سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 7

آخری قسط

”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے”

بسمہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی کہ اس بندی کا نام کیا تھا جس نے یہ تقریر کی تھی۔ اسے اس دن جو بات غلط لگی تھی آج حرف بہ حرف ٹھیک لگ رہی تھی۔ ہر حق تو چھین لیا گیا تھا اس سے۔ مارنے تک کی دھمکی تو دے ہی چکا تھا باسط۔ اور جو شخص ایک عورت کی عزت لوٹ چکا ہو۔ اس کے لیے کسی دوسری عورت کو قتل کرنا کیا مشکل ہوگا۔ اور بسمہ کے ساتھ بھی اس کا تعلق کونسا بہتر تھا۔ شوہر ہونے کے باوجود بسمہ کو روز جس ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا تھا وہ اسے کسی ریپ سے کم نہیں لگتی تھی۔ مگر وہ شعوری طور پہ کبھی اسے قبول نہیں کرپائی۔

یہ تو نہیں چاہا تھا اس نے۔ کوئی بہت بڑے بڑے خواب نہیں تھے اس کے، بس ایک خواہش ہی تھی نا کہ جو زندگی کا ساتھی ہو وہ محبت اور عزت کرنے والا ہو۔ اس کا لمس بسمہ کے لیے باعث تکلیف نا ہو۔ ایسا کیا گناہ کیا تھا اس نے جس کی اتنی بڑی سزا ملی اسے۔ اس نے تو سب کو خوش رکھنا چاہا تھا۔ امی ابو دادی باسط ساس سسر حد یہ کہ نازیہ بھابھی تک کو۔ وہ سامنے دیوار کو گھورے جارہی تھی اور آنسو بہہ رہے تھے۔

”بسمہ، شنو” ذکیہ نے دروازے سے اندر جھانک کے دونوں کو آواز دی تو بسمہ کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اس نے چونک کر ذکیہ کو دیکھا اور آنسو پونچھے۔

”میڈم نیچے ہال میں بلا رہی ہیں کوئی این جی او والے آئے ہیں۔ وہ والی میڈم بھی ہیں جو پچھلے ہفتے آئی تھیں نا۔ بڑی پیاری سی۔”

”میڈم بختاور؟” شنو ایک دم پر جوش ہوگئی۔

”چل چل بسمہ یہ باجی بہت اچھی ہیں۔ چل سنتے ہیں کیا بتانے آئی ہیں”

”بسمہ کو نام سنا سنا لگا۔

”یہ کون ہیں شنو”

”میڈم بختاور احمد؟ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ پہلے بھی دو بار یہاں آچکی ہیں۔ بہت اچھی باتیں بتاتی ہیں۔ مجھے بہت ہمت ملتی ہے ان کی باتوں سے۔ کہہ رہی تھیں یہاں کوئی پراجیکٹ شروع کرنا چاہ رہی ہیں تاکہ عورتوں کی کچھ مدد ہوسکے۔” شنو اور بسمہ باتیں کرتی جارہی تھیں اور ہال کی طرف جارہی تھیں۔ بسمہ کو ایک دم یاد آیا یہی نام تو تھا اس تقریر والی کا۔ شاید وہ ہی سب سے پہلے ہال میں پہنچیں۔ کیونکہ ہال میں دو تین عورتیں ہی نظر آئیں جو لباس سے ذرا الگ ماحول کی لگ رہی تھیں اور لگ رہا تھا کہ وہ نا دارلامان کی رہنے والی ہیں نا اسٹاف ہیں۔ دو کا رخ ان کی طرف تھا اور ایک پیچھے مڑ کے بیگ سے سامان نکال نکال کے رکھ رہی تھی۔

شنو نے اشارہ کیا اسی عورت کی طرف جو سامان نکال رہی تھی

”یہ ہیں میڈم بختاور۔ باقی دونوں بھی ان کے ساتھ آتی ہیں مگر بات یہی کرتی ہیں۔ تو ان کا ہی نام یاد رہ گیا۔”

بسمہ نے سر ہلا دیا۔ نیچے دریاں بچھی ہوئی تھیں ساری جگہ ہی خالی تھی شنو اور بسمہ آگے ہی جاکر بیٹھ گئیں۔ شنو نے بیٹی کو گود میں لٹا لیا۔ وہ عورت کام نپٹا کر پلٹی تو بسمہ کو لگا اس نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ پھر ایک دم ذہن میں جھماکہ ہوا

”اسلم کی بھابھی”

بسمہ اور بختاور کی نظریں ملیں تو بختاور کی آنکھوں میں بھی شناسائی اور حیرت جھلکی۔ مگر وہ کچھ بولی نہیں۔ کافی عورتیں آگئی تھیں اور کچھ آرہی تھیں۔ پانچ منٹ اور انتظار کر کے بختاور نے بات کا آغاز کردیا۔ اس نے اپنا اور اپنے ادارے کا تعارف کروایا پھر بتایا کہ وہ دارالامان میں ایک پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں جس میں خواتین کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے۔ اور تعلیم بالغان کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ اس نے بیگ میں سے نکالے ہوئے سامان میں سے کچھ فارمز وغیرہ نکال کے دکھائے۔ پھر اپنی بات کی وضاحت کی

”دیکھیں یہاں آنے والی خواتین کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ شوہر نے چھوڑ دیا اور گھر والے یا تو قبول ہی نہیں کر رہے یا پھر دوبارہ اپنی مرضی سے شادی کروانا چاہتے ہیں۔ آپ کو قانون اور شرع دونوں یہ حق دیتے ہیں کہ جہاں آپ شادی نہیں کرنا چاہتی وہاں منع کر سکتی ہیں مگر ہمارا معاشرہ آپ کو یہ حق نہیں دیتا۔ شادی کے نام پہ بار بار بیچنا عورت کی تذلیل ہے۔ آپ کا حق ہے کہ آپ کی شادی میں آپ کی رائے کو فوقیت دی جائے۔ اب آپ لوگ یہ سوچ رہی ہوں گی کہ میری اس پوری تقریر کا ہمارے پراجیکٹ سے کیا تعلق ہے۔ تو تعلق یہ ہے کہ یہاں پہ آپ لوگ محفوظ تو ہیں مگر یہاں آپ کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ آپ لوگوں کو واپس کہیں نا کہیں جانا ہوتا ہے یا تو مجبور ہو کر والدین کے یا شوہر کے پاس یا پھر دوسری شادی کرنی پڑتی ہے۔ میرے دارلامان میں کافی چکر لگ چکے ہیں اور میں نے جو بات نوٹ کی وہ یہ کہ آپ میں سے عموما خواتین مجبور ہوکر دوسری شادی کرتی ہیں کیونکہ آپ کو باہر تحفظ چاہئے مگرجس کے ساتھ اپ لوگ تحفظ کے لیے جاتی ہیں وہی شخص آپکو تحفظ نہیں دیتا اور بہت سی خواتین دوبارہ کچھ عرصے بعد یہاں آنے پہ مجبور ہوجاتی ہیں اور پھر کسی تیسرے کی امید لگا لیتی ہیں جو انہیں یہاں سے نکال سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی مسئلے کا حل ہے؟”

خواتین نے نفی میں سر ہلایا

”میڈم ہم کریں بھی تو کیا کریں۔ لوگ ہمیں اکیلا جینے ہی نہیں دیتے۔ ہماری تو قوم ایسی ہے پچھلے شوہر سے تو طلاق عدالت نے دلوا دی مگر ہمارا جو پورا قبیلہ بیٹھا ہے کہ میں نکلوں یا تو مجھے قتل کردیں یا پھر کسی اور کو بیچ دیں۔ ایسے میں ہمارے پاس کیا حل رہ جاتا ہے۔ ہمیں بھی پتا ہوتا ہے یہ دوسرا بھی سر پہ نہیں بٹھائے گا مگر شاید دو جوتے کم مارے۔ میرا تو دوسرا شوہر بھی ڈھونڈ لیا ہے گھر والوں نے، پچاس ہزار میں”

یہ وہی تھی جس کے شوہر نے اسے اس لیے نکال دیا تھا کیونکہ سسر اور دیور کی اس پہ بری نظر تھی۔

”بالکل یہی بات جو میں کرنا چاہ رہی ہوں۔ تم لوگ مجبور ہو دو وجوہات سے ایک تو یہ وجہ کہ جنہیں تحفظ کرنا چاہیے وہی مارنے پہ تلے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر فرض کرلیا کہ وہ ماریں گے نہیں تو قبول بھی نہیں کریں گے یا پھر کسی ایسے ہی شخص کے حوالے کردیا جائے گا۔ اکیلی تم لوگ رہ نہیں سکتیں کیوں کہ زندہ رہنے کے لیے کچھ نا کچھ کمانا بھی ضروری ہے۔ دیکھو تعلیم ہمارا بہت اہم ہتھیار اور طاقت ہوتی ہے۔ یہ ہمیں شعور بھی دیتی ہے اور اعتماد بھی ساتھ ہی صحیح فیصلہ کرنے میں مدد بھی کرتی ہے۔”

”مگر باجی ہمیں تو پڑھایا ہی نہیں گیا۔ بس ہماری تو قسمت میں ہی یہ لکھ دیا گیا ہے۔” ایک عورت اتنی مایوس تھی کہ اس نے پوری بات بھی نہیں سنی بیچ میں ہی بول پڑی۔

”سارے مرد بھی پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ غریب بھی ہوں تو دارلامان میں رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی انہیں۔ وجہ پتا ہے؟”

”ان کی عزت کون لوٹے گا میڈم انہیں کیا مسئلہ مرد ہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں پھر انہوں نے دنیا دیکھی ہے ہم گھر میں رہنے والی عورتیں باہر کے معاشرے کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔” ایک اور عورت بولی

”ہماری یہ ایک سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ مرد کی عزت کو کوئی خطرہ نہیں۔ جتنا خطرہ عورت کی عزت کو ہے مرد کی عزت کو بھی اتنا ہی خطرہ ہے۔ اسے بھی اتنا ہی استعمال کیا جاتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ ہم عورت کو غیر ضروری حد تک محفوظ کرنا چاہتے ہیں کہ اسے معاشرے میں عضو معطل بنا دیا ہے اور مرد کو بالکل تحفظ نہیں دیتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ مردانگی کے خلاف ہے۔ جبکہ ان کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ہمیشہ اسے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی نا کسی حوالے سے کمزور ہو۔ عورت جسمانی کمزور ہوتی ہے مرد کی کمزوری اس کی غربت ہوتی ہے۔”

”باجی پھر مرد بھی گھروں میں رہیں گے تو گھر کیسے چلیں گے؟” اب کے ذکیہ بولی اس کے لہجے میں تمسخر تھا جسے بختاور نے مکمل نظر انداز کردیا اور صرف اس کی بات پہ دھیان رکھا۔

”یہی وہ بنیادی بات تھی جہاں تک بات کو لانا تھا۔ محفوظ مرد بھی نہیں عورت بھی نہیں۔ گھر میں چھپ کر نا زندگی مرد گزار سکتا ہے نا عورت۔ آپ میں سے آدھی خواتین کا تعلق گاوں گوٹھوں سے ہے جہاں مرد اور عورت مل کر کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ کمائے گئے پیسے ٹھیکیدار گھر کے مرد کے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ عورت کھیت سے گھر جاتی ہے اور مرد پیسے لے کر ہوٹل۔” بختاور ان کی ہی زندگی کے اہم رخ اجاگر کر رہی تھی اور عورتیں غور سے اس کی بات سن رہی تھیں اور اثبات میں سر بھی ہلاتی جارہی تھیں۔

”آج اگر یہ سب عورتیں گھروں میں بیٹھ جائیں تو ہمارا ملک مفلوج ہوجائے گی۔ رزق حلال کمانے سے تو مذہب نے بھی منع نہیں کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے اور آپ جو کمائیں اس پہ آپ کا حق ہو۔ آپ انسان ہیں چیز نہیں جسے اس کی مرضی کے بغیر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ہاتھ میں دیا جاتا رہے۔ نا کوئی مال مویشی ہیں کہ اس کی محنت کے پیسے اس کے مالک کے ہاتھ میں دیئے جائیں۔ اب یہاں پہ پراجیکٹ شروع کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ آپ لوگوں کو نئے ہنر سکھائے جائیں۔ جو ہنر آپ کو آتے ہیں اس سے آپ کے روزگار کے مواقع بنائے جائیں۔ اور جو خواتین اپنے ہنر کی مدد سے اپنے بل بوتے پہ زندگی گزارنا چاہتی ہیں انہیں ایک محفوظ جگہ فراہم کی جائے۔”

”کیا مطلب باجی” اب کے شنو نے پوچھا

”مطلب یہ کہ پہلے تو ہم یہاں نئے ہنر سکھائیں گے جو آپ کو یہاں سے باہر جاکر بھی فائدہ دے سکیں۔ اور کچھ بنیادی تعلیم دیں گے تاکہ مسائل کو سمجھ کے حل کرنے کاشعور آسکے۔ مگر اس کے علاوہ ہمارا ایک ہوسٹل ہوگا جہاں وہ خواتین رہ سکیں گی جن کے آگے پیچھے کوئی نہیں اور نا ہی وہ یہ چاہتی ہیں کہ کسی انجان شخص سے صرف اس لئے شادی کریں تاکہ یہاں سے نکل سکیں۔ یہاں سے وہاں منتقلی کی باقاعدہ قانونی کاغذ بنیں گے۔ وہاں آپ کی حفاظت کی ذمہ داری ہم پہ ہوگی۔جس کے لیے ہم عدالت کو جواب دہ ہوں گے۔ ہمارے پاس دس عورتوں کی گنجائش ہے فی الحال۔”

”یعنی ایک دارلامان سے نکل کر دوسرے میں چلے جائیں۔ یہ بات تو آپ پہلے بھی بتا سکتی تھیں اتنی لمبی تقریر کے بعد بتایا۔” اب کی بار بھی ذکیہ ہی بولی۔ وہ بہت بےزار بیٹھی تھی۔

بختاور ہلکے سے مسکرائی

”ساری تقریر کا مقصد یہ تھا کہ وہ دوسرا دارلامان نہیں ہوگا وہاں آپ کو باہر آنے جانے کی آزادی ہوگی۔ آپ جو کمائیں گی وہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا ایسی صورت میں اپنی زندگی کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ آپ کو کسی کے ساتھ مجبورا نہیں جانا ہوگا۔ مجھے پتا ہے کہ عموما کو یہ حل غیر حقیقی لگے گا اسی لیے ہم نے دس سے زیادہ خواتین کی امید بھی نہیں رکھی۔ مگر یہ دس بھی اپنی زندگیاں بہتر بنانے میں کامیاب ہوگئیں تو میرے خیال سے ہمارے لیئے یہ ایک کامیابی ہوگی۔”

”یعنی آپ عورتوں کو ایک ایسی جگہ دیں گی جہاں وہ مادر پدر آزاد زندگیاں گزار سکیں جہاں جائیں جس سے ملیں؟” یہ خاتون کچھ ہی دن پہلے یہاں آئی تھیں اور بار بار دوسری عورتوں کو جتاتی تھیں کہ وہ ان جیسی گری پڑی نہیں ہیں بہت عزت دار گھرانے کے خاتون ہیں۔ مسئلہ ان کا بھی وہی تھا کہ شوہر سے طلاق لینی تھی اور گھر والے سپورٹ نہیں کرہے تھے۔

”میں نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ یہ جگہ ان جواتین کے لیے ہوگی جن کے آگے پیچھے کوئی نہیں یا پھر گھر والے ہی انہیں سپورٹ کرنے کو تیار نہیں، ان کو غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے یہ اقدام کیا جارہا ہے غلط لوگوں تک پہنچانے کے لیے نہیں۔ زبردستی کسی پہ نہیں ہوگی جو اپنی مرضی سے وہاں جانا چاہے گی اسی کو وہاں لے جایا جائے گا۔ ہماری اولین ترجیح یہ ہوگی کہ آپ لوگوں کو ہنر سکھا کر اتنا پراعتماد بنایا جاسکے کہ آپ لوگ جب گھروں کو جائیں تو پہلے کے مقابلے میں بہتر زندگی شروع کریں۔” پھر اس نے مزید تفصیل بتائی

”یہ فارم ہیں جو پہلے ان سب کے بھرے جائیں گے جو مختلف ہنر سیکھنا چاہتی ہیں یا پڑھنا چاہتی ہیں۔ اس کے بعد بیس خواتین ایسی جنہیں یہاں سال سے زیادہ ہوگیا ہے وہ ہمارے شیلٹر کے لیے فارم فل کرسکتی ہیں۔ دو مہینے یہیں ان کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے اور ساتھ ساتھ مخلتف قانونی کاروائیاں ہونگی جس کے بعد شارٹ لسٹ ہونے والی خواتین کو وہاں منتقل کردیا جائے گا۔”

” میڈم میں دونوں فارم بھروں گی مگر میڈم شارٹ لسٹ کیوں کریں گی؟” شنو نے پوچھا

”بیٹا دو مہینے میں ہوسکتا ہے ان خواتین میں سے کسی کا مسئلہ حل ہوجائے تو وہ چلی جائے یا اس کا ارادہ بدل جائے۔ اس کے علاوہ اگر اس کے گھر والے موجود ہیں اور اسے قبول نہیں کر رہے تو ہم عدالت میں اس کے گھر والوں سے ایک بیان پہ سائن کرائیں گے جس میں وہ عہد کریں گے کہ وہ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے نا ہی جانی نقصان پہنچائیں گے۔ اس میں وقت بھی لگ سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس عورت کو شفٹ کرنے کا اجازت نامہ نا ملے۔ تو خود ہی کافی عورتیں کم ہوجائیں گی۔”

بسمہ سب کچھ اتنی چپ چاپ دیکھ رہی تھی جیسے وہاں ہو ہی نہیں۔ مگر سوچ مسلسل رہی تھی۔ جن جن خواتین نے نام لکھوانے تھے وہ لکھوا دیئے گئے۔ سب جانے لگیں تو بسمہ اور شنو بھی اٹھیں۔ بختاور نے بسمہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

”آپ رکیں دو منٹ” شنو نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو بسمہ نے اسے جانے کا اشارہ کردیا اور خود رک گئی۔

”آپ باسط بھائی کی مسز ہیں؟”

بختاور کے پوچھنے پہ بسمہ نے ہاں میں سر ہلا یا اور شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

”آپ اسلم کی کلاس فیلو بھی تھیں نا؟ سوری آپ کو شاید عجیب لگے مگر مجھے آپ کا اور اسلم والا سارا معاملہ پتا ہے اس نے جو آپ کو میسجز کیئے وہ بھی۔ ضروری نہیں کہ ایسا ہو مگر مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کے یہاں ہونے سے اس کا کوئی تعلق ضرور ہے۔ اگر میں کوئی مدد کر سکوں تو پلیز مجھے بتائیں۔”

”آپ اگر کر سکتی ہیں تو اتنا کریں کہ اپنے دیور کو میری زندگی سے دور رہنے کا کہہ دیں۔ مجھے حیرت ہے آپ دنیا سدھارنے نکلی ہیں اور آپ کے اپنے گھر کے مردوں کا یہ حال ہے کہ وہ کلاس فیلوز کی زندگیاں تباہ کرتے پھرتے ہیں۔”

”بسمہ آپ کی ناراضگی بالکل بجا ہے۔ میرے ساتھ کوئی لڑکا ایسا کرتا تو شاید میرے بھی اس کے لیے یہی جذبات ہوتے۔ میں اسلم کی کوئی صفائی پیش نہیں کروں گی۔ اس نے جو کیا غلط کیا۔ مگر یہ بھی خیال رکھیں کہ میں اسلم نہیں ہوں میری شخصیت اس سے الگ ہے۔ میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں لیکن اگر آپ مجھے اسلم کے حوالے سے دیکھتی رہیں گی تو شاید ایسا ناہوپائے۔” بسمہ ہونٹ بھینچے دوسری طرف دیکھتی رہی

”ٹھیک ہے آپ میرا کارڈ رکھیں اگر کبھی بھی ضرورت ہو تو مجھ سے رابطہ کیجیئے گا۔ بس ایک بات یاد رکھیں آپ خود اپنے لیے کچھ نہیں کریں گی تو کوئی دوسرا بھی آپ کے لیے کبھی کچھ نہیں کرے گا۔ ہر ایک کی اپنی زندگی ہے اور اس کےلیے اس کی زندگی اہم ہے۔ آپ بھی اپنی زندگی کو اہمیت دیں۔” بختاور نے پرس سے اپنا کارڈ نکال کر بسمہ کو تھمایا اور سامان اٹھا کر ہال سے باہر نکل گئی۔ بسمہ کا دل چاہا کارڈ پھینک دے مگر پھر لاکر اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا۔

باقی دن بھی بے زار کن تھا۔ بسمہ کو جلدی تھی کہ کسی طرح اگلا دن شروع ہو اور وہ عدالت جائے۔ تقریبا 6 بجے کاوقت تھا جب کلرک نے اسے بلایا۔

”بی بی آپ کے بھائی سے رابطہ ہوا ہے انہیں کل عدالت میں بلایا ہے۔ آپ نے اپنے شوہر کا جو نمبر دیا تھا اس پہ جس بندے نے فون اٹھایا اس نے کہا کہ وہ کسی بسمہ کو نہیں جانتا اور نا ہی وہ باسط ہے۔ اب آپ کے پاس یہی آپشن ہے یا تو کل بھائی کے ساتھ چلی جاو یا واپس یہیں آجاو۔” بسمہ نے سر ہلا دیا۔ اسے تھوڑی سی تسلی ہوئی کہ بڑے بھیاکل عدالت آئیں گے۔ اسے بہتری اسی میں لگی کہ وہ ان کے ساتھ ہی چلی جائے۔ وہ یہاں رہ کر کسی دوسرے کا انتظار نہیں کرسکتی تھی نا ہی بختاور کے ہوسٹل جانا منظور تھا۔ وہ اسلم کی بھابھی نا بھی ہوتی تو بھی بسمہ اتنا بڑا قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ مگر پتا نہیں کیوں وہ چاہ کر بھی اس کی باتوں سے دھیان ہٹا نہیں پارہی تھی۔ جیسا اس نے کہا کہ عورت کمزور ہوتی ہے اسی لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے مگر بسمہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ مرد غریب بھی ہو تو اس کا استعمال کون کرے گا اور کیوں۔ عورت تو خود ہی کمزور ہوتی ہے وہ مرد کی عزت کیسے لوٹ سکتی ہے اور مرد ہی مرد کی عزت تو لوٹے گانہیں۔ بہت الجھا دینے والی بات تھی۔ اس نے ابھی تک مرد کو طاقتور اور ظالم کے روپ میں ہی دیکھا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ دنیا کا ہر مرد خود غرض،عورت کو دیکھ کر بہک جانے والا اور بس پیسے کا لالچی ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں جتنے مرد آئے ایسے ہی تھے فائزہ ہمیشہ اپنے والد کی تعریف کرتی تھی اور بسمہ انہیں آئیڈیلائز کرتی تھی کہ ہر باپ کو ایسا ہونا چاہیئے مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ فائزہ ضرور جھوٹ بولتی ہو گی مرد کبھی بھی عورت کو سپورٹ کرتا ہی نہیں ہے وہ ہمیشہ اسے استعمال کرتا ہے۔ وہ بختاور کی ان تمام باتوں سے متفق تھی کہ عورت کو استعمال کیا جاتا ہے اس کی محنت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے مگر ساتھ ہی وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ مرد کا بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ وہ مرد کو مظلوم سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی کسی بھی صورت میں۔ وہ سوچے جارہی تھی۔ کوئی اور کام تھا نہیں اگلے دن تک اس کے پاس سوچنے کے لیے وقت ہی وقت تھا۔

”بسمہ” شنو نے اسے آواز دی۔ وہ اپنے حصے کا کام وغیرہ نپٹا کر ابھی ہی واپس آئی تھی۔ بسمہ نے اس کی طرف دیکھا۔

”تم نے نام کیوں نہیں لکھوایا؟ مجھے تو بہت اچھا لگا ان کا پراجیکٹ۔”

”میں کل بھائی کے ساتھ گھر چلی جاوں گی مجھے کیا ضرورت ہے کسی شیلٹر کے لیئے نام لکھوانے کی؟”

”اور شوہر سے طلاق لو گی یا سسرال واپس جاو گی؟ وہ رکھ لے گا؟”

بسمہ کے دل میں سناٹے اتر گئے۔ اس طرف تو اس نے سوچا ہی نہیں اس کو بس یہ دھن تھی کہ کسی طرح اس قید خانے سے نکل جائے۔

”پتا نہیں” یہ کہہ کر شنو کی بات کا تو جواب دے دیا مگر اب اس کے اپنے دماغ میں سوالوں اور خدشوں کا سیلاب آگیا۔ وہ تو میکے جائے گی مگر ابو اور امی اسے رکھیں گے؟ بھیا چپ رہیں گے؟ دادی اور بہنیں کیا کہیں گی؟ وہ دوبارہ باسط کے ساتھ اس وحشت ناک کمرے میں رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ تو کیا پھر وہ طلاق لے؟ کیا گھر والے اسے طلاق لینے دیں گے؟

”دیکھو تعلیم ہمارا بہت اہم ہتھیار اور طاقت ہوتی ہے۔ یہ ہمیں شعور بھی دیتی ہے اور اعتماد بھی ساتھ ہی صحیح فیصلہ کرنے میں مدد بھی کرتی ہے۔” اس کے دماغ میں بختاور کی آواز گونجی۔ وہ جتنا اس کی باتوں کو نظر انداز کر رہی تھی اتنا ہی ہر بار اسے اور شدت سے یاد آرہی تھیں۔ اس نے تکیے کے نیچے سے کارڈ نکال کر دیکھا۔ کافی دیر اسے گھورتی رہی پھر پتا نہیں کب وہ کارڈ ہاتھ میں پکڑے پکڑے سو گئی۔ صبح اس کی آنکھ نوشین کے اٹھانے پہ کھلی۔کارڈ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے بستر پہ گر گیا تھا۔

”اٹھو! جلدی سے تیارہو جاو،پندرہ منٹ میں پولیس کی گاڑی آرہی ہے تمہیں کورٹ لے جانے کے لیے۔”

وہ اتنا ہڑبڑا کے اٹھی کہ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ بھاگ کے دروازے تک گئی پھر کچھ سوچ کے پلٹی بستر پہ سے کارڈ اٹھا کر دو سیکنڈ سوچا کہ کہاں رکھے اس کے پاس کوئی پرس یا جیب نہیں تھی۔ پھرکارڈ گریبان میں رکھا اور باہر نکل گئی۔ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر نیچے آفس والی بلڈنگ کے پاس پہنچی تو مین گیٹ سے پولیس کی وین اندر آتی دکھائی دے رہی تھی۔ بسمہ کا تیز دھڑکتا ہوا دل اور تیز دھڑکنے لگا۔ اسے اپنی کنپٹیاں پھڑکتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے ڈر کیوں لگ رہا ہے۔ عدالت کے باہر جب اسے گاڑی سے اتارا تو تھوڑی دور اسے ابو اور بھیا کھڑے نظر آئے۔ ان کی بھی نظریں اسی کی طرف تھیں۔ دونوں کی نظروں میں واضح ناراضگی تھی۔ اسے لے جاکر ایک جگہ بٹھا دیا گیا پھر اس کی باری آئی تو جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے وہی سب کچھ جو دارالامان میں بتایا تھا یہاں بھی بتا دیا۔ جج کا رویہ اس کی توقع کے برخلاف کافی نرم تھا۔ انہوں نے اس سے شفقت سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے اپنے بھائی اور والد کے ساتھ جانے میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے یا نہیں اگر نہیں تو کوئی اس پہ کسی قسم کی زبردستی نہیں کرسکتا اور عدالت اسے مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ وہ جو پکا ارادہ کیے بیٹھی تھی کہ گھر جانا ہے فیصلہ بتاتے وقت پتا نہیں کیوں کنفیوز ہوگئی۔ بھیا اور ابو کی ناراض نظریں مسلسل اس پہ تھیں۔ جج نے دوبارہ اسے تسلی دی کہ فیصلہ اس کی مرضی سے ہوگا اور یہ اس کا قانونی حق ہے۔ شاید انہیں بھی اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کچھ کہتے میں کیوں ہچکچا رہی ہے۔ جج نے اسے مزید مطمئین کرنے کے لیے کہا

”بیٹا آپ گھبرائیں نہیں یہ عدالتیں آپ کے لیے ہی ہیں کوئی آپ کے حقوق کے خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم بیٹھے ہیں آپ کو تحفظ دینے کے لیے۔ آپ پریشان نا ہوں اور اعتماد کے ساتھ فیصلہ کریں۔” بسمہ رو پڑی اسے زندگی میں کبھی بھی فیصلے کا اختیار دیا ہی کب گیا تھا۔ اسے صرف بتایا جاتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس کے دل میں آیا کہ گھر والوں کی ایسی نظریں برداشت کرنے سے بہتر ہے وہ دارلاامان واپس چلی جائے۔ مگر پھر کچھ سوچ کے دوبارہ اپنا فیصلہ بدل دیا۔

”جناب میں اپنے والد کے ساتھ گھر جانا چاہتی ہوں”

عدالت سے دوبارہ اسے دارلامان بھیجا گیا تاکہ ضروری کاغذی کاروائی کرکے اسے باقاعدہ آزاد کیا جائے۔

بھیا کی گاڑی گھر کے دروازے پہ رکی تو چند لمحوں کے لیے بسمہ کو لگا جیسے وہ کئی صدیوں بعد اس گیٹ کو دیکھ رہی ہے۔ حالانکہ صرف 4 دن بعد وہ واپس آگئی تھی۔ وہ گھر میں داخل ہوئی تو خلاف توقع امی اور دادی نے بڑھ کے اسے گلے لگا لیا۔ امی کافی دیر اسے گلے سے لگائے روتی رہیں۔ دادی مسلسل باسط کو دہائیاں دے رہی تھیں جس نے ان کی بچی کو ایسے گھر سے نکال دیا تھا۔ بسمہ رونا چاہتی تھی مگر اس کے آنسو خشک تھے۔ اسے جس وقت ان کی پشت پناہی کی ضرورت تھی اس وقت سب نے اسے سسرال میں بنا کے رکھنے کے مشورے دیئے۔ اب گلے سے لگا لگا کے رونے کا کیا فائدہ؟ بسمہ کو ان سب سے الجھن ہورہی تھی۔ وہ خود کو چھڑا کر باتھ روم چلی گئی بہت دیر تک نہاتی رہی جیسے دارلامان کی ہر یاد بہا دینا چاہتی ہو۔

اگلے کچھ دن گھر کا ماحول تناو کا شکار رہا۔ امی اور دادی، ابو اور بھیا کو قصور وار ٹھہراتیں کہ وقت پہ بسمہ کی مدد کردی جاتی تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔ جب کے بسمہ سب سے ہی بے زار تھی۔ باسط اور اس کا مسئلہ صرف چند روپوں کے دینے اور نا دینے کا نہیں تھا۔ ایک ایسا شخص جو عورت کو صرف استعمال کی چیز سمجھتا ہو اسے پسند کرتے ہوئے گھر والوں نے کیا دیکھا؟ بسمہ کو اتنا غصہ تھا کہ وہ اپنی عادت کے برعکس سارا دن ٹھس بیٹھی رہتی۔ امی کو کام کرتے دیکھتی رہتی اور خود یا تو سوتی رہتی یا پھر بلا وجہ بستر پہ پڑی رہتی۔ جب کئی دن یونہی گزر گئے تو ایک اتوار کو جب دونوں بہنیں بھی آئی ہوئی تھیں تو امی نے اسے بٹھا کر بات کرنے کا سوچا۔

”آگے کا کیا سوچا ہے اب تم نے؟”

”کس حوالے سے”

اپنی زندگی کے حوالے سے، شوہر کے پاس کب جاو گی۔ کہو تو ہم اس سے بات کر کے معاملہ سلجھانے کی کوشش کریں؟”

بسمہ نے حیرت سے انہیں دیکھا

”امی آپ کے خیال میں واپس جانے کی یا معاملہ سلجھانے کی گنجائش ہے؟”

”بسمہ ہر معاملہ سلجھانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اللہ نے عورت کی ذات میں بڑی نرمی اور لچک رکھی ہے۔ چلو اگر باسط سے غلطی ہو بھی گئی تو تم دل بڑا کرو اور معاف کردو۔ ابھی تمہیں زمانے کا نہیں پتا عورت کا جینا مشکل کر دیتے ہیں۔ عورت تو بس اپنے شوہر کے گھر میں ہی عزت سے رہتی ہے۔”

اسماءآپی نے اپنے حساب سے بہت مدلل بات کی اور بشرہ اپی نے زور و شور سے سر ہلا کر ان سے اتفاق کیا۔

”آپی جو میں دو دن میں دیکھ کر آئی ہوں وہ آپ چاروں خواتین کے زندگی بھر کے تجربے سے زیادہ ہے۔ لہذا آپ مجھے یہ تو نا ہی بتائیں کہ مجھے کیا پتا ہے اور کیا نہیں۔ اور ریپ غلطی نہیں ہوتی جرم ہوتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ آپ لوگوں کا سارا دھیان اس دو منٹ کے واقعے پہ کیوں ہے جب اس نے مجھے گھر سے نکالا۔ وہاں اتنے عرصے میں نے کیا کچھ سہا وہ کیوں نہیں دیکھتے آپ لوگ؟” بسمہ کا یہ لہجہ سب کے لیے حیران کن تھا۔ بسمہ کو خود بھی پتا نہیں چلا تھا کہ کب نازیہ کو جواب دیتے دیتے اسے ہر بات کا جواب دینا آگیا تھا۔

اگر یہ پہلے والی بسمہ ہوتی تو شاید امی اور دادی اسے اتنی بات کرنے پہ خوب سناتیں مگر سب سے انوکھے تو اس کے تیور تھے جس نے سب کو سانپ سونگھا دیا تھا۔

”آپ لوگ پلیز مجھے کچھ دن سکون لینے دیں۔ میں خود جو فیصلہ کروں گی بتا دوں گی۔” بسمہ یہ کہہ کر ان سب کے بیچ سے اٹھ گئی۔

شاید ان چاروں کو ہی اندازہ نہیں تھا کہ وہ جاتی ہوئی بسمہ کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں جیسے کوئی خلائی مخلوق دیکھ لی ہو۔ بسمہ کے لہجے سے جو بغاوت جھلک رہی تھی وہ خوفناک تھی۔ کسی طوفان کا پیش خیمہ۔

اگلے دن ابو آفس سے آئے تو چہرے پہ غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ امی کو اندازہ ہو ہی گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ پوچھنے پہ پتا چلا کہ آج کوئی بندہ ملنے آیا تھا جو باسط کے گھر کے قریب ہی رہتا ہے۔ اس نے بتایا کہ کچھ دن پہلے باسط کو ایک ہفتے کے ریمانڈ پہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس پیشی میں نازیہ کی ہی طرف سے رافع کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اور اس پہ لگے چارج ختم کروائے گئے تھے۔ مگر باسط پہ تمام الزام برقرار تھے اور صورت حال سے اندازہ ہورہا تھا کہ فیصلہ باسط کے حق میں نہیں ہوگا۔ نازیہ نے ثبوت کے طور پہ رافع کا کوئی بیان بھی جمع کروایا تھا۔ جس میں باسط کے جرم کا تذکرہ بھی تھا اور یہ بھی پتا چلتا تھا کہ رافع نے خودکشی کی ہے۔ رافع کی موت کی خبر بسمہ کے لیے شدید دھچکہ تھی۔ اتنے عرصے میں اس نے یہی دیکھا تھا کہ اس گھر کا سب سے بے ضرر فرد رافع تھا۔

بسمہ جو کچھ دن سکون سے گزارنا چاہتی تھی۔ اس خبر کے بعد وہ ذہنی طور پہ خود کو بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔ اچانک اسے عجیب و غریب خواب دکھائی دینے لگے۔ اسے کبھی اپنا آپ دوبارہ دارلامان میں نظر آتا۔ کبھی اسے گل بانو بارش میں کھڑی روتی دکھائی دیتی۔ کبھی دارلامان کی وہ کم عمر لڑکیاں نظر آتیں جن کی شادیاں ہوچکی تھیں۔ مگر خواب میں وہ سب گل بانو جیسی لگتی تھیں۔ کبھی کبھی اسے رافع دارلامان میں قید دکھائی دیتا۔ کبھی اپنی اور رافع کی شکل گڈمڈ ہوتی دکھائی دیتی۔ وہ ان خوابوں سے اتنا خوفزدہ ہوگئی کہ آہستہ آہستہ اس نے سونا چھوڑ دیا۔ اسے سونے سے ڈر لگنے لگا۔ تھکن اور ذہنی دباو نے اس کی عجیب حالت کردی تھی۔ وہ بات بات پہ چڑ جاتی۔ کبھی امی سے بحث کرتی کبھی اسد سے لڑتی۔ امی اسے کسی فقیر بابا کے پاس بھی لے جانے کی کوشس کرتی رہیں کہ کسی طرح دم کروا لیا جائے تو شاید اسے سکون آجائے۔ اگر کبھی شدید نیند کی وجہ سے آنکھ لگ جاتی تو چیخ مار کے اٹھ جاتی تھی۔ اس کیفیت سے تنگ آکر اس نے نیند کی گولیاں کھانا شروع کردیں۔ مگر ذہنی دباو کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ گھر والے سمجھ رہے تھے کہ وہ جان بوجھ کے ان لوگوں کو تنگ کر رہی ہے کیونکہ وہ اس سب کا ذمہ دار انہیں سمجھتی ہے۔

بلاوجہ الٹے سیدھے کام کرنے لگتی کبھی اسٹور صاف کرنے کے بہانے سارا کاٹھ کباڑ لا کر صحن میں ڈال دیتی اور پھر آدھا کام بیچ میں چھوڑ کر نیند کی گولی کھا کر سو جاتی۔ کبھی سب کے کپڑے دھونے کھڑی ہوجاتی اور سفید اور رنگین کپڑے ساتھ ہی دھو ڈالتی۔ گھر میں روزہنگامہ مچتا۔ ایک دن اپنی الماری کے سارے کپڑے نکال کر باہر ڈھیر کیے ہوئے تھے۔ پرانی پرانی چیزیں نکال کر دیکھ رہی تھی۔ اسی دوران کوئی پرانا رسالہ ہاتھ لگ گیا سب کپڑوں کے ڈھیر پہ بیٹھ کر رسالہ پڑھنے لگی۔ دادی چپ چاپ اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے بھی اب اسے کچھ کہنا چھوڑ دیا تھا۔ ایک بات کے دس جواب دیتی تھی اب۔ کافی دیر رسالے میں سر کھپانے کے بعد سارے کپڑے ایک دوسرے میں لپیٹ کے یونہی ٹھونسنے لگی ایک سوٹ میں کچھ کڑکڑاتا ہوا محسوس ہوا کپڑا کھول کے جھاڑا تو ایک وزٹنگ کارڈ گرا اسے یاد آیا کہ بختاور کا کارڈ اس نے کپڑے بدلنے کے بعد انہیں کپڑوں میں لپیٹ دیا تھا۔ کارڈ کو الگ رکھا اور جلدی جلدی ساری الماری سمیٹ دی۔ پھر کارڈ لے کر فون کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ دو دفعہ نمبر ملانے پہ انگیج ٹون سنائی دی۔ پانچ منٹ بعد دوبارہ ملایا تو رنگ جانے لگی۔

”اسلام علیکم” دوسری طرف سے کال ریسیو ہوتے ہی بختاور کی آواز آئی

”بسمہ بول رہی ہوں”

”جی بسمہ کیسی ہیں آپ۔ بتایئے کیسے فون کیا”

”مجھے آپ سے مشورہ چاہیے میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں اور دارلامان کی عورتوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔”

” ہمم دونوں بہت اچھے فیصلے ہیں۔ آپ میرے آفس آسکیں تو تفصیل سے بات ہوجائے گی۔”

”ٹھیک ہے کب آوں؟”

”جب آپ آسکیں 9 سے پانچ کے درمیان”

”ٹھیک ہے میں انشااللہ کل صبح آپ کے آفس آجاوں گی۔”

بختاور نے اسے کارڈ پہ لکھا پتا ٹھیک سے سمجھا دیا۔ اگلے دن صبح ابو آفس کے لیئے نکلنے لگے تو بسمہ بھی تیار کھڑی تھی۔

”ابو مجھے ایک جگہ جانا ہے”

”کہاں؟ کیا کام ہے؟ اسد سے کہو وہ کر دے گا”

”اسد میری جگہ پڑھ نہیں سکتا”

”پڑھ تو لیا جتنا پڑھنا تھا”

”تب آپ نے شادی کروانے کے لیے پڑھایا تھا اب میں زندگی گزارنے کے لیے پڑھنا چاہتی ہوں، آپ لے جارہے ہیں تو ٹھیک ہے نہیں تو میں رکشا کر کے چلی جاتی ہوں۔” بسمہ نے باہر قدم بڑھا دیئے

ابو نے مڑ کے امی کو دیکھا

”پاگل ہوگئی ہے کیا یہ؟”

امی نے بے بسی سے کندھے اچکا دیئے۔ ابو تیزی سے اس کے پیچھے باہر نکل گئے۔

آدھا گھنٹہ بعد وہ بختاور کے آفس میں اس کے سامنے بیٹھی تھی۔

”بختاور میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں مگر سمجھ نہیں آرہا کہ شروع کہاں سے کروں۔”

”مثلا کیا کچھ کرنا چاہتی ہیں آپ”

”میں جاب کرنا چاہتی ہوں تاکہ اپنا خرچہ خود اٹھا سکوں۔ مگر میٹرک کی بنیاد پہ کوئی اچھی جاب نہیں ملے گی۔ ساتھ ہی دارلامان کی خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہوں کسی طرح، مجھے لگتا ہے اس طرح شاید میں گل بانو کی روح کو خوش کرسکوں گی۔ مجھے جیسے خواب نظر آتے ہیں مجھے لگتا ہے وہ بہت بے چین ہے۔ مگر سارا مسئلہ ہی آکر میری تعلیم پہ اٹک رہا ہے۔ اگر میں پڑھنے میں لگ گئی تو یہ مقصد رہ جائے گا۔ گل بانو کو تو جانتی ہوں گی آپ”

بختاور نے سر ہلا دیا

”ہمم وہ بھی آپ کی اور اسلم کی کلاس فیلو تھی نا؟”

”جی وہی”

” بسمہ آپ کا یہ اندازہ تو ٹھیک ہے کہ ادھوری تعلیم کی بنیاد پہ آپ کو بہت اچھی جاب نہیں مل سکتی جو آپ کے سارے خرچے پورے کرسکے۔ مگر بیٹا آپ تھوڑے سے شروع کریں کچھ نا ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔”

”مگر وہ تھوڑا بھی کیا؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا”

”ایسا کرتے ہیں میں پتا کرتی ہوں کچھ این جی اوز ہیں جو نیڈی اسٹوڈنٹس کو اسپانسر کرتے ہیں اور اچھے اداروں میں ان کی تعلیم کے خرچے اٹھاتے ہیں۔ مگر آپ کو ان کا ٹیسٹ کوالیفائے کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ کہ آپ کو شام میں دارلامان میں پڑھانا ہوگا پہلے آپ کو ٹریننگ دی جائے گی کہ بالغ لوگوں کو پڑھانےکی کیا ٹیکنیکس استعمال کی جاتی ہیں۔ مگر بیٹا اس کے لیئے ہم آپ کو پندرہ ہزار دے سکیں گے۔ پک اینڈ ڈراپ ہماری طرف سے ہوگا” یہ آفر بسمہ کی توقع سے کچھ بہتر ہی تھی۔ اگر اسے مفت تعلیم کا موقع مل جائے تو پندرہ ہزار بھی ابتداءکے لیئے کافی تھے۔ اس نے فورا حامی بھر لی۔ اس نے بختاور کو اپنے گھر کا نمبر دیا ساتھ ہی بختاور نے اسے تین دن بعد بلایا تاکہ ٹیسٹ لیا جاسکے کہ وہ اس قابل ہے بھی یا نہیں کہ کسی کو کچھ پڑھا سکے

کافی دن بعد وہ دل سے خوش ہوئی تھی۔ واپس آکر وہ اپنی کتابیں نکال کر دیکھنے لگی تاکہ تین دن بعد والے ٹیسٹ کے لیے تھوڑا ریوائز کر لے۔ بھیا گھر آئے تو خلاف معمول سیدھا اس کے کمرے میں آگئے۔ انہیں کمرے میں دیکھ کربسمہ کو کافی حیرت ہوئی، انہوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا اخبار اسے تھمایا۔

”یہ پڑھو”

اخبار کے پیچھے کے صفحات اوپر فولڈ ہوئے تھے اور سامنے ہی باسط کی تصویر کے ساتھ موٹی سی ہیڈ لائن تھی

”زیادتی کے مجرم کا دردناک اعتراف جرم

کمرہءعدالت میں ہر آنکھ اشک بار”

بسمہ نے فورا خبر کی تفصیل پڑھی۔ خبر کے مطابق ریمانڈ کے دوران باسط نے جرم کا اعتراف کرلیا تھا اور عدالت میں تفصیلی بیان بھی دیا۔ اخبار نے کافی تفصیل سے بیان چھاپا تھا

”جج صاحب میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے نازیہ جو کہ مجھ سے بڑے بھائی کی بیوی تھی اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا۔ مجھے پتا تھا کہ اس کا شوہر یعنی میرا بھائی اس میں دلچسپی نہیں لیتا کیوں کہ وہ کسی بھی عورت میں دلچسپی نہیں لیتا تھا نا لے سکتا تھا۔ یہ بات مجھے بچپن سے پتا تھی۔ میری اور اس کی عمر میں صرف تین سال کا فرق تھا۔ مگر اسے اسکول میں دیر سے داخل کروایا گیا اور میری اور اس کی کلاس میں صرف ایک سال کا فرق رہ گیا۔ ہمارے گھر کا ماحول ہمیشہ سے عجیب رہا۔والد صاحب کی توجہ کبھی ہم پہ نہیں رہی اور والدہ ہمیشہ ان سے ڈرتی رہیں۔ مجھے عورت ذات کی عزت کرنا سکھایا ہی نہیں گیاوالد صاحب خواتین کا تذکرہ ایسے کرتے تھے جیسے وہ انسان نا ہوں صرف مزہ لینے کا سامان ہوں۔فحش فلمیں دیکھتے ہوئے وہ کبھی ہماری موجودگی کا خیال نہیں کرتے تھے والدہ اگر ٹوکتی تھیں تو ہمارے سامنے ہی انہیں مارتے تھے۔ ہمارے گھر میں بہت غیر اخلاقی کتب موجود تھیں جو والد صاحب کے خیال میں چھپا کے رکھی ہوتی تھیں مگر ہم دونوں بھائیوں کو کافی جلدی ان تک رسائی حاصل ہوگئی تھی۔ بڑے بھائی البتہ ان سب سے دور رہتے تھے۔ ایک دفعہ والد صاحب نے ایسی ہی ایک کتاب میرے پاس دیکھ لی اور ناراض ہونے کی بجائے میری پیٹھ ٹھونکی کہ میرا بیٹا جوان ہوگیا۔ اس کے بعد سے جیسے مجھے اجازت نامہ مل گیا ہر غلط حرکت کرنے کا۔ والد صاحب میری ہر نازیبا حرکت پہ مجھے سپورٹ کرتے رہے۔ میں نے ہی اسکول میں رافع کی کمزوری کے بارے میں دوسرے لڑکوں کو بتایا جو وہ بچارہ بھائی سمجھ کر مجھے بتا گیا تھا مجھے اس کا مذاق اڑانا بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ اس سے مجھے ابو کی حمایت ملتی تھی۔ مجھے گھر میں ایک دم غیر معمولی اہمیت مل گئی میں بہت چھوٹا تھا مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ اس بات کا فائدہ اٹھا کر مجھے اسکول کے بڑے لڑکوں بلکہ کچھ میل اور فیمیل ٹیچرزنے استعمال بھی کیا ساتھ ہی انہوں نے ہم بھائیوں کو اسکول میں بدنام بھی کردیا کہ یہ غلط قسم کے لڑکے ہیں ایک طرف مجھے والدین کی محبت چاہیے تھی دوسری طرف دوستوں کی ضرورت تھی۔ مگر کچھ بھی مکمل نہیں مل پارہا تھا۔ جو دوست ملتے وہ استعمال کرتے جو اچھے بچے تھے وہ میرے قریب ہی نہیں آتے۔ میرے اندر غصہ بڑھتا جارہا تھا میرا دل چاہتا تھا ہر ایک کو تباہ کردوں جو چاہیئے چھین لوں کیوں کہ خود سے کوئی مجھے نہیں دے گا۔ میٹرک تک آتے آتے میری حرکتوں کی وجہ سے کئی لڑکیوں نے اسکول بدل لیئے یا پڑھائی ہی چھوڑ دی۔ مجھے محبت ہوتی تھی مگر اظہار کرنا نہیں آتا تھا۔ پہلی بار مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا جب اپنی ہی منگیتر سے پیش قدمی کی کوشش کی مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ محبت میں زبردستی نہیں ہوتی۔ شادی کے بعد میں جتنی زیادہ اس سے محبت کرتا جارہا تھا اتنا زیادہ اسے اذیت دیتا تھا۔ نازیہ بھابھی کو تو میں استعمال کر کے بھول بھی گیا تھا مجھے ایک فیصد بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ غلط ہے۔ مجھے صرف ایک اذیت تھی اور ہے وہ یہ کہ کسی ایک شخص نے بھی مجھ سے محبت نہیں کی توجہ سے بات نہیں کی۔ میں نے بسمہ سے شدید محبت کی مگر اس کے کترانے پہ مجھے اور غصہ آتا جو میں اسی پہ اتار دیتا تھا۔ کوئی نہیں تھا جو مجھے سکھاتا کہ کیا صحیح ہے کوئی نہیں تھا جو مجھے سکھاتا کہ محبت کیسے کی جاتی ہے۔ رافع کی موت بلکہ اس سے زیادہ اس کے اعتراف نے مجھے اندر تک ہلا دیاہے۔ میں نے کتنی زندگیاں تباہ کردیں مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ میں اپنے ہر جرم کی سزا کے لیئے تیار ہوں مگر مجھے اس اذیت ناک زندگی میں مبتلا کرنے والے میرے باپ کے لیئے بھی کوئی قانون ہے یا نہیں۔ میں مانتا ہوں میں غلط تھا مگر مجھے صحیح غلط سکھانا بھی تو کسی کی ذمہ داری تھی۔ میں نے وہی کیا جو مجھے سکھایا گیا۔ آپ جج ہیں نا؟ مجرم کو سزا دیتے ہیں؟ مگر کوئی ایسی عدالت ہے جو ان عوامل کو روکے جو معصوم بچوں کو درندہ بنا دیتی ہے؟ مجھے بھی یاد ہے اپنا بچپن میں ہنستا تھا کھیلتا تھا جب سے تھوڑا چلنا شروع کیا تو شام میں ابو کے آنے کے وقت دروازے پہ بیٹھ جاتا تھا کیونکہ دوسرے گھروں میں یہی دیکھتا تھا کہ باپ آتا ہے تو بچوں کو پیار کرتا ہے چیزیں دیتا ہے۔ میرا باپ دوسرے گھروں میں جھانکتا ہوا آتا تھا دروازے سے ایسے گزر جاتا جیسے میں ہوں ہی نہیں۔ بہت جلد میری بے فکر ہنسی اور کھیل کہیں گم ہوگئے اور اذیت پسندی نے ان کی جگہ لے لی۔ آپ بتائیں ہے اس کی کوئی سزا جو ایسے باپ کو سدھار سکے۔ کوئی ایسا پیمانہ جو جانچ سکے کہ ایک شخص اس قابل ہے بھی یا نہیں کہ اسے باپ بننے کی اجازت دی جائے۔ مجھے وہ تکلیف یاد تھی اسی لیے میں نے خود کو باپ بننے کی اجازت ہی نہیں دی۔ مجھے عدالت سے کسی قسم کی کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی۔ کیونکہ میرے جرم اس سے زیادہ ہیں۔ شاید اس جرم کی سزا پا کر میں خود کو بہتر انسان بنا سکوں۔”

اس تفصیلی بیان کے بعد خبر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ باسط کو 7 سال کی قید اور 3 لاکھ جرمانے کی سزا سنادی گئی۔

بسمہ خبر پڑھتے پڑھتے رونے لگی۔ پہلی بار اس نے باسط کے لیے وہ محسوس کیا جو کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ اس کا شدت سے دل چاہا کہ وہ عدالت میں ہوتی تو کم از کم ایک بار اسے اپنی بانہوں میں لے کر اسے بتاتی کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اسے اپنی کیفیت پہ حیرت ہورہی تھی۔ کیا اسے باسط سے محبت ہو گئی تھی؟ کافی دیر بعد جاکر اس کے آنسو تھمے مگر وہ مسلسل اپنی کیفیت کے بارے میں سوچتی رہی۔ اگر اسے باسط سے محبت ہے تو کیا وہ دوبارہ باسط کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہے۔ اس نے کئی بار خود سے یہ سوال کیا مگر ہر بار اس کا جواب نفی میں آیا۔ وہ صرف باسط سے ہمدردی دکھا سکتی تھی اس کو دوبارہ ہم سفر نہیں بنا سکتی تھی۔ بلکہ شاید اب کبھی بھی وہ کسی مرد کو اپنی زندگی کاساتھی نہیں بناسکتی تھی۔ رات ہوتے ہوتے باسط سے ہمدردی کے جذبات بھی سرد ہوتے چلے گئے۔اسے لگا باسط نے یہ سب کچھ عدالت کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیئے کہا ہوگا۔ اسے پتا تھا کہ اس کے سسر کا ہمیشہ سے یہی رویہ تھا مگر وہ یہ ماننے سے گریزاں تھی کہ یہ ان کی اولاد یا خاص کر باسط کے لیئے تکلیف دہ ہوگا۔ کئی بار اس نے بے دھیانی میں حقارت سے سر جھٹکا۔

”ہونہہ! مظلوم بن رہا ہے۔ ہر بندہ اپنی غلطی کا خود ذمہ دار ہوتا ہے”

وہ یہ بھول گئی تھی کہ وہ خود اب ہر بات میں والدین کو اپنی زندگی تباہ کرنے کے طعنے دیتی تھی۔ ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتی تھی جو ان کی مرضی کے خلاف ہو۔ آگے پڑھنے کا فیصلہ بھی کہیں نا کہیں اس کی انا کو سکون دے رہا تھا کہ اس نے اپنی زندگی تباہ کرنے کا بدلہ لے لیا۔

دو دن بعد وہ دوبارہ بختاور کے آفس میں تھی۔ اس کی ذہانت نے اس کا ساتھ دیا اور بہت آسانی سے ناصرف وہ اس جاب کے لیئے ٹیسٹ پاس کر گئی بلکہ چند دن بعد فرسٹ ائیر کے لیئے ایک این جی او کا اسکالر شپ ٹیسٹ بھی پاس کرلیا۔ وہ آگے بڑھ رہی تھی۔ کامیاب ہورہی تھی مگر اسے اپنی کامیابی سے زیادہ والدین کی بے بسی خوشی دے رہی تھی۔

گھر کا ماحول مسلسل تناو کاشکار تھا۔ بھیا نے کہہ دیا تھا کہ جب تک یہ گھر میں ہے میں شادی ہی نہیں کروں گا۔ اور اگر کروں گا تو الگ گھر لے لوں گا ورنہ یہ میرا اور میری بیوی کا جینا حرام کردے گی۔

کچھ ہی دن میں بسمہ نے بختاور کی مدد سے باسط کو جیل میں طلاق کا مطالبہ بھجوا دیا اور حیرت انگیز طور پہ بغیر کسی اعتراض کے باسط نے اسے تحریری طلاق بھجوا دی۔ مگر پتا نہیں کیاسوچ کر اس نے گھر میں بتانے کی زحمت تک نہیں کی۔

کچھ ہی عرصے میں بھیا کی شادی ہوگئی اور ابو ریٹائر ہوگئے۔ بھیاالگ تو نہیں ہوئے مگر اوپر کے پورشن کا راستہ الگ کرلیا۔ اب ان کی بیگم دن میں ایک بار شام کے وقت بھیا کے ساتھ نیچے آتیں دو چار باتیں کرتیں اور واپس اوپر چلی جاتیں۔ مہینے کے خرچ کے پیسے جو پہلے ہی بھیا محدود دیتے تھی وہ اور محدود کردیئے۔ فہد بھی اب کالج میں تھا اور بسمہ کو دارلامان کی جاب سے جو کچھ ملتا وہ اس میں سے ایک روپیہ بھی گھر میں دینا مناسب نہیں سمجھتی تھی۔ گھر کے حالات عجیب ہوتے جارہے تھے۔ نیچے کے پورشن میں کچھ خراب ہوجاتا تو یونہی پڑا رہتا۔ ابو کی پینشن میں سے فہد کی پڑھائی کا خرچہ نکال کے با مشکل کھانے اور بلوں کا خرچہ نکلتا تھا۔ بہنیں اگر کبھی آکر بسمہ کوسمجھانے کی کوشش کرتیں تو بسمہ کا دو ٹوک جواب یہی ہوتا کہ امی ابو کی اپنی غلطی ہے۔ بیٹوں کو سر پہ چڑھایا تھااب بھگتیں۔ تقریبا سال پورا ہونے والا تھا۔ بسمہ کے فرسٹ ائیر کے پیپر ہونے والے تھے۔

ایک دن وہ بختاور کے آفس پہنچی تو وہاں اسلم بھی موجود تھا۔ بقول بختاور، وہ بھی اب رضاکارانہ طور پہ ساتھ کام کروائے گا۔ بسمہ اسے دیکھ کر اتنا ٹینس ہوگئی کہ گھر آکر بھی پریشان رہی۔ رات کو سونے سے پہلے پہلے وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ بختاور سے بات کرے گی اگر اسلم آفس آئے گا تو وہ جاب چھوڑ دے گی۔

اگلی صبح وہ آفس کی گاڑی کا انتظار کیے بغیر ہی آفس پہنچ گئی۔ اسے پتا تھا کہ اگر وہ اپنے وقت پہ آفس جائے گی تب تک بختاور ایک میٹنگ کے لیے جاچکی ہوگی۔

بختاور کسی کام میں مصروف تھی جس کی وجہ سے بسمہ کو آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور اس دوران بسمہ مسلسل یہ سوچ سوچ کے تلملاتی رہی کہ اب بختاور اس کی ”باس” ہے اسی لیے انتظار کروا رہی ہے۔ ان لوگوں کا پبلک میں رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور اصل میں کچھ اور۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ دب کے یا ڈر کے بات نہیں کرے گی۔ باس ہے تو ہوتی رہے۔ جتنا وقت گزرتا جارہا تھا بسمہ عجیب سے تناو کا شکار ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔ وہ شدید اضطراب کا شکار ہورہی تھی۔ آخر کار بختاور نے اسے آفس میں بلوا لیا۔

”جی بسمہ! کیسی ہیں؟ دارلامان میں کام کیسا جارہا ہے؟”

بختاور کے نرم لہجے میں بات کرنے پہ بسمہ کچھ لمحوں کے لیئے بھول گئی کہ وہ کیا بات کرنے آئی تھی وہ تو آدھے گھنٹے سے خود کو باس والے سخت لہجے کے لیے تیار کر رہی تھی۔ اور اسی حساب سے جواب سوچے ہوئے تھے۔ نرم لہجے کا جواب تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ کچھ گڑبڑا کر وہ ہونٹ کاٹنے لگی پھر کچھ لمحوں کے بعد بولی۔

”میڈم اسلم کی موجودگی میں مجھ سے کام نہیں ہوگا؟”

”تو آپ کیا چاہتی ہیں؟”

بختاور نے بہت پرسکون لہجے میں پوچھا

بسمہ کو یک لخت اندازہ ہوا کہ سوچنا الگ بات ہے مگر وہ یہ کہہ نہیں سکتی تھی کہ آپ اسلم کو نکال دیں۔ بہت ہی احمقانہ بات ہوتی۔

”اگر وہ یہاں موجود ہوگا تو مجھے جاب چھوڑنی پڑے گی۔”

”کیوں؟”

بختاور کے ٹو دی پوائنٹ سوال و جواب اسے مزید گھبراہٹ کا شکار کر رہے تھے۔

” وہ دوبارہ بھی ایسا کچھ کرسکتا ہے”

”آپ کو اس سے ڈر لگ رہا ہے”

”شاید” بسمہ نے کمزور سی آواز میں کہا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ جسے اب تک نفرت سمجھ رہی تھی وہ خوف تھا۔

”آپ کو لگتا ہے کہ یہاں وہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی ہمت کرے گا۔”

” میڈم سوری مگر یہ اس کی بھابھی کا آفس ہے اس کی پوزیشن بہرحال مجھ سے زیادہ مضبوط ہے اگر اس نے کچھ کیا تو آپ اسی کا ساتھ دیں گی۔ میرا ساتھ کون دے گا؟”

” بیٹا ایک بات تو آپ کلئیر کر لیں یہ میرا آفس نہیں میں بھی یہاں آپ کی طرح ملازم ہوں۔ میرا واسطہ صرف دارلامان کے پراجیکٹ سے ہے۔ جبکہ اسلم، مجید صاحب کے انڈر میں چائلڈ لیبر کے پراجیکٹ میں وولینٹئیر ہے۔”

”میڈم اس بات سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس نے کچھ کیا تو آپ اسے سپورٹ نہیں کریں گی؟”

”بسمہ آپ کو پتا ہے اسلم نے پہلے ایسا کیوں کیا تھا؟”

”مجھے کیسے پتا ہوگا؟ اور اس بات سے اس کا کیا تعلق”

”آپ کو نہیں پتا مگر پتا ہونا چاہیئے۔ اور اسی لیئے اس کا اس بات سے تعلق ہے۔ چلیں اس کو اگر اس طرح سے کہہ لیں کہ کوئی بھی لڑکا کسی لڑکی کو ایسے تنگ کیوں کرتا ہے؟”

بسمہ کو اس لمبے سوال جواب سے الجھن ہورہی تھی اسے ہاں یا ناں میں جواب چاہیئے تھا۔

”میڈم پلیز آپ ابھی والا مسئلہ حل کر دیں میں کوئی لیڈر یا فلسفی نہیں ہوں جو ان بحثوں میں پڑوں۔”

”چلیں فرض کریں میں مجید صاحب کو کہہ کر اسلم کو نکلوا دیتی ہوں مگر کیا اس سے آپ ہمیشہ کے لیئے ہر مرد سے محفوظ ہوجائیں گی؟ اور آپ خود کو اسلم سے بچانا چاہتی ہیں یا ہر مرد سے؟”

”ظاہر ہے ہر مرد سے”

” تو یہاں پہ کام کرنے والے سب مردوں کو نکلوا دیں؟”

بسمہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ بلکہ جو جواب تھا وہ دے نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ اسے اب ہر مرد سے ڈر لگتا تھا۔ مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کے ڈر کی وجہ سے وہ تمام مردوں کو دنیا سے غائب نہیں کرسکتی تھی۔ یہ صرف وہی جانتی تھی۔ کہ گھر سے نکلتے ہوئے اس کا دل کس طرح کانپ رہا ہوتا تھا۔ آفس کی وین کا ڈرائیور، آفس کا چوکیدار، دارالامان کا گارڈ، انسٹیٹیوٹ کے ٹیچرز، کلاس فیلوز جس جس سے اس کا روز واسطہ پڑتا تھا اسے ہر اس مرد سے ڈر لگتا تھا۔ وہ ان سے بات کرنے سے ممکنہ حد تک بچنے کی کوشش کرتی تھی۔ اگر بات کرنی پڑ جائے تو وہ کوشس کرتی کہ اس کے لہجے میں اعتماد ہو مگر اسے اپنی ٹانگوں کی جان نکلتی محسوس ہوتی تھی۔ اور پھر اسلم تو خود ان دونوں مردوں میں سے ایک تھا جن کی وجہ سے اسے مرد ذات سے اتنا ڈر لگنا شروع ہوا تھا۔ ہر بار اسلم کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوجاتی تھی جیسے بس اب خوف سے اس کا دل بند ہوجائے گا۔ بختاور جواب طلب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اور وہ سر جھکائے سوچے جارہی تھی۔ اس کی اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ سر اٹھا کر بختاور کی طرف دیکھ سکے۔ آخر کار بختاور نے ہی بات شروع کی۔

”بسمہ بیٹا آپ اور آپ جیسی کئی لڑکیاں تعریف کے قابل ہیں کیونکہ وہ اپنے خوف کے باوجود گھر سے نکل کر اپنی زندگی معمول کی مطابق جینے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسے مواقع آتے ہیں جب ان کی یہ ہمت جواب دے جاتی ہے۔ ایسے وقت میں آپ کے پاس دو طریقے ہوتے ہیں یا تو ڈر کے پیچھے ہٹ جائیں یا پھر اپنے ڈر کا مقابلہ کریں۔”

”ڈر کا مقابلہ ہی تو کرنے کی کوشش کر رہی ہوں”

”بیٹا ایسے ڈر کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ ڈر کے پیچھے ہٹتے ہیں۔ آپ کہاں کہاں اسلم یا اسلم جیسے مردوں کی وجہ سے خود کومحدود کریں گی؟”

”تو کیا کروں؟ خود کو اسلم اور باسط جیسے مردوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دوں، آو جو کرنا ہے کرلو؟”

شدت جذبات سے بسمہ کی آواز کانپ گئی۔ وہ بہت کچھ بولنا چاہتی تھی مگر رونا نہیں چاہتی تھی اسی لیئے چپ ہوگئی۔

”بسمہ اچھا فی الحال اپنی اور اسلم کی بات کو سائیڈ پہ رکھیں یہ بتائیں آپ کے خیال میں مجھے مرد تنگ کرتے ہوں گے؟”

بسمہ نے پہلی بار بختاور کو غور سے دیکھا۔ اور اسے اندازہ ہوا کہ بختاور بہت زیادہ خوبصورت نہیں ہے۔ اس کی شخصیت پہ سب سے حاوی بات اس کی نرمی اور خوداعتمادی ہے جس کی وجہ سے وہ پہلی نظر میں بہت پیاری لگتی ہے۔ بختاور سے بات کرتے ہوئے بالکل ایسا لگتا تھا جیسے وہ نفیس آنٹی سے بات کر رہی ہو۔ مگر بختاور، نفیس آنٹی کے مقابلے میں لباس ذرا مہنگا استعمال کرتی تھی اور بالکل ہلکا میک اپ بھی کیا ہوتا تھاشاید اس کے پیارے لگنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ پہلے اس نے سوچا کہ یہ اتنی پیاری ہیں مرد انہیں تنگ کرتے ہونگے پھر سوچا شاید انہیں کبھی کسی مرد نے تنگ نہیں کیا ہو اسی لیئے انہیں اندازہ ہی نہیں اسی لیئے ایسی بات کر رہی ہیں۔

”میڈم میرا نہیں خیال کہ آپ کو مرد تنگ کرتے ہوں گے۔” اس نے تھوڑا جھجھک کے کہا۔

”بسمہ ٹین ایج کی لڑکیوں کو عموما کلاس فیلوز، اسکول ٹیچرز، محلے کے انکل یا گلی کے کونوں پہ کھڑے ہوئے لوفر لڑکے تنگ کرتے ہیں۔ جن کی زیادہ سے زیادہ ہمت یہی ہوتی ہے کہ کوئی فقرہ بول دیا، کہیں ٹچ کردیا، جھوٹا عشق جھاڑ لیا۔ ایسے میں زبردستی کچھ کرنے کے چانسز ہوتے ہیں مگر بہت کم۔ کیونکہ یہ لوگ بہت ڈرپوک ہوتے ہیں۔ جبکہ ہم جیسی آفس میں کسی اہم سیٹ پہ موجود خواتین کے ہراساں کرنے والے ہم سے بھی زیادہ اہم سیٹس پہ بیٹھے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ ہمیں وکیل، سیاسی رہنما، فنڈ دینے والے اور اسی قسم کے مضبوط پوزیشنز رکھنے والے مرد ہراساں کرتے ہیں۔ یہ حضرات بے ضرر جملے نہیں کہتے نا تھوڑا بہت ٹچ پہ اکتفا کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ہمارے کاموں میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور پھر آفر رکھتے ہیں۔ اگر آج سب عورتوں نے ان سب مردوں سے ڈرنا شروع کردیا تو کیا ہوگا؟”

”سیاسی لوگ تو بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ میں نے سنا ہے یہ لڑکیاں اٹھوا بھی لیتے ہیں۔ ایسے میں تو اس بندی کو چھوڑنا ہی پڑتا ہوگا اپنا کام”

بسمہ اندر تک کانپ گئی۔

”بسمہ ایسی سچویشن میں ہمارے پاس چھوڑنے کا آپشن ہی نہیں ہوتا۔ یا تو مقابلہ کرنا ہوتا ہے یا ان کی آفر ماننی ہوتی ہے۔ ان سے چھپ کر بندہ کہیں نہیں جاسکتا۔”

”اتنے بڑے لوگوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے کوئی عورت؟”

”بسمہ بالکل یہی بات آپ نے ایک عام مرد کے لیئے بھی کہی تھی۔” بختاور ہلکے سے مسکرائی

”اور یہی بات اہم اور سمجھنے والی ہے۔ ہر جگہ ہر اس انسان کو نقصان پہنچایا جاتا ہے جو کمزور ہو۔ ہمیشہ مرد ہی عورت کو نقصان نہیں پہنچاتے بالکل اسی طرح کسی مرد کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر عورتیں بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔”

”یہ کیسے ممکن ہے میڈم۔ آپ نے ایک دفعہ پہلے بھی ایسا حوالہ دیا تھا اور تب بھی میری سمجھ میں نہیں آیا تھا۔”

” دیکھو ریپ یا عزت لوٹنے میں ہم سمجھتے ہیں کہ سامنے والا اپنی جسمانی طاقت کی بنیاد پہ یہ سب کرتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ تم نے سہیل کو دیکھا ہے؟ ہماری دارلامان والی وین کا ڈرائیور؟”

”جی”

بسمہ کو وہ اپنے آپ میں مگن تقریبا بیس سالہ سہیل فورا یاد آگیا۔ بسمہ نے اسے پورے ایک سال میں کبھی چھٹی پہ نہیں دیکھا تھا۔ اتنا مستعدی سے اپنا کام کرنے والا بندہ اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر ایک بات جو بسمہ نے نوٹ کی وہ اس کی گھبراہٹ یا جھجھک تھی۔ وہ عموما خاموش رہتا تھا۔ اور اگر کوئی لیڈی ٹیچر اس سے کچھ پوچھ لیتی تو اس کے لہجے میں واضح گھبراہٹ ہوتی تھی وہ جلدی سے الٹا سیدھا جواب دے کر بات ختم کردیتا۔ ٹیچرز اس کے منہ پہ ہی اس کا بہت مذاق اڑاتی تھیں۔

”تمہیں پتا ہے اس سے پہلے یہ کہاں کام کرتا تھا؟”

بسمہ نے نفی میں سر ہلا دیا

”تقریبا 5 سال پہلے چائلڈ لیبر کے ایک پراجیکٹ کے دوران اس سے ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ ایک ہوٹل پہ کام کرتا تھا ہوٹل کی مالک ایک عورت تھی شروع میں اس نے بتایا کہ یہ اس کا بیٹا ہے مگر اردگرد کے لوگوں سے پتا چلا کہ اس نے 4 سال پہلے کسی بچے بیچنے والے گروہ سے اسے خریدا تھا۔ ہم نے دوبارہ پوچھ تاچھ کی تو وہ عورت مان گئی کہ اس کے شوہر کا انتقال جلدی ہوگیا تھا اور اسے اولاد کی خواہش تھی شوہر کا ہوٹل بھی چلانے کے لیئے کوئی مددگار چاہیئے تھا۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گھناونی تھی۔ وہ عورت اس سے دن بھر مار پیٹ کر کے کام کرواتی تھی اور رات میں اپنی تسکین کے لیئے استعمال کرتی تھی۔ یہ سب سہیل نے کافی دن بعد ہمیں بتایاہم نے زبردستی اس عورت کو مجبور کیا کہ اسے پڑھایا جائے۔ جب یہ ہم سے مانوس ہوگیا تو ایک دن اس نے خود یہ سب بتایا اور کہا کہ مجھے یہاں سے نکال لیں۔ اس عورت کو فورا ہم نے پکڑوا دیا۔ تقریبا تین سال مقدمہ چلا اب وہ جیل میں ہے۔ اور تب سے یہ مستقل ہمارے ساتھ ہے۔ پڑھ بھی رہا ہے اور کام بھی کرتا ہے پڑھائی میں کمزور ہے مگر محنت بہت کرتا ہے پڑھنے میں۔ اسی لیئے تھوڑی بہت گنجائش نکال کر اسے پاس کردیا جاتا ہے۔اب آٹھویں تک آگیا ہے وہ۔ اس کے علاوہ بھی ہمارا واسطہ کئی ایسی مردوں اور عورتوں سے پڑتا ہے جنہیں انہی کے ہم صنف نقصان پہنچاتے ہیں اور وجہ وہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے ان سے کمزور ہوتے ہیں۔ عموما یہ مجبوری معاشی ہوتی ہے۔”

”یہاں تک تو بات سمجھ آگئی کہ کوئی بھی مضبوط پوزیشن والا کسی بھی کمزور کو استعمال کرسکتا ہے۔ چاہے مرد ہو یا عورت مگر میرا مسئلہ تو وہیں کا وہیں ہے کہ میں بچوں کیسے؟”

”چلو ایک تجربہ کرتے ہیں” بختاور ایک دم کھڑی ہوگئی۔ بسمہ کچھ حیران سی ہوگئی۔ بختاور نے آفس کی دو خواتین کے برقعے منگوائے جو کافی حد تک ایک جیسے تھے۔ وہ دونوں باہر آئیں تو گارڈ کے روم میں سہیل بھی بیٹھا اس وقت بھی کوئی کتاب اس کے ہاتھ میں تھی۔ بختاور کو دیکھ کر وہ مستعدی سے کھڑا ہوگیا۔ بختاور نے پہلے گارڈ کو مخاطب کیا۔

ارشد بھائی کوئی سب سے قریبی ایسا علاقہ بتائیں جہاں بہت چھچھورے قسم کے لڑکے ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور ہر آتی جاتی لڑکی کو چھیڑتے ہیں۔”

اتنے عجیب سوال پہ ارشد بھائی جواب دینے کی بجائے دانت نکال کے ہنس دیئے۔

”ارے بتائیں میں سیرئیس ہوں”

” میڈم دو گلیوں کے بعد ایک اسنوکر کلب ہے وہاں ہر وقت لڑکے جمع رہتے ہیں ہے بھی گلی کا کونا عموما لڑکیاں وہاں سے گزرتے میں ڈرتی ہیں حالانکہ بیچ والی گلی میں ایک کمپیوٹر سینٹرہے لڑکیوں کو آنا ہوتا ہے تو لمبا چکر کاٹ کے آتی ہیں اس گلی سے نہیں گزرتیں۔”

”سہیل بیٹا آپ نے دیکھی ہے گلی؟”

سہیل نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

”بسمہ آپ یہ برقعہ پہنو اور نقاب لگا لو۔” بختاور نے ایک برقعہ بسمہ کو پکڑا دیا اور دوسرا خود پہن لیا۔ اب دیکھنے میں دونوں ایک جیسی لگ رہی تھیں نا دونوں کی عمر کا اندازہ ہورہا تھا نا شکل و صورت کا۔ دونوں وین میں بیٹھ گئیں۔ سہیل نے وین لاکر اسنوکر کلب سے کچھ پہلے روکی۔ وہاں سے گلی کا موڑ اور وہاں کھڑے لڑکے واضح دکھائی دے رہے تھے۔

”بسمہ آپ یہاں اتریں گی۔ مگر فی الحال گلی کی آڑ میں رہیئے گا۔ جب آپ کو سامنے والی گلی سے وین کا اگلا حصہ تھوڑا نظر آنے لگے تو ان لڑکوں کے سامنے سے گزر کر وین میں آکر بیٹھ جایئے گا۔ ہم وین ایسے کھڑی کریں گے کہ لڑکوں کو اندازہ نا ہو کہ وہاں کوئی وین کھڑی ہے صرف آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔”

بسمہ ہکا بکا وہاں کھڑی رہ گئی اور وین چلی گئی۔

سنسان گلی میں دیوار کی اوٹ سے سامنے اوباش لڑکوں کا ٹولا دیکھ کر بسمہ کو لگا وہ ابھی بے ہوش ہوجائے گی۔

بسمہ کے لیے ایک ایک لمحہ گزارنا عذاب تھا۔ اسے عجیب عجیب خیال آرہے تھےکہ شاید بختاور اسے چھوڑ کے واپس آفس نا چلی گئی ہو۔ یہ لڑکے اسے اغواءنا کرلیں۔ تقریبا 2 منٹ بعد اسے دوسری طرف وین نظر آئی صرف چند سیکنڈ کے لیے ہی کچھ نظر آئی پھر پیچھے ہوگئی۔ اب صرف آگے سایہ پڑتانظر آرہا تھا۔ اور جس کا دھیان نا ہو اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہاں کوئی وین کھڑی ہے۔ بسمہ نے چند گہرے سانس لے کر ہمت مجتمع کی اور گلی میں آگے قدم بڑھا دیئے۔

وہ سب کالج جانے والی عمر کے لگ رہے تھے ان سب لڑکوں کی توجہ آپس کی باتوں پہ تھی جو وہ بہت بلند آواز سے کر رہے تھے۔ اس میں بات کم اور فحش گالیاں زیادہ تھیں جو وہ مذاق میں ایک دوسرے کو دے رہے تھے۔ زیادہ تر کے ہاتھ میں سگریٹ بھی تھیں۔ بسمہ ان کی زبان سن کر اور خوفزدہ ہوگئی۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں وہ جتنا جلدی چل سکتی تھی چل رہی تھی مگر اسے لگ رہا تھا جیسے وقت رک گیا ہو۔ اس کے پاوں من من بھر کے ہوگئے ہوں یا جیسے وہ خواب میں یہ سب دیکھ رہی ہو۔ اس کے جسم کا ہر روواں حساسیت کی حدوں پہ تھا۔ اسے اپنا دل سینے، کنپٹی ہتھیلیوں میں ایک ساتھ دھڑکتا ہوا لگ رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو خود میں چھپا لے۔ اس نے برقعے کا اسٹالر مزید کس کے اپنے گرد لپیٹ لیا اور دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ وہ چند قدم آگے گئی ہوگی کہ لڑکوں کو بھی احساس ہوگیا کہ کوئی لڑکی آرہی ہے۔ وہ باتیں کرتے جارہے تھے اور اسے دیکھتے جارہے تھے۔ پھر ان میں سے ایک بولا

”اتنی جلدی میں کہا جارہی ہو۔ دو منٹ ہم سے بھی بات کرلو”

اور پھر ایک کے بعد ایک سب ہی کچھ نا کچھ بولنے لگے ہر ایک بات کے بعد وہ مل کر قہقہہ لگاتے

”چہرہ تو دکھا دو۔ گورے گورے ہاتھ ہیں سب ہی گورا گورا ہوگا۔”

”ٹائم تو دے دو”

”او کالے برقعے والی اپنا نام تو بتا” ایک لڑکا آگے بڑھ کے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ مگر کچھ قدم چل کے رک گیا۔ بسمہ کی گھبراہٹ اتنی واضح تھی کہ ان سب لڑکوں کو اندازہ ہورہی تھی وہ مزید اونچے قہقہے لگا رہے تھے۔

بسمہ کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ اسے لگنے لگا کہ وہ بھاگ رہی ہے۔ چند لمحوں کا فاصلہ اس کے لیے صدیوں جیسا ہوگیا۔ وہ وین تک پہنچی تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔

وہ فورا دروازہ کھول کے اندر بیٹھ گئی۔ بختاور نے اسے پانی کی چھوٹی بوتل پکڑا دی۔ نقاب ہٹا کے وہ آدھی بوتل ایک ہی سانس میں پی گئی۔ بختاور نے اس کا ہاتھ پکڑ کے تھپتھپایا۔ کچھ دیر بسمہ سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا کر گہرے سانس لیتی رہی۔ اس کا دل ابھی تک کانپ رہا تھا۔

تقریبا 5 منٹ بعد جب اس کے حواس کچھ قابو میں آئے تو بختاور نے جو برقعہ خود پہنا ہوا تھا اس کا نقاب لگایا۔ پرس اٹھا کر کندھے پہ ڈالا۔ اپنا موبائل اٹھا کر ہاتھ میں پکڑا اور بسمہ کو مخاطب کیا

”اب غور سے دیکھنا”

بختاور کے کہنے پہ سہیل نے پہلے ہی وین کا مرر ایسے سیٹ کیا ہوا تھا کہ پوری گلی نظر آرہی تھی۔ بسمہ کو بھی انہوں نے ایسے ہی دیکھا تھا۔

بختاور بالکل عام انداز میں درمیانی رفتار سے مضبوط قدم اٹھا رہی تھی۔ اس کی نظریں اپنے موبائل پہ تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا اسے پتا نہیں ہے کہ گلی میں کوئی اور بھی موجود ہے۔ وہ آگے گئی تو حسب عادت لڑکوں نے اس پہ بھی کوئی فقرہ کسا۔ بختاور نے بہت اطمینان کے ساتھ اپنے موبائل سے نظریں ہٹائیں اور لڑکوں کی طرف دیکھا اور بسمہ کو حیرت کا جھٹکا لگا جب وہ لڑکے ایک دم ہی ادھر ادھر دیکھنے لگے جیسے انہیں پتا ہی نہیں کہ جملہ کس نے بولا۔ بختاور نے ان میں سے ایک کو مخاطب کیا۔

” نہیں باجی”

” نہیں کسی نے کچھ کہا تھا۔ آواز آئی تھی۔ کوئی مسئلہ ہے تو میں حل کروں؟ ” بختاور دو قدم اگے بڑھ کر کھڑی ہوگئی اور بازو لپیٹ لیئے۔ لڑکے دو قدم پیچھے ہوگئے۔ بختاور ان میں سے ایک کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

” نہیں میڈم کوئی مسئلہ نہیں آپ جائیں۔”

”ہمم اصل میں یہاں کی کافی شکایتیں آرہی ہیں شاید دوسرے کوئی لڑکے یہاں سے گزرنے والی لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ تو ڈی سی صاحب نے کہا چیک کر کے آو۔ نام پتا معلوم ہو تو پکڑ کے اندر کریں۔ آپ بتائیں کتنی بری بات ہے نا

برقعے میں تو کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ ان لڑکوں کی ماں بہن بھی۔”

” باجی ہمیں نہیں پتا ہم تو ابھی آکے کھڑے ہوئے تھے۔ چل یار میرا تو انسٹیٹیوٹ کا ٹائم ہوگیا میں جارہا ہوں۔” یہ وہی تھا جس نے بسمہ کو چہرہ دکھانے کی فرمائش کافی فحش انداز میں کی تھی۔ اور اب اس کا لہجہ ہی بدلا ہواتھا۔ وہ فورا وہاں سے چل دیا۔ بختاور انہیں دیکھتی رہی اور ایک ایک دو دو کرکے وہ سب وہاں سے چلے گئے۔ آخری والے لڑکے کو بختاور نے آواز دے کے دوبارہ روکا۔

” بھائی آپ سب سے سمجھدار لگ رہے ہیں خیال رکھیئے گا یہاں دوبارہ لڑکے جمع نا ہوں آگے ہماری وین کھڑی ہے یہ روز چیک کرنے آئی گی۔”

بختاور نے مڑ کے سہیل کو اشارہ کیا۔ سہیل نے وین اسٹارٹ کر کے گلی میں موڑ لی۔ وین میں بسمہ کو دیکھ کر اس لڑکے کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے۔

” سمجھ تو آپ گئے ہونگے۔ پہلے جوکچھ ہوا اس کی وڈیو بھی ہے ہمارے پاس۔ اب ان میں سے کوئی بھی لڑکا دوبارہ یہاں نظر آیا تو نتیجے کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔”

دھیمی آواز میں بختاور کا لہجہ اتنا سخت اور مضبوط تھا کہ بسمہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑتی محسوس ہوئی اور لڑکے کا جو حال تھا وہ اس کے چہرے سے ظاہر تھا۔

بختاور وین میں بیٹھ گئی اور سہیل نے وین آگے بڑھا دی پیچھے لڑکا بھاگتا ہوا اسنوکر کلب میں گھس گیا۔

وین چلتے ہی بختاور نے نقاب ہٹا دیا۔ پھر سہیل سے کہا

”قریبی ویمن پولیس اسٹیشن لے کے چلو۔”

”میڈم پولیس تک مسئلہ نا جائے تو بہتر ہے۔ پتا نہیں کون لڑکے تھے پیچھے نا پڑ جائیں۔ آپ کے تو تعلقات ہیں کافی آپ کے لیے تو مسئلہ نا ہو شاید مگر میرے تو گھر والے بھی سپورٹ نہیں کرتے میں کہاں جاوں گی۔”

بسمہ ابھی بھی گھبرا رہی تھی۔ ساری زندگی کا سیکھا ہوا خوف ایک جھٹکے سے تو ختم نہیں ہوجاتا۔

”بسمہ ایسے معاملات میں ہر عورت اکیلی ہی ہوتی ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں جو کرتی پھرتی ہوں تو میرے گھر والے ہر کام میں مجھے سپورٹ کرتے ہیں؟ یا احمد کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا؟ بیٹا ہم بھی انہی عام گھرانوں سے نکل کر آتے ہیں۔ ہمیں بھی بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ اگر لڑکے نے لڑکی کو کچھ کہہ دیا تو غلطی لڑکی کی ہے۔ دوپٹا نہیں اوڑھا ہوگا، اوڑھا ہوگا تو چہرہ کھلا ہوگا۔ نقاب ہوگی تو برقعہ نہیں ہوگا برقعہ ہوگا تو چال میں دعوت ہوگی۔ یہ سب صحیح ہوگا تو کسی اور عورت کو دیکھ کر بہکا ہوگا اور ردعمل یہاں نظر آیا ہوگا۔ ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ بلکہ یہ کہوں تو بہتر ہوگا کہ ہمارا معاشرہ طاقتور کا معاشرہ ہے۔ وہ کچھ بھی کرتا پھرے غلطی ہمیشہ اس کے حرکتوں سے متاثر ہونے والے کمزور کی کہی جاتی ہے۔ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں کے وزیر مہنگائی کا ذمہ دار بھی گھر کا سودا لانے والے نوکر کو ٹہراتے ہیں۔”

”اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ معاملے کو اتنا نا بڑھائیں کہ ہم سنبھال نا سکیں۔”

”بسمہ زندگی کا اصول ہے بقا اس کی ہوتی ہے جو سب سے مضبوط ہوتا ہے۔ سائنس میں سروائیول آف دی فٹیسٹ (survival of the fittest) کا نظریہ پڑھا ہے نا۔ تو ہمارے معاشرے میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ جنگل میں جو جسمانی طور پہ کمزور ہو اسے کوئی نا کوئی شکار کر کے ختم کردیتا ہے۔ انسانوں کے معاشرے میں جو شخصی طور پہ کمزور ہو اس کی شخصیت ختم کردی جاتی ہے۔”

” مگر میڈم شہر اور جنگل کے قانون میں کوئی تو فرق ہوگا”

” تم نے ابھی تک کوئی فرق دیکھا؟” بختاور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، بسمہ نے نہیں میں سر ہلا دیا۔ بختاور نے اپنی بات آگے بڑھائی

” مگرہوتا ہے یہاں دو قسم کے مضبوط لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جن کے پاس پیسا ہوتا ہے اور دوسرے جن کے پاس کردار ہوتا ہے۔ پیسے والے دوسروں کو استعمال کرتے ہیں۔ کردار والے استعمال ہونے والوں کو حق کی جنگ لڑنا سکھاتے ہیں۔ یہ جنگ ہمیشہ سے جاری ہے ایک طرف ظالم ہوتا ہے بہت سارے مظلوم ہوتے ہیں اور ایک طرف اس ظلم کے خلاف بغاوت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان بغاوت کرنے والوں کو پتا ہوتا ہے کہ ظالم کے پاس سوائے خوف کے کچھ بھی نہیں ایک دفعہ مظلوم جاگ جائے تو ظالم کچھ نہیں کرپاتا۔ خود دیکھ لو۔ جب تک نازیہ خاموش تھی اسے سب نے استعمال کیا اس کی شخصیت کی کمزوری کو سب نے اس کی برائی گردانا مگر ایک بار وہ بغاوت پہ اتر آئی اپنے حق کے لیئے کھڑی ہوگئی تو باسط سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا۔ اصل میں ظالم کو پتا ہے کہ جب تک مظلوم ڈرتا رہے گا اس کی مٹھی میں رہے گا۔ مزدور ہو، بیوی ہو یا کوئی اور کمزور شخص اسے مذہب کا طعنہ دے کر اخلاقیات کی زنجیروں میں جکڑ کر اپنا غلام بنائے رکھتے ہیں۔ مظلوم بے وقوف نہیں ہوتا۔ مگراس کے دل میں اخلاقیات اور مذہب کے نام پہ جو خوف بٹھایا جاتا ہے وہ اسے کمزور کردیتے ہیں۔تم نے کبھی اشرافیہ طبقے میں لوگوں کو مذہب یا اخلاقیات کے بارے میں اتنا پریشان ہوتے نہیں دیکھا ہوگا جتنا ہم مڈل کلاس والے ہوتے ہیں۔ تم اپنی مثال لے لو۔ تم نے کیوں باسط کا غلط رویہ سہا۔ کیوں کسی کو نہیں بتایا کہ اسلم نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ اگر یہی گھر والے تم سے کہتے کہ کوئی مسئلہ ہو تو پہلے ہمیں بتانا تمہارے دل میں ‘لوگ کیا کہیں گے’ کا خوف نا بٹھایا گیا ہوتا توکیا تم پھر بھی خاموشی سے سب کچھ سہتیں؟”

”شاید نہیں، کیونکہ سچی بات یہی ہے کہ جو کچھ میں نے سہا وہ میری برداشت سے بہت زیادہ تھا۔ اگر مجھے ذرا سا بھی کسی کا سہارا ہوتا میں فورا اس تکلیف دہ ماحول سے نکلنے کی کوشش کرتی۔ مگر میرے گھر والوں کے لیے شاید میری کوئی اہمیت نہیں تھی۔ میں بہت دفعہ سوچتی ہوں کہ اگر میری ذات ان کے لیے اضافی اور غیر ضروری تھی تو مجھے دنیا میں لائے ہی کیوں تھے۔” بسمہ نے سچائی سے دل کی بات بتا دی

”غلطی تمہارے والدین کی بھی نہیں ہے۔ بلکہ غور کرو تو غلطی اسلم اور باسط کی بھی نہیں۔”

”یعنی اب آپ بھی یہی کہیں گی کہ میری ہی غلطی ہے۔ شکریہ میڈم اتنا لمبا عملی نمونہ پیش کرکے وہی گھسی پٹی تقریر سے بہتر تھا آپ مجھے نوکری سے نکال دیتیں فورا۔” بسمہ کو ایک دم غصہ آ گیا

”بسمہ بیٹا کم از کم بات تو پوری سن لیں” بسمہ نے غصے میں سر جھٹکا

”جی بتایئے”

”بسمہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنا مسئلہ انفرادی حد تک دیکھتے ہیں اسی لیئے ذمہ دار کسی ایک فرد کو ٹہراتے ہیں۔ جب کہ مسئلہ انفرادی ہے ہی نہیں مسئلہ پورے نظام کا ہے۔ تمہیں یہ تو نظر آیا کہ باسط نے تم پہ ظلم کیا۔ لیکن باسط نے کیا سہا اگر وہ اپنے بیان میں نا بتاتا تو کیا کبھی تمہیں پتا چل سکتا تھا؟ یا ایک دفعہ بھی تم نے سوچا کہ باسط کو کوئی مسئلہ ہوسکتا ہے؟ پھر باسط کے معاملے میں غلطی اگر اس کے والد کی کہی جائے تو اس کے والد کی شخصیت میں گڑبڑ کس کی غلطی؟”

”میڈم باسط کی بات تو آپ رہنے دیں یہ سب اس نے ہمدردیاں بٹورنے کا ڈرامہ کیا تھا اور کچھ نہیں”

”اگر ڈرامہ تھا تو اسے فائدہ کیا ہوا؟ اس کی سزا میں کوئی کمی ہوئی۔ اصل میں تم یہ اس لیئے سمجھ رہی ہو کیونکہ تمہارا واسطہ عدالت کے معاملات سے اتنا پڑا نہیں ورنہ باسط اور اس کا وکیل چاہتے تو یہ مسئلہ کئی سال چلتا رہتا۔ سزا اسے ضرور ہوتی کیونکہ معاملہ ایسا تھا مگر کئی سال بعد۔ اس کے اس بیان نے اسے فائدے کی بجائے نقصان پہنچایا اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے جو کہا وہ سچ تھا۔”

”یعنی آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ باسط نے جو کچھ کیا اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں اسے سزا نہیں ملنی چاہیے تھی؟”

”نہیں اسے اور اس جیسے ہر مجرم کو سزا ضرور ملنی چاہیے اسے لیے ہم ابھی تھانے بھی جارہے ہیں۔ مگر ساری بات کا مقصد یہ ہے کہ یہ سمجھو کہ مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں پورے سسٹم کا ہے۔ جہاں طاقتور کو ہر آزادی حاصل ہے اور کمزور کے لیے کچھ نہیں۔ جو لوگ سسٹم کو غلط سلط اپنے تجربے کی بنیاد پہ سمجھ کر اس میں اپنی بقا کی کوشس کرتے ہیں وہ یا تو طاقتور بن کر ظلم ڈھاتے ہیں یا کمزور بن کر ظلم سہتے ہیں۔ تمہارے اپنے گھر میں ایسی کئی مثالیں ہونگی۔ عموما ساس اور بہو کے رشتے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ آتی ہے جب تک ساس صاقتور رہتی ہے وہ ظلم اور ناانصافی کرتی ہے۔ جب بہو طاقتور ہوجاتی ہے تو بہو وہی کچھ ساس کے ساتھ کرتی ہے۔”

بسمہ کو فورا امی اور دادی کا رویہ یاد آیا جو بالکل ایسے ہی تھا جیسے بختاور نے بتایا۔ بختاور کی بات جاری تھی۔ اس نے آگے کہا

”سسٹم کو صحیح کرنے کے لیے ان لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو نا کسی دوسرے کا حق چھینیں اور نا اپنا حق چھیننے دیں۔ یہ یاد رکھو تم جتنی دفعہ خاموش رہ کر مسئلہ دبانے کی کوشش کرو گی تم کسی اور طاقتور کو دعوت دو گی کہ آو مجھے استعمال کرو میں بے جان گڑیا ہوں، مجھے تکلیف نہیں ہوتی میرے کوئی جذبات نہیں۔” اب کی بار بسمہ نے ایسے سر ہلایا جیسے اسے کافی حد تک بات سمجھ آگئی۔

ان کی بات ختم ہونے کے بعد وین میں خاموشی چھا گئی۔ پانچ منٹ تک وین مزید چلتی رہی اور پھر ایک تھانے کے سامنے جاکر رک گئی۔

تھانے کی کچھ لیڈی پولیس آفیسرز بختاور کو پہچانتی تھیں۔ اسی لیے خلاف معمول اس کی شکایت کو سنجیدگی سے ڈیل کیا گیا اور فورا ایف آئی آر کاٹی گئی۔ ان کا بیان لکھوا کر اسی وقت ایک پولیس وین دوبارہ ان کے ساتھ اسنوکر کلب پہ آئی وہاں موجود سب لڑکوں کو پولیس نے ان دونوں کے سامنے شاخت کے لیے کھڑا کردیا تین لڑکے وہی تھے جو پہلے ان لڑکوں کے ٹولے میں شامل تھے۔ ساتھ ہی انسپکٹر نے اسنوکر کلب کے مالک کو بھی پکڑ لیا۔ جس کی لاپرواہی کی وجہ سے لڑکے یہاں جمع ہوکر نازیبا حرکتیں کر رہے تھے۔ پولیس وین وہاں سے تھانے چلی گئی اور وہ لوگ اپنے آفس آگئے۔

بختاور نے چائے منگوائی اور بسمہ کو لے کر آفس میں آگئی اور دوبارہ بات شروع کی

”ہمم اب تمہارے خیال میں مسئلہ حل ہوگیا؟”

”اسلم والا یا اسنوکر کلب والا؟”

”اسنوکر کلب والا۔ اسلم والا مسئلہ تم خود ڈیل کرو گی۔ کیونکہ وہ تمہارا ذاتی مسئلہ ہے۔ یہ یاد رکھو میں یا کوئی اور قدم قدم پہ تمہارے مسئلے حل کرنے یا مشورے دینے کے لیے موجود نہیں ہوگا۔ اور یہی سمجھانے کے لیے میں نے اسلم والے معاملے میں مدد کرنے کی بجائے تمہیں دکھایا کہ ایسے مسئلے حل کیسے کرتے ہیں خیر ابھی کے بارے میں بتاو کیا لگ رہا ہے تمہیں۔”

”ابھی تو مسئلہ ختم ہوگیا میرے خیال میں۔” بسمہ نے کچھ سوچ کے کہا پھر اسے کچھ خیال آیا

”مگر میڈم یہ سب تو کچھ دیر کا مسئلہ ہے ابھی ان کے والدین آئیں گے انہیں پیسے دے کر چھڑوا کر لے جائیں گے۔ یہ تو دیکھنے میں ہی اندازہ ہورہا تھا کہ ان کے باپوں کے پاس ہے اتنا بے تحاشہ کہ یہ اڑائیں اور انہیں فکر ہی نا ہو۔”

”یہ غریب گھروں کے بھی تو ہوسکتے ہیں۔”

” ہاں ہو تو سکتے ہیں مگر میں نے جو دیکھا ہے ایسے ٹولوں میں ایسے ہی لڑکے زیادہ ہوتے ہیں جن کو پیچھے سے خرچہ پانی کی بے فکری ہوتی ہے۔”

” بالکل صحیح مشاہدہ ہے۔ تمہیں یہ سب اتنا تفصیل سے بتانے کی وجہ بھی یہی ہے کیونکہ تم بات کو ناصرف جلدی سمجھ لیتی ہو بلکہ خود سوچتی بھی ہو۔ اور تمہاری شخصیت ابھی اتنی مثبت ہے کہ اس میں سدھار لانا آسان ہے یا یہ کہو کہ اسے مضبوط بنانا اور معاشرے کے لیے کار آمد بنانا آسان ہے۔”

”مجھے تو اپنا آپ بہت کمزور لگتا ہے”

”کچھ تو بھروسہ میرے تجربے پہ بھی کرو۔” بختاور شگفتگی سے مسکرائی پھر بولی

”اچھا اب جیسا تم نے کہا کہ یہ سب کھاتے پیتے گھرانے کے ہوں گے اور ممکن ہے آج ہی چھوٹ بھی جائیں۔ اب ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟”

” اس سے زیادہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟”

”اس سے زیادہ اگلا قدم ہوتا ہے کسی ایسے کو معاملے میں شامل کرنا جس کے سامنے یہ کچھ نا کرپائیں۔ جیسے یہ کریں گے ہمارے مقابلے میں کسی پولیس کے بڑے آفیسر کی سفارش لائیں گے کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو بیچ میں لائیں گے۔ ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں تو ہم سب سے طاقتور فریق کو بیچ میں لائیں گے۔ میڈیا کو۔”

” میڈیا کو! کیسے؟ اور اس میں تو ہماری ہی بدنامی ہوگی” بسمہ اس انوکھے حل پہ حیران رہ گئی

”آج کل میڈیا سب سے طاقتور ہے۔ آپ پریس کلب جاو وہاں جاکر اپنا احتجاج رکارڈ کرواو کچھ نا کچھ ٹی وی چینلز اور اخبار آپ کا احتجاج اپنے ٹی وی سے اور چینل سے لوگوں تک پہنچا دیں گے۔ ایک چھوٹا سا مسئلہ اہم بن جائے گا۔ اور پولیس چھپ کر یا پیسے لے کر انہیں چھوڑ نہیں سکے گی۔ کوئی ایم این اے ایم پی اے یا اور کوئی سیاسی لیڈر کھل کر ان کی حمایت نہیں کر پائے گا۔ اب اسلم باسط اور یہ لڑکے ان سب کو ملا کر سارے مسئلے کو درجوں کے حساب سے سمجھو اور اسی طرح ان کا حل سمجھو۔ پہلا درجہ ایسا بندہ جو صرف آپ سے طاقتور ہے، یا وہ صرف وقتی طور پہ طاقتور ہے اس کے لیے آپ کا مضبوط لہجہ اور باڈی لینگویج ہی کافی ہوتی ہے۔ پھر کوئی ایسا بندہ جو قانونی طور پہ کوئی ایسا اختیار رکھتا ہو کہ آپ اس سے کمزور حیثیت پہ ہوں جیسے شوہر یا باس ان کے لیے اپنے حق کے قانون سمجھو۔ جتنا تمہیں اپنے حقوق کا پتا ہوگا اتنا ہی دوسرا بندہ تم سے نا انصافی کرتے ہوئے ہزار بار سوچے گا۔ اچھا یہ بتاو تم نے نکاح کے وقت یا اس کے بعد کبھی ایک بار بھی اپنا نکاح نامہ پڑھا کہ اس میں کیا کچھ لکھا ہوتا ہے؟

 ہاں دیکھا تو تھا مگر صرف میرا اور باسط کا نام، گواہوں کے نام اور حق مہر کی رقم لکھی تھی باقی تو سب کالم کاٹے ہوئے تھے۔”

جبکہ وہی کالم سب سے اہم ہوتے ہیں اور یہی غلطی والدین کرتے ہیں کہ نکاح کے وقت بیٹی کو کوئی حق نہیں دلواتے۔ اور یہی غلطی ہم نوکری کرتے ہوئے کرتے ہیں کہ ہم نوکری کے معاہدے پہ دستخط کرتے ہوئے دیکھتے ہی نہیں کہ ہمیں قانون نے کیا حقوق دیئے ہیں۔ پھر ہماری ہی محنت کے پیسے میں سے چند ٹکے احسان کی طرح ہمارے منہ پہ مار دیئے جاتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں اپنے حقوق ہی نہیں پتا ہوتے۔ چلو یہ تو ہوگئی قانونی طور پہ ہم سے طاقتور بندے کی بات پھر اگر ہمارا سابقہ کسی مجرم سے پڑے وہ چاہے چھوٹی نوعیت کا ہو یا بڑی نوعیت کا یہ یاد رکھو مجرم وہ ہے تم اس کا جرم سامنے لاو گی تو شرمندگی کی بات اس کے لیے ہے تمہارے لیے نہیں۔ اور جہاں بھی تمہیں لگے کہ تم نے سب کوششیں کر لیں اور مسئلہ حل نہیں ہورہا تو میڈیا کے ذریعے سب تک اپنی آواز پہنچاو تا کہ جو بھی تمہاری مدد کرسکتا ہے یا جس پہ اس مسئلہ حل کرنے کی قانونی ذمہ داری ہے وہ متوجہ ہوسکے۔”

ان کے باتیں کرنے کے دوران چائے بھی آگئی۔ تو بختاور نے بات چیت کچھ دیر کے لیے روک دی۔

”چلو چائے پیتے ہیں کچھ ذہنی تھکن کم ہوگی۔ تم چاہو تو گھر چلی جانا آرام سے مسئلے پہ سوچو پھر بتاو کہ تم اسلم کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پہ تیار ہو یا نہیں۔ ابھی بھی فیصلہ تمہارا ہوگا تم پہ کوئی زبردستی نہیں اگر تمہیں یہاں کام کرنا مناسب نا لگے تو میں کسی اور جگہ بھی کوشش کر کے دیکھوں گی جہاں تمہارے لیے موزوں جاب مل سکے۔ مگر یاد رکھو کبھی نا کبھی تمہیں اپنے لیے خود لڑنا ہوگا۔ جتنا جلدی خود کو مضبوط بناو گی اتنی جلدی زندگی آسان ہوسکے گی۔”

بسمہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا

” میں خود بھی آپ سے کچھ وقت لینا چاہ رہی تھی تاکہ کچھ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکوں۔”

پھر وہ دونوں خاموشی سے چائے پینے لگیں۔ چائے ختم کرکے بسمہ واپسی کے نکلنے لگی تو بختاور نے سہیل کو کہلوا دیا کہ بسمہ کو گھر ڈراپ کر آئے ویسے بھی اب وہ ٹیچرز کو لینے ہی نکلتا تاکہ دارلامان پہنچا سکے۔

بسمہ وین میں بیٹھ گئی اس کے ذہن میں پورا واقعہ اور بختاور کی باتیں دوبارہ گھومنے لگیں۔ بسمہ کو لگا اسے واقعی اب اپنے لیے جو کرنا ہے سوچ سمجھ کے کرنا ہے۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اب تک اس نے جو کیا تھا غصے اور گھر والوں کے رویئے کے ردعمل میں کیا تھا۔ سارا رستہ اس کا سوچوں میں ہی گزر گیا۔ اور گھر کا دروازہ آگیا۔ گھر میں داخل ہونے تک کم از کم وہ یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اب وہ زندگی حالات کے رحم و کرم پہ نہیں گزارے گی۔ مگر ابھی بہت کچھ اس کے ذہن میں الجھا ہوا تھا۔

بسمہ کافی تھک گئی تھی مگر منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھانے اور لیٹنے کے دوران مسلسل اس کا دماغ سوچوں سے گھرا رہا۔

بختاور نے اس کے لیے کہا کہ اس کی شخصیت مثبت زیادہ ہے۔ جبکہ اسے آج کل اپنا آپ بالکل منفی لگ رہا تھا۔ وہ اپنی شخصیت کے برعکس گھر والوں سے لڑتی جھگڑتی تھی۔ جو کما رہی تھی صرف خود پہ خرچ کر رہی تھی۔ گھر میں کوئی مسئلہ ہو کوئی بیمار ہو وہ بالکل بے حس بن جاتی تھی۔ اپنے طور پہ وہ انہیں احساس دلانا چاہ رہی تھی کہ انہوں نے اس کے ساتھ جو کیا غلط کیا۔ مگر آج وہ دوبارہ اپنے رویے کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ بڑے بھیا صرف اس کی وجہ سے الگ رہ رہے تھے۔ گھر کی ذمہ داریوں سے وہ ہمیشہ سے بھاگتے تھے کیونکہ انہیں ہمیشہ ہی بڑے ہونے کا طعنہ ملا۔ ان سے بچپن میں بھی ذمہ داری اور بردباری کی توقع رکھی جاتی تھی اور آہستہ آہستہ انہوں نے یہ آسان طریقہ سیکھ لیا کہ اپنے بڑے ہونے کا فائدہ کس طرح اٹھایا جاسکتا ہے۔ بسمہ کو فورا خیال آیا یعنی بھیا نے بھی سسٹم کو اپنے فائدے کی حد تک استعمال کیا

پھر اسے خیال آیا کہ دادی کو دیکھا جائے امی کو ابو کو اسد کو یا اسماءاور بشرہ آپی کو سب نے یہی کیا۔ جب خود سے طاقتور کی بات آتی ہے تو وہ سب ظلم سہتے ہیں جب خود سے کوئی کمزور ملتا ہے تو اس کے لیے وہی رویہ اپناتے ہیں جو سہہ چکے ہوتے ہیں۔ وہ بھی انجانے میں یہی کر رہی تھی۔ اب ابو ریٹائرڈ تھے امی کی تو ساری حیثیت ہی ابو کی وجہ سے تھی۔ جبکہ اب وہ اپنی ضرورتوں کے لیے کسی کی محتاج نہیں تھی تو وہ کوئی کام کرتے ہوئے کسی سے پوچھنا یا اجازت لینا ضروری نہیں سمجھتی تھی۔ اب وہ امی اور دادی سے بدتمیزی کے حد تک بحث بھی کرتی تھی۔ بسمہ اندر تک کانپ گئی۔ اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ جو خود کو ابھی تک مظلوم اور کمزور سمجھ رہی تھی وہ خود بھی آہستہ آہستہ ظالموں کے طبقے کا حصہ بن رہی تھی۔ وہ اپنی ذرا سی طاقت کو خود سے کمزوروں پہ استعمال کر رہی تھی۔ یعنی وہ اگر مرد ہوتی تو یہی کرتی جو باسط نے کیا۔ یا جب وہ ساس بنے گی تو یہی سب کرے گی جو باقی ساسیں کرتی ہیں۔ یا شاید وہ بھی نازیہ بن جائے۔ بسمہ ایک دم اٹھ کے بیٹھ گئی۔ یہ خیال ہی اتنا پریشان کن تھا کہ لوگوں کے جس رویئے سے وہ تکلیف میں مبتلا ہوئی تھی انجانے میں وہ وہی سب کر رہے تھی اور شاید آگے بھی کرتی رہتی اگر آج بختاور سے یہ سب بات نا ہوئی ہوتی۔

اسے کسی طرح چین نہیں آرہا تھا۔ وہ تو ہمدرد اور فرمانبردار بیٹی ہے۔ وہ تو خود کو ایک اچھا انسان سمجھتی ہےکیا اسے یہ سب زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی ناانصافیوں کا بدلہ اب لے جب کہ وہ اس سے کمزور ہوگئے ہیں۔ کیا یہ اسے زیب دیتا ہے کہ بھائی کے نامناسب رویے کا بدلہ وہ بھابھی سے لے جس بچاری کا اس سب سے کوئی تعلق ہی نہیں؟

اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو اٹھ کر کچن میں آگئی۔ امی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ جب سے کمر اور جوڑوں میں درد شروع ہوا تھا وہ اب آہستہ آہستہ کام نپٹانے کی کوشش کرتی تھیں اسی لیے جلدی ہی کام شروع کردیتیں۔ بس یہ ہوتا کہ اس کی وجہ سے ان کا سارا ہی دن کام میں نکل جاتا تھا۔ بسمہ نے خاموشی سے دوسری چھری اٹھائی اور ساتھ سبزی کاٹنی شروع کردی۔ امی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی کیونکہ اتنا تھوڑا بہت کام تو وہ کروا ہی دیتی تھی جب موڈ ہوتا تھا۔ سبزی کٹ گئی تو بسمہ خود ہی پتیلی نکالنے لگی۔

”آپ جائیں میں پکا دیتی ہوں۔” کہنے کو بہت چھوٹا سا عام سے جملہ تھا مگر اس جملے میں اس کی غلطی کا اعتراف پوشیدہ تھا۔ شاید اسی لیے اسے یہ کہنا بھی ایسے ہی مشکل لگا جیسے کسی بچے سے اپنی غلطی کے لیے سوری بولنا۔ چھوٹا سا لفظ ہوتا ہے مگر اس کے پیچھے ہماری بہت بڑی سے انا کھڑی ہوتی ہے۔ امی کی نظروں میں حیرت جھلکی مگر وہ خاموشی سے ہٹ گئیں۔ بسمہ نے سبزی بھی بنائی ساتھ ہی اسد کو کال کرکے چکن لانے کا بھی کہہ دیا۔ رات کے کھانے کے لیے اس نے کافی انتظام کرلیا۔ شام میں بھابھی اور بھائی نیچے آئے تو اس نے دونوں کو رات کے کھانے پہ روک لیا۔ یہ سب ہر کسی کے لیے ہی کچھ حیران کن تھا مگر سب اس کے بدلتے رویے دیکھتے رہتے تھے اس لیے اس تبدیلی کو بھی وقتی ہی سمجھ رہے تھے۔

اگلے دن بسمہ اپنے وقت پہ پہلے آفس اٹینڈنس لگا کر دارلامان پہنچی اور معمول کے مطابق کام بھی کیا۔ پورا ہی ہفتہ یونہی گزر گیا اور اس کی توقع کے برعکس اس کی ملاقات اسلم سے نہیں ہوئی۔ صبح کالج اور دوپہر میں جاب کی وجہ سے وہ سو فیصد کام تو نہیں کرسکتی تھی اس لیے اپنی موجودگی میں کوشش کرتی کہ صفائی کردے اور کھانا پکا دے۔ امی اس کے آ نے تک سبزیاں وغیرہ کاٹ لیتی تھیں۔ اپنے حساب سے وہ خود ہی پکانے کی تیاری کرتی تھیں مگر بسمہ آکر کچھ کہے بغیر ہی کٹی سبزیاں چڑھا دیتی اور ساتھ ہی اگر برتن رکھے ہوتے تو دھو دیتی۔ روز ہی یا تو بھیا بھابھی کو کھانے پہ روک لیتی یا پھر سالن اوپر دے آتی۔ بسمہ گھر کے مسائل کو بھی مناسب طریقے سے مستقل حل کرنے کا سوچ رہی تھی۔ اگر گھر کے یہ حالات رہتے تو اس کی تنخواہ اور ابو کی پینشن میں اخراجات پورے نہیں ہوسکتے تھے۔ دوسری بات گھر کا ماحول یہی رہتا تو اسد کی جاب اور شادی کے بعد وہ بھی ذمہ داری سے بری الزمہ ہوجاتا کیونکہ وہ ابھی سے بہت لاپرواہ تھا۔ پھر جب بڑا بھائی اور اس کی بیوی کوئی ذمہ داری نا نبھا رہے ہوں تو چھوٹا بھائی کیوں نبھاتا۔ اس نے بہت سوچ کے بھیا سے بات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ ایک دن رات کا کھانا کھا کر اس نے بھیا سے کہہ دیا اسے کچھ اہم بات کرنی ہے۔ وہیں ہال میں امی اور ابو کو بھی روک لیا۔

”بھیا مجھے اندازہ ہے کہ گھر کا ماحول بہت کشیدہ ہے اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ میرا ہے۔ مگر ایک بات جو آپ کو سوچنی چاہیے تھی اور آپ نے نہیں سوچی کہ میرے غلط رویے کاامی اور ابو سے کیا تعلق کہ آپ نے ان سے بھی ہر طریقے کا تعلق محدود کرلیا۔”

” ان کا تعلق کیسے نہیں ہے تمہیں اتنا سر پہ چڑھانے کی غلطی انہی کی ہے۔ لڑکی ہوکر سارا دن باہر گھومتی ہو۔ کوئی کچھ بولے تو ٹکا سا جواب ہاتھ پہ رکھ دیتی ہو۔ اور یہ والدین ہو کر تمہیں ٹوکتے تک نہیں۔”

” اچھا تو مطلب اس وجہ سے آپ ان کی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے۔ آپ کی ساری اخلاقی ذمہ داریاں ختم؟ بھیا آپ بھی وہی غلطی کر رہے ہیں جو کچھ دن پہلے تک میں کر رہی تھی۔ مگر شاید آپ کی عادت اب پختہ ہوگئی ہو۔”

” کیسی عادت کونسی غلطی؟”

”اپنے رویے کا ذمہ دار امی ابو کو ٹہرانا۔ آپ بھائی ہیں میرے آپ کو اچھی طرح سے پتا ہے کہ میں ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ اور مجھے بھی یاد ہے کہ آپ ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ جب تک آپ اسکول میں تھے۔ مجھے لگتا تھا میرے بھیا جیسا بھائی کسی کا ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ مجھے گود میں لے کر گھمانے جاتے تھے۔ اپنا جیب خرچ ہم سب چھوٹے بہن بھائیوں پہ خرچ کردیتے تھے۔”

”اور اس کے باوجود یہ سننے کو ملتا تھا کہ میں غیر ذمہ دار ہوں مجھے بہن بھائیوں کی ماں باپ کی پرواہ نہیں یہ سوچے بغیر کہ میں خود ساتویں آٹھویں کا بچہ تھا۔”

بھیا بیچ میں بول پڑے ان کی مخاطب بسمہ تھی مگر نظریں امی اور ابو پہ تھیں۔ جن میں سالوں کی چھپی شکایتیں امنڈ رہی تھیں۔

”ٹھیک ہے مان لیا کہ ان کا رویہ آپ سے غلط تھا۔ مگر کب تک آپ اپنے رویے سے ان کے رویے کا بدلہ لیں گے؟ کب تک بھیا؟ آپ کو ہی سب سے زیادہ اہمیت بھی ملی۔ آپ کا کہا حرف آخر ہوتا تھا گھر میں۔ آپ کی موجودگی میں کوئی اونچی آواز میں بھی نہیں بولتا تھا۔”

” مجھے نہیں میری جاب کو میری تنخواہ کو اہمیت ملی تھی یہ۔ آج میں کچھ کمانا چھوڑ دوں کنگال ہوجاوں کیا پتا یہ مجھے بیٹا ماننے سے ہی انکار کردیں۔”

امی ابو نے تڑپ کے نفی میں سر ہلایا۔ ان کے چہرے پہ واضح کرب کے آثار تھے۔

”یہ ٹھیک ہے کہ تمہاری جاب کے بعد تمہیں ہم نے زیادہ اہمیت دی مگر اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ تم پیسا کما کر ہمیں دیتے ہو بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں تم پہ اعتماد ہوگیا تھا کہ تم اتنے ذمہ دار ہوگئے ہو جتنا ہم تمہیں بنانا چاہتے تھے۔”

”ابو واقعی کیا بھیا صرف کمانے سے ذمہ دار ہوگئے تھے؟”

بسمہ نا چاہتے ہوئے بھی سوال کر گئی۔ مگر اس کے جواب میں اسے امی ابو کی گہری خاموشی ملی۔

”بھیا آپ ہوں یا میں ہم نے اپنے حساب سے خود سے ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لے لیا۔ آپ کو خود بھی اندازہ ہے جیسا گھر کا ماحول ہے ایسے میں کوئی کھل کے خوش نہیں ہوسکتا۔ گھر پہ ہر وقت تناو کی کیفیت رہتی ہے۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ ہم گھر کا ماحول مل کر بہتر بنا لیں۔ آپ کو زیادہ اعتراض میرے نامناسب رویے پہ ہے نا۔ اس کی میں معذرت کرتی ہوں۔ مگر امی ابو کی کچھ ذمہ داری آپ کی بھی ہے۔”

” یہ کہو نا کہ تم سے گھر کے خرچے نہیں سنبھل رہے۔”

” بھیا 15 ہزار میں آج کل کونسا گھر چلتا ہے؟”

”کیوں ابو کی پینشن بھی تو ہے۔”

”اگر پینشن ساری ابھی استعمال ہوتی رہے گی تو اگر کبھی بیماری وغیرہ میں ضرورت پڑی تو پیسے کہاں سے آئیں گے۔ آپ کا رویہ یہی رہا تو کیا ہم یہ امید لگا سکتے ہیں کہ آپ تب کوئی خرچہ کریں گے؟”

”کیوں نہیں کروں گا ماں باپ ہیں میرے”

”وہ تو ابھی بھی ہیں یا جب بیمار پڑیں گے صرف تب ماں باپ ہونگے؟ اگر آپ بیٹے ہونے کا ثبوت دینا چاہتے ہیں تو ابھی دیں۔ جن نا انصافیوں کا بدلہ آپ لے رہے ہیں وہ آپ نے آج صاف الفاظ میں جتا دی ہیں۔ مزید اس کا بدلہ لینے کی کوئی منطقی وجہ نہیں بنتی جبکہ آپ یا یہ بلکہ ہم میں سے کوئی بھی کچھ بھی کرلے ہم اپنا ماضی نہیں بدل سکتے۔ صرف آنے والے وقت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔”

بھیا کے چہرے پہ گہری سوچ کے آثار تھے۔

” میں کل تمہیں فائنل بتاتا ہوں۔ میں اور فوزیہ آپس میں مشورہ کرلیں تاکہ دیکھ لیں کتنا بجٹ ہے اور اس میں سے کچھ نکل سکتا ہے یا نہیں۔”

”ٹھیک ہے آرام سے سوچیں اتنا عرصہ گزر گیا کچھ دن اور سہی۔”

بھیا اور بھابھی اٹھ کر چلے گئے تو امی فورا بولیں

”تمہیں کیا ضرورت تھی اس سے یہ بات کرنے کی وہ گھر چھوڑ کے چلا گیا تو؟ کم از کم شکل تو دیکھنے کو ملتی ہے روز اسکی۔”

”گھر میں تو اسماءآپی اور بشرہ آپی بھی نہیں رہتیں امی۔ ان کی شکل بھی آپ کو ہفتوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔”

”ان کی بات الگ ہے وہ بیٹیاں ہیں انہیں تو اپنے گھر کا ہونا ہی ہوتا ہے۔ بیٹا تو بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے۔

وہی تو بنانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ابھی تو نہیں ہیں وہ آپ کا سہارا۔ اور اگر گھر چھوڑ کے جاتے ہیں تو اچھی بات ہے اوپر والا پورشن اچھے خاصے کرایے میں جاسکتا ہے۔ ویسے بھی میرا ارادہ یہی ہے کہ اگر انہوں نے خرچے کے پیسے دینے پہ رضامندی نہیں دی تو ان کے سامنے یہی دو شرائط رکھوں گی کہ یا تو اوپر والے پورشن کا کرایہ دیں کیونکہ گھر ابو کی ملکیت ہے یا پھر گھر خالی کر دیں۔”

” پاگل ہوگئی ہو کیا۔ سگے بیٹے سے کوئی کرایہ لیتا ہے کیا؟”

”سگا بیٹا اپنی ذمہ داریوں سے ایسے بھاگتا ہے کیا؟ امی آپ سوچ لیں گھر آپ لوگوں کا ہے بیٹی ہونے کی حیثیت سے آپ نے پہلے ہی کبھی ہمیں اس گھر کو اپنا نہیں سمجھنے دیا۔ تو میرے لیے بالکل فرق نہیں پڑے گا کہ میں یہاں رہوں یا کہیں اور مگر بھیا کا یہی چلن رہا تو آپ لوگوں کو ضرور فرق پڑے گا۔ آپ تین بوڑھے ایک دوسرے کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اسد سے بھی آپ نے یہی رویہ رکھا ہے ابھی تک، اسے کسی ذمہ داری کا احساس نہیں دلایا گیا تھا اب جب سے آبو ریٹائر ہوئے ہیں تو آپ لوگوں کو فکر ہوگئی ہے کہ وہ بہت لاپرواہ ہے۔ اسے جب ذمہ داری سکھائی ہی نہیں تو خود بخود کیسے آئے گی۔ آپ لوگ ایک اولاد بلکہ میں خود کو بھی شامل کروں تو دو اولادوں کے رویے بھگت چکے ہیں اپنے نامناسب رویے کی وجہ سے۔ ابھی بھی وقت ہے کم از کم اسد کو سپورٹ کریں تاکہ وہ واقعی آپ لوگوں کا سہارا بن سکے۔اسے وقت دیں تاکہ وہ اپنی غلط عادتوں پہ اور لاپرواہی پہ قابو پاسکے اس کے بعد اس پہ ذمہ داری ڈالیں۔”

”بیٹا تمہیں پتا ہے اب ہمارے پاس اس پہ اڑانے کے لیے پیسا ہے ہی نہیں۔ جب کہ وہ ہر ہفتے ہزاروں ایسے مانگتا ہے جیسے آسمان سے برس رہیں ہوں جتائیں نہیں تو اور کیا کریں؟” اب کی بار ابو بولے ان کے لہجے میں شکستگی تھی

”ابو اسے یہ عادت بھی آپ لوگوں نے ہی ڈالی ہے۔ میٹرک کا اسٹوڈنٹ صرف دیکھنے میں بڑا لگتا ہے ذہنی طور پہ بچہ ہی ہوتا ہے اسے بڑوں کی سپورٹ چاہیے ہوتی ہے۔ نرمی سے آرام سے سمجھائیں۔ بلکہ آپ لوگ چاہیں تو میں سمجھاوں مگر پلیز یہ انتہائی رویے ختم کریں کہ کسی کو اتنی ڈھیل دیں کہ وہ کچھ بھی غلط کرے تو اسے کچھ نہیں کہنا اور کسی پہ اتنی سختی کہ جو غلطی اس کی نا بھی ہو اس پہ بھی اسے ہی قصوروار ٹہرایا جائے۔”

”اب یہ دن بھی دیکھنا ہی تھا کہ اولاد ہمیں سمجھائے گی کہ ہم غلط ہیں، کرو بھءجو دل میں آئے کرو ماں باپ تو اب ناکارہ پرزہ ہیں ہماری کوئی کیوں سنے گا۔” ابو جھنجھلا کے اٹھ کر کمرے میں چلے گئے۔

بسمہ ساری بات چیت سے کافی مایوس ہوگئی تھی مگر اگلے دن ایک خوش آئند بات یہ ہوئی کہ صبح آفس جاتے ہوئے بھیا نے اسے بتایا کہ اب نئے مہینے سے وہ باقاعدہ زیادہ پیسے گھر کے خرچ کے لیے دیا کریں گے۔ بسمہ نے شکر ادا کیا کہ مزید کسی بدمزگی سے پہلے ہی معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ گیا۔ اب دوسرا ٹاسک تھا اسد سے بات کر کے اسے سمجھانا اور اسے ذمہ داری کا احساس دلانا۔

انہی سوچوں میں مگن وہ انسٹیٹیوٹ بھی ہوکر آگئی اور دارلامان جانے کے لیے وین میں بیٹھی تو بھی اس کے دماغ میں یہی سب چل رہا تھا۔ باقی چاروں ٹیچرز معمول کے مطابق ہنسی مذاق کر رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں سب کو اس کی خاموشی محسوس ہوگئی۔

” تم کیوں آج سہیل بھائی سے خاموشی میں مقابلہ کر رہی ہو۔ شرط باندھی ہے کوئی تو ہمیں بھی بتاو جو جیتے گا ہمیں ٹریٹ کھلائے گا۔”

”ارے یار یہ تم لوگ ہر بات میں اس بچارے کو کیوں گھسیٹ لیتی ہو۔ ضروری نہیں کہ ہر مذاق میں اسے بھی شامل کیا جائے۔ اور تمہیں پتا ہے کہ مجھے بالکل پسند نہیں کہ کسی بھی مرد کے ساتھ میرا تذکرہ کیا جائے” بسمہ کو ویسے ہی ان کا سہیل کا ہر بات میں مذاق اڑانا اچھا نہیں لگتا تھا ایک تو اسے آپس کی باتوں میں بلا وجہ مردوں کو زیر بحث لانا بہت برا لگتا تھا وہ بھی کسی ایسے مرد کو جو خود سن بھی رہا ہو۔

”یہ مرد کہاں ہے یہ تو ڈرائیور ہے۔ ویسے بھی مرد تو ایسا ہوتا ہے جسے دیکھ کر ہی طاقت اور مضبوطی کا احساس ہو۔ ڈر لگے۔ جس کے لہجے میں غصہ ہو غرور ہو۔” ایک ٹیچر اپنا آئیڈیل مرد بتانے لگی

”محترمہ آپ جسے مرد کی خصوصیات کہہ رہی ہیں وہ اچھا مرد نہیں ظالم مرد ہوتا ہے۔ جو عورت کی عزت نا کرسکے ایسے مرد کی مردانگی کا کیا فائدہ۔ سہیل تم لوگوں سے عزت سے بات کرتا ہے تو تم لوگ اس کی بے عزتی کرتی ہو اور خواب ہیں ایسے مرد کے جو تم پہ غصہ کرے اور غرور جھاڑے۔”

”ہاں تو اس کا کام ہے، عزت سے بات نہیں کرے گا تو ہم نکلوا دیں گے اسے۔ اس کی اوقات ہے کہ ہم سے غصے سے بات کرسکے۔ ڈرائیور ہے وہ۔ اپنی اوقات میں رہے تو بہتر ہے۔ ایسے لوگوں کو ذرا عزت دے دو تو سر پہ چڑھ جاتے ہیں۔” ایک اور ٹیچر بولی

”مس آپ کی باقی باتیں درست ہیں میں ڈرائیور ہوں میری کوئی اوقات نہیں مگر آپ مجھے نوکری سے نہیں نکلوا سکتیں۔” پہلی بار سہیل نے ان کی بات کاٹ کر اپنے حق میں کچھ بولا تھا۔ آواز دھیمی ہی تھی اور لہجہ بھی مودب۔

”یہ تو ابھی پتا چل جائے گا۔ چلو ذرا آفس میڈم بختاور کو بتاتی ہوں تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔ میرے بھائی میڈم بختاور کے بھائی کے دوست ہیں۔ دیکھنا کیسے بات مانتی ہیں میری وہ۔” وہ ٹیچر تلملا گئی

آفس پہنچتے ہی وہ ٹیچر سب سے پہلے نکل کر بختاور کے آفس میں گھس گئی۔ سب سے آخر میں بسمہ اتری۔

”سہیل آپ نے اچھا کیا انہیں جواب دے کر۔ میڈم بختاور سے بھی میں نے یہی سیکھا ہے آپ جب تک چپ رہیں گے یہ لوگ آپ کا مذاق اڑاتی رہیں گی۔ آپ نے پہلے ہی شکایت کر دی ہوتی تو پہلے ہی سدھر گئی ہوتیں یہ۔”

”مس پہلے کبھی کسی نے میری حمایت ہی نہیں کی کہ مجھے ہمت ہوتی۔” سہیل اپنے مخصوص جھجھکے ہوئے لہجے میں بولا اور وین لاک کر کے گارڈ کے روم میں چلا گیا۔ بسمہ اندر گئی تو بختاور کے آفس سے اس ٹیچر کے زور زور سے بولنے کی آواز آرہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بختاور نے سب ٹیچرز کو اندر بلا لیا۔

بختاور نے سب کو مخاطب کر کے کہا

” عفت کا کہنا ہے کہ سہیل نے اس کے ساتھ بد تمیزی کی ہے۔ سہیل ہمارے ساتھ پانچ سال سے ہے اسے ہم آپ سب سے زیادہ اچھی طرح سے جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر شکایت پہ مکمل کاروائی ضروری ہے تاکہ اگر واقعی سہیل کی غلطی ہے تو اسے وارننگ دی جاسکے”

” میڈم صرف وارننگ نہیں اسے ابھی اور اسی وقت نکالیں ورنہ میں یہ جاب چھوڑ دوں گی۔”

” عفت پہلی غلطی کی سزا پہ ایکسپلینیشن اور وارننگ ہی نکلتی ہے یہ ادارے کی پالیسی ہے۔”

”میڈم یہ ڈرائیور ہے یہ تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے کونسی پالیسی؟”

”ڈرائیور ہو یاٹیچر ایمپلائی ہے تو پالیسی بھی ایک ہی ہوگی۔ خیر آپ لوگ بتائیں کہ ہوا کیا تھا۔”

”میڈم ہم آپس میں مذاق کر رہے تھے اس میں سہیل کا تذکرہ آگیا تو اس نے ہم سے بد تمیزی شروع کردی۔”

بسمہ دوسری ٹیچر کی غلط بیانی پہ حیران رہ گئی۔ باقی تینوں بھی ہاں میں سرہلانے لگیں۔

” آپ کے آپس کے مذاق میں سہیل کا ذکر کیسے آگیا ایک دم؟”

” میڈم یہ لوگ فضول میں میرا اور سہیل کا نام ساتھ لے رہی تھیں میں نے منع کیا تو سہیل کا مذاق اڑانے لگیں جیسا یہ لوگ عموما کرتی ہیں۔ اور یہ بھی کہا کہ اگر یہ ہم سے بدتمیزی کرے گا تو اسے نکلوا دیں گے جس پہ سہیل نے کہا کہ یہ لوگ اسے نہیں نکلوا سکتے۔”

کسی اور کے بولنے سے پہلے بسمہ بول پڑی اسے لگا اگر وہ نہیں بولے گی تو معاملے کو اور غلط توڑ مروڑ کے پیش کیا جائے گا۔

”عموما کرتی ہیں؟”

بختاور نے حیرت سے کہا

”میڈم ہم تو سہیل بھائی کو بھائی سمجھ کر ہلکا پھلکا مذاق کرتے ہیں۔ مس بسمہ کی سوچ پتا نہیں کیسی ہے انہیں لگتا ہے ہم ان سے فری ہورہے ہیں۔ ویسے یہ مرد ہے مرد ہے کہہ کر ہمیں ان کا تذکرہ کرنے پہ ٹوکتی ہیں اور آج انہی کی سائیڈ لے رہی ہیں۔”

”بھائیوں کا مذاق اڑانے کی اجازت کونسے قانون میں ہے؟ اور اگر آپ سہیل کو بھائی سمجھتی ہیں تو یہ کہنا عجیب نہیں ہے کہ ڈرائیور ہو کر اس نے ہم سے بدتمیزی کی؟ آپ لوگ ڈسائیڈ کرلیں کہ آپ اسے بھائی سمجھتی ہیں یا ڈرائیور۔ بھائی کے رشتے سے مذاق کرتی ہیں تو اس کی بات بھی برداشت کرنی چاہیے اور پروفیشنل لمٹس رکھنی ہیں تو پہلے آپ کو ان لمٹس کی پابندی کرنی ہوگی۔”

بختاور نے بے لچک لہجے میں ان سب کو تنبیہ کی۔

”میڈم آپ اگر اسے نہیں نکالیں گی تو میں اپنے بھائی سے بات کروں گی”

”بیٹا آپ اپنے بھائی سے بات کریں میرے بھائی سے یا کسی بھائی لوگ سے پالیسی پالیسی ہے غلطی آپ لوگوں کی ہے وارننگ بھی آپ لوگوں کے لیے نکلے گی۔ جسے جاب کرنی ہے کرے نہیں کرنی کسی پہ کوئی زبردستی نہیں ہے۔ مگر اخلاقیات کی پاسداری ضروری ہے۔ یہاں پہ کوئی کسی عہدے کی وجہ سے بڑا یا کم تر نہیں ہے ہم سب معاشرے کی بہتری کے مقصد پہ کام کر رہے ہیں اور ہماری ٹیم کا ہر فرد اہم بھی ہے اور محترم بھی۔” بختاور نے بیل بجا کر پیون کو بلایا

”چاچا! سہیل کو کہیے انہیں دارلامان چھوڑ آئے اور جو نا جانا چاہیں انہیں گھر ڈراپ کردیں۔”

کچھ دیر بعد وہ پانچوں خاموشی سی دارلامان جارہی تھیں۔ بسمہ کو دلی خوشی تھی کہ اب کم از کم سہیل ان سب کے روز کے مذاق سے بچ گیا۔ بسمہ کو جب سے اس کی کہانی پتا چلی تھی اسے سہیل سے ہمدردی ہوگئی تھی۔ پہلے وہ اس کے اتنا گھبرائے رہنے پہ چڑتی تھی مگر اب اسے اس کا رویہ منطقی لگتا تھا اتنا سب کچھ سہہ لینے کے بعد اگر وہ تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اپنا خرچ خود اٹھا رہا تھا تو یہی بہت بہادری تھی۔ اس کا پتا نہیں کیوں دل چاہنے لگا کہ وہ اعتماد بڑھانے میں سہیل کی مدد کرے۔

دن آہستہ آہستہ گزر رہے تھے۔ اسی دوران اس کے امتحانات بھی ہوگئے اور صبح کا وقت فارغ مل گیا کچھ دنوں کے لیے۔بسمہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خود میں مزید خود اعتمادی محسوس کرتی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے وہ مسئلوں سے بھاگنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور اب مسئلے کا سوچ سمجھ کے سامنا کرنے لگی تھی۔ اسے کم از کم یہ اندازہ تو ہوگیا تھا کہ مسئلوں سے نظریں چرانے سے مسئلے کبھی حل نہیں ہوتے۔ نہ کسی اور پہ اپنی ذمہ داری ڈال دینے سے حل ہوتے ہیں۔ گھر کا نظام کافی حد تک ایک ڈگر پہ آگیا تھا۔ فوزیہ بھابھی دن میں نیچے آجاتی تھیں تھوڑابہت کام کرنے میں امی کی مدد کردیتی تھیں۔ بسمہ کی کوشش تھی کہ امی کو ان پہ غیر ضروری نکتہ چینی سے روکے رکھے۔ امی بہت بار ان کی غلطی درگزر کر بھی جاتیں مگر دادی انہیں فرمانبردار قسم کی بہو کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھیں کہ وہ ان کے گھرانے کی ترکیبوں سے کھانے پکائیں ان کے مقرر کیے ہوئے وقت پہ سوئیں جاگیں ان کی مرضی کے کپڑے پہنیں۔ بسمہ کو یہ بھی اندازہ تھا کہ دادی کی عمر میں اب انہیں سمجھایا نہیں جاسکتا۔ ایسے میں اسے بھابھی سے ہی ڈسکس کرنا زیادہ موزوں لگا۔ دادی سے بحث نہیں کی جاسکتی تھی مگر اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ بھابھی اپنے حق چھوڑ دیتیں۔ بسمہ کو آسان طریقہ یہ لگا کہ بھابھی کی دوست بن جائے دادی یا امی کی کوئی بات بری لگے تو وہ بسمہ سے کہہ کر دل ہلکا کر لیں۔ اسے پتا تھا کہ ایک دفعہ چھوٹی بحث بھی جھگڑے میں بدل گئی تو آپس کی جھجھک اور لحاظ ختم ہوجائے گا۔ مگر ساتھ ہی اس نے دادی اور امی کو مختلف طریقوں سے مطمئین کرنے کی ذمہ داری بھی لے لی تھی۔ اب بس ایک بڑا مسئلہ رہ گیا تھا اسد کا۔ اسے اتنے بے جا لاڈ کا عادی بنا دیا گیا تھا کہ اب وہ کسی کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔ بسمہ کی شادی جتنے عرصے رہی اتنے عرصے میں اسد اور باقی گھر کے چاروں بڑوں کے درمیان تعلقات بری طرح کشیدہ ہوگئے تھے۔ انہیں ایکدم سے خیال آگیا تھا کہ اسد بہت بگڑ گیا ہے اسے سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر ہی اس پہ بار بار تنقید شروع کردی گئی۔ اسے گھر میں آنے والی تبدیلی سمجھ نہیں آرہی تھی اور بھائی سمیت سب چاہ رہے تھے کہ ایک لیکچر کے بعد وہ ذمہ داری میں قائد اعظم ہوجائے۔ اب اسد کا یہ حال ہوگیا تھا کہ وہ ہروقت جارحانہ موڈ میں ہوتا تھا۔ عموما گھر سے باہر رہتا تھا۔ بہت سوچنے کے بعد بسمہ اس نتیجے پہ پہنچی کہ گھر میں ایسا تھا ہی کیا جس کی وجہ سے وہ گھر میں رکتا، سوائے ڈانٹ پھٹکارکے۔

بسمہ کو پتا تھا کہ اسے سائنس کی کتاب میں موجود ہر ایکسپیریمینٹ خود کرنے کا شوق تھا۔ اسے تھیوریز یاد ہوں یا نا ہوں مگر ہر ایکسپیریمنٹ جس کی چیزیں اسے گھر میں مل سکتی تھیں وہ ضرور کر کے دیکھتا تھا۔ باقی سبجیکٹس میں وہ بس اللہ آسرے پاس ہوتا تھا۔ جب تک ابو کی جاب تھی تو اسے جو بھی سامان چاہیے ہوتا تھا ابو کوئی سوال جواب کیے بغیر اسے پیسے دے دیتے تھے۔ مگر اب بحث زیادہ ہوتی تھی اور پیسے کم دیتے تھے اب انہیں اس کا یہ شوق پیسے کا زیاں لگتا تھا۔ اب بھی جب دل چاہتا تھا تو وہ اپنی فزکس یا کیمسٹری کی کوئی کتاب میں سے یا نیٹ سے دیکھ کر کچھ نا کچھ آزماتا ضرور تھا۔ ایک دن اسی طرح وہ کچھ سامان جمع کر کے فزکس کے کسی رول rule کے بارے میں تجربہ کر رہا تھا۔ بسمہ بالکل عام سے انداز میں اس کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔ اس نے موبائل وڈیو آن کر لی جیسے مذاق میں رکارڈنگ کر رہی ہو

”جی جناب سائنٹسٹ صاحب آپ بتائیں گے کہ آپ کون سا تجربہ کر رہے ہیں اور اس میں کیا کیا اپریٹس (تجرباتی آلات) استعمال کر رہے ہیں؟”

اسد نے اپنا کام کرتے کرتے ذرا سا سر اٹھایا۔ بسمہ کی شریر مسکراہٹ سے وہ بھی یہی سمجھا کہ وہ مذاق میں رکارڈ کر رہی ہے۔ اس نے پورے تجربے کی پوری تفصیل بتانی شروع کردی۔ وہ تجربہ کرتا بھی جارہا تھا اور اس کی وضاحت بھی کرتا جارہا تھا۔

رات میں بسمہ نے سائنٹسٹ بھائی کے نام سے ایک یوٹیوب چینل بنایا اور وڈیو اپ لوڈ کردی۔ اب اسے انتظار تھا کہ لوگوں کا کیا ریسپونس ملتا ہے۔ ایک دو دن ایسے ہی گزر گئے کوئی خاص ویوز نہیں آئے۔ مگر چار دن بعد ایک دم سے وڈیو وائرل ہوگئی۔ بسمہ کو بھی اندازہ نہیں ہوا تھا کہ جس فزکس کے روول کا عملی نمونہ اسد نے کرکے دکھایا وہ کافی مشکل کانسیپٹ تھا اور عموما اسٹوڈنٹس اسے کافی سرچ کرتے تھے مگر انگلش وڈیوز انہیں زیادہ سمجھ نہیں آتی تھیں۔ اسد کی وڈیو نے ان کا مسئلہ حل کردیا تھا۔ ایک ہفتے کے اندر اندر 1000 سے زیادہ ویوز اور کئی لائکس مل گئے۔ بسمہ نے اسد کو بتانے کی بجائے فیس بک پہ اپنے پروفائل سے وہ وڈیو شئیر کی اور اسد کو ٹیگ کردیا۔ اسد گھر آیا تو موڈ خوشگوار تھا مگر کچھ بولا نہیں۔ کچھ سامان لے کر بیٹھ گیا۔ بسمہ دوبارہ موبائل لے کر پہنچ گئی۔

”سائنٹسٹ بھائی! وڈیو بناوں؟”

”پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ وڈیو یوٹیوب پہ ڈالو گی۔ اگر غلط تھیوری بتا دیتا تو اچھی خاصی بیستی ہوجانی تھی۔”

”بچو اتنی سائنس مجھے بھی آتی ہے، کانسیپٹ صحیح تھا اسی لیے اپ لوڈ کی بتایا اس لیے نہیں کیونکہ میرا بھی تکہ تھا چل گیا تو چل گیا۔”

اسد نے تجربہ شروع کیا بسمہ نے ریکارڈنگ، مگر آج اسد جھجھک رہا تھا۔

”اففو تمہیں بتا کے غلطی کی۔ آرام سے کرو ابھی کونسا ڈائریکٹ نیٹ پہ چلا جائے گا غلط ہوگا تو دوبارہ ریکارڈ کرلیں گے۔”

یہ سن کے اسد کچھ ریلیکس ہوگیا۔ پھر روز ہی کوئی نا کوئی تجربہ کرنے لگا جو زیادہ اچھا لگتا وہ چینل پہ اپ لوڈ کر دیتے۔ اب اس کی کوشش ہوتی کہ زیادہ وقت گھر پہ گزارے۔ وڈیوز پہ کمنٹس میں اسٹوڈنٹس کے ساتھ ساتھ بہت سے ٹیچرز بھی اسد کو بہت اپریشئیٹ کر رہے تھے۔ عموما کا کہنا تھا کہ آپ یقینا بہت جینئیس ہیں۔ اسد کمنٹس پڑھ کے خوش بھی ہوتا تھا اور آہستہ آہستہ اس کا وقت کتابوں کے ساتھ زیادہ گزرنے لگا۔

اسد خوش تھا مگر امی ابو نہیں ان کے خیال میں بسمہ اسد کو بگاڑ رہی ہے اس کے بے تکے شوق پہ اس کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ بسمہ نے اصل میں یہ وڈیو کا سلسلہ اسد کو باہر کی مصروفیت سے دور کرنے کے لیے کیا تھا مگر غیر متوقع طور پہ اس کا بہت اچھا ریسپونس ملنے لگا مگر بہر حال اسد سے بات کرنے کی ضرورت تھی۔ اسے احساس دلانے کی کہ اسے آگے اپنی اور امی ابو کی ذمہ داری نبھانے کے لیے سوچ سمجھ کے فیصلے کرنے ہونگے۔

اب بسمہ اس کے ساتھ نیا تجربہ ریکارڈ کرنے بیٹھتی تو ادھر ادھر کی باتیں بھی کرتی تھی۔ وہ جان بوجھ کے ڈیلی روٹین میں سے وہ باتیں شئیر کرتی جن سے کوئی مثبت نتیجہ نکالا جاسکے اور پھر اس پہ اسد کی رائے پوچھتی تھی۔ اس کی کوشش تھی کہ وہ اسد کو کوئی لیکچر نا دے بلکہ صرف ایک سمت دے دے جس نہج پہ سوچ کے وہ اپنے لیے بہتر فیصلہ کرسکے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئی تھی۔ چار پانچ ماہ کی اس بات چیت کے بعد اسد میں اتنی تبدیلی آئی کہ امی ابو کو بھی باقاعدہ وہ تبدیلی محسوس ہونے لگی۔

اس دوران بسمہ نے ایک کام یہ بھی کیا کہ وہ ایک گھنٹا پہلے آفس چلی جاتی تھی اور بختاور کی اجازت سے سہیل کو پڑھنے میں مدد دیتی تھی۔ اس نے اسد والا طریقہ ہی سہیل کے ساتھ بھی آزما کے دیکھا۔ مگر سہیل کا بچپن اتنے گھٹن زدہ ماحول میں گزرہ تھا کہ ڈر اس کی شخصیت کا حصہ بن گیا تھا۔ اور یہ ڈر اس کے ہر مسئلے میں اس کے آڑے آتا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا سوال حل کرتے میں وہ اتنا ڈرتا تھا کہ جو بات زبانی صحیح بتاتا تھا وہ لکھتا غلط تھا۔

دارلامان والا پروجیکٹ تقریبا اینڈ پہ تھا وہاں پہ وہ کئی مستقل رہائش پزیر خواتین کو دو طرح سے ٹرینڈ کرچکی تھیں جو کچھ پڑھی لکھی تھیں انہیں باقی کو پڑھانا سکھا دیا تھا۔ جو انپڑھ تھیں انہیں ان کے ہنر کا استعمال بھی سکھادیا تھا ساتھ ہی نئی آنے والی خواتین کو سکھانے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی۔ بختاور نے پتا نہیں کیا طریقے استعمال کیے تھے کہ ان کی تنخواہ گورنمنٹ سے دارلامان کے لیے ملنے والے بجٹ میں ہی فٹ کرلی۔ ان میں سے کچھ ان کے شیلٹر ہوم میں شفٹ ہوگئی تھیں جن میں شنو بھی شامل تھی۔ بسمہ کی اس ملاقات ہوتی رہتی تھی اور اب کافی دوستی ہوگئی تھی۔ شنو، فائزہ یا گل بانو جتنی ذہین اور پر اعتماد نہیں تھی مگر پھر بھی کافی سمجھدار تھی اور سب سے اہم بات کہ پرخلوص تھی اور یہی ایک بہترین دوست کی اہم خاصیت ہوتی ہے۔

بختاور اب بسمہ کو اپنے ساتھ پروگرامز میں بھی لے جاتی تھی۔ تاکہ بسمہ اس سمیت دوسرے مقررین کی باتیں بھی سنے اور الگ الگ قسم کے لوگوں سے مل کر انہیں پرکھنا بھی سیکھ سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اب بسمہ کو اگلے پروجیکٹ میں بھی ساتھ رکھنا چاہتی تھی جو وومن امپاورمنٹ سے متعلق تھا۔ بختاور اور باقی مینیجرز پروپوزلز بنا رہے تھے مگر سارے آئیڈیاز پہ ہی پہلے سے دوسری این جی اوز یا تو کافی کام کر چکی تھیں یا کر رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے انہیں پراجیکٹ ملنا مشکل ہورہا تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ پراجیکٹس اصل معنوں میں خواتین کو امپاور نہیں کرپارہے تھے۔ سب این جی اوز کاغذی کاروائیاں کر کے پیسے سمیٹ رہی تھیں۔

ایک دن ایک پروگرام سے واپس آتے ہوئے بختاور بسمہ سے یہی ڈسکس کر رہی تھی۔ سگنل پہ گاڑی رکی تو فقیرنیوں اور ہیجڑوں نے گاڑی بجا بجا کر پیسے مانگنے شروع کر دیئے۔ سہیل کو پتا نہیں کیا سوجھی مذاق میں کہنے لگا

”میڈم ان فقیرنیوں اور ہیجڑوں کے لیے کوئی پراجیکٹ ہونا چاہیے۔ آپ کو پتا ہے یہ بڑے اچھے اداکار ہوتے ہیں” سہیل بختاور اور بسمہ دونوں کے ہی ساتھ اب کافی اعتماد سے بات کر لیتا تھا۔ کیونکہ وہ دونوں اسے عزت سے مخاطب کرتی تھیں۔

”میڈم آئیڈیا برا نہیں ہے۔ کیوں نا ان کے اسٹریٹ تھیٹر ٹائپ کروائے جائیں۔ اور ٹاپک یہی روزمرہ میں خواتین کے مسائل ہوں خاص طور سے یہ خود جن مسائل سے گزرتی ہیں۔”

بسمہ نے بھی سہیل کی ہاں میں ہاں ملائی۔

”ہمم یہ آئیڈیا بھی ہوسکتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی کچھ ہو جو ان خواتین کو سکھایا جاسکے جو اسٹریٹ تھیٹر نہیں کر سکتیں یا نہیں کرنا چاہتیں۔”

” مکینک اور ٹیکنیشن کا کام” سہیل نے دوبارہ اچھوتا مشورہ دیا۔

”سہیل یہ زیادہ ہوگئی اب، یہ تو عجیب آئیڈیا ہے”

بسمہ ہنس دی

” نہیں یہ واقعی سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں۔ گھروں میں عموما کام پڑے رہتے ہیں کیونکہ دن میں مرد گھر میں نہیں ہوتے اور رات میں مکینک نہیں ملتا۔ غیر مرد کو صرف عورتوں کے گھر میں عموما بلاتے ہوئے لوگ ہچکچاتے ہیں۔”

”ویلڈ پوائینٹ مگر لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت یہ فن سیکھ ہی نہیں سکتیں” بسمہ نے کہا

”وہ تو جب سیکھ جائیں گی تو ان کا خیال خود ہی رد ہوجائے گا۔ مگر خیال واقعی اچھا ہے۔” بختاور نے بھی حمایت کی۔

”چلو اب باقی ٹیم کے ساتھ بھی ڈسکس کر کے دیکھتے ہیں اور یہ آئیڈیاز تم لوگوں کے ہیں تو تم لوگ ہی پیش کرو گے۔ اور اگر آئیڈیاز پسند آگئے تو اس پہ مزید کام بھی تم لوگ ہی کرنا۔”

” میڈم مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں یہ بس ایسے ہی سہیل نے کہا ایکٹنگ کا تو میں نے تھوڑا ایڈ کردیا۔”

”ہمارے ذہن میں بھی ایسے ہی آئیڈیاز آتے ہیں۔ اور ویسے بھی پرانے ذہنوں کی جگہ کبھی نا کبھی نئے ذہن لیں گے۔ تو بہتر ہے کہ ہم پہلے سے موجود اچھے ذہنوں کو آگے کے لیے تیار کرلیں۔”

وہ لوگ باتیں کرتے جارہے تھے اس وقت وہ نسبتا سنسان سڑک سے گزر رہے تھے۔ ایک دم سہیل نے جھٹکے سے بریک لگایا۔ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ وہ دونوں ہی آگے ٹکرائیں۔

”کیا ہوگیا سہیل بیٹا احتیاط سے چلائیں۔”

بختاور نے ٹوکا مگر سہیل نے کوئی جواب نہیں دیا اس کی نظریں باہر تھیں۔ باہر ایک بائیک ترچھی کھڑی ہوئی تھی اس پہ دو لڑکے سوار تھے آگے والے نے شاید بائیک روکتے ہی پسٹل نکال لی تھی جبکہ دوسرا والا اب پسٹل نکال رہا تھا اور بائیک سے اتر کر قریب آرہا تھا۔ سہیل کا چہرہ دہشت سے سفید پڑ گیا تھا۔ اسٹئیرنگ پہ اس کے ہاتھ باقاعدہ کانپتے نظر آرہے تھے۔ اس لڑکے نے آتے ہی پہلے تو بسمہ اور بختاور کو باہر نکلنے کا کہا اور ان سے موبائل اور کیش مانگا۔ بسمہ اور بختاور وین کی اوٹ میں تھیں اور بائیک والے کو صحیح سے نظر نہیں آرہی تھیں۔ شاید وہ بھی کوئی نیا تھا اس کا دھیان ان دونوں پہ زیادہ تھا اور سہیل کی طرف کم۔ بالکل لاشعوری طور پہ وہ بائیک سمیت دو قدم پیچھے ہوگیا تھا تاکہ اپنے ساتھی کو سامان چھینتا دیکھ سکے۔ ان سب کی توجہ تب وین کی طرف گئی جب ایک دم ہی انجن اسٹارٹ ہوا اور ہوا کی تیزی سے وین آگے دوڑتی چلی گئی۔ بائیک والے تو جو حیران تھے سو تھے۔ بسمہ حیرت سے بے ہوش ہونے کو تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ سہیل انہیں ایسی سچویشن میں اکیلا چھوڑ جائے گا۔ بسمہ سے تو خیر ڈیڑھ سال کی جان پہچان تھی بختاور سے تو اس کا چھ سال پرانا تعلق تھا وہ بھی احسان مندی کا۔ جتنا احترام وہ بختاور کا کرتا تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسے دھوکا دے جائے گا۔

سہیل کے وین لے جانے پہ وہ دونوں لڑکے ایک دم گھبرا گئے۔ اس وقت تک جو بھی چھینا تھا وہی لے کر فورا بھاگ گئے۔

جب یہ سب ہوگیا تو بسمہ کو اندازہ ہوا کہ اس کے ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن تیز تھی۔ اس نے بختاور کی طرف دیکھا۔

”اب کیا کریں؟”

” تمہاری کیا کیا چیزیں چھینی ہیں؟”

” بس موبائل اور تھوڑے پیسے”

”ہمم میرا بھی بس یہی لیا چلو پہلے آفس چلتے ہیں پھر تھوڑا ریلیکس کر کے رپورٹ لکھوانے چلیں گے۔”

”اور سہیل”

”وہ آجائے گا آفس, رستہ پتا ہے اسے”

”وہ ان سے ملا ہوا تو نہیں تھا؟ میڈم آپ اس کی بھی رپورٹ لکھوایئے گا”

”آفس چلو پھر دیکھتے ہیں۔ ویسے بھی وہ ڈرائیور ہے گارڈ نہیں۔ ہماری حفاظت اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔”

”مگر میڈم اس کی کچھ تو ذمہ داری اخلاقی بھی بنتی ہے وہ اکیلا مرد تھا ہمارے ساتھ”

”تو یہ کیا اس کی غلطی ہے کہ وہ مرد تھا اور اس کے لیے مدد کرنا ضروری تھا؟”

بسمہ کو بختاور کی سہیل کے لیے بلا وجہ کی حمایت اس وقت بہت کھل رہی تھی۔ مگر بہرحال وہ باس تھی اس لیے بسمہ کو خاموش ہونا پڑا۔

ان لوگوں نے قریبی مین روڈ سے رکشہ لیا اور آفس آگئیں۔ آفس کے گیٹ پہ اتری ہی تھیں کہ اندر سے بہت سارے آفس کے مرد باہر آگئے۔

” میڈم آپ لوگ ٹھیک ہیں نا۔ ارشد اور منیر گئے ہیں وین لے کر اس جگہ۔” ایک کلرک نے بتایا

”اب وہاں کیا ملے گا؟ انہیں کال کریں واپس بلائیں۔ سہیل کہاں ہے؟”

” گارڈ کے روم میں ہے۔ آتے ہی بے ہوش ہوگیا تھا۔ اسے پانی میں گلوکوز پلا دیا ہے۔ مگر رو رہا ہے بیٹھ کے۔”

”اسے کسی نے کچھ الٹا سیدھا ڈانٹا تو نہیں؟”

”اسلم صاحب ہیں ابھی، انہوں نے تھوڑا ڈانٹا کہ دو خواتین کو ایسے چھوڑ کے کیوں آئے۔ میں نے بتایا بھی انہیں سہیل کا مسئلہ مگر وہ کافی ناراض تھے”

”ٹھیک ہے سہیل کے پاس بس کوئی ایک بندہ رہے رش نا لگائیں۔ سب ٹھیک ہے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے بس انہوں نے ہمارے پیسے اور موبائل لیا ہے۔ آپ لوگ اپنی روٹین کنٹینیو (روزمرہ کے کام جاری) رکھیں۔ اور اسلم ہے تو اسے میرے آفس میں بھیج دیں”

”میڈم میں باہر ویٹ کروں؟”

بسمہ نے پوچھا۔ اسے لگا اندر اسلم کو ڈانٹ پڑنے والی ہے۔ اب اس کا کافی دفعہ اسلم سے سامنا ہوتا رہتا تھا۔ اپنے خیال کے برعکس اسے ایک دفعہ بھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ پہلے وہ تھوڑا کتراتی تھی اس جگہ سے جہاں اسلم ہو مگر اسلم نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ اب یہ ہچکچاہٹ بھی ختم ہوگئی تھی۔ مگر فی الحال معاملہ الگ تھا وہ اور بختاور دونوں دیور بھابھی تھے ان کی بات چیت آفیشل (دفتری) سے زیادہ گھریلو ہونے کا خدشہ تھا اور بختاور کے تیور سے لگ رہا تھا کہ وہ ذرا سختی سے بات کرے گی۔ اس لیے بسمہ کو بہتر لگا کہ باہر ہی رہے۔

”نہیں آجاو اندر ہی، اچھا ہے ایک ہی ساتھ دونوں سے سہیل کا مسئلہ ڈسکس ہوجائے گا۔”

وہ دونوں اندر پہنچی ہی تھیں کہ پیچھے سے اسلم بھی آگیا۔

” بھابھی آپ نے بلایا تھا؟”

”ہاں بیٹھو”

”جی”

اسلم بسمہ سے ایک کرسی چھوڑ کے بیٹھ گیا۔

”تمہاری سہیل سے کوئی بات ہوئی ہے ابھی؟”

”ہاں بھابھی عجیب بندہ ہے آپ لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے بھاگ کے آگیا۔ اب بچوں کہ طرح رو رہا ہے۔ اگر وہ لڑکے آپ لوگوں کو کوئی نقصان پہنچادیتے تو؟”

”تمہیں پتا ہے کہ ان کے پاس ہتھیار بھی تھے انہیں نقصان پہنچانا ہوتا تو سہیل کی موجودگی میں بھی پہنچا سکتے تھے۔”

”ہاں وہ تو ہے مگر کچھ تو اس کی ذمہ داری بھی تھی نا۔ کیسا مرد ہے دو خواتین کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا۔ میں آپ کا سن کے ویسے ہی پریشان ہوگیا تھا۔ اسے اگر ہتھیار سے ڈر لگتا ہے تو نکال دیں کوئی ایسا ڈرائیور رکھیں جو ایسی سچویشن میں مدد تو کرسکے۔” اسلم نے بالکل وہی بات کی جو بسمہ سوچ رہی تھی۔

”مدد تو بسمہ بھی نہیں کرپائی۔ یا میں بسمہ کی نہیں کرپائی پھر؟ ہمیں بھی نکال دیا جائے؟”

”بھابھی آپ دونوں کی ذمہ داری تھوڑی ہے یہ، آپ لوگ تو عورتیں ہیں۔”

”تو وہ بھی ڈرائیور ہے گارڈ نہیں۔ اسلم مجھے افسوس یہ ہورہا ہے کہ تم اب بھی مرد عورت کو صرف انسان سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ اگر ایسی کسی سچویشن میں عورت ڈر سکتی ہے تو مرد بھی ڈر سکتا ہے۔ اور اگر یہ عورت کے لیے برائی نہیں تو مرد کے لیے کیوں؟” پھر بسمہ کی طرف دیکھا۔

تمہیں بھی ساتھ بٹھانے کا مقصد یہی تھا۔ کیونکہ مجھے اندازہ ہوا کہ تم بھی سہیل کے رویے پہ حیران ہو۔ دیکھو ڈرنے کا تعلق کسی جنس سے نہیں ہوتا آپ کس ماحول میں رہے ہیں اس سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر عورتیں ڈرپوک ہوتی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں مشکل حالات کا مقابلہ کرنا ہی نہیں سکھایا جاتا ہر جگہ گھر کے مرد آگے آجاتے ہیں حد یہ کہ چھپکلی چوہا بھگانے کے لیے بھی۔ یہی ڈرپوک عورت جب ماں بنتی ہے تو بہت بہادری کا مظاہر کرتی ہے جب اپنی اولاد کو خطرے سے بچانا ہو مگر وہ بھی سب نہیں، کچھ ہمت نہیں بھی کرپاتیں۔ ہم اس سے سیکھنے کی بجائے اسے مقدس اور کوئی الوہی قوت بنا دیتے ہیں۔ جبکہ یہ بہت عام سی نفسیاتی بات ہے کہ آپ کے پاس جب بھاگنے کا یا خطرے سے بچنے کا راستہ نا ہو تو آپ کے پاس صرف لڑنے کا آپشن رہ جاتا ہے۔ ایسے میں پہلے سے ذہنی طور پہ تیار شخص لڑتا ہے اور گھبرا جانے والا اپنے حواس کھو دیتا ہے۔ اسی لیے کچھ دفعہ مائیں بھی گھبراہٹ میں وہ فیصلے کر جاتی ہیں جو بچوں کو فائدہ کرنے کی بجائے نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ اس میں غلطی اس عورت کی نہیں ماحول کی ہے جس نے اسے بہادر بننے کا موقع ہی نہیں دیا۔ یہی مسئلہ سہیل کے ساتھ ہے۔ جس عمر میں اسے بہادر بننا تھا اس عمر میں اس کے ذہن میں خوف بٹھایا گیا تاکہ وہ ہمیشہ فرمانبردار رہے۔ مگر ایک مسئلہ ہے جس پہ اس کا ردعمل بہت شدید ہوتا ہے۔ ہاتھا پائی سے دور تو رہتا ہے مگر ڈرتا نہیں ہے۔ مگر جہاں بھی ہتھیار نظر آئیں اس کے حواس ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ پہلے تو گارڈز سے بھی ڈر جاتا تھا اب کم از کم اتنا ہوا ہے کہ جب تک پسٹل ہولڈر میں ہوتی ہے یہ پرسکون رہتا ہے مگر مذاق میں بھی کوئی پسٹل ہاتھ میں لے لے تو رونا شروع کردیتا ہے۔ دیکھنے میں کوئی نفسیاتی مسئلہ لگتا ہے مگر کیا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ بسمہ تم عموما مسئلہ کو نئے سمت سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہو تمہارے ذہن میں کوئی خیال ہو تو بتاو تاکہ اس کی مدد کی جاسکے۔”

”میڈم ایسا تو عموما فوبیاز میں ہوتا ہے۔”

”ہاں مگر اس کے پیچھے کوئی نا کوئی وجہ ہوتی ہے نا۔ میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر پہلے تو کہتا ہے ایسا کچھ یاد نہیں پھر سر درد کا بہانا کر کے ادھر ادھر ہوجاتا ہے۔”

”بھابھی ایسا نہیں ہوسکتا کیا کہ کسی ماہر نفسیات سے بات کر کے دیکھ لیں یا اس کی ملاقات سہیل سے کروادیں شاید وہ کوئی مدد کر سکے؟”

اس بار اسلم نے مشورہ دیا

”ہاں ہو تو سکتا ہے مگر ماہر نفسیات کا نام سن کر ہی لوگ دور بھاگتے ہیں کہ ہمیں پاگل نہ کہا جائے۔ اسی لیے میں سہیل کو یہ مشورہ دیتے ہوئے ہچکچا رہی تھی۔”

”ہم پہلے کسی ماہر نفسیات سے خود بات کرلیں اگر وہ کوئی ایسا طریقہ بتائے جو ہم استعمال کرسکیں تو سہیل کو لے کے نہیں جانا پڑے گا۔” بسمہ کے مشورے پہ بختاور نے سر ہلایا پھر اپنی ڈائری نکال کر ایک ماہر نفسیات کا نمبر نکالا اور فورا ہی بات کرلی۔ اس سے فارغ ہو کر اس نے پھر اسلم کو مخاطب کیا۔

”اسلم، سہیل کا مسئلہ تم یقینا سمجھ گئے ہوگے۔ لیکن ایک اصول کو عادت بنا لو۔ کسی کا مسئلہ سمجھے بغیر کسی کی بے عزتی کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ دوسری بات وہ تمہارے انڈر میں کام نہیں کرتا۔ تمہیں کسی ملازم کی کسی عادت سے شکایت ہے تم ڈائریکٹ اس سے بات نہیں کرو گے بلکہ اس کے مینیجر سے بات کرو گے۔ ورک پلیس(کام کی جگہ) پہ اپنی اور دوسروں کی عزت اور حفاظت دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ کبھی کبھی کوئی ملازم اسے انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ بہتر ہوتا ہے کہ مسائل اپننے طریقے سے حل ہوں تاکہ ماحول بہتر رہے۔”

”ٹھیک ہے آئیندہ خیال رکھوں گا۔”

”اچھا تمہارا یہ پروجیکٹ تو اب ختم ہورہا ہوگا؟”

”جی آخری مہینہ ہے”

”اس کے بعد چاہو تو دوسرے پراجیکٹ کے لیے انٹرن شپ اپلائی کردو۔ تمہارا گریجویشن ہوچکا ہوتا تو جاب کے لیے اپلائی کرسکتے تھے۔”

”فرق کیا ہوگا”

”تنخواہ میں فرق ہوگا ایز انٹرن تمہیں ایکچوئل سیلری سے ہاف ملے گی۔ اور ذمہ داریاں کم ہونگیں۔ اچھا بسمہ تمہارا ابھی انٹر چل رہا ہے تمہیں ہم فیلڈ ورک کے لیے سیلیکٹ کر سکتے ہیں کیونکہ تم ایک سال اس قسم کی خواتین کے ساتھ کام کرچکی ہو۔ اس تجربے کی بنیاد پہ۔ فیلڈ میں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کو ڈیل کرنا جانتے ہوں اور پر اعتماد ہوں۔”

”آپ نے تو سہیل کے لیے بھی کہا تھا۔”

”ہاں بالکل سہیل کے پاس بہت اچھے آئیڈیاز ہوتے ہیں مگر لوگوں کے درمیان نہیں بولتا۔ مجھے یہ پتا ہے کہ باقاعدہ انٹرویو میں وہ فیل ہوجائے گا مگر میں پوسٹ کی ڈسکرپشن ایسی بنانے کی کوشش کرتی ہوں جس میں اس کو ڈرائیور اور فیلڈ اسسٹنٹ کے طور پہ رکھا جاسکے۔ اصل میں ہمارے یہاں انٹرویو کے لیے جو طریقہ استعمال ہوتا ہے اس میں حقیقی معنوں میں کام کا بندہ چننا تقریبا ناممکن ہے رٹے رٹائے سوال سنا دینے والے کامیاب ہوجاتے ہیں اور اصل باصلاحیت بندہ رہ جاتا ہے۔ میری عموما کوشش ہوتی ہے کہ میرے ساتھ دو تین ایسے بندے ہوں جو واقعی کام کر کے دکھا سکیں اور ضرورت مند ہوں ان کو ذہن میں رکھ کر میں پراجیکٹ پروپوزل میں جاب ڈسکرپشن بناتی ہوں۔ باقی اوپر والوں کو خوش کرنے کے لیے الٹی سیدھی بھرتیاں بھی ہوتی ہیں انہیں روکنا میرے بس میں نہیں۔” یہ بات کرکے بختاور کھڑی ہوگئی

”بسمہ چلو تو رپورٹ بھی لکھوا دیں اور میڈم شمسہ سے بھی مل لیں۔” اس نے ماہر نفسیات کا نام لیا۔

وہ باہر نکلے تو اسلم اپنے کام نپٹانے چلا گیا اور یہ دونوں گارڈ روم کے پاس آگئیں۔ سہیل اب پرسکون لگ رہا تھا مگر آنکھیں کچھ لال لگ رہی تھیں۔

”سہیل بیٹا اب طبعیت ٹھیک ہے؟”

”جی میڈم”

”ڈرائیو کر لو گے؟ تو رپورٹ لکھوا کے آجائیں۔ پھر ایک جگہ کام سے جانا ہے” بختاور اپنی عادت کے مطابق اپنی سے چند سال ہی چھوٹے سہیل کو ہمیشہ شفقت سے ہی مخاطب کرتی تھی۔ شاید اس کی وجہ سہیل کا دنیا میں بالکل اکیلا ہونا بھی ہو۔ بختاور کے اپنے بچے تو ابھی اسکول جانا شروع ہوئے تھے۔

”چلیں میڈم”

وہ لوگ آدھے گھنٹے میں رپورٹ لکھوا کر فارغ ہوگئے اور میڈم شمسہ کے کلینک آگئے۔ انہوں نے تینوں کو ہی اندر بلا لیا۔ تھوڑی بہت سلام دعا کے بعد بختاور نے مسئلہ بتانا شروع کیا۔

”میڈم ابھی ابھی ہمارا موبائل اور پیسے چھین لیے گئے۔ میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کچھ ہوتا ہے میں دوسروں کے سامنے تو بڑی بہادر بننے کی کوشش کرتی ہوں مگر پھر بھی اندر سے بہت ڈر جاتی ہوں۔ نیند اڑ جاتی ہے۔ ہر ہر بات پہ لگتا ہے دوبارہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔ کئی دن تک کام نہیں کرپاتی۔ اس دفعہ ایسا ہوا تو سوچا آپ سے مشورہ کر ہی لوں۔ پہلے یہ سوچ کے ٹال دیتی تھی کہ لوگ مجھے پاگل نہ سمجھیں۔”

میڈم شمسہ شگفتگی سے مسکرا دیں

”بہت اچھا کیا جو آپ آگئیں۔ یہ لفظ پاگل اصل میں کم فہم لوگوں کا نکالا ہوا ہے۔ ہمارے شعبے میں ہم کسی کو بھی پاگل نہیں کہتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ تھوڑے بہت نفسیاتی الجھن سے کوئی ذہنی مریض یا پاگل نہیں ہوجاتا۔ آپ خود بتائیں نزلے زکام میں مبتلا شخص معذور تو نہیں کہلائے گا۔ ایسے ہی بہت سے نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے۔ ساتھ ساتھ حل ہوتے رہیں تو زندگی پرسکون رہتی ہے۔”

”جی یہ بات تو ٹھیک ہے اب یہ بتائیں میرے مسئلے کا کیا حل ہوگا۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آتا جب کوشش کرتی ہوں کہ اس کے بارے میں سوچوں تو سر میں درد ہونے لگتا ہے۔”

”اصل میں ایسے خوف کسی سنجیدہ واقعے کے بعد ذہن میں بیٹھتے ہیں وہ واقعہ اتنا تکلیف دہ ہوتا ہے کہ ذہن اسے بھول جاتا ہے مگر اس کا اثر رہ جاتا ہے جب بھی کوئی اس واقعے سے متعلق چیز نظر آتی ہے تو ڈر لگنے لگتا ہے۔ اگر یاد کرنے کی کوشش کرو تو ہمارا لاشعور اسے یاد آنے سے روکتا ہے تاکہ ہم جذباتی تکلیف سے بچ سکیں اس کی وجہ سے سر درد ہوتا ہے۔”

”یہ تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے جی”

سہیل ایک دم بول پڑا۔ بختاور نے نامحسوس انداز میں بسمہ کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھا۔ بسمہ نے ہلکے سے سر ہلایا

”آپ کچھ تفصیل بتائیں۔” میڈم شمسہ نے سہیل سے پوچھا۔ سہیل نے ساری کیفیت تفصیل سے بتا دی۔ تقریبا ایک گھنٹے کی کاونسلنگ کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ کافی حوصلہ افزاءتھا۔ سہیل جب 8 سال کا تھا تب ایک دن کچھ لوگوں نے گھر پہ حملہ کردیا تھا پہلے وہ اس کے باپ سے بحث کرتے رہے وہ کسی معاملے کا حوالہ دے رہے تھے اور اسے کہہ رہے تھے کہ کہ تم نے بہت برا کیا تمہیں نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ بہت دیر بحث کے بعد ان لوگوں نے باپ کو گولی مار دی اور سہیل کے سر پہ پستول رکھ کے اپنے ساتھ اغواءکر کے لے آئے۔ ایک سال تک اس سے اپنی خدمتیں بھی کرواتے رہے اور اسے اپنی تسکین کے لیے بھی استعمال کرتے رہے پھر 20 ہزار میں ایک گروہ کے ہاتھ بیچ دیا۔ کچھ عرصے اس سے ایک جگہ بے گار میں کھدائی کا کام کروایا گیا اور پھر اس ہوٹل والی عورت کو 40 ہزار میں بیچ دیا گیا۔ سہیل اس سے پہلے یہ سب بھولا ہوا تھا اسے یا تو والدین کا ساتھ یاد تھا یا ہوٹل والی زندگی۔ یہ سب سہیل نے سیشن کے بعد انہیں بتایا۔ ورنہ سہیل سے بات کرنے کے لیے میڈم شمسہ نے انہیں باہر بٹھا دیا تھا۔

بسمہ گھر آئی تو اس کا دل بہت بوجھل ہورہا تھا۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ سہیل اب بہتر ہوسکتا تھا مگر جتنی مشکل زندگی اس نے گزاری تھی وہ بسمہ کے لیے تصور کرنا ہی بہت تکلیف دہ تھا۔ وہ تو سمجھتی تھی کہ صرف عورت کو ہی دبایا جاتا ہے اور صرف عورت کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اب مزید شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ سہیل کے مدد کرے اس کے تمام دکھ سمیٹ لے۔ اسے یہ خیال بھی تھا کہ یہ یقینا وقتی جذبات ہیں جیسے باسط کا بیان پڑھنے کے بعد تھے۔ مگر شاید اس کا خیال غلط تھا۔ دن گزرتے گئے سہیل کے لیے اس کی جذبات یونہی رہے۔ نیا پراجیکٹ شروع ہوا تو اسلم بسمہ اور سہیل کا آپس میں کام اور بات چیت زیادہ بڑھ گئی۔ ان کے ساتھ ایک لڑکی اور بھی تھی زہرہ وہ بھی کافی پر اعتماد اور ٹیلنٹڈ لڑکی تھی۔ وہ اور بسمہ الگ الگ جھونپٹر پٹیوں یا فقیروں کی بستیوں میں جاتیں خواتین سیلیکٹ کرتیں اور ان کے دو گروپ بنا دیتیں۔ اگلے مرحلے میں ایک گروپ ایک پروفیشنل تھیٹر ایکٹر کے سپرد کیا جاتا جو انہیں اسٹریٹ ڈرامہ کی ٹریننگ دیتا اور دوسرا گروپ ایک گورنمنٹ کے ٹرینر کے سپرد ہوتا جو انہیں مکینک اور الیکٹریشن کا کام سکھاتا۔ اس سے اگلے مرحلے میں پہلے گروپ کے اسٹریٹ تھیٹر شروع کروائے جاتے اور دوسرے گروپ کی خواتین ایک نامور کمپنی کے سروس سینٹرز پہ بھیجی جاتیں۔

اتنے عرصے میں بسمہ کی اسلم اور سہیل دونوں سے ہی کافی بے تکلفی ہوگئی تھی۔ شروع شروع میں زہرہ دونوں مردوں سے کچھ لیے دیئے رہتی تھی مگر پورے دن کا ساتھ ہو ساتھ کھانا پینا ہو تو ایسا رویہ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ تکلف کام کی بات کرنے میں بھی آڑے آتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی تھی کہ اسلم اور سہیل دونوں بہت احترام سے بات کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ وہ بھی گروپ میں کمفرٹ ایبل محسوس کرنے لگی۔

سہیل کے کاونسلنگ سیشنز بھی چل رہے تھے اور اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آرہی تھی۔ مگر کافی آہستگی سے۔ وہ لوگ کھانا وغیرہ کا بریک کرتے تو عموما کام پہ ہی گفتگو ہوتی تھی۔ ایک دن سہیل کسی کام سے کھانا کھانے سے پہلے کہیں چلا گیا اور زہرہ آئی نہیں تھی۔اسلم اور بسمہ کسی بات پہ بحث کر رہے تھے بسمہ اسلم کی بات ماننے کی بجائے دلیل دیے جارہی تھی آخر میں چڑ کے اسلم نے کہا

”اففو حالت دیکھو بندہ بات کرے تو ہر بات کا پوسٹ مارٹم کر دیتی ہو اس سے تو تم اسکول میں اچھی تھیں بالکل اچھی بچی ٹائپ ہوتی تھیں۔ بس اپنے آپ میں مگن ” بسمہ کہنا نہیں چاہتی تھی مگر پتا نہیں کیوں شکایت کر گئی

”مگر پھر بھی تم نے مجھے وہ آفر دی۔”

”ہاں اور میں اس پہ شرمندہ بھی بہت ہوا بعد میں۔ اصل میں ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا۔ جس اسکول سے میں آیا تھا وہاں بھی کلاس فیلوز کے درمیان اس قسم کی باتیں بہت کم تھیں۔ مگر جب تمہارے والے اسکول میں آیا تو ایک تو یہ ذہن میں تھا کہ اب میں جوان ہوگیا ہوں۔ دوسرا جن لڑکوں سے میری دوستی ہوئی وہ بہت غلط عادتوں کا شکار تھے۔ ان میں، میں سب سے اچھی شکل کا تھا اور میری وجہ سے ان کی لڑکیوں سے دوستیاں ہوتی تھیں تو وہ مجھے زبردستی ساتھ رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے میرے غیر ضروری تعریفیں بھی کرنی شروع کردیں۔ رہی سہی کسر کچھ لڑکیوں کے فدا ہوجانے والے رویئے نے پوری کردی۔ میرے گھر کی تربیت کے برخلاف ان لوگوں نے میرے ذہن میں یہ بھی بٹھا دیا کہ جو لڑکی آسانی سے نہیں مانتی وہ اصل میں صرف نخرے دکھا رہی ہوتی ہے تاکہ اسے اہمیت دی جائے ورنہ سب صرف جسمانی تعلق کے لیے انتظار کرتی ہیں کہ کب کوئی لڑکا توجہ دے۔ مجھے اب حیرت ہوتی ہے کہ اتنی گھٹیا سوچ پہ میں نے اس وقت یقین کیسے کیا۔ اسی سوچ کا اثر تھا کہ تمہارے ذرا سے مثبت رویئے کا میں نے بالکل غلط مطلب نکالا۔ تمہارے سخت ردعمل سے اس وقت تو مجھے غصہ آیا مگر بعد میں اسی وجہ سے میں نے دوبارہ اپنی سوچ پہ غور کیا تو اپنی سوچ کے سطحی پن کا اندازہ ہوا۔ اس کے بعد تم سے رابطہ ہی نہیں ہوپایا کہ معافی مانگ سکتا۔” اسلم شاید کافی عرصے سے یہ کہنا چاہتا تھا اسی لیے بسمہ کی ذرا سی شکایت پہ ساری تفصیل بتادی۔

”یہ تو تم صحیح کہہ رہے ہو اسکول کی عمر میں ہمارے دماغ میں ہمیشہ یہی بٹھایا جاتا ہے کہ دوسری صنف والے ہیں ہی برے ان سے بچ کے رہو۔ ایسے میں ہم بہت سے اچھے ساتھیوں کو کھو دیتے ہیں۔ جن کے ساتھ اگر مثبت ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے تو بہت کچھ سیکھ لیں۔

اسلم نے سر ہلا دیا۔ پھر وہ لوگ اپنے کاموں میں لگ گئے مگر بسمہ کے ذہن میں کافی عرصے سے جو الجھن تھی وہ رفع ہوگئی۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ ہم کسی واقعے کی بنیاد پہ کسی شخص کے لیے کتنی غلط رائے قائم کر لیتے ہیں جیسا وہ شخص بالکل بھی نہیں ہوتا۔ اور جب تک اس سے بات چیت نہ ہو یہ غلط فہمی کبھی دور نہیں ہوسکتی۔ ان دو سالوں میں اس کا مرد ذات کے بارے میں نظریہ بہت بدل گیا تھا۔ اسے اب مردوں کے غلط رویوں کے پیچھے کی وجوہات بھی پتا تھیں۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ اس نظریئے کے بدلنے میں سہیل کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ سہیل بختاور اور بسمہ کی انتہائی عزت کرتا تھا مگر اس کے علاوہ بھی اس کا رویہ ہر شخص سے اتنا اپنائیت والا ہوتا تھا جیسے وہ اس کا کوئی سگا رشتے دار ہے۔ لڑائی جھگڑوں سے وہ ابھی بھی کتراتا تھا مگر اس کے علاوہ کسی کو کسی بھی قسم کی ضرورت پڑتی سہیل کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنا سب کچھ بیچ کے بھی دوسرے کی ضرورت پوری کردے۔ بسمہ کو افسوس یہ ہوتا تھا کہ لوگ سہیل کی اس عادت کا غلط فائدہ اٹھاتے تھے اس سے مدد بھی لیتے اور پھر ڈرائیور ہونے کی بنیاد پہ تذلیل بھی کرتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ سہیل کی ذمہ داری تھی کہ اپنے سے زیادہ عہدے والوں کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہے۔ حد یہ کے دوسرے ڈرائیور اور چوکیدار بھی سہیل سے باس والا رویہ رکھتے تھے۔ بختاور کے سامنے اگر کبھی ایسا کچھ ہوتا تھا تو وہ لوگ اچھی طرح ڈانٹ بھی کھاتے تھے۔ مگر شاید یہ ان کی فطرت کا حصہ بن گیا تھا۔

پتا ہی نہیں چلا تین سال کا پراجیکٹ جیسے لمحوں میں ختم ہوگیا۔ بسمہ کا گریجویشن پورا ہوگیا اسلم کا ماسٹرز کا آخری سال آگیا اور سہیل اب انٹر میں تھا۔ کئی دفعہ لوگ اسے مشورہ دے چکے تھے کہ پڑھائی کی نہ تمہاری صلاحیت ہے نہ ضرورت تو چھوڑ دو مگر اس پہ وہ بہت مضبوطی سے ڈٹا ہوا تھا۔ اس کے ذہن میں بیٹھ گیا تھا کہ اچھی تعلیم ہو تو تعلیم سے میڈم بختاور جیسے لوگ بنتے ہیں اور ایسے لوگوں کی معاشرے کو ضرورت ہے۔ مگر وہ اپنے ان خیالات کا اظہار صرف بسمہ، اسلم اور زہرہ کے سامنے ہی کرتا تھا۔ اتنے عرصے میں ان تینوں کی سپورٹ سے اس نے لوگوں کی سامنے بھی اپنی آئیڈیاز بتانے شروع کردیئے تھے۔ عموما اپنے ڈر کی وجہ سے وہ جب اپنے خیال کو ہر طرح سے جانچ لیتا تب ہی بتاتا تھا اور اسی لیے عموما اس کا آئیڈیا بہت مکمل ہوتا تھا۔

سہیل زہرہ سے بات کرتا تھا تو بسمہ کو برا تو نہیں لگتا تھا مگر بس بلا وجہ وہ اداسی محسوس کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ اسے بہت واضح ہوگیا تھا کہ سہیل اس کے لیے اہم ہوگیا ہے۔ کئی دفعہ اسے لگتا تھا کہ شاید سہیل کے بھی یہی جذبات ہیں مگر پھر وہ کنفیوز ہوجاتی تھی کہ شاید یہ صرف احترام ہو۔ مگر جن نظروں سے وہ بسمہ کو دیکھتا تھا وہ کچھ الگ تھیں احترام کے ساتھ اور بھی بہت کچھ ہوتا تھا ان میں۔

بسمہ کو دوبارہ اپنے جذبات وہی نوعمر لڑکی جیسے لگنے لگے تھے۔ اسے سہیل کے بارے میں سوچنا اور سوچتے رہنا اچھا لگتا تھا۔ آفس اور یونیورسٹی میں ایک بہت پروفیشنل اور پریکٹیکل قسم کی لڑکی اس معاملے میں بہت رومانوی ہوجاتی تھی۔ اس ایک خواہش جس سے وہ باسط سے شادی کے بعد دست بردار ہوگئی تھی وہ دوبارہ سے شدید ہوگئی تھی۔ ایک عزت کرنے والا خیال رکھنے والا اور بہت رومانوی شریک حیات۔ دو خصوصیات میں تو سہیل بلامقابلہ جیت گیا تھا۔ مگر تیسری کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ ہاں ایک اور بھی معیار تھا مگر اب وہ اتنا بے معنی ہوگیا تھا کہ بسمہ نے اس طرف سوچا ہی نہیں وہ تھا خوبصورتی کا۔ اسے واجبی سی شکل کا سہیل سب سے اسپیشل لگنے لگا تھا۔

ان کا پراجیکٹ ختم ہوا تو بختاور اور ایریا مینیجر کی طرف سے ڈنر بھی دیا گیا جس میں ٹیم کے سارے لوگ موجود تھے ان چار کے علاوہ پانچ لوگ اور تھے جن کا کام ڈاکیومنٹیشن اور فنانس وغیرہ سے متعلق تھا۔ ڈنر کے ساتھ ہی کوئی مووی دیکھنے کا پلان بنا۔ مگر یہ ڈسائیڈ نہیں ہوپایا کہ کونسی فلم دیکھی جائے۔ ہر فلم پہ کوئی نا کوئی اعتراض کر دیتا۔ اس میں بہت فائٹ ہے، اس میں ایکٹنگ اچھی نہیں، اس کا ٹاپک بکواس ہے۔ ایک مووی پہ اسلم بولا

”نہیں نہیں یہ رومینٹک مووی ہے سہیل آدھی میں بھاگ جائے گا۔”

بسمہ کا دل ڈوب گیا۔ مطلب اسے رومان پسند نہیں

”لو کیوں بھاگ جائے گا”زہرہ کی طرف سے بسمہ کے دل کا سوال پوچھ لیا گیا

”ان سے سیڈ اینڈنگ برداشت نہیں ہوتی تین دفعہ میرے ساتھ مووی دیکھنے گیا آدھی میں چھوڑ کے بھاگ گیا۔ کہنے لگا بعد میں، میں خود ہیپی اینڈنگ سوچ لوں گا”

باقی تو سہیل کی حرکت پہ ہنسے مگر بسمہ اور سہیل کی نظریں غیر ارادی طور پہ ایک دوسرے کی طرف اٹھیں ان کی مسکراہٹ زیادہ گہری تھی۔

”واہ ہاتھ ملاو میں بھی یہی کرتی ہوں”

بسمہ غیر ارادی طور پہ کچھ ایکسائیٹڈ ہو کے بول گئی۔

” اوئی اللہ، جلدی کیا ہے میری تعلیم تو پوری ہونے دیں پھر ہاتھ مانگ لیجیے گا جی۔” سہیل نے مذاق میں شرما کے کہا مگر اس کی شرارت بھری مسکراہٹ نے بسمہ کو کنفیوز کردیا۔

”گڈ آئیڈیا۔ بسمہ آپ دونوں کی تعلیم مکمل ہوجائے تو آپ اپنے والدین کو لایئے گا ہم اپنے بیٹے کے فرض سے بھی سبک دوش ہوجائیں گے۔” بختاور فورا سہیل کی والدہ کے عہدے پہ فائز ہوگئی۔

”اوہو میں تو بلینک چیک کے انتظار میں تھی کہ آپ کہتیں یہ لو اور نکل جاو میرے بیٹے کی زندگی سے۔”

بسمہ نے بے ساختہ کہا تو سب اور زور سے ہنس دیئے۔ کہنے کو ان سب کے لہجوں میں شرارت تھی مگر سب کو ہی بسمہ اور سہیل کے جذبات کی سچائی پتا تھی۔

بسمہ اور سہیل کی زندگی کم از کم اس نہج پہ پہنچ گئی تھی جہاں سب اچھا بھلے نا ہو مگر دونوں کو یہ اطمینان تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو صرف اچھائیوں کے ساتھ نہیں بلکہ تمام کمیوں کے ساتھ بھی قبول کیا ہے۔

بسمہ کو پتا تھا کہ سہیل کے لیے گھر والے آسانی سے نہیں مانیں گے۔ مگر باسط کو ملا کر ان کے تین فیصلوں نے ثابت کردیا تھا کہ اچھے فیصلے کے لیے صرف اولاد کی محبت کا دعوا نہیں زمانے اور انسانوں کی صحیح سمجھ ہونا بھی ضروری ہے۔

سہیل کے لیے دلیل دینی پڑے یا اسٹینڈ لینا پڑے وہ تیار تھی۔ اسے اپنے لیے لڑنا آگیا تھا۔

The end

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دلربا ۔۔۔۔ نفیسہ سعید۔۔۔ قسط نمبر 4

دلربا نفیسہ سعید قسط نمبر 4 باقر درانی شدید پچھتاوے کا شکار تھا۔ وہ اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے