سر ورق / افسانہ / دیالو …ناصر خان ناصر

دیالو …ناصر خان ناصر

دیالو
ناصر خان ناصر

پندرہ برس کے بعد ہم ملے تهے…
سلیم بالکل اسی طرح کا لگتا تها جیسا اسے چهوڑ کر گیا تها صرف پیٹ کچه بڑا ہوگیا تها، چہرہ آسودگی اور بردباری سے بهر سا گیا تها اور سر کے بال تهوڑے سے چهدرے ہو گئے تهے.
چلو….
اپنے مخصوص انداز میں اس نے کہا، اس سے یہ پوچهنا کہ کہاں کا قصد ہے، اپنی میت خود اٹهوانے کے برابر تها..مجهے سلیم کی ضدی طبعیت کا علم تها، لہذا بلا پیش و پس کئے میں باوری ڈرائیور کی مودبانہ پیش کی پجارو کی اگلی سیٹ پر براجمان ہو گیا. سلیم پچهلی سیٹ پہ یوں نیم دراز تها جیسے ہفت اقلیم کی بادشاہی اسکے ہاته لگی ہو….
بہاولپور چهوٹا سا شہر تها، اب کافی پهیل چکا ہے، ایک کنارے سے بغداد جدید کے مصافاتی گاوں ،بستی حماتیاں شہر سے مل چکے ہیں اور وہاں جدید رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں دوسری طرف بستی شاہدرہ، کوثر کالونی اور بندرہ بستی بهی شہر سے مل چکے ہیں.ہریالی سبزہ اور درختوں کی ٹهنڈی گهنیری چهاوں میرے لئے نئ تهی، میں اس جگہ کو گرد آلود، خشک سالی کا شکار اور صحرا کی روائیتی ویرانگی کے عالم میں چهوڑ کر گیا تها…
پجارو نئ بنی چوڑی سڑک پر دریائے ستلج کے پل کی طرف رواں ہو گئ.
پہلے شہر سے دور اس قصبے میں طوائفیں اور مراثنیں بسا کرتی تهی، شرما شرمی کا زمانہ تها، تماشبین حضرات منہ چهپا کر چوری چهپے یہاں آیا کرتے تهے مگر اب یہ ماڈرن محلہ بن چکا ہے…
وہ جهومتا جهامتا ہوا میرا ہاته پکڑ کر مجهے لے چلا….فقیروں کی ٹولی نے فورا” ہمیں آن گهیرا. ..
"اللہ کے نام پر بابا، تیرے بچے جئیں…..” سخی، بهاگ قائم رہیں…دو دن کے بهوکے کو روٹی کهلاتا جا….
اس نے نخوت سے سب کو جهڑک کر پرے کیا، باوردی ڈرائیور نے چهڑی دکهائ تو وہ سب فورا” تتر بتر ہوگئے. ایک اندها فقیر بےبسی سے لاٹهی ٹیکتا، ٹٹولتا ،آہستہ آہستہ لڑکهڑاتا چلتا رہ گیا…
ہم ایک خوبصورت سجے کمرے میں داخل ہوئے.موٹی سی بهدیے اور گہرے میک آپ سے سنوری سجی، گہنوں سے لدی نائکہ نے جهک جهک کر سات سلام کئے. وہ نہایت بهڑکیلے چست لباس میں بهی بندریا جیسی لگ رہی تهی….
زرینہ مراثین…. مجهے یاد آیا…ریاست بہاولپور پرانی تہزیب و تمدن اور روایات کا مرکز تهی…یہاں تمام شادیاں رات کے بارہ بجے شروع ہوا کرتی تهیں اور شادیوں کی زنانہ محفل آرائ میں مراثنوں کا رات بهر ناچنا ایک ضروری امر تها. نیم صبح تاروں کی چهاوں تلے اجلے ہوتے اندهیرے کے جهٹپٹے میں رخصتی کی رسم ادا ہوتی تهی. یہ مراثنیں اکثر صرف عورتوں کے سامنے ناچتی تهیں اور دهندہ نہیں کرتی تهیں. اسی بندرہ بستی سے نکل کر ایک خاتون ملک کی مایہ ناز پر بہار گلوکارہ بنیں.
بچپن میں کم سن ہونے کے باعث مجهے بے شمار شادیوں میں خواتین کے جهرمٹ میں ان مراثنوں کے رقص دیکهنے کا موقع ملا. ذرینہ مراثن کا ان دنوں طوطی بولتا تها.وہ تهی بهی کمال کی رقاصہ، بوٹی بوٹی پهڑکتی تهی .اونچی پاٹ دار آواز میں وہ جب”ویل” دینے والی خواتین کی تحسین و ثنا کے ڈونگے برسانے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتی تهی تو بهی اس کا رقص دم بهر کو بهی نہیں رکتا تها نہ گیت کی لے ٹوٹتی تهی..
آج وہی ذرینہ ادهیڑ عمر نائیکہ کے روپ میں سامنے تهی….وہ سلیم کے سامنے بچهی پڑتی تهی، پہلے اس نے دونوں ہاتهوں سے اسکی بلائیں لے کر انگلیاں ماتهے پر لے جا کر چٹخائیں پهر نیم قدم بوس ہو کر نقرئی تهالی مین پان پیش کیا.جوابا” سلیم نے ہزار ہزار روپوں کی گتهی اسے پیش کی.
"کیا ضرورت ہے سرکار، پہلے ہی آپ کا دیا کهاتے ہیں…”کہتے ہوئے اس نے نوٹ پکڑ لئے اور چهاتیوں میں آڑس لئے. اسکے اشارے پر سازندے ڈهولک ہارمونیم ، سارنگی اور طبلے لئے مودبانہ حاضر ہوگئے اور سر ملانے لگے، ڈهولک کی تاپ پڑی اور اک فتنہ نگاہ قیامت غارت گر ایمان چهم چهم گهنگهرو بجاتی، گهونگٹ اوڑهے، ناچتی کمرے میں داخل ہوئ…سلیم دم بخود بیٹها اسے ناچتے دیکهتا رہا.ایک اور ماه رخ ساغر و مینا کی نقرئی طشتری ادا سے اٹهائے اتراتی نخریلی نشیلی چال سے ٹهمکے لگاتی برآمد ہوئ اور جام بنا بنا کر ہمیں پیش کرنے لگی.سلیم نے نوٹوں کی گڈی اس کی طرف بهی اچهال دی. میں نے اشارے سے سمجهایا کہ میں پیتا نہیں، جوابا” سلیم نے اشاراتا” انگلیاں گهما کر صاد کیا کہ اس کا دماغ گهوما ہوا ہے، جسے دیکه کر ناچتے ناچتے وہ پری رو بهی کهلکهلا کر ہنس پڑی…
کئ خوبصورت گیتوں اور غزلوں پر اس کے بے پناہ خوبصورت رقص دیکه کر دیوانہ وار رقم لٹاتے سلیم کو دیکه کر مجهے خیال آیا کہ ایک معمولی پرزے بنانے والی دوکان کے مالک میرے دوست کا کاروبار یقینا” اب بہت بڑه چکا ہے…
آدهی رات ڈهلے محفل تمام ہوئ، سلیم نشے میں لڑکهڑا رہا تها. بائ جی نے سہارا دیا، دونوں نوچیوں نے سر جهکا کر الوداعی قدم بوسی کی. ڈرائیور گاڑی دروازے تک لے آیا.دروازے کهول کر با ادب کهڑا ہوا وہ ہمارے بیٹهنے کا منتظر تها…
ایک فقیر جس کے دونوں ہاته کٹے ہوئے تهے، سامنے آ کر گهیگهیانے لگا….
سلیم کا چہرہ اسے دیکه کر ایک دم اتر گیا….اس نے جلدی سے سو کا نوٹ نکال کر فقیر کے گلے میں لٹکی بالٹی میں ڈال دیا….اور پجارو کا دروازہ بند کر کے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا…
"بڑے دیالو ہیں صاب” ڈرائیور نے بات کرنے کی سعی کی.
"یہ چهوکرا دیکهتے ہیں آپ، اسکے باجو صاب کی فیکٹری میں مشین میں آئ کے کٹ گئے….صاب اسے جب بهی دیکهتا، بہوت پیسے دے دیتا”….


               

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سماج….! … رابعہ الرباء

سماج….! رابعہ الرباء کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بھی بے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے