سر ورق / ناول / دلربا ۔۔۔۔ نفیسہ سعید۔۔۔ قسط نمبر 4

دلربا ۔۔۔۔ نفیسہ سعید۔۔۔ قسط نمبر 4

دلربا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 4

باقر درانی شدید پچھتاوے کا شکار تھا۔ وہ اپنے حلقہ سے صوبائی اسمبلی کا ایکشن لڑ رہا تھا جبکہ اس کی بیٹی کی شادی بھی طے ہو چکی تھی ایسی حالت میں اس طرح کا سنگین سکینڈل نہ صرف اس کے سیاسی بلکہ خاندانی کیریئر کی دھجیاں بکھیر دیتا۔ اس سکینڈل کو بننے سے پہلے ختم کر دینا ضروری تھا اور یہ صرف اس وقت ہی ممکن ہو سکتا تھا جب دل ربا اسے معاف کر دیتی۔ وہ جانتا تھا کہ دل ربا کا پولیس بیان اس کی ساری زندگی کی محنت پر پانی پھیر سکتا تھا اس کا نام اخبار کی زینت بن جاتا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی کھوئی ہوئی عزت کو بحال نہیں کر سکتی تھی وہ میڈیا کی طاقت سے خوفزدہ تھا اس نے پہلی ہی فرصت میں میڈم روبی کے ذریعے دل ربا کو بھاری معاوضے کے عوض اپنی زبان بندی کا پیغام بھیجا جبکہ دل ربا کا پہلے ہی کوئی ایسا ارادہ نہ تھا اس کے پیچھے کوئی ایسی طاقت نہ تھی جس کی بنا پر وہ درانی سے الجھنے کی کوشش کرتی ایسے میں درانی کی آفر قبول کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارا نہ تھا لہٰذا دل ربا کی زبان بندی کا بھاری معاوضہ اس کے اکاﺅنٹ میں منتقل کردیاگیا۔

پولیس کو دیئے جانے والے بیان کے مطابق یہ ڈکیتی کا واقعہ تھا جس کے دوران مزاحمت پر ڈاکوﺅں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا، باقر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دل ربا کے ساتھ، ساتھ پولیس کی زبان بھی بند کر چکا تھا اب اسے کوئی خطرہ نہ تھا صرف رسمی کارروائی تھی جو پوری کی جا رہی تھی دل ربا کا پیٹ کا زخم کافی گہرا تھا جس کی بنا پر وہ ابھی تک ہسپتال میں ایڈمٹ تھی نور محمد نہایت راز داری سے طلاق کے پیر زاور حق مہر کی رقم اسے دے گیا تھا جس کے ساتھ ہی اس کے اور درانی کی درمیان موجود رشتہ دھاگے کی مانند ٹوٹ گیا۔

ابھی ابھی نرس اس کے پیٹ کی ڈریسنگ کرکے گئی تھی جس کی بنا پر وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھی وکی گھر گیاہوا تھا میڈم روبی بھی آج صبح ہی اس سے مل کر گئی تھی اور ظاہر ہے اب اسے ملنے کس نے آنا تھا نرس کا لایا ہوا سوپ قریبی میز پر دھرا تھا لیکن اس کا سوپ پینے کو بالکل بھی دل نہ چاہ رہا تھا ہسپتال کے سناٹے نے اس کے دل کو بوجھل سا کر دیا تھا وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی تھی جب اچانک ہی دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا۔

”وکی یہ سوپ پی لو میرا دل نہیں چاہ رہا۔“ یقینا یہ وقت وکی کے ہی آنے کا تھا اس لئے وہ بنا دیکھے چادر منہ تک لیتے ہوئے بولی۔

”ہائے میری بچی یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔“ یہ آواز تو شہ پارا مما کی تھی اس نے ایک دم ہی چادر کو ہٹایا کچھ پل تو وہ بالکل ہی ساکت رہ گئی۔ اپنے سامنے موجود شہ پارا، سمرن اور شاہ ویز کو دیکھ کر، کئی پل تو اسے یقین ہی نہ آیا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہی ہے حقیقت ہے اور پھر جو وہ شہ پارا کے گلے لگ کر بلک بلک کر روئی تو سنبھالی ہی نہ گئی ایک رات ہسپتال میں گزار کر سمرن اور شاہ ویز اسلام آباد پھوپھو فاریہ کے گھر چلے گئے جبکہ شہ پارا، دل ربا کے پاس ہی رہ گئی اس نے سمرن کو اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔

”جب تک یہ مکمل صحت یاب نہ ہو گی مجھے کراچی نہیں آنا۔“ دل ربا بھی اپنی تنہائی سے خوفزدہ تھی اس لئے اس نے بھی شہ پارا کو نہ جانے دیا دل ربا کا زخم آہستہ آہستہ بھر رہا تھا لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس زخم میں اتنی ٹیسیں اٹھتیں کہ وہ تکلیف کی شدت سے بے حال ہو جاتی فی الحال وہ رقص کے قابل نہ رہی تھی ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی اس نے پراپرٹی ڈیلر سے رابطہ کر لیا وہ چاہتی تھی کہ باقر کا دیا ہوا فلیٹ جلد از جلد بیچ کر اپنی رہائش کہیں اور اختیار کرلے فی الحال وہ لاہور چھوڑ کر نہ جا سکتی تھی کیونکہ اس کا کیس مقامی عدالت میں زیر تفتیش تھا۔

QQQQ

ابھی ابھی وہ ہسپتال سے آئی تھی آج اس کا چیک اپ تھا وکی کچھ سودا سلف لانے قریبی مارکیٹ تک گیا ہوا تھا وہ لاﺅنج میں رکھے ہوئے صوفے پر ہی نیم دراز ہو گئی شہ پارا کچن میں اس کیلئے سوپ تیار کر رہی تھی حالانکہ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے باعث وہ کافی عرصے سے کچن کا کام مکمل طور پر چھوڑ چکی تھی پھر بھی دل ربا کیلئے خود اپنے ہاتھوں سے کچھ تیار کرنا اسے آج بھی ہمیشہ کی طرح بہت اچھا لگتا تھا سوپ تقریباً تیار ہو چکا تھا اس سے قبل کہ وہ اسے باﺅل میں نکالتی یکدم داخلی دروازے کی گھنٹی کی تیز آواز سنائی دی یہ یقینا وکی نہ تھا کیونکہ اس کے پاس گھر کی چابی موجود تھی شاید دل ربا کا کوئی جاننے والا اس کی عیادت کو آیا ہو کیونکہ اکثر و پیشتر ہی اس کے سٹیج کا کوئی نہ کوئی ساتھی اسے دیکھنے آجاتا تھا اس نے باﺅل سلیب پر رکھا اور ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی دروازہ کھولنے کیلئے آگے بڑھی پیچھے سے دریہ کی آواز سنائی دی۔

”دروازے کی زنجیر ہٹائے بغیر دیکھئے باہر کون ہے؟“ اس نے دریہ کی ہدایت کے عین مطابق دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔

”جی فرمایئے۔“ باہر تقریباً پینتیس سالہ ایک اجنبی کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں موجود بکے اس کی بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ دل ربا سے ملنے آیا ہے اس کا قیمتی لباس اور پرفیوم کی مہک شہ پارا کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔

”دل ربا ہیں گھر پر۔“ آنے والے نے نہایت ہی نرم لہجے میں شہ پارا سے دریافت کیا یہ آواز اور یہ لہجہ تو دریاب آج بھی لاکھوں میں پہچان سکتی تھی۔

”مہر علی۔“ اس کے لبوں سے بے آواز ادا ہوا اور وہ تیزی سے اٹھ کر دروازے کی جانب لپکی دروازہ کھولتے ہی وہ مہر علی کے گلے لگ کر رونے لگی مہر علی یقینا اس کا ایک ایسا دوست تھا جس سے وہ کچھ بھی نہیں چھپا سکتی تھی۔ وہ ساری دنیا، میڈیا، پولیس سب سے جھوٹ بول سکتی تھی لیکن مہر علی کے سامنے اس نے سب کچھ اگل دیا خود پر ہونے والی زیادتی من و عن سنا ڈالی اس کی تکلیف کے احساس سے ہی مہر علی کا حساس دل دکھ اور غصے کی زیادتی سے بھر گیا لیکن وہ بھی باقر درانی کے خلاف کچھ نہ کر سکتا تھا۔

وہ دل ربا کی دل سے عزت کرتا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایک ایسی عورت ہے جس کو معاشرہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اس نے کبھی تنہائی میں بھی کوئی ایسی غیر اخلاقی حرکت نہ کی تھی جس سے دل ربا کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ مہر علی کے نزدیک وہ ایک باعزت عورت نہیں ہے دل ربا مہر علی کے گھریلو حالات سے بھی مکمل طور پر واقف تھی وہ جانتی تھی۔ اس کے خاندان میں کبھی بھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ وہ اکیلا کہاں رہتا ہے اور سارا دن کیا کرتا پھرتا ہے؟ غرض ایسا لگتا تھا کہ اس کے گھر میں کسی کو بھی اس سے دلچسپی نہ تھی یہ تو مہر ہی کی شرافت تھی کہ وہ آج تک کسی غلط سرگرمی میں ملوث نہ ہوا بلکہ وہ تمام برائیاں جو اس کے خاندان کے مردوں میں بدرجہ اتم موجود تھیں مہر علی ان سے بھی ہمیشہ دور رہا اسے شراب اور شباب سے بھی کبھی دلچسپی نہ رہی لیکن جانے کیوں دل ربا کو دیکھتے ہی اس کا دل ہمیشہ اس کے ساتھ کا خواہاں رہا اس کے باوجود ان دونوں کے تعلقات ایک صاف ستھری دوستی سے آگے نہ بڑھ سکے۔

دل ربا اپنا فلیٹ بیچ چکی تھی مہر علی کی کوششوں سے اسے قریبی علاقے میں ہی ایک اچھا فلیٹ کرائے پر مل گیا جہاں وہ شہ پارا کے ساتھ شفٹ ہو گئی جب کہ مہر علی پچھلے ایک ہفتے سے کراچی گیا ہوا تھا آج دل ربا کی عدالت میں پیشی تھی رسمی سی کارروائی نبٹا کر وہ اپنے وکیل کے ہمراہ باہر نکل رہی تھی۔ جب اس کی نگاہ مہر علی پر پڑی جو احاطے کے باہر گاڑی کا شیشہ نیچے کئے غالباً اسی کا منتظر تھا اسے خوشگوار سی حیرت نے گھیر لیا۔

”اچھا وکیل صاحب اب اجازت دیں۔“ تیزی سے کہتی ہوئی وہ گیٹ کے سامنے کھڑی گاڑی کے پاس آگئی۔

”تم کب آئے؟“ ایسا لگتا تھا کہ وہ ہفتہ نہیں بلکہ ایک سال بعد آیا ہو۔

”آج ہی، آﺅ بیٹھو۔“ وہ دروازہ کھولتے ہوئے بولا دل ربا خاموشی سے بیٹھ گئی۔

”کیا کھاﺅ گی؟“ اس نے ایک نگاہ دل ربا کے تھکے تھکے سے چہرے پر ڈالی جو مہر علی کو دیکھتے ہی کھل اٹھا تھا اس کی خوشی کا اندازہ مہر علی بھی لگا چکا تھا۔

”کڑاہی۔“ مختصر سا جواب دے کر اس نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا لی مہر علی نے اپنی گاڑی کا رخ ایک قریبی ریسٹورنٹ کی جانب موڑ لیا۔

”تمہارا کیا خیال ہے یہ کیس کتنے عرصے میں ختم ہو جائے گا۔“

”میرا خیال ہے ایک، دو پیشیاں اور ہوں گی۔“ وہ سامنے رکھی ہوئی سی ڈیز نکال کر دیکھتے ہوئے بولی مہر علی نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ خاموشی سے ڈرائیور کرتا رہا اور پھر دل ربا نے اس کے ساتھ ایک اچھا سا لنچ کیا۔

”مما کیلئے کیا پیک کراﺅں۔“ مہر علی کے منہ سے شہ پارا کےلئے کہا گیا لفظ مما دل ربا کو اندر تک نہال کر گیا اسے بہت اچھا لگا مہر علی کی اپنائیت نے اس کا دل خوش کر دیا۔

”جو تمہارا دل چاہے لے لو وہ سب کچھ خوش ہو کر کھالیتی ہیں۔“

”ٹھیک ہے تم گاڑی میں چل کر بیٹھو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔“ وہ گاڑی کی چابی دل ربا کو دیتا ہوا بولا اور پھر جلدی ہی شہ پارا کےلئے لنچ پیک کروا کر لے آیا جانے کیا بات تھی واپسی کا سارا سفر اس نے خاموشی سے طے کیا دل ربا کو لگا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن کہہ نہیں پا رہا وہ کچھ الجھا ہوا سا تھا جلد ہی دل ربا کا اپارٹمنٹ آگیا۔

”مما کو میرا اسلام دینا۔“ شاپر دل ربا کے ہاتھ میں دیتے ہوئے وہ بولا۔

”کیوں تم اندر نہیں آﺅ گے۔“ وہ حیران رہ گئی۔

”میں کسی کام سے جا رہا ہوں شام کو آﺅں گا۔“

دل ربا مزید کچھ کہنے بنا خاموشی سے نیچے اتر آئی۔

”اللہ حافظ۔“ کہتی ہوئی وہ آگے بڑھی۔

”دریہ۔“ اچانک ہی اسے اپنے عقب سے مہر علی کی آواز سنائی دی آج پہلی بار اس نے دل ربا کو اس نام سے پکارا تھا وہ شاکڈ رہ گئی اس کے قدم زمین میں گڑ گئے وہ ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی مہر علی گاڑی سے اتر آیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آگیا۔

”دریہ مجھ سے شادی کر لو۔“ وہ بول ہی پڑا مہر علی کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ نے دریہ کو گنگ کر دیا اسے ایسا محسوس ہوا جیسے تیز تپتی ہوئی دھوپ میں بارش ہو گئی ہو اس کا سارا جسم محبت کی پھوار میں بھیگ گیا۔

”خدا بڑا رحیم و کریم ہے۔“ آج اسے اللہ کی رحمت پر یقین آگیا اس کی آنکھیں تشکر کے آنسوﺅں سے لبریز ہو گئیں وہ کچھ بول ہی نہ سکی۔

”دریہ مجھ سے شادی کر لو یقین جانو میں بہت تنہا ہوں بالکل تمہاری طرح آﺅ ہم دونوں مل کر ایک دوسرے کی تنہائیاں بانٹ لیں۔“ وہ اسے کندھوں سے تھام کر بولا اور آج پہلا موقع تھا جب مہر علی نے اسے چھوا تھا وہ اس کے ہاتھوں کی حرارت سے پگھل گئی۔

”اور تمہاری بیوی۔“ وہ اس قدر ہی بول پائی تھی کہ مہر علی نے اس کی بات کاٹ دی۔

”وہ گاﺅں میں رہتی ہے تم میرے شہر والے گھر میں رہو گی میرے ساتھ، یقین جانو میں تمہیں پورا پورا وقت دوں گا تمہاری ہر ضرورت پوری کروں گا تمہیں مجھ سے کبھی کوئی شکایت نہ ہو گی لیکن میری صرف ایک شرط ہے تمہیں یہ سب کچھ چھوڑنا ہو گا۔“ انکار کی گنجائش نہ تھی اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسا جواز تھا کہ جس کی بنا پر وہ مہر علی جیسے بندے کا دل توڑتی۔

”میں تمہاری خاطر سب کچھ چھوڑ سکتی ہوں لیکن مجھے کبھی دھوکہ مت دینا ورنہ یقین جانو میرا اعتبار دنیا کے ہر رشتے سے اٹھ جائے گا میں تم پر بہت مان کرتی ہوں میرا مان نہ توڑنا مہر علی ورنہ میں مر جاﺅں گا۔“ وہ آہستہ سے بولی۔

”موت کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت مجھے تم سے جدا نہیں کر سکتی یہ ایک مرد کا قول ہے۔“ وہ نہایت پیار سے اس کے ہاتھ تھپتھپا کر بولا اور دل ربا کا سیروں خون بڑھ گیا۔

”میں شام میں آﺅں گا باقاعدہ طور پر مما سے تمہارا ہاتھ مانگنے۔“ وہ واپس پلٹتا ہوا بولا اور گیٹ سے اپارٹمنٹ تک کا فاصلہ دریہ نے ایسے طے کیا جیسے وہ ہوا پر چل رہی ہو اسی روز، رات آٹھ بجے مہر علی، شعازل اور فیض محمد کے ساتھ آگیا اپنے ساتھ وہ لوگ مٹھائی اور پھول بھی لے کر آئے تھے۔

”ہم دریہ کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔ مہر علی کےلئے۔“ یہ فیض محمد تھا اور شہ پارا کو ایسا محسوس ہوا جیسے دریہ کےلئے کی جانے والی اس کی دعاﺅں کو شرف قبولیت نصیب ہو گئی ہو جانے کیوں دریہ کے سلسلے میں ہمیشہ شہ پارا کو اپنا وجود گناہ گار لگتا کبھی کبھی اسے ایسا محسوس ہوتا کہ دریہ سے اس کی اتنی محبت محض دنیا دکھاوے سے زیادہ نہ تھی در پردہ اس کا اصل مقصد تو شاید انتقام لینا تھا جو وہ آغا صاحب کے خاندان سے لینا چاہتی تھی لاشعوری طور پر وہ آج تک وہ الفاظ نہ بولی تھی جو پہلی بار اس کی گل ہاﺅس آمد پر آغا جی نے کہے تھے دوسروں کی نفرت اور اپنے بارے میں کہنے جانے والے الفاظ تو شاید وہ فراموش کر ہی دیتی لیکن سرفراز صاحب کی بے اعتنائی اس کے دل کا ایسا ناسور تھی جس کی تسکین ہمیشہ دریہ کے حوالے سے ان سب کو پریشان دیکھ کر اسے حاصل ہوتی تھی لیکن اب وہ تھک چکی تھی اور چاہتی تھی کہ دریہ کو کوئی مضبوط سائبان مل جائے اور یقینا اس کی یہ خواہش مہر علی کی صورت میں پوری ہو سکتی تھی۔

QQQQ

نماز جمعہ کے بعد مقامی مسجد میں ان دونوں کے نکاح کی سادہ سی رسم ادا کی گئی جس میں فیض محمد، شعازل، شہ پارا، وکی کے علاوہ مسجد میں آنے والے چند نمازی شامل تھے جنہیں قاری صاحب نے نماز جمعہ کے بعد روک لیا تھا نکاح کے بعد مہر علی کی جانب سے مٹھائی اور چھوہارے تقسیم کئے گئے اور شاید یہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب دریہ کے ساتھ شہ پارا نے بھی اللہ کے حضور دو نفل شکرانے کے ادا کئے بے حد سادگی کے ساتھ کیا جانے والا یہ نکاح اس نکاح سے کہیں افضل ترین تھا جو آج سے کچھ سال قبل دریہ اور دانش کا ہوا تھا کیونکہ اس نکاح میں فریقین کا خلوص شامل تھا اور یہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے ظہور پذیر ہوا تھا اور شادی کیا ہوتی ہے؟ اس کی دلی خوشی دریہ نے آج حقیقی معنوں میں محسوس کی تھی اور اسے یقین آگیا تھا کہ اللہ کبھی بھی اپنے بندوں کو فراموش نہیں کر سکتا بے شک وہ کتنے ہی نافرمان کیوں نہ ہوں۔

اس نے اپنا فلیٹ خالی کر دیا تھا وکی جا چکا تھا آج شام کی فلائٹ سے وہ اور شہ پارا، مہر علی کے ساتھ کراچی آگئی تھیں جہاں ایئر پورٹ پر مہر علی کا ڈرائیور اور گاڑی موجود تھی، بے بی پنک شلوار قمیص پر کالی چادر اوڑھے دریہ اس دل ربا سے قدرے مختلف لگ رہی تھی جسے ایک زمانہ جانتا تھا مہر علی نے کراچی کے ایک پوش علاقے میں اس کیلئے فلیٹ خرید رکھا تھا جس کی تزئین و آرائش ایک نامور ڈیکوریٹر نے تھی اس فلیٹ میں پہنچ کر دریہ کو گونا گوں سکون حاصل ہوا مہر علی کے ساتھ نے اس چند ہی دنوں میں وہ اعزاز اور عزت بخش دی جو اتنے سال کی انتھک محنت اور اپنے وجود کی قربانی دے کر بھی وہ حاصل نہ کر سکی تھی سچی خوشی کیا ہوتی ہے؟ اسے اب پتا چلا، وہ خوشیوں کے ان لمحات کا پل پل کشید کرنا چاہتی تھی شاید اس لئے کہ اسے ملنے والی خوشیوں کی مدت ہمیشہ سے ہی کم ہوتی تھی۔

QQQQ

”یہ کیا لے آئے آپ۔“ جان محمد ڈائننگ ٹیبل پر کچھ شاپرز رکھ کر جا چکا تھا جب کہ مہر علی قریبی صوفے پر بیٹھا اپنے جوتے اتار رہا تھا دریہ ان شاپرز کو کھول کر دیکھ رہی تھی کہ وہ اس کی پشت پر آکھڑا ہوا۔

”ہیپی برتھ ڈے ٹویو۔ میری جان، میری زندگی۔“

مہر علی نے پیچھے سے اسے تھام کر اس کے کانوں میں سر گوشی کی۔

”تھینک یو مہر علی تھینک یو سو مچ۔“ اس کے پاس الفاظ نہ تھے جن سے وہ مہر علی کا شکریہ ادا کر سکتی۔

”آپ کو کیسے پتا چلا کہ آج میری سالگرہ ہے۔“

”جن سے محبت کی جائے ان کے ہرپل کی خبر رکھنی پڑتی ہے چلو اب جلدی سے تیار ہو جاﺅ کیک کاٹ کر ہم ڈنر کرنے باہر جا رہے ہیں۔“ وہ اس کے گال تھپتھپا کر اندر کمرے کی جانب جاتا ہوا بولا اور وہ دل سے مہر علی کی عظمت کی قائل ہو گئی۔

آج اس کی تیاری ہمیشہ سے مختلف تھی وہ بہت دل سے تیار ہوئی اس کی یہ تیاری صرف اور صرف اپنے شوہر کیلئے تھی اسے دنیا سے ستائش نہیں چاہئے تھی ریڈ اور اورنج سوٹ میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی پی سی میں داخل ہوتے ہی اسے بہت کچھ یاد آگیا یہ وہ ہوٹل تھا جہاں کسی زمانے میں اس کی ہر شام گزرتی تھی اسے دانش سہگل بھی یاد آیا اور دانش کے ساتھ گزرے ہوئے کل کی کئی تلخ یادیں اس کی آنکھیں بھگو گئیں جانے کیا بات تھی آج کل اس کا دل ذرا ذرا اسی بات پر بھر آتا تھا اسے اپنے گھر والے بھی بہت یاد آتے تھے پہلے ان کا غم بھلانے کیلئے وہ تلخ مشروب کا سہارا لیتی تھی لیکن اب مہر علی کی قربت اسے تمام برائیوں سے دور لے جا چکی تھی اسے لگتا کہ اتنے سالوں کی لا حاصل کوششوں کے بعد آج اسے وہ عزت حاصل ہوئی ہے جو اس کی ماں اور بہن کا مقدر تھی آج وہ بھی ان سب کے مقابل کھڑی ہونے کی صلاحیت حاصل کر چکی تھی اور یقینا یہ سب کچھ مہر علی کی بدولت ہی ممکن ہوا تھا۔

مہر علی کے ساتھ نے اسے احساس دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کا مقام اتنا بلند کیوں رکھا ہے؟ یقینا آج اگر اللہ کے بعد کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو وہ ضرور کرتی۔ اتنا سب کچھ حاصل کرکے بھی وہ اپنے گھر والوں سے تعلق استوار نہ کر سکی بہت پہلے شہ پارا نے اسے بتایا تھا کہ ولید گھر میں اس کا ذکر کرنا بھی پسند نہیں کرتا وہ نہیں چاہتا کہ کسی کو علم ہو دل ربا کبھی اس کی بہن تھی۔ وہ اس رشتے کو مکمل طور پر فراموش کر دینا چاہتا تھا اور اکلوتے بیٹے کی محبت نے ارم اور شہباز کو بھی مجبور کر رکھا تھا کہ وہ دریہ کو بھول جائیں اور اب دریہ کیلئے ناممکن تھا کہ وہ خود سے قدم آگے بڑھاتی اپنا سب کچھ گنوا کر وہ صرف ایک چیز بچا پائی تھی اور وہ تھی اس کی ”انا“ یہ انا ہی تھی جس کے سبب کراچی میں رہتے ہوئے بھی وہ اپنے گھر والوں سے اتنی ہی دور تھی جتنی لاہور میں جہاں وہ دل ربا تھی۔ دل ربا سے دریاب تک کی واپسی کا سفر بے شک وہ طے کر چکی تھی لیکن رشتوں کے معاملے میں آج بھی تنگ دست تھی اپنا وہ ماضی جو وہ دور کہیں دفنا آئی تھی شاید اس کے خاندان کی یاد داشت میں زندہ تھا۔

پی سی میں مہر علی کے ساتھ کیا جانے والا کینڈل لائٹ ڈنر اس کی زندگی کے یادگار لمحوں میں سے ایک تھا جب وہ باہر نکلی تو ہوٹل کی لابی سے گزرتے ہوئے کئی سال پرانا منظر اس کی نگاہوں میں لہرا گیا جب وہ شاہ ویز کی نظروں میں ذلیل ہوئی تھی آج فرق صرف اتنا تھا کہ کل اس کے ساتھ فاضل کریم تھا اور آج اس کا شوہر مہر علی، آج وہ دنیا کی نگاہوں میں معتبر تھی۔ آج کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکتا تھا اس کے اور مہر علی کے درمیان وہ ہی رشتہ تھا جو سمرن اور شاہ ویز کا تھا بغیر کسی ڈر، خوف، شرمندگی کے وہ نہایت فخر سے مہر علی کی ہمراہی میں چلتی ہوٹل سے باہر آئی۔ گاڑی میں بیٹھنے سے قبل اس نے بھرپور نظر مہر علی پر ڈالی اور اپنی خوش قسمتی پر نازاں اندر بیٹھ گئی یہ جانے بغیر کہ اس کی خوش قسمتی کسی کی نظر بد کا شکار ہو گئی ہے۔

آج سے کئی سال قبل اسی ہوٹل میںجس طرح وہ شاہ ویز کی نظروں میں آئی تھی بالکل اسی طرح آج بھی وہ کسی کی نظروں میں آچکی تھی اور وہ تھا ”حبیب اللہ“ مہر علی کا سالا اور بہنوئی، صدوری کا بھائی ”حبیب اللہ۔“

QQQQ

حبیب اللہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ڈنر کیلئے آیا تھا کہ اچانک ہی اس کی نگاہ ریڈ اور اورنج سوٹ میں ملبوس اس خوبصورت سی لڑکی پر پڑی ایک سر سری نگاہ ڈالتے ہی اسے احساس ہوا کہ اس نے پہلے بھی اسے کہیں دیکھا ہے اور اگلے ہی پل اسے یاد آچکا تھا یقینا یہ دل ربا تھی۔ مشہور سٹیج ڈانسر دل ربا، جس سے اس کی ملاقات اپنے دوست عباسی کی ایک نجی محفل میں ہوئی تھی جہاں وہ بطور ڈانسر مدعو تھی جانے اس میں ایسی کیا بات تھی کہ چند سال قبل ہونے والی ایک ملاقات آج بھی حبیب اللہ کو یاد تھی ورنہ تو اس کی زندگی اتنی رنگینیوں کا مرقع تھی کہ اسے ہر گزرتی رات پچھلی رنگینی بھلا کر نئے دور اور نئی رنگینی میں گم کر دیتی تھی۔ دل ربا کو دیکھ کر وہ حقیقی معنوں میں حیران رہ گیا یہ دل ربا، اس دل ربا سے بالکل مختلف نظر آرہی تھی جس سے کبھی حبیب اللہ ملا تھا اور اگلے ہی پل حبیب اللہ کی حیرت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا جب اس نے دل ربا کے پیچھے آتے مہر علی کو دیکھا جانے مہر علی نے دل ربا سے کیا کہا اس کے چہرے پر پھیلی ایک آسودہ سی مسکراہٹ حبیب اللہ کو اتنے فاصلے سے بھی دکھائی دے رہی تھی اس کی حیرانی، بے چینی میں تبدیل ہو گئی مہر علی اور دل ربا، حبیب کےلئے ایک ایسا سوال تھا جسے حل کرنا اس کیلئے لازمی ہو چکا تھا اگر مہر علی، ان کی طرح کوئی عیاش مرد ہوتا تو یقینا حبیب اللہ نظر انداز کر دیتا لیکن مہر علی جیسے شریف النفس بندے کے ساتھ، دل ربا۔ یہ بات یقینا اسے ہضم نہ ہو رہی تھی اور پھر دل ربا کی بدلی ہوئی شخصیت اسے کوئی اور ہی کہانی سنا رہی تھی جس کا سراغ لگانا ضروری ہو چکا تھا۔

QQQQ

”یہ کیا کہہ رہے ہو ادا تمہیں ضرور کوئی غلط غلط فہمی ہوئی ہے۔“ وہ گھر جانے کے بجائے سیدھا اپنے چچا کے گھر آگیا اور فوراً صدوری سے ملنے اس کے کمرے میں پہنچ گیا۔

”یہ مہر علی آخری بار گاﺅں کب آیا تھا؟“ وہ کچھ سوچتا ہوا بولا۔

”یہ ہی کوئی ایک ماہ قبل جب حارث علی اور شیر علی اپنی چھٹیوں میں گاﺅں آئے تھے۔ کیوں کیا مہر علی نے کچھ کہہ دیا تھا۔“ وہ اپنے بھائی کے چہرے پر نظر ڈال کر قیاس آرائی کرتے ہوئے بولی۔

”کہنا کیا ہے بابا اس نے تو کر لیا ہے۔“

”کیا کر لیا ہے؟“ وہ حبیب اللہ کی بات سمجھ نہ سکی۔

”شادی اور کیا کرنا ہے اور وہ بھی ایک ناچنے گانے والی عورت ہے۔“

وہ برا سا منہ کر نفرت سے بولا۔

کچھ دیر تو صدوری منہ کھولے حیرت سے اپنے بھائی کی بات ایسے سنتی رہی ہے جیسے کچھ سمجھ ہی نہ آرہا ہو اور پھر ایک دم ہی کھکھلا کر ہنس پڑی۔

”میں تو سمجھی جانے مہر علی نے کیا کر دیا ہے ادا یہ کون سی نئی بات ہے یہ تو تمہاری خاندانی روایات میں، ہمارے مردوں کی شان ہے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہو گیا۔

”اور پھر کب تک رہے گی وہ ناچنے والی اس کے ساتھ ایسی عورتیں کسی ایک کھونٹے سے بندھی نہیں رہ سکتیں جلد ہی منہ کالا کرکے چلی جائے گی اور پھر مہر علی نے کہاں جانا ہے یہ سب چھوڑ کر۔“ یقینا اس کا اشارہ جائیداد کی طرف تھا۔

”ویسے بھی ادا میں نہ صرف اس کی خاندانی بیوی ہوں بلکہ اس کے دو بیٹوں کی ماں بھی ہوں اور مہر علی تو جیتا ہی اپنے بچوں کیلئے ہے۔“

اپنے بیٹوں کا ذکر کرتے ہی اک احساس تفاخر اس کے لہجے میں در آیا لیکن حبیب اللہ کو چین نہ آیا اور ویسے بھی صدوری نہیں جانتی تھی کہ دل ربا کے سلسلے میں لگایا جانے والا اس کا اندازہ سو فیصد غلط ہے جبکہ حبیب اللہ جان چکا تھا کہ مہر علی نے دل ربا سے یہ رشتہ وقتی جذبہ کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہیں جوڑا وہ اس سلسلے میں مہر علی کا والہانہ لگاﺅ جانچ چکا تھا اور شاید محبت کرنا مہر کا وہ جرم تھا جس کی سزا دل ربا نے بھگتنی تھی کیونکہ یہ اس کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا اور نصیب کا لکھا اٹل ہے جسے گزرتا وقت بھی نہیں بدل سکتا۔

مہر علی کی دوسری شادی کی خبر اس کی دونوں بہنوں کے حواس پر بجلی بن کر گری اور انہیں سب سے پہل فکر اپنی اپنی ازواجی زندگی کے متعلق لاحق ہو گئی وہ دونوں حبیب اللہ اور حسیب اللہ کی فطرت سے واقف تھیں جانتی تھیں کہ وہ مہر علی کی ضد میں نہ صرف دوسری شادی کر سکتے تھے بلکہ ان سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ یہ شادیاں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے اور ان کی متوقع سوکن کو حویلی میں ہی لا بساتے اس سوچ نے فاطمہ اور ماروی کی راتوں کی نیند اڑا دی بلکہ فاطمہ نے تو فوراً ہی مہر علی کو فون کرکے اس سلسلے میں باز پرس کرنے کی بھی کوشش کی۔

”مہر علی ایسا کرتے ہوئے تم ہمیں کیوں بھول گئے کیا تم نہیں جانتے کہ تمہاری اس غلطی کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے گا۔“ وہ حبیب اللہ سے چھوٹے حسیب اللہ کی بیوی تھی جو نہ صرف غصے کا بہت تیز بلکہ اپنی اکلوتی بہن سے بے حد محبت بھی کرتا تھا۔

”ادی تم غلط کہہ رہی ہو جو میں نے کیا وہ کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ میرا شرعی حق ہے تمہارا میاں جو کچھ کرتا ہے میں سب جانتا ہوں لیکن تم خود بتاﺅ کیا میں نے کبھی اس سے باز پرس کی؟ نہیں نا تو پھر وہ کون ہوتا ہے مجھ سے سوال کرنے والا۔“

مہر علی کو بہت کم ہی غصہ آتا تھا وہ عام طور پر دھیمے مزاج کا حامل شخص تھا۔

”تم جانتی ہو ادی اگر وہ صدوری کا بھائی ہے تو میں بھی تمہارا اور ماروی کا بھائی ہونے کے علاوہ ان کا بہنوئی بھی ہوں اور جائیداد کا بھی اتنا ہی وارث ہوں جتنے وہ، لیکن تم خود ایمانداری سے بتاﺅ کہ میں نے آج تک کبھی کسی کو اس بات کا احساس دلایا؟ کبھی کسی کے ذاتی معاملے میں دخل اندازی کی نہیں نا تو پھر ان کو بھی سمجھا دینا میرے معاملے میں مت بولیں۔“ یہ تو کوئی اور ہی مہر تھا جو مروت و لحاظ بھول چکا تھا شاید دریاب کی محبت اور ساتھ نے مہر علی کو دوسروں کے سامنے کھڑا ہونا سکھا دیا تھا وہ جان چکا تھا کہ اگر آج وہ اپنے سالوں سے ڈر گیا تو اس کا نتیجہ دریہ سے دوری کے علاوہ کچھ نہ نکلنا تھا اور یہ ہی وہ نہیں چاہتا تھا اور اسی چیز نے اسے بے خوفی بخشی تھی دریہ جو مہر علی کے قریب ہی بیٹھی تھی یہ سب سن کر دنگ رہ گئی اسے یہ امید نہ تھی کہ مہر علی اپنے خاندان والوں کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر اپنی شادی کا اقرار کرے گاوہ تو آج تک اس شادی کو خفیہ ہی سمجھ رہی تھی مہر علی کے اس اقرار نے دریہ کو اس کا بے مول غلام بنا دیا فاطمہ کے بعد نیاز علی کا فون آگیا وہ مہر علی سے سخت ناراض تھے۔

”بابا اس ناچنے والی کو فوراً طلاق دے کر گاﺅں واپس آﺅ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔“ ان کے لہجے کی گرج مہر علی کو بہت کچھ سمجھا گئی لیکن وہ بھی ان ہی کا بیٹا تھا ایک عورت کو محبت کے نام پر دھوکہ دے کر بیچ منجدھار میں چھوڑنا اس کے مردانہ وقار کے خلاف تھا وہ دریہ سے محبت کرتا تھا سچی اور حقیقی محبت۔

”بابا جان پلیز وہ کوئی ناچنے والی نہیں ہے بلکہ میری بیوی اور آپ کی بہو ہے اگر آپ نے اس کےلئے دوبارہ کوئی ایسا لفظ استعمال کیا تو شاید آپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ کیلئے کھو دیں۔“ بے شک لفظ ناچنے والی نے اس کے خون کو گرما دیا تھا پھر بھی وہ باپ کا احترام ملحوظ رکھ کر بولا۔

”اگر آئندہ مجھ سے بات کریں تو پلیز دریہ کے متعلق کوئی بات نہ ہو تو بہتر ہے۔“ اس نے حتمی انداز سے کہتے ہوئے بات ختم کی اور نیاز علی کو اندازہ ہو گیا کہ مہر علی کی زندگی سے اس عورت کو نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور اس ناممکن کو ممکن کس طرح بننا تھا اس کا فیصلہ نیاز علی نے کرنا تھا جس کیلئے مناسب وقت کا انتظار اس کی مجبوری بن گیا۔

”فی الحال اس عورت کو مہر علی کی ضد نہ بنایا جائے۔“ یہ نیاز علی کا حکم تھا جبکہ صدوری اور اس کے تمام بھائی بھی اس فیصلے سے متفق تھے وہ جان چکے تھے کہ مہر علی ضد میں آکر کچھ بھی کر سکتا تھا انہیں خدشہ تھا کہیں مہر علی جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ نہ کر دے۔

”ایسی عورتیں صرف دولت کی عاشق ہوتی ہیں۔ یہ نیاز علی کی رائے تھی۔

”کسی ایک مرد کے ساتھ ساری زندگی گزار دینا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی مہر علی نہ سہی وہ مہر علی کو جلد ہی چھوڑ جائے گی اور ہمیں اسی وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔“ وہ وقت آنے سے پہلے ہی قدرت نے دل ربا کو وہ بیش بہا خزانہ عطا کر دیا جس کیلئے وہ کئی سالوں سے ترس رہی تھی اس کی سونی دھرتی پر رحمت کی وہ بارش برس گئی جس میں وہ سرتاپا بھیگ گئی اللہ نے اسے وہ معتبری بخشی جو اس سے قبل زندگی بھر اسے نصیب نہ ہوئی تھی اللہ نے اسے ”ماں“ کے رتبہ پر فائز کر دیا تھا۔

QQQQ

اس کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب ہو رہی تھی کچھ کھانے کو دل نہ چاہتا۔ اگر جو کچھ کھا لیتی تو ہضم ہی نہ ہو پاتا یہ ہی وجہ تھی کہ آج وہ مہر کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کےلئے آئی ہوئی تھی ڈاکٹر نے معائنہ کے علاوہ اس کے کچھ ٹیسٹ بھی کئے اور پھر جو خبر اسے سنائی، سن کر وہ دنگ رہ گئی اسے یقین ہی نہ آیا کہ جو کچھ ڈاکٹر نے بتایا ہے وہ درست ہے۔

”آپ پریگننٹ ہیں۔“ یہ وہ خبر تھی جس نے دریہ کو چند لمحوں کیلئے ساکت کر دیا اور جب اسے ہوش آیا تو وہ خوشی سے رو ہی پڑی۔

”واقعی اللہ بہت مہربان ہے جو مجھ جیسے گناہ گار بندوں کو بھی نواز دیتا ہے۔“ یہ وہ سوچ تھی جس کے زیر اثر اس دن شاید کئی سالوں بعد دریاب نے نہ صرف نماز پڑھی بلکہ اللہ کے حضور دو نفل شکرانے کے بھی ادا کئے۔

اس دن وہ حقیقی معنوں میں بہت خوش تھی اور چاہتی تھی کہ اپنی یہ خوشی کسی سے شیئر کرے اور یقینا وہ شہ پارا کے علاوہ کوئی دوسرا نہ ہو سکتا تھا شہ پارا اس خبر کو سنتے ہی خوشی سے نہال ہو گئی۔

”میں جلد ہی تم سے ملنے آو ¿ں گی اپنا خیال رکھنا۔“ فون رکھنے سے قبل وہ اسے ہدایت کرنا نہ بھولی مہر علی اس کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھتا اس سے شادی کے بعد وہ دوبار گاﺅں جا چکا تھا جہاں اب کوئی بھی اس سے دریہ کی بابت کوئی ذکر نہ کرتا تھا پھر بھی جانے کیوں وہ یہ چاہتا تھا کہ یہ خبر اس کے خاندان تک نہ پہنچے لیکن اپنی اس کوشش میں وہ زیادہ عرصہ تک کامیاب نہ ہو سکا اور جلد ہی یہ خبر اس کے باپ اور گھر کے دیگر افراد تک پہنچ گئی جسے سنتے ہی ہر فرد ششدر رہ گیا۔

”اس کا مطلب ہے وہ دو ٹکے کی ناچنے والی ہماری بہن کے مقابل آگئی اب حیا باختہ عورتیں شرفاءکا مقابلہ کریں گی۔“ حسیب اللہ غصے کی شدت سے تلملا رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دل ربا کو گولی مار کر اس سارے قصے کو ہی ختم کر دیتا۔

”اگر اس عورت کا بیٹا ہو گیا تو….“ صدوری کا خدشہ اس کی زبان تک آہی گیا۔

”نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا اب ہمیں ضرور ایسا کچھ کرنا ہو گا جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“ یہ اس کا اپنا باپ تھا سگا باپ نیاز علی جس کے نزدیک بیٹے سے زیادہ زمین اہم تھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ دل ربا کے ماں بننے کی صورت میں اس کی جائیداد دو حصوں میں تقسیم ہو اور یہ ہی بات صدوری کے بھائیوں کو پسند نہ تھی۔

QQQQ

دروازے پر بیل ہو رہی تھی۔ اس کی طبیعت صبح سے بھی بہت خراب تھی سارا دن ہو گیا اسے الٹیاں کرتے ہوئے ابھی بھی وہ باتھ روم میں ہی تھی پتا نہیں باہر کون ہے؟ یہ وقت مہر علی کے گھر آنے کا نہ تھا ویسے بھی اس کے پاس داخلی گیٹ کی چابی موجود تھی جانے کون ہے؟ یہ سوچتی ہوئی وہ نڈھال سی واش روم سے نکلی اور بے دم سی بستر پر گر گئی۔

”بی بی جی بڑی مالکن اور فاطمہ بی بی آئی ہیں آپ سے ملنے۔“ ایک دم دروازہ کھول کر گھبرائی ہوئی رضیہ اندر داخل ہوئی اور آہستہ آواز میں بولی رضیہ کچھ عرصہ قبل مہر علی کے ساتھ گاﺅں سے آئی تھی جسے وہ دریاب کی دیکھ بھال کیلئے لے کر آیا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ وہ ان دونوں عورتوں سے واقف تھی۔

”کون بڑی مالکن۔“ اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں۔

”وہ جی صدوری بی بی مہر سائیں کی پہلی گھر والی۔“ رضیہ کا تعلق مہر علی کے گاﺅں سے ہی تھا۔ اس لئے پہچان کے سلسلے میں کوئی غلطی اس سے متوقع نہ تھی۔

”صدوری۔وہ یہاں کیوں آئی ہے؟“ دریہ نے سوچا ضرور مگر بولی نہیں۔

”تم چلو میں آتی ہوں۔“ باہر جانے سے پہلے اس نے مہر علی کو فون کرکے اس کے گھر والوں کی آمد کی اطلاع دینا ضروری سمجھی اس کے نزدیک مہر علی کا باخبر ہونا ضروری تھا ویسے بھی اس وقت مہر علی کی گھر موجودگی بہت ضروری تھی وہ اکیلی ان عورتوں کا سامنا کرنے کی ہمت خود میں نہ پا رہی تھی۔

”جانے یہ عورتیں کس ارادے سے آئی ہیں۔“ یہ ہی سوچتی ہوئی وہ خاموشی سے اٹھی اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا تنقیدی جائزہ لیا وہ پہلی بار اپنے سسرال سے آئے کسی فرد کے سامنے جا رہی تھی بے شک آنے والی ہستی اس کی سوکن ہی تھی پھر بھی وہ ہر حال میں خود کو بہتر دیکھنا چاہتی تھی اس وقت وہ اسکن کلر کے شوکنگ پنک کڑھائی والے ملگجے سے سوٹ میں بھی خاصی خوبصورت لگ رہی تھی ممتا کا نور اس کے چہرے پر حسن بن کر جھلک رہا تھا اچھی طرح مطمئن ہو کر اس نے پنک لپ اسٹک لگائی بال بنائے ڈریسنگ سے نکال کر اپنی چوڑیاں پہنیں وہ ہر حال میں مہر علی کی خاندانی بیوی سے بڑھ کر نظر آنا چاہتی تھی ہر طرح سے مطمئن ہو کر نہایت پر اعتماد چال چلتی وہ ڈرائننگ روم میں داخل ہوئی۔

”السلام علیکم۔“ سامنے بیٹھی عورت یقینا صدوری تھی جبکہ دوسری عورت یقینا مہر علی کی بڑی بہن تھی اس کی شکل کافی حد تک اپنے بھائی سے ملتی تھی۔

”ہائے میں صدقے جاﺅں تم بہت خوبصورت ہو میرے اندازے سے کہیں بڑھ کر خوبصورت۔“ صدوری نے اسے گلے لگا کر ماتھا چومتے ہوئے کہا اور یہ صورتحال اس کیلئے بالکل غیر متوقع تھی کیا کوئی عورت اپنی سوکن سے اس طرح بھی مل سکتی ہے؟ وہ تو خود کو ایک مختلف صورتحال کیلئے تیار کرکے یہاں تک آئی تھی اسے یقین تھا مہر علی کی بیوی ضرور اس سے لڑنے جھگڑنے آئی ہو گی اس نے حیرت سے پہلے خود کو گلے لگا کر چومتی صدوری کو دیکھا اور پھر ذرا فاصلے پر بیٹھی اس عورت کو دیکھا جو ٹانگ پر ٹانگ دھرے بڑی نخوت سے اسے ہی تک رہی تھی اس کی آنکھوں میں لہراتی واضح نفرت و حقارت اسے دور سے بھی نظر آرہی تھی۔

”میں نے تو جب سے سنا تم امید سے ہو، رہ نہ سکی، تم سے ملنے کو میرا دل تڑپ اٹھا تمہارا تو پہلا بچہ ہے پھر کوئی رشتے دار بھی قریب نہیں، جانے اس حال میں تم کسی طرح رہتی ہو گی یہ ہی سوچ کر تم سے ملنے آگئی، آخر تم میرے سر کے سائیں مہر علی کے بچے کی ماں بننے والی ہو وہ بے شک مجھ سے محبت نہ کرے میں تو اس سے وابستہ ہر شے سے محبت کرتی ہوں مانو جس کو اس نے پیار سے دیکھا وہ شے میرے لئے معتبر ہو گئی۔“ اپنے آنسو پونچھتی یہ عورت اسے مہر علی کے بتائے گئے تجزیہ سے قدرے مختلف لگی شاید مہر علی کو ہی کبھی اس کے پیار کا احساس ہی نہ ہوا ہو وہ یہ سوچ کر رہ گئی۔

”آپ بیٹھیں میں رضیہ کو دیکھوں کیا کر رہی ہے۔“

وہ مہر علی کی بہن کی نظروں سے قدرے خائف ہو کر بولی۔

”تم مجھے ادی یا آپا کہہ کر بلا سکتی ہو کیونکہ تم میری چھوٹی بہن جیسی ہو اور رہنے دو رضیہ کو تم یہا ںبیٹھو میرے پاس، اسے سب پتا ہے مہمانوں کی خاطر داری کس طرح کرتے ہیں وہ خود سب کچھ کر لے گی۔“ صدوری نے اسے کندھوں سے تھام کر صوفے پر لا بٹھایا۔

”تم تو خود بیمار اور کمزور دکھ رہی ہو کہ لگتا ہے رضیہ تمہاری کوئی دیکھ بھال نہیں کرتی۔“ دریہ نے بے اختیار اس عورت کی جانب دیکھا جس نے کالی کڑھائی والی بے حد خوبصورت چادر اوڑھ رکھی تھی ناک میں پڑی بڑی سی لونگ اس کے چہرے پہ اچھی لگ رہی تھی کچھ تو ویسے ہی وہ مہر سے عمر میں زیادہ تھی کچھ اس کے فربہی مائل جسم نے اس کی عمر میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا اور وہ کہیں سے بھی مہر علی جیسے بندے کی بیوی دکھائی نہ دے رہی تھی اس سب کے باوجود اس کی شخصیت بڑی بارعب نظر آرہی تھی دریہ اطمینان سے بیٹھی اس کا بھرپور جائزہ لے رہی تھی جبکہ وہ اپنے ساتھ لایا ہوا مختلف سامان رضیہ اور سکینہ کی مدد سے اٹھوا کر کچن میں رکھوا رہی تھی کہ یکدم باہر کا دروازہ کھول کر مہر علی اور داخل ہوا اور اندر داخل ہوتے ہی سامنے دکھائی دینے والے منظر نے اسے حیران سا کر دیا وہ جانے کیا کیا قیاس آرائیاں کرتا ہوا بڑی گھبراہٹ کے عالم میں گھر تک پہنچا تھا یہاں کہ باہر گاڑی میں موجود ڈرائیور سے بھی اس نے سلام دعا تک نہ کی تھی وہ تو اپنے گھر میں ایک معرکہ کا تصور کرتا ہوا داخل ہوا تھا لیکن سامنے دکھائی دینے والے منظر نے اس کی پریشانی کو یک لخت ختم کر دیا اور وہ کافی حد تک پرسکون دکھائی دینے لگا۔

”سلام ادی۔“ صدوری پر ایک نظر ڈال کر وہ فاطمہ کے سامنے جا کھڑا ہوا بھائی کو سامنے دیکھتے ہی فاطمہ تمام گلے شکوے بھلا کر کھڑی ہو گئی اور نہایت محبت سے اسے اپنے ساتھ لگایا۔

”کیسے ہو میرے بھائی تمہیں تو دیکھنے کو ہماری آنکھیں ہی ترس گئیں۔ گاﺅں آتے ہو تو کبھی بہنوں کی خیریت پوچھنے ان سے ملنے بھی آجایا کرو۔“ اور وہ جواب میں ان کے رویہ اور ناراضی پر کوئی جواب شکوہ نہ کر سکا اس کی بہن سب کچھ بھلا کر اس کے گھر آئی تھی۔ اس خوشی سے بڑھ کر مہر علی کیلئے کوئی دوسری بات نہ تھی۔

”کچھ کھانے کا انتظام کیا ہے۔“ بہن کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے اس نے دریہ سے دریافت کیا۔

”ہاں رضیہ کو میں نے سب سمجھا دیا ہے وہ بنا رہی ہے اسے پریشان نہ کرو۔“ صدوری کا جواب اس کیلئے بالکل غیر متوقع تھا آج تک جس صدوری سے وہ واقف تھا یہ صدوری اس سے سو فیصد مختلف تھی۔

”کھانا لگواﺅ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔“ وہ دریہ کی جانب دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

”جی اچھا۔“ اور پھر جلد ہی رضیہ نے کھانا تیار کر لیا مچھلی اور ساگ صدوری گاﺅں سے لائی تھی اس کے علاوہ بریانی اور چکن کا سالن اس نے فٹا فٹ تیار کر لیا جبکہ کباب پہلے سے فریزر میں موجود تھے نہایت ہی خوشگوار ماحول میں رات کا کھانا کھایا گیا صدوری گاﺅں سے بہت ساری سوغات دریہ کیلئے لائی تھی جس میں بہت خوبصورت کڑھائی والے سوٹ، گرم شال اور کھانے پینے کا بے شمار سامان شامل تھا۔ اس کے پیار بھرے رویے نے دریہ کو بہت متاثر کیا اور اسے خود سے بے حد شرمندگی محسوس ہونے لگی اسے اپنا وجود مہر علی اور صدوری کے درمیان حائل ایک دیوار کی مانند لگنے لگا۔

”میرے آنے سے قبل ان دونوں کے تعلقات کون سے بہتر تھے۔“ اس احساس نے اس کی شرمندگی کے اثر کو زائل کر دینے کی کوشش کی ابھی وہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ حسیب اللہ آگیا۔

دریہ نے کھانا نہیں کھایا تھا کیونکہ اس کی طبیعت ٹھیک نہ تھی اس لئے وہ قریب ہی صوفے پر نیم دراز تھی جیسے ہی حسیب اللہ لاﺅنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا وہ یکدم اٹھ بیٹھی اور اپنا ڈوپٹا درست کرکے اوڑھ لیا۔

”سلام دل ربا جی کیسی ہو آپ۔“ وہ بڑے انداز سے کہتا ہوا اس کے پاس ایسے آیا جیسے اسے صدیوں سے جانتا ہو اس کی اس حرکت نے دریہ کو جی بھر کر شرمندہ کیا اسے ایک دم ہی اپنا گزرا ماضی یاد آگیا۔ یقینا یہ مجھ سے واقف ہے ورنہ مجھ سے اتنی بے تکلفی نہ برتتا۔ شہرت کا جنون، ایک وقتی دیوانگی اس کا ایسا گزرا ہوا کل تھا جو کہیں نہ کہیں اس سے آکر ٹکرا ہی جاتا تھا اس سے نگاہیں ہی نہ اٹھائیں گئیں۔

”اس کا نام دل ربا نہیں دریاب ہے دریاب مہر علی۔“ اس کے منہ سے لفظ دل ربا، مہر علی کو کس قدر ناگوار گزرا تھا اس کا احساس دریہ کو مہر علی کے لہجے سے ہی ہو گیا تھا وہ ایک دم ہی جی اٹھی اس کی آنکھیں احساس تشکر سے بھر گئیں اس نے نظر اٹھا کر مہر علی کی جانب دیکھا جو لب بھینچے حسیب اللہ کو تک رہا تھا۔

”اوہ دریاب علی لیکن ہم نے تو دل ربا سنا تھا چلیں ہو سکتا ہے ہمیں ہی سننے میں غلط فہمی ہو گئی ہو۔“ اپنے مذاق پر خود بھی لطف اندوز ہو کر وہ کھلکھلا کر ہنس دیا اور مہر علی محض خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا سچ ہے اس معاشرے میں مرد کچھ بھی کرے کوئی سوال نہیں کرتا لیکن عورت کا ماضی ساری عمر اس کیلئے کس طرح ایک طعنہ بن جاتا ہے یہ ہر گزرتا دن دریہ کو احساس دلاتا تھا پچھتاوے ناگ بن کر اسے ڈستے تھے کاش….

”دریہ تم اندر جاﺅ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“ مہر علی غالباً اس کی اندرونی کیفیت بھانپ چکا تھا حسیب اللہ کی موجودگی میں وہ خود کو خاصا بے چین محسوس کر رہی تھی اسی لئے بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے اٹھ کر اندر چلی گئی صدوری اور فاطمہ اس سے مل کر جلد ہی گاﺅں واپس چلی گئیں اور جاتے جاتے صدوری نے پھر آنے کا وعدہ بھی کر لیا۔

QQQQ

پھر وقتاً فوقتاً صدوری نے کئی چکردریاب کے گھر کے لگائے یہاں تک کہ ایک دفعہ تو وہ اسے بے حد اصرر سے اپنے ساتھ گاﺅں بھی لے گئی جہاں جاتے ہوئے دریہ بے حد گھبرا رہی تھی لیکن مہر علی کے ساتھ نے اسے تقویت بخشی وہ جو بے انتہا خدشوں میں گھری مہر علی کی آبائی حویلی آئی تھی یہاں کے لوگوں کا خلوص دیکھ کر جلد ہی ان اندیشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جو اس کے دل میں سر ابھار رہے تھے اس دن جب انہوں نے شہر واپس آنا تھا اچانک ہی حبیب اللہ، مہر علی سے ملنے حویلی آگیا۔ اسے دیکھتے ہی دریہ گھبرا سی گئی اسے لگا وہ یقینا اس شخص سے پہلے بھی مل چکی ہے لیکن کہاں؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس پر زیادہ غور و خوص کرکے وہ مزید شرمندگی کی دلدل میں نہیں دھنسنا چاہتی تھی لیکن جلد ہی اس کے خیال کی تردید ہو گئی حبیب اللہ کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ تھی اور یہ بات یقینا اس کیلئے باعث اطمینان تھی۔

صدوری چاہتی تھی کہ اپنی ڈلیوری کے ایام دریہ حویلی میں رہ کر گزارے لیکن جانے کیوں مہر علی اس بات پر آمادہ نہ تھا شاید وہ اپنے گھر والوں پر ابھی تک اعتبار نہ کر سکا تھا اسے سب سے زیادہ حیرت اپنے باپ کے رویے پر تھی جو دریہ سے اس طرح ملا جس طرح پیار و محبت سے وہ صدوری سے ملتا تھا دریہ کے بارے میں کہے گئے الفاظ لگتا تھا جیسے کسی اور شخص کی زبان سے ادا ہوئے ہوں کم از کم مہر علی اپنے باپ کو ضرور جانتا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کا باپ کم تر لوگوں کو کبھی منہ لگانے کے قابل نہیں سمجھتا چاہے وہ دولت میں کم تر ہوں یا عزت میں اور ایسے میں دریہ سے اس کا رویہ مہر علی کو خاصا الجھا گیا یہ ہی وجہ تھی کہ سب کے بے حد اصرار پر بھی وہ دریہ کو دو دن رہ کر اپنے ساتھ ہی کراچی واپس لایا ویسے بھی یہ ہدایت اسے شہ پارا نے گاﺅں جانے سے قبل کی تھی کہ وہ دریہ کو اکیلا چھوڑ کر نہ آئے وہ کچھ خوفزدہ تھی اور اپنا یہ ہی خوف اس نے مہر علی کے اندر بھی منتقل کر دیا منع تو اس نے دریہ کو بھی کیا تھا کہ وہ صدوری سے زیادہ تعلقات استوار نہ کرے بقول اس کے سوکن کی مثال اس ناگن کی سی ہے جس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا لیکن جانے کیوں دریہ نے ہر طرف سے اپنے کان بند کر رکھے تھے اس پر صدوری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا

QQQQ

وہ جب سے گھر آیا تھا کچھ پریشان سا لگ رہا تھا الجھا الجھا کچھ سوچتا ہوا بڑی بے دلی سے تھوڑا سا کھانا کھایا اور اب بھی سامنے چائے کا کپ رکھے جانے کیا سوچ رہا تھا بظاہر تو اس کی نگاہیں ٹی وی اسکرین پر مرکوز تھیں لیکن دریہ جانتی تھی کہ اس کا دھیان کہیں اور ہے۔

”کیا بات ہے مہر آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں۔“

بالآخر اس سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ پوچھ ہی بیٹھی حالانکہ کسی بھی بات کی تفتیش اور کرید کرنا اب اس کی عادت نہ رہی تھی۔

”آں…. ہاں کچھ نہیں۔“ وہ یکدم چونک اٹھا اور خالی خالی نظروں سے دریہ کی جانب تکنے لگا۔

”آپ نہ بتانا چاہیں تو آپ کی مرضی۔“ وہ کندھے اچکاتی آگے بڑھی اور مہر علی کے سامنے دھرا ٹھنڈی چائے کا کپ اٹھا لیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب مہر علی نے یہ چائے نہیں پینی مہر علی خاموشی سے اس کی جانب تکتا رہا۔

”کہاں جا رہی ہو؟“ اس کے واپس پلٹتے ہی مہر علی سے نہ رہا گیا اور ایک دم ہی اس کا آنچل تھام کر روک لیا۔

”دوسری چائے بنا لاﺅں۔“

”ناراص ہو گئی ہو۔“وہ اٹھ کر اس کے قریب آگیا۔

”نہ مہر بھلا میں آپ سے ناراض ہو کر زندہ رہ سکتی ہوں۔“

جانے کیا ہوا دریہ کی آنکھیں ایک دم ہی آنسوﺅں سے بھر گئیں۔

”آپ تو میرے سر کے سائیں ہیں آپ ہی سے تو میری پوری دنیا آباد ہے نہ مہر میں آپ سے ناراض نہیں ہو سکتی میں تو دوسری چائے بنانے جا رہی ہوں آج رضیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ جلدی سو گئی تھی۔“ اس نے گیلی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا۔

”رہنے دو چائے یہاں آﺅ میرے پاس بیٹھو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔“ مہر علی نے چائے کا کپ دریہ کے ہاتھ سے لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور اسے تھام کر صوفے پر لا بٹھایا اور خود بھی اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔

”بات یہ ہے دریہ۔“ وہ پل بھر کو رکا اور اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالی جو نہایت معصومیت سے اس کی جانب تک رہی تھی۔

”کون کہہ سکتا ہے یہ لڑکی ماضی کی سٹیج ڈانسر دل ربا ہے ایک غلاظت بھری دلدل میں ڈوب کر ابھرنے والی، یہ تو آج بھی ویسی ہی پاکیزہ اور معصوم ہے عام لڑکیوں جیسی ایک لڑکی۔“ اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر دریہ کی جانب دیکھا جو منتظر نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

”دراصل بابا جان کا چیک اپ ہے جس کیلئے انہوں نے ابروڈ جانا ہے۔“ بات کرتے کرتے اس نے دریہ کا ہاتھ تھام لیا۔

”پہلے بھائی منصور ان کے ساتھ جاتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنی ذاتی مصروفیات کا بہانہ بنا کر انکار کر دیا ہے وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ وہ تم اچھی طرح جانتی ہو اسی طرح حبیب اور حسیب اللہ نے بھی منع کر دیا ہے اب ظاہر ہے ان کے ساتھ چیک اپ کیلئے کسی کو تو جانا ہی ہے اور میرے سوا کون ایسا ہے جو بابا جان کے ساتھ جائے اسی سلسلے میں شام ان کا فون آیا تھا۔“ اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتا ہوا مہر علی آہستہ آہستہ تمام تفصیل بتاتا گیا۔

”تو اس میں اتنی پریشانی والی کیا بات ہے۔“ دریہ ابھی بھی اس کی پریشانی کا سبب جان نہ پائی۔

”اس حال میں تمہیں اکیلا چھوڑنے پر میرا دل آمادہ نہیں ہو رہا تمہارے پاس کم از کم کسی ایک مرد کا ہونا ضروری ہے اگر خدا ناخواستہ تمہیں آدھی رات کو کوئی پرابلم پیش آجائے تو تم دونوں عورتیں کیا کرو گی بس یہ ہی سوچ کر میں پریشان ہوں گاڑی اور ڈرائیور کا ہر وقت تمہارے پاس رہنا ضروری ہے۔“ وہ دریہ کے ماتھے سے بال ہٹاتا ہوا بولا۔

”بات یہ ہے کہ دریہ میں اپنے گاﺅں کے کسی بھی بندے پر بھروسہ نہیں کر سکتا، یہ ہی وجہ ہے کہ میں حویلی کے کسی بھی بندے کو یہاں تمہارے پاس اکیلا نہیں چھوڑ سکتا، بظاہر میری ہمدردی کا دم بھرنے والے لوگ بھی اصل میں میرے باپ اور سالوں کے غلام ہیں، ان کے اشاروں پر ناچنے والے، دم ہلاتے کتے۔“ وہ کسی قدر نفرت اور حقارت سے بولا۔

”میرا خیال ہے تم مما سے بات کرو، اگر وہ کچھ دن آکر رہ لیں تو میری تسلی ہو جائے گی۔“

”چلیں ٹھیک ہے میں بات تو کر لوں گی، لیکن مجھے امید نہیں ہے کہ وہ آسکیں اور پھر دریہ کا اندیشہ درست ثابت ہوا، شہ پارا نے اپنی بیماری کے سبب آنے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی۔

”ایسا کرو تم میرے پاس آجاﺅ۔“ پارو کو اس سے بہتر کوئی حل نہ سوجھا۔

”نہیں مما جب اس گھر کے لوگ مجھے زندہ دفنا چکے تو میں کیوں سامنے آکران کی رسوائی کا سبب بنوں۔“ اسے اچانک ہی ولید کی کہی بات یاد آگئی۔

”چلیں اللہ مالک ہے، خود ہی کوئی بندوبست ہو جائے گا۔“ کچھ دیر ادھر ادھر کی بات کرکے اس نے فون بند کر دیا۔

”ایسا کرو تم میرے ساتھ گاﺅں آجاﺅ پندرہ دن کا تو مسئلہ ہے پھر تو مہر علی نے آہی جانا ہے۔“ صدوری اکثر و بیشتر ہی دریہ کو فون کرتی اور گھنٹوں لمبی لمبی گفتگو کیا کرتی، جس میں زیادہ تر وہ اپنی نندوں کے شکوے بیان کرتی جن کی عیاریوں سے وہ ہمیشہ ہی خائف رہتی جبکہ دریہ صرف ہوں ہاں ہی کرتی، کیونکہ اس کا واسطہ ابھی تک نند نامی اس رشتے سے کھل کر نہ پڑا تھا، اسے کبھی کبھی صدوری کی باتیں سن کر احساس ہوتا کہ نندوں کی بے اعتنائی اور بہن کی غیر موجودگی نے اسے دریہ کے قریب کر دیا تھا۔ وہ شاید اپنا اور دریہ کا رشتہ بھی فراموش کر بیٹھی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ جیسے ہی اسے دریہ کا مسئلہ پتا چلا فوراً فون کرکے اسے گاﺅں آنے کی آفر دے ڈالی۔

”تم بہت سیدھی ہو دریہ، تم صدوری کو کبھی نہیں جان سکتیں۔“

”جانے کیوں آپ ادی سے اتنی نفرت کرتے ہیں، وہ تو بہت اچھی ہیں، نرم خو اور مجھ سے محبت کرنے والی۔“ دریہ بات کرتے کرتے رکی اور مہر علی کی جانب دیکھا۔

”چلیں میں ادی کو منع کر دیتی ہوں، پھر آپ بتائیں میں کہاں جاﺅں، میرا کون سا میکہ ہے جو مجھے اپنی آغوش میں چھپا لے گا، مہر علی خود سوچیں میں اکیلی کیسے رہوں گی۔

”وہ سب تو ٹھیک ہے۔“ مہر علی نے اس کے تھکے تھکے چہرے پر ایک نظر ڈالی۔

”چلو تم تیار ہو جاﺅ میں تمہیں اور رضیہ کو آج ہی گاﺅں لے جاﺅں گا، وہاں اپنا بہت خیال رکھنا،رات کو اچھی طرح دروازہ بند کرکے سونا، یاد رکھنا اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھو گی تو ہی فائدے میں رہو گی، ورنہ تم ہماری حویلی کی روایات کو نہیں جانتیں میری جان کسی دھوکے میں نہ آنا، اپنا بہت خیال رکھنا۔“ جانے کون سی بات مہر علی کو دہلا رہی تھی اور مہر علی کی باتیں اسے الجھا رہی تھیں۔

”بھلا مجھے کوئی کیا دھوکہ دے گا۔“ اس نے سوچا ضرور، لیکن مہر علی سے پوچھا نہیں اور پھر اسی رات اسے گاﺅں چھوڑ کر بہت سی ہدایات دیتا ہوا مہر علی ابروڈ کےلئے روانہ ہو گیا، جہاں سے واپس تو اسے پندرہ دن بعد آجانا تھا، لیکن بابا جان کے کچھ کام کی وجہ سے اس کا قیام ایک ہفتہ مزید بڑھ گیا، دریہ کے بغیر ایک، ایک پل اسے صدیوں کا زمانہ محسوس ہو رہا تھا، آنے سے تین دن قبل اس نے دریہ کو فون کیا تو وہ بے حد خوش تھی۔ صدوری نے اس کا بہت خیال رکھا تھا، بالکل اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح۔

”مہر جب واپس آﺅ تو جو کچھ میرے لئے لاﺅ ادی کیلئے بھی ضرور لے کر آنا۔“ فون رکھتے رکھتے وہ اسے تاکید کرنا نہ بھولی۔

”شاید میں ہی صدوری کو نہ سمجھ سکا۔“ پل بھر کو اسے افسوس ہوا، صدوری کے سلسلے میں لگائے گئے اس کے تمام اندیشے غلط ثابت ہوئے، دریہ کی خوشی نے اسے بھی اندر تک مطمئن کر دیا۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ صادقہ نواب سحر قسط نمبر 01  ٭ ڈیلیوری بوائے  ” ڈیلیوری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے