھکالیتی تھیں ۔

سوشل میڈیا کے چیٹ باکس چیٹنگ باکس بن گئے ہیں جہاں لڑکیاں لڑکوں کو اور لڑکے لڑکیوں کو چیٹ کرنے کے بہانے چیٹنگ کے جال میں پھنسانے کہ درپے دکھائی دیتے ہیں ۔

محبوب علی خان بھی اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ چیٹ باکس میں اُبھرنے والے جوابی جملے کو تک رہا تھا جو ایک اجنبی لڑکی نے اس کے سوال کے جواب میں ٹائپ کیاتھا ۔

دوسری طرف جو لڑکی تھی جس نے حور شمائل کے نام کی جعلی آئی ڈی بنا رکھی تھی۔مگر محبوب علی خان ایک بار فون پر اس سے بات کرکے تصدیق کر چکا تھا کہ جعلی آئی ڈی کے پیچھے اصلی لڑکی ہی ہے۔

وہ بے چاری بہ ظاہرایک جھوٹے نام کی آئی ڈی سے سچا پیار تلاش کر رہی تھی۔لڑکی ہو کر فلسفہ بگھار رہی تھی ،اور محبوب علی خان کے مردانہ فلسفے سے متاثر ہو رہی تھی ۔

محبوب علی خان جیسے نوجوان اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلسفہ بگھارتی لڑکیاں ،ایک بار خود کو سمجھ دار سمجھنے کے جھانسے میں آجائیں تو انہیں بانہوں تک لانا ،اور بستر تک لے جانا کس قدرآسان ہو تا ہے ۔

ایک گھنٹے تک ہونے والی گفتگو میں محبوب علی خان اس نقلی نام والی اصلی لڑکی کو اپنی لچھے دار باتوں سے یہ باور کرانے میں کام یاب ہو گیا تھا کہ وہ کیسا شدید تنہا ہے ،اور اس وقت اپنے گھر میں اکیلا ہے ۔

دوسری طرف اس کے اکیلے پن اور تنہائی کو سمجھنے والی حور شمائل اب اُسے باوور کرا رہی تھی کہ وہ بھی اس وقت گھر میں اکیلی ہے اور اس سے بھی زیادہ شدیدتنہا ہے ۔

عورت اور مرد کو تنہائی میں ساتھ ہونے سے منع کیا گیا ہے مگر یہ سوشل میڈیا بھی انوکھا گورکھ دھندا ہے انٹر کا جال بھی عجیب ہے میلوں دور بیٹھے تنہا عورت اور تنہا مرد کو انگلیوں کی جنبش سے ایک جگہ بٹھا کر ان کے درمیان کا فاصلہ اور تنہائی دور کر دیتا ہے ۔

ایک جھٹکے میں انٹر نیٹ سے لڑکی پیار کے جال میں آجاتی ہے ۔

خدا کو معلوم تھا کہ عورت مرد تنہائی میں ساتھ ہوں تو ان کے درمیان شیطان آجاتا ہے مگر کون جانتا تھا کہ عورت مرد تنہائی میں الگ الگ اور فاصلوں پر بھی ہوں تو شیطان تب بھی اُن کے مابین آجاتا ہے ،اُنہیں ملانے ،اور شیطانی پہ اکسانے کے جتن شروع کر دیتا ہے ۔

محبوب علی خان نے ٹائپ کیا :

”ہم دنیا میںاکیلے آتے ہیں حور اکیلے جیتے ہیں اور اکیلے ہی مر جاتے ہیں “

حور نے جواب میں لکھا :

”ہاں میں تمہارے اکیلے پن کو محسوس کر رہی ہوں محبوب کیوں کہ خود بھی اکیلی ہوں تمہاری تنہائی میں مجھے اپنی ذات کی تنہائی کا درد محسوس ہو رہا ہے “

” اوہ تو میری طرح تم بھی گھر پہ اکیلی ہو ؟“

” اکیلی سے زیادہ لفظ تنہا موزوں ہے “

محبوب نے مسکرا کر جواب میں ٹائپ کیا :

” دو اکیلے اگر مل جائیں تو اکیلے نہیں رہتے دونوں کا اکیلا پن دور ہو جاتا ہے دو تنہاایک کمرے میں ہوں تو تنہائی کا عذاب ،دونوں کے لیے عشق کا ثواب بن جاتا ہے “

”لگتا ہے تمہیں مجھ سے پیار ہو گیا ہے ؟“

” تم طلب کو پیار سمجھتی ہو تو ،ہاں پیار ہو گیا ہے تم کہو تو میں آجاوں پیار کی پیاس تڑپا رہی ہے اپنی پیاس بجھالوں ،اور تمہیں سیراب کردوں “

دوسری طرف چند لمحے وقفہ رہا ۔پھر اس کی تحریر اُبھری ۔

” گلشن اقبال فلیٹ نمبر بارہ ناز ٹیرس “

محبوب علی خان نے اسکرین کی طرف دیکھا ،اس کی ساری محنت وصول ہو گئی تھی۔اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا :

” کیا واقعی آجاوں مذاق تو نہیں کر رہی ہو ؟“

”ہاں آجاو میرا اکیلا پن دور کر دو میری تنہائی آباد کردو میں انتظار کر رہی ہوں “

محبوب نے جواب لکھا :

” میں آرہاہوں اپنی تصویر بھیجو “

محبوب علی خان کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ اور جنس زدہ چمک لشکارے مارنے لگی ۔وہ اپنی تصویر پہلے مرحلے میں بھیج چکاتھا ۔دل ہی دل میں سوچ رہاتھا کہ رات کی تنہائی میں اس سے چیٹ کرنے والی کہیں چیٹنگ نہ کر رہی ہو

حور کے پردے میں کوئی لنگور نہ ہو

پھر بھی دھڑکتے دل کے ساتھ ہوس پرستانہ انداز میں اسکرین کو دیکھ رہا تھا ۔

اگلے ہی لمحے پینتیس چالیس سال کی پرکشش اور بڑی بڑی آنکھوں والی ایک عورت کی تصویر نمو دار ہوئی۔بہت خوب صورت نہیں تھی ،مگر بدصورت بھی نہیں تھی۔خاصی پر شباب اور بھری بھری سی تھی۔

اس نے تصویر کو انلارج کیا ،تو تصویر پوری اسکرین پر پھیل گئی ۔ا س کی بڑی بڑی آنکھیں اور بڑی ہو کر اسے مسلسل دیکھنے لگیں جیسے خاموش زبا ن میں کہہ رہی ہوں :

”دیکھ لیا ہے تو دیر مت کرو میں انتظار کر رہی ہوں آجاو میرا اکیلا پن دور کردو مجھ میں سما جاو “

اس نے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر ہاتھ رکھا ۔

لیپ ٹاپ کی گرم اسکرین کے پیچھے موجود تصویر کے رخساروں کی گرمی اور سینے کی نرمی اسے اپنی انگلیوں کے پوروں پہ محسوس ہونے لگی ۔

وہ کھڑ اہو گیا ۔ انگڑائی لینے کے لیے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور سر سے اوپر لے جاکر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنساکر ایک انگڑائی لی۔

پھردونوں ہاتھ اسی طرح پکڑ کر دائیں جھکا کر ذرا کمر کو بل دیا،پھر بائیںجھکا کر کمر کو بل دیا،اوردیوار گیر شیشے میں خود کو نظر بھردیکھنے کے بعد کمرے کے وسط میں موجود کمرے کے درمیانی دروازے سے گزر کر دوسرے کمرے میں چلاگیا۔

اس نے سیاہ بنیان اور سیاہ چڈی پہنی ہوئی تھی جو اس کی رانوں سے کچھ اوپر تھی۔

دوسرے کمرے میں آکر وہ دروازے کے ساتھ فرش پر رکھے گتے کے ڈبے کے سامنے جھک گیا ۔

اس ڈبے میں گراموفون کے بہت سے پرانے مگر اوریجنل ریکارڈز رکھے تھے۔

وہ کچھ دیر تک ان کو پلٹ پلٹ کر دیکھتا رہا ،اور ایک ریکارڈ نکالتے ہوئے سیدھا ہو گیا ۔سامنے ایک جانب دیوار کے ساتھ میز پر ایک قدیم طرز کا مگر اچھی حالت میں گراموفون سجا ہوا تھا ۔

اس نے کور میں سے ریکارڈ نکال کر دونوں ہاتھوں سے ریکارڈ کو احتیاط سے تھام کر گرامو فون میں سیٹ کیا اور ریکارڈر آن کرتے ہوئے اُس کی پن ریکارڈ پر رکھ دی۔

اَگلے ہی لمحے کمرے میں قدیم طرز کی دھیمی موسیقی ابھرنے لگی۔یہ کسی قوالی نما غزال کا الاپ تھا۔

میز کے عین سامنے ایک بڑا پر تعیش واش روم تھا ۔جس کا دروازہ شیشے کا تھا ۔

وہ بنیان اتارکر ایک طرف ڈالتے ہوئے واش روم میں چلاگیا ۔ شاور کھول کر برستے پانی کے نیچے کھڑ اہوگیا ۔

حور سے باتیں کرتے ہوئے ا س کا جسم گرم ہو گیا تھا ،اپنے وجود کی حدت ،اور شدت کوکو سرد پانی سے کچھ ٹھنڈا کرنے لگا ۔

خوش بو دار صابن سے پورے بدن کو مل مل کر مہکایا اور نہاتے ہوئے منی بیگم کی قوالوں جیسی آواز میں ” آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے“ سنتا رہا اور پانی اس کے سر سے پیر تک بہتے ہوئے آوارگی میں نالی میں جاتا رہا ۔

خوب پانی بہانے ،اور نہانے کے بعد جب اس کی وحشت اور دماغ کی گرمی میں کچھ ٹھنڈک ہوئی تو اس نے سکون بھرا گہرا سانس لیا اورایک ہاتھ سے واش روم کے قد آدم شیشے پر گرم پانی کی بھاپ سے پھیل جانے والی دُھند صاف کرتے ہوئے خود کو دیکھتا رہا ۔

جسم خشک کرکے اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا، اور پھر پرفیوم اسپرے اٹھا کر ہلکا ہلکا سا گردن پہ اسپرے کیا۔

 اب وہ جانے کے لیے تیار تھا ۔

 کپڑے بدل کر گھر سے باہر نکلتے نکلتے اس نے آخری بار گھوم کر کمرے میں موجود سنگھار میز کے سامنے اپنا جائزہ لیا ،اور ہاتھ کا پستول بنا کر شیشے میں اپنے ہی عکس کو علامتی گولی مار کر مسکرانے لگا ۔

کچھ ہی منٹوں بعد وہ اپنی سیاہ پراڈو میں اپارٹمنٹ والی بلڈنگ سے نکل چکا تھا۔اس کا رُخ ڈیفینس سے گلشن کی طرف تھا ۔

اس کے ہونٹوں پر ایک د ل فریب مسکراہٹ تھی،اور آنکھوں کے سامنے حور شمائل کا سراپا گھوم رہاتھا ۔

رات کے دو بج چکے تھے ،ایسے میں سڑکیں سنسنان دکھائی دیں تو وہ تیزرفتاری سے گاڑی دوڑاتے ہوئے اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ گیا ۔

گاڑی اپارٹمنٹ سے باہر ہی پارک کرکے وہ بلڈنگ میں داخل ہو اتو بلڈنگ کا چوکی دار ایک طرف بیٹھا سو رہا تھا ۔

فلیٹ نمبر اس نے کاغذ پر نوٹ کر لیا تھا ۔

کچھ ہی دیر میں وہ اس فلیٹ کے سامنے پہنچ گیا۔دروازے کی گھنٹی شاید خراب تھی ۔دو تین بار بٹن پش کرنے پر بھی کوئی رد عمل نہ ہوا تو اس نے دروازے پر دستک دے ڈالی ۔

چند لمحوں بعد دروازہ کھلا ،اور بڑی بڑی آنکھوں والی حور شمائل اسے سامنے کھڑی دکھائی دی ۔

محبوب علی خان نے ایک نظر اس پر اوپر سے نیچے تک ڈالی اور ا س کی آنکھیں چمک گئیں ۔وہ جتنی فربہ تصویر میں دکھائی دی تھی اتنی فربہ تھی نہیں ۔صرف سینہ ہی تھا جو کچھ فربہ اور کشادہ تھا ۔

گویانقلی نام والی نے اپنی تصویر اصلی بھیجی تھی ۔

اس نے سرخ رنگ کی قریشیے سے بنی ہوئی جالیوں والی نائٹی پہن رکھی تھی ،جو اس کا بدن چھپانے سے زیادہ دکھا رہی تھی ۔جہاںجہاں سے نظر نہیں آنی چاہیے تھی وہاں وہاں سے بھی چھلک رہی تھی ۔

صاف چھپنے کی بہ جائے پوری طرح ا س کے سامنے جلوہ افروز تھی ۔

 محبوب نے دھیمے لہجے میں کہا :

” محبوب “

وہ مسکراتے ہوئے بولی :

” محبوب کا ہی انتظار تھا اندر آجاو “

اس نے دروازہ پورا کھو کر اسے اندر آنے کا اشارہ کیا ۔

محبوب اندر داخل ہو تو وہ دروازہ بند کرتے ہوئے سامنے موجود مختصر کوریڈور میں اس کے سامنے آگے بڑھنے لگی ۔

وہ جس طرح لہرا کر چلنے کی کو شش کر رہی تھی ،ادھر سے ادھر ہوتے ہو ئے جا رہی تھی ،اسے دیکھ کر محبوب کو یوں لگاکہ اس کا ایمان ڈگمگارہا ہے ۔

وہ اچانک ہی مسکرا اٹھا ۔

جانتا تھا کہ ایمان ڈگمگانے کے لیے ایمان کا ہونا ضروری ہے اس ہوس پرست کے دل میں ایمان تھا ہی کہاں جو ڈگمگاتااصل میں وہ خود ہی ڈگمگا رہا تھا۔جو ایمان والے ہوتے ہیں وہ نہ خود ڈگمگاتے ہیں نہ ان کا ایمان ڈگمگاتا ہے ان کے اندر موجود شیطان ڈگمگاتاہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ایمان ڈگمگا رہاہے ۔

نقلی نام اور اصیل بدن والی حور کوریڈور کے خاتمے پر موجود دروازے تک پہنچی۔پلٹ کر مسکراتے ہوئے ا س کی طرف دیکھا او ردروازہ کھول دیا ۔

محبوب نے اس کی طرف دیکھا ،اور اُس کی آنکھوں کو پڑھا جو ذرا دھیرے سے کہہ رہی تھیں کہ اندر آجائیں ۔

محبوب اندر داخل ہوا تو چونک گیا ۔

اندر ایک ادھیڑ عمر کا فربہی مائل آدمی بیٹھا تھا۔اسے کمرے میں آتا دیکھ کر آہستگی سے کھڑا ہوگیا اورذرا کھسیا کر مسکراتے ہوئے دایاں ہاتھ ا س کی طرف بڑھا یا ۔

محبوب نے توقع نہیں کی تھی کہ اس تنہا حور کے بیڈ روم میں کوئی لنگور بھی ہوگا ۔

کسی خطرے کے پیش نظر اندر ہی اندر دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے پلٹ کر حور کی طرف دیکھا ،جو دروازہ بند کر کے مسکرا رہی تھی ۔

پھر وہ آگے بڑھ کر نظریں جھکاتے ہوئے سرگوشی میں بولی :

” میرے ہسبینڈ وقار احمد آج کل لائیو نشریات کا دور ہے

یہ ہمیں لائیو دیکھیں گے “

محبوب علی خان ایک طویل سانس لیتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔

( جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے