سر ورق / کہانی / "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد



عالمی ادب سے انتخاب
"شادی نجی معاملہ ہے”
چینوا اچیبے(نائجیریا)

نجم الدین احمد
"کیا تم نے اپنےوالد کو خط لکھ دیا ہے؟” 16-سانگا سٹریٹ لاگوس میں اپنےکمرے میں بیٹھےہوئے نینی نے ننائی میکا سے دریافت کیا۔
"نہیں، میں اِسی معاملے پر سوچ رہا تھا۔ میرے خیال میں بہتر رہے گا کہ میں اُنھیں یہ بات چھٹیوں میں گھر جانےپر ہی بتاؤں!”
"کیوں؟ تمھاری چھٹیوں میں ابھی بہت وقت پڑا ہے۔۔۔۔ پُورے چھے ہفتے ۔۔ اُنھیں ہماری خوشیوں میں ابھی شامل کیا جانا چاہیئے۔”
ننائی میکا کچھ دیر خاموش رہا اور پھر وہ بہت دِھیرے دِھیرے یُوں شروع ہُوا جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔ "کاش! مجھے یقین ہوتا کہ یہ بات اُن کے لیے باعثِ خُوشی ہوگی۔”
"بے شک، ضرور ہونا چاہیئے۔” نینی قدرے حیرت سے بولی۔ "کیوں نہیں ہوگی؟”
"تم نے اپنی ساری عمر لاگوس میں بسر کی ہے اور تم ملک کے مضافاتی علاقوں کے بارے میں بہت کم جانتی ہو۔”
"تم ہمیشہ یہی کہتے ہو۔ لیکن مجھے اِس پر یقین نہیں ہےکہ لوگ اِتنے اُلٹ دماغ کے ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی شادی پر بھی ناخوش ہوں۔”
"ہاں! اگر منگنی اُن کی منگنی سے نہ ہو تو وہ بہت ناخوش ہوتے ہیں۔ ہمارے معاملے میں تو یہ صورتِ حال نہایت خراب ہے۔۔۔۔ تم ایک اِیبو بھی تو نہیں ہو۔” (ibo)
یہ بات اتنی سنجیدگی اور رُوکھے انداز میں کہی گئی تھی کہ نینی کچھ بولنے کے قابل نہ رہی۔ گنجان آبادی والے شہری ماحول میں یہ بات ہمیشہ اُس کے لیے ایک مذاق رہی تھی کہ کسی شخص کی شادی کے لیے لڑکی کا انتخاب اُس کا خاندان کرے۔
بالآخر وہ بولی۔ "کیا تمہارا واقعی یہ مطلب ہے کہ وہ محض اتنی بات پر اعتراض کریں گے کہ تم مجھ سے شادی کر رہے ہو؟ میں نے تو ایبو لوگوں کو ہمیشہ دُوسروں سے زیادہ مہربان پایا ہے۔”
"وہ تو ہم ہیں۔ لیکن جب معاملہ شادی کا آتا ہے تو بات اتنی سی نہیں رہتی اور یہ کہ ۔۔۔” اُس نے اضافہ کیا۔ "یہ بات ایبو لوگوں کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے۔ اگر تمھارے والد ہوتے اور ایبییو سرزمین کے مرکز میں رہ رہے ہوتے تو وہ بھی بالکل میرے والد جیسے ہوتے۔”
"پتا نہیں لیکن تمھارے والد تمھیں چاہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ تمھیں جلد معاف کردیں گے۔ اس لیے تم اچھے بچوں کی طرح اُنھیں ایک پیارا سا خط لکھ بھیجو۔۔۔”
"خط لکھ کر اُنھیں یہ خبر سُنانا دانشمندی نہیں ہوگی۔ مجھے اِس کا پورا یقین ہے کہ خط اُن پر بم بن کر گرے گا۔”
"ٹھیک ہے پیارے۔ جو تمھیں مناسب لگے وہ کرو۔ تم اپنے والد کو بہتر جانتے ہو۔”
اُس شام گھر لوٹتے ہوئے ننائی میکا اپنے والد کی مخالفت پر قابو پانے کے لیے مختلف ترکیبیں سوچتا رہا خاص طور پر اِس صُورت میں کہ اُس کے لیے ایک لڑکی دیکھ بھی لی تھی۔ اُس نے نینی کو اپنے باپ کا خط دِکھانے کا ارادہ کیا لیکن کم از کم فوری طور پر نہ دِکھانے کے دُوسرے ارادے پر عمل کیا۔ گھر پہنچ کر اُس نے اُسے دوبارہ پڑھا اور خُود پر ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔ اُسے یُوگوئے اچھی طرح یاد تھی۔ وہ ایک پہلوان لڑکی تھی جو اُس سمیت دیگر لڑکوں کے ساتھ مار پٹائی کی عادی تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سکول میں غبی تھی۔
میں نے تمھارے لیے لڑکی ڈھونڈ لی ہے جو تمھارے لیے قابلِ تعریف حد تک مناسب رہے گی۔۔۔۔۔ یُوگئے نویکے، ہمارے پڑوسی جیکب نویکے کی بڑی بیٹی۔ اُس کی عین عیسائیت کے مطابق پرورش اور تربیت ہوئی ہے۔ چند برس قبل جب اُس نے سکول سے فراغت پائی تو اُس کے والد نے (جو اعلٰی درجے کی قوتِ فیصلہ رکھتا ہے) اُسے ایک پادری کے ہاں رہنے کے لیے بھیجا جہاں اُس نے وہ تمام تربیت حاصل کی جس کی ایک بیوی کو ضرورت ہوتی ہے۔ اُسے اتوار کی اتوار پڑھانے والے استاد نے مجھے بتایا ہے کہ وہ انجیل فر فر پڑھتی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ جب دسمبر میں تم گھر آؤ گے تو ہم اُن سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے۔
لاگوس سے واپس آنے کے بعد وہ دُوسری شام اپنے پاس کے دارچینی کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ وہ جگہ بُوڑھے کی جائے پناہ تھی کہ جب خشک دسمبر کا سُورج ڈوب چکا ہوتا اور تازہ ہوا پتوں سے نیچے اُترتی تو وہ وہاں جاکر انجیل پڑھتا تھا۔
"ابا جی۔۔” ننائی میکا اچانک بولا۔ "میں آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں۔”
"معافی ؟ کس بات کی، میرے بیٹے؟” اُس نے حیرت سے دریافت کیا۔
"اس شادی کے معاملے میں۔۔”
"کِس شادی کے معاملے میں؟”
"میں نہیں۔۔۔۔ ہمیں ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ میرے لیے نو یکے کی بیٹی سے شادی کرنا ناممکن ہے۔”
"ناممکن؟ کیوں؟ ” اُس کے باپ نے استفسار کیا۔
"مجھے اُس سے محبت نہیں ہے۔”
"کسی نے نہیں بتایا کہ تم محبت نہیں کرتے۔ تم کیوں بتا رہے ہو؟” اُس نے پُوچھا۔
"شادی آج کل ایک مختلف۔۔۔۔۔”
"دیکھو میرے بیٹے۔” اُس کے باپ نے مداخلت کی۔ "کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ ایک شخص اپنی بیوی میں جو چاہتا ہے وہ ہے اُس کا اچھا کردار اور عیسائی پس منظر۔”
ننائی میکا کو معلوم ہوگیا کہ اُن دلائل کے ساتھ توقع رکھنا بےکار ہے۔
"پھر یہ کہ۔” وہ بولا۔ "میں نے ایک اور لڑکی سے منگنی کرلی ہے جس میں یُومگوئے جیسی تمام خُوبیاں موجود ہیں اور جو۔۔۔۔”
اُسکے باپ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ "کیا کہا تم نے؟” اُس نے دھیمے اور پریشان لہجے میں پُوچھا۔
"وہ ایک اچھی عیسائی ہے۔” اُس کے بیٹے نے بات جاری رکھی۔ "اور لاگوس میں لڑکیوں کے ایک سکول میں اُستانی ہے۔”
"استانی؟ تم نے یہی کہا ہے؟ اگر تم اسے ایک اچھی بیوی کے لیے معیار سمجھتے ہو تو امیکا میں تم پر یہ واضح کردوں کہ کوئی عیسائی عورت پڑھاتی نہیں۔ سینٹ پال، کورن تھیان کے نام اپنے خط میں کہتا ہے کہ عورت کو خاموش رہنا چاہیئے۔” وہ آہستگی سے اپنی نشست سے اُٹھا اور ٹہلنے لگا۔ یہ اُس کا محبوب موضوع تھا اور وہ پادریوں کی پُر جوش مذمت کرتا تھا، جو اپنے سکولوں میں پڑھانے پر عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ایک لمبی تقریر سے اپنے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے بعد بالآخر وہ بظاہر نرم لہجہ اختیار کرتے واپس اپنے بیٹے کی منگنی کی طرف آگیا۔
"وہ کس کی بیٹی ہے؟”
"وہ نینی اَتانگ ہے۔”
"کیا؟” اُس کی نرمی ایک بار پھر جاتی رہی۔ "کیا تم نے نینی اَتا گا کہا؟ اِس کا کیا مطلب ہے؟”
"کالا بار کی نینی اَتانگ۔ میں صرف اُسی سے شادی کرسکتا ہوں۔” یہ بہت سخت جواب تھا اور ننائی میکا کو اندازہ تھا کہ اِس سے طوفان برپا ہوسکتا ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ بس اُس کا باپ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ یہ امر ننائی میکا کے لیے انتہائی غیر متوقع اور پریشان کُن تھا۔ اُس کے باپ کی خاموشی دھمکی آمیز تقریر کے سیلاب سے کہیں زیادہ خطرناک تھی۔ اُس رات بوڑھے نے کچھ کھایا بھی نہیں۔
جب ایک دن بعد اُس کے باپ نے اُسے منانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔ لیکن نوجوان کا دل سخت ہوچکا تھا اور انجام کار اُس کے باپ نے سمجھ لیا کہ وہ اُس کے لیے مرچکا ہے۔
"بیٹے، یہ میرے فرض کا قرض تھا کہ میں تمھیں غلط اور صحیح میں تمیز بتادوں۔ جس کسی نے بھی تمھارے ذہن میں یہ خیال ڈالا ہے اُس نے تمھارا گلا کاٹ ڈالا ہے اور یہ شیطان کا کام ہے۔” اُس نے ہاتھ ہلا کر بیٹے کو جانے کا اشارہ کیا۔
"ابا جان! جب آپ نینی سے ملیں گے تو اپنے خیالات بدل لیں گے۔”
اُس کا جواب تھا۔ "میں اُسے کبھی نہیں دیکھوں گا۔” اُس رات اُس کے باپ نے اُس سے بہت کم بات چیت کی۔ تاہم اُس کی اُمید نے دَم نہیں توڑا کہ جس خطرے کی طرف وہ بڑھ رہا ہے اُسے اُس کا جلد احساس ہو جائے گا۔ شب و روز اُس نے اپنے آپ کو عبادت میں غرق کرلیا۔
ننائی میکا پر بھی اپنے باپ کے غم کا بے حد اثر پڑا لیکن اُسے توقع تھی کہ وہ اُسے سہہ جائے گا۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اُس کے اجداد کی تاریخ میں کبھی کسی نے اجنبی زبان بولنے والی سے شادی نہیں کی ہوتی تو اُسے خوش فہمی کم ہی ہوتی۔ "یہ تو کبھی نہیں سُنا۔” چند ہفتوں بعد گفتگو کرتے ہوئے ایک بوڑھے نے بیان جاری کیا۔ اُس مختصر جملے میں اُس نے اپنے تمام لوگوں کی زبان رکھ دی تھی۔ جب اُس کے بیٹے کے روّیے کے بارے میں خبر پھیلی تو وہ شخص اَوکیکے کو تسلی دینے والے دیگر لوگوں کے ہمراہ آیا تھا۔ اُس وقت تک اُس کا بیٹا واپس لاگوس جاچکا تھا۔
"یہ تو کبھی نہیں سُنا۔” بُوڑھے نے افسردگی سے سر مارتے ہوئے کہا۔
"ہمارے خدا نے کیا کہا تھا؟” ایک اور معزز شخص بولا۔ "بیٹے اپنے باپوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ مقدس کتاب میں یہی لکھا ہے۔”
"یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے۔” ایک اور بولا۔
اس طرح گفتگو مذہبی رُخ اختیار کررہی تھی کہ مَدو بو گؤ نامی شخص، جو نہایت عملی آدمی تھا، اُسے فوراً ہی عام سطح پر لے آیا۔
"کیا تم نے مقامی طبیب سے اپنے مشورہ کرنے کے بارے میں سوچا؟” اُس نے ننائی میکا کے باپ سے اچانک دریافت کیا۔
"وہ بیمار نہیں ہے۔” اُس نے جواب دیا۔
"پھر وہ کیا ہے؟ لڑکا ذہنی طور پر بیمار ہے اور صرف ایک اچھا طبیب ہی اُس کے حواس واپس لا سکتا ہے۔ اُسے صرف اُمالیلے کی ضرورت ہے۔ وہی دَوا جو ایک عورت اپنے آوارہ مزاج شوہر کی محبت پانے کے لیے کامیابی سے استعمال کرتی ہے۔”
"مدوبوگؤ ٹھیک کہتا ہے۔” ایک اور معزز آدمی بولا۔ "یہ معاملہ علاج طلب ہے۔”
"میں مقامی طبیب کے پاس نہیں جاؤں گا۔” اِن معاملات میں ننائی میکا کا باپ اپنے وہمی پڑوسیوں سے کہیں آگے سمجھا جاتا تھا۔ "میں ایک اور بیگم اوچوبا نہیں بننا چاہتا۔ اگر میرا بیٹا اپنے آپ کو مارنا چاہتا ہے تو اُسے یہ کام خُود اپنے ہاتھوں کرنے دو۔ میرے لیے اُس کی مدد کرنا ممکن نہیں۔”
"لیکن وہ اُس عورت کی اپنی غلطی تھی۔” مَدُ و بو گؤ نے کہا۔ "اُسے کسی اور دیانت دار طبیب کے پاس جانا چاہیئے تھا۔ بہرحال وہ ایک ہوشیار عورت تھی۔”
"وہ ایک بے رحم قاتلہ تھی۔” جوناتھن بولا جو اپنے پڑوسیوں کی گفتگو میں کم ہی حصہ لیتا تھا کیوں کہ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ عقل سے کام لینے کے اہل نہیں ہیں۔” دوا اُس کے خاوند کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اُنھوں نے اُسے تیار کرتے وقت اُس پر اُس کا نام لیا تھا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مکمل طور پر اُس کے لیے مفید تھی۔ طبیب کی دوا کو الزام دینا سراسر غلط ہے اور دُوسری بات یہ کہ تم نےتو اُسے صرف آزمانا تھا۔”
چھے ماہ بعد ننائی میکا اپنی جوان بیوی کو اپنے باپ کا مختصر خط دِکھا رہا تھا۔
"یہ بات میرے لیے باعثِ حیرت ہے کہ تم اتنے بے حِس ہوسکتے ہو کہ تم نے مجھے اپنی شادی کی تصویر بھیج دی۔ میں اسے واپس بھیج دیتا لیکن اگلے یہ لمحے آنے والے خیال کے تحت میں نے فیصلہ کیا کہ اِس میں سے تمھاری بیوی کی تصویر کاٹ کر تمھیں واپس کردوں کیوں کہ مجھے اُس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ کاش! مجھے تم سے بھی کوئی غرض نہ ہوتی۔”
جب نینی نے وہ خط پڑھا اور پھٹی ہوئی تصویر کو دیکھا تو اُس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اور وہ سبکیاں لینے لگی۔
"میری پیاری، روؤ مت۔” اُس کا خاوند بولا۔ "بنیادی طور پر وہ اچھی فطرت کے مالک ہیں اور ایک دِن وہ ہماری شادی سے راضی ہوجائیں گے۔”
لیکن برسوں بیت گئے اور وہ ایک دن نہیں آیا۔
آٹھ سالوں تک اَوکیکے کو اپنے بیٹے ننائی میکا سے کوئی غرض نہیں رہی۔ اُس نے صرف تین بار (وہ بھی جب ننائی میکا نے گھر آنے اور چھٹیاں گزارنے کی اجازت مانگی) اُسے خط لکھا۔
"میں تمھیں اپنے گھر میں نہیں دیکھ سکتا۔” ایک موقع پر اُس کے باپ نے جواب دیا۔مجھے اِس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ تم اپنی تعطیلات کہاں اور کیسے گزارتےہو۔۔۔۔”
ننائی میکا کی شادی سے نفرت اُس کے چھوٹے سے گاؤں تک محدود نہیں رہی۔ لاگوس میں اُس کے قبیلے کے کام کرنے والے لوگوں میں اُس نے اپنا رُوپ مختلف انداز میں دِکھایا۔ جب وہ باہم اکٹھے ہوتے تو اُن کی خواتین نینی سے دشمنی پر نہ اُتر تیں بلکہ وہ اُسے بے حد توقیر سے نواز کر اُسے جتلاتیں کہ وہ اُن میں سے نہیں ہے۔ تاہم جُوں جُوں وقت گزرتا گیا۔ نینی نے دھیرے دھیرے نفرت کے اُس حصار کو توڑ ڈالا اور اُن میں سے بہت سوں کو دوست بنا لیا۔ آہستہ آہستہ اور نہ چاہتے ہوئے بھی اُنھوں نے تسلیم کرنا شروع کردیا کہ وہ اپنا گھر اُن سے زیادہ بہتر رکھتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ کہانی ایبو علاقے کے مرکز میں واقع اُس کے چھوٹے گاؤں تک پہنچ گئی کہ ننائی میکا اور اُس کی بیوی ایک بہت مثالی جوڑا ہے۔ لیکن اُس کا باپ اُن چند لوگوں میں سےایک تھا جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ جب کوئی اُس کے سامنے اُس کے بیٹے کا نام لیتا تو وہ اشتعال میں آجاتا۔ لہٰذا ہر شخص اُس کی موجودگی میں اُس کے تذکرے سے گُریز کرتا۔ سخت ذہنی تگ و دَو کے بعد وہ اپنے بیٹے کو اپنے دماغ سے کھرچ پھینکنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ کشمکش نے اُسے اَدھ موا تو کردیا تھا لیکن وہ زندہ اور کامیاب رہا تھا۔
ایک روز اُسے نینی کی طرف سے ایک خط ملا جس پر اُس نے بد دلی سے نظر ڈالنا شروع کی کہ اچانک ہی اُس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور وہ اُسے غور سے پڑھنے لگا۔
۔۔۔۔ ہمارے دونوں بیٹوں کو جب سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کا دادا بھی ہے تو وہ اس کے پاس جانے کی ضد کرنے لگے ہیں۔ میرے لیے اُنھیں یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ آپ اُنھیں ملنا نہیں چاہیں گے۔ میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ ننائی میکا کو یہ اجازت بخش دی جائے کہ وہ اگلے مہینے تعطیلات میں تھوڑے عرصے کے لیے اُنھیں گھر لے آئے۔ میں لاگوس میں ہی رہوں گا۔۔۔۔
بوڑھے نے فوراً محسوس کرلیا کہ جو دیواریں اُس نے برسوں میں تعمیر کی تھیں۔ گرگئی ہیں۔ وہ اپنے آپ سے کہہ رہا تھا کہ اُسے پسپا نہیں ہونے چاہیئے۔ اُس نےتمام جذباتی کشمکش کے سامنے اپنے دل کو فولاد بنانا چاہا۔ اُس کے اندر ایک نئی جنگ چھڑ گئی تھی۔ وہ کھڑکی پر جھک کر باہر دیکھنے لگا۔ آسمان گہرے سیاہ بادلوں سے بھرا ہوا تھا اور زور کی آندھی چل رہی تھی جس نے ہر طرف دھول اور خشک پتے اُڑائے ہوئے تھے۔ یہ اُن نادر موقعوں میں سے ایک تھا جب قدرت انسانی جھگڑوں میں شامل ہوجاتی ہے۔ جلد یہ مینھ برسنے لگا۔ سال کی پہلی بارش ہونے لگی۔ گرج چمک کے ساتھ بڑے بڑے قطرے نیچے گر رہے تھے جو موسم کی تبدیلی کا اشارہ تھے۔ اَوکیکے کوشش کررہا تھا کہ وہ اپنے دونوں پوتوں کے بارے میں نہ سوچے۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اب وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑرہا ہے۔ اُس نے ایک پسندیدہ گیت گنگنانے کی کوشش کی لیکن موٹے موٹے قطرون کی ٹپاٹپ نے ردّھم توڑ دیا۔ اُس کا ذہن کی کارستانیوں نے اُسے تصور میں دکھایا کہ اس کے گھر کے باہر۔۔۔۔ وہ اُس بے رحم موسم میں افسردہ اور لاچار کھڑے تھے۔۔۔۔۔
اُس رات اُسے پچھتاوے کی وجہ سے بہت کم نیند آئی۔۔۔۔ اور اُسے یہ مبہم ڈر لگا رہا کہ وہ اُن کے بغیر مر جائے گا۔

…………………..

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    شاندار افسانہ۔۔۔ واااااہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے