سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔۔قسط نمبر15

ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔۔قسط نمبر15

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر15

الحان نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھا دیا…. مانہ پتھر کی بنی بیٹھی تھی…. اس نے ذرا حرکت نہ کی…. الحان کافی دیر ہاتھ آگے بڑھائے اس کا انتظار کرتا رہا…. پھر ہاتھ واپس اسٹیرنگ پر جماتا دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”تم اپنے بابا کی وجہ سے ہر مرد کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا نہیں کر سکتیں مانو!…. پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں….“

اس کے لہجے میں دکھ تھا، تکلیف تھی….

”میں آپ کو کسی سے میچ نہیں کر رہی الحان!…. نہ کرتی ہوں…. نہ کبھی کیا…. مجھے بس اپنی قسمت سے ڈر لگتا ہے…. خوف آتا ہے کہ کہیں میری قسمت کا بُرا سایہ آپ کو بھی نہ لے ڈوبے…. میری قسمت اچھی نہیں ہے الحان!….“

مانہ کے لہجے میں خوف تھا…. الحان نے ایک سائیڈ پر گاڑی روک دی…. وہ اب براہ راست اس کی جانب دیکھتا پورا کا پورا مڑ بیٹھا تھا….

”تم اپنے بابا کی غلطیوں کا الزام اپنی قسمت کو نہیں دے سکتیں…. تمہاری قسمت کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے مانو!…. تمہاری قسمت بہت اچھی ہے….ایک بار اپنے پاسٹ سے نکل کر دیکھو…. میری محبت محسوس کر کے تو دیکھو…. میں وعدہ کرتا ہوں…. مر جاﺅں گا لیکن تمہاری مجھ پر یقین کی شمعیں کبھی بجھنے نہیں دوں گا…. ٹرسٹ می!“

مانہ نگاہیں اٹھا کر براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی…. الحان کی آنکھیں چمک رہی تھیں…. وہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا…. مانہ اس کی نظروں کی تاب نہ لاتی نظریں جھکا بیٹھی….

”ایسا بھی تو ہو سکتا ہے…. کہ آپ نے اپنے دل کی آواز کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہو….“

وہ بجھے بجھے لہجے میں بولی…. اگلے ہی پل الحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھ دیا…. مانہ یکایک چونک اٹھی…. الحان بول رہا تھا….

”کچھ محسوس ہو رہا ہے تمہیں؟“

وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتا پوچھ رہا تھا…. مانہ نظریں چرا گئی…. الحان کا دل F-16 کی سی تیزی سے دوڑتا محسوس ہوا….

”بولو؟“

اس نے پھر پوچھا…. مانہ خاموش رہی….

”میرے دل کی دھڑکنوں میں چھپی ہوئی آواز کو محسوس کرو…. بار بار محسوس کرو…. تاکہ خود تمہارے دل سے اس کا جواب آئے….“

وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام بیٹھا تھا…. اس کی آواز میں اسم اعظم کے ورد کا سا اثر تھا…. مانہ کے نقوش اور خد و خال، رنگ و رقص کا ایک سورگ بن گئے…. الحان نے اس سورگ پر ایک نظر ڈالی…. ٹھنڈ کی ایک بہت بڑی لہر نے ان دونوں کے دلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا…. الحان کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رُکی…. اس نے گھبرا کر اپنے سرد سرد ہونٹ مانہ کے گرم گرم ہاتھ پر پیوست کر دئیے…. اس کے ہونٹوں کی سردی سے مانہ لرز اٹھی…. اور اس کی لرزش سے اس کا دل بہت زوروں سے دھڑکا…. مانہ ہونٹوں کی سردی سے اور دل کی دھڑکن سے ڈر گئی…. وہ ایک دم جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچ بیٹھی…. اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا…. اس کا سانس تیز تیز چلنے لگا…. وہ چند لمحوں میں موت کی سرحدوں تک ہو کر لوٹ آئی تھی…. اس کا حلق خشک ہوا چاہتا تھا…. وہ آنکھیں میچتی اپنے لب بھینچ بیٹھی…. الحان سیدھا ہو بیٹھا تھا….

”میں نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے اللہ سے تمہیں مانگا ہے مانو!…. میری محبت سچی ہے…. میری محبت پاکیزہ ہے…. اور مجھے یقین ہے کہ تمہیں مجھ پر یقین ہے…. اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو…. اپنے دل و دماغ سے سب ۔ر سب خوف نکال پھینکو…. میں تم سے دور نہیں جانے والا…. میری جان قید ہے تم میں…. تم سے دور گیا…. تو موت سے جا ملوں گا…. اتنا یاد رکھنا….“

اس کے لہجے میں سرور تھا…. مانہ نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان بھی گردن گھمائے براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا….

”بس ایک خواہش ہے کہ تم سے ایسی محبت نبھاﺅں…. میںبھلے رہوں نہ رہوں…. تمہیں میری وفا یاد رہے….“

مانہ کی آنکھوں میں نمی تھی…. وہ کچھ بول نہ پائی…. اس کے آنسو آنکھوں کی کھڑکی سے جھانکتے، خودکشی کرنے لگے…. الحان نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اس کے خودکشی کرتے آنسوﺅں کو اپنی انگلیوں سے چُن لیا….

”مجھے معلوم تھا…. تم بھلے کچھ کہو نہ کہون تمہاری آنکھیں سب بول دیتی ہیں….“

وہ سرگوشی کرنے لگا…. مانہ نظریں چرا گئی….

”مجھے بھوک لگ رہی ہے….“

مانہ دھیمے سے بولی….

”اس لیے رو رہی ہو؟“

الحان نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کی…. مانہ ہلکے سے مسکرا دی…. الحان بھی مسکرانے لگا….

”میں تمہیں ہمیشہ ایسے ہی ہنستے مسکراتے دیکھنا چاہتا ہوں….“

اس نے سرگوشی کی…. مانہ نظریں جھکا بیٹھی…. الحان نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آئی بالوںکی لٹ پکڑ کر کان کے پیچھے اُڑستے ہوئے پھر سے سرگوشی کی….

"I love you!”

مانہ جھینپ سی گئی…. اس کی گوری رنگت میں گلابیاں اُتر آئیں…. الحان مسکرا دیا….

”یہاں نزدیک ایک پارک ہے…. وہاں اس ٹائم کوئی نہیں ہوتا…. چلو وہاں چل کر کھانا کھاتے ہیں…. ایٹ لیسٹ وہاں لوگوں کے ہجوم کا کوئی ڈر نہیں ہوگا….“

الحان سیدھا ہو بیٹھا تھا…. سٹیرنگ پر ہاتھ جماتے ہی اس نے کار اسٹارٹ کر دی…. اگلے چند منٹوں میں وہ دونوں پارک کے ایک بینچ پر موجود تھے…. مانہ ٹفن کھولنے لگی تھی…. الحان اس کے برابر میں بیٹھا آسمان پر نگاہ دوڑانے لگا….

”عرصہ بیتا، زندگی بیتی، سب کچھ بیتا لیکن پھر بھی

جو عشق میں بیتی، عشق ہی جانے یا وہ جانے جس پر بیتی!“

وہ شاعرانہ انداز میں گویا ہوا…. مانہ ہلکے سے مسکرا دی….

”آپ شاعری کی ایک کتاب شائع کر لیں….“

الحان مسکرانے لگا…. وہ اب اس کی جانب مڑ بیٹھا تھا….

”نہیں…. میری فیلنگز صرف تمہارے لیے ہیں…. اسے پوری دنیا کے ساتھ کیوں شیئر کروں؟“

”اچھا…. بس…. اب کھاناکھا لیں…. بھوک سے بُرا حال ہو رہا ہے میرا….“

”ظالم لوگ….“

الحان منہ بسورنے لگا….

”آپ اپنے ہاتھوں سے کھلائیں گی تو ہم کھائیں گے….“

”نو!“

”یس!“

وہ ضد کرنے لگا…. مانہ اسے گھور کر رہ گئی…. پھر اس کی ضد کے آگے ہار مانتی اسے نوالے بنا بنا کر کھانا کھلانے لگی…. الحان شوق سے کھانا کھانے لگا….

”آج سے پہلے اتنا لذیذ کھانا میں نے کبھی نہیں کھایا….“

کھانے کے اختتام پر وہ مانہ کو نظروں کا محور بنائے گویا تھا…. مانہ ایک اچٹتی نگاہ اس پر دوڑاتی ٹفن پیک کرنے لگی….

”ٹرسٹ می!“

وہ زور دے کر بولا….

”اوکے…. ٹرسٹ ہے آپ پر…. آپ بار بار ایسے نہیں بولا کریں….“

”تھینک یو!“

وہ مسکرا دیا…. ٹفن سائیڈ پر رکھے وہ دونوں واک کرنے لگے تھے…. رات گہری ہوتی چلی جا رہی تھی…. خنکی بڑھ چکی تھی…. مانہ اپنے دونوں ہاتھ شال میں لپیٹے، الحان کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی تھی….

”میں پندرہ سال کی تھی الحان! جب میری نانی ماں مجھے یتیم خانے سے لینے آئیں…. دس سال میں نے اپنوں کا انتظار کرتے کرتے یتیم خانے میں گزار دئیے…. میرے بابا جان کبھی ملنے بھی نہ آئے…. انہوں نے میری نانی ماں کو میرے یتیم خانے میں ہونے کی خبر تک نہ دی…. نجانے نانی ماں کو کیسے خبر ہوئی…. اور وہ مجھے لینے پہلی فلائٹ سے پاکستان دوڑی چلی آئیں…. پہلے میں نے انہیں پہچانا نہیں….“

مانہ درد کی سی کیفیت چہرے پر سجائے بول رہی تھی…. الحان بڑی خاموشی سے چلتا اس کی داستان سن رہا تھا…. وہ اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دینا چاہتی تھی…. زرین کے بعد الحان پہلا شخص تھا جو اس کے پاسٹ سے واقف ہو رہا تھا….

”انہوں نے مجھے البمز دکھائیں…. بھولی بسری یادیں پھر سے تازہ ہو گئیں…. میں انہیں بے یقینی کے عالم میں دیکھتی رہی…. پھر وہ مجھے یہاں لے آئیں…. میری نانی ماں بھی اکیلی تھیں…. نانا جان کب کے گزر چکے تھے…. میری نانی ماں نے مجھے سہارا دیا…. میں انکا سہارا بنی…. انہوں نے بہت کچھ کیا میرے لیے الحان…. میں پھر سے جینے لگی…. خوش رہنے لگی…. لیکن بھول گئی تھی کہ خوشی مجھے راس نہیں آتی…. خوشی مجھ سے اس قدر جل گئی کہ میری نانی ماں، میرے آخری سہارے کو بھی مجھ سے چھین کر لے گئی…. میری نانی ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئیں…. پھر سے اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر….“

وہ رُندھی آواز سے بولتی آنسو بہانے لگی…. الحان خاموش کھڑا رہا…. اس نے اسے رونے دیا…. وہ جی بھر کر روتی رہی…. جب تھک چکی تو آنسو صاف کرتی نم نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”اب بہت ڈر لگتا ہے…. خوش ہونے سے ڈر لگتا ہے….“

آنسو لڑھکتے اس کے رخسار پر آن ٹھہرے…. الحان اس کی آنکھوںمیں جھانکتا اس کے آنسو چننے لگا….

”میں تمہیں اتنی خوشیاں دوں گا کہ تمہارا دامن کم پڑ جائے گا…. ناز کرو گی تم خود پر…. یہ میرا تم سے وعدہ ہے….“

الحان نے تھوڑا جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے ڈالا…. مانہ آنکھیں موند کر رہ گئی…. الحان اس کے چہرے پر کھیلتی شرارتی بالوں کی لٹوں کوکان کے پیچھے اُڑستا براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا….

”تمہاری ان آنکھوں کی قسم…. ان آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دوں گا….“

مانہ نظریں جھکا گئی…. الحان نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور واپس جاتے راستے کی جانب قدم دھرنے لگا….

جیسے اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھوں میں دیا

میں صدیوں کا ادھورا، مکمل ہو گیا!

ض……..ض……..ض

اگلی صبح وہ چاروں لڑکیاں، چینل کی وین میں Ranch واپس لوٹ آئی تھیں…. الحان الگ اپنی کار میں واپس لوٹا تھا…. اس دن کوئی ٹاسک نہ ہوا تھا…. کریو ایڈیٹنگ کے کام میں مصروف تھا…. عاشرزمان ہمیشہ کی طرح ڈھیروں کاغذات سامنے رکھے ایڈیٹنگ کے سٹاف کے ساتھ مصروف رہا…. ڈنر کا ٹائم ہو چلا تھا…. کیمرہ مین اپنے کاموں میں مصروف تھے…. تائبہ، مسکان اور آشلے، کھانے کے دوران الحان کے اپنے اپنے گھروں کے وزٹ کو چھیڑے ہوئے تھیں….جبکہ مانہ ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے الحان کی چور نظروں کو محسوس کرتی خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف رہی…. الحان بہت خوش تھا اور بہت اُداس بھی…. کل رات ایلیمنیش کی رات تھی…. اور الحان کے وعدے کے مطابق وہ کل رات مانہ کو ایلیمنیٹ کرنے والا تھا…. وہ اسے ایلیمنیٹ نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ مجبور تھا…. مانہ سے کیا گیا وعدہ اسے ہر حال میں پورا کرنا تھا….

الحان اپنی کافی کا مگ تھامے چوب محل سے باہر چلا آیا…. مانہ اصطبل کے قریب کھڑی دکھائی دی…. وہ دور دور نظریں دوڑاتی نجانے کہاں کی دنیامیں کھوئی سی تھی…. الحان اس کے قریب چلا آیا…. قدموں کی چاپ قریب سے قریب تر محسوس کرتی وہ پلٹ کر اپنے پیچھے کھڑے الحان کی جانب دیکھنے لگی…. الحان مسکرا دیا…. مانہ بھی مسکرا دی…. وہ کچھ دیر خاموش رہا…. پھر بولا….

”کل ایلیمنیشن کی رات ہے….“

”جانتی ہوں….“

مانہ دھیمے لہجے میں بولتی آسمان پر نگاہ دوڑانے لگی….

”آئی وش کہ میں اپنا پرامس توڑ دیتا…. تمہیںنہیں جانے دیتا…. لیکن میں ایسا نہیں کروں گا…. تم سے کیا گیا وعدہ میں ضرور پورا کروں گا…. تمہارا مجھ پر یقین…. میں گنوانا نہیں چاہتا….“

وہ افسردگی سے بولا…. مانہ اس کی جانب دیکھتی مسکرانے لگی….

”تمہارے بغیر یہ دو ہفتے کیسے گزریں گے مانو!…. میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر…. جب تک تمہیں دیکھ نہ لوں…. تمہیں سن نہ لوں…. میرے دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا…. آئی ایم ہیلپ لیس….“

وہ منہ لٹکا کھڑا ہوا….

”الحان! مانہ! اگلے ایک منٹ میں شو لائیو آن ایئر جانے والا ہے…. کم فاسٹ!“

خرم نے آواز لگائی…. الحان یکایک چونک اٹھا….

"What?”

خرم پر نگاہ دوڑاتا وہ خوفزدہ نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. وہ خود حیرانی کا مجسمہ بنی اسے تکتی رہی…. وہ دونوں تیزی سے چلتے چوب محل پہنچے ہی تھی کہ وہاں کا نظارہ الحان پر بلاسٹ کرتا چلا گیا…. تائبہ، مسکان اور آشلے منہ بسورے ایک لائن میں کھڑی تھیں…. عاشر سکرین کے سامنے بیٹھا سارا سیٹ اَپ دیکھنے میں مصروف تھا اور خرم ایلیمنیشن کی رات شروعات کر چکا تھا…. وہ بول رہا تھا….

”مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کل کی رات کی جانے والی ایلیمنیشن،آج کی رات کی جا رہی ہے…. آئی ایم سوری لیڈیز…. یہ میری جاب ہے…. اس لیے پلیز نو ہارڈ فیلنگز!“

خرم مہذبانہ انداز میںبولتا، چوب محل کے دروازے میں حیران کھڑے الحان کی جانب دیکھنے لگا…. مانہ قطار میں جا کھڑی ہوئی تھی…. اس کا دل باقی لڑکیوں کی طرح آج پہلی بار ایلیمنیشن کے خوف سے زوروں سے دھڑکتا محسوس ہوا تھا…. الحان نڈھال قدموں سے چلتا، پھولوں کی ٹرالی کے پاس آ کھڑا ہوا….

”آر یُو ریڈی الحان؟“

خرم پوچھ رہا تھا…. الحان نے اپنا گلا کھنگارا…. پھر گہری سنجیدگی سے گویا ہوا….

"I hate doing this!”

وہ صرف اتنا کہہ پایا…. اس کے پاس چوبیس گھنٹے تھے…. اور یوں اچانک اس سے چوبیس گھنٹے چھن جانے پراس کا موڈ سخت خراب ہو چلا تھا…. اس کے دل کی دھڑکنیں بند ہوتی محسوس ہو رہی تھیں…. خرم خاموشی سے چلتا کیمرے کے پیچھے جا کھڑا ہوا…. الحان نے ٹرالی پر رکھے تین گلابوں پر نظر دوڑائی…. اس نے ایک گلاب اٹھایا…. اور ساتھ ہی ایک لمبی سانس کھینچی….

”آشلے!”

اپنا نام پکارے جانے پر آشلے کی آنکھیں بھر بھر آئیں…. وہ آنکھوں میں نمی لیے، تیزی سے چلتی الحان کے قریب آ کھڑی ہوئی….

”تھینک یو الحان!“

وہ خوشی کا اظہار کرتی، پھول تھامتی، مس فاطمہ کے برابر جا کھڑی ہوئی…. الحان نے دوسرا گلاب اٹھایا….

”مسکان!“

وہ سپاٹ لہجے میں بولا…. مسکان خوشی سے اُچھل پڑی…. الحان سے گلاب تھامتی وہ چمکتی نگاہوں سمیت آشلے کے برابر میں جا کھڑی ہوئی…. الحان نے مانہ پر نگاہ دوڑائی…. نظریں ملتے ہی وہ نظریں جھکا کھڑی ہوئی….الحان نے آخری گلاب اٹھایا….

”تائبہ!“

تائبہ نم بھری نگاہوں سے چلتی گلاب تھامتی مسکان اور آشلے کے برابر جا کھڑی ہوئی…. تائبہ کا نام پکارنے کے بعد الحان ایک بوجھل سی سانس خارج کرتا تاسف بھری نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. اسے سب کچھ چکراتا محسوس ہوا…. اس نے پاس پڑی پھولوں کی ٹرالی کا سہارا لیا…. وہاں موجود سبھی لوگ حیران تھے…. سبھی سکتے کے سے عالم میں مانہ اور الحان کی جانب دیکھنے لگے…. عاشرزمان سکرین پر سے نظریں ہٹائے سکتے کے سے عالم میں ان دونوں کی جانب دیکھے گیا…. آشلے خباثت سے مسکرانے لگی…. مانہ اکیلی کھڑی، لمبی سانس کھینچتی، مسکراہٹ لبوںپر سجائے الحان کی جانب دیکھنے لگی…. خرم کے چہرے کے نقوش پر حیرانی واضح طور پر عیاں تھی…. وہ چلتا ہوا الحان کے قریب آ کھڑا ہوا….

”آئی ایم سوری مانہ!“

خرم بے یقینی کے عالم میں الحان کی جانب دیکھنے لگا…. الحان کی آنکھوں میں نمی تھی…. مسکان تیزی سے چلتی مانہ سے جا لپٹی…. مانہ نے مسکرا کر اسے الوداع کہا اور پھر تیز تیز قدم بڑھاتی اپنے کمرے میں چلی آئی…. اس کی سانسیں بوجھل ہو رہی تھیں…. اس کے لیے یہ شو اہم ہرگز نہ تھا…. اس کے لیے وہ شخص اہم تھاجو نیچے خاصا افسردہ کھڑا دکھائی دیا تھا…. اسے جانا ہی تھا…. الحان کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے واپس آنے کے لیے اسے اس شو سے جانا ضروری تھا…. وہ اپنا سامان پیک کرتی نیچے چلی آئی…. کریو کے ممبرز اس کا سامان وین تک پہنچانے گئے…. مانہ چوب محل سے باہر نکل آئی…. عاشرزمان کچھ بول نہ پایا…. اس پر سکتہ فُل زور و شور سے حاوی تھا…. الحان اسے باہر تک چھوڑنے آیا….

”میرا انتظار کرنا…. میں تمہارے پاس ضرور آﺅں گا…. آئی پرامس!“

مانہ اس کی بے چینی پر مسکرا دی….

”آئی ول مس یُو الحان!“

وہ سرگوشی کرتی، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر مسکراہٹ سجائے تیزی سے پلٹی اور وین میں جا بیٹھی…. الحان اس کے پیچھے دوڑا تھا….

”آئی ول مس یُو ٹو مانو!“

وین جا چکی تھی…. الحان کافی دیر اسی جگہ پر کھڑا آنسو بہاتا رہا…. کافی دیر گزر جانے کے بعد وہ نڈھال قدموں سے چلتا اصطبل کی جانب بڑھنے لگا…. اپنے گھوڑے کے پاس پہنچتے ہی وہ اس کے چہرے کو سہلاتا ایک درد بھری سانس کھینچ کر رہ گیا….

گو کہ تجھ بن….

ہر شب بے چینی سے گزرے گی….

دل کے اندھیر خانوں میں….

وحشتوں کا رقص ہو گا….

گو کہ تجھ بن راتوں کو….

میں اب سویا نہیں کروں گا….

شب ہجر….

تیری یادوں کے سہارے گزار لوں گا….

آنکھوں میں آئے اشکوں کو….

دل میں اُتار لوں گا….

اپنے چہرے کو جدائی کے آنسوﺅں سے….

بھگویا نہیں کروں گا….

ہاں جان!

میں رویا نہیں کروں گا!!!

ض……..ض……..ض

ہر گزرتے دن کے ساتھ الحان موڈی اور چڑچڑا ہوتا چلا جا رہا تھا…. کیمرے آن ہوتے ہی وہ بمشکل چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتا اور کیمرے آف ہوتے ہی اپنے کمرے یا پھر اصطبل کا رُخ کر لیتا…. تینوں لڑکیوں کے ساتھ الگ الگ ڈیٹ کے دوران وہ کھویا کھویا رہتا…. لڑکیوں کا موڈ اس کا موڈ دیکھ کر خراب ہو جاتا…. عاشر اس کی حالت سے واقف تھا…. اس نے مانہ کو ایلیمنیٹ کر دینے کی وجہ بھی الحان سے پوچھ لی تھی…. وہ اس کے لیے کچھ کر بھی نہ پا رہا تھا…. شو اپنے آخری مراحل میں داخل ہونے کو تھا…. چند دن باقی تھے…. اور یہ چند دن اس کے لیے کئی صدیوں کے برابر محسوس ہوتے تھے…. وہ کھلے وسیع خوبصورت Ranch ہونے کے باوجود، ایک جیل میں قید ہو کر رہ گیا تھا….

بس وہیں تک ہے زندگی

جہاں تک ساتھ تیرا ہے!

ض……..ض……..ض

”اچھا ہوا جو الحان نے اسے اس شو سے کِک آﺅٹ کر دیا…. پتا نہیں الحان نے اسے ایلیمنیٹ کرنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی؟“

”الحان کی آنکھیں خراب ہو گئی تھیں شاید جو اس کے لیے دیوانہ بنا رہا…. کہاں الحان ابراہیم اور کہاں یہ؟“

ڈریسنگ روم کے بار لوگوں کا ہجوم لگا تھا…. طرح طرح کے لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے…. مانہ کا آج بحیثیت مصنفہ پہلا انٹرویو لائیو آن ایئر جانے والا تھا…. لوگ اس شو کے ذریعے اس کے مصنفہ ہونے کے سیکرٹ سے باخبر پہلے ہی ہو چکے تھے۔ برینڈا کی مہربانی سے تمام لوگوں کو مانہ کے میمانہ انان ہونے کا سیکرٹ اس کے ایلیمنیٹ ہوتے ہی پتاچل گیا تھا…. مانہ کے ایلیمنیٹ ہوتے ہی تمام چینلز مانہ کا انٹرویو کرنے کو بے چین تھے…. لیکن مانہ نے اسی چینل کو پہلے ترجیح دی، جس چینل پر یہ رئیلٹی شو آن ایئر جا رہا تھا…. مانہ کی بیسٹ فرینڈ زرین اس کے ساتھ ڈریسنگ روم میں موجود تھی…. لوگوں کی زہرخندباتیں اور لہجے لحظہ بہ لحظہ مانہ کی سماعت سے ٹکراتے چلے گئے…. وہ جو بڑے سے آئینے کے سامنے اپنے بال سنوارنے میں مصروف تھی…. لوگوں کی باتیں سنتی ایک دم بجھ سی گئی…. جہاں لوگ اس کی مخالفت کر رہے تھے، وہیں کچھ لوگ اس کے مداح بھی تھے….

”مجھے الحان ابراہیم سے یہ توقع ہرگز نہ تھی…. اس نے مانہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے….“

”وہ تو ہے ہی پلے بوائے…. اور ایسے لڑکے کسی ایک لڑکی کے ساتھ کہاں سیریس ہوا کرتے ہیں؟….“

”الحان کو ایسا کرتے شرم نہ آئی…. ویری بیڈ!“

”اچھا کیا الحان نے …. مجھے بہت خوشی ہے کہ آخرکار اسنے وہ کر دکھایا جو اسے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا….“

”مجھے آشلے بہت پسند ہے…. کتنے اچھے لگتے ہیں دونوں ایک ساتھ…. دونوں ایک ساتھ ہیرو، ہیروئن لگتے ہیں…. آئی وش کہ الحان آشلے کو اپنی جیون ساتھی سلیکٹ کرے….“

جتنے منہ اتنی باتیں…. مانہ بجھی بجھی سے نظریں جھکائے لوگوں کی باتیں سن رہی تھی…. زرین اٹھ کر اس کے نزدیک چلی آئی…. اس نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھا….

”تم ان لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دو مانہ…. یہ لوگ تو ایسے ہی بکواس کرتے رہتے ہیں….“

وہ اسے تسلی دینے کو بولی…. مانہ نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھتی مسکرا دی….

”آئی نو! میں ٹھیک ہوں…. ڈونٹ وری!“

”دیٹس لائیک آ گڈ گرل!…. چلو جلدی سے تیار ہو جاﺅ…. آج بحیثیت مصنفہ تمہارا پہلا انٹرویو لائیو آن ایئر جانے والا ہے…. میں تو بہت ایکسائیٹڈ ہوں مانہ!…. تمہیں کیسا فِیل ہو رہا ہے؟“

وہ پُرجوش انداز میں بولی…. مانہ مسکرا دی….

”مس مانہ! شو آن ایئر جانے والا ہے…. آپ آ جائیے!“

کریو کا ایک ممبر مسکراتا ہوا ڈریسنگ روم میں داخل ہوا تھا…. مانہ جھٹ سے کھڑی ہو گئی…. لمبی سانس کھینچتی وہ خود کو نارمل کرنے لگی….

”لیڈیز اینڈ جینٹل مین! لیٹس ویلکم ون گریٹ آتھر میمانہ انان!“

ایک خوبصورت اور نامور مورننگ شو کی ہوسٹ اپنے پُرجوش انداز میں میمانہ انان (مانہ) کا استقبال کرنے لگی…. مانہ فل کانفیڈینٹ انداز میں چلتی سٹیج پر چلی آئی…. سٹیج پر موجود لائیو آڈئینس اپنی بھرپور تالیوں سے اس کا استقبال کرتی دکھائی دی…. مانہ مسکرا رہی تھی…. ہوسٹ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا…. مانہ سامنے پڑے اکیلے صوفہ پر براجمان ہو گئی…. ہوسٹ بھی اپنی سیٹ سنبھال چکی تھی…. تالیوں کی گونج تھمتے ہی، ہوسٹ شیریں لہجہ میں گویا ہوئی….

”میمانہ انان عرف مانہ! آپ کے ناولز بہت کمال کے ہیں…. ایک بار ریڈنگ سٹارٹ کر لی جائے تو ناول ادھورا چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہتا….“

”تھینکس!“

مانہ مسکرا دی….

”میں نے آپ کا ناول پڑھا ہے…. اینڈ آئی ہوپ کہ آپ مجھے میرے حصے کی کاپی پراپنا آٹوگراف ضرور دیں گی….“

مانہ ہلکے سے ہنس دی…. ہوسٹ نے بھی ہنسنے میں اس کا بھرپور ساتھ دیا….

”اگر آپ مجھے اپنا آٹوگراف دیں گی تو میں یقینا آپ کو آپ کی کاپی سائن کر کے دوں گی….“

مانہ کے جواب پر ہوسٹ کھلکھلا کر قہقہہ لگانے لگی….

”سو!…. آپ کا نیکسٹ ناول کب آ رہا ہے؟…. ہم نے سنا ہے کہ آپ اپنے نئے ناول کی شروعات کر چکی ہیں….“

”جی…. ان شاءاللہ سون!“

”تو کیا…. آپ کے اس ناول میں الحان ابراہیم بھی موجود ہیں؟“

ہوسٹ ایک شریر سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے پوائنٹ پر چلی آئی تھی…. لائیو آڈینس نے بھی ایک ساتھ ہوٹنگ کی تھی…. مانہ کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی….

”یہ فی الحال ایک سیکرٹ ہے…. میں ابھی اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی….“

ایک بار پھر سے ہوٹنگ کی گونج سنائی دی….

”اوکے…. اس رئیلٹی شو (ان لمحوں کے دامن میں)میں آنے کا خیال آپ کو کیسے آیا؟…. مطلب…. کیا آپ کو بھی سچے پیار کی تلاش تھی؟“

ہوسٹ پوچھ رہی تھی….

”نہیں…. میں ایکسپیرینس کے لیے آئی تھی…. میں جاننا چاہتی تھی کہ کیمروں کے پیچھے کی لائف کیسی ہوتی ہے…. اور جو لوگ اس طرح کے رئیلٹی شوز میںحصہ لیتے ہیں…. ان کی فیلنگز کیا ہوتی ہیں….“

”تو کیا ہم سب لوگ یہ سمجھیں کہ آپ کی اس شومیں آنے کی وجہ آپ کا آنے والا نیو ناول ہے؟“

”جی …. کہہ سکتے ہیں….“

”اوکے!…. بطور کنٹیسٹینٹ یہ شو آپ کے لیے کیسا رہا؟ میرا مطلب کہ بہت سے لوگ اس شو کو دیکھتے ہیں…. پسند کرتے ہیں…. اور سپیشلی الحان ابراہیم تو لاکھوں دلو ں کی دھڑکن بن چکے ہیں…. آپ مجھے یہ بتائیے کہ شو میںموجودہ لڑکیوں کی پرسنل فیلنگز کیسی رہیں؟“

”بہت مشکل ہوتا ہے سب کچھ فیس کرنا…. اور میں کیا کہوں؟“

ہوسٹ مسکرا دی….

”اچھا!…. جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ الحان ابراہیم لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں…. آپ مجھے یہ بتائیے کہ الحان ابراہیم ایز آ پرسن کیسے ہیں؟“

”الحان!“

مانہ کچھ سوچنے لگی…. پھر خوبصورت سی مسکراہٹ لبوں پر سجاتی دھیمے لہجے میں گویا ہوئی….

”الحان بالکل ویسے نہیں جیسا میں ان کے بارے میں سوچا کرتی تھی…. ہاں! شو کے سٹارٹ میں مجھے لگا کہ وہ تھوڑے کھلنڈر ٹائپ کے انسان ہیں…. نان سیریس ٹائپ…. لیکن میں غلط تھی…. وہ ایسے بالکل نہیں…. بہت میچور اور سمجھدار، بہت کیئرنگ اور…. اور….“

”اور؟“

مانہ کے الفاظ حلق میں اٹک کر رہ گئے…. ہوسٹ اسے چھیڑنے لگی…. مانہ مسکرا کر رہ گئی….

”اور…. "Are you in love with Alhan?

وہ کن اکھیوں سے مانہ کی جانب دیکھتی شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے سوال پوچھ بیٹھی…. مانہ یکایک چونک اٹھی…. اس کی گوری رنگت میں گلابیاں اُترتی چلی گئیں…. وہ کچھ بول نہ پائی…. ہوسٹ اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی….

”کیا میں آپ کے اس سوال کا جواب اپنی نئی بک کی لانچنگ پر دے سکتی ہوں؟“

مانہ دھیمے لہجے میں جھجکتے ہوئے بولی…. جواباً ہوسٹ قہقہہ لگانے لگی…. لائیو بیٹھی آڈینس نے بھی قہقہہ لگانے میں ہوسٹ کا بھرپور ساتھ دیا…. ہوسٹ قہقہہ لگاتی پوری کی پوری کیمرہ کی جانب مڑ بیٹھی….

"We’ll be back for more after a short break!”

ض……..ض……..ض

صاحبہ مانہ سے ملنے آئی تھی…. مانہ اسے اپنے گھر کی دہلیز پر دیکھتے ہی کھل اٹھی…. وہ اس کے لیے چائے بنا کر لائی…. چائے کا کپ اٹھاتی صاحبہ مصروف انداز میں گویا ہوئی….

”تم نے کل رات کا شو دیکھا؟“

”نہیں!“

مانہ سنجیدگی سے گویا ہوئی….

”کیوں نہیں؟“

وہ حیران ہوئی….

”میں یہ شو نہیں دیکھتی صاحبہ!“

”کیوں نہیں دیکھتیں؟“

”مجھ سے نہیں دیکھا جاتا….“

وہ منہ بسور بیٹھی…. صاحبہ مسکرا دی….

”اوہ…. جلن ہوتی ہے؟“

وہ اب شرارت پر آمادہ تھی….

”ہرگز نہیں!“

”اچھا…. کل رات کا شو تمہیں دیکھنا چاہیے تھا…. کل رات الحان نے تائبہ کو ایلیمنیٹ کیا ہے…. اب مسکان اور آشلے باقی رہ گئی ہیں….“

”اچھا!“

مانہ نے کوئی ری ایکشن نہ دیا….

”یار کیا مسئلہ ہے…. یہاں تم روبوٹ بنی ہو…. وہاںالحان روبوٹ بنا ہے…. کتنی بُری حالت ہے بیچارے کی…. تم دیکھو تو ایک بار…. مجھے ترس آ رہا تھا بیچارے پر….“

مانہ خاموشی سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”مجھے عاشر نے سب بتا دیا ہے تمہاری اور الحان کی ڈیل کے بارے میں…. تم دونوں عجیب ہو یار!….“

”اچھا تم ہماری چھوڑو…. اپنی بتاﺅ…. گھر والوں کا کیا ری ایکشن تھا….“

”کس بارے میں؟“

”عاشر زمان کے بارے میں؟“

صاحبہ جھینپ سی گئی….

”وہ لوگ میری خوشی میں خوش ہیں مانہ!….“

”دیٹس گڈ!…. تمہاری عاشر سے روز باتی ہوتی ہے؟“

”ہاں…. لیکن بہت مشکل سے…. عاشر کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا…. شو آخری مراحل پر ہے…. آخری ہفتہ شروع ہو چکا ہے…. عاشر پر کام کا برڈن بہت ہے…. اچھے سے اچھے ٹاسک کی تیاری…. انتظامات میں تھک جاتے ہیں عاشر…. صبح جا کر آدھ ایک گھنٹے کا ٹائم ملتا ہے تو ہماری بات ہو جاتی ہے…. دیکھو…. اسی چکر میںجاگ جاگ کر میرے ڈارک سرکلز بھی گہرے ہو گئے ہیں….“

صاحبہ منہ بسور بیٹھی تھی…. مانہ مسکرانے لگی….

”پیار کرنااتنا آسان ہوتا تو کیا ہی بات تھی….“

صاحبہ کپ ٹیبل پر رکھتی مانہ کی جانب دیکھنے لگی….

”ہاں!…. انتظار کا دوسرا نام پیار ہے…. اور پیار کا دوسرا نام انتظار…. اچھا لگتا ہے انتظار کرنا…. اس انتظار کی جو فیلنگز ہوتی ہیں…. بہت خوبصورت ہوتی ہیں…. میں نے یہ شو…. ایسے ہی شوق شوق میں جوائن کر لیا…. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ شو میری زندگی بدل دے گا…. سچے پیار پر مجھے ہمیشہ سے یقین تھا…. لیکن میں اتنی خوش نصیب ہوں گی کہ عاشر جیسے بہترین انسان مجھے اس قدر چاہنے لگیں گے…. میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا…. اور تم دیکھو…. تم اس شو میں صرف ایکسپیرینس کرنے آئی تھیں…. صرف اپنے ناول کی کہانی کے لیے…. اور دیکھو…. اللہ نے تمہاری اپنی ایک خوبصورت سی کہانی بنا ڈالی…. پتا ہی نہیں چلتا…. اور پلک جھپکتے ہی ہماری تمام کی تمام زندگی بدل جاتی ہے….“

صاحبہ ایک خوبصورت احساس میں گم بولے چلی جا رہی تھی…. مانہ اثبات میں سر ہلاتی، کچھ سوچتے ہوئے مسکرا دی….

ض……..ض……..ض

”ہاں معلوم تھا مجھے…. لوگوں کا ری ایکشن تو آنا ہی تھا….“

الحان کافی کا مگ تھامے اپنے گھوڑے کے پاس آ کھڑا ہوا…. موبائل کان سے لگائے وہ کبیر سے محو گفتگو تھا….

”جتنے منہ اتنی باتیں…. لوگ پتا نہیں اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتے ہیں….“

کبیر کی آواز اُبھری، الحان خاموش رہا….

”اچھا بات سن…. ایک کام کر….“

”کیا؟“

”کچھ ایسا کر…. کہ سب کے منہ بند ہو جائیں….“

ایئر سپیکر سے آواز اُبھری…. الحان سپ لیتے ہی کچھ سوچتے ہوئے بولا….

”ہاں…. سوچ رکھا ہے میں نے …. بہت جلد سبھی لوگوں کو ان کے سوالوں کا جواب مل جائے گا….“

”کیا کرنے والا ہے تُو؟“

"Just wait and watch!”

الحان اپنے گھوڑے پر نگاہ دوڑاتا، ایک پُرسکون سانس کھینچ کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

مانہ دن رات ایک کیے اپنے ناول میں گم ہو کر رہ گئی تھی…. جبکہ دوسری جانب الحان اس سے ملنے، اس کو دیکھنے اور سننے کو بے چین تھا…. عجیب روبوٹ کی سی حالت ہو چکی تھی اس کی…. شیو بھی ہلکی ہلکی بڑھ چکی تھی، اس نے اپنی خط نہیں بنائی تھی…. یہ آخری چھ دن اس نے چھ صدیوں کے برابر گزارے تھے…. آج کی رات Ranch میں گزاری جانے والی آخری رات تھی…. کل رات فائنلی، شو کی آخری قسط لائیو آن ایئر جانے کے بعد وہ اس وسیع خوبصورت جیل سے رہا ہو کر اپنی دنیا میں واپس لوٹ جانے والاتھا…. ہاں…. مانہ اس کی دنیا…. ان چند مہینوں میں وہ کتنا بدل گیا تھا…. اسے خود اپنا یہ بدلاﺅ بہت بھانے لگا تھا….

خنک ہوا کی لمبی گہری سانس کھینچ کر وہ اپنے اندر اُتارتا، خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے کل ہونے والی اپنی رہائی کے بارے میں سوچتا وہ بے حد خوش دکھائی دے رہا تھا…. عاشر، چوب محل کے دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہاتھا…. اگلے پل وہ قدم بڑھاتا اس کے نزدیک چلا آیا….

"Hey!”

الحان نے پلٹ کر اپنے پیچھے آتے عاشر کی جانب دیکھا….

”مجنوں صاحب! آپ سوئے نہیں؟“

عاشر نے اس کے قریب آتے ہی اسے چھیڑا…. الحان مسکرانے لگا….

”خوشی کی رات کون پاگل سوتا ہے؟“

”خوشی کی رات؟“

عاشر سمجھا نہیں….

”کل میں اس جیل سے رہا ہو کر اپنی مانو سے ملنے والا ہوں….“

عاشر کھلکھلا کر ہنس دیا….

”آں…. پوائنٹ….“

عاشر اب الحان کے ساتھ ساتھ واک کرنے لگا تھا….

”تمہیں آج میں ایک بات بتاﺅں؟“

عاشر کے بولنے پر الحان سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”جب تم نے مجھے کال کی…. اور کہا…. کہ تم میرے اس شو کے Bachelor بننے کے خواہش مند ہو تو سچ پوچھو…. تومیں بہت بہت اَپ سیٹ ہو گیا تھا…. اونیسٹلی! میرا دل نہیں مان رہاتھا تمہارے ساتھ یہ شو کرنے کو…. کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ تم ابھی تک وہی پہلے والے الحان ابراہیم ہو…. جس کی زندگی میں پیار کی…. سچے پیار کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے….“

اس نے سچے پیار پر زور دیتے ہوئے کہا…. الحان خاموشی سے اسے سن رہا تھا….

”لیکن تمہی مجھے بیسٹ آپشن بھی لگے…. کیونکہ تمہارے Island اور اس Ranch پر کی جانے والی ریکارڈنگ آن ایئر جاتے ہی میرے شو کی دھوم مچادینے والی تھی…. اونیسٹلی یار! میں نے بالکل ایسا ہی سوچا تھا…. لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا…. کہ میری ڈائریکشن سے زیادہ…. تم بذات خود میرے شو کو آسمان کی بلندیوں تک لے جاﺅ گے…. آج پوری دنیا میرے اس شو کے گن گاتی سنائی اور دکھائی دیتی ہے…. صرف تمہاری وجہ سے…. اور ہاں…. ایک اور بات…. تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا…. تم اب پہلے سے الحان ابراہیم نہیں رہے…. بہت میچور اور سمجھدار انسان بن گئے ہیں آپ جناب….میں تمہارے اس بہترین اور پوزیٹو بدلاﺅ پر تمہیں داد یقینی طور پر دینا چاہتا ہوں…. اور اس داد کے تم حقدار بھی ہو…. آئی ایم رئیلی پراﺅڈ آف یُو الحان ابراہیم صاحب!“

عاشر بے حد شاداں دکھائی دے رہا تھا…. الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرا دیا….

”اور میرے اس بدلاﺅ کی وجہ صرف ایک انسان ہے…. تمھینکس ٹو یُو عاشر! تم اگر یہ شو سٹارٹ نہیں کرتے…. تم اگر اسے زبردستی اس شو کا حصہ نہیں بناتے…. تو شاید میں کبھی اس سے مل ہی نہیں پاتا…. شاید ہم آج بھی اجنبی ہوتے…. یُو آر آ لائف سیور مین! پوری زندگی تمہارا مشکور رہوں گا…. سیریسلی!“

الحان ممنون نگاہوں سے اسے دیکھتا اس کا شکریہ ادا کرنے لگا…. عاشر مسکراتے ہوئے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتا، اس کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا چوب محل میں داخل ہو گیا….

ض……..ض……..ض

دن کا آغاز ہوچکا تھا…. سورج کی شرارتی کرنیں دبے قدموں کمرے کی کھڑکی سے چھلانگ لگاتیں مانہ کے بستر پر چلی آئی تھیں…. وہ اب اسے چھیڑنے لگی تھیں…. مانہ کسمساتی ہوئی اٹھ بیٹھی…. نیند سے بوجھل آنکھیں وا کیے وہ موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھنے لگی…. پھر نڈھال قدموں سے اٹھتی وہ واش روم میں چلی آئی…. منہ دھونے اور برش کرنے کے بعد وہ واپس اپنے بیڈ کے قریب چلی آئی…. چشمہ اٹھا کر ناک پر ٹکاتی، وہ سوں سوں کرتی کچن میں چلی آئی…. بریک فاسٹ کی تیار ی کے دوران وہ نیوز پیپر پر نگاہ دوڑاتی آئی برو اُچکانے لگی…. ناشتہ سے فری ہوتی وہ ایک بارپھر سے اپنا پین سنبھالتی اپنے ناول کی دنیا میں کھو سی گئی…. کئی گھنٹے گزر گئے…. وہ لکھتی چلی گئی…. جب لکھ لکھ کر تھک چکی تو جماہی اور انگرائی لیتی اٹھی اور کچن میں چلی آئی…. لنچ کے لیے ایک سینڈوچ بناتی وہ اپنا لیپ ٹاپ سنبھالتی، بیڈ پرآلتی پالتی مار بیٹھی…. سینڈوچ کھاتے کھاتے اس نے نیٹ سرچنگ جاری رکھی…. تقریباً ایک گھنٹہ ایکسپلور کرتی رہی…. پھر اٹھی اور لانڈری کرنے لگی…. سورج غروب ہونے کو تھا…. سب کام کرنے کے بعد وہ شاور لیتی، تھکی ہاری، ڈنر بنانے کی غرض سے کچن میں چلی آئی…. آسمان پر کالی چادر بچھ چکی تھی…. دن اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا…. وہ ڈنر بنانے میں مصروف تھی کہ موبائل پر ہوتی بیپ نے اس کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی…. وہ جلدی سے ہاتھ صاف کرتی موبائل کان سے لگائے کال ریسیو کر بیٹھی….

”ہیلو!“

”ہیلو مانہ! جلدی سے اپنا ٹی وی آن کرو….“

صاحبہ کی تیز اور پھرتیلی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی….

”کیوں؟“

مانہ نے حیرانگی کا اظہار کیا….

”ارے آن کرو ناں…. شو کی آخری ایپی سوڈ لائیوآن ایئر جانے والی ہے…. بس ایک منٹ باقی رہ گیا ہے….“

صاحبہ بے ساختہ بولی….

”یار مجھے نہیں دیکھنا یہ شو….“

وہ انکار کرنے لگی….

”مانہ! الحان چاہتا ہے کہ تم آج کی ایپی سوڈ لازمی دیکھو…. اس نے سپیشلی مجھ سے فون پر بات کی، تمہیں میسج دینے کے لیے…. جلدی سے ٹی وی آن کرو….اور ہاں….فون بند نہیں کرنا….میں فون پر ہی ہوں….“

”اوکے!“

مانہ کچھ سوچتی، جلدی سی چلتی، ٹی وی لاﺅنج تک پہنچی، ریموٹ اٹھاتے ہی اس نے ٹی وی آن کیا…. چینل سرچنگ کرتی آخرکار وہ چینل سکرین پر وارد ہوا،جس چینل پر وہ شو آن ایئر جانے والا تھا….

”آخر ایسا کیا خاص ہونے والا ہے آج کے ایپی سوڈ میں؟“

”معلوم نہیں…. الحان چاہتا ہے کہ تم آج کا شو ضرور دیکھو…. اگر الحان ایسا چاہ رہا ہے…. تو لازمی کوئی خاص اور بڑی بات ہے…. بس تم فون بند نہیں کرنا…. ہم دونوں یہ شو ساتھ میں دیکھنے والی ہیں…. اوہ یس! شو از آن!“

صاحبہ ایک دم سے چلّا اٹھی…. مانہ کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی…. شو کا لوگو سکرین پر تھا…. مانہ دل کی دھڑکنوں کوپر قابو پاتی وہیں کاﺅچ پر بیٹھ گئی….

سوٹڈ، بوٹڈ الحان ابراہیم اپنی کہربا شخصیت سمیت ٹی وی کی سکرین پر موجود تھا…. مانہ اسے دیکھتے ہی ایک لمبی گہری سانس خارج کرنے لگی…. نجانے وہ اتنا گھبرا کیوں رہی تھی…. خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی وہ سکرین پر نظر جما بیٹھی…. الحان ٹرالی کے سامنے موجود تھا…. ٹرالی پر ایک گلاب اور ایک خوبصورت سی رنگ کی ڈبیا جگمگاتی دکھائی دے رہی تھی…. مسکان اور آشلے خوبصورت میکسی میں ملبوس، خوبصورت ہیئرسٹائل بنائے، نیچرل میک اَپ کیے، چہروں پر معصومیت اور خوف کے سائے سجائے نظریں جھکائے کھڑی تھیں…. ان دونوں کو خوف کےساتھ ساتھ اپنے چن لیے جانے اور الحان کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شامل ہو جانے کا یقین بھی تھا…. مختلف کیفیات و تاثرات ان دونوں کے چہروں پر واضح طور پر عیاں تھے…. الحان چہرے پر گہری سنجیدگی سجائے، اپنا گلا کھنگارتے ہوئے دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”کچھ بھی کہنے سے پہلے میں آپ دونوں سے اور اپنے تمام دیکھنے والوں سے اپنی زندگی کا ایک سچ شیئر کرنا چاہتا ہوں….“

وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا….

ابراہیم صاحب اور مسز ابراہیم اپنے محل کے لاﺅنج میں موجود ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھے اپنے بیٹے کو لائیو دیکھ رہے تھے…. مسزابراہیم خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھیں…. ابراہیم صاحب ماتھے پر شکن ڈالے بیٹھے تھے…. وہ یقینی طور پر الحان سے ناراض تھے…. ہمیشہ کی طرح….

الحان نے ایک بار پھر سے اپنا گلا کھنگارا….

”میں نے یہ شو اپنے بیسٹ فرینڈ کے ساتھ لگائی گئی ایک شرط پر جوائن کیا تھا….“

وہ رُک رُک کر گہری سنجیدگی چہرے پر سجائے گویا تھا …. آشلے اور مسکان اس کے آخری جملے پر یکایک چونک اٹھی تھیں…. وہ اک دوجے کی جانب دیکھتیں اب سوالیہ نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگیں…. ابراہیم صاحب اور مسز ابراہیم بھی حیران دکھائی دینے لگے…. کبیر الگ اپنے گھر پر ٹی وی سکرین کے سامنے موجود تھا…. پریشانی کی حالت میں وہ اپنا سر تھام بیٹھاتھا….

”کیا کر رہا ہے الحان!“

وہ اپنے لب بھینچنے لگا…. مانہ بھی لب کاٹتی حیرانی سے سکرین کی جانب دیکھنے لگی…. الحان بول رہا تھا….

”چند مہینے پہلے تک…. یہ شو سٹارٹ ہونے سے پہلے تک…. مجھے پیار لفظ پر بھروسہ نہیں تھا…. پیار میرے لیے ایک بیکار، فالتو اور ٹائم پاس جیسی چیز تھی…. میں نے یہ شو صرف اس لیے جوائن کیا تھا…. کیونکہ میں اپنے دوست کو ثابت کرکے دکھانا چاہتا تھا…. کہ پیار جیسی بیکار سی چیزمیری زندگی میں کبھی اینٹری نہیں دے سکتی…. میں نے اس سے شرط لگائی تھی کہ میں اس شو میں آ کر 25 لیڈیز کو ان کی خوبصورتی کے باوجود، ان کی سنیسرٹی کے باوجود دھتکار دوں گا…. کیونکہ مجھے کسی سے پیار نہیں ہو سکتا…. اور میرا مجھ پر اٹل یقین تھا…. مجھے خود پر بے حد یقین تھا…. اور مجھے یقین تھا کہ میں اپنے دوست کے ساتھ لگائی جانے والی یہ شرط یقینی طور پر جیت جاﺅں گا…. لیکن میں نہیں جانتا تھا…. بالکل نہیں جانتا تھا کہ پیار اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مجھے اتنی گہری مات دے دے گا…. مجھے اتنی گہری شکست سے نوازے گا…. میں نے پیار کو للکارا تھا…. اور آج اسی پیار نے مجھے اپنا دیوانہ بنا کر رکھ دیا ہے…. میں غلط تھا…. بہت غلط…. پیار، بیکار، بکواس چیز ہرگز نہیں…. پیار بہت پیاری چیز ہے…. اگر دل سے محسوس کی جائے تو…. پیار میں وہ طاقت ہے کہ پل بھر میں پتھر کو موم کر دے…. ایک پل میں تمام کی تمام دنیا، تمام کی تمام زندگی بدل کر رہ جاتی ہے….“

مسکان اور آشلے جھینپ سی گئیں…. انہیں لگا…. کہ شاید ان دونوں میں سے کوئی ایک الحان کے بدلنے کی وجہ ہے….

”مجھے اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں نے اپنی اب تک کی زندگی پیار کے بغیر، بیکار میں برباد کر ڈالی…. مجھے لگتا ہے کہ جیسے میری اصلی زندگی کی شروعات پیار سے آشنا ہونے کے بعد سے ہوئی ہے….“

مسزابراہیم پیار بھری نگاہوں سے سکرین کے اس پار کھڑے الحان کی جانب دیکھنے لگیں…. ابراہیم صاحب حیرانی سے سکرین پر متوجہ تھے…. کبیر سکون کا سانس لے بیٹھا…. مانہ کے دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئیں….

”لیکن…. پیار میں امتحان لازمی سی بات ہے…. پیار اپنا امتحان لیے بغیر اتنی آسانی سے حاصل ہو جائے…. یہ ناممکن سی بات ہے…. میں نے امتحان دیا ہے…. میں اس سے کہتا رہا…. اسے یقین دلاتارہا کہ مجھے اس سے پیار ہے…. لیکن اس نے مجھ پر یقین نہیں کیا…. مجھ جیسے انسان پریقین کر لینا یقینا ایک مشکل عمل ہے …. میں دل سے اقرار کرتا ہوں….“

مسکان اور آشلے تیوری چڑھائے اس کی جانب دیکھنے لگیں….

”میں نے اسے جانے دیا…. کیونکہ وہ جانا چاہتی تھی…. میں نے اس کے ساتھ ایک ڈیل کی تھی کہ اگر ٹاپ فور تک اسے مجھ سے محبت نہ ہوئی…. اور اگر ٹاپ فور تک اس نے اپنی محبت کا اظہار نہ کیا…. تو میں اسے ٹاپ فور کے بعد ایلیمنیٹ کر دوں گا…. اس نے مجھ سے اظہار محبت نہیں کیا…. لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے…. دل و جان سے کرتی ہے…. وہ منہ سے کچھ کہے نہ کہے، اس کی آنکھیں مجھے سب کہہ دیتی ہیں…. اس کی آنکھیں مجھ سے باتیں کرتی ہیں…. میں نے اس کا یقین جیتنے کے لیے اپنا وعدہ پورا کیا…. میں جانتا ہوں اسے مجھ پر یقین ہے…. لیکن محبت میں آزمائش ضروری ہے…. جدائی ضروری ہے…. یہ دو ہفتے میں نے اس کے بغیر کس طرح بن پانی مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے گزارے ہیں…. یہ صرف میںجانتا ہوں…. یا میرا اللہ جانتا ہے….“

آشلے غصہ میں پھنکارتی نظر آئی….

”یس!…. وہ لڑکی جس نے میری اَنا کو مات دے دی…. مجھے سچی محبت سے آشنا کرنے والی، مجھے نئی زندگی دینے والی…. کوئی اور نہیں…. میری مانو ہے…. یس! "I’m in love with her!

الحان نے ٹی وی سکرین پر دیکھتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کیا…. مانہ آنسو بہانے لگی تھی…. درد کی کیفیت سے وہ آنکھیں میچ بیٹھی تھی…. پھر وہ روتے روتے مسکرادی تھی…. وہ اس وقت خود کو جنت کے ایک ٹکڑے میں محسوس کرنے لگی تھی…. کتنا سکون تھا اس کے دل میں…. وہ ممنون نگاہوں سے سکرین پر موجود الحان کی جانب دیکھنے لگی…. کبیر بھی نم بھری نگاہوں سے مسکراتا خوشی کا اظہار کرنے لگا تھا….

”یس میرا شیر!“

وہ دونوں ہاتھ زور سے آپس میں مارتا سکرین کی جانب دیکھنے لگا….

مسزابراہیم بھی آنسو بہاتیں مامتا بھری نگاہوں سے سکرین کی جانب متوجہ تھیں…. ابراہیم صاحب سکون کی لمبی سانس کھینچتے پُرسکون مسکراہٹ لبوں پر سجائے فخر سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھ رہے تھے….

آشلے غصہ میں پھنکارتی لال ٹماٹر ہو کھڑی تھی جبکہ مسکان خاصی نادم دکھائی دے رہی تھی….

”میری مانو کو ایلیمنیٹ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی…. کہ یہاں پر موجود لیڈیز اسے ناپسند کرتی تھیں…. اور ان لوگوں کی یہ ناپسندیدگی…. اور منافقت مجھ سے ہرگز برداشت نہیں ہوتی تھی….“

الحان، آشلے اور مسکان کی جانب دیکھنے لگا….

”مسکان!“

مسکان اس کی جانب متوجہ ہوئی….

”تم خوبصورت ہو…. سمجھدار ہو…. کیئرنگ بھی ہو….“

مسکان مسکرانے لگی…. الحان خاصا سنجیدہ تھا….

”کیئرنگ صرف اپنے لیے…. مجھے اچھا لگتا تھا…. جب میں دیکھتا تھا …. کہ یہاں پر کوئی ایسا موجود ہے…. جو مانو کے ساتھ سنسیئر ہے…. اس کے بہت کلوز ہے…. میں تمہاری بہت عزت کرتا تھا….لیکن!….“

مسکان شرمندگی سے سر جھکا کھڑی ہوئی….

”تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا…. تمہاری سچائی جاننے کے باوجود مانو نے تمہارے خلاف ایک لفظ نہیں کہا…. تمہاری تمام سچائی جاننے کے باوجود اس نے تم سے شکایت نہیں کی…. اس نے تمہیں بھنک تک نہیں پڑنے دی کہ تمہاری منافقت سے اچھے سے واقف ہے….“

مسکان نادم کھڑی آنسو بہانے لگی….

”میں تم سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جنہیں تم اپنا دوست بولتی ہو…. ان سے پیار کرنا بھی سیکھو…. اُتنا پیا رکہ جتنا کہ تم اپنے آپ سے کرتی ہو…. آئی وش کہ تمہیں اپنی غلطی کا اندازہ ہو اور تم اپنی اس غلطی کو سدھارو…. اینڈ آئی آلسو وش کہ تمہیں زندگی میں بہترین جیون ساتھی ملے…. آئی وش یُو آل دی ویری بیسٹ!“

الحان نے اپنی نگاہیں، غصہ میں پھنکارتی آشلے پر ٹکا دیں…. وہ اب آشلے سے مخاطب تھا….

”آشلے! آئی لائیک یُو…. آئی رئیلی ڈو! …. تم یقینا بہت خوبصورت ہو…. سمجھدار بھی ہو…. ابھی جو نصیحت میں نے مسکان کو دی…. وہ میں تمہیں بھی دینا چاہوں گا….“

الحان انگلش میں مخاطب تھا…. آشلے اس کی جانب دیکھتی مصنوعی مسکراہٹ مسکرانے لگی….

”تم دوسروں کے لیے اپنی اظہار رائے چھپاتی نہیں…. بلکہ منہ پر کہہ دیتی ہو….مجھے تمہاری یہ عادت پسند ہے…. تم منافق نہیں ہو…. بس تھوڑی سی کڑواہٹ ہے تم میں…. تم صرف اپنی تعریف سننا پسند کرتی ہو…. اور صرف اپنے بارے میں بات کرنا پسند کرتی ہو…. یہ اچھی بات نہیں ہے…. اور جس پیار کی تلاش میں تم یہاں تک آئی ہو…. اگر غور سے اپنے اردگرد دیکھ سکو تو تمہیں وہ پیار اپنے آس پاس ہی دکھائی دے گا…. کوئی اگر تم سے اظہار محبت کرتا ہے تو اس کی رسپیکٹ کرنا سیکھو…. سچی محبت بار بار ہمارے در پر دستک نہیں دیتی…. کوئی تم سے سچی محبت کا دعویٰ کرے تو قبول کرنا سیکھو…. اسے جانے مت دو…. کبھی کبھی بہت دیر ہو جاتی ہے اور انسان کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ باقی نہیں رہتا….‘

آشلے نادم انداز میں سر جھکا کھڑی ہوئی….

”میں یہ سب اس لیے نہیں کہہ رہا کہ تم نے مانو کے ساتھ بُرا برتاﺅ رکھا…. یہاں کوئی پرفیکٹ نہیں ہے…. نہ تم…. نہ میں…. نہ مانو…. کوئی بھی ہیں…. ہم سب میں کچھ نہ کچھ خامیاں ہوتی ہیں…. مانو میں یہ خامی تھی کہ وہ تم لوگوں کا بُرا برتاﺅ خاموشی سے برداشت کرتی رہی…. ہم سب اگر اپنی خامیاں سدھار لیں تو یقینا اپنی باقی کی زندگی پُرسکون ماحول میں گزار سکتے ہیں…. آئی ہوپ یُو انڈرسٹینڈ…. اینڈ آئی وش یُو آل دی ویری بیسٹ!“

الحان اب ان دونوں اور اردگرد لگے کیمروں کی جانب دیکھتا خوشگوار انداز میں مخاطب ہوا….

”میں نے یہ شو بہت انجوائے کیا…. اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہاں کسی کو ہرٹ نہیں کیا…. بہت سی یادیں ، بہت سے خوشگوار لمحات لیے جا رہا ہوں…. اور مجھے خوشی ہے کہ اس شو نے مجھے بدل دیا…. اس شو نے مجھے میری زندگی سے ملا دیا…. یہ آخری گلاب اور یہ انگوٹھی….“

الحان نے سامنے رکھی ٹرالی پر سے گلاب اور ڈبیا اٹھائی….

”میںیقینا ایک لیڈی کے قدموں میں رکھنے والا ہوں…. اگر وہ اس ناچیز کو قبول کر لے تو….“

الحان اب کیمرے میں دیکھتے ہوئے مخاطب ہوا…. اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ رقص کرتی دکھائی دی….

”مانو! اگر تم یہ شو دیکھ رہی ہو…. تو تم سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں…. کہ میں یہ پھول اور گلاب لیے تمہارے پاس آ رہا ہوں…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…. "Wait for me!

وہ ایک ادا سے مسکراتا ہوا چوب محل سے باہر نکل گیا…. سکرین پر شو کا لوگو بلنک کرنے لگا تھا…. مانہ آنکھوں میں نمی بھرے سکرین کی جانب دیکھتی رہی….

”کانگریٹس مانہ! الحان آ رہا ہے تمہارے پاس…. جلدی سے تیار ہو جاﺅ لڑکی….اور اچھے سے اس کا استقبال کرنا….“

صاحبہ کی خوشی میں لپٹی آواز مانہ کی سماعت سے ٹکرائی…. مانہ یکایک چونک اٹھی…. صاحبہ ابھی تک فون پر موجود تھی….

”تمہیں کیا لگتا ہے…. الحان ابھی آئیں گے یہاں؟“

وہ بے یقینی کے عالم میں پوچھنے لگی….

”افکورس! وہ ابھی آئے گا تمہارے پاس…. تم نے اس کا دیوانہ پن نہیں دیکھا…. ماشاءاللہ سے بہت لکی ہو مانہ تم…. میری دعا ہے کہ تم دونوں ہمیشہ شاد و آباد رہو…. تم دونوں کو کبھی کسی کی نظر نہ لگے…. (آمین!)“

مانہ خاموش بیٹھی رہی…. اسے شاید اپنی قسمت پر یقین نہ آ رہا تھا….

”چلو میں فون رکھتی ہوں….آپ اپنے الحان صاحب کے استقبال کی تیاریاں کریں میڈم! ٹیک کیئر اللہ حافظ!“

فون ڈسکنیکٹ ہو گیا…. مانہ موبائل سائیڈ پر رکھتی مچلتے دل کے ساتھ بے سکون ہو بیٹھی تھی….

ض……..ض……..ض

مانہ بے چینی سے دروازے کی جانب دیکھتی بن پانی مچھلی کی طرح ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھی…. رات کافی گہری ہو گئی تھی…. وہ ابھی تک نہیں آیا تھا…. شاید ابھی سفر میں تھا…. نیچے پارکنگ ایریا میں لوگوں کا ہجوم تھا…. سبھی بے چینی سے الحان کی راہ تکتے دکھائی دئیے تھے…. سکیورٹی بھی الرٹ کر دی گئی تھی…. الحان کی مانہ کے اپارٹمنٹ آ کر اس کو پروپوز کرنے کی اطلاع نے ہر طرف دھوم مچا دی تھی…. سبھی الحان کے گُن گاتے دکھائی دے رہے تھے…. مزید ایک گھنٹہ انتظار کے بعد ایک کالی مرسڈیز اٹھلاتی بل کھاتی، گھمنڈ سے چلتی بلڈنگ میں داخل ہوئی…. گاڑی دیکھتے ہی ایک شور برپا ہو گیا…. ایک کیمرہ مین الحان کے ساتھ تھا…. وہ اسے لانے پر رضامند نہ تھا…. لیکن عاشر کی پُرزور فرمائش کے آگے الحان کو ہتھیار گرانے پڑے…. الحان کیمرہ مین سمیت، سکیورٹی کی مدد کے ذریعہ بلڈنگ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا…. مانہ بے چینی سے لب بھینچتی…. لمبے لمبے سانس کھینچتی، خود کو نارمل کرنے کی غرض سے صوفہ پر جا بیٹھی تھی…. اسی پل گھر کی اطلاعی بیل گونج اٹھی…. مانہ اس طرح سے اُچھل کر کھڑی ہوئی جیسے صوفے نے الیکٹرک شاک دینا شروع کر دیا تھا…. وہ خشک ہوتے حلق سمیت دروازے کی جانب دیکھنے لگی…. وہ ہانپنے لگی…. خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی وہ کانپتے ہاتھ آگے بڑھاتی،دروازے کا لاک کھولنے لگی…. اگلے ہی پل دروازہ کھل گیا…. الحان اس کے سامنے کھڑا تھا…. مانہ کو دیکھتے ہی الحان کی آنکھیں چمکنے لگیں…. مانہ کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی…. وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی…. الحان اندر داخل ہوا…. کیمرہ مین پیچھے پیچھے تھا…. وہ اپنی لائیو ریکارڈنگ میں مصروف تھا…. الحان ایک ٹانگ پر بیٹھتا،گلاب آگے بڑھائے اس کے سامنے جھک بیٹھا…. مانہ لبوں پر ہاتھ رکھے، نم بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”ایک پتھر کو موم کرنے والی…. ایک بھٹکے ہوئے کو راہ راست پر لانے والی…. ایک کھلنڈر انسان کو محبت سے آشنا کرنے والی، اے جان عزیز! کیا تم اس ناچیز کی محبت کا چھوٹا سا نذرانہ قبول کرتے ہوئے…. اپنی تمام زندگی میرے نام کر کے مجھے شرف یابی سے نواز سکتی ہو؟“

وہ ایک لمحے کو رُکا…. پھر بولا….

"Will You Marry Me???”

اس کی آنکھوں میں چمک تھی…. مانہ کے آنسو فل بند توڑ کر بہہ نکلے…. وہ سوں سوں کرتی، روتی نگاہوں اور مسکراتے لبوں سمیت الحان کی جانب دیکھتی، اس کے ہاتھوں سے پھول تھامتی، ہاتھ بڑھا کر اسے سہارا دئیے اپنے قدموںپر کھڑا کرنے لگی…. الحان نے کھڑے ہوتے ہی اس کی پیشانی پر بوسہ دے ڈالا…. کیمرہ مین نے خوشی کا نعرہ لگاتے ہی سیٹی بجائی…. اسی پل…. ابراہیم صاحب اور مسزابراہیم اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے…. مسزابراہیم مامتا بھری نگاہوں سے الحان اور مانہ کو دیکھتی، ان دونوں سے جا لپٹی تھیں…. الحان، دروازے میں کھڑے ابراہیم صاحب کی جانب دیکھنے لگا…. ابراہیم صاحب کی آنکھوں میں فخر تھا…. نمی تھی…. الحان تیز تیز قدم اٹھاتا، ابراہیم صاحب سے جا لپٹا…. ابراہیم صاحب فخر سے اسے تھپکی دیتے مانہ کے پاس چلے آئے…. انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی آمادگی کا اظہار کیا…. الحان خوشی سے اُچھل پڑا…. اس نے جلدی سے اپنی جیب ٹٹولی…. اپنی جیب سے ڈبیا نکالتا…. وہ مسکراتا ہوا، آنسو بہاتی مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. ڈبیا کھلتے ہی ڈائمنڈ کی خوبصورت سی رنگ اپنا سر باہر نکالے ایک ادا سے ٹمٹماتی، گھمنڈ کا اظہار کرنے لگی…. الحان نے جلدی سے رنگ باہر نکالی…. اور مانہ کا بایاں ہا تھ تھامتے ہی، تیسری انگلی میں انگوٹھی پہنا دی…. کیمرہ مین نے ایک بار پھر سے ہوٹنگ کی…. ابراہیم صاحب اپنی مکمل فیملی کے گرد اپنی بانہیں پھیلائے، فخر سے مسکرانے لگے….الحان نے مانہ کا ہاتھ فل مضبوطی سے تھام رکھا تھا…. مانہ اس پل، خود کو دنیا جہان کی خوبصورت اور مکمل لڑکی تصور کرنے لگی تھی….

اور میرا یقین جیت گیا….

اوراس کی ضد ہار گئی!

الحان بڑے فخر سے مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. اور مانہ اپنی نم بھری نگاہوں میں بے شمار خوبصورت خواب سموئے اپنی کل کائنات کی جانب دیکھے چلی گئی….

چلو ہم تمہارے لیے جیتے ہیں

بدلے میں تمہاری وفا چاہیے!

ض……..ض……..ض

اگلے ایک ہفتے میں، مانہ کی فرمائش پر نکاح بڑی سادگی سے کیا گیا…. الحان اور اس کے پیرنٹس، مانہ کی خوشی میں خوش تھے…. خوشیاں مانہ کی جھولی میں آن گری تھیں…. الحان نے صرف وعدے نہیں کیے تھے…. وہ اپنے کیے تمام وعدے پورے کرتا چلا گیا…. مانہ اسے دیکھ دیکھ کر اپنے رب کے حضور شکر کرتی نہ تھکتی…. خوشیاں اس پر مہربان تھیں…. ایک لمبی مسافت کے بعد اسے جینے کا حق مل گیا تھا….

شادی کے تین مہینوں بعد اس نے اپنا ناول (ان لمحوں کے دامن میں) پبلش کر دیا…. الحان نے اس کے ناول پبلش ہونے کی خوشی میں ایک گرینڈ پارٹی دی تھی…. چینل کے لوگوں کے ساتھ ساتھ، کافی نامور اور بڑی بڑی ہستیاں اس پارٹی پر مدعو تھیں…. سبھی مانہ کے ناول کے گُن گاتے نظر آئے…. یہ ناول اس شو سے متعلق تھا…. مانہ نے اپنی اور الحان کی کہانی لکھ ڈالی تھی…. سبھی اس ناول کو پڑھنے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے تھے…. مانہ اپنی کامیابی پر، آسمان پر نگاہ دوڑاتی اللہ کے حضور شکر ادا کرتی چلی گئی….

اور اللہ کہتا ہے…. کہ اے بندے! خبردار میری رحمت سے مایوس ہرگز نہ ہونا….

ض……..ض……..ض

پارٹی سے واپسی پر وہ الحان کے محل میں موجود، اپنے اور الحان کے کمرے میں رکھی خوبصورت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی، اپنی نازک نفیس، ڈائمنڈ کی جیولری اُتار رہی تھی…. الحان ابھی ابھی کپڑے چینج کیے، نائٹ ڈریس میں ملبوس، واش روم سے باہر نکلا تھا…. مانہ جیولری اُتارنے میں مصروف تھی…. الحان دبے قدموں چلتا اس کے پیچھے آ کھڑاہوا…. اپنی دونوں بانہیں اس کے گرد لپیٹتا وہ اسے اپنی بانہوں کی قید میں لے کھڑا ہوا…. مانہ ایک دم چونک اٹھی…. پھر دھیمے سے مسکرا دی…. اس کی آنکھوں میں نجانے کتنے طلسم آباد ہو گئے…. الحان کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی….

”آئی لَو یُو سو مچ! "I Love You So Much

الحان نے اس کے کان میں سرگوشی کی…. مانہ کی گلابی رنگت میں مزید گلابیاں اُترتی چلی گئیں…. الحان اب مسحورکن انداز میں اس کے کھلے بالوں کی خوشبو، لمبا سانس کھینچ کر اپنے اندر اُتارنے لگا تھا….

”آئی لَو یُو ٹو "I Love You Too!–

مانہ نے جواباً آنکھیں موندتے ہی سرگوشی کی….

”کتنا سکون ملتا ہے…. جب تمہارے لبوں سے یہ چار لفظ سنتا ہوں….“

وہ سرگوشی کرتا اسے مزید مضبوطی سے پکڑ کھڑا ہوا…. لحظہ بہ لحظہ الحان کے جسم کا بوجھ مانہ کے جسم پر زیادہ ہو رہا تھا…. اس کے جسم کی حدت کا احساس اس کے ذہن پر مبہم ہو رہا تھا…. الحان نے اپنی ٹھوڑی کو اس کے سر سے لگا دیا…. پھر اگلے ہی پل الحان نے اپنے لب مانہ کی گردن پر پیوست کر دئیے…. مانہ، الحان سمیت آسمانی گھوڑوں پر سوار، خوشیوں بھری جنت کے خوبصورت پھولوں بھرے باغ میں گم ہوتی چلی گئی….

کوئی مجھے بتا دے، ایک لمحے کو بڑا کیسے کرتے ہیں

کہ مجھے اس ایک لمحے میں، ساری زندگی گزارنی ہے!

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے