سر ورق / کہانی / ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی

ابھِیمنیو کی خودکشی

راجیندر یادو /عامر صدیقی

ہندی کہانی

………………..

راجیندر یادو۔پیدائش: ۸۲ اگست،۹۲۹۱ ئ، آگرہ، اتر پردیش ۔میدان: ناول، کہانی، تنقید، شاعری، سوانح عمری، یادداشتیں ترجمہ۔اہم تخلیقات:ناول: سارا آکاش، اکھڑے ہوئے لوگ، شہ اور مات، ایک انچ مسکان (منو بھنڈاری کے ساتھ)، کُلٹا، اندیکھے انجان پل، منتروِدّھ ، ایک تھا شیلیندر۔کہانیوں کے مجموعے: دیوتاوں کی مورتیاں، کھیل کھلونے، جہاں لکشمی قید ہے، چھوٹے چھوٹے تاج محل، کنارے سے کنارے تک، ٹوٹنا، ڈھول اور اپنے پار، وہاں پہنچنے کی دوڑ، حاصل اور دیگر کہانیاں، چوکھٹے توڑتے تری کون ۔شاعری: آواز تیری ہے ۔۔تنقید: کہانی: سوروپ اورسنویدنا، کہانی:انوبھ اور ابھیویکتی، اٹھارہ ناول، پریم چند کی وراثت، ناول:سوروپ اورسنویدنا۔ یادداشتیں: وہ دیوتانہیں ہیں۔سوانح عمری: مڑ مڑ کے دیکھتا ہوں۔ اسکے علاوہ بہت سا تالیفی کام اور تراجم۔انتقال: ۸۲ اکتوبر ، ۳۱۰۲ ئ، نئی دہلی۔

…………

I shall depart. Steamer with swaying masts, raise anchor for exotic landscapes.

– Sea Breeze, Mallarme

تمہیں پتہ ہے، آج میری سالگرہ ہے اور آج میں خود کشی کرنے گیا تھا؟ معلوم ہے، آج میں خود کشی کر کے لوٹا ہوں؟

اب میرے پاس شاید کوئی ”خود“ نہیں بچا، جس کے مرنے کا خوف ہو۔ چلو، مستقبل کے لئے چھٹی ملی۔

کسی نے کہا تھا کہ اُس زندگی دینے والے بھگوان کو کوئی حق نہیں ہے کہ ہمیں طرح طرح کی ذہنی اذیتوں سے گزرتا دیکھتے۔ بیٹھے بیٹھے مسکرائے، ہماری مجبوریوں پر ہنسے۔ میں اپنے آپ سے لڑتا رہوں، چھٹپٹاتا رہوں،جیسے پانی میں پڑی چیونٹی چھٹپٹاتی ہے اور کنارے پر کھڑے شیطان بچے کی طرح میری کوششوں پر ”وہ“ کلکاریاں مارتا رہے۔ نہیں، میں اسے یہ سفاکانہ انبساط نہیں دے پاﺅںگا اور اسکی زندگی اسے لوٹا دوں گا۔ مجھے ان بے کار حالات کے جالوں میں ڈال کر تو کھلواڑ نہیں کر پائے گا کہ حل تو میری مٹھی میں بند ہے ہی۔ درست ہے، کہ ماں کے پیٹ میں ہی میں نے سن لیا تھا کہ جال توڑنے کا راستہ کیا ہے، اور نکلنے کا طریقہ مجھے نہیں معلوم تھا ۔ لیکن نکل کر ہی کیا ہوگا؟ کس شِو کی کمان میرے بغیر بِناٹوٹی پڑی ہے؟ کس خوبصورت دلہن کی ورمالائیں میرے بغیر سوکھ سوکھ کر بکھری جا رہی ہیں؟ کس ایورسٹ کی چوٹیاں میرے بغیر اچھوتی بلک رہی ہیں؟ جب توُ نے مجھے زندگی دی ہے تو ”انا“ بھی دی ہے۔”میں ہوں“ کا احساس بھی دیا ہے اور میرے اس ”میں“ کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جال کو توڑ کر اس میں گھسنے اور نکلنے سے انکار کر دے ۔ اور اس طرح تیرے اس وحشیانہ تفریح کا آغاز ہی نہ ہونے دے ۔

اور اسی لیے میں خود کشی کرنے گیا تھا، سنا؟

کسی نے کہا تھا کہ اس پر کبھی اعتبار نہ کرو، جو تمہیں نہیں تمہارے فن سے محبت کرتی ہے، تمہاری آواز سے محبت کرتی ہے، تمہارے مقام اور تمہاری دولت سے پیار کرتی ہے۔ کیونکہ وہ کہیں بھی تم سے محبت نہیں کرتی۔ تمہارے پاس کچھ ہے جس سے اسے محبت ہے۔ تمہارے پاس فن ہے، دل ہے، مسکراہٹ ہے، آواز ہے، مقام ہے، دولت ہے اور اسی سے اسے محبت ہے، تم نہیں۔ اور جب تم اسے وہ سب نہیں دے پاو ¿ گے تو دیوالیہ نکلے شراب خانے کو چھوڑ کر، وہ کسی دوسرے مےخانے کی تلاش کر لے گی اور تمہیں لگے گا کہ تمہاری توہین ہوئی ہے۔ ایک دن یہی سب بیچنے والا دوسرا کوئی دوکاندار اسے اسی مارکیٹ میں مل جائے گا اور وہ ہر پرانے کو نئے سے بدل لے گی، ہر برے کو اچھے سے تبدیل دے گی، اور تم چلچلاتے بِنا سرحدوں والے ریگستان میں خود کو یتیم اور بے بس بچے سا ،پیاسا اور تنہا پاو ¿ گے۔ تمہارے سر پر سائے والا سرمئی بادل سرک کر آگے بڑھ گیا ہوگا اور پھر تمہیں لگے گا کہ بادل کے اس نرم سائے نے تمہیں ایسی جگہ لا چھوڑا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ تمہیں خود نہیں معلوم۔۔ جہاں سے نہ تمہیں آگے بڑھنے کی ہمت ہے، نہ ہی واپس لوٹنے کی طاقت۔ تب یہ چھلاوہ اور سپنا ۔سحر سے آزاد ی پائے کسی سانپ کی طرح پلٹ کر تمہاری ہی ایڑھی میں اپنے دانت گڑا دے گا اور نس نس سے لپکتی ہوئی نیلی لہروں کے زہر بجھے تیر، تمہارے شعور کی رتھ کو چھلنی کر ڈالیں گے اور تمہاری رتھ کے ٹوٹے پہئے تمہارے لئے ڈھال کا کام بھی نہیں کر پائیں گے۔ کوئی بھیم تب تمہاری حفاظت کو نہیں آئے گا۔

کیونکہ اس جال سے باہر نکلنے کا راستہ تمہیں کسی ارجن نے نہیں بتایا۔ اسی لیے مجھے خود کشی کر لینی پڑی اور پھر میں لوٹ آیا،اپنے لئے نہیں، تجربے کےلئے، تاکہ وہ ہر سانس سے میری اس خود کشی کا بدلہ لے سکے، نس نس کو بھینٹ کی خوشبودار روشنی تک کھینچ لائے۔

مجھے یاد ہے۔ میں بڑے ہی مضبوط قدموں سے باندرہ پر اترا تھا اور ٹہلتا ہوا ”سی“ روٹ کے اسٹینڈ پر آ کھڑا ہوا تھا۔ سمندر کے اس سنسان کنارے تک جانے کے لائق پیسے جیب میں تھے۔ پاس ہی مزدوروں کا ایک بڑا سا خاندان دھول بھری فٹ پاتھ پر لیٹا تھا۔ دھواں دیتے گڑھے جیسے چولہے کی روشنی میں دھوتی میں لپٹی چھایا پیلا پیلا سا مصالحہ پیس رہی تھی۔ چولہے پر کچھ کھدک رہا تھا۔ پیچھے کی ٹوٹی باو ¿نڈری سے کوئی جھومتی گنگناہٹ نکلی اور پل کے نیچے سے روشنی اندھیرے کے چارخانے کے فیتے سی ریل سرکتی ہوئی نکل گئی،وِلے پارلے کے اسٹیشن پر میرے پاس کچھ پانچ آنے بچے تھے۔

گھوڑابندر کے پار جب دس بجے والی بس سیدھی بینڈ اسٹینڈ کی طرف دوڑی تو میں نے اپنے آپ سے کہا ۔ ”واٹ ڈو آئی کئیر؟ میں کسی کی فکر نہیں کرتا۔“

اور جب بس آخری اسٹیج پر آکر کھڑی ہو گئی تو میں ڈھلوان سڑک پار کر سمندر کے کنارے کے ناہموار پتھروں پر اتر گیا۔ ایرانی ہوٹلوں کی آسمانی نیون لائٹیں کسی لائٹ ہاﺅس کی سمت بتاتی پکار، جیسی لگ رہی تھیں، نہیں، مجھے اب کوئی پکار نہیں سننی۔ کوئی اور مزاحمتی پکار ہے جو اس سے زیادہ زور سے مجھے کھینچ رہی ہے۔ دوڑتی بس میں سمندر کی سیلی سیلی ہواو ¿ں میں آتی یہ گھمبیر پکار کیسی پھریری پیدا کرتی تھی۔ اور میں اونچے نیچے پتھروں کے بلاکوں پر پاو ¿ں رکھتا ہو،ا بالکل لہروں کے پاس تک چلا آیا تھا۔ اندھیرے کے کالے کالے بالوں والے آسمانی سینے کے نیچے لیٹا سمندر ہولے ہولے رو رہا تھا، لمبی لمبی سانسیں لیتا لہردر لہر اُبلا پڑ رہا تھا۔ روشنی کی آڑ میں پتھر کے ایک بڑے سے ٹکڑے کے پیچھے جانے کےلئے میں بڑھا تو دیکھا کہ وہاں ایک دوسرے میں پیوست دو سائے پہلے ہی سے بیٹھے ہیں ۔”ایوننگ ان پیرس“ کی خوشبو پر انجانے ہی میں مسکراتا ہوامیں دوسری طرف بڑھ آیا۔ ہاں ، یہی جگہ ٹھیک ہے، یہاں سے اب کوئی نہیں دیکھتا۔ دھم سے بیٹھ گیا تھا۔ سامنے ہی سمندر کی وہ سر حد تھی، جہاں لہروں سے اژدہے پھن اٹھا اٹھا کر پھنکاراٹھتے تھے اور رُوپہلے جھاگوں کی گوٹےں سمندر کے سینے پر اِدھر اُدھر اندھیرے میں دمک اٹھتی تھیں۔ پانی کے بوچھار کی طرح چھینٹے جسم کو بھگو جاتے تھے اور قریب دراڑوالی نالی میں جھاگ دار پانی جوش مار رہا تھا۔

سب کچھ کیسا نجات یافتہ تھا اور میںکتنا پریشان تھا۔ ہاں ، یہی تو جگہ ہے جو خودکشی جیسے کاموں کے لئے ٹھیک مانی گئی ہے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں لگے گا۔ سمندر کی گرج میں کون سنے گا کہ کیا ہوا اور بڑے بڑے اشتہاروں کے نیچے دو تین سطری اس خبر کو کون پڑھے؟ اس عظیم الشان بمبئی میں ایک آدمی رہا، نہ رہا۔ میں نے ذرا جھانک کر دیکھا،مچھیروںکے پاس والے گرجے سے لے کر ایرانی ہوٹل کے پاس والے منڈپ تک، سڑک سنسان لیٹی تھی۔ بنگلوں کی کھڑکیاں چمک رہی تھیں اور سفید لباس کے ایک آدھ دھبوں سے کہیں کہیں انسانوں کی موجودگی کا تاثر پیدا ہوتا تھا۔ رات کامزہ لینے والوں کو لئے ٹیکسی ادھر چلی آ رہی تھی۔

اصل میں، میں خود کشی کرنے نہیں آیا تھا۔ میں تو چاہتا تھا کوئی مرگھٹ جیسی خاموش جگہ ہو، جہاں تھوڑی دیر یوں ہی چپ چاپ بیٹھا جاسکے۔ یہ دماغ میں بھرا سیسے سا بھاری بوجھ کچھ تو ہلکا ہو، یہ سانس سانس میں سنائی دیتیں آوازوں کا نوکیلا سا درد کچھ تو تھمے۔ لہریں سر مار مار کر رو رہی تھیں اور پانی کراہ اٹھتا تھا۔ زخمی چیل سی ہوا افق تک چیختی پھرتی تھی۔ آج سمندر کا جوارزوروں میں تھا۔چاروں جانب شدید گرجتے اندھیرے کی وادیوں میں بلند و بالا لہروں کی صفیںکی صفیں مارچ کرتی نکل جاتی تھیں۔ دور، بہت دور، صرف دو چار بتیاں کبھی کبھی لہروں کے نیچے ہوتے ہی جھلملا اٹھتی تھیں۔ بائیں جانب شہر کی بتیوں کی قطار چلی گئی تھی۔ سامنے شاید کوئی جہاز کھڑا ہے، بتیوں سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ اس چنگھاڑتی تنہائی میں، مان لو، ایک لہر ذرا سی کروٹ بدل کر جھپٹ پڑے تو ۔۔۔؟ کسے پتہ چلے گا کہ کل یہاں، ان بلاکوں کی آڑ میں، کوئی اپنا بوجھ سمندر کو سونپنے آیا تھا، ایک پسا ہوا بھُنگا۔ مگر آخر میں جیوں ہی کیوں؟ کس کےلئے؟ اس زندگی نے مجھے کیا دیا؟ وہیں انتھک ارمانوں کو پیستی جدوجہد، ،بے وفائی اورذلالت۔ سب ملا کر آپس میں گتھم گتھا کرتی دوہری تیہری شخصیت، ایک وہ جو میں بننا چاہتا تھا، ایک وہ جو مجھے بننا پڑتا تھا ۔۔۔

اور اس وقت ذہن میں آیا تھا کہ کیوں نہیں کوئی لہر آگے بڑھ کر مجھے پیس ڈالتی؟ تھوڑی دیر اور بےٹھوںگا، اگر اس جوار میں آئے سمندر کی لہر جب بھی آگے نہیں آئی گی تو میں خود اسکے پاس جاو ¿ں گا۔ اور خود کو اسے سونپ دوں گا۔ کوئی سبب نہیں، کوئی محرک نہیں،غیر متذبذب اور اٹل ۔ خوب غور و فکر کے بعد۔۔۔

اندھیرے کے پار سے دِکھتی روشنی کے اس پرچھائیں کو دیکھ دیکھ کر جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ کوئی جہاز ہے، جو وہاں میرا انتظار کر رہا ہے۔ جانے کن کن کناروں کو چھوتا ہوا آیا ہے ،اوریہاں لنگر ڈالے کھڑا ہے کہ میں آو ¿ں اور وہ چل پڑے۔ یہاں سے دو تین میل تو ہوگا ہی۔ کہیں اسی میں جانے کے لئے تو میں انجانے میں نہیں آ گیا۔ کیونکہ وہ مجھے لینے آئے گا یہ مجھے معلوم تھا۔ دن بھر اس آ گاہی کو میں جھٹلاتا رہا اور اب آخررات کے ساڑھے دس بجے بمبئی کی لمبی چوڑی سڑکیں، اور کندھے رگڑتے ہجوم کو چیرتا ہوا میں یہاں چلا آیا ہوں۔ جانے کون من میں گھسے ریکارڈ سا دن بھر دوہراتا رہا ہے کہ مجھے یہاں آنا ہے۔ انجان پہاڑوں کی خونخوارڈھلانوں سے آتی یہ آواز حاتم نے سنی تھی اور وہ سارے جال جنجال کو توڑ کر اس آواز کے پیچھے پیچھے چلا گیا تھا۔ جانے کیوں میں نے بھی تو جب جب پہاڑوں کی چیڑ اور دیودار سے لدی ڈھلانوں پرچمک پیدا کرتی برفانی چوٹیوں اور لہراتے ریشم سے پھیلے سمندر کی لہروں کو آنکھ بھر کر دیکھا ہے، مجھے یہی آواز سنائی دی ہے اور مجھے لگا ہے کہ اس آواز کو میں اَن سنا نہیں کر پاﺅںگا۔ تنویم زدہ شخص کی طرح دونوں بانہیں کھول کر خود کو اس آواز کے سپرد کر دوں گا۔ اب بھی اسی پکار پر میں اپنے” خود“ کو پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا کر لہروں تک آتے دیکھ رہا ہوں۔ وہ جہاز میری راہ میں جو کھڑا ہے، میں آواز دے کر انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ دیکھو میں آ گیا ہوں ۔۔ دیکھو میں یہاں بیٹھا ہوں، مجھے لئے بغیر مت جانا۔

مجھے لگتا ہے ایک چھوٹی سی ناﺅ ابھی جہاز سے نیچے اتار دی جائے گی اور مجھے اپنی جانب آتی دکھائی دے گی ۔۔۔بس، اس لہر کے معدوم ہوتے ہی تو دِکھ جائے گی۔ ایک اکلوتی لالٹین والی کشتی۔ کہاں پڑھا تھا؟ ہاں یاد آیا،چیخوف کی ”دی لیڈی وِد دی ڈوگ“ میں ایسا ہی منظر ہے جو ایک عجیب شاعرانہ تاثر چھوڑ گیا ہے ذہن پر ۔اس کے کرداروں گُورَو اور اَنا سرجےونا کو میں بھول گیا ہوں (ابھی تو دیکھا ہے اس پتھر کی آڑ میں) مگر اس جھاگ اڑاتے سمندر کو دیکھ کر میرا سارا وجود کپکپا اٹھتا ہے۔ یہ بھونکتے شیر سی گرج اور رہ رہ کر موسلادھار پانی کی طرح دوڑتی لہروں کی غیر مرتب شاعری۔ مجھے اس جال سے باہر نکلنے کا راستہ کوئی نہیں بتاتا؟ علی بابا کے بھائی کی طرح میں نے اندر جانے کے سارے راستے پا لیے ہیں ۔لیکن اُس ”کھل جاسم سم “ منتر کو میں بھول گیا ہوں ،جس سے باہر نکلنے کا راستہ کھلتا ہے۔ لیکن میں اس جال میں کیوں گھسا؟ کون سی پکار تھی جو اس نوجوان کو نامعلوم ملک کی ایک شہزادی کے محل تک لے آئی تھی؟

دور، سترنگی ہاتھی دانت کی کھڑکی سے جھانکتی شہزادی نے اشارے سے بلایا اور نوجوان نہ جانے کتنے گلیارے اور بارہ دریاں عبور کرتا شہزادی کے محل میں جا پہنچا۔ سارے دروازے خود بخود کھلتے گئے۔ کورنش بجا لاتے ہوئے خواجہ سراﺅں کے بچھائے ایرانی قالین اوردروازوں کے پیچھے پوشیدہ کنیزوں کے ہاتھ اسے لیے چلے گئے اور نوجوان ،شہزادی کے سامنے تھا ۔۔۔۔ساکت اور مسحور۔۔

شہزادی نے اسے تولا۔ اپنے سحر اور اثرکو دیکھا اور مسکرا دی۔ نوجوان ہوش میں آ گیا۔ ہکلا کر بولا،”ہیرے فروخت کرتا ہوں، جہاں پناہ۔“

” ہاں ، ہمیں ہیروں کا شوق ہے اور ہم نے تمہارے ہیروں کی تعریف سنی ہے۔“

اور اسکی چمڑے کی تھیلی کے چمکتے انگارے، شہزادی کی گلابی ہتھیلی پر یوں جگمگا اٹھے، جیسے کنول پرشبنم کے قطرے سترنگی کرنوں میں کھلکھلا اٹھیں ۔۔ اسے ہیروں کا شوق تھا۔ اسے ہیروں کی تمیز تھی۔ اس کے کانوں میں ہیرے تھے، اس کی زلفوں میں ہیرے تھے، کلائیاں ہیروں سے بھری تھیں اور ہونٹوں کے مخمل میں جگمگاتے ہیروں پر آنکھ ٹکانے کی تاب اس نوجوان میں نہیں تھی۔

”قیمت ؟“سوال آیا۔

”قیمت ؟“

”قیمت نہیں لو گے کیا؟“شہزادی کے لہجے میں دل لگی تھی۔

نوجوان اچانک سنبھل گیا،”کیوں نہیں لوں گا حضور؟ یہی تو میری روزی ہے۔ قیمت نہیں لوں گا تو بوڑھی ماں اور ابا کو کیاکھلاﺅںگا۔“لیکن وہ کہیں اندراٹک گیا تھا۔ اس کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہو گیا۔

”قیمت کیا، بتا دے؟“کسی نے دہرایا۔

”آپ سے کیسے عرض کروں کہ ان کی قیمت کیا ہے؟ ضرورت مندوں اور شوقینوں کے مطابق ہر چیز کی قیمت بدلتی رہی ہے۔ آپ کوان کا شوق ہے، آپ زیادہ جانتی ہیں۔“

”پھر بھی، بدلے میں کیا چاہوگے؟“شہزادی نے پھر ماہرانہ نظروں سے ہیروں کو تولا۔ اس کی آواز دھیمی تھی،”لگتے تو کافی قیمتی ہیں۔“

”حضور، جو مناسب سمجھیں۔ خدارا، میںواقعی نہیں جانتا کہ ان کی قیمت آپ سے کیا مانگو؟ آپ ایک دینار دیں گی، مجھے وہ بھی منظور ہے۔“ نوجوان نے کہا۔

”پھر بھی آخر،اپنی محنت کا تو کچھ تو صلہ چاہوگے ہی نہ۔“شہزادی کی آنکھوں کے ہیرے چمکنے لگے تھے اور ان میں ستائش جھوم آئی تھی۔

”ہیروں کو سامنے رکھ کرشہزادی انکی محنت کی کہانی سننا پسند کریں گی؟“اس بار نوجوان کی آواز میں اعتماد تھا اور اس نے گردن اٹھا لی تھی۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔

”تم لوگ یہ سب لاتے کہاں سے ہو؟“

”کوہِ قاف سے۔“

”کوہِ قاف؟“ سن کر تعجب سے کھلے شہزادی کے منہ کی جانب نوجوان نے دیکھا اور بازوﺅں کی مچھلیوں کو ہاتھوں سے ٹٹولتے ہوئے بولا،”تو سنیں، مینڈھوں اور بکروں کا ایک بڑا ریوڑ لے کر میں پہاڑ کی سب اونچی چوٹی پر جا پہنچا۔ وہاں انکو میں نے ذبح کر ڈالا اور ان کے گوشت کو اپنے بدن پر چاروں طرف اس طرح باندھ لیا کہ میں خود بھی گوشت کا ایک بھاری لوتھ لگنے لگا۔ اسی گندگی اور بدبو میں مجھے وہاں کئی دن بارش اور گرمی سہتے لیٹے رہنا پڑا۔ تب پھر آندھی کی طرح وہ عقاب آیا ،جس کا مجھے انتظار تھا۔آس پاس ایک زلزلے کا عالم برپا ہو گیا تھا۔ اس نے جھپٹ کر مجھے اپنے پنجوں میں دبوچا اور بچوں کو کھلانے کے لئے لے چلا گھونسلے کی جانب۔

بیچ آسمان میں لٹکتا میں چلا جا رہا، آخر میں نے اپنے ”خود “کو بہت بڑی کھلی وادی میں پایا۔ یہی کوہِ قاف تھا۔ یہاں ایک چوٹی پر مادہ عقاب اپنے بچوں کو پیارکر رہی تھی۔ جیسے ہی میں نے زمین چھوئی، چھری کی مدد سے خودکو فوراً ہی اس سڑے ہوئے گوشت سے باہر کر لیا اور خاموشی سے ایک چٹان کی آڑ میں ہو گیا۔ ارد گرد دیکھا تو میری آنکھیں خوشی سے دمکنے لگیں۔ وہ وادی سچ مچ ہیروں کی وادی تھی۔ کتنے بھروں اور کتنے چھوڑوں۔ میں نے سب کچھ بھول کر دونوں ہاتھوں سے انہیں اپنی جھولی میں بھرنے لگا۔ لیکن یہ دیکھ کر میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی کہ اس وادی میںچاروں طرف خوفناک اژدہے لہرا رہے تھے ۔ مگرعقاب کے خوف سے اس چوٹی کے قریب نہیں آتے تھے، شاید اس چوٹی کی حفاظت ہی کر رہے ہوں۔ ان کی پھنکاروں سے پوری وادی گونج رہی تھی۔

جلتے شعلوں سی انکی زبانیں دیکھ دیکھ کر میرے تو سارے اوسان فنا ہو گئے۔ اب کیسے لوٹو؟ آخر میں نے موت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پھر اسی عقاب کے ساتھ واپس آنے کی سوچی اور پھر اس کے پنجوں سے جا لپٹا۔بیچ سفر میں گرفت چھوٹ گئی، کیونکہ دو دن مسلسل لٹکے اٹکتے رہنے سے میرے ہاتھوں نے جواب دے دیا تھا۔ چھوٹ کر جو گرا تو سیدھا سمندر میں جا پڑا۔ ٹھیک ہے، کسی طرح ایک بہتا ہوا تختہ ہاتھ لگا اور اسی کے سہارے آپ کے اس خوبصورت ملک میں آگیا۔“

نوجوان کی آواز میں توجیہہ اور اعتماد دونوں تھے۔ ”یہ ہے میری محنت کی کہانی،شہزادی۔“

شہزادی نے اس جانباز نوجوان کو ستائش بھری نگاہوں سے دیکھا،”آفرین۔واقعی آدمی تم ہمت والے ہو؟“پھر نجانے کیا سوچتی ہوئی سی، نیم وا سی، مغمور آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی،دیکھتی رہی اور دور کہیں ہیرے کی وادیوں میں کھو گئی۔ وہ بھول گئی کہ اس کے ہونٹوں کی وہ مسکراہٹ ابھی تک بکھری پڑی ہے۔ وہیں کہیں دور سے بولی،”یوں چاروں طرف سے گندگی میںلپٹے، پنجوں میں بندھے، انجانی خونخوار تاریک وادیوں میں اترتے چلے جانے میں کیسا لگا ہوگا تمہیں؟ اور پھر جب تم نے شعلوں سی جلتی اژدہوں کی آنکھیں دیکھی ہوں گی۔“پھر اسے ہوش آ گیا۔ پیار سے بولی،”اچھا قیمت بول دو اب۔ اور دیکھو، ہمیں اسی وادی کے ہیرے مزید چاہئےں۔“

”آپ نے انہیں پرکھا، میری محنت کو دیکھا، بس آپ کی یہ ہمدرد مسکراہٹ ہی ان کی قیمت تھی اور وہ مجھے مل گئی۔“

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے