سر ورق / ناول / ” دام عشق ” ….دوسری اور تیسری قسط ……. : ابن آس محمد

” دام عشق ” ….دوسری اور تیسری قسط ……. : ابن آس محمد

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول
” دام عشق ”
………..
…دوسری قسط …….
تحریر: ابن آس محمد
……………..
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دامِ عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
وہ واقعی حور کا شوہر تھا۔
محبوب کو اس سے ہاتھ ملانے میں مزہ نہیں آیا۔
اس نے ہر طرح کے مرد دیکھے تھے،حقیقی بے غیرت پہلی بار دیکھ رہا تھا۔
وہ سمجھ گیاتھا کہ حور کی طرح اس کے لائیو نشریات کے شوقین ہسبینڈ کا نام بھی اصلی نہیں ہو گا۔
حور ایک زبردست عورت تھی۔اُس جیسے جنونی ہوس پرست اور جنس زدہ کو جھیلنا عام عورت کے بس کی بات نہیں تھی۔
بازاری عورتیں بھی کچھ دیر میں اس کی وحشت دیکھ کر ہاتھ جوڑ کر پناہ مانگنے لگتی تھیں۔ایک مرتبہ اس کے بیڈ روم میں آنے والی،مناسب معاوضہ ملنے کے باوجود دوبارہ آنے سے کتراتی تھی مگر حور اُن سے مختلف تھی۔
جانے کب سے پیاسی تھی۔اس کو گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔
سب کچھ جھیل گئی…اُف تک نہ کی….
ساری کارروائی کے دوران اس کا شوقین مزاج شوہر مردار کے انتظار میں بیٹھے لٹکتی گردن والے گدھ کی طرح صوفے پہ بیٹھا رہا۔
محبوب نے جب حور کو دونوں بازؤوں میں اٹھا کر وحشت میں پلنگ پہ پھینکا تو حور کی چیخ نکل گئی،مگر اس کے شوہر کو مزہ آگیا۔اس کی آنکھیں چمک گئیں،اور وہ یوں سیدھا ہو گیا جیسے اس کا پلگ چارجنگ کے لیے ساکٹ میں لگا دیاگیا ہو۔
کچھ دیر بعد کمرے میں جیسے بھونچال آگیا۔حور کی لذت آمیز سسکیاں اچانک ہی دَبی دَبی چیخوں میں تبدیل ہونے لگیں۔
کاندھے اور بازو کے ان حصوں سے خون رسنے لگا جہاں محبوب نے بھوکے کتے کی طرح دانت گاڑ دیے تھے۔وہ خود کو چھڑانے کے لیے بے طرح ہاتھ پاؤں مارنے لگی،مگر محبوب کے شکنجے سے نکلنا آسان نہیں تھا۔
اس نے حور کو اُدھیڑ کر رکھ دیا،اُس کا جوڑ جوڑ اِدھر اُدھر کر ڈالا۔اپنے وجود میں جمی ہوئی ہوئی عورت،لمحوں میں بکھر کر یہاں وہاں پھیل گئی۔پھرخود کو سمیٹتے سمیٹتے نڈھال ہو گئی،اور نیم مدہوشی میں آخر کار اس نے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑ دیے۔
تب محبوب غراتے ہوئے بھیڑیے کی طرح ہانپنے لگا اور اُٹھ کر گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے حور کے بے وقار شوہر وقار احمدکو دیکھنے لگا جو تسکین بھرے سانس لے رہا تھا۔
حور کی حالت غیر ہو گئی تھی۔وہ نڈھال پڑی تھی۔اُٹھنے کی بھی ہمت نہیں تھی،آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور جہاں جہاں محبوب نے دانت گاڑے تھے وہاں سے نکل بہنے والا خون بستر کی چاد ر پر پھیل گیا تھا۔
جب محبوب نہانے کے لیے ملحقہ واش روم میں گیا اور شاور کھول کر برستے پانی کے نیچے کھڑ اہو تو اس وقت حور کا محبوب شوہر مردار کھانے کے لیے گردن سیدھی کیے بستر پر جا چکاتھا۔
لائیو نشریات نے اس کے مردہ تن میں جان ڈال دی تھی۔
انٹر نیٹ کے جال اور بلیو فلموں سے سیکھے ہوئے طریقوں نے اسے اپنی مردانگی جگانے کا یہ طریقہ سکھایا تھا۔
یہی طریقہ اسے بھایا تھا۔
وہ نڈھال حور کو بھنبوڑنے میں مصروف تھا کہ محبوب اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے فلیٹ سے باہر آگیا۔
اپنی پراڈو میں اپارٹمنٹ کی طرف واپس جاتے ہوئے اسے طبیعت میں عجیب سا سرور محسوس ہو رہا تھا۔ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی،اور ویران سڑکیں گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔
اس رات وہ کئی دن بعد سکون سے سویا تھااوراگلے دن دوپہر تک سوتا رہا۔
آنکھ کھلی تو گھڑی کی طرف دیکھا۔دو بجنے والے تھے۔
حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد اس نے وضو بنا کرسب سے پہلے نماز پڑھی…
کچن میں آکر کافی بنائی اور کچن کی ٹیبل پر ہی ناشتہ کیا۔
گھر میں مکمل خاموشی تھی۔سوائے پرانے ایل پی ریکارڈ کی دھیمی دھیمی موسیقی کے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
اِس خاموشی کو وہ سناٹا کہا کرتاتھا۔اُسے یہ سناٹا پسند تھا۔
کسی کے ساتھ رہنا اس کے بس کی بات نہیں تھی اور نہ کوئی اس کے ساتھ رہ پاتا تھا۔
رات کو عورت ساتھ ہو تو بھیڑیا بن جانے والا محبوب دن کی روشنی میں اچانک ہی معصوم بھیڑ دکھائی دیتا تھا،جس کے ہونٹوں پہ دھیمی دھیمی مسکراہٹ ہمہ وقت ناچتی رہتی۔جب وہ بات کرتاتو یوں لگتا کہ اس سے زیادہ میٹھا انسان روئے زمین پر کوئی نہیں ہے۔
دن کے اجالے میں انتہائی نفیس دکھائی دینے والا محبوب علی خان رات کے سناٹے میں خون آشام بن جاتا،اور جب کوئی عورت اس کی دسترس میں آجاتی تو منٹوں میں بھیڑیوں کی طرح اُدھیڑ کر رکھ دیتا۔
یہی وہ وجہ تھی جس باعث اس کی شادی تین ماہ میں ہی ناکام ہو گئی۔
اس کی بیوی اس کے جنسی تشدد اور غصے سے سے گھبرا کر ایسی گئی کہ بیٹا پیدا ہونے کے بعد بھی پلٹ کر نہیں آئی۔طلاق لے کر گھر بیٹھ گئی،اور عدالت کے ذریعے اس سے خرچا لے کر گزارہ کرنے لگی۔
شام ہونے سے پہلے پہلے وہ تیار ہو کر نکلا اور ڈیفنس کے کمرشل علاقے میں واقع اپنے ریسٹورنٹ ”مقام محبوب“ پر پہنچ گیا۔
اس کا مینجر اور عملہ مستعد تھا۔ہمیشہ وقت پر ریسٹورنٹ کھل جاتا اور اس کی غیر موجود گی میں سب کچھ معمول کے مطابق شرو ع ہوجاتا۔
وہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا تو کئی میزیں آباد تھیں۔
ویٹرز گاہکوں کو شام کی چائے اور لوازمات سرو کر رہے تھے۔
اس کا مینیجر زاہد ہر میز پر جا کر بہ ذات خود گاہکوں کو انٹر ٹین کر رہا تھا۔پوچھ رہا تھاکہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔
وہ زاہد کی طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے ریسٹورنٹ کے درمیان سے گزر کر کچن میں چلاگیا۔
کچن غیر معمولی طور پر کشادہ اور جدید اصولوں کے مطابق انتہائی صاف ستھرا تھا۔اس کی معاون شیف ببلی،جولی اور رابعہ اپنے کام میں مصروف تھیں۔ڈنر کی ڈشیں تیار ہو رہی تھیں۔
شیفس کے معاون بھی اپنے اپنے کام میں جتے ہوئے تھے۔کہیں سبزیاں کٹ رہی تھیں تو کہیں گوشت دھویا جا رہا تھا۔کہیں نوڈلز بن رہے تھے تو کہیں چاول اُبل رہے تھے۔
محبوب کو دیکھتے ہی سب نے کام روک کر مسکرا کے محبوب کو خیر مقدم کیا۔
کچن میں موجود سب لوگ محبوب کے اپنے تھے۔ایک خاندان کے فرد کی طرح تھے…
ببلی،جولی اور رابعہ خاصی پرکشش اور طرح دار قسم کی لڑکیاں تھیں اور محبوب کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھیں۔
ایک آدھ بار اس کی وحشت جھیل چکی تھیں،مگر اب اس سے اس معاملے میں فاصلہ رکھتی تھیں۔محبوب بھی اپنے ورکر پر بے جاتشدد کا قائل نہیں تھا۔
محبوب کو اندازہ تھا کہ ایسی شیف اسے مشکل سے ملیں گی تو اس نے انہیں مجبور نہیں کیا تھا،اور اب سب اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔
سب کے دل میں محبوب کے لیے جگہ تھی کہ محبوب بستر سے باہر ایک شان دار انسان اور ایک عمدہ باس تھا۔انتہائی ماہر شیف تھا۔اس کے ساتھ کام کرنا شہر کے بہت سے شیفس کا خواب تھا۔ٹی وی شوز میں اکثر اسے مدعو کیا جاتا تھا،مگر اس کے پاس ان کی ٹی آر پی بڑھانے کا وقت نہیں تھا۔
وہ بے حد وجیہہ اور ہینڈسم تھا۔ سب کا خیال یہی تھا کہ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے اور فلم انڈسٹری جوائن کرلے تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہینڈسم ہیرو کے طور پر قبول کر لیا جائے گا،مگر اسے ان چیزوں میں دل چسپی نہیں تھی۔
وہ ہمیشہ سے ہی ایک شیف بننا چاہتا تھا اور کام یاب شیف بن گیا تھا۔اپنا ذاتی ریسٹورنٹ بنا لیا تھا جہاں سے ضرورت سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا اس کے لیے چنداں مشکل نہیں رہا تھا۔
وہ ایک مکمل پرو فیشنل تھا اور اپنی پروفیشنل لائف سے بہت مطمئن تھا۔
حور شمائل والے واقعے کے بعد تین چار دن سکون سے معمول کے مطابق گزر گئے۔اس کی وحشت نے پھن نہیں اُٹھا یا۔
وہ ریسٹورنٹ بند کر کے سیدھا فلیٹ جاتا،نہا دھو کر عشا کی نماز پڑھتا اور فورٹیز یا ففٹیز کا کوئی ایل پی لگا کر دھیمی دھیمی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سو جاتا۔
صبح فجر میں بیدار ہوتا۔فجر کی نماز پڑھتا اور پھر ریسٹورنٹ کے کچن کی خریداری کو نکل جاتا۔تازہ سبزیاں گوشت،اور دیگر چیزیں خرید کر ریسٹورنٹ پہنچتا اور اپنے کام میں جت جاتا….اور پھر وہی معمول….
اس کا نماز پڑھنا اکثر اس کے ساتھیوں کو حیران کر تا تھا۔ایک دن زاہد نے اس سے پوچھاتھا۔
”تم شراب پیتے ہو…عورت بازی تمہاری سرشت میں ہے…. اور دوسری طرف نماز….نماز اور شباب ساتھ ساتھ ….. یہ کھلا تضاد نہیں ہے….؟“
محبوب نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہو ئے جواب دیا۔
”میرے اندر آگ بھری رہتی ہے…. سمجھ میں نہیں آتا اس آگ کو کیسے بجھاؤں…. نماز نہ پڑھوں تو شاید کسی دن اپنی وحشت سے پھٹ کر چیتھڑے چیتھڑے ہو جاؤں گا….ایک نماز ہی تو ہے جو مجھے سکون دیتی ہے….سنبھالے رکھتی ہے….“
زاہد سمجھ گیا۔اس کے بعد اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی۔
زاہد اس کے بچپن کا دوست تھا۔
سکھر سے شہر آیا تو اس وقت تک محبوب اپناریسٹورنٹ بنا چکا تھا۔
زاہد کو کچھ نہیں آتا تھا تو محبوب نے اسے مینیجر لگا لیا۔پڑھا لکھا تھا۔سمجھ دار تھا۔کچھ ہی دنوں میں اس نے ریسٹورنٹ سنبھال لیا اور ایسا سنبھالا کہ اگر محبوب نہ بھی ہوتو سارا انتظام اسی طرح چلتا تھا جیسا محبوب کی موجودگی میں چلاکرتاتھا۔
سوائے محبوب کے ہاتھ کی ڈشوں کے ….
محبوب کے ہاتھ میں قدرت نے لذت دی تھی۔وہ جو بھی پکاتا یا بنا تا،سونگھنے والا دیوانہ ہو جاتا تھا۔ایک بار جو یہاں آجا تا،کہیں اور جانابھول جاتااور یہی مہارت ”مقام محبوب“ کی کام یابی کا راز تھی۔
وہ ہفتے کی رات تھی۔
ریسٹورنٹ میں معمول سے زیادہ رش تھا۔کوئی میز خالی نہیں تھی۔کرسیوں اور میزوں کی تعداد سے زیادہ لوگ ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔اپنی باری اور میز خالی ہو نے کا انتظار کر رہے تھے۔
ایک میز خالی ہو ئی تو زاہد نے باری کا انتظار کرتی ایک فیملی کو وہاں جگہ دی۔
وہ میاں بیوی تھے۔میز چار لوگوں کی تھی۔چند لمحوں بعد میز خالی ہو نے کا انتظار کرتی ان کی بیٹی گاڑی سے نکل کر اندر آگئی اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بیٹھ گئی۔
زاہد،ویٹر کے ساتھ آرڈر لینے گیا تو اس لڑکی کو دیکھتے ہی سناٹے میں آگیا۔
وہ صبوحی تھی۔
وہی صبوحی جس سے وہ فیس بک پر پچھلے پندرہ بیس دنوں سے چیٹ کر رہا تھا۔اس کی تصویریں دیکھ دیکھ کر اس سے عشق کر بیٹھا تھا۔اسے ”آئی لو یو…“بھی کہہ چکا تھا اور جلد ہی وہ ملنے والے تھے۔
صبوحی نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
وہ اپنی کر سی پر بیٹھتے ہی موبائل فون ہاتھ میں لیے اپنی پوسٹس،اور واٹس ایپ میسیج چیک کر تی رہی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ جس سے فیس بکی عشق جھاڑ رہی تھی،وہ اسی ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا۔مکمل جھاڑ پونچھ کے بعد گھر جاتا تھا۔
اس کی مما اور ڈیڈ نے آرڈر نوٹ کرایا۔
وہ شاید پہلی بار اس ریسٹورنٹ میں آئے تھے۔
زاہد نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر،اور اسے پہچاننے کی اوور ایکٹنگ کیے بغیرخاموشی سے آرڈر نوٹ کیا اور تیزی سے کچن میں جا کر شیفس کو آرڈر لکھوایا۔
محبوب اس کی پھرتیاں اور گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔وہ جھینگے فرائی کرتے کرتے اس کے قریب آیا اور پوچھا:
”کیا بات ہے…کوئی خاص مہمان ہے…؟“
زاہد نے اثبات میں سرہلا کر جواب دیا:
”ہاں…. جس سے پیار کر تا ہوں…وہ آئی ہے مقام محبوب پر….اپنے گھر والوں کے ساتھ….“
محبوب مسکرا اُٹھا:
”تم تو اس سے کبھی ملے ہی نہیں… بتاکر آئی ہے…؟“
”نہیں…“ زاہد نے انکار میں سر ہلایا۔
محبوب نے ا س کے ہاتھ سے آرڈر کی پرچی لے لی۔
”تم جا ؤ…پھر چیک کرو کہ وہی ہے یا کوئی اور…میں آرڈر تیار کرتا ہوں….“
زاہد کچن سے باہر چلاگیا۔
محبوب نے رابعہ کو ساتھ لگا کر جلدی جلدی بہترین ڈشیں تیار کرائیں۔
کچھ دیر بعد زاہد تیزی سے اندر آیا اورسیدھا محبوب کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔
وہ جوش کے مارے ہولے ہولے کانپ رہاتھا۔محبوب نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
”وہ وُہی ہے…. میں نے اُسے پہچان لیا…“
”تم نے کچھ کہا…کوئی بات کی…اس نے پہچانا…؟“
زاہد نے انکار میں سر ہلایا۔
”نہیں…. کچھ کہا نہیں…لیکن سو فیصد وہی ہے…اپنے ڈیڈاور مماکے ساتھ آئی ہے….یہ دیکھو…. ابھی اسٹیٹس لگایا ہے…. ڈائن اِن مقام محبوب ….“
محبوب نے جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے نظر اٹھا کر ا س کی طرف دیکھا۔
”سچ کہو….؟ تم نے ظاہر تو نہیں کیا کہ تم اسے پہچان چکے ہو….؟“
زاہد نے انکار میں سر ہلایا۔”
”نہیں….کہو تو اسے میسج کردوں کہ میں یہیں ہوں….کمنٹ کروں ا س کی پوسٹ پر….؟“
”پاگل ہو گیا ہے…“ محبوب نے ا س کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
”پہلے دیکھ تو لے کہ اُسے یہاں کے کھانے اچھے لگے بھی ہیں یا نہیں….“
زاہد اس کی طرف دیکھنے لگا۔
”وہ اس سے مختلف ہے جیسی تصویر میں دکھائی دیتی ہے….“
محبوب نے ایک طویل سانس لے کر کہا:
”تم یوں ظاہر کرو کہ وہ کوئی ایک عام کسٹومر ہے،اور بس…. اس کے ساتھ پوری ایمان داری سے پیش آؤ….اور اگر وہ مطمئن نہیں ہوتی ہے تو…“
زاہد مسکرااُٹھا۔ ا س کا جملہ اُچکتے ہوئے بولا:
”تو پھرآپ چھوٹے چاقو سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کریں گے اُس کے….“
محبوب ہنس پڑا۔وہ ساتھ ساتھ کام بھی کر رہا تھا۔اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔
”چھوٹے چاقو سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردو..“.ا س کا وہ جملہ تھا جو کچن میں اکثر اس کے منھ سے نکلتا تھا۔
محبوب باتوں باتوں میں ڈشیں تیار کر چکا تھا۔
اس نے کھانے کی پلیٹیں ٹرے میں رکھ کر ا س کی طرف بڑھاتے ہو ئے کہا۔
”لو….پکڑو….تیار ہے….لے جاؤ اپنی محبوبہ کے پاس….اور دیکھو اُسے پسند آتا ہے یا نہیں…ایک آدھ لقمہ لے کر وہ خوش ہو تی ہے یا نہیں….“
زاہد نے ٹرے تھام لی۔ایک نظر پلیٹوں میں موجود پکوان دیکھے اور مطمئن ہوگیا۔محبوب کے ہاتھ کے کھانے لذیز نہ ہو ں یہ ہوہی نہیں سکتا تھا۔
محبوب نے ماہر شیفس کی طرح ٹشو سے پلیٹوں کے کنارے صاف کیے اور ان کے ساتھ کچھ ٹشو بھی رکھ دیے۔
زاہد ٹرے لے کر پرجوش انداز میں کچن سے باہر نکلا۔اسی وقت جاوید ویٹرنے آگے بڑھ کر ٹرے اس کے ہاتھ سے لے لی اور دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے کچن سے نکل کر اس میز کی طرف بڑھ گئے جس پر زاہد کی محبوبہ صبوحی بیٹھی موبائل میں گم تھی۔
زاہد اور جاوید پروفیشنلی انداز میں لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے میز کے قریب پہنچے۔
زاہد نے خود ایک ایک پلیٹ اٹھا کر باری باری ان کے سامنے رکھیں۔
کھانا سرو کرتے ہوئے اس نے چور نظروں سے صبوحی کی طرف دیکھا مگر یوں کہ جیسے وہ محض ا س کے لیے کسٹومر ہو۔
صبوحی اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ہو بھی نہیں سکتی تھی،ہوٹل میں کھانا کھانے جانے والے لوگ ویٹرز کو نگاہ بھر کے نہیں دیکھتے۔ان کا دھیان کھانے پر ہوتا ہے،کھانا لانے ولے پر نہیں ….
کھانا لانے والے اور کھانا پکا کر لانے والی میں فرق ہوتا ہے۔
یہ مرد ہی ہے جو پکا کر لانے والی کو پہلے دیکھتا ہے،سراہتا ہے،پھر کھاتاہے۔
کھانا سرو کرکے دونوں واپس کچن کے دروازے پر آگئے اور سیڑھی کے پا س کھڑے ہو کر بے چینی سے اس میز کی طرف دیکھنے لگے۔
ان کی پشت پر محبوب بھی کچن سے نکل کرآگیا اور دونوں کے کاندھوں کے بیچ میں سر رکھ کر اُسی طرف دیکھنے لگا۔
تینوں کے چہروں پر تجسس تھا۔
میز پر موجود آدمی،اور عورت جو زاہد کی محبوبہ صبوحی کے ڈیڈ اور مما تھے، نے ڈشوں میں سے ایک ایک چمچہ لے کر کھاناچکھا،اور بے اختیار اس کے ٹیسٹی ہونے پر ایک دوسرے کی طرف سر ہلاتے ہوئے تعریفی انداز میں دیکھا۔
زاہد،جاوید اور محبوب کے چہرے پر یک گونہ خوشی پھیل گئی۔یوں لگا جیسے انہیں کوئی بڑی خوشی مل گئی ہو۔
محبوب نے دھیرے سے زاہد کے کاندھے پر تھپکی دی اور مسکراتے ہوئے کچن میں پلٹنے لگا…مگر پلٹتے پلٹتے رکا…اور گھوم کر اس میز کی طرف دیکھا۔
کھانے کا رد عمل دیکھنے کے چکر میں اس نے زاہد کی محبوبہ کو تو دیکھا ہی نہیں تھا۔اس کی ساری توجہ اس کی مما اور ڈیڈ پر تھی۔
زاہد کے چہرے پر خوشی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے صبوحی کو دیکھ رہا تھا جو کانٹے سے کچھ اٹھا کر کھا رہی تھی،پھر اس نے لذت بھرے انداز میں اپنی مما اور ڈیڈ کو دیکھ کر یوں بھنویں گھمائیں جیسے اسے کھانا بہت پسند آیا ہو۔
محبوب پلٹ تو گیا تھا،اور صبوحی کو ایک نظر دیکھ بھی لیا تھا،مگر ا س کے بعد…وہ واپس پلٹنا بھول گیا۔
وہ یک ٹک ا س لڑکی کو دیکھے جا رہاتھا۔
اس کے اندر کا وحشی ایکا ایکی جاگنے لگا۔
اس نے صبوحی پر سے نظریں ہٹانے کی کو شش کی مگر یہ اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔
لڑکی حسین تھی،اور اس قابل تھی کہ اسے نظر بھر کرنہیں،جی بھر کر دیکھا جائے ….
کسی بھی مرد کو وحشت میں مبتلا کردینے والی بھر پور لڑکی ….
وہ سکتے کی سی کیفیت میں دیکھ رہا تھا۔
اُس کی حیوانی جبلت اَنگڑائی لے کر بے دار ہو گئی تھی۔
اس کے ماتھے پہ پسینہ آگیا۔دل بری طرح دھڑکنے لگا۔پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہونے لگا …..
اُس کے اندر کا ہوس پرست جھر جھری لے کر اٹھ گیا تھا۔
اس کی وحشت کا ناگ اپنا پھن پھیلا کر اِدھر اُدھر ڈولنے لگا تھا۔
محبوب گھبرا گیا۔
اس نے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔
.
جانے اب کیا ہو نے والا تھا۔
جانے اب وہ کیا کرنے والا تھا۔

(جاری ہے)

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول
” دام عشق ”
………..
…تیسری قسط ……….
……………..
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دامِ عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
غیر کی عورت کو دیکھ کر اکثر مردوں کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔
زاہد تو اپناتھا۔
کسی اپنے کی عورت کو دیکھ کر محبوب کی حالت پہلی بارغیر ہو ئی تھی۔
عورت کے بارے میں محبوب کا اپنا اصول تھا۔
وہ کہا کرتا تھا:
پیسہ وہ، جو پلّے….، عورت وہ، جو تھلّے …
زاہد کی محبوبہ صبوحی اپنے والدین کے ساتھ کھاناکھا کر ریسٹورنٹ سے چلی گئی۔یہ جانے بغیر کہ اس کے جانے کے بعد کیسا زوروں کا طوفان محبوب کے جسم میں جنم لے چکا تھا۔
محبوب خاموشی سے کچن میں چلا گیا۔وہ زاہد سے نظریں ملانے کی بھی ہمت نہیں کر پا رہاتھا۔
اپنادھیان بٹانے کے لیے وہ کام میں جت گیا اور اس وقت تک کسی سے بات نہیں کی جب تک کہ ریسٹورنٹ میں سناٹا نہیں پھیل گیا۔
رات کے ایک بجے ریسٹورنٹ بند کر دیا جاتا تھا۔دروازے بند کر کے سب مل کر اندر صفائی کرتے اور دوسرے دن کے لیے ریسٹورنٹ کو مینیج کرتے تھے۔
ٹھیک ایک بجے ریسٹورنٹ کسٹمرز سے خالی ہو گیا۔سب صفائیوں میں مصروف ہوگئے۔
محبوب دو بڑے بیگز میں کچرابھر کر کچن سے نکلا تو رابعہ تنگ کوریڈورکافرش صاف کر رہی تھی۔وہ بیگز لے کر اس سے کتراتے ہوئے باہر گیا۔کچرا ڈسٹ بن میں پھینک کر واپس آیا۔
زاہد نے کیش کا حساب کر لیا تھا۔کیش اور حساب محبوب کے حوالے کرکے وہ بھی ایک طرف کھڑ اہو گیا۔محبوب تمام ملازمین کو ماہانہ سیلری دیا کرتا تھا،مگر روز کے روز صفائی کے بعد ایک ہزار روپے جیب خرچ اورگھر جانے کے لیے کرائے کی مد میں بھی دیا کرتا تھا،اسی وجہ سے ریسٹورنٹ میں وہ دیر تک مکمل صفائی کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔
اپنا اپنا خرچا لے کر ایک ایک کرکے سب چلے گئے۔
محبوب سب سے آخر میں جاتا تھا۔
باقی بچ جانے والے کیش میں سے ماں کو بھیجنے والے پیسے،اگلے دن کے خرچے کے پیسے،اپنے بیٹے اور بیوی کو ہفتے کے ہفتے دیے جانے والے پیسے،اپنی ہفتہ وار عیاشی کے پیسے، الگ الگ لفافوں میں رکھتاتھا اور بچ جانے والے پیسوں کو دوسرے روز اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے لیے جیب میں ڈال لیتا تھا۔
سب کے جانے اور تمام کاموں سے نمٹنے کے بعدمحبوب ریسٹورنٹ میں اکیلا سیڑھیوں پر بیٹھا گھونٹ گھونٹ وہسکی پیتا رہا۔
سارے کام ختم ہو گئے تھے اوراب صبوحی کی چیختی ہوئی جوانی ایک بار پھرا س کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔اسے باور کرا رہی تھی کہ وہ آج سکون سے سو نہیں سکے گا اور وہ اس کو مل جائے یہ ہو نہیں سکے گا۔
وہ اپنے وحشی جذبوں کو سلانے کی کوشش کر رہاتھا مگر یہ ممکن نہیں تھا۔اس کے بس سے باہر تھا۔تب ہی اس کے موبائل پرکوئی میسیج آیا۔
اس نے بے زاری سے سیل فون نکال کر میسیج پڑھا۔وہ کسی بنگلے میں ڈانس پارٹی کا میسیج تھا۔اس نے میسج دیکھ کر فون رکھ دیا۔
اس قسم کے میسج ہر ہفتے ہی اسے ملتے تھے،بنگلوں میں ڈانس پارٹیاں ارینج کرنے والے امیر زادے اکثر اس کے ریسٹورنٹ میں ڈنر کرنے آیا کرتے تھے۔ان میں سے زیادہ تر اس کے دوست تھے،اور جب بھی پارٹی ارینج کرتے اسے ضرور بلاتے تھے۔
ان پارٹیوں کی فیس ہزاروں میں ہوتی ہے مگر اسے مفت مدعو کیا جاتا تھا۔
پارٹی ارینجرز کے علاوہ ان دو چار لوگوں میں وہ بھی شامل تھا،جسے پارٹی میں اپنے ساتھ لڑکی لانے کی شرط کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔
آدھے گھنٹے بعد وہ کپڑے تبدیل کرکے اورریسٹورنٹ بندکرکے پچھلے دروازے سے نکلا۔گھوم کر مرکزی سڑک پر آیا،جہاں ایک شیڈ میں ا س کی چم چم کرتی سیاہ پراڈو کھڑی تھی۔
ایک ویٹر جاتے وقت ا س کی گاڑی دھو دیا کرتا تھا،جس کی مزدوری اسے ہفتے کے ہفتے مل جایا کرتی تھی۔
گاڑی اسٹارٹ کر کے وہ کافی دیر تک یوں ہی ڈیفنس کی ویران سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا رہا۔اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار صبوحی کا چہرہ گھوم رہا تھا۔اس کے ہیجان کو ہوا دے رہا تھا۔اس کے بے بسی کو للکار رہاتھا۔
صبوحی اس کے مینیجر کی محبوبہ تھی۔مینیجر صرف ملازم نہیں تھا،اس کا دوست بھی تھا۔دوست کی عورت کو دیکھنا،سوچنا اور سوچے چلے جانا بھی اسے برا لگ رہاتھا مگر صبوحی کے تصور کو یہ مسئلہ نہیں تھا،وہ رہ رہ کر اس کے دماغ میں آرہی تھی،اس کا دھیان بٹا رہی تھی۔
وہ سر جھٹک رہا تھا،اس کا تصور ذہن سے مٹانے کی کو شش کر رہا تھا،اپنے آپ پر لعنت بھیج رہاتھا،مگر وہ ایسی ہیجان انگیز لڑکی تھی کہ اس کے تصور سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔ایسی آکر گھسی تھی کہ باہر جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔چیلنج کر رہی تھی کہ میرا خیال ذہن سے نکال کر دکھاؤ….
وہ ایک جگہ گاڑی رو ک کر گہرے گہرے سانس لینے لگا۔
کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے اور کہاں جائے۔
دفعتہ اسے ڈانس پارٹی کا میسیج یاد آیا۔
اس نے سیل فون نکال کر میسیج پر نظر دوڑائی اور سوچ میں پڑگیا کہ جائے یا نہ جائے…. آخر اس نے اس نے اگلے یوٹرن سے گاڑی گھمائی اور ڈیفینس فیز ایٹ کی طرف گاڑی کا رخ کردیا۔
کچھ دیر بعد اس کی گاڑی اس بنگلے کے باہر پہنچ چکی تھی جہاں ڈانس پارٹی ارینج کی گئی تھی۔
بنگلے کے باہر گاڑیوں کا ہجوم تھا،بے شمار گاڑیاں اطراف میں کھڑی تھی اور اندر سے پرشور میوزک کی آواز باہر تک آرہی تھی۔
وہ اپنی گاڑی بنگلے سے ذرا فاصلے پہ پارک کرکے نڈھال قدموں چلتے ہوئے بنگلے کے دروازے پر پہنچا تو وہاں کئی لڑکے لڑکیاں پہلے سے موجود تھے۔
محبوب کو دیکھ کر اس کے لیے راستا چھوڑ دیا گیا۔اس کے جاننے والے دو تین لڑکے دروازے پر ہی موجود تھے،آنے والوں سے انٹری فیس لے رہے تھے۔
وہ اندر پہنچا تو پارٹی عروج پر تھی۔
فاسٹ میوزک پہ مدہوش جوان جسم بڑے ہال کمرے میں اپنی جوانی کے جوش میں بل کھا رہے تھے،اچھل رہے تھے کود رہے تھے۔سب کے ہی ہاتھوں میں وہسکی اور شراب کے گلاس تھے۔ایک طرف لان میں ارینجرز کی طرف سے باربی کیو کا بھی انتظام تھا۔
دہکتے کوئلوں پربھنتے ہوئے گوشت کی اشتہا انگیز بو،اور ڈانس فلور پر مچلتے کچے گوشت کی مہک اسے دیوانہ کر رہی تھی۔
ہال میں موجودکسی کی بھی لڑکی عمر پچیس یا تیس سے زیادہ نہیں تھی،اٹھارہ انیس سال سے اوپر اور تیس سے کم نوجوانوں کا بپھرا ہوا مدہوش ٹولہ تھا۔
اس چھوٹے سے لاؤنج میں کل پچاس ساٹھ لڑکے لڑکیاں اپنے ہیجان کو ناچ ناچ کر تھمانے کی کو شش کر رہے تھے۔
محبوب بھی ان کے درمیان پہنچ گیا۔اسے ناچنے کا شوق تھا،مگرآج ا س کے اندر کا جان ور اُ سے ناچنے نہیں دے رہا تھا۔نڈھال کیے دے رہا تھا۔وہ صبوحی کی بھوک سے کانپ رہا تھا۔
ویٹر کی ٹرے سے وہسکی کا گلاس اٹھا کر وہ گھونٹ گھونٹ پیتا رہا،اورایک ایک لڑکی کو بھوکی نظروں سے دیکھتا رہاسمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ ان میں کون اکیلی ہے اور کون اپنے پارٹنر کے ساتھ ہے۔
ایک دو لڑکیاں اکیلی دکھائی بھی دیں تو ا س نے توجہ نہ کی کہ ان کا فیگر اس جیسا نہیں تھا جیسے جسم کی اُسے چاہ تھی۔
کچھ دیر تک جائزہ لینے کے بعد اس کی نظروں میں دھیرے دھیرے ناچتی ہوئی ایک لڑکی آہی گئی۔
وہ اسے جانتا تھا۔اکثر پارٹیوں میں دکھائی دیتی تھی۔ڈیفنس کے ایک پرائیوٹ کالج میں انگریزی کی ایکسٹرا کلاسز لیتی تھی،اور اکثر اکیلی ہی پارٹیز میں آتی تھی۔
محبوب ا س کو دیکھتا رہا،انتظار کرتا رہا کہ اس کی نگاہ اس طرف آئے تو وہ اسے اشارہ کرے۔کچھ ہی دیر میں ا س کی مراد بر آئی۔
اس نے ہولے ہولے اپنا جسم لہراتے ہوئے محبوب کی طرف دیکھا تو محبوب نے مسکرا کر ا س کی طرف اشارہ کردیا کہ ایک طرف آؤ…
اس نے جواب میں مسکراتے ہوئے انکار میں گردن ہلائی اور اس کے ساتھ ہی ایک نوجوان نے پیچھے سے آکر ا س لڑکی گردن میں بانہیں ڈال دیں،اور وہ اسے آنکھ مارتی ہوئی ناچنے والوں کے ہجوم میں چلی گئی۔
محبوب کے ہونٹوں پہ کھسیانی مسکراہٹ رینگ گئی۔ہمیشہ اکیلی دکھائی دینے والی آج اکیلی نہیں تھی۔اپنے کسی بوائے فرینڈ کے ساتھ تھی…
وہ اس پر لعنت بھیج کر دوسری لڑکیوں کو دیکھنے لگا،اور ایک ایک لڑکی کو دیکھ ڈالا۔ساتھ ساتھ وہسکی کی چسکیاں بھی لیتا رہامگر آج اس کا نصیب کام نہیں کر رہا تھا۔وہسکی کی تلخی کچھ سوا محسوس ہو رہی تھی۔
وہ گلاس خالی کرکے بے زاری سے باہر آگیا۔ کچھ دیر بعد وہ سی ویو والے روڈ پر دھیمی رفتار سے گاڑی چلارہا تھا،اور فون کان سے لگائے انتظار کر رہا تھا کہ دوسری طرف سے کال وصول کر لی جائے۔
بار بار لائن ملائی جائے تو لائن مل ہی جاتی ہے۔یہ لائن بھی مل گئی،اور دوسری جانب سے ایک خمار آلودزنانہ آوازسنائی دی۔
”ہیلو….“
محبوب نے سرعت سے کہا:
”کیسی ہویاسمین…جاگ رہی ہو….؟“
دوسری طرف ایک لمحے کو خاموشی رہی،شایدوہ نمبر دیکھنے کی بہ جائے آواز سے پہچاننے کی کو شش کر رہی تھی۔ پھر یاسمین کی آواز ابھری:
”محبوب….ہاں،میں ٹھیک ہو….تم کیسے ہو…؟“
محبوب نے مزید کوئی فضول بات کیے بغیر براہ راست سوال کیا:
”فری ہو کیا تم…..؟“
یاسمین کی چونکتی ہوئی آواز سنائی دی:
”اس وقت….تین بج رہے ہیں رات کے….؟“
”ہاں اس وقت….کہیں بزی ہو کیا….؟“
”نہیں…اپنے فلیٹ پر ہوں….بزی کہاں ہونا ہے….کام دھندا چوپٹ ہے….جب سے نئی حکومت آئی ہے لوگ پھکڑ ہو گئے ہیں…. شاید تم بھی پریشان ہو….میں نے سنا ہے لوگوں نے باہر جا کر کھانا پیناکم کر دیا ہے….تمہارا ریسٹورنٹ ٹھیک چل رہا ہے….لوگ آرہے ہیں…دھندا ہو رہا ہے یا نہیں….؟“
یاسمین کو ادھر ادھر کی باتوں کا ہیضہ تھا۔محبوب نے بے زاری سے کہا:
”فضول باتیں مت کرو….یہ بتاؤ آرہی ہو یا نہیں…..؟“
یاسمین نے کچھ سوچا اور جواب دیا:
”ٹھیک ہے۔میں آجاؤں گی…لیکن تشدد نہیں کرو گے….وعدہ کرو….“
محبوب نے جلدی سے جواب دیا:
”ہاں ہاں…..آدھے گھنٹے میں آجاؤ……دیر مت کرنا….“
”میں نیند میں تھی…ابھی اٹھی ہوں…تھوڑی دیر ہوجائے گی پہنچنے میں اور….اور ایک بات اور….“
وہ کچھ کہتے کہتے ہچکچائی۔
”بولو….“
”میں آتو جاؤں گی… لیکن تھوڑے پیسے زیادہ دے دینا… بیٹے کا یونی فارم خریدنا ہے….بہت مہنگا ہو گیا ہے….“
محبوب نے گاڑی سی ویوکے قریبی کمرشل ایریا کی طرف جانے والی ویران سڑک پر موڑتے ہوئے کہا:
”ٹھیک ہے…پینتالیس منٹ میں….“
یاسمین ایک گھنٹے اور کچھ منٹوں بعد اس کے اپارٹمنٹ پہنچی۔
وہ اس کے انتظار میں ٹہل رہاتھا،بے چینی سے بار بار کھڑکی کی طرف جا رہا تھا،کھلی کھڑکی میں سے سامنے والی سڑک پر نظریں دوڑا رہاتھا۔
آنے والی کے آنے میں دیر ہوگئی تھی۔اسے یہ تاخیر کھل رہی تھی مگر سوائے انتظار کے کوئی چارہ نہیں تھا۔
اسے یاسمین پہ غصہ آرہاتھا،اس کے بلانے پر وہ ہمیشہ آتو جاتی تھی،مگر انتظار بہت کراتی تھی اور انتظار کرنا اسے پسند نہیں تھا۔
اب سے احساس ہو رہا تھا کہ ریسٹورنٹ میں آرڈر دینے کے بعد آرڈر کی تکمیل میں کچھ دیر ہوجائے تو کسٹمر کے چہرے پر ناگواری کیوں نمودار ہو جاتی ہے۔
آرڈر ہونے سے سرو کرنے تک کا وقت اس کے ریسٹورنٹ میں سترہ منٹ تھا،اس نے کسی آرڈر میں کبھی اٹھارہواں منٹ نہیں ہونے دیا تھا مگر یاسمین نے آنے میں ستتر منٹ لگا دیے۔
سوا گھنٹے بعد جب ایک چھوٹی کار اپارٹمنٹ کے سامنے والی سڑک پہ نمودر ہوئی تو وہ اس وقت بھی کھڑکی میں کھڑا تھا۔
غصے اور نفرت میں کھول رہا تھا۔
یاسمین کی گاڑی دیکھتے ہی نفرت ہوا ہوگئی مگر غصہ اس کے اندر ہی کروٹیں بدلتا رہا۔وہ یاسمین کو گاڑی پارک کرتے اور اُترتے دیکھتے ہی کھڑکی سے ہٹ گیا،اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے پر پہنچ گیا۔
دھڑکتے دل کے ساتھ اضطراری کیفیت میں سیڑھیوں پر اُبھرنے والے یاسمین کے سینڈل کی چاپ سننے کی کوشش کرنے لگا۔
گلی سے بلڈنگ میں آنے اور چوتھی منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر اس کے اپارٹمنٹ کے دروازے تک پہنچنے میں یاسمین نے اٹھارہ منٹ لگا دیے۔
سترہ منٹ میں آرڈر سرو کرنے والا،اٹھارویں منٹ پر تلملا گیا تھا۔
دروازے کے قریب سینڈل کی آواز سنتے ہی محبوب نے غصیلی گرم سانس خارج کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔
یاسمین سامنے کھڑی مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔خود کو حوصلہ دے رہی تھی۔اسے اندازہ تھا کہ اب اگلا ایک گھنٹہ وہ کس شکنجے میں کسی جانے والی ہے۔
اس نے محبوب کے غصے میں سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا اور مسکراہٹ طویل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بہ مشکل کہا:
”ہائے…“
محبوب نے جواب نہیں دیا۔ایک ہاتھ بڑھا کر اس کو گدی سے پکڑا اور ایک جھٹکے سے اندر کھینچ لیا۔
پیار سے ہائے کہنے والی کے حلق سے مارے درد کے ہائے نکل گئی۔
ہائے بے چاری ….
یاسمین ہی کیا،ہر وہ عورت جو کسی مرد کو مسکرا کر ہائے کہتی ہے،بعد میں درد اور تکلیف کے ساتھ روتے ہوئے ہائے کہنے کے سوا کچھ اور نہیں کہہ پاتی۔
یاسمین ایک پروسٹی ٹیوٹ تھی۔خود کو بیچنے آئی تھی،بیچتی آئی تھی۔
خود کو بیچنے والی عورتیں ہائے اور بائے کہنے کی عادی ہوتی ہیں۔
مسکرا کر ہائے کہتی ہیں،درد سے ہائے ہائے کرتی ہیں،اور کڑ کڑاتے نوٹ بریزر میں اُڑس کر مسکراتے ہوئے بائے کہہ کر چلی جاتی ہیں۔سمجھتی ہیں کہ انہوں نے خود کو رائیگاں نہیں جانے دیا،اپنی قیمت وصول کرلی….یہ الگ بات کہ وہ سستے میں بک جاتی ہیں۔
عورت خود کو دو طرح سے بیچتی ہے۔وہ یا تو دولت کے ترازو میں تل جاتی ہے یا پیار کے بازو میں کسی کو مفت مل جاتی ہے۔
کاغذ کے بدلے بکنے والی عورت سستے میں بکتی ہے اور پیار کے بدلے ملنے والی ذرا مہنگے داموں ملتی ہے۔
مرد بازاری ہو تو نوٹ سے خریدتا ہے،کاروباری ہو توپیار سے خریدتا ہے…. اس کاروبار میں اسے پیار کے بدلے پیار ملتا ہے،اور سود کے طور پر ساتھ سونے کے لیے مفت میں عورت بھی مل جاتی ہے۔
جہاں پیار کے بدلے پیار نہ ملے…. صرف عورت کو مرد اور مرد کو عورت ملے وہاں،کاروبار ختم ہو جاتا ہے،عورت بھی الگ ہوجاتی ہے،مرد بھی دور چلاجاتا ہے۔
عورت نوٹوں کے بدلے خود کو بیچنے والی ہو،یا پیار کے بدلے خود کو سونپنے والی ہو،ہائے سے ہائے ہائے کے سفر میں ایک ہی کہانی کا کردار بن کر رہ جاتی ہے۔
وہ بھی ہائے کہہ کر ہائے ہائے کرنے آئی تھی۔
محبوب نے بالوں سے جکڑا تو درد بھری ہائے نکل گئی۔
محبوب نے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اسے ایک جھٹکے سے دروازے کے ساتھ ہی دیوار سے لگا دیا،اوروقت ضایع بغیر اس سے چمٹ کر اس کے ہونٹوں کو اپنے دانتوں سے جکڑ لیا۔
یاسمین کے حلق سے ایک دبی دبی چیخ نکل گئی،اور پھر یہ چیخ دھیمی دھیمی سسکی میں بدل گئی۔ایسے میں بھی وہ تڑپ کر بولی:
”اُف…میرے بال تو چھوڑکتے….“
محبوب بے طرح غرایا۔
”بکواس مت کر….بال کھینچنے سے مر نہیں جاؤگی….“
اس نے یاسمین کو چمٹائے چمٹائے دونوں ہاتھوں سے تھام کر اٹھایا،اور وحشت زدہ انداز میں جکڑے جکڑے کمرے میں لے جا کر پلنگ پہ پھینک دیا۔
وہ ایک چیخ مار کر بیڈ پہ گری۔گھبرا کر محبوب کی طرف دیکھنے لگی۔
محبوب بیڈ کے قریب کھڑا ہانپ رہا تھا۔کچا کھاجانے والی نظروں سے یاسمین کو دیکھ رہا تھا،مگر وہ اسے یاسمین کہیں سے دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
بستر پہ پشت کے بل پڑی ہوئی صبوحی نظر آرہی تھی۔وہ یاسمین میں صبوحی دیکھ رہا تھا،اور صبوحی اس کے دماغ میں ناچ ناچ کر کہہ رہی تھی۔
”یاسمین ہو یا صبوحی…صبوحی ہو یا یاسمین…
کیا فرق پڑتا ہے….؟
گوشت کھانے والے کو گوشت کھانے سے مطلب ہوتا ہے…..
گوشت تازہ ہو یا باسی…. گوشت کھانے والے کو تو گوشت کھانا ہے…
گوشت کتے کا ہو،گدھے کا…چھوٹے کا یا بڑے کا…..
کیا فرق پڑتا ہے….“
اس کی بھوکی نظروں کے سامنے تھر تھراتا گوشت بستر پہ پڑا تھا۔اور وہ اپنے کپکپاتے جسم میں پٹ پٹاتی آنکھوں سے گوشت کے اس لوتھڑے کو دیکھ رہاتھا۔
اور گوشت کا وہ لوتھڑا ….
اپنے بچے کے یونی فارم کے لیے،اپنے کپڑے اُتار رہا تھا۔

(جاری ہے)

پہلی قسط کا لنک
https://www.facebook.com/photo.php?fbid=2600090950054275&set=a.359337484129644&type=3
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری قسط کا لنک
https://www.facebook.com/photo.php?fbid=2602942849769085&set=a.359337484129644&type=3

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے